Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سب سے زیادہ جاننے کی بات
موت کے بارے میں ایک حقیقت قرآن کی تین آیتوںمیں بیان ہوئی ہے۔ ان میں سےایک آیت یہ ہے:کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں جو آدمی پیدا ہوتا ہے، وہ ایک ابدی خواب (eternal dream) لے کر پیدا ہوتا ہے۔ مگر ہر آدمی اپنے خواب کی تکمیل سے پہلے اچانک مرجاتا ہے۔ یہ حادثہ ہر مرد اور ہر عورت کے ساتھ پیش آرہا ہے۔اس واقعے پر غور کیجیے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر انسان کی زندگی ناکام ہے۔ انسان کو کوئی اور دنیا چاہیے، جہاں وہ اپنے خواب کے مطابق، اپنی زندگی کی تکمیل کرسکے۔original + quote
مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا ناتمام خواب دراصل یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو دریافت کرے۔ اس کی زندگی کے بارے میں اس کے خالق کا جو منصوبہ ہے، اس کو وہ مکمل کرے۔ یہ ہر آدمی کا خواب ہے۔ اس میں کوئی استثنا نہیں۔ انسان کے ساتھ مزید کیا ہونے والا ہے، اس کا اشارہ قرآن میں دومقامات پر آیا ہے۔ایک آیت کےالفاظ یہ ہیں:وَلَوْ أَنَّمَا فِی الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّہُ مِنْ بَعْدِہِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ (31:27)۔ دوسری آیت میں یہ بات ان الفاظ میں آئی ہے:قُلْ لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّی لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّی وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہِ مَدَدًا (18:109)۔ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ وہ لفظوں میں بیان کی جاسکے۔original + quote
ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی آرزؤں کی تکمیل اس طرح ہونے والی ہے کہ اس کو موت کے بعد کی دنیامیں دوبارہ نئے مواقع زیادہ کامل انداز میں دیے جائیں۔ انسان ایک اور تہذیب (civilization) کی تکمیل کرے۔ وہ زیادہ معیاری انداز میںیونیورسٹی اور لائبریری جیسے ادارے بنائے، وہ اپنی علمی اور تعلیمی سرگرمیوں کو زیادہ اعلیٰ معیار پر قائم کرے۔