Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
انذار بذریعہ تائید
قرآن خدا کے دین کا واحد مستند ماخذ (authentic source)ہے۔ خدا کے دین کے لیےیہ مطلوب ہے کہ وہ سارے عالم میں پھیلے۔ پھیلنے کا یہ عمل دو طریقوں سے جاری ہوتا ہے— انذار اور تائید۔ پہلے طریقے کا ذکر قرآن میں آیا ہے، اور دوسرا طریقہ حدیث رسول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ پہلا طریقہ قرآن میں ان الفاظ میں مذکور ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا(25:1)۔یعنی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔original + quote
دین کی اشاعت کے اس عمل کو قرآن میں انذار کا عنوان دیا گیا ہے۔ انذار کا مطلب ہوتا ہےآگاہ کرنا، باخبر کرنا۔ عربی زبان کے مشہور عالم ابن فارس(وفات 395ھ) نے انذار کا مطلب ابلاغ بتایا ہے(معجم مقاییس اللغة، جلد5، صفحہ414)۔ یعنی خدا کے منصوبۂ تخلیق سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہ عمل بہت زیادہ سنجیدہ عمل ہے۔ وہ پوری انسانی تاریخ میں مختلف تدبیروں کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ انذار کا یہ عمل اتنا اہم ہے کہ اللہ نے اس کے لیے مقدر کردیا کہ وہ اہل ایمان کے علاوہ غیراہل ایمان کے ذریعے بھی دنیا میں پھیلے۔ تائید کے اس عمل میں غیر اہل دین اور فاجر (بُرے) لوگ بھی شریک ہوں۔original + quote
اس تائیدی عمل کا ذکر حدیث کی اکثر کتابوںمیں آیا ہے۔ مثلاً قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہُمْ مِنْ أَہْلِہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ اس معنی کی حدیث صحیح البخاری میں ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ان دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اسلام کی تائید کا کام ان لوگوں سے لے گا، جو اہل دین نہ ہوں گے۔ اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ اس معاملے میں اہل ایمان کو اتنا زیادہ باشعور ہونا چاہیے کہ وہ تاریخ میں تائید کے اس عمل کو پہچانیں، اورمنصوبہ بند انداز میں تائید کے مواقع کو قرآن کی عالمی اشاعت کے لیے استعمال کریں۔original + quote