Shukr All cross-references →
Qur'an 3:185
Qur'an 3:185

كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ أُجُورَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ فَمَن زُحۡزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدۡخِلَ ٱلۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَۗ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ

Every soul will taste death, and you will only be given your [full] compensation on the Day of Resurrection. So he who is drawn away from the Fire and admitted to Paradise has attained [his desire]. And what is the life of this world except the enjoyment of delusion

Explained in 18 book passages and 22 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Discovering God (p. 181) A original + quote

…This fact shows how helpless a human being is. In this world, it is only the Creator who is Almighty, All-Powerful. This contradistinction is final. No one is exempted from it (that is, God is All-Powerful and man is totally powerless).

The Quran states: Every human being is bound to taste death (3:185). It is a historical fact that whoever is born into this world has to die after a limited period of time.

The incidence of death bespeaks one’s helplessness. This event proves that helplessness is man’s lot in life. So far as power is concerned, none but the Creator has power. Both these experiences, for men and women alike, are of a proven…

Al-Risala May 2020 A original + quote

بڑھاپے کا تجربہ

قرآن میں تین مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ موت کاذائقہ چکھے (آل عمران،3:185، الانبیاء، 21:35، العنکبوت، 29:57) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو ضرور موت کا تجربہ پیش آنے والا ہے۔موت سے پہلے انسان پر بڑھاپا آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑھاپا انسان کے لیے زندگی کاصرف ایک واقعہ نہیں ہے، بلکہ بڑھاپا انسان کے لیے موت کا ایک پیشگی تجربہ ہے۔

بڑھاپا اس لیے آتا ہے کہ انسان تجربے کی صورت میں موت کی حقیقت کو جان لے۔ تاکہ وہ موت کے بعد پیش آنے والے دورِ حیات کی پیشگی تیاری کرلے۔ موت بہر حال ہر انسان کے لیے آتی ہے۔ مگر بڑھاپا انسان کے لیے ایک چیتاونی ہے، تاکہ وہ موت سے پہلے موت…

Al-Risala May 2020 A original + quote

زندگی ایک موقع

قرآن میںزندگی کی ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان پر لازماً موت کا تجربہ گزرنے والا ہے۔ ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے والا ہے کہ اس پر موت آئے۔ ایک محدود مدت تک زمین پر رہنے کے بعد وہ مرکر ایک اور دنیا میں پہنچ جائے۔

سروے کے مطابق، اس دنیا میں انسان کی اوسط عمرتقریباً80 سال ہے۔ ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ ایک بچے کی حالت میں پیدا ہو۔ پھر وہ جوان ہو۔ اس کو بیماری اور حادثہ جیسے تجربات پیش آئیں۔ زندگی کے مختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے وہ…

Al-Risala May 2020 A original + quote

موت کا تجربہ

قرآن میں آیا ہے :کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہرنفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ ذائقہ سے مراد تجربہ (experience)ہے، یعنی ہر انسان جو پیدا ہوا ہے، اس کو لازماً موت کا تجربہ پیش آنے والا ہے۔ پیدائش بھی ایک تجربہ ہے، اور موت بھی ایک تجربہ۔ کامیاب انسان وہ ہے، جو ان دونوں تجربات سے سبق لے۔ جو ان تجربات کو اپنے لیے سبق میں ڈھال سکے۔

زندگی کو جاننے والا شخص وہ ہے، جو زندگی کو ایک موقع کی صورت میں دریافت کرے، اور پھر منصوبہ بند انداز میں اس موقع کو استعمال کرے۔ یہی انسان کامیاب انسان ہے۔ ایسے انسان کے لیے زندگی بھی بامعنی ہے، اور موت بھی بامعنی۔ اس کے برعکس کیس، اس…

Al-Risala May 2020 A original + quote

سب سے زیادہ جاننے کی بات

موت کے بارے میں ایک حقیقت قرآن کی تین آیتوںمیں بیان ہوئی ہے۔ ان میں سےایک آیت یہ ہے:کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں جو آدمی پیدا ہوتا ہے، وہ ایک ابدی خواب (eternal dream) لے کر پیدا ہوتا ہے۔ مگر ہر آدمی اپنے خواب کی تکمیل سے پہلے اچانک مرجاتا ہے۔ یہ حادثہ ہر مرد اور ہر عورت کے ساتھ پیش آرہا ہے۔اس واقعے پر غور کیجیے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر انسان کی زندگی ناکام ہے۔ انسان کو کوئی اور دنیا چاہیے، جہاں وہ اپنے خواب کے مطابق، اپنی زندگی کی تکمیل کرسکے۔

مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا ناتمام خواب دراصل یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو دریافت کرے۔ اس کی زندگی کے بارے میں اس کے خالق کا جو منصوبہ ہے، اس کو وہ مکمل کرے۔ یہ ہر آدمی کا خواب ہے۔ اس میں کوئی استثنا نہیں۔ انسان کے ساتھ مزید…

Al-Risala May 2020 A original + quote

…کرنا ہے کہ وہ کون سا رول ادا کرنے کے لیے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے، اور کیا وہ اس رول کو دنیا میں ادا کررہا ہے یا نہیں۔ یہی ہر انسان کا امتحان ہے۔ جو اس امتحان میں پورا اترے، وہ کامیاب ہے، اور جو اس امتحان میں پورا نہ اترے، وہ ناکام ہے۔

پھر مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی  کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185) ۔ یعنی ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ذائقہ سے مراد موت کا تجربہ ہے ۔ موت کا تجربہ ہرآدمی کے لیے ایک سبق ہے۔ اس دنیا کے لیے صرف بقدرِ ضرورت حاصل کرو، اور ساری کوشش اُس دنیا کی تعمیر کے لیے کرو، جہاں تم کو ہمیشہ کے لیے رہنا ہے۔ موت کی یاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے عمل کا محرک (incentive) ختم ہوجاتا ہے۔ جو لوگ صرف قبل از موت زندگی کو مانتے ہوں، ان کے لیے یہ بات درست ہوسکتی ہے، لیکن جو لوگ اس حقیقت کو مانیں کہ موت کے بعد بھی زندگی ہے، اور وہ ابدی زندگی ہے، ان کے لیے عمل کا محرک بڑھ جاتا ہے، اتنا زیادہ کہ کسی اور چیز سے اتنا زیادہ بڑھنے والا نہیں۔ اگر آدمی اس حقیقت کو دریافت کرلے کہ موت کے بعد انسان کی ابدی زندگی شروع ہوتی ہےتو وہ یقینا ًچاہے گا کہ وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی کو کامیاب بنائے، اور یہ ماننا بلاشبہ عمل کے محرک کو بے شمار گنا زیادہ کردیتا ہے۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ میری دعا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ مرحوم کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آپ کے گھر میں ان کے جانے سے جو کمی واقع ہوئی ہے، خدا اس کی بھرپور تلافی فرمائے۔ آمین

Al-Risala October 2018 A original + quote

موت کی یاد

قرآن میں انسان کے بارے میں ایک سنگین حقیقت کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے:کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ(3:185)۔ اس حقیقت کے بارے میں حدیثِ رسول میں یہ الفاظ آئے ہیں:أَکْثِرُوا ذِکْرَ ہَادِمِ اللَّذَّاتِ، الْمَوْتَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4258)یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھادینے والی ہے۔

ھادم اللذات کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ موت کی یاد سوپر ڈی کنڈیشننگ (super deconditioning) کا ذریعہ ہے۔ ہر آدمی ضرور اپنے ماحول کی کنڈیشننگ کا شکار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر عورت اور مردلازمی طور پر مسٹر کنڈیشنڈ یا مس کنڈیشنڈ بن…

Al-Risala november 2016 A original + quote

موت کی حقیقت

قرآن کی سورہ آل عمران میں آیا ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ(3:185)۔یعنی ہر انسان موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔ انسان دنیا کے ذائقوں میں جیتا ہے، مگر آخر کار جو ذائقہ انسان کے لیے مقدر ہے، وہ موت کا ذائقہ ہے۔ موت کا ذائقہ اتنا زیادہ تلخ ہے کہ وہ دوسرے تمام ذائقوں کو منہدم کردینے والا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: أکثروا ذکر ہادم اللذات، الموت (سنن الترمذی، کتاب الزہد)۔یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ ذائقہ یا لذت کا لفظ یہاں کسی محدود معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ وسیع تر معنوں میں ہے۔ آدمی ایک لذت پسند مخلوق (pleasure-seeking animal) ہے۔ ہر چیز میں اس کو لذت محسوس ہوتی ہے۔ کھانے پینے میں، اچھا کپڑا پہننے میں، اچھا گھر بنانے میں، اچھی سواریوں پر سفر کرنے میں، تفریح کی مجلسوں میں شریک ہونے میں، شہرت اور اقتدار کی سیٹ پر بیٹھنے میں، وغیرہ۔ اِس قسم کی تمام چیزوں میں آدمی کو بے پناہ لذت ملتی ہے۔ وہ اِن لذتوں میں گم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر وہ حقیقۃً یہ سوچے کہ موت کے آتے ہی اچانک یہ تمام لذتیں اس سے چھن جائیں گی، تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ مثلاً جب کوئی شخص دوسرے انسان کی عیب زنی کرتا ہے تو غیر شعوری طورپر اس کو یہ خوشی حاصل ہوتی ہے کہ میں ایک بے عیب انسان ہوں۔ جب کوئی انسان کسی کو ذلیل کرتاہے تو یہ اس کے لیے اس کی انا (ego)کی تسکین کا باعث ہوتاہے۔ کوئی شخص ناحق طورپر کسی کے مال وجائداد پر قبضہ کرتاہے تو وہ اس کو اپنی ہوشیاری سمجھ کر اطمینان حاصل کرتاہے۔ اِس قسم کی مختلف صورتیں ہیں جن پر عمل کرکے انسان کو خوشی اور فخر(pride)کا احساس ہوتاہے۔ وہ اپنے آپ کو کامیاب انسان سمجھ لیتاہے۔ لیکن اگر اس کو یقین ہو کہ موت کا فرشتہ کسی بھی وقت آئے گا، اور اچانک اس کی زندگی کا خاتمہ کردے گا، اِس حقیقت کا احساس اگر کسی کو حقیقی طورپر ہوجائے تو وہ محسوس کرے گا کہ موت سے پہلے ہی اس کی موت واقع ہوچکی ہے۔

Al-Risala May 2016 A original + quote

…سوچ پیدا ہوتی ہے، مگر یہ صرف ایک قیاسی بات تھی۔ اِس مسئلے کا باقاعدہ علمی مطالعہ کیاگیا تو معلوم ہوا کہ معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کے بارے میں سوچنا ایک اچھی عادت ہے۔ اِس سے آدمی کے اندر صحت مند صفات پیدا ہوتی ہیں۔

قرآن میں آیا ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اِس سلسلے میں ایک حدیثِ رسول اِن الفاظ میں آئی ہے أکثروا ذکر ہادم اللذات، الموت (سنن الترمذی، حدیث نمبر2307)۔یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، وہ لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ موت کی یاد حقیقت ِ حیات کی یاد ہے۔ موت کی یاد آدمی کو بتاتی ہے کہ اس کے پاس لامحدود وقت نہیں۔ کسی بھی لمحہ وہ وقت آسکتا ہے، جب کہ اس کی موجودہ زندگی ختم ہوجائے۔

اِس طرح موت کی یاد آدمی کے اندر جلدی کا احساس (sense of urgency) پیدا کرتی ہے۔ آدمی کے اندر یہ محرک (incentive) پیدا ہوتاہے کہ وہ اپنے کام کو جلد پورا کرے، کیوں کہ کچھ معلوم نہیں کہ کب وقت ہوجائے اور کام کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔ اِس طرح…

Al-Risala October 2015 A original + quote

…وضع کیے: الفیل ما الفیل لہ ذنب وثیل ومشفر طویل ۔مگر یہ سب لغو باتیں تھیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ چیلنج آئڈیالوجی کے معنی میں ہے۔ یعنی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ قرآن کے مقابلے میں کوئی متوازی آئڈیالوجی (parallel ideology) وضع کرسکے۔

تاریخ میں بار بار قرآن کی مثل آئڈیالوجی تیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر اس میں مکمل ناکامی ہوئی۔ مثلا خالق کا بدل (alternative) وضع کرنا، قرآن کے بیان کردہ تخلیقی منصوبہ (creation plan)کے مقابلے میں دوسرا منصوبہ وضع کرنا، وحی (revelation)کا بدل وضع کرنا، اخروی جنت کے بجائے دنیوی جنت تعمیر کرنا، کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ(3:185) کے بجائے ابدی حیات کو ممکن بنانے کی کوشش کرنا، أَلَا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28) کے بجائےغیر خدا میں اطمینان قلب حاصل کرنے کی کوشش کرنا،وغیرہ۔ انسان نے باربار ان پہلوؤں سے قرآن کا جواب وضع کرنے کی کوشش کی لیکن اس معاملے میں اس کو مکمل ناکامی ہوئی۔

موت کا پیغام

قرآن کی تین سورتوں میں یہ آیت آئی ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185) ہرشخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے :

Every human being is bound to taste death

Al-Risala October 2014 A unverified

زندگی اور موت

الرسالہ مشن سے وابستہ ایک خاتون کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ روڈ ایکسیڈینٹ میں ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ اُن سے گفتگو کرتےہوئے میں نے کہا کہ اِس معاملے کو آپ قرآن کی دو آیتوں کی روشنی میں دیکھئے(2:155)، (3:185)۔ اِس کے مطابق، موت اللہ کا ایک فیصلہ ہے۔ زندگی بھی اللہ کے فیصلے سے وجود میں آتی ہے اور موت بھی اللہ کے فیصلے سے وقوع میں آتی ہے-

حقیقت یہ ہے کہ موت کوئی ’’حادثہ‘‘ نہیں، موت ایک امتحان (test) ہے۔ موت کو اگر حادثہ (accident) سمجھا جائے تو اُس سے غم کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اِس کے برعکس، موت کو اگر امتحان سمجھا جائے تو آدمی کے اندر ایک نیا عزم جاگ اٹھے گا-وہ سمجھے گا…

Al-Risala January 2012 A original + quote

موت کی حقیقت

قرآن کی سورہ آل عمران میں آیا ہے: کل نفس ذائقۃ الموت (3: 185) یعنی ہر انسان موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔ انسان دنیا کے ذائقوں میں جیتا ہے، مگر آخر کار جو ذائقہ انسان کے لیے مقدر ہے، وہ موت کا ذائقہ ہے۔ موت کا ذائقہ اتنا زیادہ تلخ ہے کہ وہ دوسرے تمام ذائقوں کو منہدم کردینے والا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: أکثروا ذکر ہادم اللذات، الموت (الترمذی، کتاب الزہد) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔

ذائقہ یا لذت کا لفظ یہاں کسی محدود معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ وسیع تر معنوں میں ہے۔ آدمی ایک لذت پسند مخلوق (pleasure-seeking animal) ہے۔ ہر چیز میں اس کو لذت محسوس ہوتی ہے۔ کھانے پینے میں، اچھا کپڑا پہننے میں، اچھا گھر بنانے میں، اچھی…

Al-Risala May 2020 A original + quote

بڑھاپے کا تجربہ

قرآن میں تین مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ موت کاذائقہ چکھے (آل عمران،3:185، الانبیاء، 21:35، العنکبوت، 29:57) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو ضرور موت کا تجربہ پیش آنے والا ہے۔موت سے پہلے انسان پر بڑھاپا آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑھاپا انسان کے لیے زندگی کاصرف ایک واقعہ نہیں ہے، بلکہ بڑھاپا انسان کے لیے موت کا ایک پیشگی تجربہ ہے۔

بڑھاپا اس لیے آتا ہے کہ انسان تجربے کی صورت میں موت کی حقیقت کو جان لے۔ تاکہ وہ موت کے بعد پیش آنے والے دورِ حیات کی پیشگی تیاری کرلے۔ موت بہر حال ہر انسان کے لیے آتی ہے۔ مگر بڑھاپا انسان کے لیے ایک چیتاونی ہے، تاکہ وہ موت سے پہلے موت…

Al-Risala May 2020 A original + quote

زندگی ایک موقع

قرآن میںزندگی کی ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان پر لازماً موت کا تجربہ گزرنے والا ہے۔ ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے والا ہے کہ اس پر موت آئے۔ ایک محدود مدت تک زمین پر رہنے کے بعد وہ مرکر ایک اور دنیا میں پہنچ جائے۔

سروے کے مطابق، اس دنیا میں انسان کی اوسط عمرتقریباً80 سال ہے۔ ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ ایک بچے کی حالت میں پیدا ہو۔ پھر وہ جوان ہو۔ اس کو بیماری اور حادثہ جیسے تجربات پیش آئیں۔ زندگی کے مختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے وہ…

Al-Risala May 2020 A original + quote

موت کا تجربہ

قرآن میں آیا ہے :کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہرنفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ ذائقہ سے مراد تجربہ (experience)ہے، یعنی ہر انسان جو پیدا ہوا ہے، اس کو لازماً موت کا تجربہ پیش آنے والا ہے۔ پیدائش بھی ایک تجربہ ہے، اور موت بھی ایک تجربہ۔ کامیاب انسان وہ ہے، جو ان دونوں تجربات سے سبق لے۔ جو ان تجربات کو اپنے لیے سبق میں ڈھال سکے۔

زندگی کو جاننے والا شخص وہ ہے، جو زندگی کو ایک موقع کی صورت میں دریافت کرے، اور پھر منصوبہ بند انداز میں اس موقع کو استعمال کرے۔ یہی انسان کامیاب انسان ہے۔ ایسے انسان کے لیے زندگی بھی بامعنی ہے، اور موت بھی بامعنی۔ اس کے برعکس کیس، اس…

Al-Risala May 2020 A original + quote

سب سے زیادہ جاننے کی بات

موت کے بارے میں ایک حقیقت قرآن کی تین آیتوںمیں بیان ہوئی ہے۔ ان میں سےایک آیت یہ ہے:کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں جو آدمی پیدا ہوتا ہے، وہ ایک ابدی خواب (eternal dream) لے کر پیدا ہوتا ہے۔ مگر ہر آدمی اپنے خواب کی تکمیل سے پہلے اچانک مرجاتا ہے۔ یہ حادثہ ہر مرد اور ہر عورت کے ساتھ پیش آرہا ہے۔اس واقعے پر غور کیجیے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر انسان کی زندگی ناکام ہے۔ انسان کو کوئی اور دنیا چاہیے، جہاں وہ اپنے خواب کے مطابق، اپنی زندگی کی تکمیل کرسکے۔

مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا ناتمام خواب دراصل یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو دریافت کرے۔ اس کی زندگی کے بارے میں اس کے خالق کا جو منصوبہ ہے، اس کو وہ مکمل کرے۔ یہ ہر آدمی کا خواب ہے۔ اس میں کوئی استثنا نہیں۔ انسان کے ساتھ مزید…

Al-Risala May 2020 A original + quote

…کرنا ہے کہ وہ کون سا رول ادا کرنے کے لیے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے، اور کیا وہ اس رول کو دنیا میں ادا کررہا ہے یا نہیں۔ یہی ہر انسان کا امتحان ہے۔ جو اس امتحان میں پورا اترے، وہ کامیاب ہے، اور جو اس امتحان میں پورا نہ اترے، وہ ناکام ہے۔

پھر مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی  کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185) ۔ یعنی ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ذائقہ سے مراد موت کا تجربہ ہے ۔ موت کا تجربہ ہرآدمی کے لیے ایک سبق ہے۔ اس دنیا کے لیے صرف بقدرِ ضرورت حاصل کرو، اور ساری کوشش اُس دنیا کی تعمیر کے لیے کرو، جہاں تم کو ہمیشہ کے لیے رہنا ہے۔ موت کی یاد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے عمل کا محرک (incentive) ختم ہوجاتا ہے۔ جو لوگ صرف قبل از موت زندگی کو مانتے ہوں، ان کے لیے یہ بات درست ہوسکتی ہے، لیکن جو لوگ اس حقیقت کو مانیں کہ موت کے بعد بھی زندگی ہے، اور وہ ابدی زندگی ہے، ان کے لیے عمل کا محرک بڑھ جاتا ہے، اتنا زیادہ کہ کسی اور چیز سے اتنا زیادہ بڑھنے والا نہیں۔ اگر آدمی اس حقیقت کو دریافت کرلے کہ موت کے بعد انسان کی ابدی زندگی شروع ہوتی ہےتو وہ یقینا ًچاہے گا کہ وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی کو کامیاب بنائے، اور یہ ماننا بلاشبہ عمل کے محرک کو بے شمار گنا زیادہ کردیتا ہے۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ میری دعا ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ مرحوم کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آپ کے گھر میں ان کے جانے سے جو کمی واقع ہوئی ہے، خدا اس کی بھرپور تلافی فرمائے۔ آمین

In the lectures

Cited at 112s — opens the lecture at this moment.

Cited at 141s — opens the lecture at this moment.

Cited at 168s — opens the lecture at this moment.

Cited at 194s — opens the lecture at this moment.

Cited at 228s — opens the lecture at this moment.

Cited at 455s — opens the lecture at this moment.

Cited at 624s — opens the lecture at this moment.

Cited at 708s — opens the lecture at this moment.

Cited at 804s — opens the lecture at this moment.

Cited at 885s — opens the lecture at this moment.

Cited at 909s — opens the lecture at this moment.

Cited at 972s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1390s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2136s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2388s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2681s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2775s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3186s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3405s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3434s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4368s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5684s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…they sought. But once they attain it and experience it, they realise that it falls far short of their desired ideal. This is why, in this world, a person may find the thrill of the chase, but they do not experience the joy of possession.

In this world, there is a deceptive pleasure for a person, while the Hereafter offers true pleasure. Everything in the Hereafter will be of the highest standard. Therefore, it will become a source of genuine and limitless delight for humans. Whatever a person desires will be granted to them in Paradise, enhanced and fulfilling, so there will be no question of boredom there.

semantic Discovering God (p. 231) original + quote

…have strayed, except for those whom I will show the way. You ask Me for guidance, I will guide you. O my servants, you are all hungry, except those whom I feed. You ask me for food, I will give you food.” (Sahih Muslim, Hadith No. 2577)

God certainly gave a human being a perfect existence, but he does not have any personal choice. Human beings are completely helpless creatures. This helplessness is compensated for by God in this world. This helplessness is compensated for only according to need. This has been mentioned thus in the Quran: “He has given you all that you asked of Him.” (14:34) In Paradise in the Hereafter, this helplessness will be compensated for according to one’s desire: “Therein you shall have all that your souls desire.”(41:31)

The discovery of this truth is the greatest realization, discovering one’s total helplessness in comparison to the Omnipotence of God Almighty is the beginning of realization of truth. The door of realization does not open to any person…

…مطلوب هي نهيں۔ اگراصل پيغام كسي شخص تك پوري طرح پهنچ جائے تو اس كے بعد خدا كے نزديك اس پر حجت قائم هوجاتي هے۔ حقيقت كا دليل كي زبان ميں ظاهر هوجانا هي كافي هےكہ اس كو انكار حق كا مجرم قرار دے كر وه سزا دي جائے جو منكرينِ حق كے لیے مقدر هے۔

دنيا كي زندگي امتحان كے لیے هے۔ يهاں هر آدمي كو بقدر امتحان ضروري اسباب دئے جاتے هيں۔ اب جو شخص آخرت پسند هو وه موجوده دنيا كے اسباب كو آخرت كي تعمير كے لیے استعمال كرے گا اور اس كے نتيجه ميں آخرت ميں مزيد اضافه كے ساتھ اپنا انعام پائے گا۔ اس كے برعكس، جو شخص دنيا پسند هو وه صرف موجوده دنيا كے پيش نظر عمل كرےگا۔ ايسا شخص يقيناً موجوده دنيا ميں اپنا پھل پاسكتا هے۔ مگر آخرت ميں وه سراسر محروم رهے گا۔ جب اس نے آخرت كے ليے كچھ كيا هي نه تھا تو كيسے ممكن هے كه آخرت ميں اس كو كچھ ديا جائے۔

جب ايك بات خدا كي كتاب سے ثابت نه هو، اس كے باوجود آدمي اس كے حق هونے پر اصرار كرے تو اس كا مطلب يه هے كه وه دوسروں كو خدا كے برابر ٹھهرارها هے۔ وه خدا كے سوا دوسروں كو يه حق دے رها هے كه وه انسان كے لیے اس كا دين وضع كريں۔يه ايك بے حد…

…كا يه كام موجوده دنيا ميں آدمي كو خود كرنا هے۔ آخرت ميں يه كام خدا كي طرف سے انجام ديا جائےگا۔ عقل مند وه هے جو قيامت ميں تولے جانے سے پهلے اپنے آپ كو تول لے۔كيونكه قيامت كي تول آخري فيصله كے لیے هوگي، نه كه عمل كي مهلت دينے كے ليے۔

دنيا كي زندگي امتحان كے لیے هے۔ يهاں هر آدمي كو بقدر امتحان ضروري اسباب دئے جاتے هيں۔ اب جو شخص آخرت پسند هو وه موجوده دنيا كے اسباب كو آخرت كي تعمير كے لیے استعمال كرے گا اور اس كے نتيجه ميں آخرت ميں مزيد اضافه كے ساتھ اپنا انعام پائے گا۔ اس كے برعكس، جو شخص دنيا پسند هو وه صرف موجوده دنيا كے پيش نظر عمل كرےگا۔ ايسا شخص يقيناً موجوده دنيا ميں اپنا پھل پاسكتا هے۔ مگر آخرت ميں وه سراسر محروم رهے گا۔ جب اس نے آخرت كے ليے كچھ كيا هي نه تھا تو كيسے ممكن هے كه آخرت ميں اس كو كچھ ديا جائے۔

اگر آدمي كو لامحدود نگاه حاصل هوجائے تو وه ديكھے گا كه يهاں ايك خدا هے جو سارے زمين وآسمان كا مالك هے۔ اس كي طاقت اتني زبردست هے كه كائنات اس كي هيبت سے گويا پھٹي جارهي هے۔ فرشتے جو براهِ راست خدا كي خدائي سے باخبر هيں وه هر آن خشيت…

The present world is a testing ground. One who passes the divine test in the present world will be awarded Paradise in the next world. Keeping your mind focused on this reality is the best way to manage your desires, thus saving yourself from tension and despair.

A Duty Conscious Society

THE LIFE OF PARADISE

This world offers fleeting pleasures, while the hereafter promises true, eternal joy. In paradise, everything will be of the highest standard, fulfilling every desire in a realm of lasting happiness.

During my trip to Japan in December 1990, I met a gentleman. I mentioned that the current world is a temporary place, while the Hereafter is the realm of eternal residence. A person should strive to build their “Paradise” in the eternal…

What is the greatest issue that should concern a person? It is to attain to salvation in the life to come after death and to have a share in God’s mercy for all eternity.

Everyone who is born into this present world has to enter into another world after death. In the present world, a person has all kinds of opportunities to shine while being tested. In the next world, what he will receive will be by way of rewards for his actions. In the world before death he received everything, whether or not he deserved it. But in the world after death, this will no longer be the case. He will receive nothing without having deserved it. At that time, the sole criterion for receiving anything will be merit.

In the next world, only those who are held to be deserving will be showered with blessings of all kinds, whereas those who are lacking in merit, will have nothing.

semantic Tazkirul Quran (Urdu) unverified

…سمجھنے والا یکایک اپنے کو اس حال میں پاتا ہے کہ مجبوری اور بے اختیاری کے سوا اس کے پاس اور کوئی سرمایا نہیں — آدمی اگر اس حقیقت کو سامنے رکھے تو وہ دنیا میں کبھی سرکش نہ بنے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم اور بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔

دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت میں بننے والی ہے اوراس کو وہی شخص پائے گا جو خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ دنیا میں آدمی بالفرض سب کچھ حاصل کرلے تب بھی وہ اس پر قادر نہیں کہ اپنی زندگی کو دکھ اور غم سے پاک کرسکے۔ یہاں ہر خوشی کے ساتھ کوئی اندیشہ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی ہر کامیابی بہت جلد کسی دکھ کی نذر ہوجاتی ہے۔ دکھ اور رنج سے خالی زندگی ایک ایسی انوکھی زندگی ہے جو صرف جنت کے ماحول میں آدمی کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ اس راز کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بالآخر خدا کی ابدی جنتوں میں پہنچیں گے۔ راحت اور خوشی کی زندگی جو انسان کو بے حد مرغوب ہے وہ خدا کے وفادار بندوں کو کامل طورپر جنت میں ملے گی۔ مگر راحت اور خوشی کا ایک اور درجہ ہے جو معروف راحتوں اور خوشیوں سے بہت بلند ہے۔ یہ مالک کائنات کا دیدار ہے جو اہلِ جنت کو خصوصی طورپر حاصل ہوگا۔ جو خدا راحتوں اور لذتوں کا خالق ہے وہ یقینی طورپر تمام راحتوں اور لذتوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوچکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا۔ اے جنت والو، تمھارے ليے خدا کا ایک وعدہ باقی ہے جس کو اب وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنت والے یہ سن کر کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کرديے گئے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاگیا۔ کیا خدا نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا اور ہم کو آگ سے نہیں بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے حجاب اٹھالیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو خدا نے انھیں دی ہے وہ ان کے ليے خدا کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی کرنے والی ہوگی (فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 18941 آدمی کے لیے اس سے زیادہ سخت حالت اورکوئی نہیں کہ وہ ایک ایسی بے بسی سے دوچار ہوجو ابدی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ناکامی میں پڑا ہوا پائے جو دوبارہ کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ آخرت میں جہنم کے باشندے قرار ديے جائیں گے وہ اسی حالت سے دوچار ہوں گے۔ ان کے چہرے شدید مایوسی کی وجہ سے ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔

دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت…

semantic Tazkirul Quran (Urdu) unverified

…ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔

دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت میں بننے والی ہے اوراس کو وہی شخص پائے گا جو خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ دنیا میں آدمی بالفرض سب کچھ حاصل کرلے تب بھی وہ اس پر قادر نہیں کہ اپنی زندگی کو دکھ اور غم سے پاک کرسکے۔ یہاں ہر خوشی کے ساتھ کوئی اندیشہ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی ہر کامیابی بہت جلد کسی دکھ کی نذر ہوجاتی ہے۔ دکھ اور رنج سے خالی زندگی ایک ایسی انوکھی زندگی ہے جو صرف جنت کے ماحول میں آدمی کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ اس راز کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بالآخر خدا کی ابدی جنتوں میں پہنچیں گے۔ راحت اور خوشی کی زندگی جو انسان کو بے حد مرغوب ہے وہ خدا کے وفادار بندوں کو کامل طورپر جنت میں ملے گی۔ مگر راحت اور خوشی کا ایک اور درجہ ہے جو معروف راحتوں اور خوشیوں سے بہت بلند ہے۔ یہ مالک کائنات کا دیدار ہے جو اہلِ جنت کو خصوصی طورپر حاصل ہوگا۔ جو خدا راحتوں اور لذتوں کا خالق ہے وہ یقینی طورپر تمام راحتوں اور لذتوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوچکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا۔ اے جنت والو، تمھارے ليے خدا کا ایک وعدہ باقی ہے جس کو اب وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنت والے یہ سن کر کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کرديے گئے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاگیا۔ کیا خدا نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا اور ہم کو آگ سے نہیں بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے حجاب اٹھالیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو خدا نے انھیں دی ہے وہ ان کے ليے خدا کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی کرنے والی ہوگی (فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 18941 آدمی کے لیے اس سے زیادہ سخت حالت اورکوئی نہیں کہ وہ ایک ایسی بے بسی سے دوچار ہوجو ابدی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ناکامی میں پڑا ہوا پائے جو دوبارہ کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ آخرت میں جہنم کے باشندے قرار ديے جائیں گے وہ اسی حالت سے دوچار ہوں گے۔ ان کے چہرے شدید مایوسی کی وجہ سے ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔

شرک کا پورا کاروبار جھوٹی امیدوں پر قائم ہوتاہے، وہ واقعات جو خداکے كيے سے ہورہے ہیں ان کو آدمی جھوٹے معبودوں کی طرف منسوب کردیتاہے اور اس طرح خود ساختہ تصور کے تحت ان کو اپنی عقیدت وپرستش کا مرکز بنا لیتاہے۔ اپنے ان معبودوں پر اس کا…

semantic Tazkirul Quran (Urdu) unverified

…ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔

دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت میں بننے والی ہے اوراس کو وہی شخص پائے گا جو خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ دنیا میں آدمی بالفرض سب کچھ حاصل کرلے تب بھی وہ اس پر قادر نہیں کہ اپنی زندگی کو دکھ اور غم سے پاک کرسکے۔ یہاں ہر خوشی کے ساتھ کوئی اندیشہ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی ہر کامیابی بہت جلد کسی دکھ کی نذر ہوجاتی ہے۔ دکھ اور رنج سے خالی زندگی ایک ایسی انوکھی زندگی ہے جو صرف جنت کے ماحول میں آدمی کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ اس راز کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بالآخر خدا کی ابدی جنتوں میں پہنچیں گے۔ راحت اور خوشی کی زندگی جو انسان کو بے حد مرغوب ہے وہ خدا کے وفادار بندوں کو کامل طورپر جنت میں ملے گی۔ مگر راحت اور خوشی کا ایک اور درجہ ہے جو معروف راحتوں اور خوشیوں سے بہت بلند ہے۔ یہ مالک کائنات کا دیدار ہے جو اہلِ جنت کو خصوصی طورپر حاصل ہوگا۔ جو خدا راحتوں اور لذتوں کا خالق ہے وہ یقینی طورپر تمام راحتوں اور لذتوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوچکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا۔ اے جنت والو، تمھارے ليے خدا کا ایک وعدہ باقی ہے جس کو اب وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنت والے یہ سن کر کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری نہیں کرديے گئے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کردیاگیا۔ کیا خدا نے ہمیں جنت میں نہیں داخل کردیا اور ہم کو آگ سے نہیں بچالیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے حجاب اٹھالیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو خدا نے انھیں دی ہے وہ ان کے ليے خدا کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی کرنے والی ہوگی (فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 18941 آدمی کے لیے اس سے زیادہ سخت حالت اورکوئی نہیں کہ وہ ایک ایسی بے بسی سے دوچار ہوجو ابدی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ناکامی میں پڑا ہوا پائے جو دوبارہ کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ آخرت میں جہنم کے باشندے قرار ديے جائیں گے وہ اسی حالت سے دوچار ہوں گے۔ ان کے چہرے شدید مایوسی کی وجہ سے ایسی کالے ہوجائیںگےگویا کہ وہ تہ بتہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگرچہ اس کی برائی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا ۔

دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھاجاتاہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہوجاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہوسکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت…