In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…ہے کہ یہاں کسی شخص یا گروہ کو جزئی مواقع (partial opportunities) ملیں، کسی کو بھی یہاں کلّی مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ اِس لیے دانش مندی یہ ہے کہ ناموافق پہلوؤں کو نظر انداز کیا جائے اور موافق پہلوؤں کو دریافت کرکے اُنھیں استعمال کیا جائے۔
یہ حقیقت ایک حدیثِ رسول سے مزید واضح ہوتی ہےإِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہمْ مِنْ أَہلِہِ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔یعنی اللہ اسلام کی تائید ایسے لوگوں سے کرے گا، جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔اِس حدیث میں بتایا گیا ہےکہ ایک انسان ، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ اپنے ذاتی انٹرسٹ کے لیےا قدام کرتا ہے۔ اِس اقدام کا مقصد اپنے ذاتی مفاد کو حاصل کرنا ہوتاہے۔ لیکن اِسی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ ایک نئی صورت حال پیداہوتی ہے۔ یہ نئی صورت حال نئے مواقع کھولتی ہے۔ اگر اہل اسلام مذکورہ انسان کے مذہب اور فکر کو نظر انداز کریں تو وہ نئے مواقع کو استعمال کرکے اپنے دین اور دنیا دونوں کی تائید کا کام لے سکتے ہیں۔
…چکا ہے۔اس لیے اب یہ دریافت کرنے کا وقت ہے کہ اس تبیین حق سے مراد کیا ہےتا کہ اس کو اپنے علم کا حصہ بنایا جائے۔ اور ایسی تفسیرِ قرآن لکھی جائے، جو سلف کے استنباط اور تشریحات پر مبنی نہ ہو، بلکہ دورِ حاضر کی دریافت شدہ معلومات پر مبنی ہو۔
جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا، مسلمانوں کے لیے دورِ حاضر میں قرآن کے تقاضوں کا جاننا ممکن نہ ہوگا۔دورِ حاضر کے سوالوں کا جواب علمائے سلف کی کتابوں میں نہیں ملےگا، بلکہ اس کا جواب جب بھی ملےگا، وہ دورِ حاضر کےاہل علم کی کتابوں میں ملے گا۔ قیاساً اس میں وہ غیر مسلم افراد یا اقوام شامل ہیں، جن کے بارے میں حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ دین کی تائید کریں گے(إِنَّ اللہَ جَلَّ وعَزَّ لَیُؤَیِّدُ الإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہُمْ مِنْ أَہْلِہِ)المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640۔ اس روایت کے مطابق، جو لوگ اس حقیقت کو کھولیں گے، وہ غیر اہل ایمان ہوسکتے ہیں۔
مثال کے طور پر سائنسی اندازے کے مطابق،تقریبا13.8 بلین سال پہلے ایک عظیم کائناتی دھماکہ ہوا۔ اس عظیم دھماکے کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ بگ بینگ کی ڈسکوری سیکولر اہل علم نے کی ہے۔ ان کے مطابق، یہ عظیم دھماکہ ہماری کائنات کا آغاز تھا۔ غالباً یہی…
…یہ کیا کہ مسلم لیڈروں کے سامنے سیاسی معاملے کو عظیم بنا کر پیش کیا، اور خدا کی معرفت اور دعوت کے میدان کو غیر حقیقی بنا کر پیش کیا۔ چنانچہ مسلم دنیا سترھویں صدی سے لے کر اب تک اسی تزئین میں پھنسی ہوئی ہے، اور اس سے باہر نہیں نکل پائی ہے۔
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے إِنَّ اللہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی بے شک اللہ تعالی فاجر انسان کے ذریعے اس دین کی تائید کرے گا۔ایک اور روایت میں اس کو’’غیر اہل دین‘‘کے الفاظ میں بیان کیا گیاہے:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ھُمْ مِنْ أَھْلِہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی بے شک اللہ تعالی اس دین کی تائید ان لوگوں کے ذریعے کرے گا جو غیر اہل دین ہوں گے۔
یہ بہت اہم پیشین گوئی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں ، جب کہ اسلام اجنبی بن جائے گا،اس وقت یہی بے دین اور غیر اہل دین، خدائی دین کے مددگار ثابت ہوں گے، خواہ بالواسطہ انداز میں ہو یا بلاواسطہ انداز میں۔ یہی لوگ ہوں گےجن کے ذریعے…
…کو ممکن بنادیں۔ تقریباً ہزار سال کے تاریخی عمل (historical process) کے بعد اکیسویں صدی میں یہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اب اکیسویں صدی میں وہ تمام اسباب کامل صورت میں دستیاب ہوگئے، جو قرآن کی عالمی اشاعت یا عالمی ڈسٹری بیوشن کے لیے ضروری تھے۔
اسباب کے ڈیولپمنٹ کا منصوبہ اتنا بڑا تھا کہ صرف اہل ایمان اس کوروبعمل نہیں لاسکتے تھے۔ چنانچہ اللہ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ دنیا کے تمام انسان اس کی تکمیل میں مصروف ہوگئے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں تائید دین بذریعہ غیر اہل ایمان کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ صحیح البخاری (حدیث نمبر 3062) میں اس کے لیےتائید دین بذریعہ رجل فاجر (إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ)کے الفاظ آئے ہیں۔ اس حدیث میں فاجر سے مراد سیکولر لوگ ہیں۔ ایک اور روایت میں اس کو’’غیر اہل دین‘‘کے الفاظ میں بیان کیا گیاہے:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ھُمْ مِنْ أَھْلِہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ گویا اللہ رب العالمین نے ایسے حالات پیدا کیے کہ پوری عالم انسانیت اس عمل کی تکمیل میں مصروف ہوگئی۔ وہ تمام ترقیاں جن کو کمیونی کیشن کہا جاتاہے، وہ اسی کا نتیجہ ہیں۔ اور اسی وجہ سے اس دور کو دورِ مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔
اہل کتاب سے استفادہ
…تاریخ میں مختلف تدبیروں کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ انذار کا یہ عمل اتنا اہم ہے کہ اللہ نے اس کے لیے مقدر کردیا کہ وہ اہل ایمان کے علاوہ غیراہل ایمان کے ذریعے بھی دنیا میں پھیلے۔ تائید کے اس عمل میں غیر اہل دین اور فاجر (بُرے) لوگ بھی شریک ہوں۔
اس تائیدی عمل کا ذکر حدیث کی اکثر کتابوںمیں آیا ہے۔ مثلاً قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہُمْ مِنْ أَہْلِہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ اس معنی کی حدیث صحیح البخاری میں ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ان دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اسلام کی تائید کا کام ان لوگوں سے لے گا، جو اہل دین نہ ہوں گے۔ اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ اس معاملے میں اہل ایمان کو اتنا زیادہ باشعور ہونا چاہیے کہ وہ تاریخ میں تائید کے اس عمل کو پہچانیں، اورمنصوبہ بند انداز میں تائید کے مواقع کو قرآن کی عالمی اشاعت کے لیے استعمال کریں۔
…کی غیر معمولی کوششوں کے ذریعہ دین اسلام کو مکمل طور پر ایک محفوظ دین بنا دیا۔ امت محمدی کا یہ رول پندرھویں صدی عیسوی تک پوری طرح جاری رہا، جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ اب دین کی حفاظت کے لیے مشین نے انسانی کوششوں کی جگہ لے لی۔
اب وہ وقت آگیا تھا جب کہ خدا کے دین کو انسان کے اپنے مسلمات کی بنیاد پر ثابت شدہ بنایا جائے۔ یہ ایک بہت بڑا کام تھا۔ اس کام کے لیے ایک تازہ دم قوم (fresh nation) کی ضرورت تھی۔ حدیث میںاس قوم کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ اللہ اسلام کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعہ کرے گا جو اس دین میں سے نہ ہوں گے( المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640ِ)۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں "رجال " سے مراد ایسا گروہ ہے جو کہ بعد کے زمانے میں دین اسلام کے لیے عقلی تائید (rational support) کا کام کرے گا۔ یعنی ان کے ذریعے اہل اسلام کو یہ موقع ملے گا کہ وہ دینِ خداوندی کی دعوت کا کام…
…گیاہے کہ اللہ نے اپنے نبیوں کو منذر بنا کر بھیجا(النساء، 4:165)۔ یعنی نبیوں کے ذریعے انسان کو باخبر کردیا کہ انسان کے بارے میں اللہ کا منصوبہ کیا ہے۔ اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس منصوبے کو جانے، اور اس کے مطابق اپنے عمل کی پلاننگ کرے۔
اس معاملے میں دوسری اہم بات حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ حدیث کی اکثر کتابوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اس دین کی تائید (support) غیر اہل اسلام کے ذریعے کرے گا (مسند احمد، حدیث نمبر 20454، المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640)۔ ان احادیث میں تائیدِ دین کا لفظ آیا ہے۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ قرآن سے آئیڈیالوجی دریافت کرے، اور تائید کے معاملے میں کسی تفریق کے بغیر ہر گروہ سے تائیدی ذرائع دریافت کرے، اور ان کو بھر پور طور پر استعمال کرے۔
مثلاً آئیڈیالوجی کو قرآن کے مطالعے سے معلوم کرنا، اور کمیونی کیشن کے ذرائع کو سیکولر لوگوں سے لینا، اور ان کو اپنے منصوبوں میں استعمال کرنا۔
…پر وہ ہر ایک کی دسترس میں آگئے۔ دنیا میں مکمل معنوں میں مذہبی آزادی کا دور آیا،جس میں ہر ایک کو یہ موقع تھا کہ وہ جس مذہب کو چاہیں اختیار کرے، اور اس کی تبلیغ کرے، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ آدمی تشدد (violence) سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔
جدید تہذیب مسلمانوں کے لیے حدیث کی زبان میں مؤید دین تہذیب ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062، مسند احمد، حدیث نمبر 20454، المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640) تھی۔ وہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم موقع (great opportunity) تھا، جس کو استعمال کرکے مسلمان جدید معیار کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں اسلام کی اشاعت کا کام کرسکتے تھے۔ جدیدتہذیب نے یہ کیا کہ اجارہ داری کے دور کو ختم کردیا۔ اس طرح انسانی آزادی کا وہ مطلوب ماحول پیدا ہوگیا، جو خدا کے نقشۂ تخلیق کے مطابق درکار تھا۔
…کہ اللہ نے کس طرح خلق کو شروع کیا۔اس پر علمی ڈیٹا تو دورِ جدید میں میسر ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے خطاب کو سمجھنے کے لیے سائنسی تحقیقات کی بھی اہمیت ہے۔ ایسا سمجھنا کہاں تک درست ہے۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، چنئی، تامل ناڈو)
اس معاملے میں آپ نے لفظ’’بھی‘‘ استعمال کیا ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں سائنس پر مبنی جو تحقیقات ہوئی ہیں، وہ سب بلاشبہ اسلام کا حصہ ہیں۔ یہ تحقیقات جو تمام ترمیتھمیٹکس پر مبنی ہوتی ہیں، وہ بلاشبہ قرآن کے اس حکم کی تعمیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں یہ روایت آئی ہےکہ غیر اہلِ ایمان دین کی تائید کریں گے (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ مبنی بر میتھمیٹکس اہل سائنس کی تحقیقات اسی تائیدِ دین کا حصہ ہیں۔ سائنس کی ایک تحقیقات وہ ہیں، جوریاضیات (mathematics) پر مبنی ہیں، ان کو ایکزیکٹ سائنسز (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی تحقیقات بلاشبہ اسلامی تحقیقات کا حصہ ہیں۔ ان تحقیقات کو قرآن فہمی کا ذریعہ بنانا، اسی طرح درست ہے، جس طرح دوسرے فنون کو قرآن فہمی کے لیے بجا طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
میرے نزدیک ان سائنسی تحقیقات میں نظریۂ ارتقا شامل نہیں ۔ نظریۂ ارتقا ایکزیکٹ سائنسز کا حصہ نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ میتھ میٹکس پر مبنی کوئی علم نہیں۔ اس کی بنیاد کچھ ایسی چیزوں پر مبنی ہے، جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے قیاس کا درجہ رکھتی ہیں۔…
…کی۔ گویا اللہ نے انسان کو الہامی زبان میں دوبارہ یہ کہہ کر حکم دیا تھا:اصنع الحضارۃ باعیننا و وحینا۔ یعنی ہماری نگرانی میںاورہمارے انسپریشن (inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کرو۔اسی کو جدید اصطلاح میں سرنڈیپٹی (serendipity) کہا جاتا ہے۔
تہذیب کی تشکیل کا یہ کام ایک بے حد تخلیقی کام ہے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ دوسری قوموں کو اس کی تعمیر و تشکیل میں شامل کیا جائے۔ اس واقعے کا ذکر پیشگی طور پر حدیث میں بیان کردیا گیا تھا۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے : اللہ تعالی اسلام کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اہلِ دین میں سے نہ ہوں گے(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔
نبوت محمدی کا ظہور
…آزادی مکمل طور پر باقی رہے، اسی کے ساتھ ایسے امکانات پیدا ہوجائیں، جن کو اویل (avail) کرکے اہلِ توحید آزادانہ طور پر دینِ توحید کو سارے عالم میں پھیلادیں۔اس آیت میں اتمامِ نور کا مطلب ہے— دنیا میں دورِ شرک کے بجائے، توحید کا دور لانا۔
یہ ایک عظیم خدائی منصوبہ تھا۔ اس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہُمْ مِنْ أَہْلِہِ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔یعنی اللہ اسلام کی تائید ایسے لوگوں سے کرے گا، جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ میں دورِ توحید کا پراسس اتنے ہمہ گیر انداز میں چلے گا کہ نہ صرف اہلِ ایمان ، بلکہ غیر اہلِ ایمان بھی اس تاریخی عمل (historical process) کا حصہ بن جائیں گے۔ مگر خدائی منصوبے کے مطابق، اس تاریخی انقلاب کو اس طرح نہیں لانا تھا کہ انسانی آزادی کو موقوف کردیا جائے۔ بلکہ یہ کام منصوبہ ٔالٰہی کے مطابق، اس طرح ہونا تھا کہ انسانی آزادی بدستور برقرار رہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ میں ایک ایسا طاقتور پراسس جاری ہو، جو اس طرح منتہی(culminate) ہو کہ اس کی تکمیل پر دنیا میں وہ دور آئے جو اپنے ساتھ مذہبی آزادی، عالمی ذرائع ابلاغ وغیرہ لائے، جس کے نتیجے میں کسی بھی انسان کے لیے رائے کا اظہار، اور مذہب کی تبلیغ وغیرہ آسان ہوجائے۔ مگر تاریخ میں یہ انقلاب باعتبار مواقع (opportunities) آیا۔ یعنی اہلِ توحید کے لیے یہ موقع کھل گیا کہ اگر وہ چاہیں تو حکیمانہ منصوبے کے ذریعہ اس امکان کو پہچانیں، اور اویل (avail)کریں۔
غالباً یہی وہ حقیقت ہے، جس کی طرف ایک حدیث میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: کَانَ الرَّجُلُ فِیمَنْ قَبْلَکُمْ یُحْفَرُ لَہُ فِی الأَرْضِ، فَیُجْعَلُ فِیہِ، فَیُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَیُوضَعُ عَلَى رَأْسِہِ فَیُشَقُّ بِاثْنَتَیْنِ،…
منصوبۂ تخلیق
خد اکے منصوبۂ تخلیق (creation plan)کا اصل ماخذ قرآن ہے۔ قرآن گویا اس منصوبۂ تخلیق کا مستند متن (authentic text) ہے۔ سائنس تخلیق کے مطالعے کا علم ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سائنس اس قرآنی متن کی کمنٹری (commentary)ہے۔ یہ کمنٹری وہی چیز ہے، جس کو حدیثِ رسول میں تائیدِ دین بذریعہ غیر اہلِ دین کا نام دیا گیا ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)
فلکیاتی سائنس (astronomy)کی تحقیق کے مطابق کائنات کا آغاز تقریباً 13 بلین سال پہلے بگ بینگ (Big Bang)سے ہوا۔ خلا (space) میں اچانک ایک کاسمک بال (cosmic ball) ظاہر ہوا۔ اس کاسمک بال کے اندر بہت تیز دھماکا ہوا۔ سائنس داں اس کو بگ بینگ کا…
…کرو۔ اس طرح جاپان کے ذریعے یہ مثال قائم ہوئی کہ کس طرح بربادی کے بعد نئی پلاننگ کے ذریعے دوبارہ ایک بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ گویا حالات کی زبان تھی، اور تاریخ میں خالق کا مینجمنٹ اسی طرح حالات کے دباؤ کے تحت اپنا کام کرتا ہے۔
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ الطبرانی نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہُمْ مِنْ أَہْلِہِ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640) ۔ یعنی ضرور اللہ تعالی اسلام کی مدد ان لوگوں کے ذریعے کرے گا جو دین میں سے نہ ہوں گے۔ صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی ضرور اللہ تعالی اس دین کی مدد فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ یہ در اصل اسلام کے حق میں ایک پیشین گوئی (prediction) ہے۔ یہ پیشین گوئی الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث کی اکثرمشہور کتابوں میں آئی ہے۔
اس حدیث پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عالمی حالات میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوگا، جو اس حد تک پہنچے گا کہ اللہ کے دین کو عمومی اعتراف (general acceptance) کا درجہ حاصل…
Siphon: a tube used to convey liquid upwards from a reservoir and then down to a lower level of its own accord. Once the liquid has been forced into the tube, typically by suction or immersion, flow continues unaided.
سائفن صفائی کی ایک سادہ ٹکنیک ہے۔ لیکن پوری تاریخ میں کوئی حیوان اس کو دریافت نہ کرسکا۔ دور جدید میں جب عقل کا آزادانہ استعمال شروع ہوا تو انسان نے دور بین اور خوردبین سے لے کر سائفن تک بے شمار چیزیں دریافت کیں۔ ماڈرن تہذیب کو وجود میں لانے کا کام تقریباً تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا ہے۔ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے راقم الحروف نے یہ سمجھا ہے کہ اس معاملے میں اللہ تعالی نے تقسیم کار کا اصول اختیار فرمایا ہے۔ یعنی دین حق کی اشاعت کا کام اہل اسلام کی ذمہ داری قرار دیا، اور اہل مغرب کو اس معاملے میں، حدیث کے الفاظ میں تائید کا رول عطا فرمایا(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640)۔
دین خداوندی کی اشاعت کے معاملے میں اہل اسلام کا رول براہ راست رول ہے،اور اہل مغرب کا رول بالواسطہ رول۔ مگر بعض اسباب سے مسلمانوںنے اہل مغرب کو اپنا دشمن سمجھ لیا، اور ان کے خلاف مسلح یا غیر مسلح جنگ چھیڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین کی…
…پیدا ہوا۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام مزاج بن گیا۔ حتی کہ آج مسلم قوم کا مطلب یہ بن گیا کہ اپنے سوا دوسری تمام قوموں سے نفرت کرنا۔ مسلمانوں کے درمیان اس نفرت کلچر (culture of hate)کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔
انیسویں صدی اور بیسویں صدی کا زمانہ وہ زمانہ ہے جب کہ اللہ نےایسے اسباب پیدا کیے کہ مغربی قوموں نے وہ رول ادا کیا، جس کو حدیث میں تائید دین کہا گیا ہے(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640) ۔ صلیبی جنگوںکے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ مغربی قومیں جنگ کے میدان سے ہٹ کر تسخیر فطرت کے میدان میں آگئیں ۔یعنی انھوں نے فطرت کے ان اسرار کو دریافت کرنا شروع کیا ،جن کو قرآن میں آیات (signs) کہا گیا ہے۔ اس معاملے کی پیشین گوئی قرآن میں کردی گئی تھی۔ قرآن میں یہ بتایا گیا تھا کہ مستقبل میں ایسا ہوگا کہ آفاق و انفس کی نشانیاں بڑے پیمانے پر ظاہر ہوں گی، اور وہ حق کی اعلیٰ تبیین کا رول انجام دیں گی(فصلت53:)۔حق کی تبیین کا کام انجام پانا، اپنے آپ میں یہ معنی رکھتا ہے کہ کوئی گروہ ہوگا ،جو حق کی تبیین کا یہ کام انجام دے۔ تمام قرائن یہ بتاتے ہیں کہ حق کی تبیین کا یہ کام انجام دینے والے وہی گروہ تھے، جن کو اہل مغرب کہا جاتا ہے۔رموز فطرت کی اس تسخیرکو موجودہ دور میں فطرت کے قوانین (laws of nature) کی دریافت کہا جاتا ہے۔ ان دریافتوں نے تاریخ میں پہلی بار اہل ایمان کو یہ موقع دیا تھا کہ وہ اسلام اور قرآن کی صداقت کو انسان کے مسلمہ عقلی معیار کی سطح پر ثابت کریں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں تبیین حق کہا گیا ہے۔مگر مسلمان اس عمل کی انجام دہی میں کامل طور پر ناکام رہے۔ اس کا سبب تھا— مغرب یعنی مؤیدِ دین سے نفرت۔
مسلمان جس مغرب سے متنفر ہوگئے تھے، وہ وہی مویدِ دین تھے جن کی پیشین گوئی حدیث میں کردی گئی تھی۔ مگر نفرت کی نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمان خود اپنے حامیوں سے بے خبر ہوگئے۔مسلمانوں کے اندر مغرب کے خلاف نفرت کلچر (anti-West culture)…
…موجودہ شکل میں وجود میں آیا۔ اس سیارۂ زمین پر پانی، نباتات ، اور حیوانات وجود میں آئے۔ انسان اس زمین پر آباد ہوا۔ پھر انسانوں کے درمیان ایسے ربّانی افراد پیدا ہوئےجنھوں نے خدا کی خصوصی رہنمائی میں دنیا میں پیغمبرانہ مشن جاری کیا۔
ختم نبوت کے بعد تاریخ کا اگلا دورآیا۔ اس دور میں صلیبی جنگوں (1096-1487)کا سلسلہ چلا۔ اس درمیان ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے تحت سائنسی ترقیاں شروع ہوئیں۔ یہاں تک کہ جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی۔ اس تہذیب نے انسان کے اوپر ترقی کے وہ دروازے کھولے جواگرچہ بالقوہ طور پر ہمیشہ سے موجود تھے، لیکن بالفعل طور پروہ بند پڑے ہوئےتھے۔یہ تہذیب بظاہر ایک سیکولر تہذیب تھی، لیکن عملاً وہ پیغمبرانہ مشن کے موافق (pro-prophetic mission) تہذیب کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس تہذیب نے فطرت کے جو راز دریافت کیے، ان کو قرآن میں آفاق و انفس کا اظہار (فصلت53:) کہا گیا ہے۔ یہ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے پیغمبر کے مشن کے لیے ایک مدد گار تہذیب تھی۔ یہی وہ تاریخی واقعہ ہے جس کو حدیث میں تائیدِ دین (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
جس خدا نے کائنات کی تخلیق کی۔ اسی خدا نے اپنی کتاب ،قرآن کو انسان کے پاس بھیجا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بارے میں خالق کا منصوبہ کیا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق، موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے کہ یہاں انسان آزادانہ طور پر…
…اول میں بار بار پیش آیا۔یعنی دعوت یا حسن سلوک کے نتیجے میں کل کا دشمن آج کا دوست بن گیا۔ مثلاً عمر ابن الخطاب ، اور ہندہ زوجہ ابوسفیان، وغیرہ۔ لیکن اتنا ہی کافی نہ تھا۔ اسی کے ساتھ ضرورت تھی کہ اس کلچر کو دنیا میں عمومی سطح پر لایا جائے۔
اس واقعہ کا دوسرا پہلو حدیث میں پیشین گوئی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:إن اللہ جل وعز لیؤید الإسلام برجال ما ہم من أہلہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640)۔یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد غیر اہل دین کے ذریعہ کرے گا۔
اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، اس کا ایک منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ تھا کہ دنیا میں تائید کلچر کو وجود میں لانا۔ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں جس ڈائیکاٹومی (dichotomy) کا رواج تھا۔…
…کی طرف منسوب ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پوری انسانیت کی مجموعی کوشش سے یہ دور ظہور میں آیا ہے۔ تاہم مغربی قوموں کا حصہ اس دَور کو لانے میں سب سے زیادہ ہے۔ دوسری قومیں اگر اس عمل (process) کا حصہ ہیں، تو مغربی دنیا اس کے نقطۂ انتہا کا مقام ۔
یہ دور جس کا نمایاں پہلو جدید تہذیب (modern civilization) ہے، اس نے قدیم روایتی دور کو یکسر بدل دیا ہے۔ یہ ہر اعتبار سے ایک نیا دور ہے۔ یہ وہی دور ہے جس کی پیشین گوئی پیغمبر اسلام نے اپنے زمانے میں واضح طور پر کردی تھی۔ اس سلسلے میں ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: إن اللہ عز وجل لیؤید الإسلام برجال ما ہم من أہلہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640)۔ بے شک اللہ عز و جل اسلام کی تائید ان لوگوں کے ذریعہ کرے گا جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔
اصل یہ ہے کہ اسلام کی تحریک پچھلے زمانے میں روایتی بنیاد پر چلتی تھی۔ لیکن فطرت (nature) کےاندر خالق نے اپنے عظیم کلمات چھپا دیے تھے۔ خالق کو مطلوب تھا کہ یہ کلمات دریافت کیے جائیں، اور ان کو کتابوں کی صورت میں مدون کیا جائے۔ تاکہ اسلام کی…
ویٹیکن ماڈل
ایک حدیث رسول کے مطابق، اللہ رب العالمین اہل اسلام کے لیےدوسری قوموں کے ذریعہ تائید (support) فراہم کرےگا(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔اس حدیث رسول کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالی دوسری قوموں یا سیکولر لوگوں کے ذریعے ایسے ماڈل (model) سیٹ کرےگا، جو اہل اسلام کے لیے اپنے دینی مشن میں رہنما بن سکیں ۔ غور کیا جائے تو تاریخ میں بار بار ایسے واقعات پیش آئے ہیں ۔ انھیں میں سے ایک واقعہ وہ ہے جس کو ویٹیکن ماڈل کہا جاسکتا ہے۔
قدیم یورپ میں مسیحی پوپ کو پورے یورپ کے لیے بے تاج بادشاہ (uncrowned king) کا درجہ حاصل تھا۔ سترھویں صدی میں حالات بدلے، اور دھیرے دھیرے پوپ نے اپنا اقتدار کھودیا۔اب پوپ کے لیے دو کے درمیان انتخاب (option)کا معاملہ تھا۔ یا تو پولٹکل رول کی…
…حسن لذاتہ نہیں ہے، بلکہ حسن لغیرہ ہے۔ یعنی اسلام میں قتال برائے قتال (qital for the sake of qital) نہیں ہے، بلکہ قتال کسی متعین سبب کے لیے ہے۔ جب یہ سبب ختم ہوجائے تو قتال بھی ختم ہوجائے گا۔ اس طرح سوچنے کے عمل کو اپنا محاسبہ کہا جاتاہے۔
موجودہ زمانے میں جو مسلمان یہ کررہے ہیں کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا دشمن قرار دے کر ان کے خلاف متشددانہ کارروائی یا خودکش بمباری (suicide bombing)کررہے ہیں، وہ اگر اس طرح غور کریں تو یقیناً ان کا موجودہ سوچنے کا طریقہ بدل جائے گا۔ اسی کو ڈی کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ اگر موجودہ زمانے کے مسلمان اس طرح بے لاگ انداز میں غور کریں تویقینا وہ ایک اور حدیث تک پہنچیں گے جو براہ راست طور پر اسی معاملے سے متعلق ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے میں ایک وقت آنے والا ہے، جب کہ ساری دنیا مویددین بن جائے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إن اللہ عز وجل لیؤید الإسلام برجال ما ہم من أہلہ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640)۔ مسند احمد میں یہ روایت اس طرح آئی ہے:إن اللہ سیؤید ہذا الدین بأقوام لا خلاق لہم (حدیث نمبر20454)۔ صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ میں ہے:إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر(حدیث نمبر3062)۔
یہ حدیث مستقبل کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ایک پیشگی خبر ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ رسول اور اصحاب رسول کی کوششوں سے ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد دنیا میں ایک تاریخی عمل (historical…
…ولا یترک اللہ بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ ہذا الدین (مسند احمد، حدیث نمبر 16957 )۔ یعنی یہ امر (دین) ضرور پہنچے گا وہاں تک جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں۔ اللہ نہیں چھوڑے گا، مگر یہ کہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں اس دین کو داخل کردے۔
اظہار دین کا یہ عالمی مشن تاریخ کا سب سے بڑا عالمی مشن تھا۔ اس لیے اللہ نے اس مشن کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تاریخ میں ایسے حالات پیدا کیے جب کہ غیر اہل دین بھی اس کے موید بن جائیں۔ اللہ رب العالمین کے اس فیصلہ کو حدیث رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: بے شک اللہ عز و جل اسلام کی تائید ضرور ان لوگوں کے ذریعہ کرے گاجو اہل اسلام نہ ہوں گے (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔
اکیسویں صدی عیسوی میں یہ تاریخی عمل (historical process) اپنے نکتہ انتہا (culmination) تک پہنچ چکا ہے۔ اب تمام مواقع آخری حد تک کھل چکے ہیں۔ اب اہل اسلام کا ایک ہی مشن ہے، اور وہ ہے اللہ کے پیغام (قرآن ) کو پورے روئے زمین پر بسنے والے…
…لیے ضروری ہے۔ تاکہ ان کی رعایت کرتے ہوئےوہ اپنے دعوتی مشن کی صحیح منصوبہ بندی کرسکیں۔ جیسا کہ ایک حدیث رسول میں آیا ہے: وعلی العاقل ان یکون بصیرا بزمانہ(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔دانش مند آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دَور ہیں۔ایک وہ جب کہ دنیا دو قسم کے لوگوں میں بٹی ہوئی تھی— مومن اور کافر یا بلیور (believer)اور نان بلیور (non-believer)۔ مگر بعد کے زمانے میں تاریخ میں جو انقلاب آئے گا۔ اس کے بعد یہ تقسیم ختم ہوجائے گی۔ اب دنیا جن دو قسم کے لوگوں میں تقسیم ہوگی، وہ ہوں گے مومن (believer)اور موید (supporter)۔ بعد کے زمانے میں اس تبدیلی کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: إن اللہ عز وجل لیؤید الإسلام برجال ما ہم من أہلہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640)۔ اللہ عز وجل اسلام کی تائیدضرور ایسے لوگوں سے کرے گا، جو اسلام کا حصہ نہ ہوں گے۔
بعد کے زمانے میں ہونے والی اس تبدیلی کا مطلب یہ ہوگا کہ عملا اب جنگ کے دور کا خاتمہ ہوگیا۔ بعد کے اس دور میں بھی اگر اہل ایمان جہاد کے نام پر جنگ کا سلسلہ جاری رکھیں ، تو یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے دین کے مویدین سے جنگ کے ہم معنی ہوگا۔
…تاریخ میں مختلف تدبیروں کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ انذار کا یہ عمل اتنا اہم ہے کہ اللہ نے اس کے لیے مقدر کردیا کہ وہ اہل ایمان کے علاوہ غیراہل ایمان کے ذریعے بھی دنیا میں پھیلے۔ تائید کے اس عمل میں غیر اہل دین اور فاجر (بُرے) لوگ بھی شریک ہوں۔
اس تائیدی عمل کا ذکر حدیث کی اکثر کتابوںمیں آیا ہے۔ مثلاً قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہُمْ مِنْ أَہْلِہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ اس معنی کی حدیث صحیح البخاری میں ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ان دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اسلام کی تائید کا کام ان لوگوں سے لے گا، جو اہل دین نہ ہوں گے۔ اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ اس معاملے میں اہل ایمان کو اتنا زیادہ باشعور ہونا چاہیے کہ وہ تاریخ میں تائید کے اس عمل کو پہچانیں، اورمنصوبہ بند انداز میں تائید کے مواقع کو قرآن کی عالمی اشاعت کے لیے استعمال کریں۔
…کی غیر معمولی کوششوں کے ذریعہ دین اسلام کو مکمل طور پر ایک محفوظ دین بنا دیا۔ امت محمدی کا یہ رول پندرھویں صدی عیسوی تک پوری طرح جاری رہا، جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس کا دور آگیا۔ اب دین کی حفاظت کے لیے مشین نے انسانی کوششوں کی جگہ لے لی۔
اب وہ وقت آگیا تھا جب کہ خدا کے دین کو انسان کے اپنے مسلمات کی بنیاد پر ثابت شدہ بنایا جائے۔ یہ ایک بہت بڑا کام تھا۔ اس کام کے لیے ایک تازہ دم قوم (fresh nation) کی ضرورت تھی۔ حدیث میںاس قوم کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ اللہ اسلام کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعہ کرے گا جو اس دین میں سے نہ ہوں گے( المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640ِ)۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں "رجال " سے مراد ایسا گروہ ہے جو کہ بعد کے زمانے میں دین اسلام کے لیے عقلی تائید (rational support) کا کام کرے گا۔ یعنی ان کے ذریعے اہل اسلام کو یہ موقع ملے گا کہ وہ دینِ خداوندی کی دعوت کا کام…
…پر وہ ہر ایک کی دسترس میں آگئے۔ دنیا میں مکمل معنوں میں مذہبی آزادی کا دور آیا،جس میں ہر ایک کو یہ موقع تھا کہ وہ جس مذہب کو چاہیں اختیار کرے، اور اس کی تبلیغ کرے، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ آدمی تشدد (violence) سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔
جدید تہذیب مسلمانوں کے لیے حدیث کی زبان میں مؤید دین تہذیب ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062، مسند احمد، حدیث نمبر 20454، المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640) تھی۔ وہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم موقع (great opportunity) تھا، جس کو استعمال کرکے مسلمان جدید معیار کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں اسلام کی اشاعت کا کام کرسکتے تھے۔ جدیدتہذیب نے یہ کیا کہ اجارہ داری کے دور کو ختم کردیا۔ اس طرح انسانی آزادی کا وہ مطلوب ماحول پیدا ہوگیا، جو خدا کے نقشۂ تخلیق کے مطابق درکار تھا۔
In the lectures
No verified lecture moment cites this verse yet.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ابوالدرداء عویمر بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ
14
بلال حبشی رضی اللہ عنہ
…حيثيت سے قبول كرليا جائے گا۔ كسي كو يه حق حاصل نهيں هوگا كه وه اس كی مخفي نيت كي بنياد پر اس كے خلاف كوئي حكم لگائے اور نه كسي كو يه حق هوگا كه وه كسي شخص كو بطور مسلمان قبول كرنے كے لیے مذكوره شرطوں كے سوا كسي اور عملي شرط كا مطالبه كرے ۔
14
ابوهريره رضي الله عنه كهتے هيں كه رسول الله صلى الله عليه وسلم كے پاس ايك اعرابي آيا۔ اس نے كها كه مجھے ايسا عمل بتائيے كه جب ميں اس پر عمل كروں تو ميں جنت ميں چلا جاؤں۔ آپ نے فرمايا كه تم الله كي عبادت كرو اور اس كے ساتھ كسي چيز كو…
3/1108, Dehradun Chowk
Saharanpur-247001, U.P.
Mob. 9997153735
۷ ستمبر ۲۰۰۳ کی دوپہر کو پریس کانفرنس تھی۔ یہ کانفرنس پیس اینڈ پراگرس (P.P.) ہال میں ہوئی۔ اس میں پریس کے لوگوں کے علاوہ اور بہت سے لوگ آگئے۔اکثر سیٹیں بھری ہوئی نظر آئیں۔ میڈیا کی طرف سے حسب ذیل نمائندوں نے شرکت کی:
Tel.: 9412204147
کمال بھارگو