Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک طالبِ علم کو نصیحت p. 185
دار العلوم دیوبند کے ایک طالب علم کی فرمائش پر میں نے حسب ذیل سطریں اس کی ڈائری میں لکھیں p. 185
بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم p. 185
زندگی اس کائنات کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ مگر اس متاع کی قیمت بازار حیات میں اس وقت ملتی ہے ، جب کہ آدمی خود اس کی قیمت دے چکا ہو۔ زندگی وہ سودا ہے جو خارجی بازار میں فروخت ہونے سے پہلے خود انسان کے اپنے اندر فروخت ہوتا ہے۔ p. 185
یہ آپ کے حوصلہ کا امتحان ہے، آپ خود اپنی جتنی زیادہ قیمت لگائیں گے بازار عالم میں اتنی ہی زیادہ اس کی قیمت لگے گی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی دوسروں کی نظر میں زیادہ قیمتی ٹھہرے، تو خود سب سے پہلے اس کے خریدار بنئے۔ یہ دوسرے نہیں، بلکہ خود آپ ہیں، جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ بازار عالم میں آپ کی قیمت کتنی مقرر ہوگی (دیوبند، 3 ستمبر 1971)۔ p. 185
(هفت روزه الجمعیۃ، 17 ستمبر1971، صفحہ 6) p. 185