Seerat-e-Rasool

مواخاۃ

Seerat-e-Rasool — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (120 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. آغازِ کلام
  3. 9ربیع الاول 1عام الفیل
  4. 9 ربیع الاول41 ولادت نبوی
  5. معراج
  6. 27 رجب 10 نبوت
  7. ہجرت
  8. صفر 13نبوت
  9. غار ثور سے روانگی
  10. یکم ربیع الاول 13 نبوت
  11. مدینہ میں آمد
  12. 12 ربیع الاول 1ھ
  13. غزوۂ بدر
  14. 71 رمضان 2ھ
  15. غزوۂ احد
  16. 6شوال 3
  17. غزوۂ احزاب
  18. 28 شوال 5ھ
  19. مطابق 23مارچ 627ء
  20. صلح حدیبیہ
  21. ذی قعدہ 6ھ
  22. مطابق مارچ 628ء
  23. سلاطین کے نام خطوط
  24. یکم محرم 7ھ
  25. غزوۂ خیبر
  26. آخر محرم 7ھ
  27. مطابق جون 628ء
  28. عمرۃ القضاء
  29. ذی قعدہ 7ھ
  30. مطابق اپریل 629ء
  31. فتح مکہ
  32. 20 رمضان 8ھ
  33. غزوہ حنین
  34. 11شوال 8ھ
  35. غزوۂ طائف
  36. 13 شوال 8ھ
  37. غزوۂ تبوک
  38. رجب تا رمضان 9ھ
  39. مطابق اکتوبر۔ دسمبر 630ء
  40. حجۃ الوداع
  41. 9 ذی الحجہ 10ھ
  42. مطابق 9 مارچ 631ء
  43. وفات نبوی
  44. 12 ربیع الاول 11ھ
  45. مطابق 25مئی 632ء
  46. ابتدائی حالات
  47. رسول اللہ کی بعثت
  48. مکہ میں تبلیغ
  49. مخالفانہ ردّعمل
  50. دعوتی واقعات
  51. قبولِ اسلام
  52. تبلیغ عام
  53. آخری کوشش
  54. ہجرتِ حبشہ
  55. آپ کا بائیکاٹ
  56. ابوطالب کی وفات کے بعد
  57. مدینہ میں اسلام کا آغاز
  58. مدینہ کی طرف ہجرت
  59. مدینہ میں داخلہ
  60. مسجد کی تعمیر
  61. مواخاۃ
  62. معاہدۂ مدینہ
  63. مہاجرین کے دستے
  64. ہجرت کے بعد
  65. غزوۂ بدر اولیٰ
  66. غزوۃ بدرثانیہ
  67. غزوۂ قرقرۃ الکدر
  68. غزوۃ بنی قینقاع
  69. غزوۃ سویق
  70. نکاح سیدہ فاطمہ
  71. غزوۃٔ غطفان
  72. غزوۃ نَجران
  73. غزوۃ حمراء الاسد
  74. سریہ ابی سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد
  75. واقعہ رجیع
  76. سریۃ القراء یعنی قصہ بئر معونہ
  77. غزوۃ بنی نضیر
  78. غزوۃ ذات الرقاع
  79. غزوۃ بدر موعِد
  80. غزوۂ دومۃ الجندل
  81. غزوۂ مُریسیع یا بنی المصطلق
  82. واقعۂ افک
  83. غزوۂ خندق یا غزوۂ احزاب
  84. غزوۂ بنی قریظہ
  85. سریہ محمد بن مسلمہ انصاری
  86. سریہ عکاشہ بن محصن
  87. سریۂ محمد بن سلمہ
  88. سریۂ ابو عبیدہ بن الجراح
  89. سریۂ جموم
  90. سریۂ عیص
  91. سریۂ طَرِف
  92. سریۂ حمیٰ
  93. سریۂ وادی القریٰ
  94. سریۂ دومۃ الجندال
  95. سریۂ فدک
  96. سریہ ام قرفہ
  97. سریۂ عبداللہ بن رواحہ
  98. سریہ کرزبن جابر الفہری
  99. بعث عمر بن امیہ ضمری
  100. واقعۂ حدیبیہ
  101. سرداروں کا قبول اسلام
  102. شاہان عالم کے نام خطوط
  103. قیصر روم کے نام خط
  104. خسرو پرویز کے نام خط
  105. غزوۂ موتہ
  106. سریہ عمر وبن العاص
  107. غزوۂ حنین، اوطاس اور طائف
  108. طائف کا محاصرہ
  109. سریۂ عیینہ
  110. بعث ولید بن عقبہ
  111. ابو بکرصدیق کی قیادت میں سفر حج
  112. عام الوفود
  113. جبریل امین کی آمد
  114. سریہ اسامہ بن زید
  115. آخری وقت
  116. بیماری کی ابتداء
  117. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نماز جماعت
  118. اور حضرت ابوبکر کو امامت کا حکم
  119. وفات
  120. صحابہ میں اضطراب

مواخاۃ p. 76

مکہ سے ہجرت کرکے جو مسلمان مدینہ پہنچے ان کی حیثیت نئے شہر میں پناہ گزیں کی تھی۔ ان کی آباد کاری کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ طریقہ اختیار کیا جس کو مواخاۃ (ایک دوسرے کو بھائی بنانا) کہا جاتا ہے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا کہ تم لوگ دو دو شخص اللہ کی راہ میں بھائی بھائی بن جائو تَآخَوْا فِي اللهِ أَخَوَيْنِ أَخَوَيْنِ۔ اس کے بعد آپ نے حضرت علی بن ابی طالب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہاهَذَا أَخِي(سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 505)۔یعنی،یہ میرا بھائی ہے۔ p. 76original + quote

اس طرح مہاجر مسلمان مدینہ میں اجنبی نہیں رہے، مہاجر اور انصار دونوں بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے مدد گار بن گئے۔ یہ بھائی چارہ اتنا مکمل تھا کہ دونوں کو ایک دوسرے کی وراثت ملنے لگی جس طرح بھائی کو بھائی سے ملتی ہے۔ مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان یہ مواخاۃ ہجرت کے پانچ مہینہ بعد قائم کی گئی۔ p. 77

مہاجرین کی حیثیت لٹے ہوئے قافلہ کی تھی۔ اس لیے اس مواخاۃ میں انصار کی حیثیت دینے والے کی تھی، اور مہاجر کی حیثیت پانے والے کی۔ مگر انصار نے دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کو قبول کر لیا۔ انصار مدینہ کے باشندے تھے۔ ان کے پاس گھر اور مال اور زمین اور باغات تھے۔ ہر انصاری نے اپنے تمام اثاثہ کو تقسیم کرکے اس کا آدھا حصہ خود لیا اور بقیہ آدھا حصہ اپنے مہاجر بھائی کو دے دیا۔ p. 77

حضرت انس کہتے ہیں کہ کوئی انصاری اپنے مال اور جائیداد کا اپنے مہاجر بھائی سے زیادہ اپنے کو مستحق نہیں سمجھتا تھا۔ p. 77hadith

انصار کے اس غیر معمولی ایثار کودیکھ کر کچھ مہاجرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاکہ اے خدا کے رسول، جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں، ان سے بڑھ کر ہم نے کسی کو تنگی میں ہمدردی کرنے والا اور کشادگی میں خرچ کرنے والا نہیں پایا۔ ہم کو اندیشہ ہے کہ تمام اجر صرف ان کو مل جائے اور ہم اجر سے محروم رہیں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، جب تک تم ان کی تعریف کرو اور ان کے لیے دعا کرتے رہو۔ p. 77original + quote

ابتداء مواخاۃ میں وراثت کا حق بھی شامل تھا۔ بعد کو وراثت کا حق منسوخ ہوگیا۔ وراثت کا معاملہ نسبی رشتہ داروں کے لیے خاص کر دیا گیا۔ البتہ بقیہ پہلوئوں سے تمام مسلمان بھائی بھائی بن کر رہنے لگے۔ ابن سعد کے مطابق، مواخاۃ45 مہاجرین اور45 انصار کے درمیان ہوئی۔ کچھ نام یہاں درج کیے جاتے ہیں p. 77original + quote

مہاجر انصار p. 77

1 p. 78

ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ p. 78

خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ p. 78

2 p. 78

عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ p. 78

عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ p. 78

3 p. 79

ابو عبیدہ بن الجرّاح رضی اللہ عنہ p. 79

سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ p. 79

4 p. 79

عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ p. 79

سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ p. 79

5 p. 80

زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ p. 80

اوس بن ثابت رضی اللہ عنہ p. 80

6 p. 80

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ p. 80

اوس بن ثابت رضی اللہ عنہ p. 80

7 p. 81

سعید بن زید بن عمرو رضی اللہ عنہ p. 81

اُبیّ بن کعب رضی الہل عنہ p. 81

8 p. 81

سعید بن زید بن عمرو رضی اللہ عنہ p. 81

اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ p. 81

9 p. 81

مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ p. 82

ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ p. 82

10 p. 82

ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ p. 82

عبّاد بن بِشر رضی اللہ عنہ p. 82

11 p. 82

عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ p. 83

حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ p. 83

12 p. 83

ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ p. 83

منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ p. 83

13 p. 83

سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ p. 84

ابوالدرداء عویمر بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ p. 84

14 p. 84

بلال حبشی رضی اللہ عنہ p. 84

ابو رویحہ عبداللہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ p. 84

15 p. 84

حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ p. 85

عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ p. 85

16 p. 85

ابومرثد رضی اللہ عنہ p. 85

عبادہ بن ثابت رضی اللہ عنہ p. 85

17 p. 85

عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ p. 86

عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ p. 86

18 p. 86

عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ p. 86

ابودجانہ رضی اللہ عنہ p. 86

19 p. 86

ابو سلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ p. 87

سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ p. 87

20 p. 87

عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ p. 87

ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ p. 87

21 p. 87

عبیدہ بن الحارث رضی اللہ عنہ p. 88

عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ p. 88

22 p. 88

صفوان بن بیضاء رضی اللہ عنہ p. 88

رافع بن معلیٰ رضی اللہ عنہ p. 88

23 p. 88

ذوالشمالین رضی اللہ عنہ p. 89

یزید بن الحارث رضی اللہ عنہ p. 89

24 p. 89

ارقم رضی اللہ عنہ p. 89

طلحہ بن زید رضی اللہ عنہ p. 89

25 p. 89

زید بن الخطاب رضی اللہ عنہ p. 90

معن بن عدی رضی اللہ عنہ p. 90

حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مدینہ میں ہمارے جو کھجور کے باغات ہیں ، ان کو ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ انصار نے کہا کہ پھر آپ جیسا فرمائیں۔ آپ نے کہاکہ مہاجرین کو زراعت اور باغبانی کا تجربہ نہیں۔ پھر کیا تم ایسا کرو گے کہ باغ میں تم ہماری طرف سے محنت کرو اور پیداوار میں ہم تمہارے شریک رہیں۔ انصار نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ p. 90hadith

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ انصار کا یہ طریقہ تھاکہ جب وہ کھجور کی پیداوار کو تقسیم کرتے توہر انصاری ان کے دو حصے اس طرح کرتا کہ اس کا ایک حصہ کم ہوتا اور دوسرا حصہ زیادہ ۔ پھر وہ کم والے حصہ کے ساتھ کھجور کی شاخیں ملا دیتے۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں سے کہتے کہ دونوں میں سے جس حصہ کو چاہیں لے لیں۔ تو مہاجر زیادہ پیداوار والے حصہ کو لے لیتے اور انصاری اس حصہ کو لے لیتے جس میں پھل کی مقدار کم ہوتی۔ p. 90original + quote

یہ سلسلہ خیبر کی فتح تک جاری رہا۔ پھر جب خیبر کا علاقہ فتح ہوا اور مسلمانوں کو خیبر کے باغات ملے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا کہ ہمارا حق جو تمہارے اوپر تھا وہ تم نے پورا پورا ادا کر دیا۔ اب اگر تم چاہو تو ہم تمہارے اطمینان خاطر کے لیے خیبر میں تمہارا حصہ دے دیں۔ انصار نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہمارے اوپر آپ کی کچھ شرطیں تھیں اور ہماری بھی آپ کے اوپر ایک شرط تھی، وہ یہ کہ ہمارے لیے جنت ہو۔ آپ نے جو فرمایا وہ ہم نے کر دیا، تو اب ہماری شرط بھی ہم کو ملے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، وہ تمہارے لیے ہے فَذَاكُمْ لَكُمْ(مجمع الزوائد، حدیث نمبر16526)۔ p. 90original + quote

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مواخاۃ کا طریقہ دوبار اختیار فرمایا۔ پہلی بار مکہ میں، اور دوسری باری مدینہ میں۔ مکہ میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان میں کئی افراد ایسے تھے جو اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے خاندان سے کٹ گئے تھے۔ اس لیے ضرورت پیش آئی کہ ان کا کوئی انتظام کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے مکہ میں ایسے افراد کا رشتہ مواخاۃ ایسے مسلمانوں کے ساتھ قائم فرمایاجو اسلام قبول کرنے کے بعد بھی صاحب خاندان کی حیثیت رکھتے تھے۔ p. 90

یہ پہلی مواخاۃ مہاجرین اور مہاجرین کے درمیان ہوئی۔ عبداللہ بن عباس بتاتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بین العوام اور عبداللہ بن مسعود کے درمیان مواخاۃ قائم فرمائی۔ اس طرح زید بن حارثہ کی مواخاۃ حمزہ بن عبدالمطلب کے ساتھ قائم کی گئی۔مصعب بن عمیر کی مواخاۃ سعد بن ابی وقاص کے ساتھ، وغیرہ۔ p. 91original + quote

مواخاۃ کا طریقہ دوسری بار ہجرت کے بعد مدینہ میں اختیار کیا گیا۔ یہ مواخاۃ مہاجرین اور انصار کے درمیان تھی۔ مدینہ اس زمانہ میں ایک قصبہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب وہاں مہاجرین آئے تو ان کے آنے سے پناہ گزینوں کا ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ اس وقت آپ نے مواخاۃ کا طریقہ اختیار کرکے اس مسئلہ کو حل فرمایا۔ p. 91

مواخاۃ نے صرف یہی نہیں کیا کہ کچھ بے گھر لوگوں کے معاشی مسئلہ کو حل کیا۔ اس نے اس بات کا عملی مظاہرہ کیا کہ اسلام میں اصل تعلق دین کا تعلق ہے۔ بقیہ تمام حیثیتیں اضافی ہیں۔ چھوٹا اور بڑا، غریب اورامیر، گھر والا اور بے گھر والا، سب اللہ کی نظر میں یکساں ہیں۔ تمام مادی اور سماجی امتیازات کو مٹاکر انہیں دین کی خاطر ایک ہو جانا چاہیے۔ p. 91