In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مستقبل پر نظر
پیغمبر اسلام پر پہلی وحی 610 عیسوی میں آئی ہے۔ اس وقت آپ مکہ سے 2 میل کے فاصلے پر تنہاغار حراء میں تھے۔ اس وقت اللہ کی طرف سے فرشتہ جبریل آپ کے پاس آیا۔ فرشتہ نے پیغمبر اسلام سے کہا : اقرأ (اے محمد پڑھو)، آپ نے اس کے جواب میں کہا:ما أنا بقارئ (میں پڑھنا نہیں جانتا)،اس کے بعد جبریل نے آپ کو پکڑا ، اورزور سے اپنے سینے سے لگایا۔ جبریل نے دوبارہ پڑھنے کے لیے کہا ، پیغمبر اسلام نے دوبارہ وہی جواب دیا۔ یہ عمل تین بار ہوا۔اس کے بعدجبریل نے آپ کو سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں پڑھائیں، اور آپ نے جبریل کے بولےہوئے کلام کو دہرایا۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)
اس واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ نبوت کے اس پہلے تجربے میں آپ کو ایک عظیم سبق دیا گیا۔ وہ یہ کہ اپنے سفر میں حال کو نہ دیکھو، بلکہ مستقبل کو دیکھو، اپنے بالفعل (actual) کو نہ دیکھوبلکہ اپنے بالقوۃ (potential) کو دیکھو،زندگی میں یہ…
ہر مذہب کا احترام
پیغمبر اسلام جب چالیس سال کے ہوئے تو آپ پر پہلی وحی اتری۔ یہ تجربہ آپ کے لیے نہایت شدید تھا۔ اس سلسلے میں جو واقعات روایت کی کتابوں میں آئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدیجہ نے آپ سے کہا کہ چلیے میں آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے چلتی ہوں۔ دیکھیے وہ کیا کہتے ہیں۔ ورقہ بن نوفل مکہ کے باشندے تھے۔ ان کی عمر نوےسال ہوچکی تھی۔ وہ مکہ کے ان لوگوں میں سے تھے، جن کو حنفاء کہا جاتاتھا۔ انھوںنے عبرانی زبان سیکھی تھی، اور تورات و انجیل کا مطالعہ کیا تھا۔ چناں چہ وہ نصرانی ہوگئے تھے۔ ورقہ نے جب آپ کی بات سنی تو انھوں نے کہا:یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر نازل کیا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں ! جو چیز تم لے کر آئے ہو، اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)۔
اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے دین میں مذہبی منافرت (religious hatred) کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ آپ کے لایا ہوا دین ہر مذہب کے لوگوں کے لیے یکساں خیر خواہی پر مبنی تھا۔ مزید یہ کہ یہ واقعہ صرف اخلاقی واقعہ…
مستقبل پر نظر
پیغمبر اسلام پر پہلی وحی 610 عیسوی میں آئی ہے۔ اس وقت آپ مکہ سے 2 میل کے فاصلے پر تنہاغار حراء میں تھے۔ اس وقت اللہ کی طرف سے فرشتہ جبریل آپ کے پاس آیا۔ فرشتہ نے پیغمبر اسلام سے کہا : اقرأ (اے محمد پڑھو)، آپ نے اس کے جواب میں کہا:ما أنا بقارئ (میں پڑھنا نہیں جانتا)،اس کے بعد جبریل نے آپ کو پکڑا ، اورزور سے اپنے سینے سے لگایا۔ جبریل نے دوبارہ پڑھنے کے لیے کہا ، پیغمبر اسلام نے دوبارہ وہی جواب دیا۔ یہ عمل تین بار ہوا۔اس کے بعدجبریل نے آپ کو سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں پڑھائیں، اور آپ نے جبریل کے بولےہوئے کلام کو دہرایا۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)
اس واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ نبوت کے اس پہلے تجربے میں آپ کو ایک عظیم سبق دیا گیا۔ وہ یہ کہ اپنے سفر میں حال کو نہ دیکھو، بلکہ مستقبل کو دیکھو، اپنے بالفعل (actual) کو نہ دیکھوبلکہ اپنے بالقوۃ (potential) کو دیکھو،زندگی میں یہ…
ہر مذہب کا احترام
پیغمبر اسلام جب چالیس سال کے ہوئے تو آپ پر پہلی وحی اتری۔ یہ تجربہ آپ کے لیے نہایت شدید تھا۔ اس سلسلے میں جو واقعات روایت کی کتابوں میں آئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدیجہ نے آپ سے کہا کہ چلیے میں آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے چلتی ہوں۔ دیکھیے وہ کیا کہتے ہیں۔ ورقہ بن نوفل مکہ کے باشندے تھے۔ ان کی عمر نوےسال ہوچکی تھی۔ وہ مکہ کے ان لوگوں میں سے تھے، جن کو حنفاء کہا جاتاتھا۔ انھوںنے عبرانی زبان سیکھی تھی، اور تورات و انجیل کا مطالعہ کیا تھا۔ چناں چہ وہ نصرانی ہوگئے تھے۔ ورقہ نے جب آپ کی بات سنی تو انھوں نے کہا:یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر نازل کیا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں ! جو چیز تم لے کر آئے ہو، اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)۔
اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے دین میں مذہبی منافرت (religious hatred) کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ آپ کے لایا ہوا دین ہر مذہب کے لوگوں کے لیے یکساں خیر خواہی پر مبنی تھا۔ مزید یہ کہ یہ واقعہ صرف اخلاقی واقعہ…
In the lectures
Cited at 1589s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3799s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3839s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4802s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5118s — opens the lecture at this moment.
Cited at 262s — opens the lecture at this moment.
Cited at 264s — opens the lecture at this moment.
Cited at 943s — opens the lecture at this moment.
Cited at 980s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1088s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1592s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3869s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3977s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4001s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غزوۃٔ غطفان
محرم3ھ
محرم3ھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ خبر ملی کہ بنی ثعلبہ اور بنی محارب نجد میں جمع ہو رہے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ اطراف مدینہ میں چھاپہ ماریں اور سامان لوٹیں۔ دعشور غطفانی ان کا سردار تھا۔ یہ خبر سن کر آپ نے صحابہ کی ایک…
…کو بجا طور پر شکایت ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کھلے طور پر ان کارروائیوں کی مذمت کریں ۔وہ کھلے طور پر یہ کہیں کہ ہندستان کی مسلم حکومتیں خاندانی حکومتیں تھیں،نہ کہ اسلامی حکومتیں ۔ اس کے سوا کسی اور طریقہ سے اس معاملہ کا خاتمہ ممکن نہیں ۔
۳
اقلیت واکثریت کے تعلقات کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں پہل مسلمانوں کو کرنا چاہیے ۔ مثلاً مسلمانوں کے اندر دوقومی نظریے کے بجائے ایک قومی نظریہ کو فروغ دینا۔ مسلمانوں کے اندر فرقہ وارانہ سوچ کو ختم کرکے قومی سوچ…
4
3
2
10
3
Thailand
عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ
3
ابو عبیدہ بن الجرّاح رضی اللہ عنہ