Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
انذار، تائید
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّہَ یَنْصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ (47:7)۔ یعنی اے ایمان والو، اگر تم اﷲ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدموں کو جمادے گا۔ قرآن کی اس آیت میں ایک فطری حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا کو اللہ نے ایک منصوبے کے تحت بنایا ہے۔ جو آدمی اس منصوبے کے تحت اپنی زندگی کا نقشہ بنائے، وہ کامیاب ہوگا، اور جو آدمی اس منصوبۂ الٰہی سے بے خبر رہے، اوراس کے مطابق اپنا منصوبہ نہ بناسکے، وہ ناکام ہوکر رہ جائے گا۔original + quote
اللہ رب العالمین کا یہ منصوبہ کیا ہے، وہ قرآن و حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ ایک مفسر نے قرآن کو کتابِ انذار بتایا ہے۔ انذار کا مطلب ڈرانا نہیں ہے، بلکہ باخبر کرنا ہے۔ قرآن میں بتایا گیاہے کہ اللہ نے اپنے نبیوں کو منذر بنا کر بھیجا(النساء، 4:165)۔ یعنی نبیوں کے ذریعے انسان کو باخبر کردیا کہ انسان کے بارے میں اللہ کا منصوبہ کیا ہے۔ اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس منصوبے کو جانے، اور اس کے مطابق اپنے عمل کی پلاننگ کرے۔original + quote
اس معاملے میں دوسری اہم بات حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ حدیث کی اکثر کتابوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اس دین کی تائید (support) غیر اہل اسلام کے ذریعے کرے گا (مسند احمد، حدیث نمبر 20454، المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640)۔ ان احادیث میں تائیدِ دین کا لفظ آیا ہے۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ قرآن سے آئیڈیالوجی دریافت کرے، اور تائید کے معاملے میں کسی تفریق کے بغیر ہر گروہ سے تائیدی ذرائع دریافت کرے، اور ان کو بھر پور طور پر استعمال کرے۔original + quote
مثلاً آئیڈیالوجی کو قرآن کے مطالعے سے معلوم کرنا، اور کمیونی کیشن کے ذرائع کو سیکولر لوگوں سے لینا، اور ان کو اپنے منصوبوں میں استعمال کرنا۔