Shukr All cross-references →
Qur'an 1:1
Qur'an 1:1

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

In the name of Allah, the Entirely Merciful, the Especially Merciful

Explained in 12 book passages and 39 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

There are 114 chapters in the Quran, some long and some short. The opening chapter, Al-Fatihah (The Opening), which serves as a preface to the Quran, comprises of only six short verses. The translation of this chapter is as follows:

All praise is due to God, the Lord of the Universe; the Beneficent, the Merciful; Lord of the Day of Judgement. You alone we worship, and to You alone we turn for help. Guide us to the straight path: the path of those You have blessed; not of those who have incurred Your wrath, nor of those who have gone astray. (1:1-6)

The first verse of this chapter is: “All praise is due to God, the Lord of the Universe.” This is the gist of the Quran. The basic message of the Quran is that man must be grateful to God, man must acknowledge God Almighty. Man must adopt…

The Quran deals with almost all the issues related to mankind. Its language is very simple. Its clarity is par excellence. The first two verses of the first chapter are like this:

All praise is due to God, the Lord of the Universe, the Beneficent, the Merciful. (1:1-2)

These two verses represent the gist of the Quranic message. It means that man should acknowledge God as the Creator, as the Sustainer, and as compassionate to all His Creatures. This is the beginning of divine knowledge. This determines…

Al-Risala September 2022 A original + quote

شکر کی نفسیات میں جینا

مسلمان ہر روز اپنی نماز میں قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہیں الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1:1)۔ یعنی ساری حمد صرف اللہ کے لیے ہے جوسارے جہان کا رب ہے۔ حمد کی حقیقت شکر ہے۔ "ساری حمد اللہ کے لیے ہے"کا مطلب یہ ہے کہ سارا شکر اللہ کے لیے ہے۔

قرآن کی اس آیت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اس کو صرف زبان سے پڑھ دیا جائے، بلکہ وہ ایک تربیت کا کلمہ ہے۔ وہ ہر روز مسلمان کو ایک حقیقت کی یاد دلاتاہے۔ وہ یہ کہ انسان کو چاہیے کہ وہ روزانہ پیش آنے والے واقعات پر غور کرے۔ وہ واقعات کی ایسی…

Al-Risala May 2019 A original + quote

حمد خداوندی

قرآن کی پہلی آیت یہ ہے:الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (1:1)۔ یعنی سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو جو نعمتیں (blessings)دی ہیں، ان کے جواب میں انسان سے کیا رسپانس مطلوب ہے۔ یہ حمد کا رسپانس ہے۔ حمد کا مطلب شکر اور تعریف کے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ مگر انسانی استعمال کے اعتبار سے شاید زیادہ بامعنی لفظ ہےاعتراف (acknowledgement)۔ یعنی ان نعمتوں کو دریافت کرنا، اور دل کے سچے جذبہ کے ساتھ ان کا اعتراف کرنا۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان سے شکر یا تعریف کا لفظ بول دیا جائے۔ اعتراف کا آغاز دریافت (discovery) سے ہوتا ہے۔ پہلے انسان ان نعمتوں کو دریافت کرتا ہے، اس کے بعد اس کے دل میں اعتراف کا جذبہ امڈتا ہے، اور پھر ان وفور جذبات کا اظہار مختلف…

Al-Risala February 2018 A original + quote

…جائے۔ اسی لیے مذکورہ آیت میں آیات قرآنی سے نصیحت لینے کے لیے یہ شرط لگائی گئی کہ انسان، آیات کے ساتھ اپنی لُبّ (reason) کو استعمال کرتے ہوئے اس پر غور و فکر کرے۔ گویا کہ لُبّ کو استعمال کیے بغیر آیات سے تذکیر کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پر قرآن کی پہلی آیت یہ ہے:الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (1:1)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ ایک شخص قرآن کو پڑھے تو اس کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ زندگی تو خود قرآن کے بیان کے مطابق، کبد (hardship) سے بھری ہوئی ہے۔ ہرانسان روزانہ کسی نہ کسی کبد کا تجربہ کر رہا ہوگا۔ ایسی حالت میں کوئی شخص دل کے سچے احساس کے ساتھ کیسے یہ کہہ سکتا ہے کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے۔ گویا کہ انسان کو یہ کرنا پڑتا ہےکہ مشقتوں میں زندگی گزارتے ہوئے اللہ کو سچے دل سے قابل تعریف مانے۔ یعنی انسان کو خود اللہ کی تخلیق کے مطابق، مسلسل طور پر ایک تضاد کے درمیان جینا پڑتا ہے۔ ایسی حالت میں گہرے معنوں میں حمد کی اسپرٹ انسان کے اندر کیسے پیدا ہو۔

اس سوال کا جواب خود آیت میں موجود نہیں ہے۔ آیت میں صرف اتنا ہی ہے کہ اللہ اعلیٰ ترین معنوں میں ایک قابل تعریف ہستی ہے۔ لیکن اس آیت میں جو سوال چھپا ہوا ہے، اس کا جواب خود آیت میں موجود نہیں۔ اسی پوشیدہ سوال کا جواب معلوم کرنے کا نام…

Al-Risala july 2015 A original + quote

…ہے- اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے ہیں- اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ اگر تم قرآن کو یا قرآن کے پیغام کوسمجھنا چاہتے ہو تو اپنی عقل (reason) کو استعمال کرو- عقل کے استعمال کے بغیر تم قرآنی آیتوں کے حقیقی مفہوم تک نہیں پہنچ سکتے-

جہاں تک عقل کے بالواسطہ حوالے کی بات ہے، اس سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے- مثلاً قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1:1)- اس آیت میں کہاگیا ہے کہ اس اللہ کی حمد کرو جو سارے عالم کا رب (Lord) ہے- اس سے واضح ہے کہ کوئی شخص اللہ کی حقیقی حمد، اسی وقت کرسکتا ہے، جب کہ اس نے اللہ کو رب العالمین کی حیثیت سے دریافت کیا ہو- اس قسم کی دریافت کسی آدمی کو صرف عقل کے استعمال کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے-

اسی طرح قرآن کی آخری سورہ یہ ہے کہ انسان اور جن کے وسوسہ کے شر سے اپنے آپ کو بچاؤ (الناس)- یہاں ظاہر ہے کہ وسوسہ ایک غیر محسوس چیز ہے- وسوسہ کو چھوکر یا دیکھ کرنہیں جانا جاسکتا، وسوسہ کے شرسے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے عقل کو…

Al-Risala June 2015 A original + quote

…ہے- اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے ہیں- اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ اگر تم قرآن کو یا قرآن کے پیغام سمجھنا چاہتے ہو تو اپنی عقل (reason) کو استعمال کرو- عقل کے استعمال کے بغیر تم قرآنی آیتوں کے حقیقی مفہوم تک نہیں پہنچ سکتے-

جہاں تک عقل کے بالواسطہ حوالے کی بات ہے، اس سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے- مثلاً قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1:1)- اس آیت میں کہاگیا ہے کہ اس اللہ کی حمد کرو جو سارے عالم کا رب (Lord) ہے- اس سے واضح ہے کہ کوئی شخص اللہ کی حقیقی حمد، اسی وقت کرسکتا ہے، جب کہ اس نے اللہ کو رب العالمین کی حیثیت سے دریافت کیا ہو- اس قسم کی دریافت کسی آدمی کو صرف عقل کے استعمال کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے-

اسی طرح قرآن کی آخری سورہ یہ ہے کہ انسان اور جن کے وسوسہ کے شر سے اپنے آپ کو بچاؤ (الناس)- یہاں ظاہر ہے کہ وسوسہ ایک غیر محسوس چیز ہے- وسوسہ کو چھوکر یا دیکھ کرنہیں جانا جاسکتا، وسوسہ کے شر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے عقل کو استعمال…

Al-Risala may 2015 A original + quote

…موجود ہے۔ وہ یہ کہ امت اپنے عقیدہ کے اعتبار سے قرآن کو مستند کلام (authentic word) سمجھتی ہے۔ جو بات قرآن کے حوالے سے کہی جائے، امت اپنے عقیدہ کے اعتبار سے اپنے کو مجبور پائے گی کہ وہ اس کو بطور حقیقت تسلیم کرے اور اس کا اتباع کرے۔

مثال کے طور پر اگر آپ امت کے افراد سے یہ کہیں کہ تم قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہو، اس کی پہلی آیت ہے: الحمد للہ رب العالمین (1:1) ۔ اس آیت کو تم روزانہ بار بار اپنی نمازوں میں دہراتے ہو۔ اس کا تقاضا ہے کہ تم حمد اسپرٹ کو اپنی زندگی میں شامل کرو۔ اگر تم حمد اسپرٹ کو اپنی زندگی میں شامل نہ کرو اور اس کو صرف زبان سے دہراؤ تو قرآن کی تعلیمات کے مطابق یہ اندیشہ ہے کہ تم کو اللہ کی عدالت میں منافق قرار دیا جائے۔

قرآن کی آیت دراصل ایک حقیقت کا اعلان ہے۔ وہ یہ کہ اس عالم کے رب نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ آدمی ہر وقت اس پر شکر کا رسپانس (response) دیتا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی سوچ کی اس طرح تربیت کرو کہ تمھاری زندگی کا ہر تجربہ اور…

Al-Risala April 2015 A original + quote

انسان کا امتحان

قرآن میں ایک طرف یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے اندر وہ اعلی معرفت پیدا ہونی چاہئے، جب کہ وہ کہہ سکے: اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ( 1:1) -دوسری طرف قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ( 90:4)، یعنی انسان کو اس کے خالق نے مشقت(hardship)میں پیدا کیا ہے- ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ انسان کاامتحان یہ ہے کہ وہ مشقت کے حالات میں حمد کی اسپرٹ کے ساتھ جئے- وہ منفی حالات میں مثبت سوچ (positive thinking) کے ساتھ زندگی گزارے-یہ بظاہر متضاد صورت حال (contradictory situation) ہے- پھر اس متضاد صورت حال کی حکمت کیا ہے-

اصل یہ ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے لامحدود صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے- انسان کے دماغ میں لامحدود امکانات چھپے ہوئےہیں- انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے پوٹینشل (potential) کو ایکچول (actual)میں تبدیل کرے، وہ اپنے لاشعور میں چھپے ہوئے…

Al-Risala January 2015 A original + quote

شکر کی نفسیات میں جینا

مسلمان ہر روز اپنی نماز میں قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہیں: الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1:1) یعنی ساری حمد صرف اللہ کے لیے ہے جوسارے عالَم کا رب ہے- حمد کی حقیقت شکر ہے- ساری حمد اللہ کے لیے ہے ،کا مطلب یہ ہے کہ سارا شکر اللہ کے لیے ہے-

قرآن کی اس آیت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ اس کو صرف زبان سے پڑھ دیا جائے، بلکہ وہ ایک تربیت کا کلمہ ہے- وہ ہر روز مسلمان کو ایک حقیقت کی یاد دلاتاہے- وہ یہ کہ انسان کو چاہئے کہ وہ روزانہ پیش آنے والے واقعات پر غور کرے- وہ واقعات کی ایسی…

Al-Risala June 2013 A original + quote

ربوبیت: کائنات میں ربانی تنظیم

قرآن میں بتایا گیاہے کہ اللہ سارے عالم کا رب ہے(1:1)- اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کائنات کو پیدا کرکے اس کو چھوڑ نہیں دیا، بلکہ وہ ہر لمحہ کائنات کو مینج کررہا ہے، مادی کائنات کو بھی اور انسانی تاریخ کو بھی- مادی کائنات میں اللہ کا مینج مینٹ (management) کلی معنوں میں ہے، لیکن انسان کو چوں کہ انتخاب کی آزادی (freedom of choice) ملی ہوئی ہے، اِس لیے انسانی زندگی میں اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسان کی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے، اس کو مینج کررہا ہے-

موجودہ دنیا میں ہر انسان اپنا امتحان دے رہا ہے- موجودہ دنیا میں ہر انسان کو یہ موقع دیاگیا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو اِس طرح تعمیر کرے کہ وہ آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے جو کہ انسان کی اصل منزل ہے- اِس مصلحت کے تحت اللہ موجودہ…

Al-Risala February 2012 A original + quote

کائنات پر کنٹرول

قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد للہ رب العالمین (1:1) یعنی ساری حمد اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ یہ دراصل وہ کلمہ ہے جو آدمی کی زبان سے اُس وقت بے اختیارانہ طورپر نکل پڑتا ہے، جب کہ وہ کائنات کا مشاہدہ کرے۔ دور بینی مشاہدہ بتاتا ہے کہ کائنات ناقابلِ قیاس حد تک وسیع اور عظیم ہے۔ دوسری طرف، خورد بینی مطالعہ بتاتاہے کہ ناقابلِ مشاہدہ کائنات بھی اتنا ہی زیادہ عظیم ہے جتنا کہ قابلِ مشاہدہ کائنات۔ ساری ترقیوں کے باوجود ابھی تک انسان نہ کائنات کی وسعتوں کا اندازہ کرسکا ہے اور نہ وہ کائنات کی عظمتوں کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوسکا ہے۔

یہ وسیع اور عظیم کائنات مسلسل طورپر متحرک ہے۔ اس کے اندر ہر لمحہ انتہائی با معنی قسم کی سرگرمیاں (meaningful activities)جاری ہیں۔ مطالعہ مزید بتاتاہے کہ یہ اتھاہ کائنات مکمل طور پر ایک بے نقص کائنات (faultless universe) ہے۔ بے نقص حالت میں…

In the lectures

Cited at 170s — opens the lecture at this moment.

Cited at 405s — opens the lecture at this moment.

Cited at 445s — opens the lecture at this moment.

Cited at 525s — opens the lecture at this moment.

Cited at 574s — opens the lecture at this moment.

Cited at 600s — opens the lecture at this moment.

Cited at 629s — opens the lecture at this moment.

Cited at 648s — opens the lecture at this moment.

Cited at 651s — opens the lecture at this moment.

Cited at 693s — opens the lecture at this moment.

Cited at 747s — opens the lecture at this moment.

Cited at 781s — opens the lecture at this moment.

Cited at 787s — opens the lecture at this moment.

Cited at 816s — opens the lecture at this moment.

Cited at 847s — opens the lecture at this moment.

Cited at 898s — opens the lecture at this moment.

Cited at 953s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1007s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1089s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1641s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1770s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1786s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1898s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2083s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2193s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2217s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2379s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2471s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2638s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3029s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4030s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4207s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4362s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5012s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5566s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5645s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5890s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6225s — opens the lecture at this moment.

Cited at 7276s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

حضرت نوح کا واقعہ مدوّن تاریخ (recorded history) میں موجود نہیں۔ حضرت نوح کے واقعے کو جاننے کے صرف دو ماخذ ہیں — قرآن اور بائبل۔ یہاں دونوں متعلق حوالے نقل کئے جاتے ہیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 71 کا نام ’نوح‘ ہے۔ اِس سورہ کا ترجمہ یہ ہے:

شروع اللہ کے نام سے جو بڑامہربان، نہایت رحم والاہے

’’ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف رسول بناکر بھیجا کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کردو، اس سے پہلے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آجائے۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو، میں تمھارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوںیہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور…

دار العلوم دیوبند کے ایک طالب علم کی فرمائش پر میں نے حسب ذیل سطریں اس کی ڈائری میں لکھیں 

بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم

زندگی اس کائنات کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ مگر اس متاع کی قیمت بازار حیات میں اس وقت ملتی ہے ، جب کہ آدمی خود اس کی قیمت دے چکا ہو۔ زندگی وہ سودا ہے جو خارجی بازار میں فروخت ہونے سے پہلے خود انسان کے اپنے اندر فروخت ہوتا ہے۔

Invoking God’s Infinite Mercy

By the grace of God, I have frequently had significant experiences. On December 30, 2006, I went to Lodhi Gardens with certain CPS members. It was in the nature of a spiritual outing for us. On this occasion, a dua came out of my lips,…

اللہ اکبر، اللہ اکبر

اللہ اکبر نماز کا سب سے زیادہ اہم حصہ ہے- اذان اور نماز دونوں ملا کر دیکھا جائے تو پانچ وقت کی نمازوں میں اللہ اکبر کا کلمہ روزانہ تقریباً تین سو بار دہرایا جاتا ہے، یعنی ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بار- گویا ایک مسلمان اپنی پوری زندگی میں سب…

اللہ اکبر، اللہ اکبر

اللہ اکبر نماز کا سب سے زیادہ اہم حصہ ہے۔ اذان اور نماز دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو پانچ وقت کی نمازوں میں اللہ اکبر کا کلمہ روزانہ تقریباً تین سو بار دہرایا جاتا ہے، یعنی ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بار۔ گویا ایک مسلمان اپنی پوری زندگی میں…

Calling upon God with His Greatest Name

Regarding asma-e-husna a question asked by people is: “Has God one proper name (ism-e-aazam) or has God one main or great name? If that is so, what it is?” Different traditions have been recorded in the Hadith about ism-e-aazam. We give…

Invoking God’s Mercy

Prayer is no simple matter, prayer is to invoke God, calling upon Him to exert His powers. Without doubt, we can say that when a true prayer comes out of the lips of a helpless person, it is akin to a challenge to God’s honour. When a…

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ديباچه