Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غزوۃٔ غطفان p. 110
محرم3ھ p. 110
محرم3ھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ خبر ملی کہ بنی ثعلبہ اور بنی محارب نجد میں جمع ہو رہے ہیں اور ان کا ارادہ ہے کہ اطراف مدینہ میں چھاپہ ماریں اور سامان لوٹیں۔ دعشور غطفانی ان کا سردار تھا۔ یہ خبر سن کر آپ نے صحابہ کی ایک جمعیت کے ساتھ غطفان کی طرف کوچ کیا اور مدینہ میں عثمان بن عفان کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ اس وقت آپ کے ہمراہ چار سو پچاس صحابہ تھے۔ قبیلہ غطفان کے یہ لوگ آپ کے آنے کی خبر سن کر منتشر ہو کر پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔ صرف ایک شخص ہاتھ آیا۔ صحابہ نے پکڑ کراس کو آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے اس کو نصیحت کی اور اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی۔ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ p. 110
صفر کا پورا مہینہ آپ نے اسی علاقہ میں گزارا۔ لیکن کوئی شخص مقابلہ پر نہ آیا۔ آپ پرامن طور پر مدینہ واپس آگئے۔ p. 111
اس سفر سے واپسی میں آپ ایک موقع پر ایک درخت کے نیچے تنہا لیٹ کر آرام فرما رہے تھے۔ اس وقت مشرکین میں سے ایک ادھر سے گزرا۔ وہ آپ کو اکیلا دیکھ کر آپ کے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک تلوار تھی۔ اس نے کہاکہ اے محمد، تم کو مجھ سے کون بچائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ۔ اس کے بعداس نے تلوار رکھ دی اور آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ آپ نے تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا کہ اب بتائو کہ تم کو مجھ سے کون بچائے گا۔اس نے کہاکہ آپ بہتر تلوار لینے والے ہیں( کنت خیر آخذ) آپ نے اس سے یہ وعدہ لے کر چھوڑ دیا کہ وہ آئندہ کبھی آپ کے مقابلہ میں نہیں آئے گا۔ p. 111