Qur'an 90:4
Qur'an 90:4
لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِي كَبَدٍ
We have certainly created man into hardship
Explained in 15 book passages
and 37 lecture moments.
Cite / permalink: quran/90:4
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
The Beginning of Realization
The Quran states: “We have created man into a life of toil and trial. Does he think then that no one has power over him?” (90:4-5)
The law of the present world is so designed that man must inevitably undergo hardships. No one is exempt from this general law. This fact shows how helpless a human being is. In this world, it is only the Creator who is Almighty,…
Discovery of Total Absence of One’s Power
Chapter 90 of the Quran has this to say: “We have created man into a life of toil and trial. Does he think then that no one has power over him?” (90:4-5)
Here “man” denotes the whole human race. And toil (kabad) means suffering. In this verse “power” has been mentioned along with kabad (suffering). This tells us about the reason for suffering. God created man with extraordinary capacity.…
…in life, be it rich or poor, learned or illiterate. According to the Quran, these problems are part of creation rather than an aspect of evil or form of suffering. The chapter Al-Balad (The City) of the Quran clearly states this fact:
We have created man into a life of toil and trial. (90:4)
Why did God Almighty create trouble? In the world of nature everything is beautiful and problem-free. The question then arises why were problems created for man to deal with? Why is man an exception to the rule of nature? What is the…
مشقتوں کے درمیان
قرآن کی سورہ البلد میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ اس قانون کا تعلق تمام انسانوں سے ہے، خواہ وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی ، خواہ وہ بظاہر اچھے ہوں یا برے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے ’’ ہم نے انسان کو مشقت میں پیداکیاہے‘‘(90:4)۔
قرآن کے اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا یا گیا ہے کہ یہاں انسان کے ساتھ بار بار پرمشقت حالات پیش آئیں، اس کو مختلف قسم کی مشکلات سے گزرنا پڑے۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ کسی بھی تدبیر کے ذریعہ اس قانون کو بدلانہیں…
…دنیا غیر حقیقی دنیا ہے۔دونوں دنیاؤں کے درمیان بہ ظاہر اس فرق کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا تفکیری عمل (thinking process) موجودہ دنیا کے لیول پر جاری ہوجاتاہے۔ اس کی سوچ اور اس کی منصوبہ بندی میں عملاً آخرت کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔
یہ انسان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وسیع تر انجام کے اعتبار سے صحیح یہ ہے کہ انسان کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking)بنے، نہ کہ دنیا رخی سوچ۔ انسان کو اس معاملے میں بے راہ روی سے بچانے کے لیے فطرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ موجودہ دنیا کو دار الکبد (البلد، 90:4)بنا دیا، یعنی مسائل و مشکلات کی دنیا۔ یہ مسائل انسان کے لیے اسپیڈ بریکر (speed breaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مسائل اس لیے ہیں کہ انسان موجودہ دنیا کو حقیقی دنیا نہ سمجھے، بلکہ آخرت کے اعتبار سےاپنی زندگی کی تعمیر کرے۔
حدیث میں آیا ہے کہ جب بھی کوئی بیمار ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے لیے کہتے تھے:لاَ بَأْسَ، طَہُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّہُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3616) ۔یعنی کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کا…
چیلنج، مواقع
اکثر لوگ حالات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حالات ہمارے لیے موافق نہیں ہیں۔ ایسے مقام پر کیا کرنا چاہیے۔ میں کہوں گا کہ قرآن میں آیا ہے : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ (90:4)۔ یعنی ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکلات (hardship)انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ وہ ہمیشہ موجود رہیں گے۔ ایسی حالت میں مشکلات کے حوالے سے سوچنا بجائے خود درست نہیں۔
انسان کو کبد یا عُسر(hardship)کے اندر پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کبد زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ کبد کو لے کر اپنی زندگی کا منصوبہ نہ بنائے، بلکہ کبد کے اندر جو موافق امکانات موجود ہیں، ان کو لے کر اپنی…
مصیبت کیوں
قرآن کی کئی آیتیں ایسی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں انسان کو طرح طرح کی مصیبتیں پڑیں گی، طرح طرح کے مسائل پیش آئیں گے۔اس کا سبب یہ ہے کہ دنیا کے خالق نے دنیا کو دار الکبد (البلد،90:4) کے طور پر بنایا ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے، جس سے کوئی شخص بچ نہیں سکتا۔ مصیبت (suffering) اس دنیا کی زندگی کا ایک لازمی حصہ (integral part) ہے۔ آخرت سے پہلے یہ حالت کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
اس کاسبب یہ ہے کہ مشکلات کا تجربہ انسان کے اندر حساسیت (sensitivity) پیدا کرتا ہے، اور حساسیت انسان کے اندر اخذ (grasp) کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان کے اندر حساسیت نہ ہو، تو وہ حیوان کی مانند ہو کر رہ جائے گا۔ موجودہ دنیا ایک جنگل کی…
زندگی کا مقصد
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے پیدا کرنے والے نے اس کو کَبَد (البلد،90:4) میں پیدا کیا ہے، انسان کے لیے یہ مقدر ہے کہ اس کو مختلف قسم کی مصیبتیں (البقرۃ،2:155) آئیں، اسی طرح بتایا گیا ہے کہ انسا ن کو خُسران میں پیدا کیا گیا ہے(العصر، 103:2)، زندگی کا سفر انسان کے لیے مشقت کا سفر (الانشقاق،84:6) ہے، انسان کو پیدا کرنے کے بعد خالق نے اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیا (التین،95:5)، وغیرہ۔
ایک طرف قرآن میں اس قسم کے بیانات ہیں۔ دوسری طرف قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان ایک مکرم مخلوق (الاسراء،17:70) ہے، انسان کو احسن تقویم (التین،95:4) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، وغیرہ۔ ان دونوں قسم کی آیتوں میں تطبیق کیا ہے۔ اس کا جواب جنت…
…پہلے دور حیات کی حیثیت یہ ہےکہ وہ استحقاق ثابت کرنے کا دور ہے۔ پہلے دورِ حیات میں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرے کہ وہ خدا کی دنیا میں مستقل قیام کا واقعی حقدار ہے۔ اس دوسرے داخلے کے بارے میں قرآن کی چند آیتیں یہ ہیں:
یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَى مِنْکُمْ خَافِیَةٌ ۔ فَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِینِہِ فَیَقُولُ ہَاؤُمُ اقْرَءُوا کِتَابِیَہْ ۔ إِنِّی ظَنَنْتُ أَنِّی مُلَاقٍ حِسَابِیَہْ۔ فَہُوَ فِی عِیشَةٍ رَاضِیَةٍ۔ فِی جَنَّةٍ عَالِیَةٍ۔ قُطُوفُہَا دَانِیَةٌ ۔ کُلُوا وَاشْرَبُوا ہَنِیئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِی الْأَیَّامِ الْخَالِیَة (69:18-24) ۔ یعنی اس دن تم پیش کیے جاؤ گے۔ تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ ہوگی۔ پس جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا کہ لو میرا اعمال نامہ پڑھو۔ میں نے گمان رکھا تھا کہ مجھ کو میرا حساب پیش آنے والا ہے۔ پس وہ ایک پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔ اونچے باغ میں۔ اس کے پھل جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ کھاؤ اور پیو، خوشی کے ساتھ ، ان اعمال کے بدلے میں جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے — خدا کی دنیا میں پہلے داخلہ کے ساتھ مصیبت شامل تھی (البلد،90:4)۔اس کے برعکس، یہدوسرا داخلہ تمام تر ھنیئًا (pleasure) کا داخلہ ہوگا۔پہلا داخلہ امتحان کے لیے تھا، اور دوسرا داخلہ انعام کے لیے ہوگا۔
حمد اور کَبَد کے درمیان
قرآن میں ایک طرف حمد خداوندی کی تعلیم دی گئی ہے۔ دوسری طرف یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق دنیا انسان کے لیے کبد (90:4) کی دنیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسائل کے درمیان رہتے ہوئے خدا کاشکر کرنے والے بنو۔ناپسندیدہ حالات میں بھی تمہارا دل شکر الٰہی کے مثبت جذبات سے معمور رہے۔ حمد اللہ کی نسبت سے مطلوب ہے، اور صبر انسان کی نسبت سے۔
قرآن کے اس بیان کے مطابق، دنیا انسان کے لیے دارالکبد ہے۔ ایسی حالت میں، وہ کس طرح سچا شکر گزار بن کر رہ سکتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ حمد اللہ کی نسبت سے ہے، اور کبد انسان کی نسبت سے۔ انسان سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد اور شکر ہے۔ دارالکبد میں…
انسان کا امتحان
قرآن میں ایک طرف یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے اندر وہ اعلی معرفت پیدا ہونی چاہئے، جب کہ وہ کہہ سکے: اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ( 1:1) -دوسری طرف قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ( 90:4)، یعنی انسان کو اس کے خالق نے مشقت(hardship)میں پیدا کیا ہے- ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ انسان کاامتحان یہ ہے کہ وہ مشقت کے حالات میں حمد کی اسپرٹ کے ساتھ جئے- وہ منفی حالات میں مثبت سوچ (positive thinking) کے ساتھ زندگی گزارے-یہ بظاہر متضاد صورت حال (contradictory situation) ہے- پھر اس متضاد صورت حال کی حکمت کیا ہے-
اصل یہ ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے لامحدود صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے- انسان کے دماغ میں لامحدود امکانات چھپے ہوئےہیں- انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے پوٹینشل (potential) کو ایکچول (actual)میں تبدیل کرے، وہ اپنے لاشعور میں چھپے ہوئے…
مسائل کی دنیا
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمین وآسمان (کائنات) کو اللہ نے بہترین تخلیق پر پیدا کیا ہے - ساری کائنات میں تم کہیں کوئی نقص یا فطور (flaw)نہیں پاؤگے( 67:3) - ایک طرف کائنات کے بارے میں قرآن کا یہ بیان ہے، اور دوسری طرف انسان کے بارے میں قرآن بتاتا ہے کہ انسان کو مشقت یا کبد ( 90:4) میں پیدا کیا گیا - پوری تاریخ کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ انسان کا کیس خسر (العصر) کا کیس ہے، یعنی گھاٹا (loss) کا کیس- انسانی دنیا اور بقیہ دنیا میں یہ فرق کیوں-
حقیقت یہ ہے کہ انسانی وجود سے لے کر عالم کائنات تک پوری تخلیق بہترین تخلیق پر پیدا کی گئی ہے- خالق کی تخلیق میں creation کے اعتبار سےپورے عالم کائنات میں کہیں کوئی ذاتی نقص (defect) موجود نہیں- نقص یا فساد (evil) صرف انسانی سماج میں پایا…
…کی شکل میں اس کے لیے ایک عملی نمونے کا انتظام فرمادیا- خدا کے منصوبے کو سمجھنے کے لیے دونوں چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں، کیوں کہ قرآن میں صرف بنیادی چیزوں کا ذکر ہے- اور جہاں تک تفصیلی باتوں کا تعلق ہے، وہ صرف سنتِ رسول میں پائی جاتی ہے-
اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے- قرآن کی سورہ البلد میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو مشقت (toil) میں پیدا کیا (90:4)- قرآن کی اِس آیت میں ایک عالمی حقیقت کو بتایا گیا ہے- ہر عورت اور مرد کو اِس دنیا میں کہیں نہ کہیں مصیبت (suffering) کا تجربہ پیش آتا ہے- اِس واقعے کو لے کر پوری تاریخ میں تمام لوگ منفی سوچ کا شکار ہورہے ہیں- ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ زندگی میں یہ مصیبتیں کیوں پیش آتی ہیں، حتی کہ بہت سے لوگ اِ س واقعے کو خدا کے وجود کے خلاف سب سے بڑی دلیل سمجھتے ہیں-مگر حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ زندگی کی مصیبت (suffering) اپنے اندر ایک عظیم مثبت پہلو رکھتی ہے- یہ مصیبت دراصل زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا معاملہ ہے- زندگی کی مصیبت قابلِ شکر ہے، نہ کہ قابلِ شکایت-
اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک حدیث کا مطالعہ کیجئے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن اللہ إذا أحب قوماً ابتلاہم (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2396) یعنی اللہ جن لوگوںسے محبت کرتاہے، اُن کو آزمائش (مصیبت) میں ڈال دیتا ہے-
…دنیا غیر حقیقی دنیا ہے۔دونوں دنیاؤں کے درمیان بہ ظاہر اس فرق کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا تفکیری عمل (thinking process) موجودہ دنیا کے لیول پر جاری ہوجاتاہے۔ اس کی سوچ اور اس کی منصوبہ بندی میں عملاً آخرت کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔
یہ انسان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ وسیع تر انجام کے اعتبار سے صحیح یہ ہے کہ انسان کے اندر آخرت رخی سوچ (Akhirat-oriented thinking)بنے، نہ کہ دنیا رخی سوچ۔ انسان کو اس معاملے میں بے راہ روی سے بچانے کے لیے فطرت نے یہ انتظام کیا ہے کہ موجودہ دنیا کو دار الکبد (البلد، 90:4)بنا دیا، یعنی مسائل و مشکلات کی دنیا۔ یہ مسائل انسان کے لیے اسپیڈ بریکر (speed breaker) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مسائل اس لیے ہیں کہ انسان موجودہ دنیا کو حقیقی دنیا نہ سمجھے، بلکہ آخرت کے اعتبار سےاپنی زندگی کی تعمیر کرے۔
حدیث میں آیا ہے کہ جب بھی کوئی بیمار ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے لیے کہتے تھے:لاَ بَأْسَ، طَہُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّہُ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3616) ۔یعنی کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کا…
چیلنج، مواقع
اکثر لوگ حالات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حالات ہمارے لیے موافق نہیں ہیں۔ ایسے مقام پر کیا کرنا چاہیے۔ میں کہوں گا کہ قرآن میں آیا ہے : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ (90:4)۔ یعنی ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشکلات (hardship)انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ وہ ہمیشہ موجود رہیں گے۔ ایسی حالت میں مشکلات کے حوالے سے سوچنا بجائے خود درست نہیں۔
انسان کو کبد یا عُسر(hardship)کے اندر پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کبد زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ کبد کو لے کر اپنی زندگی کا منصوبہ نہ بنائے، بلکہ کبد کے اندر جو موافق امکانات موجود ہیں، ان کو لے کر اپنی…
In the lectures
Cited at 1598s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2573s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2578s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2601s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2658s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2921s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2947s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3281s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3618s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3830s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3974s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4935s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4954s — opens the lecture at this moment.
Cited at 108s — opens the lecture at this moment.
Cited at 114s — opens the lecture at this moment.
Cited at 298s — opens the lecture at this moment.
Cited at 431s — opens the lecture at this moment.
Cited at 467s — opens the lecture at this moment.
Cited at 552s — opens the lecture at this moment.
Cited at 618s — opens the lecture at this moment.
Cited at 828s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1406s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1948s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2038s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2183s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2638s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2703s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2719s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2763s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2844s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2916s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3039s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3772s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4065s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4067s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4452s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5760s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…انسان کے بارے میں ایک عمومی اعلان ان الفاظ میں آیا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمٍ ، ثُمَّ رَدَدْنَاہُ أَسْفَلَ سَافِلِینَ (95:4-5)۔ یعنی ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا:
We have indeed created man in the best of mould, then We cast him down as the lowest of the low.
انسان کی ساخت بہترین ساخت ہے، یہ ایک معلوم بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کا تخلیقی نقشہ تمام دوسری مخلوقات سے بہتر صورت میں بنایا گیا ہے۔ خاص طور پر دماغ (mind)ایک ایسا عطیہ ہے جو انسان کے سوا کسی بھی مخلوق کو نہیں دیا گیا۔
…ملنے کو جھٹلاتے ہو۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں۔قرآن كے اِس بيان كے مطابق، انسان كو بهترين شخصيت كے ساتھ پيدا كيا گيا، ليكن اس كے بعد انسان كو ايك ايسى دنيا ميں ڈال ديا گياجو انسان جيسى مخلوق كے ليے اسفل سافلين كى حيثيت ركھتى تھي
We have created man in the best of mould, then We cast him down as the lowest of the low.
اسفل سافلين ميں ڈالنے سے كيا مراد هے۔اِس كا جواب قرآن كى ايك آيت سے معلوم هوتا هے۔ قرآن ميں بتايا گيا هے كه آدم اور اُن كى بيوى حوا كو پيدا كرنے كے بعد پهلے جنت ميں ركھا گيا۔ اس كے بعد اُن كو (اور ان كى نسلوں كو)موجوده دنيا (planet…
…ملنے کو جھٹلاتے ہو۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں۔قرآن کے اِس بیان کے مطابق، انسان کو بہترین شخصیت کے ساتھ پیدا کیا گیا، لیکن اس کے بعد انسان کو ایک ایسی دنیا میں ڈال دیا گیاجو انسان جیسی مخلوق کے لیے اسفل سافلین کی حیثیت رکھتی تھی:
We have created man in the best of mould, then We cast him down as the lowest of the low.
اسفل سافلین میں ڈالنے سے کیا مراد ہے-اِس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے- قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم اور اُن کی بیوی حوا کو پیدا کرنے کے بعد پہلے جنت میں رکھا گیا - اس کے بعد اُن کو (اور ان کی نسلوں کو)موجودہ دنیا (planet…
اس حقیقت کو قرآن میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۹۵ میں خدا نے یہ اعلان کیا ہے کہ —ہم نے انسان کو بہترین بناوٹ کے ساتھ پیدا کیا ۔ پھر اس کو سب سے نیچے درجے میں پھینک دیا (التین ۴ ـ ۵)
We created man in the best mould, then we cast him down to the lowest of the low.
یہ گویا انسان کے لیے ایک وارننگ ہے جو اس کو اس کے حال اور اس کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسان کو اعلیٰ امکانات کے ساتھ پیدا کیا، مگر انسان اپنے امکانات کا کم تر استعمال کرکے اپنے آپ کو بدترین…
There is a verse in the Quran in the chapter Al-Tin (The Fig) regarding creation. It says:
We have indeed created man in the best of mould. (95:4).
This means that every man and woman is best creation. Every woman is Ms. Best and every man is Mr. Best. This is the reason why every married couple should believe in advance that the life partner they have got would certainly be the best…
…طرزِ فکر سے محروم کردیتی ہے۔ آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ فطری انداز میں سوچ سکے۔ اِس مسئلے کو دیکھتے ہوئے روسو کے جملے کو زیادہ بہتر طورپر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ— انسان فطرت پر پیدا ہوا تھا، مگر وہ ہر جگہ کنڈیشنڈ دکھائی دیتا ہے
Man was created on divine nature, but I see him psychologically conditioned.
ایک بچہ جب ماں کے پیٹ سے پیداہوتا ہے، اس وقت اس کو دیکھیے تو وہ معصومیت کا پیکر دکھائی دے گا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ فرشتے نے انسان کی صورت اختیار کرلی ہے۔ پیدائش کے وقت انسان اپنے ذہن کے اعتبار سے خالص ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی سوچ عین…
…صحیح طرزِ فکر سے محروم کردیتی ہے۔ آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ فطری انداز میں سوچ سکے۔ اِس مسئلے کو دیکھتے ہوئے روسو کے جملے کو زیادہ بہتر طورپر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ—انسان فطرت پیدا ہوا تھا، مگر وہ ہر جگہ کنڈیشنڈ دکھائی دیتا ہے:
Man was created on divine nature, but I see him psychologically conditioned.
ایک بچہ جب ماں کے پیٹ سے پیداہوتا ہے، اس وقت اس کو دیکھیے تو وہ معصومیت کا پیکر دکھائی دے گا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ فرشتے نے انسان کی صورت اختیار کرلی ہے۔ پیدائش کے وقت انسان اپنے ذہن کے اعتبار سے خالص ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی سوچ عین…
مغل دور کے شاعر ذوق دہلوی نے کہا تھا:
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
The chapter Al-Tin (The Fig) of the Quran is very short, but it has a great lesson, a universal message for all men and woman—an eternal formula for a successful life. The translation of the relevant verses is as follows:
We have indeed created man in the best of moulds, then We cast him down as the lowest of the low.
(95:4-5)
Anyone who goes through these verses will discover great meaning in them. Everyone by nature has a unique personality, but nothing in this world is all good—the human personality has minus points as well as plus points. One who makes the…
اس حقیقت کو قرآن میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے۔ قرآن کی سورۃ التين میں خدا نے یہ اعلان کیا ہے کہ— ہم نے انسان کو بہترین بناوٹ کے ساتھ پیدا کیا ۔ پھر اس کو سب سے نیچے درجے میں پھینک دیا
We created man in the best mould, then we cast him down to the lowest of the low. (95:4-5)
یہ گویا انسان کے لیے ایک وارننگ ہے جو اس کو اس کے حال اور اس کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسان کو اعلیٰ امکانات کے ساتھ پیدا کیا، مگر انسان اپنے امکانات کا کم تر استعمال کرکے اپنے آپ کو بدترین…