Person
Prophet Musa
Prophet Moses, whose story with Pharaoh is mentioned as a subject of research.
Mentioned in 140 book passages
and 24 lecture moments.
Cite / permalink: entity/person/prophet-musa
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اہل کتاب سے استفادہ
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِی إِلَیْہِمْ فَاسْأَلُوا أَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (16:43)۔ یعنی اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔
مفسرین نے اہل الذکر سے اہل کتاب مراد لیے ہیں،یا وہ لوگ جو پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے تاریخی حالات کا علم رکھنے والے ہیں۔ مگر توسیعی معنی کے اعتبار سے اس سے مراد موجودہ زمانے کے جدید تعلیم یافتہ یہودی اور مسیحی علما ہیں۔ اس آیت سے…
…تم لوگ خوش خبری دینا، لوگوں کو متنفر نہ کرنا (یَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا) ‘‘صحیح البخاری، حدیث نمبر 3038 ۔انھوں نے انتہائی نرمی سے لوگوں سے بات چیت کی۔ تمام لوگ متاثر ہوگئے، اور پیغمبر اسلام کے سچے ساتھی بن گئے۔
لیکن موجودہ دور میں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ میری ایک دوست بتا رہی تھیں کہ انھوں نے اپنے بچے کے لیے ایک مولوی صاحب کو لگایا کہ وہ ان کو دین اسلام کی باتیں بتائیں۔ لیکن وہ آتے ہی بچوں کو جہنم سے ڈرانے لگے، ان کو ڈوز اینڈ ڈونٹز (do’s and don’ts) کی زبان میں دین کی باتیں بتانے لگے ۔یہ بچے انگلش اسکول کے پڑھنے والے تھے، ان کو اس قسم کی باتیں سمجھ میں نہیں آئیں، انھوں نے مولوی صاحب سے پڑھنے سے انکار کردیا ۔ اگر مولوی صاحب ان کو پیراڈائز کی باتیں بتاتے، دین کی باتوں کو ریزن آؤٹ کرکے بتاتے تو ان کے اندر دلچسپی پیدا ہوتی، اور وہ مولوی صاحب کی باتوں کو سمجھتے ۔ تو یہی وہ حکمت ہے،جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم لوگ آسانی پیدا کرو، مشکل پیدا نہ کرو، لوگوں کو خوشخبری دو ،ان کو متنفر نہ کرو۔
اسلام دین فطرت ہے، وہ ہر آدمی کی فطرت کی آوازہے۔ اسلام کو قابلِ قبول بنانے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ لوگوں سے معتدل تعلقات قائم کیے جائیں۔ اور اسلام کے مثبت پیغام سے انھیں با خبر کردیا جائے۔قرآن کی سورہ الاحزاب میں رسول اللہ صلی…
…نزدیک اہل کتا ب ہیں۔’’پوچھ لو‘‘ کا مطلب مطلق معنی میں اہل کتاب کے پاس جاکر ان سے پوچھنا نہیں ہے، بلکہ توسیعی اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس علم و تحقیق کے میدان میں مسلمان پیچھے رہ گئے ہیں، اس میں وہ اہل کتاب کی تحقیقات سے فائدہ اٹھائیں۔
مثلا ًیہ کہ قرآن میں بہت سی تاریخی حقیقتوں کا بیان ہے۔ پیغمبر نوح کی کشتی، پیغمبر ابراہیم ،پیغمبر موسیٰ (علیہم السلام( اور فرعون کا واقعہ، وغیرہ۔ یہ تاریخی حقیقتیں بائبل میں بھی مذکورہیں۔ دورِ جدید میں جو نئے سائنسی علوم وجود میں آئے ہیں، ان میں سے ایک علم الآثار (Archaeology) بھی ہے۔
آرکیا لوجی ایک ڈسپلن ہے، جس کے ذریعےماڈرن سائنسی اصول کی روشنی میں قدیم انسانی تاریخ، ثقافت اورمحفوظ رہ جانے والی باقیات (remnants) وغیرہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ کتابت کے آغاز سے قبل قدیم حجری دور میں جو تہذیبیں دنیا میں موجود تھیں، ان…
…جدید چیلنج) فائق ہے، باقی سب اس کے تحت ہیں۔میں نے کہا کہ ہمارے مشن کا اصل اظہار الاسلام یتحدی میں نہیں ہوا ہے، بلکہ دوسری کتابوں میں ہوا ہے۔ الاسلام یتحدی صرف اس مشن کی اعتباریت(credibility) ثابت کرنے کے لیے ہے، وہ خود مشن کا تعارف نہیں۔
میں نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے لاٹھی کو سانپ بنادیا۔ اب کوئی شخص کہے کہ حضرت موسی نے نبوت ملنے کے بعد جو کچھ پیش کیا، ان میں عصا کا معجزہ سب پر فائق ہے، تورات اس کے تحت ہے، تو یہ صحیح نہیں ۔ کیوں کہ آپ کی دعوت میں تورات اصل ہے اور عصا کا معجزہ ایک ضمنی (relative)حیثیت رکھتا ہے۔
الاسلام یتحدی (مذہب اور جدید چیلنج) ہمارے مشن کو قابل اعتبار ثابت کرنے کے لیے ہے، نہ کہ خود وہی ہمارا مشن ہے۔ مولانا عبد الباری ندوی (1886-1976)اس طرح کی چیزوں کے بارے میں فرماتے تھے کہ یہ ’’رکانہ کی کشتی‘‘ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم…
…إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہُ فَسَوْفَ تَرَانِی فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّہُ لِلْجَبَلِ جَعَلَہُ دَکًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَکَ تُبْتُ إِلَیْکَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِینَ (7:143)۔
یعنی اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھا دے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔ فرمایا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہے تو تم مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلّی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا، اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، تو پاک ہے، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔
فلاسفہ خدا کی تلاش میں تو سرگرداں رہے، لیکن وہ کبھی یقین کے درجے میں خدا کی دریافت تک نہ پہنچ سکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کا طریقہ غیر عملی تھا، فلسفیانہ طریقے پر خدا تک پہنچنے والے تمام اہل علم خدا کی تلاش کے لیے صحیح میتھڈ (right method)…
دعا کیسے کریں
’’میرے لیے ایک سائیکل خرید دیجیے‘‘ بیٹے نے باپ سے کہا۔ باپ کی آمدنی کم تھی۔ وہ سائیکل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کرکہا ’’میں نے کہہ دیا کہ میں سائیکل نہیں خریدوں گا۔ اب آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا‘‘۔
یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا: ’’آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں۔ پھر آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں‘‘۔ اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا: اچھا بیٹے اطمینان…
…۔ یعنی میں شہادت دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہ کلمہ اتنا زیادہ بھاری ہوگا کہ اس کی خطاؤں کا ڈھیر اس کے مقابلے میں کم ہوجائے گا، اور یہ کلمہ بھاری ہوجائے گا۔
مذکورہ حدیث کی مزید وضاحت ایک اور روایت پر غور کرنے سےہوتی ہے۔اس طویل روایت کے متعلق جزء کا ترجمہ یہ ہے:ابوہریرہ سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ان سے کہا کہ میرا جوتا لے کر یہاں سے باہر جاؤ، اور جو شخص تمھیں دل کے یقین کے ساتھ لا الٰہ الّا اللہ کہتا ہوا ملے، اس کو جنت کی بشارت دے دو ( فَمَنْ لَقِیتَ مِنْ وَرَاءِ ہَذَا الْحَائِطَ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ مُسْتَیْقِنًا بِہَا قَلْبُہُ، فَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّة) ۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں جوتا لے کر باہر نکلا تو میری ملاقات سب سے پہلے عمر (ابن الخطاب) ہوئی۔ عمر نے کہا: اے ابوہریرہ ! تمھارے ہاتھ میں یہ جوتے کیسے ہیں ؟ میں نے کہا یہ اللہ کے رسول کے جوتے ہیں۔ آپ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ جو مجھے دل کے یقین کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہوا ملے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کو جنت کی بشارت دے دوں۔ عمر نے یہ سن کر ہاتھ سے میرے سینے پر زور سے مارا، جس سے میںزمین پر گرپڑا۔ عمر نے کہا: اے ابوہریرہ ! لوٹ جاؤ۔ میں لوٹ کر رسول اللہ کے پاس پہنچا اور میں رو پڑنے کے قریب تھا۔ میرے پیچھے عمر بھی آپہنچے۔ رسول اللہ نے کہا: اے ابوہریرہ ! کیا بات ہے ؟ میں نے کہا: میری ملاقات عمر سے ہوئی، اور جو پیغام آپ نے مجھے دے کر بھیجا تھا میں نے ان کو بتایا۔ انہوں نے میرے سینے پر زور سے مارا، جس سے میں زمین پر گرپڑا ،اور اس نے کہا:واپس جاؤ۔ رسول اللہ نے کہا: اے عمر،تم نے ایسا کیوں کیا ؟ عمر نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! کیا آپ نے ابوہریرہ کو اپنے دونوں جوتے دے کر حکم دیا تھا کہ جو شخص دل کے یقین کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہے اس کو جنت کی بشارت دے دو۔ آپ نے کہا: ہاں ! عمر نے کہا: آپ ایسا نہ کریں، میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اسی پر بھروسہ نہ کرلیں۔ اُن کو چھوڑ دیجیے،عمل کرنے کے لیے(فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّی أَخْشَى أَنْ یَتَّکِلَ النَّاسُ عَلَیْہَا، فَخَلِّہِمْ یَعْمَلُون)۔ رسول اللہ نے کہا: لوگوں کو چھوڑدو(فَخَلِّہِمْ)۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر31۔
دونوں روایتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ بطاقے میں جس کلمۂ شہادت کا ذکر ہے، وہ باعتبار الفاظ نہیں ہے، بلکہ وہ باعتبارِ معنی ہے۔ شہادت کا کلمہ باعتبارِ حقیقت بلاشبہ اتنا زیادہ بھاری ہے کہ اس کی وجہ سے پہاڑ پھٹ پڑا، اور پیغمبرموسٰی…
عہد شباب
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری میں اس کا ابتدائی جزء یہ ہے:یَأْتِی فِی آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ، حُدَثَاءُ الأَسْنَانِ، سُفَہَاءُ الأَحْلاَمِ، یَقُولُونَ مِنْ خَیْرِ قَوْلِ البَرِیَّةِ، یَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّة(صحیح البخاری، حدیث نمبر3611)۔
اس حدیث میں ایک ظاہرے کی طرف اشارہ ہے، جس کی ایک انتہائی صورت کو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ مگراس سے قطع نظر اس حدیث سے فطرت کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔وہ یہ کہ کوئی آدمی جب اپنے عہد شباب (youth age) میں ہوتا ہے تو اس وقت وہ اپنی عقل و…
سوال و جواب
سوال
نومبر 2015 کے الرسالہ کے صفحہ 44 پر جو سوالات آپ سے پوچھے گیے ، ان کے جوابات نہیں دیے گیے۔ کہا گیا کہ آپ کی مختلف کتابوں سے ان کے جوابات اخذ کیے جائیں۔ مشورہ نیک ہے اگر یہ صرف سائل کو دیا جاتا۔ سوالات اہم ہیں۔ چوں کہ آپ ماشاء اللہ عالم ہیں ۔ اس لیے تفصیلی جوابات الرسالہ کے ذریعے مطلوب ہیں۔ ہر قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان سوالات کےتفصیلی جوابات دیے جائیں تو الرسالہ کے پورے صفحات کافی نہ ہوں۔ پھر بھی الرسالہ عام طور پر ہر کس ناکس پڑھتا ہے جب کہ کتابیں بہت کم لوگوں کی نظر سے گزرتی ہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ کیے گیے سوالات کے تفصیلی جوابات الرسالہ کے ذریعے دیے جائیں۔ (ایک قاری الرسالہ، ناگپور)
جواب
اسلام میں سوال کے بجائے تدبراور تفکر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ حضرت موسی جب سفر پر روانہ ہوئے تو حضرت خضر نے حضرت موسی سے کہا : فَلَا تَسْأَلْنِی عَنْ شَیْء (18:70)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال نہ کرو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں کوئی سوال آئے تو پہلےغور وفکر کرو۔ غور وفکر کرکے آدمی پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرتا ہے۔ سوال کا جواب وہی شخص درست طور پر سمجھتا ہے، جو پہلے سے اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بنا چکا ہو۔
اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سوال سے منع کرتے تھے (مسند احمد، حدیث نمبر18232)۔ سوال کی کثرت سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی سوال نہ کرے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے سوال کے تقاضے کو پورا کرے۔ اس کے بعد وہ سوال کرے۔
اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے آدمی خود غور وفکر کرے۔ اس طرح اس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) کا فائدہ حاصل ہوگا۔ اللہ تعالی نے انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کی ہے۔ یہ صلاحیت غور وفکر سے بڑھتی ہے۔ اپنے ذہن کو ترقی دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطالعہ اور غور وفکر سے اپنے ذہن کو تیار کرتا رہے۔ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ اخذ (grasp)کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ کوئی شخص اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کرسکے۔ حقیقی سائل وہ ہے جو جواب کو سن کر اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرسکتا ہو۔
مذکورہ حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کربیا ن کیا جائے تو وہ یہ ہوگا— سوال کیوں کرتے ہو۔ اگر تمھارے ذہن میں کوئی سوال آیا ہے تو پہلے خود اپنے ذہن کو استعمال کرکے اس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ سوال کو صرف سوال نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنی ذہنی ارتقا کا ذریعہ بناؤ۔ بات کو سن کر فورا سوال کرنا، عجلت پسند ی کی علامت ہے۔ بات کو سن کر پہلے غور وفکر کرنا چاہیے۔ اگر غور وفکر سے وہ بات تک نہ پہنچے تو سمجھنا چاہیے کہ اس نے اپنے ذہن کو تیار کرنے میں کمی کی ہے۔ اس کی توجہ اس پر دینا چاہیے کہ وہ اپنے ذہن کو مزید تیار کرنے کی کوشش کرے۔
یانگون (برما)میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ (اردو، انگلش )کے لیے رابطہ قائم فرمائیں:
U SOE WIN (Advocate)
No.64/1st Floor, Room 24, 29th Street, Pabedan,
Yangon, Myanmar, +95- 5169518
جمشید پور (جھارکھنڈ)میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے رابطہ قائم فرمائیں:
Ayaz Ahmad
Holding- Sae'ban, Gulzar Bagh Colony,
Near Amar Jyoti School, Chapal Pul, Pardeeh, Jamshedpur, Jharkhand
Pin: 831022, Mob. No. 9199248371, 903196239
…صحافت (yellow journalism) کہا جاتا ہے۔ ا س قسم کے صحافی سیلیکٹو نیوز کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ نیوز ورلڈ سے ایسے آئٹم منتخب کرتے ہیں، جن کو سنسنی خیز (sensational) معنی پہنائے جاسکیں۔ اور پھر اس کو اپنے بزنس کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہی کام مناظر کرتا ہے۔ وہ زیر تنقید مذہبی کتاب سے منتخب (selective) آئٹم لیتا ہے، وہ گڈ (good) آئٹم کو چھوڑ کر ایسے آئٹم لیتا ہے جس کو منفی معنی دیا جاسکے۔ مثلا بائبل میں بہت سی مثبت تعلیمات ہیں، مگر مناظر اس طرح کی آیتوں کو نظر انداز کرکے ایسے آئٹم ڈھونڈ کر نکالے گا، جس کو استہزاء کا موضوع بنایاجاسکے، اور پھر اس کو استہزاء کے انداز میں بیان کرے گا، جس کو سن کر دوسرے مذہب کے لوگ تومشتعل ہوں، مگر مسلمان اس کو سن کرتالیاں بجائیں۔ اس کو قرآن میں استہزائی کردار کہا گیا ہے۔
قرآن کا طریقہ تالیف قلب کا طریقہ ہے (التوبہ60:)۔ یعنی دل کو نرم کرنے کا طریقہ (softening of the heart) ۔ تالیف قلب کے طریقہ میں مخاطب کے عزت و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کہی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، مناظرہ (debate) میں ایسا طریقہ استعمال…
ادب، بے ادبی
قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جو بات کہو قولِ کریم کے ساتھ کہو (17:23)۔ قولِ کریم کا مطلب باادب انداز (gentle speech ) ہے۔انسان کا یہ مزاج ہے کہ وہ بات کو برا نہیں مانتا، البتہ وہ بے ادبی کو برا مانتا ہے۔اگر باادب انداز میں بات کہی جائے تو ہر عورت اور مرد بات کو سن لیں گے، وہ اس پر ناراض نہیں ہوں گے۔آدمی خواہ بات کو مانے یا نہ مانے لیکن وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ اس سے جو بات کہی جائے، اس میں اخلاقی آداب کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ فلاں بات کہو اور فلاں بات نہ کہو۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جس بات کو تم واقعۃً درست سمجھتے ہو ، اس کو تم دوسروں سے کہہ سکتے ہو۔ البتہ بات کو کہنے کا انداز اخلاقی اعتبار سے مناسب ہونا چاہئے۔جو انداز اخلاقی اعتبار سے نا مناسب ہو، اس میں بات کہناآدابِ نصیحت کے خلاف ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے جب پیغمبر موسیٰ کو حکم دیا کہ تم اپنے زمانے کے بادشاہ فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو توحید کا پیغام پہنچاؤ تو اس وقت موسی کو یہ ہدایت بھی دی گئی : فَقُولَا لَہُ قَوْلًا لَیِّنًا لَعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ…
قرآن کا ایک پہلو
قرآن کی آیتوں میں کچھ آیتیںوہ ہیں جن کا تعلق حال سے ہے، اور کچھ آیتیں وہ ہیں جن کا تعلق مستقبل سے ہے- مثلاً قرآن میں یہ حکم ہے کہ: فَآمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہِ (7:158) یعنی پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر- یہ آیت جس وقت اتری، اسی وقت وہ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب تھی- اسی طرح مثلاً قرآن میں یہ آیت آئی ہے کہ: وَاَقِمِ الصَّلاَةَ لِذِکْرِیْ (20:14) یعنی اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو- قرآن کی یہ آیت جس وقت اتری اسی وقت وہ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب تھی- اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَإذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا (6:152) یعنی اور جب بولو تو انصاف کی بات بولو- یہ آیت بھی جس وقت اتری، اسی وقت وہ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب تھی-
قرآن میں اس طرح کی کثیر آیتیں ہیں، جو باعتبار حال (present)مطلوب تھیں- یعنی جس وقت یہ آیتیں اتریں، اسی وقت اہلِ ایمان کے لیے ضروری ہوگیا کہ ان آیتوں میں جو احکام دئے گئے ہیں ان کی وہ بلا تاخیر تعمیل کریں- جو آدمی ان آیتوں کو سننے کے…
غلبہ، اہلِ حق کے لیے
حضرت موسی کے زمانے میں، جب بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ تم فلسطین میں داخل ہوجاؤ تو اِس پر بنی اسرائیل کے درمیان تذبذب ہوا- اس وقت بنی اسرائیل کے ایک صاحبِ ایمان نے اپنی قوم سے کہا کہ: ادْخُلُوْا عَلَیْہِمُ الْبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ ۚ وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (المائدة: 23) انھوں نے کہا کہ تم شہر میں داخل ہوجاؤ، جب تم اس میں داخل ہوجاؤگے تو تم ہی غالب ہوگے، اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو-
اِس آیت میں ’’دخول پر غلبہ‘‘ کے جس معاملہ کا ذکر ہے، وہ صر ف بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عمومی اصول ہے- عمومی اعتبار سے اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ حق کی برتر آئیڈیالوجی اِس بات کی ضامن ہوتی ہےکہ وہ ہرجگہ…
…ایسا ہوا کہ اُن میں جو زیادہ عمر کے لوگ تھے، وہ سب مر گئے اور جو نوجوان تھے، وہ صحرا کے پُرمشقت ماحول میں تربیت پاکر ایک نئی زندہ قوم کی صورت میں ابھرے- بنی اسرائیل کی یہی تربیت یافتہ نسل تھی جس نے بعد کے دور میں تاریخی کارنامے انجام دئے-
بنی اسرائیل کے ساتھ جو طریقہ اختیار کیا گیا، اُس کو صحرائی طریقِ علاج (desert therapy) کہا جاسکتا ہے- صحرائی علاج کا یہ طریقہ اِس سے پہلے بنو اسماعیل کے ساتھ اختیار کیا گیا تھا- وہ عرب کے صحرا میں تربیت پاکر تیار ہوئے اور پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر ایک طاقت ور ٹیم کی صورت میں انھوں نے بڑے بڑے کارنامے انجام دئے-
امت مسلمہ کا کیس
قتل خویش
دورِ قدیم کے یہود کا ایک واقعہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِہِ یَاقَوْمِ إِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ عِنْدَ بَارِئِکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ (2:54)۔ یعنی اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم ، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔پس اپنے خالق کے آگے توبہ کرو، اور اپنےنفسوں کو قتل کرو۔ یہ تمہارے لیے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر ہے۔ تو اللہ نے تمہاری توبہ قبو ل کی۔ بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں قدیم زمانے کے یہود کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے، جو خروج مصر کے بعد پیش آیا تھا۔ اس زمانے میں کچھ یہود نے شرک جلی کا ارتکاب کیا۔ اس پران کے پیغمبر موسیٰ نے کہا کہ تم لوگ اللہ کے آگے توبہ کرو، اور اپنے آپ کو قتل کرو۔ تو…
اللہ کی معرفت
حضرت موسی اسرائیلی سلسلۂ نبوت کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ ان کاایک واقعہ قرآن میں اس طرح ذکر ہوا ہے:(ترجمہ)اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھا دے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔ فرمایا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو تم بھی مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا۔ اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، تو پاک ہے، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں اول المومن ہوں(7:143)۔
قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے۔ اس میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ قَالَ لَنْ تَرَانِی(کہا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے)۔ دوسری جگہ یہ الفاظ ہیں کہ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِینَ(میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں)۔ ان دونوں الفاظ کے فرق پر…
…اِنھیں میں حضرت یوسف پیدا ہوئے، جو حضرت یعقوب کے بیٹے تھے۔ حضرت یوسف کے ساتھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہ مصر پہنچ گئے۔ اُس زمانے میں وہاں جس بادشاہ کی حکومت تھی، وہ حضرت یوسف پر مہربان ہوگیا اور اُن کو اپنی حکومت میں ایک بڑا عہدہ دے دیا۔
پھر حضرت یوسف کو جب مصر میں استحکام حاصل ہوا، تو انھوںنے اپنے اہل خاندان، بشمول اپنے والد حضرت یعقوب، سے کہا کہ آپ لوگ فلسطین چھوڑ کر مصر آجائیں۔ اِس طرح یہ لوگ مصر جاکر وہاں آباد ہوئے۔ وہاں ان کی نسل کافی بڑھی، یہاں تک کہ وہ مصر کی ایک با اثر قوم بن گئے۔
حضرت یوسف کے بعد مصر میں سیاسی انقلاب آیا، اور قدیم بادشاہ (Hyksos Kings) کے بجائے ایک نیا خاندان، مصر کا حکم راں بن گیا جس نے فرعون (Pharaoh) کو اپنے خاندانی لقب کے طورپر اختیار کیا۔ فرعون کی اِسی حکومت کے زمانے میں بنی اسرائیل پر…
درمیانی شخص کا رول
زندگی کی حکمتوں میںسے ایک حکمت یہ ہے کہ وسیط یا درمیانی شخص (middleman) کی اہمیت کوسمجھا جائے اور اس کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ ایک عالمی اصول ہے۔ ہرزمانے میں اِس کی مثالیں پائی جاتی ہیں، قدیم تاریخ میں بھی اور جدید تاریخ میں بھی۔
1 - قرآن میں اِس معاملے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے۔ حضرت یوسف اٹھارھویں صدی قبل مسیح میںفلسطین میں پیداہوئے، پھر وہ مخصوص اسباب کے تحت مصر پہنچے۔ اُس وقت مصر میںایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ اس کا نام یہ…
ہر گھر دعوتی مرکز
حضرت موسیٰ کا زمانہ پندرھویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے، یعنی اب سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ۔ وہ قدیم مصر میں پیغمبر بنائے گئے۔ اُس وقت مصر میں بنی اسرائیل چند لاکھ کی تعداد میں آباد تھے۔ وہ گویا اُس زمانے کے اہلِ ایمان تھے۔ اُس وقت بنی اسرائیل کو ایک حکم دیاگیا، جو قرآن میںاِن الفاظ میںآیاہے: اجعلوا بیوتکم قبلۃ (یونس: 87 ) یعنی تم اپنے گھروں کو قبلہ بنالو۔ ’’اپنے گھروں کو قبلہ بنالو‘‘ کا حکم دینے کا مطلب یہ تھا کہ اگر میکسمم (maximum) صورت ممکن نہ ہو، تو مینمم (minimum) صورت تو ہر حال میں ممکن ہوتی ہے، اور تم کو اِس حکمت کو اختیار کرنا چاہیے۔
قبلہ اُس مرکزی جگہ کو کہتے ہیں، جس کی طرف توجہ کی جائے۔ جولوگوں کے لیے فوکس آف اٹنشن (focus of attention) یا سنٹر آف اٹنشن (centre of attention) کی حیثیت رکھتا ہو۔ اُس وقت کے حالات میں اِس کا مطلب یہ تھا کہ اپنے گھروں کو اپنے لیے دعوتی…
…بائبل میں اس کے بارہ میں یہودی عالموں نے لکھ دیا تھا کہ موسی نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا۔ اور جب اس نے اسے نکال کر دیکھا تو اس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا (خروج ۴:۶) یہ ایک خدا ئی معجزہ کی نہایت غلط تصویر تھی۔
چنانچہ قرآن میں اس کا ذکر کیا گیا تو اُس کو اِس طرح واضح کردیاگیا: واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضاء من غیر سوء آیۃ اخری(طہ ۲۲) قرآن میں ید بیضاء کے ساتھ غیر سوء کی قید لگاکر اس لغو الزام کو دور کردیا گیا کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ کی سفیدی کسی بیماری کے سبب سے تھی بلکہ وہ آپ کی نبوت کے حق میں اللہ کی ایک عظیم نشانی تھی۔
نزول قرآن کے مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم دینے کا مقصد یہ ہے کہ خصوصی اہتمام کے ساتھ اس کتاب کو پکڑا جائے۔ اس مہینہ کو تمسک بالقرآن کا مہینہ بنا دیاجائے۔
…کو اپنے ذہن کی تسکین صرف ماہنامہ الرسالہ میںہوتی ہے۔ کیوں کہ ماہنامہ الرسالہ میں جو مضامین چھپتے ہیں وہ سب کے سب زمانی تقاضوں کو سامنے رکھ کر لکھے جاتے ہیں۔اُن میں بالقصد ایسا انداز اختیار کیا جاتا ہے جو آج کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔
قدیم اسلوب کیا ہے اور جدید اسلوب کیا۔ اس فرق کو سادہ طورپر اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ قدیم اسلوب کے مطابق، یہ بھی پورے معنوں میں ایک دلیل ہے کہ لکھنے والا یہ لکھے کہ ’’حضرت کا یہ ملفوظ ہے، علماء نے ایسا لکھا ہے، اکابر کی یہ رائے ہے‘‘ وغیرہ۔ اس کے مقابلے میں جدید اسلوب یہ ہے کہ جو بات کہی جائے وہ جدید معیار کے مطابق، دلیل کی زبان میں کہی جائے۔ گویا کہ دونوں میں جو فرق ہے وہ مغزِ کلام کے اعتبار سے نہیں بلکہ اسلوب کلام کے اعتبار سے ہے۔
قرآن کریم میں ہے کہ غیب کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں معلوم۔ مگر فرعون کو معلوم تھا کہ ایک لڑکا اس کو ختم کرنے والا ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے (انیس فضل، سکندر آباد)
…إِلَّا رِجَالًا نُوحِی إِلَیْہِمْ فَاسْأَلُوا أَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (16:43)۔ یعنی اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔
مفسرین نے اہل الذکر سے اہل کتاب مراد لیے ہیں،یا وہ لوگ جو پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے تاریخی حالات کا علم رکھنے والے ہیں۔ مگر توسیعی معنی کے اعتبار سے اس سے مراد موجودہ زمانے کے جدید تعلیم یافتہ یہودی اور مسیحی علما ہیں۔ اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک زمانہ آئے گا، جب کہ اہل کتاب وہ باتیں جانیں گے، جن سے مسلم علما زیادہ باخبر نہ ہوں گے، اور ان کے لیے موقع ہوگا کہ وہ اہل کتاب کی جدید تحقیقات سے اپنے دینی علم میں اضافہ کریں۔
اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں یہوداور مسیحی قوموں کے لیے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ وہ اپنے قدیم وطن سے نکل کر ڈائسپورا (diaspora)میں چلے گئے۔پھر ان کو موقع ملا کہ وہ مغرب کے جدید علوم کو سیکھیں۔جدید علوم سے باخبر ہونے کی بنا پر انھوں نے…
…آؤٹ کرکے بتاتے تو ان کے اندر دلچسپی پیدا ہوتی، اور وہ مولوی صاحب کی باتوں کو سمجھتے ۔ تو یہی وہ حکمت ہے،جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم لوگ آسانی پیدا کرو، مشکل پیدا نہ کرو، لوگوں کو خوشخبری دو ،ان کو متنفر نہ کرو۔
اسلام دین فطرت ہے، وہ ہر آدمی کی فطرت کی آوازہے۔ اسلام کو قابلِ قبول بنانے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ لوگوں سے معتدل تعلقات قائم کیے جائیں۔ اور اسلام کے مثبت پیغام سے انھیں با خبر کردیا جائے۔قرآن کی سورہ الاحزاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے دعوت کے آداب بتائے گئے ہیں۔ اس کاایک جزء یہ ہے’’ان کے ستانے کو نظر انداز کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اللہ بھروسے کے لیے کافی ہے (وَدَعْ أَذَاہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَى اللَّہِ وَکَفَى بِاللَّہِ وَکِیلًا)33:48۔ ‘‘
اس آیت کے مطابق، جب کوئی آدمی دعوتی کام کرے گا تو ضرور ایسا ہوگا کہ مدعو کی طرف سے زیادتیاں پیش آئیں گی۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ ان زیادتیوں کو نظر انداز کرے۔ مدعو اگر ہماری دعوت کو سن کر ردِ عمل کا اظہارکرتا ہے تو اسے اعراض کرتے ہوئے…
…کو چھوڑ کر تمام معلوم پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو صرف ایسے ہی کچھ افراد مل سکے جو خونی رشتہ کی بنا پر ان سے نفسیاتی تعلق رکھتے تھے۔ خونی رشتہ سے باہر کوئی شخص انھیں نہیںملا جو حقیقی معنوں میں ان کا ساتھی بن سکے۔
حضرت ابراہیم کا ساتھ دینے والے صرف ان کے بھتیجےحضرت لوط اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل تھے۔ حضرت لوط کا ساتھ آخر وقت میں صرف ان کی بیٹیوں نے دیا۔ حضرت موسی کے سچے ساتھی صرف حضرت ہارون ثابت ہوئے جو ان کے بھائی تھے۔ حضرت مسیح کو ان کی ماں کے سوا کوئی دوسرا نہ مل سکا۔ دوسرے لوگ جو ملے تھے وہ سب آخر وقت میں انھیں چھوڑ کر بھاگ گئے، وغیرہ۔
پیغمبروں کی تاریخ میں اس اعتبار سے صرف پیغمبر آخر الزماں کا استثنا(exception) ہے۔ ان کو غیر رشتہ داروںمیں بھی ایسے ساتھی ملے ،جو واقعی ساتھی تھے۔ جو ساتھ چھوڑنے کے تمام ممکن واقعات پیش آنے کے باوجود آخر وقت تک ان کے ساتھی بنے رہے۔ مگر…
…کا کام سمجھتا ہے۔ مگر وہ سوچتا رہتا ہے کہ جب تندرستی ہوگی تو کرلوں گا یا جب فرصت ہوگی کر لوں گا۔ حالاں کہ یہ زبردست بھول ہے۔ جو آدمی عذر کے فریب میں رہے وہ کبھی کوئی کام نہیں کرسکتا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ عذر کو نظر انداز کرکے کام کیاجائے۔
ایک انگریزی مقولہ اس حدیث کی بہترین تشریح ہے۔ وہ مقولہ یہ ہے کہ اگر تمھارے پاس ایک اچھا عذر ہے تب بھی اس کو استعمال نہ کرو:
If you have a good excuse, don't use it.
…بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔پس اپنے خالق کے آگے توبہ کرو، اور اپنےنفسوں کو قتل کرو۔ یہ تمہارے لیے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر ہے۔ تو اللہ نے تمہاری توبہ قبو ل کی۔ بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں قدیم زمانے کے یہود کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے، جو خروج مصر کے بعد پیش آیا تھا۔ اس زمانے میں کچھ یہود نے شرک جلی کا ارتکاب کیا۔ اس پران کے پیغمبر موسیٰ نے کہا کہ تم لوگ اللہ کے آگے توبہ کرو، اور اپنے آپ کو قتل کرو۔ تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔آیت کے ان الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں توبہ قتل خویش کے معنی میں ہے۔ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ انھوں نے توبہ کی اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ ایسا ہونے کے بعد ان کو جسمانی طور پرقتل کرنا، شریعت کا تقاضا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں قتلِ نفس کا لفظ شدت توبہ کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی ایسی توبہ جو نفسیاتی طور پر سیلف کیلنگ (self killing) کے ہم معنی بن جائے۔
بندہ پر جب گناہ کے بعد اس قسم کی شدید ندامت طاری ہو، اور وہ اس طرح اللہ کے سامنے گریہ و زاری کرے، جیسے کہ وہ اپنے آپ کو ہلاک کرڈالے گا ۔ تو ایسی توبہ ہمیشہ گناہ سے معافی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس طرح کی شدید توبہ کے بعد کسی کو قتل کرنا، شریعت…
…ہے کہ پہلا یونانی فلاسفر تھیلز آف میلٹس (Thales of Miletus)تھا، جس کا زمانہ 624-546 قبل مسیح ہے۔ فلسفہ (philosophy) اپنی حقیقت کے اعتبار سے خالق کی تلاش کا نام ہے۔لیکن فلسفہ کبھی خالق کی دریافت میں کامیاب نہ ہوسکا۔ فلسفہ کا موضوع وجود ہے
Philosophy is the study of general and fundamental questions about existence, knowledge, values, reason, mind, and language.
یہ فلسفہ کے مضمون کا ظاہری بیان ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے فلسفہ خدا (supreme truth)کی علمی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ تمام فلسفی کسی نہ کسی عنوان کے تحت حقیقت کی تلاش میں سرگرداں تھے، لیکن کوئی فلسفی اپنی تلاش میں کامیاب نہ ہوسکا۔ برطانی…
…ان کا طریقہ غیر عملی تھا، فلسفیانہ طریقے پر خدا تک پہنچنے والے تمام اہل علم خدا کی تلاش کے لیے صحیح میتھڈ (right method) دریافت نہ کرسکے۔ یہ تمام لوگ خدا کو براہ راست دیکھنا چاہتے تھے، حالاں کہ خدا کی معرفت صرف بالواسطہ انداز میں ممکن تھی۔
ہر ایک نے یہ چاہا کہ وہ خدا کو براہ راست طور پر دریافت کریں، جیسے وہ عالم خلق کی دوسری چیزوں کو دریافت کرتے ہیں ۔ لیکن یہ طریقہ خالق (خدا) کے معاملے میں قابل عمل نہ تھا۔ اس لیے وہ کامیاب بھی نہیں ہوا۔ سیکولر فلاسفہ اور مذہبی متکلمین دونوں کا کیس اس معاملے میں ایک ہی ہے۔
اس معاملے کا صحیح طریق کار کیا ہے۔ اس کی رہنمائی تاریخ میں پہلی بار اسرائیلی پیغمبر حضرت موسی کے قصے میں ملتی ہے۔ پیغمبر موسی ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں پیدا ہوئے۔ ان کا قصہ تفصیل کے ساتھ قرآن میں آٰیا ہے۔ ان کے ساتھ یہ واقعہ…
…کم تھی۔ وہ سائیکل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کرکہا ’’میں نے کہہ دیا کہ میں سائیکل نہیں خریدوں گا۔ اب آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا‘‘۔
یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا: ’’آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں۔ پھر آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں‘‘۔ اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا: اچھا بیٹے اطمینان رکھو میں تمھارے لیے سائیکل خریدوں گا۔ اور کل ہی خریدوں گا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اگلے دن اس نے پیسہ کا انتظام کرکے بیٹے کے لیے نئی سائیکل خرید دی۔
لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا۔ مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہوگئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ…
…زمین میں راستہ تلاش کررہا ہوتا ہے، مگر زمین میں راستہ کی تلاش اس کے لیے دوسری دنیا کی یاد دہانی بن جاتی ہے، مگر اس کے اندر کا طوفان پکار رہا ہوتاہے— ’’خدایا! مجھے وہاں پہنچا دے جہاں میں تجھ کو پاسکوں۔ کیوں کہ انسان کی حقیقی منزل وہی ہے‘‘۔
حضرت موسیؑ کا یہ کلمہ ایک نازک ایمانی کیفیت کا کلمہ ہے۔ اس کو سفر اور جغرافیہ کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
جو لوگ حقیقی معنوں میں اپنے رب کو پالیں، ان کے جینے کی سطح بالکل دوسری ہوجاتی ہے۔ وہ موجودہ دنیامیں رہتے ہوئے بھی آخرت کی فضاؤں میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ آج کی لذتوں اور تلخیوں کو دیکھتے ہوئے کل کی جنت اور جہنم کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ مومن…
…projects. What Do We Mean by Zero Defects: From a literal standpoint, it’s pretty obvious that attaining zero defects is technically not possible in any sizable or complex manufacturing project. (www.simplilearn.com. accessed on 13.03.19)
اب اس دو طرفہ تجربے کے اوپر مشہور فارمولے کو منطبق (apply) کیجیے کہ چیزیں اپنے ضد سے سمجھ میں آتی ہیں(تعرف الاشیاء باضدادہا):
in comparison that you understand
امام ابن منبہ سےکہا گیا کہ کیا لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔ مگر ہرکنجی کے دانت ہوتے ہیں ۔ اگرتم ایسی کنجی لائے جس میں دانت ہوں تو جنت تمہارے لئے کھول دی جائے گی اور اگر نہیں تو وہ نہیں کھولی جائے گی۔
آدمی اگر پائے ہوئے ہو تو وہ چند الفاظ میں وہ بات کہہ دیتا ہے جس کو نہ پایا ہوا آدمی بڑی بڑی تقریروں اور لمبے لمبے مضامین میں بھی نہیں کہہ سکتا۔
17 اگست 1984
ایک صاحب نے لکھا ہے کہ قرآن میں ایک سے زیادہ بار اتباع ملتِ ابراہیم کا حکم دیا گیاہے۔ یہ ملتِ ابراہیم کیا ہے؟ براہ کرم واضح کریں(ایک قاری الرسالہ، لکھنؤ)۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ہم ملتِ ابراہیم یا ابراہیمی ملت کہتے ہیں، وہ وہی ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تین بڑے آسمانی مذاہب ہیں — دین یہود، دین نصاریٰ، اور دین محمد۔ان تینوں مذاہب کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں امام الناس (البقرۃ، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120)کہا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحبِ کتاب پیغمبر تھے(الاعلیٰ، 87:19)۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیامیں سے حضرت موسی، اور حضرت مسیح صاحب کتاب پیغمبر تھے۔…
…مثال قائم کی، اور اس طرح ہر زمانے کے اہل ایمان کو یہ ہدایت دی کہ تم اپنے حالات کے اعتبار سے اس کامیاب طریقِ کار کو اختیار کرو۔اس طریقِ کار کا خلاصہ تھا- اتھاریٹی کے ساتھ ٹکراؤ نہ کرنا، اور موجود مواقع کو پر امن انداز میں استعمال کرنا۔
حضرت یوسف کے زما نے میں یہ طریقِ کار مصر کےایک بادشاہ کے ذاتی ذوق کے بنا پر ممکن ہوا تھا۔ موجودہ زمانے میں انسانی تاریخ ایک نئے دور میں پہنچی ہے۔ اب جدید دور کے مسلمہ اصول (accepted norm) کے تحت یہ ممکن ہوگیا ہے کہ احسن القصص کا اعادہ زیادہ وسیع پیمانے پر کیا جائے، اور دعوت کو احسن القصص کے اصول پر منظم کرکے عالمی کامیابی حاصل کی جائے۔
قدیم مصر میں حضرت موسیٰ کے زمانے میں جو بادشاہ حکومت کرتا تھا، وہ ایک جابر بادشاہ (despotic king)تھا۔ اس کے زمانے میں پیغمبر کے لیے یہ موقع نہیں تھا کہ وہ احسن القصص کے اصول کو استعمال کریں۔ لیکن اس سے پہلےحضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں…
…کے ساتھ سمجھا جائے، اور اجتہادی انداز میں اس معاملے کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ کسی جذباتی اقدام یا ردعمل کے تحت کوئی کارروائی اس معاملے کا حل نہیں بن سکتی۔ یہ احیائے امت کا معاملہ ہے، اور احیائے امت کا معاملہ ہمیشہ اجتہاد پر مبنی ہوتا ہے۔
راقم الحروف کے نزدیک اس معاملےکا آغاز یہ ہے کہ وہ تمام کتابیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سیاسی پیٹرن پر لکھی گئیں، ان سب کو کلاسیکل لٹریچر (classical literature) کا درجہ دے دیا جائے۔ یعنی ان کی اہمیت صرف اس اعتبار سے ہو کہ وہ امتِ مسلمہ کی ماضی کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن جہاں تک موجودہ زمانے میں ملت کے احیاء اور اس کے مستقبل کی تعمیر کا سوال ہے، اب بلاشبہ ہم کو نئے لٹریچر کی ضرورت ہے۔ایسا لٹریچر جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں نئے حالات کو سمجھا جائے، اور اجتہادی انداز میں عمل کا نقشہ بنایا جائے۔
بعد کے زمانے میں جو ڈیولپمنٹ ہوا، اس کے نتیجے میں امت کے اندر انسان رخی ذہن کے بجائے مسلم رخی ذہن (Muslim-oriented mind)بن گیا۔ مسلمان عام طور پر ہم اور وہ (we and they) کے انداز میں سوچنے لگے۔ مگر یہ ذہن مکمل طور پرایک غیر دعوتی ذہن ہے۔…
…مِنْ رُسُلِہِ (2:285) یعنی ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: لا تفضلوا بین أنبیاء اللہہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3414) یعنی اللہ کے پیغمبروں کے درمیان ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دو۔
اصل یہ ہے کہ اوپر مذکور حدیث میں شخصی فضیلت کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں ایک عام اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اتھاریٹی ہمیشہ ناقابلِ تقسیم ہوتی ہے۔ نظم کا تقاضا ہے کہ اتھاریٹی صرف ایک ہو۔ جہاں بھی اتھاریٹی دو یا دو سے زیادہ ہوگی، نظم (discipline) قائم نہ رہے گا۔ حضرت موسی کے زمانے میں دو پیغمبر تھے، موسی اور ہارون۔ لیکن اتھاریٹی کی حیثیت صرف موسی کی تھی، ہارون کو نہ تھی۔ حضرت ہارون کا کام حضرت موسی کی تصدیق کرنا تھا (28:34) ۔
تفضیلِ انبیاء کا عقیدہ بلاشبہ قرآن اور حدیث میں اجنبی ہے۔ انبیاء کے درمیان ایک فرق ضرور پایا جاتا ہے۔ یہ فرق رول کے اعتبار سے ہے، نہ کہ فضیلت کے اعتبار سے۔ اس پہلو سے ہر پیغمبر نمونہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مختلف پیغمبروں کے حالات کا…
…کے دین کی گواہی کی اس ذمے داری کو عملاً چھوڑدیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر ان کے اندر قومی ذہن پیدا ہوگیا۔ ان کے اندر وہ نفسیات پیدا ہوگئی جس کو یہود کی تاریخ میں یہودی احساسِ برتری (Jewish supremacism)کہا جاتا ہے۔
چناں چہ ان کی دلچسپی تمام تر اپنی قوم تک محدود ہوگئی ، وہ دوسرے انسانوں کے خیرخواہ نہ رہے۔ بلکہ دوسروں کو عمومی طور پر انھوں نے اپنا دشمن سمجھ لیا۔کیوں کہ وہ قوم یہود کی خود ساختہ برتری کے نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر انھوں نے دینِ خداوندی کی گواہی کے کام کو چھوڑدیا، او ر اس کے بجائے دوسرے قومی کاموں میں مشغول ہوگیے۔ مگر اسی کے ساتھ خود پسندی (self-righteousness)کے جذبہ کی بنا پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ وہ اب بھی اپنے پیغمبر موسیٰ کے بتائے ہوئے دین پر قائم ہیں۔
یہود کے اس معاملے کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَإِذْ أَخَذَ اللَّہُ مِیثَاقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُونَہُ فَنَبَذُوہُ وَرَاءَ ظُہُورِہِمْ وَاشْتَرَوْا بِہِ ثَمَنًا قَلِیلًا فَبِئْسَ…
…کہو۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جس بات کو تم واقعۃً درست سمجھتے ہو ، اس کو تم دوسروں سے کہہ سکتے ہو۔ البتہ بات کو کہنے کا انداز اخلاقی اعتبار سے مناسب ہونا چاہئے۔جو انداز اخلاقی اعتبار سے نا مناسب ہو، اس میں بات کہناآدابِ نصیحت کے خلاف ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے جب پیغمبر موسیٰ کو حکم دیا کہ تم اپنے زمانے کے بادشاہ فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو توحید کا پیغام پہنچاؤ تو اس وقت موسی کو یہ ہدایت بھی دی گئی : فَقُولَا لَہُ قَوْلًا لَیِّنًا لَعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشَى ( 20:44) یعنی پس اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔فرعون معلوم طور پر ایک سرکش بادشاہ تھا۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب خواہ سرکش ہو یا غیر سرکش ، خواہ وہ عادل ہو یا وہ ظالم ہو، ہر حال میں اس سے نرم گفتاری کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔گفتگو میں ہمیشہ یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ جو بات کہی جائے، وہ دلیل کے ساتھ کہی جائے۔ عیب زنی اور الزام تراشی کا انداز ہر گز اختیار نہ کیا جائے۔باادب طرزِ کلام کا یہ اصول خاندانی زندگی میں بھی ضروری ہے، اور عمومی طور پر سماجی زندگی میں بھی۔بات کو اگر بے ادبی کے انداز میں کہا جائے تو انسان کے اندر جوابی نفسیات جاگ پڑتی ہے، اور گفتگو کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ آدمی کو ہمیشہ ایسا کرنا چاہئے کہ ایسے انداز میں اپنی بات کہے جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو، جو اس کو سوچنے پر مجبور کر دے۔اسی اسلوب کو قرآن میں ناصحانہ اسلوب یاخیرخواہانہ اسلوب کہا گیا ہے۔
…تڑپا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا: اچھا بیٹے اطمینان رکھو میں تمھارے لیے سائیکل خریدوں گا۔ اور کل ہی خریدوں گا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اگلے دن اس نے پیسہ کا انتظام کرکے بیٹے کے لیے نئی سائیکل خرید دی۔
لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا۔ مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہوگئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایسے نقطہ پر کھڑا کردیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لیے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا خود اس کے لیے۔
اس واقعہ سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ذکرِ الٰہی کی وہ کون سی قسم ہے جو میزان کو بھر دیتی ہے اور جس کے بعد خدا کی رحمتیں بندے کے اوپر امنڈ آتی ہیں۔ یہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ نہ اس کا کوئی ’’نصاب‘‘ ہے۔ یہ ذکر کی وہ قسم ہے جس میں بندہ…
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
قرآن میں ہے کہ پیغمبر موسیٰ نے خدا کو دیکھنا چاہا،لیکن اپنی محدودیت کی بنا پر وہ خدا کو دیکھ نہیں سکے (الاعراف، 7:143)۔ اس واقعے پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان خدا کی ذات کو دیکھ نہیں سکتا۔ البتہ وہ اس کی صفات کا تجربہ کرسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسا ن اللہ کی تخلیق پر غور کرے، تو وہ تخلیق کا علم حاصل کرسکتا ہے۔ یعنی خدا کی تخلیق کے ذریعے خدا کے وجود کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔ اس میں خدا کی معرفت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خدا کی صفات کا مطالعہ کرکے خدا تک پہنچے۔ انسان کے لیے ناممکن ہے کہ وہ خدا کی ذات کا براہ راست مطالعہ کرکے وہ خدا کا عارف بن جائے۔ فلاسفہ اور صوفیا ، دونوں نے یہ غلطی کی کہ انھوں نے خدا کا براہ راست مطالعہ کرکے خدا کو جاننا چاہا۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔سائنس نے خدا کے مطالعے کا بالواسطہ طریقہ اختیار کیا، اور اس میں کامیابی حاصل کی۔مثلاً بگ بینگ (Big Bang) کے مطالعے کے ذریعے یہ دریافت کرنا کہ کائنات تقریباً تیرہ بلین سال پہلے وجود میں آئی، وغیرہ۔
…لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے، رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔
ایک شخص کے لیے ایمان کا آغاز یہ ہے کہ و ہ پوری سنجیدگی کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے۔ اس مطالعے کے ذریعہ اس کو اسلام کی معرفت(دریافت) حاصل ہو۔ یہ معرفت اتنی گہری ہو کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں۔ اس کا ذہن اس طرح ایڈریس ہو کہ اس کو محسوس ہو کہ میں نے اپنی تلاش کا جواب پا لیا ہے۔ یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ اس کی سچائی کا گواہ بن جائے۔
(2) اقامت دین کےسلسلے میں قابلِ مطالعہ آیت یہ ہے: شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّینِ مَا وَصَّى بِہِ نُوحًا وَالَّذِی أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہِ إِبْرَاہِیمَ وَمُوسَى وَعِیسَى أَنْ أَقِیمُوا الدِّینَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیہِ …
…میں انسانی تاریخ ایک نئے دور میں پہنچی ہے۔ اب جدید دور کے مسلمہ اصول (accepted norm) کے تحت یہ ممکن ہوگیا ہے کہ احسن القصص کا اعادہ زیادہ وسیع پیمانے پر کیا جائے، اور دعوت کو احسن القصص کے اصول پر منظم کرکے عالمی کامیابی حاصل کی جائے۔
قدیم مصر میں حضرت موسیٰ کے زمانے میں جو بادشاہ حکومت کرتا تھا، وہ ایک جابر بادشاہ (despotic king)تھا۔ اس کے زمانے میں پیغمبر کے لیے یہ موقع نہیں تھا کہ وہ احسن القصص کے اصول کو استعمال کریں۔ لیکن اس سے پہلےحضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں ایک اوربادشاہ کی حکومت قائم تھی، جو مختلف مزاج کا حامل تھا۔ اس کے مخصوص مزاج کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ حضرت یوسف احسن القصص کے مطابق وہاں اپنا کام کریں۔ حضرت یوسف کے معاصر بادشاہ نے حضرت یوسف سے کہہ دیا کہ تم مصر کے اقتصادی نظام کو اپنی مرضی کے مطابق چلاؤ، میری شرط صرف یہ ہے کہ تم کو سیاسی تخت کے معاملے میں میرے ساتھ ٹکراؤ سے اعراض کرنا ہے(Only I, as king, will be greater than you.)۔ اب موجودہ زمانے میں ممکن ہوگیاہے کہ اس حسن تدبیر کو زیادہ کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آج کے اہل ایمان حضرت یوسف کی طرح وقت کی پولیٹکل اتھاریٹی کے ساتھ ٹکراؤ سے یک طرفہ طور پر اعراض کریں۔
…کا مطلب کیا ہے۔ یہ قرآن کی ایک اور آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں ایک مقام پرمختلف پھلوں کے بارے میں یہ آیت آئی ہے:وَنُفَضِّلُ بَعْضَہَا عَلَى بَعْضٍ فِی الْأُکُلِ (13:4)۔یعنی اور ہم بعض کو بعض پر مزے میں فضیلت دیتے ہیں۔
پھلوں میں فضیلت کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی ایک پھل دوسرے پھلوں سے علی الاطلاق طور پر افضل ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر پھل میں دوسرے پھل کے مقابلے میں ایک اضافی خصوصیت (additional quality) ہوتی ہے۔ کسی میں ایک مزہ ہے، او رکسی میں دوسرا مزہ۔ کوئی خالص میٹھا ہے، اور کوئی ترشی آمیز میٹھا۔ کوئی کم میٹھا ہے اور کوئی زیادہ میٹھا، کسی میں ایک غذائی فائدہ ہے ، اور کسی میں دوسراغذائی فائدہ، وغیرہ۔
یہی معاملہ مختلف نبیوں کے ساتھ تھا۔ ہر نبی مختلف قوموں میں اور مختلف حالات میں آئے۔ ہر نبی کو ان کے مقامی حالات کے اعتبار سے کوئی اضافی خصوصیت دی گئی۔ مثلاً حضرت موسیٰ کو عصا کا معجزہ، اور حضرت مسیح کو شفائے امراض کا معجزہ، وغیرہ۔پیغمبر…
…اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں امام الناس (البقرۃ، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120)کہا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحب کتاب پیغمبر تھے(الاعلیٰ، 87:19)۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیاءمیں سے حضرت موسی، اور حضرت مسیح صاحب کتاب پیغمبر تھے۔ تاہم ان کی کتابیں بھی آج پوری طرح محفوظ حالت میں نہیں ہیں۔
حضرت محمد نے اسی بارے میں یہ کہا کہ میں اسی دین کو لے کر آیا ہوں جس دین کو لے کر حضرت ابراہیم آئے تھے(النحل، 16:123)۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کا مشن دین ابراہیم کی تجدید کا مشن تھا۔ رسول اللہ کو یہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ آپ کا لایا ہوا دین…
…ہے۔ اس طریقے میں سائل اور مجیب دونوں کے لیے یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ مزید مطالعہ کے ذریعہ اپنے علم میں اضافہ کریں۔ وہ زیر بحث مسئلے کے نئے گوشوں کو دریافت کریں۔ اس طرح یہ طریقہ طرفَین کے لیے فکری ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔
اسلام میں سوال کے بجائے تدبراور تفکر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ حضرت موسی جب سفر پر روانہ ہوئے تو حضرت خضر نے حضرت موسی سے کہا :فَلَا تَسْأَلْنِی عَنْ شَیْء (18:70)۔ یعنی تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرنا۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال نہ کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں کوئی سوال آئے تو پہلےغور وفکر کرو۔ غور وفکر کرکے آدمی پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرتا ہے۔ سوال کا جواب وہی شخص درست طور پر سمجھتا ہے، جو پہلے سے اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بنا چکا ہو۔
اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ ایک صحابی کہتے ہیں : و عن کثرۃ السوال (مسند احمد، حدیث نمبر18232)۔ یعنی رسول اللہ نے زیادہ سوال سے منع کیا تھا۔سوال کی کثرت سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی سوال نہ کرے۔ بلکہ اس کا…
…ہیں، لیکن جہاں تک موجودہ زمانے میں ملت کے احیاء اور اس کے مستقبل کی تعمیر کا سوال ہے، اب بلاشبہ ہم کو نئے لٹریچر کی ضرورت ہے۔ایسا لٹریچر جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں نئے حالات کو سمجھا جائے، اور اجتہادی انداز میں عمل کا نقشہ بنایا جائے۔
بعد کے زمانے میں جو ڈیولپمنٹ ہوا، اس کے نتیجے میں امت کے اندر انسان رخی ذہن کے بجائے مسلم رخی ذہن (Muslim-oriented mind)بن گیا۔ مسلمان عام طور پر ہم اور وہ (we and they) کے انداز میں سوچنے لگے۔ مگر یہ ذہن مکمل طور پرایک غیر دعوتی ذہن ہے۔ صحیح ذہن وہ ہے جو ہم اور ہم (we and we) کے تصور پر مبنی ہو۔ اس لحاظ سے موجودہ زمانے میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہو اس کو تمام تر انسان رخی سوچ (man-oriented thinking) پر مبنی ہونا چاہئے۔ دعوت الی اللہ کے لئےضروری ہے کہ مسلمانوں کے اندر دوسرے انسانوں کے لئے نصح (خیرخواہی) کا ذہن موجود ہو۔ مسلمانوں کا موجودہ لٹریچر اس اسپرٹ سے خالی ہے۔ آج جس نئے لٹریچر کی ضرورت ہے، اس کو اس کمی سے مکمل طور پرپاک ہونا چاہئے، ورنہ وہ عملاً مطلوب مقصد کے لئے مؤثر نہ ہوگا۔
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ البخاری کے مطابق، اس کا ابتدائی جزء یہ ہے:یأتی فی آخر الزمان قوم، حدثاء الأسنان، سفہاء الأحلام، یقولون من خیر قول البریة، یمرقون من الإسلام کما یمرق السہم من الرمیة(صحیح البخاری،…
…بناہوا ہے۔ اِس طرح کے لوگوں کو ایک شخص نے حیوانِ کاسب (earning animal) کا نام دیا تھا۔ اِس کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کا ذہنی ارتقا رک گیا ہے۔ اِس مسئلے کو ایک لفظ میں ذہنی بونا پن (intellectual dwarfism) کہاجاسکتا ہے۔
اگلے دن 2 مئی 2012 کی صبح کو 9 بجے ہوٹل سے گولن تحریک کے تحت قائم اکیڈمی (Akademi) کے لیے روانگی ہوئی۔ ہوٹل سے اکیڈمی بذریعے کار 15 منٹ کے فاصلے پر تھی۔ یہاں صبح کا ناشتہ کیاگیا۔ اِس دوران ہر ایک نے مختصر انداز میں اپنا تعارف پیش کیا۔ میں نے اپنے بارے میں کہا کہ میں ایک صوفی داعی ہوں، یعنی مزاج کے اعتبار سے صوفی اور اپنے مشن کے اعتبار سے داعی۔ یہاں اکیڈمی کے ارکان کے علاوہ، افریقہ کے مختلف ملکوں کے نمائندہ افراد اور الجزائر کے لوگ بھی موجود تھے۔یہ لوگ کانفرنس میں شرکت کے لیے ترکی آئے تھے۔
ناشتے کے بعد یہاں میری ایک تقریر ہوئی۔ اِس کا موضوع تھا —’’اسلام میں حکمت (wisdom) کی اہمیت‘‘ ۔ میں نے انگریزی زبان میں تقریر کی۔ اُس کا عربی ترجمہ اُسی وقت پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے کیا۔ پروفیسر زبیراحمد فاروقی عربی سے انگریزی اور…
…بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔پس اپنے خالق کے آگے توبہ کرو، اور اپنےنفسوں کو قتل کرو۔ یہ تمہارے لیے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر ہے۔ تو اللہ نے تمہاری توبہ قبو ل کی۔ بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں قدیم زمانے کے یہود کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے، جو خروج مصر کے بعد پیش آیا تھا۔ اس زمانے میں کچھ یہود نے شرک جلی کا ارتکاب کیا۔ اس پران کے پیغمبر موسیٰ نے کہا کہ تم لوگ اللہ کے آگے توبہ کرو، اور اپنے آپ کو قتل کرو۔ تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔آیت کے ان الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں توبہ قتل خویش کے معنی میں ہے۔ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ انھوں نے توبہ کی اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ ایسا ہونے کے بعد ان کو جسمانی طور پرقتل کرنا، شریعت کا تقاضا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں قتلِ نفس کا لفظ شدت توبہ کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی ایسی توبہ جو نفسیاتی طور پر سیلف کیلنگ (self killing) کے ہم معنی بن جائے۔
بندہ پر جب گناہ کے بعد اس قسم کی شدید ندامت طاری ہو، اور وہ اس طرح اللہ کے سامنے گریہ و زاری کرے، جیسے کہ وہ اپنے آپ کو ہلاک کرڈالے گا ۔ تو ایسی توبہ ہمیشہ گناہ سے معافی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس طرح کی شدید توبہ کے بعد کسی کو قتل کرنا، شریعت…
میں قرآن کی تفسیر مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ میں سیرت پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ کئی ضروری موضوعات پر دینی کتابیں تیار کرنا ہے۔ یہی پیش نظر کام ہے، جو مجھے زندہ رہنے پر مجبور کرتاہے۔
شاید اللہ تعالیٰ کو بھی منظو رہے کہ میں یہ کام کروں۔ ورنہ لوگوں نے جتنا زیادہ مجھے پریشانی میں مبتلا کیا ہے ،اس کے بعد میری راتوں کی نیند اڑ جانی چاہیے تھی۔ مگر یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ میرے ہوش پوری طرح باقی ہیں۔ رات کو مجھے وہ نیند آتی ہے جس کو sound sleep کہاجاتا ہے۔ اگر میری نیند خدا نخواستہ اڑ جاتی، تو اس کے بعد میںکوئی بھی علمی کام نہیں کرسکتاتھا۔یا اللہ، مجھے بخش دیجیے، دنیا کا ستایا ہوا ،آخرت میں نہ ستایا جائے۔
پاکستان کے سفر میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ یہ ایک مشہور شخصیت ہیں، اور پاکستان میں ’’غلبۂ اسلام‘‘ کی تحریک چلا رہے ہیں۔ میںنے ان سے پوچھا کہ پاکستان میں غیر مسلم (ہندو اور عیسائی) قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں۔ کیا ان کے درمیان کوئی…
…اُن میں بھی سارے ابواب ہیں، مگر اُس میں دعوت کا باب موجود نہیں۔ مثلاً الغزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ دہلوی، وغیرہ کی کتابیں۔ ایسی حالت میں یہ ایک انتہائی انوکھی بات ہے کہ کس طرح بعد کے دور میں دعوت الی اللہ میری زندگی کا واحد مشن بن گیا۔
اسی طرح میری زندگی کا ایک انوکھا پہلو یہ ہے کہ میرے زمانے میں، مسلم دنیا میں ہر طرف، ادبی ذہن چھایا ہوا تھا۔ ادب اور شاعری کا اسلوب غالب اسلوب کی حیثیت رکھتا تھا۔یہ ذہن اتنا زیادہ عام تھا کہ اِس معاملے میں مسلمانوں کے روایتی طبقہ اور انگریزی داں طبقہ کے درمیان کوئی فرق موجود نہ تھا۔ مسلمانوں کا یہ عمومی ذہن آج تک بدستور قائم ہے۔ ایسی حالت میں یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ اِس معاملے میں کس طرح میں پوری مسلم ملت میںایک واحد استثنا بن گیا۔ میرے اندر سائنٹفک تھنکنگ پیدا ہوئی۔ میں نے حوصلہ شکن ماحول میں انگریزی زبان سیکھی۔ میں نے جدید علوم کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اور یہ سب کچھ صرف اِس لیے تھا کہ میں عصری ذہن کے سامنے اسلام کی دعوت کو موثر انداز میں پیش کرسکوں، حتی کہ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہی میرا اصل موضوع بن گیا۔
میرے ساتھ یہ جو استثنائی معاملہ پیش آیا، اُس پر جب میں غور کرتا ہوں تو اِس کی کوئی بھی توجیہہ اِس کے سوا سمجھ میں نہیں آتی کہ اُس کو قرآن کے الفاظ میںاجتباء(انتخاب) کا ایک معاملہ سمجھا جائے۔ اجتباء کے لفظی معنیٰ ہیں— چن لینا (to choose)…
میں قرآن کی تفسیر مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ میں سیرت پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ کئی ضروری موضوعات پر دینی کتابیں تیار کرنا ہے۔ یہی پیش نظر کام ہے، جو مجھے زندہ رہنے پر مجبور کرتاہے۔
شاید اللہ تعالیٰ کو بھی منظو رہے کہ میں یہ کام کروں۔ ورنہ لوگوں نے جتنا زیادہ مجھے پریشانی میں مبتلا کیا ہے ،اس کے بعد میری راتوں کی نیند اڑ جانی چاہیے تھی۔ مگر یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ میرے ہوش پوری طرح باقی ہیں۔ رات کو مجھے وہ نیند آتی ہے جس کو sound sleep کہاجاتا ہے۔ اگر میری نیند خدا نخواستہ اڑ جاتی، تو اس کے بعد میںکوئی بھی علمی کام نہیں کرسکتاتھا۔یا اللہ، مجھے بخش دیجیے، دنیا کا ستایا ہوا ،آخرت میں نہ ستایا جائے۔
پاکستان کے سفر میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ یہ ایک مشہور شخصیت ہیں، اور پاکستان میں ’’غلبۂ اسلام‘‘ کی تحریک چلا رہے ہیں۔ میںنے ان سے پوچھا کہ پاکستان میں غیر مسلم (ہندو اور عیسائی) قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں۔ کیا ان کے درمیان کوئی…
…حکمتوں میںسے ایک حکمت یہ ہے کہ وسیط یا درمیانی شخص (middleman) کی اہمیت کوسمجھا جائے اور اس کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ ایک عالمی اصول ہے۔ ہرزمانے میں اِس کی مثالیں پائی جاتی ہیں، قدیم تاریخ میں بھی اور جدید تاریخ میں بھی۔
1 - قرآن میں اِس معاملے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے۔ حضرت یوسف اٹھارھویں صدی قبل مسیح میںفلسطین میں پیداہوئے، پھر وہ مخصوص اسباب کے تحت مصر پہنچے۔ اُس وقت مصر میںایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ اس کا نام یہ تھا— اپوفِس (Apophis)۔ حضرت یوسف کو یہ موقع ملا کہ وہ مصر میں وہ پوزیشن حاصل کرلیں جس کوقرآن میں خزائنِ ارض (یوسف: 55) پر اقتدار کہاگیا ہے۔
حضرت یوسف کو یہ غیر متوقع کامیابی کیسے ملی۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ بعض اسباب کے تحت وہاں ایک شخص سامنے آیا جس نے اُن کے اور بادشاہ کے بیچ، درمیانی شخص (intermediary) کارول ادا کیا۔ اِس طرح حضرت یوسف جیل سے نکل کر اقتدار کے منصب پر پہنچ…
ہاجرہ اُمّ ِاسماعیل
اِن خواتین میں سے ایک ہاجرہ اُمِّ اسماعیل ہیں جو پیغمبر ابراہیم کی زوجہ تھیں۔ ان کا زمانہ چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، حضرت ابراہیم نے یہ منصوبہ بنایا کہ عرب میں صحرا کے فطری ماحول میں ایک نئی نسل بنائی جائے، جو مشرکانہ کلچر کی کنڈیشننگ سے پاک ہو۔ اِس مقصد کے لیے ایک خاتون کی قربانی درکار تھی۔ ہاجرہ امِ اسماعیل نے یہ قربانی دی۔ وہ مکہ کے غیرآباد صحرا میں اپنے بچے کو لے کر مقیم ہوگئیں۔
یہ نہایت صبر آزما عمل تھا۔ بظاہر یہ موت کے حالا ت میں زندگی تلاش کرنے کے ہم معنیٰ تھا۔ جب حضرت ابرہیم نے انھیں بتایا کہ یہ خدا کا حکم ہے، اُس وقت ہاجرہ نے غیر آباد اور بے آب وگیاہ صحرا میں کہا کہ— پھر توخدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا: إذَن…
…کو قبول نہ کرسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ بے آمیز دین کو وہی اختیار کرے گا جس نے اپنی فطرت کو زندہ رکھا ہے۔ جن کی فطرت کی روشنی بجھ چکی ہے ان سے کسی قسم کی کوئی امید نہیں۔ دین کو ایسے لوگوں کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر دین کو بدلا نہیں جاسکتا۔
بنی اسرائیل کو اس کارِ خاص کے لیے چنا گیا تھا کہ وہ انسانوں کو اللہ کی طرف بلائیں اور ان کو اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ ان کے اعمال کے بارے میں ان کا مالک ان سے سوال کرنے والا ہے۔ اس کام کی رہنمائی کے لیے ان کے درمیان مسلسل پیغمبر آتے رہے۔ حضرت ابراہیم، یعقوب، یوسف، موسیٰ، داؤد، سلیمان، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ علیہم السلام وغیرہ۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب بنی اسرائیل پر زوال آیا تو انھوں نے اس منصبی فضیلت کو نسلی اور گروہی فضیلت کے معنی میں لے لیا۔ اور اس طرح اس کی بابت اپنے استحقاق کو کھو دیا۔ اسماعیلی خاندان میں نبی عربی کا آنا دراصل بنی اسرائیل کی مقام فضیلت سے معزولی اور اس کی جگہ بنی اسماعیل کے تقرر کا اعلان تھا۔ بنی سرائیل میں جو لوگ فی الواقع خدا پرست تھے ان کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ نبی عربی جو کلام پیش کررہے ہیں وہ خدا کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے۔ مگر جو لوگ گروہی تعصبات کو دین بنائے ہوئے تھے ان کے لیے اپنے سے باہر کسی فضیلت کا اعتراف کرنا ممکن نہ ہوسکا۔
پیغمبر عربی کے ذریعہ ان کو متنبہ کیاگیا کہ یاد رکھو آخرت میں حقیقی ایمان اور سچے عمل کے سوا کسی بھی چیز کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ دنیا میں ایک شخص دوسرے شخص کا بار اپنے سر لے لیتاہے۔ کسی معاملہ میں کسی کی سفارش کام آجاتی ہے۔ کبھی معاوضہ دے کر آدمی چھوٹ جاتا ہے۔ کبھی کوئی مددگار مل جاتا ہے جو پشت پناہی کرکے بچالیتاہے۔ مگر آخرت میں اس قسم کی کوئی چیز کسی کے کام آنے والی نہیں۔ آخرت کسی گروہ کی نسلی وراثت نہیں، وہ اللہ کے بے لاگ انصاف کا دن ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کو جو درجۂ فضیلت ملا اس کا فیصلہ اس وقت کیاگیا جب وہ کڑی جانچ میں خدا کے سچے فرماں بردار ثابت ہوئے۔ اللہ کی یہی سنت ان کی نسل کے بارے میں بھی ہے کہ جو عمل میں پورا اترے گا وہ اس وعدۂ الٰہی میں شریک ہوگا۔ اور جو عمل کے ترازو پر اپنے کو سچا ثابت نہ کرسکے اس کا وہی انجام ہوگا جو اس قسم کے دوسرے مجرمین کے لیے اللہ کے یہاں مقدر ہے ۔ حضرت ابراہیمؑ کو نہایت کڑی آزمائشوں کے بعد پیشوائی کا مقام دیاگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ امامت و قیادت کے منصب کا استحقاق قربانیوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ قربانی کی قیمت پر کسی مقصد کو اختیار کرنے والا اس مقصد کی راہ میں سب سے آگے ہوتا ہے۔ اس ليے قدرتی طورپر وہی اس کا قائد بنتا ہے۔
بنی اسرائیل کو اس کارِ خاص کے لیے چنا گیا تھا کہ وہ انسانوں کو اللہ کی طرف بلائیں اور ان کو اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ ان کے اعمال کے بارے میں ان کا مالک ان سے سوال کرنے والا ہے۔ اس کام کی رہنمائی کے لیے ان کے درمیان مسلسل پیغمبر آتے رہے۔…
…قرض حسن فرمایا۔
مومن کی راہ میں مشکلات کا پیش آنا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے فضل کا نیا دروازہ کھلنا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے جان ومال کو اللہ کے لیے خرچ کرکے اللہ کی ان عنایتوں کا مستحق بنتا ہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد بنی اسرائیل اپنے پڑوس کی مشرک قوموں سے مغلوب ہوگئے۔ اسی حال میں تقریباً چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنے پچھلے دور کو واپس لائیں۔ اب اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ان کو ایک امیر لشکر کی ضرورت تھی۔ ان کے نبی سموئیل (1020-1100ق م) نے ان کے لیے ایک شخص کا تقرر کیا جس کا نام قرآن میں طالوت اور بائبل میں ساؤل آیا ہے۔ ذاتی اوصاف کے اعتبار سے وہ ایک موزوں شخص تھا۔ مگر بنی اسرائیل اس کی سرداری قبول کرنے کے بجائے اس قسم کے اعتراضات نکالنے لگے کہ وہ تو چھوٹے خاندان کا آدمی ہے۔ اس کے پاس مال و دولت نہیں۔ مگر اس طرح کی اختلافی بحثیں کسی قوم کے زوال یافتہ ہونے کی علامت ہیں۔ اللہ کے فیصلے وسعت اور علم کی بنا پر ہوتے ہیں۔ اس ليے وہی بندہ اللہ کا محبوب بندہ ہے جو خود بھی وسیع النظری کا طریقہ اختیار کرے اور جو فیصلہ کرے حقائق کی بنیاد پر کرے، نہ کہ تعصبات اور مصلحتوں کی بنیاد پر۔ تاہم صندوق کو واپس لاکر اللہ نے طالوت کے تقرر کی ایک غیر معمولی تصدیق بھی فرمادی۔
بنی اسرائیل کے یہاں ایک مقدس صندوق تھا جو مصر سے خروج کے زمانہ سے ان کے یہاں چلا آرہا تھا۔ اس میں تورات کی تختیاں اور دوسری متبرک چیزیں تھیں۔ بنی اسرائیل اس کو اپنے ليے فتح وکامیابی کا نشان سمجھتے تھے۔ فلستی اس صندوق کو ان سے چھین کر اٹھا لے گئے تھے۔ مگر اس کو انھوں نے جس جس بستی میں رکھا وہاں وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ اس سے انھوں نے برا شگون لیا اور صند وق کو ایک بیل گاڑی پر رکھ کر ہانک دیا۔ وہ اس کو لے کر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ یہودیوں کی آبادی میں پہنچ گئے — اللہ اپنے کسی بندے کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے کبھی اس کے گرد ایسی غیر معمولی چیزیں جمع کردیتا ہے جو عام انسانوں کے ساتھ جمع نہیں ہوتیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد بنی اسرائیل اپنے پڑوس کی مشرک قوموں سے مغلوب ہوگئے۔ اسی حال میں تقریباً چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنے پچھلے دور کو واپس لائیں۔ اب اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ان کو ایک…
…ایک بیل گاڑی پر رکھ کر ہانک دیا۔ وہ اس کو لے کر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ یہودیوں کی آبادی میں پہنچ گئے — اللہ اپنے کسی بندے کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے کبھی اس کے گرد ایسی غیر معمولی چیزیں جمع کردیتا ہے جو عام انسانوں کے ساتھ جمع نہیں ہوتیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد بنی اسرائیل اپنے پڑوس کی مشرک قوموں سے مغلوب ہوگئے۔ اسی حال میں تقریباً چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنے پچھلے دور کو واپس لائیں۔ اب اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ان کو ایک امیر لشکر کی ضرورت تھی۔ ان کے نبی سموئیل (1020-1100ق م) نے ان کے لیے ایک شخص کا تقرر کیا جس کا نام قرآن میں طالوت اور بائبل میں ساؤل آیا ہے۔ ذاتی اوصاف کے اعتبار سے وہ ایک موزوں شخص تھا۔ مگر بنی اسرائیل اس کی سرداری قبول کرنے کے بجائے اس قسم کے اعتراضات نکالنے لگے کہ وہ تو چھوٹے خاندان کا آدمی ہے۔ اس کے پاس مال و دولت نہیں۔ مگر اس طرح کی اختلافی بحثیں کسی قوم کے زوال یافتہ ہونے کی علامت ہیں۔ اللہ کے فیصلے وسعت اور علم کی بنا پر ہوتے ہیں۔ اس ليے وہی بندہ اللہ کا محبوب بندہ ہے جو خود بھی وسیع النظری کا طریقہ اختیار کرے اور جو فیصلہ کرے حقائق کی بنیاد پر کرے، نہ کہ تعصبات اور مصلحتوں کی بنیاد پر۔ تاہم صندوق کو واپس لاکر اللہ نے طالوت کے تقرر کی ایک غیر معمولی تصدیق بھی فرمادی۔
بنی اسرائیل کے یہاں ایک مقدس صندوق تھا جو مصر سے خروج کے زمانہ سے ان کے یہاں چلا آرہا تھا۔ اس میں تورات کی تختیاں اور دوسری متبرک چیزیں تھیں۔ بنی اسرائیل اس کو اپنے ليے فتح وکامیابی کا نشان سمجھتے تھے۔ فلستی اس صندوق کو ان سے چھین کر اٹھا لے گئے تھے۔ مگر اس کو انھوں نے جس جس بستی میں رکھا وہاں وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ اس سے انھوں نے برا شگون لیا اور صند وق کو ایک بیل گاڑی پر رکھ کر ہانک دیا۔ وہ اس کو لے کر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ یہودیوں کی آبادی میں پہنچ گئے — اللہ اپنے کسی بندے کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے کبھی اس کے گرد ایسی غیر معمولی چیزیں جمع کردیتا ہے جو عام انسانوں کے ساتھ جمع نہیں ہوتیں۔
حضرت موسیٰ ؑکے تقریباً 3 سو سال بعداور حضرت مسیح سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ایسا ہوا کہ فلستیوں نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا اور فلسطین کے اکثر علاقے ان سے چھین ليے۔ ایک عرصہ کے بعد بنی اسرائیل نے چاہاکہ وہ فلستیوں کے خلاف اقدام کریں اور…
…رہنا زمین کی اصلاح ہے۔ اس کے برعکس، ناشکری، بے صبری، گھمنڈ اور حرص کے ساتھ رہنا زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔ کیوں کہ اس سے خدا کا قائم کیا ہوا فطری نظام ٹوٹتا ہے۔ یہ حد سے نکل جانا ہے جب کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ ہر ایک اپنی حد کے اندر عمل کرے۔
آیت میں چار گروہوں کا ذکر ہے۔ ایک، مسلمان جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں۔دوسرے ، یہود جو اپنے کو حضرت موسی ؑکی امت کہتے ہیں۔ تیسرے، نصاریٰ جو حضرت مسیح ؑکی امت ہونے کے دعویدار ہیں۔ چوتھے، صابی جو اپنے کو حضرت یحییٰ ؑکی امت بتاتے تھے اور قدیم زمانے میں عراق کے علاقہ میں آباد تھے۔ وہ اہلِ کتاب تھے اور کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ مگر اب صابی فرقہ ختم ہوچکا ہے۔ دنیا میں اب اس کا کہیں وجود نہیں۔
یہاں مسلمانوں کو الگ نہیں کیا ہے۔ بلکہ ان کا اور دوسرے پیغمبروں سے نسبت رکھنے والی امتوں کا ذکر ایک ساتھ کیاگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گروہ ہونے کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک سب برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ گروہ کے اعتبار سے ایک گروہ اور دوسرے گروہ میں کوئی فرق نہیں۔ سب کی نجات کا ایک ہی محکم اصول ہے، اور وہ ہے ایمان اور عمل صالح۔ کوئی گروہ اپنے کو خواہ مسلمان کہتا ہو یا وہ اپنے کو یہودی یا مسیحی یا صابی کہے، ان میں سے کوئی بھی محض ایک مخصوص گروہ ہونے کی بنا پر خداکے یہاں کوئی خصوصی درجہ نہیں رکھتا۔ درجہ کا اعتبار اس پر ہے کہ کس نے خدا کی منشا کے مطابق اپنی عملی زندگی کو ڈھالا۔
نبی کے زمانہ میں جب اس کے ماننے والوں کا گروہ بنتا ہے تو اس کی بنیاد ہمیشہ ایمان اور عمل صالح پر ہوتی ہے۔ اس وقت ایساہوتا ہے کہ نبی کی پکار سن کر کچھ لوگوں کے اندر ذہنی اور فکری انقلاب آتاہے۔ ان کے اندر ایک نیا عزم جاگتا ہے۔ ان کی زندگی کا نقشہ جو اب تک ذاتی خواہشوں کی بنیاد پر چل رہا تھا وہ خدائی تعلیمات کی بنیاد پر قائم ہوتاہے۔ یہی لوگ حقیقی معنوں میں نبی کی امت ہوتے ہیں۔ ان کے لیے نبی کی زبان سے آخرت کی نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے۔
مگر بعد کی نسلوں میں صورت حال بدل جاتی ہے۔ اب خدا کا دین ان کے لیے ایک قسم کی قومی روایت بن جاتا ہے۔ جو بشارتیں ایمان وعمل کی بنیاد پر دی گئی تھیں ان کو محض گروہی تعلق کا نتیجہ سمجھ لیا جاتاہے۔ وہ گمان کرلیتے ہیں کہ ان کے گروہ کا اللہ سے کوئی خاص رشتہ ہے جو دوسرے لوگوں سے نہیں ہے۔ جو شخص اس مخصوص گروہ سے تعلق رکھے، خواہ عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے وہ کیسا ہی ہو، بہر حال اس کی نجات ہو کررہے گی۔ جنت اس کے اپنے گروہ کے لیے ہے اور جہنم صرف دوسرے گروہوں کے لیے۔
مگر اللہ کا کسی گروہ سے خصوصی رشتہ نہیں۔ اللہ کے یہاں جو کچھ اعتبار ہے وہ صرف اس بات کا ہے کہ آدمی اپنے فکر اور عمل میں کیسا ہے۔ آخرت میں آدمی کے انجام کا فیصلہ اس کے حقیقی کردار کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ گروہی نسبتوں کی بنیاد پر۔
بائبل کی روایت بتاتی ہیں کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں جب یہود سے یہ عہد لیاگیا کہ وہ خدائی تعلیمات پر ٹھیک ٹھیک عمل کریں گے تو ’’خدا نے پہاڑ کو ان کے اوپر الٹ کر اوندھا کردیا اور ان سے کہا کہ توریت کو یا تو قبول کرو ورنہ یہیں تم سب کو ہلاک…
…عین مطابق ہے تو یہ صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے — آدمی بہت سی باتیں یہ ظاہر کرنے کے ليے بولتا ہے کہ وہ ایمان پر قائم ہے، حالاں کہ وہ باتیں صرف اس کا ثبوت ہوتی ہیں کہ آدمی کا ایمان اور خدا پرستی سے کوئی تعلق نہیں۔
قدیم زمانہ میں بہت سی قوموں کو ان پچھلی اہل کتاب کی سرکشی کے نتیجہ میں بار بار ان کو سخت سزائیں دی گئیں ۔ سنت اللہ کے مطابق ہر سزا سے پہلے پیغمبروں کی زبان سے اس کی پیشگی خبر دی جاتی۔ یہ خبر اللہ کی طرف سے جبریل فرشتہ کے ذریعہ پیغمبر کے پاس آتی اور وہ اس سے اپنی قوم کو آگاہ کرتے۔اس قسم کے واقعات میں اصل سبق یہ تھا کہ آدمی کو چاهيے کہ وہ اللہ کی نافرمانی سے بچے تاکہ وہ عذاب الٰہی کی زد میں نہ آجائے۔ مگر عرب کے اہل کتاب ان واقعات سے اس قسم کا سبق نہ لے سکے۔ اس کے بجائے وہ کہنے لگے کہ جبریل فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ ہمیشہ آسمان سے ہمارے خلاف احکام لے کر آتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ نے جبریل کے ذریعہ مجھ پر وحی کی ہے تو ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ جبریل تو ہمارا پرانا دشمن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت جو صرف اسرائیلی گروہ کا حق تھا، اس کو اس نے ایک اور قبیلہ کے فرد تک پہنچا دیا۔
اس قسم کی بے معنی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو فسق اور بے قیدی کی زندگی گزاررہے ہوں ۔ اہل کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ نفس پرستی، آبائی تقلید، نسلی اور قومی عصبیت کی سطح پر جی رہے تھے۔ اور کچھ نمائشی قسم کے مذہبی کام کرکے ظاہر کرتے تھے کہ وہ عین دین خداوندی پر قائم ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کی جھوٹی دین داری میں مبتلا ہوں وہ سچے اور بے آمیز دین کی دعوت سن کر ہمیشہ بگڑ جاتے ہیں۔ کیوںکہ ایسی دعوت ان کو ان کے بڑائي كے مقام سے اتارنے کے ہم معنی نظرآتی ہے۔وہ مشتعل نفسیات کے تحت ایسی باتیں بولنے لگتے ہیں جوگرامر کے اعتبار سے درست ہونے کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ فرشتوں کا آنا اور رسولوں کا مبعوث ہونا سب مکمل طورپر خدائی منصوبہ کے تحت ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جب دلائل یہ ظاہر کررہے ہوں کہ پیغمبر عربی کے پاس وہی چیزآئی ہے جو ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ پر آئی تھی اور وہ پچھلے آسمانی صحیفوں کی پیشین گوئیوں کے عین مطابق ہے تو یہ صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے — آدمی بہت سی باتیں یہ ظاہر کرنے کے ليے بولتا ہے کہ وہ ایمان پر قائم ہے، حالاں کہ وہ باتیں صرف اس کا ثبوت ہوتی ہیں کہ آدمی کا ایمان اور خدا پرستی سے کوئی تعلق نہیں۔
قدیم زمانہ میں بہت سی قوموں کو ان پچھلی اہل کتاب کی سرکشی کے نتیجہ میں بار بار ان کو سخت سزائیں دی گئیں ۔ سنت اللہ کے مطابق ہر سزا سے پہلے پیغمبروں کی زبان سے اس کی پیشگی خبر دی جاتی۔ یہ خبر اللہ کی طرف سے جبریل فرشتہ کے ذریعہ پیغمبر کے…
…کے احوال میں ایسے کھلے ہوئے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اس کی خدائی حیثیت کو قطعیت کے ساتھ ثابت کررہے ہوتے ہیں۔ مگر ظالم انسان ہر خدائی نشانی کی ایک ایسی توجیہہ ڈھونڈ لیتاہے جس کے بعد وہ اس کو رد کرکے اپنی سرکشی کی زندگی کو بدستور جاری رکھے۔
خدا کا پیغمبر انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے۔ وہ عام آدمی کی صورت میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ اس ليے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ایک عام آدمی کو کس طرح خدا کا نمائندہ مان لیں۔ وہ کیسے یقین کرلیں کہ سامنے کا آدمی ایک ایسا شخص ہے جو خدا کی طرف سے بولنے کے لیے مقرر ہوا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ جو کلام تم پیش کررہے ہو اس کو آسمان سے آتا ہوا دکھاؤ یا خداخود تمھاری تصدیق کے لیے آسمان سے اتر پڑے تب ہم تمھاری بات مانیںگے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ حد درجہ غیر سنجیدہ مطالبہ ہے۔ کیوں کہ انسان کا امتحان تو یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر مانے، وہ حقیقتوں کو ان کی معنوی صورت میں پالے۔ ایسی حالت میں دکھا کر منوانے کا کیا فائدہ۔ نیز یہ کہ اگر کچھ دیر کے لیے عالم کے نظام کو بدل دیا جائے اور آدمی کو اس کے مطالبہ کے مطابق چیزوں کو دکھا دیا جائے تب بھی وہ بے فائدہ ہوگا۔ کیوں کہ یہ دکھانا بہر حال وقتی ہوگا، نہ کہ مستقل۔ اور انسان کی آزادی جو اس کو سرکشی کی طرف لے جاتی ہے اس کے بعد بھی باقی رہے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ دیکھنے کے وقت تک وہ سہم کر مان لے گا اور اس کے بعد دوبارہ اپنی آزادی کا غلط استعمال شروع کردے گا جیسا کہ دیکھنے سے پہلے کررہا تھا۔ یہود کی مثال اس کی تاریخی تصدیق کرتی ہے۔
کوہ طور کے دامن میں غیر معمولی حالات پیدا کرکے یہود سے یہ عہد لیاگیا تھا کہ وہ اپنے عبادت خانہ (خروج،
19:16-19
)میں تواضع کے ساتھ داخل ہوں اور خشوع کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔ اور یہ کہ معاش کے حصول کے لیے جو جدوجہد کریں وہ اللہ کے حدود میں رہ کر کریں، نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔ مگر یہود نے اس قسم کے تمام عهدوںکو توڑ دیا۔
’’موسی کو ہم نے سلطان مبین (کھلی حجت) دی‘‘— اللہ کا یہ معاملہ ہر پیغمبر کے ساتھ ہوتا ہے۔ پیغمبر اگرچہ ایک عام انسان کی طرح ہوتا ہے مگر اس کے کلام اور اس کے احوال میں ایسے کھلے ہوئے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اس کی خدائی حیثیت کو قطعیت کے ساتھ ثابت کررہے ہوتے ہیں۔ مگر ظالم انسان ہر خدائی نشانی کی ایک ایسی توجیہہ ڈھونڈ لیتاہے جس کے بعد وہ اس کو رد کرکے اپنی سرکشی کی زندگی کو بدستور جاری رکھے۔
یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔…
…کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے ایسے افراد اٹھاتا ہے جو لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس کو جہنم سے ڈراتے ہیں اور جنت کی خوش خبری دیتے ہیں۔ خدا کے اسی بشیر ونذیر کا ساتھ دے کر آدمی خدا کو پاتا ہے، نہ کہ کسی اور طریقے سے۔
مومن کی زندگی ایک پابند زندگی ہے۔ وہ دنیا میں آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اس کے باوجود وہ اللہ کی آقائی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو پابند بنا لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو از خود عہد کی رسّی میں باندھ لیتا ہے۔ اللہ کا معاملہ ہو یا بندوں کا معاملہ، دونوں قسم کے معاملات میں اس نے اپنے کو پابند کرلیا ہے کہ وہ آزادانہ عمل نہ کرے بلکہ خدا کے حکم کے مطابق عمل کرے۔ وہ انھیں چیزوں کو اپنی خوراک بنائے جو خدا نے اس کے لیے حلال کی ہیں اور جو چیزیں خدا نے حرام کی ہیں ان کو کھانا چھوڑ دے۔ کسی موقع پر اگر کسی جائز چیز سے بھی روک دیا جائے جیسا کہ احرام کی حالت میں یا حرام مہینوں کے بارے میں حکم سے واضح ہوتا ہے تو اس کو بھی بے چون وچرا مان لے۔ کوئی چیز کسی دینی حقیقت کی علامت بن جائے تو اس کا احترام کرے۔ کیوں کہ ایسی چیز کا احترام خود دین کا احترام ہے۔ اور یہ سب کچھ اللہ کے خوف سے کرے، نہ کہ کسی اور جذبے سے۔
آدمی عام حالات میں اللہ کے حکموں پر عمل کرتا ہے۔ مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیدا ہوتی ہے تو وہ بدل کر دوسرا انسان بن جاتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا یکایک اللہ سے بے خوف انسان بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ موقع وہ ہے جب کہ کسی کی کوئی مخالفانہ حرکت اس کو مشتعل کردیتی ہے۔ ایسے موقع پر آدمی انصاف کی حدوں کو بھول جاتا ہے اور یہ چاہنے لگتا ہے کہ جس طرح بھی ہو اپنے حریف کو ذلیل اور ناکام کرے۔ مگر اس قسم کی معاندانہ کارروائی خدا کے نزدیک جائز نہیں، حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ مسجد حرام کی زیارت جیسے پاک کام سے کسی نے دوسرے کو روکا ہو۔کوئی شخص اس قسم کی ظالمانہ کارروائی کرنے کے لیے اٹھے اور کچھ لوگ اس کا ساتھ دینے لگیں تو یہ گناہ کی راہ میں کسی کی مدد کرنا ہوگا۔ جب کہ اللہ سے ڈرنے والوں کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ صرف نیکی کے کاموں میں دوسرے کی مدد کریں۔ جو شخص حق پر ہو اس کا ساتھ دینا اور جو ناحق پر ہو اس کا ساتھ نہ دینا، موجودہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ مگر اسی مشکل کا م پر آدمی کے اُخروی انجام کا فیصلہ ہونے والا ہے۔
اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور ا س کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے…
…کے لیے قربانی نہ دے تو گویاکہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے۔
بنی اسرائیل جب حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصرسے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو اس زمانہ میں شام و فلسطین کے علاقہ میں ایک ظالم قوم (عمالقہ) کی حکومت تھی۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ ظالم لوگ اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ تم ان کے ملک میں داخل ہوجاؤ، تم کو خدا کی مدد حاصل ہوگی اور تم معمولی مقابلہ کے بعد ان کے اوپر قبضہ پالو گے۔ مگر بنی اسرائیل پر اس قوم کی ایسی ہیبت طاری تھی کہ وہ ان کے ملک میں داخل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اللہ سے زیادہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی نظر میں ان کی کوئی قیمت نہ رہی۔ اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا کہ وہ چالیس سال (1440-1400 ق م) تک فاران اور شرق اردن کے درمیان صحرا میں بھٹکتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ 20 سال سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سارے لوگ ختم ہوجائیں گے۔ اس دوران ان كي ايك نئی نسل نئے حالات میں پرورش پاکر اٹھے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 40 سال کی صحرائی زندگی میں ان کے تمام بڑی عمر والے مرکر ختم ہوگئے۔ اس کے بعد ان کی نئی نسل نے یوشع بن نون کی قیادت میں شام وفلسطین کو فتح کیا۔ یہ یوشع بن نون ان دو صالح اسرائیلیوں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عمالقہ کے ملک میں داخل ہوجاؤ۔
بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ اگر ہم اس ملک پر حملہ کریں تو ہم کو شکست ہوگی اور اس کے بعد ’’ہمارے بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے‘‘۔ مگر یہی بچے بڑے ہو کر عمالقہ کے ملک میں داخل ہوئے اور اس پر قبضہ کیا۔بچوںمیں یہ طاقت اس لیے پیدا ہوئی کہ انھوں نے لمبی مدت تک صحرائی زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا تھا۔ بچوں کے باپ جن پُر خطر حالات کو اپنے بچوں کے حق میں موت سمجھتے تھے انھیں پُر خطر حالات کے اندر داخل ہونے میں ان کے بچوں کی زندگی کا راز چھپا ہوا تھا۔
موافق حالات میں جینا بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تمام بہترین اوصاف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کہ اس کو حالات کا مقابلہ کرکے زندہ رہنا پڑے۔ مصر میں بنی اسرائیل صدیوں تک عافیت کی زندگی گزارتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک مُردہ قوم بن گئے۔ مگر خروج کے بعد ان کو جو صحرائی زندگی حاصل ہوئی اس میں زندگی ان کے لیے سراپا چیلنج تھی۔ ان حالات میں جو لوگ بچپن سے جوانی کی عمر کو پہنچے وہ قدرتی طورپر بالکل دوسری قسم کے لوگ تھے۔ صحرائی حالات نے ان کے اندر سادگی، ہمت، جفاکشی اور حقیقت پسندی پیدا کردی تھی۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں، جو کسی قوم کو زندہ قوم بناتے ہیں — کوئی قوم اگر حالات کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کے لیے غیر معمولی حالات میں ڈال دیا جاتا ہے۔
بنی اسرائیل جب حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصرسے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو اس زمانہ میں شام و فلسطین کے علاقہ میں ایک ظالم قوم (عمالقہ) کی حکومت تھی۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ ظالم لوگ اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ تم ان کے ملک میں…
…کے اندر سادگی، ہمت، جفاکشی اور حقیقت پسندی پیدا کردی تھی۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں، جو کسی قوم کو زندہ قوم بناتے ہیں — کوئی قوم اگر حالات کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کے لیے غیر معمولی حالات میں ڈال دیا جاتا ہے۔
بنی اسرائیل جب حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصرسے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو اس زمانہ میں شام و فلسطین کے علاقہ میں ایک ظالم قوم (عمالقہ) کی حکومت تھی۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ ظالم لوگ اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ تم ان کے ملک میں داخل ہوجاؤ، تم کو خدا کی مدد حاصل ہوگی اور تم معمولی مقابلہ کے بعد ان کے اوپر قبضہ پالو گے۔ مگر بنی اسرائیل پر اس قوم کی ایسی ہیبت طاری تھی کہ وہ ان کے ملک میں داخل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اللہ سے زیادہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی نظر میں ان کی کوئی قیمت نہ رہی۔ اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا کہ وہ چالیس سال (1440-1400 ق م) تک فاران اور شرق اردن کے درمیان صحرا میں بھٹکتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ 20 سال سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سارے لوگ ختم ہوجائیں گے۔ اس دوران ان كي ايك نئی نسل نئے حالات میں پرورش پاکر اٹھے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 40 سال کی صحرائی زندگی میں ان کے تمام بڑی عمر والے مرکر ختم ہوگئے۔ اس کے بعد ان کی نئی نسل نے یوشع بن نون کی قیادت میں شام وفلسطین کو فتح کیا۔ یہ یوشع بن نون ان دو صالح اسرائیلیوں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عمالقہ کے ملک میں داخل ہوجاؤ۔
بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ اگر ہم اس ملک پر حملہ کریں تو ہم کو شکست ہوگی اور اس کے بعد ’’ہمارے بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے‘‘۔ مگر یہی بچے بڑے ہو کر عمالقہ کے ملک میں داخل ہوئے اور اس پر قبضہ کیا۔بچوںمیں یہ طاقت اس لیے پیدا ہوئی کہ انھوں نے لمبی مدت تک صحرائی زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا تھا۔ بچوں کے باپ جن پُر خطر حالات کو اپنے بچوں کے حق میں موت سمجھتے تھے انھیں پُر خطر حالات کے اندر داخل ہونے میں ان کے بچوں کی زندگی کا راز چھپا ہوا تھا۔
موافق حالات میں جینا بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تمام بہترین اوصاف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کہ اس کو حالات کا مقابلہ کرکے زندہ رہنا پڑے۔ مصر میں بنی اسرائیل صدیوں تک عافیت کی زندگی گزارتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک مُردہ قوم بن گئے۔ مگر خروج کے بعد ان کو جو صحرائی زندگی حاصل ہوئی اس میں زندگی ان کے لیے سراپا چیلنج تھی۔ ان حالات میں جو لوگ بچپن سے جوانی کی عمر کو پہنچے وہ قدرتی طورپر بالکل دوسری قسم کے لوگ تھے۔ صحرائی حالات نے ان کے اندر سادگی، ہمت، جفاکشی اور حقیقت پسندی پیدا کردی تھی۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں، جو کسی قوم کو زندہ قوم بناتے ہیں — کوئی قوم اگر حالات کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کے لیے غیر معمولی حالات میں ڈال دیا جاتا ہے۔
اللہ کے لیے جو عمل کیا جائے اس کا اصل بدلہ تو آخرت میں ملتا ہے، تاہم بعض اوقات دنیا میں بھی ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ آدمی کا عمل خدا کے یہاں مقبول ہوا یا نہیں۔ آدم کے بیٹوں میں سے قابیل اور ہابیل کے ساتھ بھی ایسی ہی…
…بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج
5:1
) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔
پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔
خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔
حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج
5:1
) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔
پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ…
…بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج
5:1
) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔
کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔
فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔
مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔
جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔
کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔
فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی…
…ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔
کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔
فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔
مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔
جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔
کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔
فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی…
…بے خبر بنادیتاہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جانتا، وہ سن کر بھی نہیں سنتا۔
آدمی اگر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے تو وہ ضرور حقیقت کو پالے گا۔ مگر اکثر لوگ اپنے نفسیات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقت کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔
حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً 40 سال تک پیغمبر ی کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی تربیت کرنا۔ بنی اسرائیل (حضرت یعقوب کی اولاد) اس وقت شدید طورپر قبطی بادشاہ (فرعون) کی گرفت میں تھے۔ قبطی قوم ان کو اپنے زراعتی اور تعمیری کاموں میں بطور مزدور استعمال کرتی تھی۔ اس ليے قبطی حکمراں نہیں چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل مصر سے باہر چلے جائیں۔
حضرت موسیٰ نے ابتداء ً جب فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ مصر سے باہر جانے دو تو فرعون اور اس كے درباریوں نے اس کو سیاسی معنی پہنا کر آنجناب پر یہ الزام لگایا کہ وہ قبطی قوم کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں(الاعراف،
7:110
)۔یہ بات سراسر بے معنی تھی۔کیوں کہ حضرت موسیٰ کا منصوبہ تو خود اپنے آپ کو مصر سے باہر لے جانے کا تھا، اور فرعون نے یہ الٹا الزام لگایا کہ وہ قبطیوں کو ان کے ملک سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرعون اور اس کے ساتھی اقتدار کے گھمنڈ میں تھے اس ليے سیدھی بات بھی ان کو ٹیڑھی نظر آئی۔
مگر بعد کے مرحلہ میں خدا نے فرعون اور اس کی قوم پر ہر طرح کی بلائیں نازل کیں۔ ان پر کئی سال تک مسلسل قحط پڑے۔ شدید گرج چمک کے ساتھ اولوں کا طوفان آیا۔ ٹڈیوں کے دل آئے جو فصل اور باغ کو کھا گئے اور ہر قسم کی سبزی کا خاتمہ کردیا۔ جوئیں اور مینڈک اس کثرت سے ہوگئے کہ کپڑوں اور بستروں میں جوئیں ہی جوئیں تھیں اور گھروں اور راستوں میں ہر طرف مینڈک ہی مینڈک کودنے لگے۔ دریاؤں اور تالابوں کا پانی خون ہوگیا۔ فرعون اور اس کی قوم جب ان عجیب وغریب مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو وہ کہہ اٹھے کہ خدا اگر ان مصیبتوں کو ہم سے ٹال دے تو ہم بنی اسرائیل کو موسی کے ساتھ جانے دیں گے — حضرت موسیٰ کے جس مطالبہ میں پہلے قبطیوں کے اخراج کی سیاسی سازش دکھائی دی تھی وہ اب خود بنی اسرائیل کی ہجرت کے ہم معنیٰ نظر آنے لگی۔
آدمی اپنے کو محفوظ حالت میں پارہا ہو تو وہ طرح طرح کی باتیں بناتاہے۔ مگر جب اس سے حفاظت چھین لی جائے اور اس کو عجز اور بے بسی کے مقام پر کھڑا کردیا جائے تو اچانک وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اب وہ بات خود ہی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے جو پہلے سمجھانے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر انکار کی طاقت رکھتے ہوئے اقرار کرنے کانام اقرار ہے۔ الفاظ چھن جانے کے بعد کوئی اقرار اقرار نہیں۔
حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً 40 سال تک پیغمبر ی کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی تربیت کرنا۔ بنی اسرائیل…
…اور دوسری قوم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
اس دنیا میں یہ موقع ہے کہ آدمی اپنی خود ساختہ تشریح سے خدا کے احسن کلام کا کوئی غیر احسن مفہوم نکال لے۔ مگر یہ ایسی جسارت ہے جو فرماں برداری کے دعوے دار کو بھی نافرمانوں کی فہرست میں شامل کردیتی ہے۔
حضرت موسیٰ کو پہلی بار نبوت پہاڑ کے اوپر ملی تھی اور دوسری بار بھی تورات کے احکام ان کو پہاڑ پر بلا کر ديے گئے۔ یہ اس بات کا ایک اشارہ ہے کہ خدا کافیضان حاصل کرنے کی سب سے زیادہ موزوں جگہ فطرت کا ماحول ہے، نہ کہ انسانی آبادیوں کا ماحول۔ انسانوں کی پرشور دنیا سے نکل کر آدمی جب پتھروں اور درختوں کی خاموش دنیا میں پہنچتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے قریب محسوس کرنے لگتاہے۔ وہ مصنوعی احساسات سے خالی ہو کر اپنی فطری حالت پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ کسی آدمی کے ليے بہترین لمحہ ہوتا ہے جب کہ وہ بے آمیز فطری انداز میں سوچے اور یکسو ہو کر اپنے رب سے جُڑ سکے۔
پیغمبر عام انسانوں میں سے ایک انسان ہوتاہے۔ وہ کسی بھی اعتبار سے کوئی غیر انسانی مخلوق نہیں ہوتا۔ اس کی خصوصیت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیدائشی استعداد کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، اس ليے خدا اس کو چنتاہے کہ وہ اس کے پیغام کا حامل بنے اور لوگوں کے درمیان اس کی قابلِ اعتماد نمائندگی کرے۔ حضرت موسیٰ اس وقت اپنی قوم کے بہترین شخص تھے اس ليے خدا نے ان کو اپنا پیغمبر چنا اور ان پر اپنا کلام اتارا۔
خدا کے كلام میں اگر چہ ہدایت سے متعلق ہر قسم کی ضروری تفصیل موجود ہوتی ہے مگر وہ الفاظ میں ہوتی ہے اور موجودہ امتحانی دنیا میں بہر حال اس کا امکان باقی رہتاہے کہ آدمی ان الفاظ کی غلط تشریح کرکے اس کو غیر مطلوب معنی پہنا دے۔ مگر جو شخص ہدایت کے معاملے میں سنجیدہ ہو اور خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو وہ ان الفاظ سے وہی معنی لے گا جو کلام الٰہی کے شایانِ شان ہے، نہ کہ وہ جو اس کے نفس کو مرغوب ہے۔
’’میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا‘‘، یعنی اپنے اس سفر میں آگے چل کر تم ان قوموں کے کھنڈرات سے گزروگے جنھیں اس سے پہلے خدا کی ہدایت دی گئی تھی۔ مگروہ اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ حالات کے دباؤ یا جذبات کے میلان کو نظرانداز کرکے وہ اس پر ٹھیک طرح قائم نہ رہ سکے۔ چنانچہ ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ ہلاک کرديے گئے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمھارا انجام بھی دنیا وآخرت میں وہی ہوگا جو ان پچھلی قوموں کا ہوا۔ خدا کا معاملہ جیسا ایک قوم کے ساتھ ہے ویسا ہی معاملہ دوسری قوم کے ساتھ ہے۔ عدل الٰہی کی میزان میں ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
اس دنیا میں یہ موقع ہے کہ آدمی اپنی خود ساختہ تشریح سے خدا کے احسن کلام کا کوئی غیر احسن مفہوم نکال لے۔ مگر یہ ایسی جسارت ہے جو فرماں برداری کے دعوے دار کو بھی نافرمانوں کی فہرست میں شامل کردیتی ہے۔
دنیا میں زندگی گزارنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی نے اپنی آنکھ اور کان کھلے رکھے ہوں۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی رنگ میں دیکھتا اور سنتا ہو۔ ایسے آدمی کے سامنے حق آئے گا تو وہ اس کو پہچان لے گا۔ دنیا میں بکھری ہوئی خدائی نشانیاں اس کو…
…مزاج کے اعتبار سے اجنبی دکھائی دے گا اس ليے وہ اس کی طرف بڑھنے میں بھی ناکام ثابت ہوں گے۔
بڑا ئی کی نفسیات اس چیز کو بآسانی قبول کرلیتی ہے جس میں اس کی بڑائی باقی رہے۔ اور جہاں اس کی بڑائی مشتبہ ہوتی ہو اس سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔
دنیا میں زندگی گزارنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی نے اپنی آنکھ اور کان کھلے رکھے ہوں۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی رنگ میں دیکھتا اور سنتا ہو۔ ایسے آدمی کے سامنے حق آئے گا تو وہ اس کو پہچان لے گا۔ دنیا میں بکھری ہوئی خدائی نشانیاں اس کو جو سبق دیں گی وہ ان کو پالے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی متکبرانہ نفسیات کے ساتھ جی رہا ہو۔ وہ زمین میں اس طرح رہتا ہو جیسے وہ اس کا مالک ہے، اس کواپنے ذاتی داعیات کے سوا کسی اور چیز کی پروا نہ ہو۔ وہ سمجھتا ہو کہ یہاں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ اپنی لیاقت کی وجہ سے مل رہا ہے۔ اپنی ملی ہوئی چیزوں میں اس کو کسی اور کی مرضی کا لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس دوسرے آدمی کا استغناء اس کے ليے قبول حق میں رکاوٹ بن جائے گا۔
پہلے آدمی کی نفسیات لینے والی نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اپنے کھلے ذہن کی وجہ سے خدا کے ہر اشارہ کو پڑھ لیتاہے۔ اور فوراً اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیتاہے۔ اس کے برعکس، دوسرے آدمی کی نفسیات بے نیازی کی نفسیات ہوتی ہے۔ اس کے سامنے حق کے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔ اس کے سامنے قدرت خاموش زبان میں اپنا نغمہ چھیڑتی ہے مگر وہ اس پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اس کو اپنے سے باہر کسی سچائی کی طرف رغبت نہیںہوتی — موت کے بعد آنے والی دنیا صرف پہلے لوگوں کے لیے ہے۔ دوسرے لوگ خدا کی ابدی دنیا میں اسی طرح نظر انداز کرديے جائیں گے جس طرح موجودہ امتحان کی دنیا میں وہ خدا کی بات کو نظر انداز كيے ہوئے تھے۔
گمراہی کا راستہ نفس کے محرکات کے تحت بنتا ہے اور ہدایت کا راستہ وہ ہے جو نفس اور ماحول کے اثرات سے اوپر اٹھ کر خالص خدا کے ليے وجود میں آتاہے۔ اب جو لوگ اپنی ذات کی سطح پر جی رہے ہوں، جو صرف اپنے نفس کے اندر ابھرنے والے داعیات کو جانتے ہوں وہ گمراہی کے راستے کو عین اپنی چیز سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ ہدایت کا راستہ ان کو اپنے مزاج کے اعتبار سے اجنبی دکھائی دے گا اس ليے وہ اس کی طرف بڑھنے میں بھی ناکام ثابت ہوں گے۔
بڑا ئی کی نفسیات اس چیز کو بآسانی قبول کرلیتی ہے جس میں اس کی بڑائی باقی رہے۔ اور جہاں اس کی بڑائی مشتبہ ہوتی ہو اس سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔
بنی اسرائیل کے گروہ میں اس وقت سامری نام کا ایک بہت شاطر آدمی تھا۔ حضرت موسیٰ جب بنی اسرائیل کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے تو اس نے لوگوں کو بہکایا۔ اس نے لوگوں سے زیورات لے کر ان کو بچھڑے کی صورت میں ڈھال دیا۔ بت…
…کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لیے اور حضرت ہارون کے ليے خدا سے دعا کرنے لگے — ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔
بنی اسرائیل کے گروہ میں اس وقت سامری نام کا ایک بہت شاطر آدمی تھا۔ حضرت موسیٰ جب بنی اسرائیل کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے تو اس نے لوگوں کو بہکایا۔ اس نے لوگوں سے زیورات لے کر ان کو بچھڑے کی صورت میں ڈھال دیا۔ بت گری کے قدیم مصری فن کے مطابق بچھڑے کی یہ مورت اس طرح بنائی گئی تھی کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرے تو اس کے منھ سے خُوار (بیل کی ڈکار کی سی آواز) آ ئے۔ لوگ عام طورپر عجوبہ پسند ہوتے ہیں۔ چنانچہ اتنی سی بات پر بہت سے لوگ شبہ میں پڑ گئے اور اس کے بارے میں خدائی تصور قائم کرلیا۔ ایک شاطر آدمی نے کچھ عوامی باتیں کرکے بھیڑ کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرلی۔ اس کا زور اتنا بڑھا کہ حضرت ہارون اور اغلباً ان کے چند ساتھیوں کے سوا کوئی کھلم کھلا احتجاج کرنے والا بھی نہ نکلا۔ ظاہر ہے کہ جس عوامی طوفان میں پیغمبر کے نائب کی آواز دب جائے وہاں کیسے کوئی بولنے کی جرأت کرسکتا ہے۔
عوام کا ذوق ہر زمانہ میں یہی رہا ہے اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے۔ آج بھی ایک ہوشیار آدمی اپنی تقریروں اور تحریروں سے کسی نہ کسی ’’خوار‘‘ پر لوگوں کی بھیڑ جمع کرلیتاہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس چیز کے گرد وہ جمع ہورہے ہیں وہ محض ایک تماشا ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقت۔ کوئی سنجیدہ آدمی اگر اس تماشے کی حقیقت کو کھولتا ہے تو اس کا وہی انجام ہوتاہے جو بنی اسرائیل کے درمیان حضرت ہارون کا ہوا۔
حضرت موسی نے جب دیکھا کہ بنی اسرائیل مشرکانہ فعل میں مشغول ہیں تو ان کو گمان ہوا کہ حضرت ہارون نے اصلاح کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے۔ چنانچہ غصہ میںانھیں پکڑ لیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے بتایا کہ انھوںنے اپنی اصلاحی کوشش میں کوئی کمی نہ کی تھی تو ان کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لیے اور حضرت ہارون کے ليے خدا سے دعا کرنے لگے — ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔
قرآن سننے والے جنوں نے قرآن کو سن کر نہ صرف فوراً اسے مان لیا بلکہ اسی کے ساتھ وہ اس کے مبلغ بن گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سچا کلام جب زندہ لوگوں کے کانوں تک پہنچتا ہے تو وہ بیک وقت دو قسم کے اثرات پیدا کرتا ہے— اس کی سچائی کا کھلے دل سے…
…کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لیے اور حضرت ہارون کے ليے خدا سے دعا کرنے لگے — ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔
بنی اسرائیل کے گروہ میں اس وقت سامری نام کا ایک بہت شاطر آدمی تھا۔ حضرت موسیٰ جب بنی اسرائیل کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے تو اس نے لوگوں کو بہکایا۔ اس نے لوگوں سے زیورات لے کر ان کو بچھڑے کی صورت میں ڈھال دیا۔ بت گری کے قدیم مصری فن کے مطابق بچھڑے کی یہ مورت اس طرح بنائی گئی تھی کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرے تو اس کے منھ سے خُوار (بیل کی ڈکار کی سی آواز) آ ئے۔ لوگ عام طورپر عجوبہ پسند ہوتے ہیں۔ چنانچہ اتنی سی بات پر بہت سے لوگ شبہ میں پڑ گئے اور اس کے بارے میں خدائی تصور قائم کرلیا۔ ایک شاطر آدمی نے کچھ عوامی باتیں کرکے بھیڑ کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرلی۔ اس کا زور اتنا بڑھا کہ حضرت ہارون اور اغلباً ان کے چند ساتھیوں کے سوا کوئی کھلم کھلا احتجاج کرنے والا بھی نہ نکلا۔ ظاہر ہے کہ جس عوامی طوفان میں پیغمبر کے نائب کی آواز دب جائے وہاں کیسے کوئی بولنے کی جرأت کرسکتا ہے۔
عوام کا ذوق ہر زمانہ میں یہی رہا ہے اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے۔ آج بھی ایک ہوشیار آدمی اپنی تقریروں اور تحریروں سے کسی نہ کسی ’’خوار‘‘ پر لوگوں کی بھیڑ جمع کرلیتاہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس چیز کے گرد وہ جمع ہورہے ہیں وہ محض ایک تماشا ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقت۔ کوئی سنجیدہ آدمی اگر اس تماشے کی حقیقت کو کھولتا ہے تو اس کا وہی انجام ہوتاہے جو بنی اسرائیل کے درمیان حضرت ہارون کا ہوا۔
حضرت موسی نے جب دیکھا کہ بنی اسرائیل مشرکانہ فعل میں مشغول ہیں تو ان کو گمان ہوا کہ حضرت ہارون نے اصلاح کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے۔ چنانچہ غصہ میںانھیں پکڑ لیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے بتایا کہ انھوںنے اپنی اصلاحی کوشش میں کوئی کمی نہ کی تھی تو ان کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لیے اور حضرت ہارون کے ليے خدا سے دعا کرنے لگے — ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔
بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے کو یہاں افتراء (جھوٹ باندھنا) کہاگیا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ باطل کام حق کے نام پر کیا تھا۔ انھوںنے اپنا یہ کام خدا کے دین کا انکار کرکے نہیں کیا تھا بلکہ خدا کے دین کو مانتے ہوئے کیا…
…ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ کفار ومشرکین نے ان پر غلبہ پالیا ہو اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہوگئی ہو تو ان کو خدا کی طرف لوٹناچاہيے۔ کیوںکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الٰہی کی زد میں آگئے ہیں۔
حضرت موسیٰ کے زمانہ میں یہود کو جب خدائی احکام ديے گئے تو اس کی کارروائی پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔اس وقت ایسے حالات پیدا كيے گئے کہ یہود کو محسوس ہوا کہ پہاڑ ان کے اوپر گرا چاہتاہے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ خدا سے عہد باندھنے کا معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اگر تم نے اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یاد رکھو کہ اس عہد کا دوسرا فریق وہ عظیم ہستی ہے جو چاہے تو پہاڑ کو تمھارے اوپر گرا کر تمھیں ہلاک کردے۔
اس وقت یہود میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اللہ سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے تھے۔ مگر بعد کو دھیرے دھیرے انھوںنے دنیا کو اپنا مقصود بنا لیا۔ وہ جائز ناجائز کا فرق كيے بغیر مال جمع کرنے میں لگ گئے۔ آسمانی کتاب کو اب بھی وہ پڑھتے تھے مگر اس کی تعلیمات کی خود ساختہ تاویلیں کرکے اس کو انھوںنے ایسا بنا لیا کہ خدا بھی ان کو اپنی باغیانہ زندگی کا حامی نظرآنے لگا۔ ان کی بے حسی یہاں تک بڑھی کہ وہ یہ کہہ کر مطمئن ہوگئے کہ ہم برگزیدہ امت ہیں ۔ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ خدا اپنے محبوب بندوں کے صدقے میں ہم کو ضرور بخش دے گا۔
یہی واقعہ ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش آتاہے۔ ابتدائی دور میں اس کے افراد خدا سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ مگر اگلی نسلوںمیں یہ روح (spirit)نکل جاتی ہے۔ وہ دوسرے دنیا دار لوگوں کی طرح ہوجاتے ہیں۔ ان کے درمیان اب بھی دین موجود ہوتا ہے۔ خدا کی کتاب اب بھی ان کے یہاں پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔ مگر یہ سب قومی وراثت کے طورپر ہوتاہے، نہ کہ حقیقۃً عہد خداوندی کے طورپر۔ وہ عملاً آخرت کو بھول کر دنیا پرستی کی راہ میں چل پڑتے ہیں۔ وہ صحیح اور غلط سے بے نیاز ہو کر اپنی خواہشوں کو اپنا مذہب بنا لیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کو یہ بھی فخر ہوتا ہے کہ وہ افضل الامم ہیں۔ وہ محبوبِ خدا کے امتی ہیں۔ وہ آسمانی کتاب کے وارث ہیں۔ کلمہ توحید کی برکت سے وہ ضرور بخش ديے جائیں گے۔
مگر اصل چیز یہ ہے کہ آدمی خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے، وہ نماز کو قائم کرے۔ اور کتاب الٰہی کو پکڑنے اور نماز کو قائم کرنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی ’’مصلح‘‘ بن گیا ہو۔ خدا کی کتاب سے تعلق اور خدا کی عبادت کرنا آدمی کو مصلح بناتا ہے، نہ کہ مفسد۔
جو آدمی اپنے آپ کو اس حال میں پاتا ہے کہ اس کے پاس مال بھی ہے اور ساتھیوں کی فوج بھی، اس کے اندر جھوٹا اعتماد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ موجودہ دنیا میں جس طرح میرے احوال درست ہیں اسی طرح وہ آخرت میں بھی درست رہیں گے۔ مگر…
…ان کی لکڑی لکڑی۔
یہ خود اپنے منتخب كيے ہوئے میدان میں فرعون کی شکست تھی۔ مگر اب بھی فرعون نے شکست نہ مانی۔ اب اس نے حضرت موسیٰ کی تردید کے ليے کچھ اور الفاظ تلاش کرليے جس طرح اس کو پہلے مرحلہ میں آپ کی تردید کے لیے کچھ الفاظ مل گئے تھے۔
فرعون کا ماہر جادو گروں کو بلانا اس لیے نہ تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ جادو گروںکے ذریعہ وہ حضرت موسیٰ کو زیرکرلے گا۔ یہ کسی عقلی فیصلہ سے زیادہ فرعون کی اس بڑھی ہوئی خواہش کا نتیجہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کو نہ مانے۔ خدا کے پیغمبر کو جادوگروں کے ذریعہ غلط ثابت کرنے کا منصوبہ ایک ایسامنصوبہ تھا جس کا ناکام ہونا پہلے سے معلوم تھا۔ مگر آدمی جب کسی حقیقت کو نہ ماننا چاہے تو اس کی یہ خواہش اس کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ احمقانہ تدبیروں سے اس کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کرتاہے ۔ وہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کا بند باندھتا ہے حالاں کہ وہ خود جان رہا ہوتا ہے کہ سیلاب کے مقابلہ میں تنکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔
چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ جادو گروں نے میدان میں رسّیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی صورت میں دکھائی دیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگا۔ حضرت موسیٰ کا یہ ’’سانپ‘‘ محض سانپ نہ تھا، وہ دراصل خدا کی ایک طاقت تھی جو اس ليے ظاہر ہوئی تھی کہ حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کردے۔ چنانچہ اس کے سامنے آتے ہی جادو گروں کی رسّی، رسّی رہ گئی اور ان کی لکڑی لکڑی۔
یہ خود اپنے منتخب كيے ہوئے میدان میں فرعون کی شکست تھی۔ مگر اب بھی فرعون نے شکست نہ مانی۔ اب اس نے حضرت موسیٰ کی تردید کے ليے کچھ اور الفاظ تلاش کرليے جس طرح اس کو پہلے مرحلہ میں آپ کی تردید کے لیے کچھ الفاظ مل گئے تھے۔
نئے فکر کو قبول کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے معاشرہ میں نئے نئے مسائل سے دوچار ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ عمر کے لوگ اکثر کسی نئے فکر کو قبول کرنے میں محتاط ہوتے ہیں۔ مختلف وجوہ سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مصلحت کا غلبہ…
…حق کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کو چاہیے کہ وہ انسانی مخالفتوں کے مقابلہ میں خدائی نصرتوں پر نظر رکھے، وہ خدا کے بھروسہ پر اس حق کا ساتھ دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو جس کا ساتھ دینے کے لیے ذاتی طور پر وہ اپنے آپ کو عاجز پارہا تھا۔
نئے فکر کو قبول کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے معاشرہ میں نئے نئے مسائل سے دوچار ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ عمر کے لوگ اکثر کسی نئے فکر کو قبول کرنے میں محتاط ہوتے ہیں۔ مختلف وجوہ سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مصلحت کا غلبہ ہوجاتاہے۔ وہ نئے فکر کی صحت کو ماننے کے باوجود آگے بڑھ کر اس کا ساتھ نہیںدے پاتے۔
مگر نوجوان طبقہ عام طورپر اس قسم کی مصلحتوں سے خالی ہوتاہے۔ چنانچہ ہمیشہ تاریخ میں ایسا ہوا کہ کسی نئی اور انقلابی دعوت کو قبول کرنے میں وہی لوگ زیادہ آگے بڑھے جو ابھی زیادہ عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ یہی صورتِ حال حضرت موسیٰ کے ساتھ پیش آئی۔
حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے والے نوجوان کو ایک طرف فرعون کا خطرہ تھا۔ دوسری طرف خود اپنی قوم کے بڑوں کی طرف سے ان کو حوصلہ افزائی نہیں ملی۔ یہ بڑے اگر چہ حضرت موسیٰ کی نبوت کو مانتے تھے مگر اپنی مصلحت اندیشی کی بناپروہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے بیٹیاں پُرجوش طورپر حضرت موسی کا ساتھ دیں اور اس کے نتیجہ میں وہ فرعون کے ظلم کا شکار بنیں۔
مگر اس قسم کی صورتِ حال کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ آدمی مخالفین حق کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کو چاہیے کہ وہ انسانی مخالفتوں کے مقابلہ میں خدائی نصرتوں پر نظر رکھے، وہ خدا کے بھروسہ پر اس حق کا ساتھ دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو جس کا ساتھ دینے کے لیے ذاتی طور پر وہ اپنے آپ کو عاجز پارہا تھا۔
نئے فکر کو قبول کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے معاشرہ میں نئے نئے مسائل سے دوچار ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ عمر کے لوگ اکثر کسی نئے فکر کو قبول کرنے میں محتاط ہوتے ہیں۔ مختلف وجوہ سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مصلحت کا غلبہ…
…حق کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کو چاہیے کہ وہ انسانی مخالفتوں کے مقابلہ میں خدائی نصرتوں پر نظر رکھے، وہ خدا کے بھروسہ پر اس حق کا ساتھ دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو جس کا ساتھ دینے کے لیے ذاتی طور پر وہ اپنے آپ کو عاجز پارہا تھا۔
نئے فکر کو قبول کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے معاشرہ میں نئے نئے مسائل سے دوچار ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ عمر کے لوگ اکثر کسی نئے فکر کو قبول کرنے میں محتاط ہوتے ہیں۔ مختلف وجوہ سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مصلحت کا غلبہ ہوجاتاہے۔ وہ نئے فکر کی صحت کو ماننے کے باوجود آگے بڑھ کر اس کا ساتھ نہیںدے پاتے۔
مگر نوجوان طبقہ عام طورپر اس قسم کی مصلحتوں سے خالی ہوتاہے۔ چنانچہ ہمیشہ تاریخ میں ایسا ہوا کہ کسی نئی اور انقلابی دعوت کو قبول کرنے میں وہی لوگ زیادہ آگے بڑھے جو ابھی زیادہ عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ یہی صورتِ حال حضرت موسیٰ کے ساتھ پیش آئی۔
حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے والے نوجوان کو ایک طرف فرعون کا خطرہ تھا۔ دوسری طرف خود اپنی قوم کے بڑوں کی طرف سے ان کو حوصلہ افزائی نہیں ملی۔ یہ بڑے اگر چہ حضرت موسیٰ کی نبوت کو مانتے تھے مگر اپنی مصلحت اندیشی کی بناپروہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے بیٹیاں پُرجوش طورپر حضرت موسی کا ساتھ دیں اور اس کے نتیجہ میں وہ فرعون کے ظلم کا شکار بنیں۔
مگر اس قسم کی صورتِ حال کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ آدمی مخالفین حق کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کو چاہیے کہ وہ انسانی مخالفتوں کے مقابلہ میں خدائی نصرتوں پر نظر رکھے، وہ خدا کے بھروسہ پر اس حق کا ساتھ دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو جس کا ساتھ دینے کے لیے ذاتی طور پر وہ اپنے آپ کو عاجز پارہا تھا۔
قبلہ کے معنی عربی میں مرجع یا مرکز توجہ کے ہیں۔ یہاں گھروں کو قبلہ بنانے سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی بستیوں میں کچھ گھروں یا ان گھروں کے بعض مناسب حصوں کو اس مقصد کے لیے مخصوص کردیا جائے کہ وہ حضرت موسیٰ کی دینی جدوجہد کے لیے بطور مرکز…
…رب سے ملنے کا دوسرا کوئی مقام نہیں۔
یہ جو پروگرام بتایاگیا اسی کی تکمیل میںان کے لیے فلاح اور نجات کا راز چھپا ہوا تھا۔ یہ حکم گویا اس بات کی خوش خبری تھی کہ خدا ان کو اس حالت سے نکالنے والا ہے جس میں ان کے دشمنوںنے ان کو مبتلا کردیا ہے۔
جو لوگ آخرت کی فکر کرتے ہیں وہ عام طور پر دنیوی ساز وسامان جمع کرنے میں ان لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو آخرت سے بے فکر ہو کر دنیا حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔دنیوی کمی آخرت کی طرف دھیان لگانے کی قیمت ہے، اور دنیوی زیادتی آخرت سے غافل ہونے کی قیمت۔
مزید یہ کہ جس کے پاس دنیا کی رونق اور سامان زیادہ جمع ہوجائیں وہ بڑائی کے احساس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ایسے لوگ اپنے اندر یہ صلاحیت کھودیتے ہیں کہ کسی دوسرے کی زبان سے جاری ہونے والے حق کو پہچانیں اور اس کے آگے جھک جائیں۔ اپنے وسائل کو اگر وہ خدا کا عطیہ سمجھتے تو اس کو حق کی تائید میں استعمال کرتے، مگر وہ اس کو اپنا ذاتی کمال سمجھتے ہیں اس ليے وہ اس کو صرف اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ حق کو دبائیں اور اس طرح ماحول کے اندر اپنی برتری قائم رکھیں۔
’’تاکہ وہ تیری راہ سے بھٹکائیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے ديے ہوئے مال واسباب کو صرف اس لیے استعمال کیا کہ اس کے ذریعے سے خدا کے بندوں کو خدا سے دور کریں، انھوں نے اس کو حق کی خدمت میں لگانے کے بجائے باطل کی خدمت میں لگایا، یہاں شدت بیان کی خاطر کلام کا اسلوب بدل گیا ہے۔
حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے سچے دین کی دعوت پیش کی اور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں اور خدا کی نصرتوں کے ذریعہ اس کو اتمام حجت کی حد تک واضح کردیا، اس کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیوں نے آنجناب کے پیغام کو نہیں مانا۔ اس وقت حضرت موسیٰ نے دعا کی کہ خدایا ان کے اوپر وہ سزا نازل فرما جو تیرے قانون کے تحت ایسے سرکشوں کے لیے مقدر ہے۔ ایسے موقع پر پیغمبر کی بد دعا خود خدا کے فیصلہ کا اعلان ہوتاہے جو نمائندہ خدا کی زبان سے جاری کیا جاتاہے۔
حضرت موسیٰ کی دعا قبول ہوگئی۔ تاہم جیسا کہ بعض روایات میں آتاہے، حضرت موسیٰ کی دعا اور فرعون کی تباہی کے درمیان 40 سال کا فاصلہ ہے(تفسير النسفی، جلد2، صفحہ
38
) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد بھی لمبی مدت تک یہ صورت حال باقی رہی کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے۔ اور دوسری طرف فرعون اور اس کے ساتھیوں کی شان وشوکت بدستور ملک میں قائم تھی۔ ایسی حالت میں آدمی اگر خدا کی اس سنت سے بے خبر ہو کہ وہ سرکشوں کو مہلت دیتاہے تو وہ جلد بازی میں اصل کام چھوڑ دے گااور مایوسی اور بددلی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔
جو لوگ آخرت کی فکر کرتے ہیں وہ عام طور پر دنیوی ساز وسامان جمع کرنے میں ان لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو آخرت سے بے فکر ہو کر دنیا حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔دنیوی کمی آخرت کی طرف دھیان لگانے کی قیمت ہے، اور دنیوی زیادتی آخرت سے غافل…
…مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اورہر ایک سے وہ چھن جائےگا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کررکھا تھا۔
موجودہ دنیا میں آدمی کو کبھی راحت دی جاتی ہے اور کبھی مصیبت۔ مگر یہاں نہ راحت انعام کے طورپر ہے اور نہ مصیبت سزا کے طورپر۔ دونوں ہی کا مقصد جانچ ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کے ساتھ جو کچھ پیش آتاہے وہ صرف اس لیے ہوتاہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات میں آدمی نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔
وہ آدمی ناکام ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کو خدا کی طرف سے کوئی راحت پہنچے تو وہ فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔ اور جو افراد اس کو اپنے سے کم دکھائی دیں ان کے مقابلہ میں وہ اکڑنے لگے۔ اسی طرح وہ شخص بھی ناکام ہے کہ جب اس سے کوئی چیز چھنے اور وہ مصیبت کا شکار ہو تو وہ ناشکری کرنے لگے۔ کسی محرومی کے بعد بھی آدمی کے پاس خدا کی دی ہوئی بہت سی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ مگر آدمی ان کو بھول جاتا ہے اور کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ایسا پست ہمت ہوتا ہے گویا اس کا سب کچھ لٹ گیا ہے۔
اس کے برعکس، ایمان میں پورا اترنے والے وہ ہیں جو صابر اور صالح العمل ہوں۔ یعنی ہر جھٹکے کے باوجود اپنے آپ کو اعتدال پر باقی رکھیں اور وہی کریں جو خدا کا بندہ ہونے کی حیثیت سے انھیں کرنا چاہیے۔
صبر یہ ہے کہ آدمی کی نفسیات حالات کے زیر اثر نہ بنے بلکہ اصول اور نظریہ کے تحت بنے۔ حالات خواہ کچھ ہوں وہ ان سے بلند ہو کر خالص حق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے۔ وہ حالات سے غیر متاثر رہ کر اپنے عقیدہ اور شعور کی سطح پر زندہ رہنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسی قسم کی زندگی نیک عملی کی زندگی ہے۔ جو لوگ اس نیک عملی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو اگلی زندگی میں خدا کی رحمتوں کے حصہ دار ہوں گے اورخدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔
’’موسی کی کتاب میں اختلاف‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخاطبین اس کے بیانات کے بارے میں کئی رائے ہوگئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے جھٹلایا اور کچھ لوگوں نے تسلیم کیا (فَاخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ الْكِتَابِ قَوْمُ مُوسَى فَكَذَّبَ بِهِ بَعْضُهُمْ،…
…دنیا کو عمل کی جگہ بنایا ہے اور اگلی آنے والی دنیا کو بدلہ پانے کی جگہ۔ خدا کی یہی سنت ہے جس کی بنا پر لوگوں کو مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ موجودہ صورتِ حال اسی مہلت امتحان کی بنا پر ہے، نہ کہ خدا کے عجز یا لوگوں کے کسی استحقاق کی بنا پر۔
’’موسی کی کتاب میں اختلاف‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخاطبین اس کے بیانات کے بارے میں کئی رائے ہوگئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے جھٹلایا اور کچھ لوگوں نے تسلیم کیا (فَاخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ الْكِتَابِ قَوْمُ مُوسَى فَكَذَّبَ بِهِ بَعْضُهُمْ، وَصَدَّقَ بِهِ بَعْضُهُمْ) تفسیر الطبری، جلد
12
، صفحہ
592
۔
جب بھی کوئی بات کہی جائے تو آدمی اس کے بارے میں ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتاہے۔ ایک، صحیح تعبیر۔ دوسري، غلط تعبیر۔ اگر سننے والے فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ ہمیشہ ایک ہی صحیح تعبیر تک پہنچیں گے۔ ان کی سنجیدگی ان کے لیے اتحاد رائے کی ضامن بن جائے گی۔ اس کے برعکس، اگر وہ بات کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو وہ اس کو کوئی اہمیت نہ دیں گے اور اپنے خیال کے مطابق اس کی مختلف تعبیریں کریں گے۔ کوئی ایک بات کہے گا، کوئی دوسری بات۔ اس طرح ان کی غیر سنجیدگی انھیں اختلاف رائے تک پہنچا دے گی۔
یہ صورت تمام پیغمبروں کے ساتھ پیش آئی۔ اس کے باوجود خدا اس کو گوارا کرتا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو عمل کی جگہ بنایا ہے اور اگلی آنے والی دنیا کو بدلہ پانے کی جگہ۔ خدا کی یہی سنت ہے جس کی بنا پر لوگوں کو مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ موجودہ صورتِ حال اسی مہلت امتحان کی بنا پر ہے، نہ کہ خدا کے عجز یا لوگوں کے کسی استحقاق کی بنا پر۔
دعوتِ حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لیے بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے درمیان دوقسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ…
…تحت دھوم مچاتے تھے اور اس کو خدا اور رسول کے ساتھ جوڑتے تھے۔ مگر یہ ساری تعمیرات دنیاکی زمین میں تھیں، وہ آخرت کی زمین میں نہ تھیں، اس لیے قیامت کا زلزلہ انھیں بالکل برباد کردے گا۔ اگلی دنیا میں ان کا کوئی انجام ان کے حصہ میں نہ آئے گا۔
پیغمبر اسلام نے عرب میں توحید کی دعوت پیش کی تو کچھ لوگوں نے اس کو مانا اور زیادہ لوگ اس کے منکر ہوگئے۔ یہی ہر زمانہ میں دعوت حق کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔
خدا نے ہر آدمی کو فطرتِ صحیح پر پیدا کیا ہے۔ گردو پیش کی دنیا میں ہر طرف ایسی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو اپنے خالق کا اعلان کرتی ہیں اور اسی کے ساتھ اس کے تخلیقی منصوبہ کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔ پھر انسانیت کے بالکل ابتدائی زمانہ سے خدا کے رسول آتے رہے اور خدا کی باتیں لوگوں کو بتاتے رہے۔ انھیں میں سے ایک پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جن کی لائی ہوئی کتاب اب تک کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اب جو شخص سنجیدہ ہو اور چیزوں سے سبق لینا جانتا ہو تو وہ حقیقت سے اتنا مانوس ہوگا کہ داعی جب اس کے سامنے حقیقت کا اعلان کرے گا تو فوراً وہ اس کو پہچان لے گا۔ اس کا دل اور اس کا دماغ حق کے حق ہونے پر گواہی دیں گے۔وہ آگے بڑھ کراس کو اس طرح اختیار کرلے گا جیسے وہ اس کے اپنے دل کی آواز ہو۔
مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ چیزوں کو بہت زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں دیکھتے۔ وہ سطحی تماشوں اور وقتی دلچسپیوں میںپڑ کر اپنا مزاج بگاڑ لیتے ہیں۔ غیر متعلق چیزوں کی مصروفیت انھیں اس کا موقع نہیں دیتی کہ وہ داعی اور اس کی دعوت پر ٹھہر کر سوچیں۔ چنانچہ ان کے سامنے جب حق کی دعوت آتی ہے تو وہ اس کو پہچان نہیں پاتے۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کے منکر بلکہ مخالف بن جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا کی اور خدا کے تخلیقی منصوبہ کی ناقدری کی۔ ان کے لیے آخرت میں جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں۔
انسانی فطرت، زمین وآسمان کے واقعات اور پچھلی آسمانی کتابیں قرآن کے حق ہونے کی گواہی دے رہی ہیں۔ اس کے بعد اگر لوگوں کی اکثریت اس کا انکار کرتی ہے تو اس کی وجہ منکرین کے اندر تلاش کی جائے گی، نہ یہ کہ خود قرآن کے کتاب حق ہونے پر شک کیا جائے۔
’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان…
…شاگرد کے ساتھ تھی اور شاگرد کسی وجہ سے حضرت موسیٰ کو بتا نہ سکا کہ ایسا واقعہ ہواہے۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد جب موسیٰکو معلوم ہوا تو وہ فوراً واپس ہوئے اور مذکورہ مقام پر اس بندہ (خضر) کو پالیا جس سے ملنے کے لیے انھوں نے یہ لمبا سفر کیا تھا۔
حضرت موسیٰکو مزید علامت یہ بتائی گئی تھی کہ تم جب مطلوبہ مقام پر پہنچوگے تو تمھارے ناشتہ کی مچھلی عجیب طریقہ سے پانی میں چلی جائے گی۔ یہ واقعہ ایک مقام پر ہوا۔ مگر مچھلی شاگرد کے ساتھ تھی اور شاگرد کسی وجہ سے حضرت موسیٰ کو بتا نہ سکا کہ ایسا واقعہ ہواہے۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد جب موسیٰکو معلوم ہوا تو وہ فوراً واپس ہوئے اور مذکورہ مقام پر اس بندہ (خضر) کو پالیا جس سے ملنے کے لیے انھوں نے یہ لمبا سفر کیا تھا۔
اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت…
…کی طرف لے جار ہی ہے جس کی رونقیں بظاہر دکھائی نہیں دیتیں۔
مگر زمین کی دل فریبیاں انتہائی عارضی ہیں۔ وہ امتحان کی ایک مقرر مدت تک ہیں۔ اس کے بعد زمین کی یہ حیثیت ختم کردی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ صحراکی طرح بس ایک خشک میدان ہو کر رہ جائے گی۔
اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت نہیں لاسکتے۔
اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔
اس میں اس…
…داعی کے دل میں اس کے لیے نرم گوشہ موجود رہتاہے۔ اسی طرح داعی اگر اپنے ماحول میں بے یارومددگار ہوجائے تب بھی وہ مایوس نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا اصل سہارا خدا ہوتاہے۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بدستور اس کے ساتھ موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔
آدمی اپنے خاندان اور اپنے گروہ کے ساتھ جیتاہے۔ ایسی حالت میں کسی شخص کو اس کے خاندان اور اس کے گروہ سے نکال دینا گویا اس کو بربادی کے صحرا میں دھکیل دیناہے۔ مگر حضرت ابراہیم کے واقعہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے دکھادیا کہ جو بندہ خالص اللہ کے لیے بے گھر کیاجائے اس کو اللہ اپنی طرف سے زیادہ اچھا گھر عطا کردیتاہے۔ جو شخص خالص اللہ کے لیے گم نامی میں ڈال دیا جائے اس کو اللہ زیادہ بڑے پیمانہ پر نیک نام بنا دیتاہے۔
یہ اس بندہ کی زبان سے نکلی ہوئی دعا ہے جو دین کا مشن چلاتے ہوئے بالکل بوڑھا ہوگیا تھا۔ اور اہل خاندان میں کوئی شخص اس کو نظر نہیں آتا تھا جو اس کے بعد اس کے مشن کو جاری رکھے۔ ایک طرف اپنا عجزاور دوسری طرف مشن کی اہمیت۔ یہ دونوں احساسات اس…
…ساتھ بھی درجہ بدرجہ اسی قسم کا معاملہ فرماتا ہے۔ وہ ان کے حسب استعداد انھیں اپنے کسی کام کو کرنے کی توفیق دیتاہے۔ وہ ان پر خاموشی سے اپنی بات القاء کرتا ہے۔ وہ ان کے لیے ایسی خصوصی تائید کا انتظام کرتاہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
حضرت موسیٰ مدین سے چل کر مصر جارہے تھے۔ اس سفر میں وہ کوہ طور سے گزرے۔ وہاں خدا نے انھیں پیغمبری عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلے ہر دور میں اپنے پیغمبر منتخب کيے اور ان کے پاس اپنا کلام بھیجا۔ یہ کلام ہمیشہ جبریل فرشتہ کے ذریعہ آیا۔ مگر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ اللہ نے ان سے براہِ راست کلام کیا۔ نیز یہ بھی حضرت موسیٰ کی خصوصیت ہے کہ آپ کے لیے خدا نے ایک مزید پیغمبر (حضرت ہارون ) مقرر فرمایا جو آپ کا مدد گار ہو۔ اس خصوصیت کی وجہ شاید وہ مخصوص حالات ہوں جن میں آپ کو اپنا پیغمبرانہ فرض انجام دینا تھا۔ کیوں کہ آپ کے سامنے ایک طرف فرعون جیسا جابر بادشاہ تھا اور دوسری طرف یہود جیسی قوم جو اپنے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔
رحمت و نصرت کے یہ معاملات اپنی انتہائی صورت میں صرف پیغمبروں کے لیے خاص ہیں۔ تاہم اللہ اپنے مومن بندوں کے ساتھ بھی درجہ بدرجہ اسی قسم کا معاملہ فرماتا ہے۔ وہ ان کے حسب استعداد انھیں اپنے کسی کام کو کرنے کی توفیق دیتاہے۔ وہ ان پر خاموشی سے اپنی بات القاء کرتا ہے۔ وہ ان کے لیے ایسی خصوصی تائید کا انتظام کرتاہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
حضرت موسیٰ مدین سے چل کر مصر جارہے تھے۔ اس سفر میں وہ کوہ طور سے گزرے۔ وہاں خدا نے انھیں پیغمبری عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلے ہر دور میں اپنے پیغمبر منتخب کيے اور ان کے پاس اپنا کلام بھیجا۔ یہ کلام ہمیشہ جبریل فرشتہ کے ذریعہ آیا۔ مگر…
قرآن اگرچہ صرف ایک یاد دہانی ہے۔ مگر وہ مدعوکے لیے قابل حجت یاد دہانی اس وقت بنتاہے جب کہ اس کی دعوت دینے والا اپنے آپ کو اس کی راہ میں کھپا دے۔ دوسروں کی خیر خواہی میں وہ اپنے آپ کو اس حد تک نظر انداز کردے کہ یہ کہا جائے کہ اس نے تو لوگوں کو حق کی راہ پر لانے کی خاطر اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دیا۔
تاہم دعوت کو خواہ کتنا ہی کامل اور معیار ی انداز میں پیش کردیا جائے، عملاً اس سے ہدایت صرف اس بندۂ خدا کو ملتی ہے جو حق شناس ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ دلیل کی سطح پر بات کا واضح ہونا ہی اس کی آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہوجائے۔
جس ہستی نے عالم کی تخلیق کی ہے اسی نے قرآن کو بھی نازل کیا ہے۔ اس لیے قرآن اور فطرت میں کوئی تضاد نہیں۔ قرآن ایک ایسی حقیقت کی یاددہانی ہے جس کو پہچاننے کی صلاحیت فطرت انسانی کے اندر پہلے سے موجود ہے۔
حضرت موسیٰ مصر میں پیدا ہوئے۔ وہاں ایک موقع پر ایک قبطی ان کے ہاتھ سے ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد وہ مصر سے نکل کر مدین چلے گئے۔ وہاں وہ کئی سال تک رہے۔ وہیں ایک خاتون سے نکاح کیا اور پھر اپنی اہلیہ کو لے کر واپس مصر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس وقت…
…کو دیکھ کر اسے پہچانیں مگر ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے سامنے خدا کی نشانیاں آئیں اور انھوں نے ان کو نہیں پہچانا۔ اس طرح انھوں نے ثابت کیا کہ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ پھر خدا فرمائے گا کہ ایسے اندھوں کو آنکھ دینے کی کیا ضرورت۔
کسی قوم کو زمین پرعروج حاصل ہو اور پھر وہ ہلاک یا مغلوب کر دی جائے تو اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے بندگی کی حد سے تجاوز کیا۔ ہر تباہ شدہ قوم اپنے بعد والوں کے لیے درس عبرت ہوتی ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس طرح کے واقعات سے درس حاصل کرتے ہوں۔
یہاں تسبیح اور نماز کی جو تلقین کی گئی ہے وہ مکی دور کے انتہائی سخت حالات میں کی گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ انکار اور مخالفت کے سخت ترین حالات میں نماز اور خدا کی یاد مومن کی ڈھال ہے۔ اس سے راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ اور فتوحات کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس سے سب کچھ اتنی بڑی مقدار میں مل جاتا ہے کہ آدمی اس کو پاکر راضی ہوجائے۔
کسی قوم کو زمین پرعروج حاصل ہو اور پھر وہ ہلاک یا مغلوب کر دی جائے تو اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے بندگی کی حد سے تجاوز کیا۔ ہر تباہ شدہ قوم اپنے بعد والوں کے لیے درس عبرت ہوتی ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس طرح کے واقعات سے درس حاصل…
…حالت میں مومن کو اپنے بارے میں سخت چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ وہ خدا سے غافل اور آخرت فراموش لوگوں کو دیکھ کر ان سے متاثر ہوجائے۔ یا ان کی خوب صورت باتوں کے فریب میں آکر آخرت پسندانہ زندگی کو کھو بیٹھے۔
حضرت موسیٰ کو جو آگ نظر آئی وہ عام قسم کی آگ نہ تھی بلکہ خدا کی تجلی تھی۔چنانچہ جب وہ وہاں پہنچے تو انھیں احساس دلایا گیا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ ان کو تواضع کے ساتھ پوری طرح متوجہ ہونے کے لیے جوتا اتارنے کا حکم ہوا۔ پھر آواز آئی کہ اس وقت تم خدا سے ہم کلام ہو اور خدا نے تم کو اپنی پیغمبری کے لیے چنا ہے۔
اس وقت حضرت موسیٰ کو جو تعلیم دی گئی وہ وہی تھی جو تمام پیغمبروں کو ہمیشہ تعلیم کی گئی ہے۔ یعنی ایک خدا کو معبود بنانا۔ اسی کی عبادت کرنا۔ اسی کو ہر موقع پر یاد رکھنا۔ پھر حضرت موسیٰ کو زندگی کی اس حقیقت کی خبر دی گئی کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ ایک خاص مدت تک کے لیے خدا نے حقیقتوں کو غیب میں چھپا دیا ہے۔ قیامت میں یہ پردہ پھٹ جائے گا۔ اس کے بعد انسانی زندگی کا اگلا دور شروع ہوگا جس میں ہر آدمی اس عمل کے مطابق مقام پائے گا جو اس نے موجودہ دنیا میں کیا تھا۔
جب ایک آدمی پر خواہشوں کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ آخرت سے بے پروا ہو کر دنیا کے راستوں میںچل پڑتا ہے تو وہ اپنے اس فعل کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے نظریات وضع کرتا ہے۔ وہ اپنی روش کو خوب صورت الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ اس کو سن کر دوسرے لوگ بھی آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ ایسی حالت میں مومن کو اپنے بارے میں سخت چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ وہ خدا سے غافل اور آخرت فراموش لوگوں کو دیکھ کر ان سے متاثر ہوجائے۔ یا ان کی خوب صورت باتوں کے فریب میں آکر آخرت پسندانہ زندگی کو کھو بیٹھے۔
حضرت موسیٰ کو جو آگ نظر آئی وہ عام قسم کی آگ نہ تھی بلکہ خدا کی تجلی تھی۔چنانچہ جب وہ وہاں پہنچے تو انھیں احساس دلایا گیا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ ان کو تواضع کے ساتھ پوری طرح متوجہ ہونے کے لیے جوتا اتارنے کا حکم ہوا۔ پھر آواز آئی کہ اس…
…حالت میں مومن کو اپنے بارے میں سخت چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ وہ خدا سے غافل اور آخرت فراموش لوگوں کو دیکھ کر ان سے متاثر ہوجائے۔ یا ان کی خوب صورت باتوں کے فریب میں آکر آخرت پسندانہ زندگی کو کھو بیٹھے۔
’’تمھارے ہاتھ میں کیا ہے‘‘— یہ سوال حضرت موسیٰ کے شعور کو زندہ کرنے کے لیے تھا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ لاٹھی کا لاٹھی ہونا حضرت موسیٰ کے ذہن میں تازہ ہوجائے۔ تاکہ اگلے لمحہ جب وہ خدا کی قدرت سے سانپ بن جائے تو وہ پوری طرح اس کی قدروقیمت کا احساس کرسکیں۔
حضرت موسیٰ کی لکڑی کا سانپ بن جانا ویسا ہی ایک انوکھا واقعہ تھا جیسا مٹی اور پانی کا لکڑی بن جانا۔ وہ سب کچھ جو ہم زمین پر دیکھ رہے ہیں وہ سب ایک چیز سے دوسری چیز میں تبدیل ہوجانے کا ہی دوسرا نام ہے— گیس کا پانی میں تبدیل ہونا، مٹی کا درخت میں تبدیل ہونا، وغیرہ۔ عام حالات میں تبدیلی کا یہ عمل تدریجی طورپر ہوتا ہے۔ اس لیے انسان اس کو محسوس نہیں کر پاتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لکڑی نے دفعۃً سانپ کی صورت اختیار کرلی اس لیے وہ عجیب معلوم ہونے لگی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہے یا ہورہا ہے وہ سب کا سب خدا کا معجزہ ہے۔ خواہ وہ زمین سے لکڑی کا نکلنا ہو یا لکڑی کا سانپ بن جانا۔ پیغمبروں کے ذریعہ ’’غیر معمولی‘‘ معجزہ صرف اس لیے دکھایا جاتا ہے تاکہ آدمی ’’معمولی‘‘ معجزات کو دیکھنے کے قابل ہوجائے۔
’’تمھارے ہاتھ میں کیا ہے‘‘— یہ سوال حضرت موسیٰ کے شعور کو زندہ کرنے کے لیے تھا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ لاٹھی کا لاٹھی ہونا حضرت موسیٰ کے ذہن میں تازہ ہوجائے۔ تاکہ اگلے لمحہ جب وہ خدا کی قدرت سے سانپ بن جائے تو وہ پوری طرح اس کی قدروقیمت کا…
…دنیا میں جو کچھ ہے یا ہورہا ہے وہ سب کا سب خدا کا معجزہ ہے۔ خواہ وہ زمین سے لکڑی کا نکلنا ہو یا لکڑی کا سانپ بن جانا۔ پیغمبروں کے ذریعہ ’’غیر معمولی‘‘ معجزہ صرف اس لیے دکھایا جاتا ہے تاکہ آدمی ’’معمولی‘‘ معجزات کو دیکھنے کے قابل ہوجائے۔
قرآن اگرچہ صرف ایک یاد دہانی ہے۔ مگر وہ مدعوکے لیے قابل حجت یاد دہانی اس وقت بنتاہے جب کہ اس کی دعوت دینے والا اپنے آپ کو اس کی راہ میں کھپا دے۔ دوسروں کی خیر خواہی میں وہ اپنے آپ کو اس حد تک نظر انداز کردے کہ یہ کہا جائے کہ اس نے تو لوگوں کو حق کی راہ پر لانے کی خاطر اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دیا۔
تاہم دعوت کو خواہ کتنا ہی کامل اور معیار ی انداز میں پیش کردیا جائے، عملاً اس سے ہدایت صرف اس بندۂ خدا کو ملتی ہے جو حق شناس ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ دلیل کی سطح پر بات کا واضح ہونا ہی اس کی آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہوجائے۔
جس ہستی نے عالم کی تخلیق کی ہے اسی نے قرآن کو بھی نازل کیا ہے۔ اس لیے قرآن اور فطرت میں کوئی تضاد نہیں۔ قرآن ایک ایسی حقیقت کی یاددہانی ہے جس کو پہچاننے کی صلاحیت فطرت انسانی کے اندر پہلے سے موجود ہے۔
’’تمھارے ہاتھ میں کیا ہے‘‘— یہ سوال حضرت موسیٰ کے شعور کو زندہ کرنے کے لیے تھا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ لاٹھی کا لاٹھی ہونا حضرت موسیٰ کے ذہن میں تازہ ہوجائے۔ تاکہ اگلے لمحہ جب وہ خدا کی قدرت سے سانپ بن جائے تو وہ پوری طرح اس کی قدروقیمت کا…
…ہے۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو حق کی یافت کے بعد بالکل قدرتی طورپر پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا وجود اللہ کے صفاتِ کمال کا اس طرح تجربہ کرتاہے کہ وہ اس میں نہا اٹھتا ہے۔ وہ خدائی احساس سے اس طرح سرشار ہوتاہے کہ وہ اس کا مبلغ بن جاتا ہے۔
پیغمبری ملنے کے بعد ایک صورت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے اندراحساس فخر پیداہو۔ مگراس وقت انھوںنے جو کچھ اللہ سے مانگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوںنے پیغمبری کو فخر کی چیزنہیں سمجھا بلکہ ذمہ داری کی چیز سمجھا۔ اس وقت انھوںنے جو الفاظ کہے وہ سب وہ ہیں جو دعوت کی نازک ذمہ داری کا احساس کرنے والے کی زبان سے نکلتے ہیں۔
داعی کے لیے سینہ کا کھلنا یہ ہے کہ حسب موقع اس کے اندر مؤثر مضامین کاورود ہو۔ معاملہ کا آسان ہونا یہ ہے کہ مخالفین کبھی دعوت کی راہ بند کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ زبان کی گرہ کھلنا یہ ہے کہ بڑے سے بڑے مجمع ميں بلاجھجھک دعوت پیش کرنے کا ملکہ پیدا ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو پیغمبرانہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے یہ سب کچھ دیا۔ اسی کے ساتھ ان کی درخواست کے مطابق ان کے بھائی کو ان کے لیے ایک طاقت ور معاون بنادیا۔
نصرت کا یہ خصوصی معاملہ جو پیغمبر کے ساتھ کیا گیا یہی غیر پیغمبر داعی کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ دعوت کے کام سے اپنے آپ کو اس طرح کامل طور پر وابستہ کرے جس طرح پیغمبر نے اپنے آپ کو کامل طور پر وابستہ کیا تھا۔
’’تسبیح اور ذکر‘‘ ہی دین کا اصل مقصود ہے۔ مگر تسبیح اور ذکر سے مراد زبان سے کچھ مخصوص الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو حق کی یافت کے بعد بالکل قدرتی طورپر پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا وجود اللہ کے صفاتِ کمال کا اس طرح تجربہ کرتاہے کہ وہ اس میں نہا اٹھتا ہے۔ وہ خدائی احساس سے اس طرح سرشار ہوتاہے کہ وہ اس کا مبلغ بن جاتا ہے۔
پیغمبری ملنے کے بعد ایک صورت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے اندراحساس فخر پیداہو۔ مگراس وقت انھوںنے جو کچھ اللہ سے مانگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوںنے پیغمبری کو فخر کی چیزنہیں سمجھا بلکہ ذمہ داری کی چیز سمجھا۔ اس وقت انھوںنے جو الفاظ کہے وہ سب…
…ہے۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو حق کی یافت کے بعد بالکل قدرتی طورپر پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا وجود اللہ کے صفاتِ کمال کا اس طرح تجربہ کرتاہے کہ وہ اس میں نہا اٹھتا ہے۔ وہ خدائی احساس سے اس طرح سرشار ہوتاہے کہ وہ اس کا مبلغ بن جاتا ہے۔
پیغمبری ملنے کے بعد ایک صورت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے اندراحساس فخر پیداہو۔ مگراس وقت انھوںنے جو کچھ اللہ سے مانگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوںنے پیغمبری کو فخر کی چیزنہیں سمجھا بلکہ ذمہ داری کی چیز سمجھا۔ اس وقت انھوںنے جو الفاظ کہے وہ سب وہ ہیں جو دعوت کی نازک ذمہ داری کا احساس کرنے والے کی زبان سے نکلتے ہیں۔
داعی کے لیے سینہ کا کھلنا یہ ہے کہ حسب موقع اس کے اندر مؤثر مضامین کاورود ہو۔ معاملہ کا آسان ہونا یہ ہے کہ مخالفین کبھی دعوت کی راہ بند کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ زبان کی گرہ کھلنا یہ ہے کہ بڑے سے بڑے مجمع ميں بلاجھجھک دعوت پیش کرنے کا ملکہ پیدا ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو پیغمبرانہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے یہ سب کچھ دیا۔ اسی کے ساتھ ان کی درخواست کے مطابق ان کے بھائی کو ان کے لیے ایک طاقت ور معاون بنادیا۔
نصرت کا یہ خصوصی معاملہ جو پیغمبر کے ساتھ کیا گیا یہی غیر پیغمبر داعی کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ دعوت کے کام سے اپنے آپ کو اس طرح کامل طور پر وابستہ کرے جس طرح پیغمبر نے اپنے آپ کو کامل طور پر وابستہ کیا تھا۔
’’تسبیح اور ذکر‘‘ ہی دین کا اصل مقصود ہے۔ مگر تسبیح اور ذکر سے مراد زبان سے کچھ مخصوص الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو حق کی یافت کے بعد بالکل قدرتی طورپر پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا وجود اللہ کے صفاتِ کمال کا اس طرح تجربہ کرتاہے کہ وہ اس میں نہا اٹھتا ہے۔ وہ خدائی احساس سے اس طرح سرشار ہوتاہے کہ وہ اس کا مبلغ بن جاتا ہے۔
پیغمبری ملنے کے بعد ایک صورت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے اندراحساس فخر پیداہو۔ مگراس وقت انھوںنے جو کچھ اللہ سے مانگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوںنے پیغمبری کو فخر کی چیزنہیں سمجھا بلکہ ذمہ داری کی چیز سمجھا۔ اس وقت انھوںنے جو الفاظ کہے وہ سب…
…ہے۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو حق کی یافت کے بعد بالکل قدرتی طورپر پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا وجود اللہ کے صفاتِ کمال کا اس طرح تجربہ کرتاہے کہ وہ اس میں نہا اٹھتا ہے۔ وہ خدائی احساس سے اس طرح سرشار ہوتاہے کہ وہ اس کا مبلغ بن جاتا ہے۔
قرآن اگرچہ صرف ایک یاد دہانی ہے۔ مگر وہ مدعوکے لیے قابل حجت یاد دہانی اس وقت بنتاہے جب کہ اس کی دعوت دینے والا اپنے آپ کو اس کی راہ میں کھپا دے۔ دوسروں کی خیر خواہی میں وہ اپنے آپ کو اس حد تک نظر انداز کردے کہ یہ کہا جائے کہ اس نے تو لوگوں کو حق کی راہ پر لانے کی خاطر اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دیا۔
تاہم دعوت کو خواہ کتنا ہی کامل اور معیار ی انداز میں پیش کردیا جائے، عملاً اس سے ہدایت صرف اس بندۂ خدا کو ملتی ہے جو حق شناس ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ دلیل کی سطح پر بات کا واضح ہونا ہی اس کی آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہوجائے۔
جس ہستی نے عالم کی تخلیق کی ہے اسی نے قرآن کو بھی نازل کیا ہے۔ اس لیے قرآن اور فطرت میں کوئی تضاد نہیں۔ قرآن ایک ایسی حقیقت کی یاددہانی ہے جس کو پہچاننے کی صلاحیت فطرت انسانی کے اندر پہلے سے موجود ہے۔
پیغمبری ملنے کے بعد ایک صورت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے اندراحساس فخر پیداہو۔ مگراس وقت انھوںنے جو کچھ اللہ سے مانگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوںنے پیغمبری کو فخر کی چیزنہیں سمجھا بلکہ ذمہ داری کی چیز سمجھا۔ اس وقت انھوںنے جو الفاظ کہے وہ سب…
…ہے۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو حق کی یافت کے بعد بالکل قدرتی طورپر پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا وجود اللہ کے صفاتِ کمال کا اس طرح تجربہ کرتاہے کہ وہ اس میں نہا اٹھتا ہے۔ وہ خدائی احساس سے اس طرح سرشار ہوتاہے کہ وہ اس کا مبلغ بن جاتا ہے۔
پیغمبری ملنے کے بعد ایک صورت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے اندراحساس فخر پیداہو۔ مگراس وقت انھوںنے جو کچھ اللہ سے مانگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوںنے پیغمبری کو فخر کی چیزنہیں سمجھا بلکہ ذمہ داری کی چیز سمجھا۔ اس وقت انھوںنے جو الفاظ کہے وہ سب وہ ہیں جو دعوت کی نازک ذمہ داری کا احساس کرنے والے کی زبان سے نکلتے ہیں۔
داعی کے لیے سینہ کا کھلنا یہ ہے کہ حسب موقع اس کے اندر مؤثر مضامین کاورود ہو۔ معاملہ کا آسان ہونا یہ ہے کہ مخالفین کبھی دعوت کی راہ بند کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ زبان کی گرہ کھلنا یہ ہے کہ بڑے سے بڑے مجمع ميں بلاجھجھک دعوت پیش کرنے کا ملکہ پیدا ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو پیغمبرانہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے یہ سب کچھ دیا۔ اسی کے ساتھ ان کی درخواست کے مطابق ان کے بھائی کو ان کے لیے ایک طاقت ور معاون بنادیا۔
نصرت کا یہ خصوصی معاملہ جو پیغمبر کے ساتھ کیا گیا یہی غیر پیغمبر داعی کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ دعوت کے کام سے اپنے آپ کو اس طرح کامل طور پر وابستہ کرے جس طرح پیغمبر نے اپنے آپ کو کامل طور پر وابستہ کیا تھا۔
’’تسبیح اور ذکر‘‘ ہی دین کا اصل مقصود ہے۔ مگر تسبیح اور ذکر سے مراد زبان سے کچھ مخصوص الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو حق کی یافت کے بعد بالکل قدرتی طورپر پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا وجود اللہ کے صفاتِ کمال کا اس طرح تجربہ کرتاہے کہ وہ اس میں نہا اٹھتا ہے۔ وہ خدائی احساس سے اس طرح سرشار ہوتاہے کہ وہ اس کا مبلغ بن جاتا ہے۔
پیغمبری ملنے کے بعد ایک صورت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے اندراحساس فخر پیداہو۔ مگراس وقت انھوںنے جو کچھ اللہ سے مانگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوںنے پیغمبری کو فخر کی چیزنہیں سمجھا بلکہ ذمہ داری کی چیز سمجھا۔ اس وقت انھوںنے جو الفاظ کہے وہ سب…
…ہے۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو حق کی یافت کے بعد بالکل قدرتی طورپر پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا وجود اللہ کے صفاتِ کمال کا اس طرح تجربہ کرتاہے کہ وہ اس میں نہا اٹھتا ہے۔ وہ خدائی احساس سے اس طرح سرشار ہوتاہے کہ وہ اس کا مبلغ بن جاتا ہے۔
پیغمبری ملنے کے بعد ایک صورت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کے اندراحساس فخر پیداہو۔ مگراس وقت انھوںنے جو کچھ اللہ سے مانگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوںنے پیغمبری کو فخر کی چیزنہیں سمجھا بلکہ ذمہ داری کی چیز سمجھا۔ اس وقت انھوںنے جو الفاظ کہے وہ سب وہ ہیں جو دعوت کی نازک ذمہ داری کا احساس کرنے والے کی زبان سے نکلتے ہیں۔
داعی کے لیے سینہ کا کھلنا یہ ہے کہ حسب موقع اس کے اندر مؤثر مضامین کاورود ہو۔ معاملہ کا آسان ہونا یہ ہے کہ مخالفین کبھی دعوت کی راہ بند کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ زبان کی گرہ کھلنا یہ ہے کہ بڑے سے بڑے مجمع ميں بلاجھجھک دعوت پیش کرنے کا ملکہ پیدا ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو پیغمبرانہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے یہ سب کچھ دیا۔ اسی کے ساتھ ان کی درخواست کے مطابق ان کے بھائی کو ان کے لیے ایک طاقت ور معاون بنادیا۔
نصرت کا یہ خصوصی معاملہ جو پیغمبر کے ساتھ کیا گیا یہی غیر پیغمبر داعی کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ دعوت کے کام سے اپنے آپ کو اس طرح کامل طور پر وابستہ کرے جس طرح پیغمبر نے اپنے آپ کو کامل طور پر وابستہ کیا تھا۔
’’تسبیح اور ذکر‘‘ ہی دین کا اصل مقصود ہے۔ مگر تسبیح اور ذکر سے مراد زبان سے کچھ مخصوص الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جو حق کی یافت کے بعد بالکل قدرتی طورپر پیدا ہوتی ہے۔ اس وقت انسان کا وجود اللہ کے صفاتِ کمال کا اس طرح تجربہ کرتاہے کہ وہ اس میں نہا اٹھتا ہے۔ وہ خدائی احساس سے اس طرح سرشار ہوتاہے کہ وہ اس کا مبلغ بن جاتا ہے۔
مصر کے اصل باشندے قبطی تھےجن کا سیاسی اور مذہبی نمائندہ فرعون تھا۔ وہاں کی دوسری قوم بنی اسرائیل تھی جو حضرت یوسف کے زمانے میں باہر سے آکر یہاں آباد ہوئی تھی۔ حضرت موسیٰ جس زمانہ میں بنی اسرائیل کے ایک گھر میں پیدا ہوئے۔ اس زمانہ میں…
…ہم بھی اپنے جادوگروں کے ذریعے ویسا ہی کرشمہ دکھا سکتے ہیں جیسا کرشمہ تم نے ہمیں دکھایا ہے۔ گفتگو کے بعد بالآخر یہ طے ہوا کہ آنے والے قومی میلے کے دن ملک کے جادو گروں کو جمع کیا جائے اور سب کے سامنے موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان مقابلہ ہو۔
حضرت موسیٰ کی دعوت فرعون کے اوپر لمبی مدت تک جاری رہی۔ اس دوران آپ نے اس کے سامنے عقلی دلائل بھی پیش کيے اور حسی معجزے بھی دکھائے۔ مگر وہ حضرت موسیٰ پر ایمان نہ لایا۔ حضرت موسیٰ کی سچائی کا اقرار فرعون کے لیے اپنی نفی کے ہم معنی ہوتا۔ اور فرعون کی متکبرانہ نفسیات اس میں مانع ہوگئی کہ اپنی نفی کی قیمت پر وہ سچائی کا اقرار کرے۔
حضرت موسیٰ کے عقلی دلائل کو فرعون نے غیر متعلق باتوں کے ذریعے بے اثر کرنے کی کوشش کی اور آپ کے معجزات کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ یعنی ایک ایسی چیز جس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں۔ ہر آدمی مہارت پیدا کرکے اس قسم کا کرشمہ دکھا سکتا ہے۔ اپنی اس ڈھٹائی کو نباہنے کے لیے مزید اس کو یہ کرنا پڑا کہ اس نے کہا کہ ہم بھی اپنے جادوگروں کے ذریعے ویسا ہی کرشمہ دکھا سکتے ہیں جیسا کرشمہ تم نے ہمیں دکھایا ہے۔ گفتگو کے بعد بالآخر یہ طے ہوا کہ آنے والے قومی میلے کے دن ملک کے جادو گروں کو جمع کیا جائے اور سب کے سامنے موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان مقابلہ ہو۔
حضرت موسیٰ کی دعوت فرعون کے اوپر لمبی مدت تک جاری رہی۔ اس دوران آپ نے اس کے سامنے عقلی دلائل بھی پیش کيے اور حسی معجزے بھی دکھائے۔ مگر وہ حضرت موسیٰ پر ایمان نہ لایا۔ حضرت موسیٰ کی سچائی کا اقرار فرعون کے لیے اپنی نفی کے ہم معنی ہوتا۔ اور…
…سراسر بے حقیقت چیز کے ذریعہ کرنا ہے جس کا یقینی نتیجہ ہلاکت ہے۔ تم بظاہر مجھ کو جھوٹا ثابت کرنا چاہتے ہو مگر یہ خود خدا کو نعوذ باللہ جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جو لوگ اس قسم کی سرکشی کریں وہ خدا کی دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
قرآن اگرچہ صرف ایک یاد دہانی ہے۔ مگر وہ مدعوکے لیے قابل حجت یاد دہانی اس وقت بنتاہے جب کہ اس کی دعوت دینے والا اپنے آپ کو اس کی راہ میں کھپا دے۔ دوسروں کی خیر خواہی میں وہ اپنے آپ کو اس حد تک نظر انداز کردے کہ یہ کہا جائے کہ اس نے تو لوگوں کو حق کی راہ پر لانے کی خاطر اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دیا۔
تاہم دعوت کو خواہ کتنا ہی کامل اور معیار ی انداز میں پیش کردیا جائے، عملاً اس سے ہدایت صرف اس بندۂ خدا کو ملتی ہے جو حق شناس ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ دلیل کی سطح پر بات کا واضح ہونا ہی اس کی آنکھ کھولنے کے لیے کافی ہوجائے۔
جس ہستی نے عالم کی تخلیق کی ہے اسی نے قرآن کو بھی نازل کیا ہے۔ اس لیے قرآن اور فطرت میں کوئی تضاد نہیں۔ قرآن ایک ایسی حقیقت کی یاددہانی ہے جس کو پہچاننے کی صلاحیت فطرت انسانی کے اندر پہلے سے موجود ہے۔
فرعون نے سارے ملک میں آدمی بھیج کر تمام ماہر جادوگروں کو بلایا۔ جب یہ لوگ میلے کے میدان میں جمع ہوئے تو مقابلہ پیش آنے سے پہلے حضرت موسیٰ نے ایک تقریر کی۔ یہ تقریر لوگوں کے لیے بالکل نئی چیز نہ تھی، بلکہ یہ ایک قسم کی یاد دہانی تھی۔ اس…
…صداقت کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ انھوں نے یقین کے ساتھ جان لیا کہ موسیٰ کے پاس جو چیز ہے وہ کوئی انسانی جادو نہیں ہے بلکہ وہ خدائی معجزہ ہے۔ یہ یقین اتنا گہرا تھا کہ انھوںنے اسی وقت حضرت موسیٰ کے دین کو اختیار کرنے کا اعلان کردیا۔
مقابلہ اس طرح شروع ہوا کہ جادوگروں نے پہلے اپنی رسّیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں تو ان کی رسّیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی دکھائی دينے لگيں۔ تاہم یہ صرف نظر بندی کا معاملہ تھا۔ یعنی رسّیاں اور لاٹھیاں فی الواقع سانپ نہیں بن گئیں تھیں بلکہ جادو گروں نے نظر بندی کے عمل سے حاضرین کی قوت خیالی کو اس طرح متاثر کیا کہ انھیں وقتی طورپر دکھائی دیا کہ رسّیاں اور لاٹھیاں سانپ کی مانند میدان میں چل رہیں ہیں۔
اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ نے اپنی لاٹھی میدان میں پھینکی۔ ان کی لاٹھی فوراً بہت بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگی۔اس نے جادو گروں کے نظر بندی کے طلسم کو نگل لیا۔ وہ چیزیں جو سانپوں کی شکل میں چلتی ہوئی نظر آتی تھیں، وہ اس کے چھوتے ہی محض رسّی اور لاٹھی ہو کر رہ گئیں۔
جادو گر حضرت موسیٰ کا کلام سن کر پہلے ہی اس سے متاثر ہوچکے تھے۔ اب جب عملی مظاہرہ ہوا تو انھوںنے حضرت موسیٰ کی صداقت کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ انھوں نے یقین کے ساتھ جان لیا کہ موسیٰ کے پاس جو چیز ہے وہ کوئی انسانی جادو نہیں ہے بلکہ وہ خدائی معجزہ ہے۔ یہ یقین اتنا گہرا تھا کہ انھوںنے اسی وقت حضرت موسیٰ کے دین کو اختیار کرنے کا اعلان کردیا۔
مقابلہ اس طرح شروع ہوا کہ جادوگروں نے پہلے اپنی رسّیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں تو ان کی رسّیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی دکھائی دينے لگيں۔ تاہم یہ صرف نظر بندی کا معاملہ تھا۔ یعنی رسّیاں اور لاٹھیاں فی الواقع سانپ نہیں بن گئیں…
…اس کو کچل دے۔ ظلم اور گھمنڈ کی نفسیات جاگے تو اس کو اپنے اندر ہی اندر دفن کردے۔
یہی لوگ سچے ایمان والے ہیں۔ دنیا میں ان کا ایمان عملِ صالح کے باغ کی صورت میں اگا تھا، آخرت میں وہ ابدی جنتوں کے روپ میں سر سبز شاداب ہو کر انھیں واپس ملے گا۔
مجرم بننا کیا ہے۔ مجرم بننا یہ ہے کہ آدمی کے سامنے خدا کی نشانی آئے مگر وہ اس سے نصیحت حاصل نہ کرے۔ اس کے سامنے دلائل کی زبان میں حق کھولا جائے مگر وہ اس کو نظر انداز کردے۔ وہ ظاہری قوتوں اور مادی مصلحتوں سے باہر نکل کر حقیقت کا اعتراف نہ کرسکے۔
ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں سخت ترین سزا ہے۔ دنیا کی کوئی مصیبت، خواہ وہ کتنی ہی بڑی ہو، بہر حال وہ محدود ہے۔ اور موت کے ساتھ ایک نہ ایک دن ختم ہوجاتی ہے۔ مگر آخرت وہ جگہ ہے جہاں مصیبتوں کا طوفان ہر طرف سے آدمی کو گھیرے ہوئے ہوگا۔ مگر آدمی کے لیے وہاں سے بھاگنا ممکن نہ ہوگا۔ اور نہ وہاں موت آئے گی جو ناقابلِ بیان مصیبتوں کا سلسلہ منقطع کردے۔
جنت اس کے لیے ہے جو اپنے آپ کو پاک کرے۔ پاک کرنا یہ ہے کہ آدمی غفلت کی زندگی کو ترک کرے اور شعور کی زندگی کواپنائے۔ وہ اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچائے جو حق سے روکنے والی ہیں۔ مصلحت کی رکاوٹ سامنے آئے تو اس کو نظر انداز کردے۔ نفس کی خواہش ابھرے تو اس کو کچل دے۔ ظلم اور گھمنڈ کی نفسیات جاگے تو اس کو اپنے اندر ہی اندر دفن کردے۔
یہی لوگ سچے ایمان والے ہیں۔ دنیا میں ان کا ایمان عملِ صالح کے باغ کی صورت میں اگا تھا، آخرت میں وہ ابدی جنتوں کے روپ میں سر سبز شاداب ہو کر انھیں واپس ملے گا۔
جادوگروں سے مقابلہ کے بعد حضرت موسیٰ کئی سال مصر میں رہے۔ ایک طرف انھوں نے فرعون اور قوم فرعون پر اپنی تبلیغ جاری رکھی۔ دوسری طرف انھوں نے مطالبہ کیا کہ مجھ کو اجازت دے دو کہ میں اپنے ساتھیوں کو لے کر مصر سے باہر صحرائے سینا میں چلا جاؤں…
…اکثر اپنے قائدین کے بھروسہ پر حق کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ مگر فرعون کی مثال بتاتی ہے کہ قائدین کا سہارا نہایت کمزور سہارا ہے۔ اس دنیا میں اصل سہارے والا وہ ہے جو خدا کی آیات کی بنیاد پر اپنی راہ متعین کرے، نہ کہ قوم کے اکابر کی بنیاد پر۔
دنیا میں ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کا مذہب دنیا سے فائده حاصل كرنا ہوتا ہے۔دوسری طرف بے آمیز حق کا داعی ہے جس کا مذہب خدا كي قربت پر قائم ہوتا ہے۔پہلا گروہ اپنے ماحول میں ہر طرف اپنے ساتھی اور مددگار پالیتا ہے۔ اس کو کبھی تنہاہونے کا احساس نہیںہوتا۔ اس کے برعکس، حق کا داعی جس معبود کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے۔ حالات کے طوفان میں بار بار اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے ۔ وہ کبھی اپنے دل میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور کبھی اس کی زبان سے بآوازبلند دعا کے کلمات نکل جاتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بھری ہوئی دنیا میں وہ اکیلا ہے۔ کوئی اس کا ساتھی اور مدد گار نہیں۔
مگر یہ صرف ظاہری حالت ہے۔ حقیقت کے اعتبارسے حق کا داعی سب سے زیادہ مضبوط سہارے پر کھڑاہوتا ہے۔ وہ ایسے خداکو پکار رہا ہے جو تنہائی کے الفاظ اور دل کی سرگوشیوں تک سے باخبر ہے۔ وہ اس خدا کو اپنا سہارا بنائے ہوئے ہے جو ان تمام قابلِ قیاس اور ناقابلِ قیاس قوتوں کا مالک ہے جو کسی کی مدد کے لیے درکار ہیں۔
خلیج کو پارکرنے کے بعد حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی چلتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ صحرائے سینا میں پہنچ گئے۔ اس کے بعد کوہ طور کے دامن میں بلا کر خاص اہتمام سے ان کو شریعت عطا کی گئی۔ یہ لوگ چالیس سال تک صحرائے سینا میں رہے۔ یہاں ان کے لیے خصوصی…
…کرے۔ اور بندوں کے اوپر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ کسی حال میں اس کے ساتھ سرکشی نہ کریں۔ جو لوگ خدا کی نعمتوں کے شکر گزار بن کررہیں ان کے لیے خدا کی مزید رحمتیں ہیں۔ اور جو لوگ سرکش بن جائیں ان کے لیے خدا کا شدید عذاب ہے، جو کبھی ختم نہ ہوگا۔
خلیج کو پارکرنے کے بعد حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی چلتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ صحرائے سینا میں پہنچ گئے۔ اس کے بعد کوہ طور کے دامن میں بلا کر خاص اہتمام سے ان کو شریعت عطا کی گئی۔ یہ لوگ چالیس سال تک صحرائے سینا میں رہے۔ یہاں ان کے لیے خصوصی نعمت کے طورپر پانی اور غذا (من وسلویٰ) کا انتظام کیا گيا، جو اس وقت تک مسلسل جاری رہا جب کہ ان کی اگلی نسل فلسطین کے سرسبز علاقہ میں پہنچ گئی۔
اللہ تعالیٰ کے اوپر بندوں کا یہ حق ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے بندوں کے ليے رزق فراہم کرے۔ اور بندوں کے اوپر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ کسی حال میں اس کے ساتھ سرکشی نہ کریں۔ جو لوگ خدا کی نعمتوں کے شکر گزار بن کررہیں ان کے لیے خدا کی مزید رحمتیں ہیں۔ اور جو لوگ سرکش بن جائیں ان کے لیے خدا کا شدید عذاب ہے، جو کبھی ختم نہ ہوگا۔
مصرسے نکلنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے لیے ایک تاریخ مقرر کی کہ اس روز وہ کوہِ طور کے اسی دامن میں دوبارہ آئیں جہاں انھیں ابتداء ً پیغمبری ملی تھی۔ یہاں حضرت موسیٰ کو تورات لینے کے ليے اپنی پوری قوم کے ساتھ پہنچنا تھا۔ مگر فرط…
…ہیں۔ وہ کسی محسوس چیز کو نشانہ بنا کر اسی کو سب سے بڑا حق ثابت کرتے ہیں۔ اور الفاظ کے فریب میں آکر عوام کی ایک بھیڑ ان کے گرد جمع ہوجاتی ہے — محسوس پرستی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ خواہ وہ دور قدیم کا انسان ہو یا دور جدید کا انسان۔
بنی اسرائیل کی عورتیں غالباً قدیم رواج کے مطابق بھاری زیورات اپنے جسم پر لادے ہوئی تھیں۔ اس سفر میں قوم نے کہیں پڑاؤ ڈالا تو انھوںنے ان زیورات کو اتار کر ایک جگہ ڈھیر کردیا۔ ان کے درمیان ایک سامری تھا جو مصر کی قدیم صنعت بت سازی کا تجربہ رکھتا تھا۔ اس نے ان زیورات کو پگھلایا اور ان سے بچھڑے جیسی ایک مورت بنا ڈالی۔ یہ بچھڑا اندرسے خالی تھا۔ اور اس طرح ہنر مندی سے بنایا گیا تھا کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرتی تو بیل کی ڈکار کی سی آواز آتی۔ سامری نے بنی اسرائیل کے جاہل عوام سے کہا کہ دیکھو تمهارا معبود تو یہ ہے جو یہاں موجود ہے۔ موسیٰ معبود کی تلاش میں معلوم نہیں کس پہاڑ پر چلے گئے۔
ہر زمانے کے ’’سامری‘‘ اسی طرح عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔ وہ کسی محسوس چیز کو نشانہ بنا کر اسی کو سب سے بڑا حق ثابت کرتے ہیں۔ اور الفاظ کے فریب میں آکر عوام کی ایک بھیڑ ان کے گرد جمع ہوجاتی ہے — محسوس پرستی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ خواہ وہ دور قدیم کا انسان ہو یا دور جدید کا انسان۔
حضرت موسیٰ مصر میں پیدا ہوئے۔ وہاں ایک موقع پر ایک قبطی ان کے ہاتھ سے ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد وہ مصر سے نکل کر مدین چلے گئے۔ وہاں وہ کئی سال تک رہے۔ وہیں ایک خاتون سے نکاح کیا اور پھر اپنی اہلیہ کو لے کر واپس مصر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس وقت…
…وہ نتیجہ خیز نہ ہوتا۔ کیوں کہ آپ کے ساتھ جو لوگ تھے ان کی تعداد کم تھی۔ آپ نے بے نتیجہ کارروائی کرنے کے مقابلہ میں اس کو زیادہ مناسب سمجھا کہ وقتی طور پر صبر کا طریقہ اختیا رکرلیں۔ اور لوگوں کي اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں۔
حضرت موسیٰ نے اپنے بھائی کا سختی کے ساتھ محاسبہ کیا۔ حضرت ہارون نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے کہ میںنے اصلاح کی کوشش نہیں کی اور جاہلوں کے ساتھ مصالحت کرلی۔ بلکہ میں نے پوری قوت کے ساتھ ان کو اس مشرکانہ فعل سے روکنے کی کوشش کی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ قوم کی اکثریت سامری کے فریب میں آکر اس کی ساتھی بن گئی۔ میں نے اصرار کیا تو وہ لوگ جنگ وقتل پر آمادہ ہوگئے۔مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں اصرار جاری رکھتاہوں تو قوم کے اندر باہمی خون ریزی شروع ہوجائے گی۔
معاملہ اس نوبت تک پہنچنے کے بعد اب مجھے دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا تھا۔ یا تو باہمی جنگ، یا آپ کی آمد تک اس معاملہ کو ملتوی رکھنا۔ میں نے دوسری صورت کو اَہون (آسان تر)سمجھ کراس کو اختیار کرلیا— بہت سے مواقع پر دین کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ باہمی لڑائی سے بچنے کے لیے خاموشی کا طریقہ اختیار کرلیا جائے، حتی کہ شرک جیسے معاملہ میں بھی۔
حضرت موسیٰ نے اپنے بھائی کا سختی کے ساتھ محاسبہ کیا۔ حضرت ہارون نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے کہ میںنے اصلاح کی کوشش نہیں کی اور جاہلوں کے ساتھ مصالحت کرلی۔ بلکہ میں نے پوری قوت کے ساتھ ان کو اس مشرکانہ فعل سے روکنے کی کوشش کی۔ مگر مسئلہ یہ…
…ہمارے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ فرعون کی غیر سنجیدگی اسی سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ نے تو خود اپنی قوم کو ساتھ لے کر مصر سے باہر جانے کی بات کی تھی۔ مگر فرعون نے اس کو الٹ کر یہ کہہ دیا کہ موسیٰ ہم لوگوں کو مصر سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔
تمھارا رب العالمین کیا ہے— فرعون کا یہ جملہ دراصل استہزاء تھا، نہ کہ سوال۔ مگر حضرت موسیٰ نے کسی جھنجھلاہٹ کے بغیر بالکل معتدل انداز میں اس کا جواب دیا۔ فرعون نے دوبارہ اپنے درباریوں سے یہ کہہ کر حضرت موسیٰ کی تحقیر کی کہ ’’سنتے ہو، یہ کیا کہہ رہے ہیں‘‘۔ حضرت موسیٰ نے اس کوبھی نظر انداز کیا اور اپنا سلسلہ کلام بدستور جاری رکھا۔ فرعون نے مشتعل ہو کر حضرت موسیٰ کو دیوانہ قرار دیا۔ مگر اب بھی حضرت موسیٰ نے اپنے اعتدال کو نہیں کھویا۔ فرعون نے قید کی دھمکی دی تو حضرت موسیٰ نے اپنی آخری دلیل (معجزہ) کو اس کے سامنے رکھ دیا۔ اب فرعون کے ليے مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہ تھی۔ مگر اس نے ہار نہ مانی۔ اس نے حضرت موسیٰ کی اہمیت گھٹانے کے ليے کہا کہ یہ کوئی خدائی واقعہ نہیں۔ یہ تو محض ایک ساحرانہ واقعہ ہے۔ اور ہر جادو گر ایسا کرشمہ دکھا سکتا ہے۔
حضرت موسیٰ کی دعوت سراسر پر امن دعوت تھی۔ اس کا سیاست اور حکومت سے بھی براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ مگر فرعون نے اپنی قوم کو آپ کے خلاف بھڑکانے کے ليے یہ کہہ دیا کہ وہ ہم کو ہمارے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ فرعون کی غیر سنجیدگی اسی سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ نے تو خود اپنی قوم کو ساتھ لے کر مصر سے باہر جانے کی بات کی تھی۔ مگر فرعون نے اس کو الٹ کر یہ کہہ دیا کہ موسیٰ ہم لوگوں کو مصر سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔
تمھارا رب العالمین کیا ہے— فرعون کا یہ جملہ دراصل استہزاء تھا، نہ کہ سوال۔ مگر حضرت موسیٰ نے کسی جھنجھلاہٹ کے بغیر بالکل معتدل انداز میں اس کا جواب دیا۔ فرعون نے دوبارہ اپنے درباریوں سے یہ کہہ کر حضرت موسیٰ کی تحقیر کی کہ ’’سنتے ہو، یہ کیا…
…ہمارے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ فرعون کی غیر سنجیدگی اسی سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ نے تو خود اپنی قوم کو ساتھ لے کر مصر سے باہر جانے کی بات کی تھی۔ مگر فرعون نے اس کو الٹ کر یہ کہہ دیا کہ موسیٰ ہم لوگوں کو مصر سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔
فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کے معاملہ کو صرف جادوکا معاملہ سمجھا۔ اس ليے جادو کے ذریعہ ان کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ان کی سوچ جہاں تک پہنچی وہ صرف یہ تھا کہ — موسیٰ اگر لکڑی کو سانپ بناسکتے ہیں تو ہمارے جادو گر بھی لکڑی کو سانپ بنا سکتے ہیں ۔ اس سے آگے کی انھیں خبر نہ تھی۔ وہ موسیٰ کے معاملہ کو انسان کا معاملہ سمجھتے تھے۔ اس ليے انسان کے ذریعہ اس کا توڑ کرنا چاہتے تھے۔ انھوںنے اس راز کو نہیں جانا کہ موسیٰ کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے اور کون انسان ہے جو خدا سے ٹکر لے سکے۔
حضرت موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان مقابلہ کے ليے مصریوں کے سالانہ قومی تہوار کا دن مقرر ہوا۔ اور اس کے ليے ایک بہت بڑے میدان کا انتخاب ہوا تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہوں اور زیادہ سے زیادہ جادوگروں کی حوصلہ افزائی کرسکیں۔
فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کے معاملہ کو صرف جادوکا معاملہ سمجھا۔ اس ليے جادو کے ذریعہ ان کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ان کی سوچ جہاں تک پہنچی وہ صرف یہ تھا کہ — موسیٰ اگر لکڑی کو سانپ بناسکتے ہیں تو ہمارے جادو گر بھی لکڑی کو…
…کے ليے فرعون کی طرح کچھ جھوٹے الفاظ بول دیں۔ مگر ایک زندہ انسان کے ليے یہ ناممکن ہوتاہے کہ حق کے پوری طرح کھل جانے کے بعد وہ حق کا اعتراف نہ کرے۔ جادوگر اسی قسم کے زندہ انسان تھے۔ چنانچہ انھوں نے فوراً حضرت موسیٰ کی صداقت کا اعتراف کرلیا۔
جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں ڈالیں تو دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوا گویا کہ وہ سانپ بن کر میدان میں دوڑ رہی ہیں۔ مگر یہ کوئی حقیقی تغیر نہ تھا، یہ صرف نظر بندی کا معاملہ تھا۔ اس کے برعکس، حضرت موسیٰ کے عصا کا سانپ بننا عصا کا معجزۂ خداوندی میں ڈھل جانا تھا۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں چلا تو اچانک اس نے جادوگروں کے سارے طلسم کو باطل کردیا۔ اس کے بعد جادوگروں کی رسّیاں اور لاٹھیاں صرف رسّیاں اور لاٹھیاں ہو کر رہ گئیں جیسا کہ وہ حقیقۃً تھیں۔
جادوگروں نے پہلے حضرت موسیٰ کو اپنی طرح کا ایک جادو گرسمجھا تھا۔ مگر تجربہ نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔ وہ جادو کے فن کو بخوبی جانتے تھے اس ليے وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ جادوگری نہیں ہے بلکہ پیغمبری ہے۔ تاہم ان کے ليے ممکن تھاکہ اب بھی وہ اعتراف نہ کریں اور حضرت موسیٰ کو رد کرنے کے ليے فرعون کی طرح کچھ جھوٹے الفاظ بول دیں۔ مگر ایک زندہ انسان کے ليے یہ ناممکن ہوتاہے کہ حق کے پوری طرح کھل جانے کے بعد وہ حق کا اعتراف نہ کرے۔ جادوگر اسی قسم کے زندہ انسان تھے۔ چنانچہ انھوں نے فوراً حضرت موسیٰ کی صداقت کا اعتراف کرلیا۔
جادوگروں کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا فرعون کے ليے زبردست رسوائی کا باعث تھا۔ اس نے اس کے ازالہ کے ليے یہ کیا کہ اس پورے واقعہ کو سازش قرار دے دیا۔ اس نے کہا کہ تم لوگ موسیٰ کے ساتھ ملے ہوئے ہو۔ اور تم نے جان بوجھ کر ان کے مقابلہ میں اپنی…
…کو ان کے ظلم کے نتیجے میں اپنی نعمتوں سے محروم کیا جو انھیں مصر میں حاصل تھیں۔ دوسری طرف بنی اسرائیل کے صالحین کے ساتھ یہ معاملہ فرمایا کہ ان کو ایک مدت کے بعد فلسطین پہنچایا۔ اور وہاں ان کو یہ تمام نعمتیں مزید اضافہ کے ساتھ دے دیں۔
برسوں کی دعوتی جدوجہد کے باوجود فرعون حضرت موسیٰ پر ایمان نہ لایا۔ آخر کار اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے باہر چلے جائیں۔ فرعون کو جب معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل اجتماعی طور پر مصر سے روانہ ہو گئے ہیں۔ تو اس نے اپنے لشکر اور اپنے اعیان سلطنت کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ بظاہر فرعون کا یہ اقدام بنی اسرائیل کے خلاف تھا۔ مگر عملاً وہ خود اس کے اپنے خلاف اقدام بن گیا۔ اس طرح فرعون اوراس کے ساتھی اپنی شان دار آبادیوں کو چھوڑ کر وہاں پہنچ گئے جہاں انھیں یکجائی طور پر سمندر میں غرق ہونا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے ایک طرف فرعون اور اس کے ساتھیوں کو ان کے ظلم کے نتیجے میں اپنی نعمتوں سے محروم کیا جو انھیں مصر میں حاصل تھیں۔ دوسری طرف بنی اسرائیل کے صالحین کے ساتھ یہ معاملہ فرمایا کہ ان کو ایک مدت کے بعد فلسطین پہنچایا۔ اور وہاں ان کو یہ تمام نعمتیں مزید اضافہ کے ساتھ دے دیں۔
برسوں کی دعوتی جدوجہد کے باوجود فرعون حضرت موسیٰ پر ایمان نہ لایا۔ آخر کار اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے باہر چلے جائیں۔ فرعون کو جب معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل اجتماعی طور پر مصر سے…
…اندر داخل ہوگیا۔ جیسے ہی وہ لوگ بیچ میں پہنچے خدا کے حکم سے سمندر کا کھڑا ہوا پانی دونوں طرف سے مل کر برابر ہوگیا۔ فرعون اپنے تمام لشکر کے ساتھ دفعۃً غرق ہوگیا۔ ایک ہی نقشہ میںایک گروہ کے ليے نجات چھپی ہوئی تھی اور دوسرے گروہ کے ليے ہلاکت۔
فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچ گیا جہاں بنی اسرائیل کے آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون اور اس کا لشکر۔ بنی اسرائیل اس نازک صورت حال کو دیکھ کر گھبرا اٹھے۔ بائبل کے بیان کے مطابق وہ موسیٰ سے کہنے لگے ’’کیا مصر میں قبریں نہ تھیں کہ تم ہم کو وہاں سے مرنے کے ليے بیابان میں لے آیا ہے‘‘۔
مگر حضرت موسیٰ کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضرت موسیٰ نے اپنا عصا سمندر کے پانی پر مارا۔ پانی بیچ سے پھٹ گیا۔ دونوں طرف اونچی دیواروں کی مانند پانی کھڑا ہوگیا۔ اور درمیان میں خشک راستہ نکل آیا۔ بنی اسرائیل اس راستہ سے پار ہو کر اگلے کنارہ پر پہنچ گئے۔
یہ منظر دیکھ کر فرعون نے سمجھا کہ وہ بھی اس کھلے ہوئے راستہ سے پار ہوسکتا ہے۔ اس کو معلوم نہ تھا کہ یہ راستہ نہیں ہے بلکہ خدا کا حکم ہے۔ فرعون اپنے پورے لشکر کے ساتھ اس کے اندر داخل ہوگیا۔ جیسے ہی وہ لوگ بیچ میں پہنچے خدا کے حکم سے سمندر کا کھڑا ہوا پانی دونوں طرف سے مل کر برابر ہوگیا۔ فرعون اپنے تمام لشکر کے ساتھ دفعۃً غرق ہوگیا۔ ایک ہی نقشہ میںایک گروہ کے ليے نجات چھپی ہوئی تھی اور دوسرے گروہ کے ليے ہلاکت۔
فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچ گیا جہاں بنی اسرائیل کے آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون اور اس کا لشکر۔ بنی اسرائیل اس نازک صورت حال کو دیکھ کر گھبرا اٹھے۔ بائبل کے بیان کے مطابق وہ موسیٰ سے کہنے لگے ’’کیا مصر میں قبریں نہ…
…عبادت کی جائے۔ مزید یہ کہ اس معاملے میں آدمی کو حد درجہ سنجیدہ ہونا چاہئے۔ کیوں کہ یہی واقعات یہ اشارہ بھی کررہے ہیں کہ جو خدا یہ سب کررہاہے وہ انسان سے حساب لینے کے ليے اس کو ایک روز اپنے یہاں بلائے گا۔ موت اسی بلاوے کے عمل کا آغاز ہے۔
انسان ایک مستقل ہستی کے طورپر دنیا میں آتاہے۔ اس کے اندر عقل ہے جو خیر اور شر میں فرق کرتی ہے، جو جزئیات سے کلیات اخذ کرتی ہے اور محسوسات سے معقولات تک پہنچ جاتی ہے۔ آدمی کے ليے یہاں نہایت اعلیٰ درجہ پر وہ چیزیں موجود ہیں جو اس کو مسلسل رزق فراہم کرتی ہیں۔ آدمی بیمار ہوتاہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں وہ اسباب بھی مکمل طورپر موجود ہیں جن سے فن علاج وجود میں آسکے۔ پھر آدمی دیکھتاہے کہ بظاہر ساری آزادی کے باوجود وہ موت کے سامنے بے بس ہے۔ وہ ایک خاص عمر کو پہنچ کر مرجاتاہے۔
ان واقعات کا تعلق ایک خدا کے سوا کسی اور سے نہیں ہوسکتا، پھر کیسے جائز ہے کہ ایک خداکے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے۔ مزید یہ کہ اس معاملے میں آدمی کو حد درجہ سنجیدہ ہونا چاہئے۔ کیوں کہ یہی واقعات یہ اشارہ بھی کررہے ہیں کہ جو خدا یہ سب کررہاہے وہ انسان سے حساب لینے کے ليے اس کو ایک روز اپنے یہاں بلائے گا۔ موت اسی بلاوے کے عمل کا آغاز ہے۔
انسان ایک مستقل ہستی کے طورپر دنیا میں آتاہے۔ اس کے اندر عقل ہے جو خیر اور شر میں فرق کرتی ہے، جو جزئیات سے کلیات اخذ کرتی ہے اور محسوسات سے معقولات تک پہنچ جاتی ہے۔ آدمی کے ليے یہاں نہایت اعلیٰ درجہ پر وہ چیزیں موجود ہیں جو اس کو مسلسل…
…اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کرلیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ تاہم ملکہ نے ابتدائی اندازوں کے لیے تحفے بھیجنے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلیمان ہماری دولت کے خواہش مند ہیں یا اس سے آگے ان کا ہم سے کوئی اصولی مطالبہ ہے۔
قبطی کی موت کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ مدین کا علاقہ بحراحمر کی اس شاخ کے مشرقی ساحل پر تھا جس کو خلیج عقبہ کہاجاتاہے۔ حضرت موسیٰ نے یہاں تقریباً آٹھ سال گزارے اس کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر واپس جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ اس سفر میں وہ بحر احمر کی دونوں شاخوں کے درمیان اس پہاڑ کے کنارے پہنچے جس کا قدیم نام طور تھا اور اب اس کو جبل موسیٰ (Gebel Musa) کہاجاتا ہے۔
یہ غالباً سردیوں کی رات تھی۔ حضرت موسیٰ کو دور پہاڑ پر ایک آگ سی چیز نظر آئی۔ وہ اس کی طرف روانہ ہوئے۔ مگر قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ خدا کی تجلی تھی، نہ کہ کوئی انسانی آگ۔
پہاڑ کے اوپر جہاں حضرت موسیٰ نے روشنی دیکھی تھی وہاں آج بھی ایک قدیم درخت موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ درخت ہے جس کے اوپر سے حضرت موسیٰ کو خدا کی آواز سنائی دی تھی۔ یہاں بعد کو عیسائی حضرات نے گرجا اور خانقاہ تعمیر کردیا جو آج بھی لوگوں کے ليے زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔
حضرت سلیمان کی قوت وسلطنت ایک خدائی عطیہ تھی۔ اسی طرح آپ نے سبا کی حکومت کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی ایک خدائی معاملہ تھا۔ شاہ عبدالقادر دہلوی آیت
37
کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق…
…کہ اِدھر حضرت سلیمان کی زبان سے حکم کے الفاظ نکلے اور ادھر زروجواہر سے جڑا ہوا تخت ان کے سامنے رکھا ہوا موجود تھا۔ اس غیر معمولی قوت کے باوجود حضرت سلیمان کے اندر فخر کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا۔ وہ سرتاپا تواضع بن کر خدا کے آگے جھکے رہے۔
حضرت سلیمان کے پاس اگرچہ غیر معمولی طاقت تھی۔ مگر انھوں نے استعمالِ طاقت کے بجائے مظاہرۂ طاقت کے ذریعہ قوم سبا کو زیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ آپ نے اپنے خصوصی کارندہ کے ذریعہ ملکہ کے تخت کو مارب (Marib) کے محل سے یروشلم (فلسطین) منگوالیا۔ تخت کو منگانے کا واقعہ غالباً اس وقت پیش آیا جب کہ تحفہ کی واپسی کے بعد ملکہ سبا یمن سے فلسطین کے ليے روانہ ہوئی۔ تاکہ وہ حضرت سلیمان کے دربار میں پہنچ کر براہِ راست آپ سے گفتگو کرے۔ ملکہ سبا کا اپنے خدم وحشم کے ساتھ یہ سفر یقیناً اس وقت ہوا ہوگا جب کہ اس کے سفارتی وفد نے واپس جاکر حضرت سلیمان کی حکمت کی باتیں اور آپ کے غیر معمولی کردار کی شہادت دی اور آپ کی غیر معمولی عظمت کا حال بیان کیا۔
مارب سے یروشلم کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ ہزار میل ہے۔ یہ لمبا فاصلہ اس طرح طے ہوا کہ اِدھر حضرت سلیمان کی زبان سے حکم کے الفاظ نکلے اور ادھر زروجواہر سے جڑا ہوا تخت ان کے سامنے رکھا ہوا موجود تھا۔ اس غیر معمولی قوت کے باوجود حضرت سلیمان کے اندر فخر کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا۔ وہ سرتاپا تواضع بن کر خدا کے آگے جھکے رہے۔
قبطی کی موت کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ مدین کا علاقہ بحراحمر کی اس شاخ کے مشرقی ساحل پر تھا جس کو خلیج عقبہ کہاجاتاہے۔ حضرت موسیٰ نے یہاں تقریباً آٹھ سال گزارے اس کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر واپس…
…کے ليے خدا کا ایک امتحان تھا۔ وہ اس آزمائش کے میدان میں کھڑے کردئے گئے تھے کہ وہ حق کو پہچان کر اس کا ساتھ دیتے ہیں یا اس کے مقابلے میں اندھے بہرے بنے رہتے ہیں۔ مگر وہ دوسری دوسری باتوں میں الجھے رہے اور اصل معاملہ کو سمجھنے سے قاصر رہے۔
قوم میں نو بڑے سردار تھے۔وہ اپنے کو بڑا باقی رکھنے کے ليے حق کو چھوٹا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ اور اس قسم کی کوشش بلا شبہ خدا کی زمین میں سب سے بڑا فساد ہے۔
ان سرداروں نے آخری مرحلہ میں حضرت صالح کو ہلاک کرنے کی سازش کی۔ مگر قبل اس کے کہ وہ اپنے خفیہ منصوبہ کے مطابق حضرت صالح کے خلاف کوئی اقدام کریں، خدا نے خود ان کو پکڑ لیا۔ وہ اپنی ساری بڑائی کے باوجود اس طرح برباد کردئے گئے کہ ان کی قدیم بستیوں میں اب صرف ان کے ٹوٹے ہوئے کھنڈر ان کی یادگار كے طور پر باقی رہ گئے ہیں۔
اس قسم کے تاریخی واقعات میں زبردست سبق چھپا ہوا ہے۔ مگر اس سبق کو وہی شخص پائے گا جو اس کو قانونِ الٰہی سے جوڑے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اس کو اسباب ِطبیعی سے جوڑیں وہ اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کرسکتے۔
قوم میں نو بڑے سردار تھے۔وہ اپنے کو بڑا باقی رکھنے کے ليے حق کو چھوٹا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ اور اس قسم کی کوشش بلا شبہ خدا کی زمین میں سب سے بڑا فساد ہے۔
ان سرداروں نے آخری مرحلہ میں حضرت صالح کو ہلاک کرنے کی سازش کی۔ مگر قبل اس…
…رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قوموں کا فیصلہ کرنے کے ليے جو طاقتیں درکار ہیں وہ صرف خدائے عالم الغیب کو حاصل ہیں۔ وہ جزئی طورپر موجودہ دنیا میں بھی اپنا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ اور وہی آخرت میں کلی طورپر تمام قوموں کے اوپر اپنا فیصلہ نافذ فرمائے گا۔
قبطی کی موت کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ مدین کا علاقہ بحراحمر کی اس شاخ کے مشرقی ساحل پر تھا جس کو خلیج عقبہ کہاجاتاہے۔ حضرت موسیٰ نے یہاں تقریباً آٹھ سال گزارے اس کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر واپس جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ اس سفر میں وہ بحر احمر کی دونوں شاخوں کے درمیان اس پہاڑ کے کنارے پہنچے جس کا قدیم نام طور تھا اور اب اس کو جبل موسیٰ (Gebel Musa) کہاجاتا ہے۔
یہ غالباً سردیوں کی رات تھی۔ حضرت موسیٰ کو دور پہاڑ پر ایک آگ سی چیز نظر آئی۔ وہ اس کی طرف روانہ ہوئے۔ مگر قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ خدا کی تجلی تھی، نہ کہ کوئی انسانی آگ۔
پہاڑ کے اوپر جہاں حضرت موسیٰ نے روشنی دیکھی تھی وہاں آج بھی ایک قدیم درخت موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ درخت ہے جس کے اوپر سے حضرت موسیٰ کو خدا کی آواز سنائی دی تھی۔ یہاں بعد کو عیسائی حضرات نے گرجا اور خانقاہ تعمیر کردیا جو آج بھی لوگوں کے ليے زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔
’’غم نہ کرو‘‘ کا مطلب داعیٔ حق کو غم سے روکنا نہیں ہے۔ غم تو داعی کی غذا ہے۔ یہ دراصل حق کی بے بسی کی تردید ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے ناموافق حالات کے باوجود بہر حال حق کو اور حق کا ساتھ دینے والوں کو کامیابی حاصل ہوگی۔
حق کے داعی کے…
…ہو کہ جو بات دلائل سے واضح ہو جائے وہ فوراً اس کو مان لے اور اپنی زندگی کو اس کی ماتحتی میں دے دے۔
جو لوگ خدا کی دعوت کے آگے نہ جھکیں۔ انھیں آخر کار خدا کے فیصلے کے آگے جھکنا پڑتا ہے۔ مگر اس وقت کا جھکنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو آنکھ، کان اور دماغ کی صلاحیتیں رکھتا ہے۔ ان صلاحیتوں کو اگر کھلے طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ بے خطا طورپر حقیقتوں کو دیکھنے اور پہچاننے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے آپ کو کسی مصنوعی تصور سے مغلوب کرلے تو اس کی ادراک کی صلاحیتیں معطل ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے سامنے حقیقت بے نقاب صورت میں آتی ہے مگر وہ اس سے اس طرح بے خبر رہتا ہے جیسے کہ وہ اندھا بہرا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اسی شخص کو راستہ دکھایا جاسکتا ہے جو راستہ دیکھنا چاہے۔ جس کے اندر خود راستہ کی تڑپ نہ ہو اس کے ليے کسی رہنما کی رہنمائی کام آنے والی نہیں۔
حق پرست بننے کے ليے سب سے زیادہ جو چیز درکار ہے وہ اعتراف ہے۔ اس دنیا میں اسی شخص کو ہدایت ملتی ہے جس کے اندر یہ مادہ ہو کہ جو بات دلائل سے واضح ہو جائے وہ فوراً اس کو مان لے اور اپنی زندگی کو اس کی ماتحتی میں دے دے۔
جو لوگ خدا کی دعوت کے آگے نہ جھکیں۔ انھیں آخر کار خدا کے فیصلے کے آگے جھکنا پڑتا ہے۔ مگر اس وقت کا جھکنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو آنکھ، کان اور دماغ کی صلاحیتیں رکھتا ہے۔ ان صلاحیتوں کو اگر کھلے طریقے سے استعمال کیا جائے تو وہ بے خطا طورپر حقیقتوں کو دیکھنے اور پہچاننے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے آپ کو کسی مصنوعی تصور سے…
…طرف ہوجائے گا اور ساری قدرت دوسری طرف۔
اس دن وہ تمام چیزیں بالکل غیر اہم ہوجائیں گی جن کو لوگ دنیا میں اہم سمجھے ہوئے تھے۔ اس دن سارا وزن صرف عمل صالح میں ہوگا۔ اس دن کھونے والے پائیں گے اور پانے والے ابدی طورپر محروم ہو کر رہ جائیں گے۔
موجودہ دنیا میں انکار کا اصل سبب انسان کی بے خوفی ہے۔ یہ دراصل بے خوفی کی نفسیات ہے جس کی وجہ سے آدمی حق کو نظر انداز کرتاہے اور اس کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ مگر جب امتحان کی مدت ختم ہوگی اور اس کی علامت کے طورپر صور پھونک دیا جائے گا تو اچانک لو گ محسوس کریں گے کہ ان کی بے خوفی محض بے خبری کی بناپر تھی۔ اس دن تمام بڑائیاں ریت کی دیوار کی طرح ڈھ جائیں گی۔ یہ ایسا سخت لمحہ ہوگا کہ انسان تو درکنار پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اس وقت سارا عجز ایک طرف ہوجائے گا اور ساری قدرت دوسری طرف۔
اس دن وہ تمام چیزیں بالکل غیر اہم ہوجائیں گی جن کو لوگ دنیا میں اہم سمجھے ہوئے تھے۔ اس دن سارا وزن صرف عمل صالح میں ہوگا۔ اس دن کھونے والے پائیں گے اور پانے والے ابدی طورپر محروم ہو کر رہ جائیں گے۔
حضرت موسیٰ پہاڑ پر آگ کے ليے گئے تھے۔ مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ پیغمبری کے ليے بلائے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے کو خصوصی عطیہ دیتاہے تو اچانک اور غیر متوقع طورپر دیتاہے تاکہ وہ اس کو براہِ راست اللہ کی طرف سے سمجھے اور…
…مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شاہی محل سے وابستہ کرکے اعلیٰ ترین سطح پر ان کے ليے وقت کے علوم و آداب سیکھنے کا انتظام کیا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے منصوبہ کو ظہور میں آنے سے روک سکے۔
حضرت موسیٰ کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ نے تمام تر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالاں کہ واقعہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ پورا واقعہ اسباب کے تحت پیش آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کا ظہور عام طورپر اسباب کے انداز میں ہوتا ہے، نہ کہ طلسمات اور خوارق کے انداز میں۔
حضرت موسیٰ بے بسی کی حالت میں دریا کی موجوں میں ڈالے گئے مگر وہ پوری طرح محفوظ رہ کر ساحل پر پہنچ گئے۔ بادشاہ وقت نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا مگر اللہ نے اسی بادشاہ کے ذریعہ آپ کی پرورش کا انتظام کیا۔ وہ ایک معمولی خاندان میں پیدا ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو شاہی محل سے وابستہ کرکے اعلیٰ ترین سطح پر ان کے ليے وقت کے علوم و آداب سیکھنے کا انتظام کیا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے منصوبہ کو ظہور میں آنے سے روک سکے۔
حضرت موسیٰ کی حفاظت کو اللہ تعالیٰ نے تمام تر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ حالاں کہ واقعہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ پورا واقعہ اسباب کے تحت پیش آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کا ظہور عام طورپر اسباب کے…
…فوجوں کے ساتھ ہلاک کردے۔ حضرت موسیٰ کے ذریعہ اتمام حجت کے بعد فرعون نے اپنے کو مستحق عذاب ثابت کردیا۔ چنانچہ خدا نے اس کو سمندر میں ڈبا کر ہمیشہ کے ليے اس کا خاتمہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاکر شام و فلسطین کا حکمراں بنا دیا۔
اگلے دن وہی اسرائیلی دوبارہ ایک قبطی سے لڑ رہا تھا۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ تھاکہ یہ ایک جھگڑالو قسم کا آدمی ہے اور روزانہ کسی نہ کسی سے لڑتا رہتا ہے۔ چنانچہ اپنی قوم کا فرد ہونے کے باوجود حضرت موسیٰ نے اس کو مجرم ٹھہرایا۔ مذکورہ اسرائیلي کا مجرم ہونا اس واقعہ سے مزید ثابت ہوگیا کہ اس اسرائیلی نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ آج اس کی مدد نہیں کررہے ہیں اور اس کی امید کے خلاف خود اسی کو برا کہہ رہے ہیں تو وہ کمینہ پن پر اتر آیا۔ اس نے غیر ذمہ دارانہ طور پر کل کے قتل کا راز کھول دیا جو ابھی تک کسی کے علم میں نہ آیا تھا۔
اسرائیلی کی زبان سے قاتل کا نام نکلا تو بہت سے لوگوں نے سن لیا۔ چند دن میںاس کی خبر ہر طرف پھیل گئی۔ یہاں تک کہ حکمرانوں میں موسیٰ کے قتل کے مشورے ہونے لگے۔ ایک نیک بخت آدمی کو اس کا پتہ چل گیا۔ وہ خفیہ طورپر حضرت موسیٰ سے ملااورکہا کہ اس وقت یہی بہتر ہے کہ آپ اس جگہ کو چھوڑ دیں چنانچہ آپ مصر سے نکل کر مَدْیَن کی طرف روانہ ہوگئے۔ مدین خلیج عَقبہ کے مغربی ساحل پر تھا اور فرعون کی سلطنت کے حدود سے باہر تھا۔
اگلے دن وہی اسرائیلی دوبارہ ایک قبطی سے لڑ رہا تھا۔ یہ اس بات کا واضح قرینہ تھاکہ یہ ایک جھگڑالو قسم کا آدمی ہے اور روزانہ کسی نہ کسی سے لڑتا رہتا ہے۔ چنانچہ اپنی قوم کا فرد ہونے کے باوجود حضرت موسیٰ نے اس کو مجرم ٹھہرایا۔ مذکورہ اسرائیلي…
…إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ ایسے وقت مومن کا حال کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنے معاملہ کو تمام تر اللہ پر ڈال دیتاہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ بندہ کو جو کچھ ملتا ہے خدا سے ملتا ہے، اور خیر وہی ہے جو اس کو خدا کی طرف سے ملے۔
حضرت موسیٰ کا یہ سفر گویا نامعلوم منزل کی طرف سفر تھا۔ ایسے حالات میں مومن کے دل کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ پوری طرح آپ کے اوپر طاری تھی۔ آپ دعاؤں کے سایہ میں اپنا قدم آگے بڑھا رہے تھے۔ تقریباً دس دن کے سفر کے بعد مدین پہنچے۔ گمان غالب ہے کہ آپ بھوکے بھی ہوں گے۔
حضرت موسیٰ نے کمزوروں کی حمایت کے جذبہ کے تحت مدین کی دونوں لڑکیوں کی مدد کی۔ یہ واقعہ ان کے ليے لڑکیوں کے والد تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ یہ بزرگ مدیان بن ابراہیم کی اولاد سے تھے اور حضرت موسیٰ اسحاق بن ابراہیم کی اولاد سے۔ اس اعتبار سے دونوں میں نسلی قربت بھی تھی۔
اس وقت حضرت موسیٰ کی زبان سے یہ دعا نکلی رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ ایسے وقت مومن کا حال کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنے معاملہ کو تمام تر اللہ پر ڈال دیتاہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ بندہ کو جو کچھ ملتا ہے خدا سے ملتا ہے، اور خیر وہی ہے جو اس کو خدا کی طرف سے ملے۔
حضرت موسیٰ کا یہ سفر گویا نامعلوم منزل کی طرف سفر تھا۔ ایسے حالات میں مومن کے دل کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ پوری طرح آپ کے اوپر طاری تھی۔ آپ دعاؤں کے سایہ میں اپنا قدم آگے بڑھا رہے تھے۔ تقریباً دس دن کے سفر کے بعد مدین پہنچے۔ گمان غالب ہے…
…راست خطاب کا مطلب پردہ کو ہٹا دینا ہے، جب کہ امتحان کی مصلحت چاہتی ہے کہ پردہ لازماً باقی رہے۔ چنانچہ خدا اپنا براہِ راست کلام صرف کسی منتخب انسان کے اوپر اتارتا ہے اور بقیہ لوگوں کو اس کے ذریعے سے بالواسطہ طورپر اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔
حضرت موسیٰ غالباً دس سال مدین میں رہے۔ اس مدت میں سابقہ فرعون مرگیا اور خاندانِ فرعون کا دوسرا شخص مصر کے تخت پر بیٹھا۔ اب آپ اپنی بیوی (اور تورات کے مطابق دو بچوں) کے ساتھ دوبارہ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں آپ پر طور کا تجربہ گزرا۔
جس خدا نے سینا کے پہاڑ پر ایک انسان سے براہِ اراست کلام کیا، وہ خدا تمام انسانوں کو بھی براہِ راست آواز دے کر اپنی مرضی سے باخبر کرسکتا ہے۔ مگر یہ خدا کا طریقہ نہیں۔ براہِ راست خطاب کا مطلب پردہ کو ہٹا دینا ہے، جب کہ امتحان کی مصلحت چاہتی ہے کہ پردہ لازماً باقی رہے۔ چنانچہ خدا اپنا براہِ راست کلام صرف کسی منتخب انسان کے اوپر اتارتا ہے اور بقیہ لوگوں کو اس کے ذریعے سے بالواسطہ طورپر اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔
خدا جب کسی کو اپنی دعوت کے کام پر مامور کرتا ہے تو لازمی طورپر اس کو وہ تمام اسباب بھی دیتاہے جو کارِ دعوت کی مؤثر ادائیگی کے ليے ضروری ہیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کو ان کے حالات کے لحاظ سے متعدد چیزیں دی گئیں۔ آپ کو ماموریت کی سند کے طورپر…
…یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ دلیل اور معقولیت کی بنا پر اس کا انکار کر رہا ہے۔ آخرت میں یہ پردہ باقی نہیں رہے گا۔ اس وقت کھلے طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس کے دل میں کچھ اور تھا مگر اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے وہ کچھ دوسرے الفاظ بولتارہا۔
اللہ تعالیٰ انسانوں کو پیدا کرتاہے۔ پھر انسانوں میں سے کسی شخص کو وہ کسی خاص کام کےلیے منتخب کرلیتا ہے۔ یہ انتخاب اس کے ذاتی تقدس کی بناپر نہیں ہوتا۔ بلکہ خدا کے اپنے فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ اس ليے ایسی شخصیتوں کو مقدس مان کر ان کو خدا کا درجہ دینا سراسر بے بنیاد ہے۔ خدا کی دنیا میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔
آدمی حق کا انکار کرنے کے لیے زبان سے کچھ الفاظ بول دیتاہے۔ مگر اس کے دل میں کچھ اور بات ہوتی ہے۔ وہ ذاتی مصلحتوں کی بنا پر حق کو نہیں مانتا اور الفاظ کے ذریعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ دلیل اور معقولیت کی بنا پر اس کا انکار کر رہا ہے۔ آخرت میں یہ پردہ باقی نہیں رہے گا۔ اس وقت کھلے طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اس کے دل میں کچھ اور تھا مگر اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے وہ کچھ دوسرے الفاظ بولتارہا۔
حضرت موسیٰ کی پیدائش کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے لڑکے ہلاک کيے جارہے تھے۔ اس بنا پر حضرت موسیٰ کی والدہ پریشان ہوئیں۔ اس وقت غالباً خواب کے ذریعہ آپ کی والدہ کو یہ تدبیر بتائی گئی کہ وہ آپ کو ایک چھوٹی کشتی میںرکھ کردریائے نیل میں ڈال…
…شبہات میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ وہ ان شبہات کو اتنا بڑھاتے ہیں کہ وہی ان کے دل ودماغ پر چھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ حق کے معاملہ میں سیدھے اندازسے سوچ نہیں پاتے۔ وہ ہمیشہ اس کے منکر بنے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں مصر کے لوگوں کی اکثریت آپ کی نبوت کی قائل نهيں ہوئی۔ مگر آپ کی وفات کے بعد جب ملکی سلطنت کا نظام بگڑنے لگا تو مصریوں کو آپ کی عظمت کا احساس ہوا۔ اب وہ کہنے لگے کہ یوسف کا وجود مصر کےلیے بہت بابرکت تھا۔ ایسا رسول اب کہاں آئے گا۔ حضرت یوسف اگرچہ خدا کے پیغمبر تھے مگر اسی کے ساتھ وہ ایک انسان بھی تھے۔ اس بنا پر لوگوںکےلیے یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ — ’’کیا ضروری ہے کہ یوسف کے کمالات پیغمبري کی بنا پر ہوں، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ ایک ذہین انسان ہوں اور ا س بنا پر انھوں نے کمالات ظاہر کيے ہوں‘‘۔ اسی طرح کی باتیں تھیں جن کو لے کر مصر کے لوگ آپ کے بارے میں شک میں مبتلا ہوگئے۔
حق خواہ کتنا ہی واضح ہو، موجودہ امتحان کی دنیا میں ہمیشہ اس کا امکان باقی رہتا ہے کہ آدمی کوئی شبہ کا پہلو نکال کر اس کا منکر بن جائے۔ اب جو لوگ اپنے اندر سرکشی اور گھمنڈ کا مزاج ليے ہوئے ہوں ۔ جو یہ سمجھتے ہوں کہ حق کو مان کر وہ اپنی بڑائی کھو دیں گے۔ وہ عین اپنے مزاج کے تحت انھیں شبہات میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ وہ ان شبہات کو اتنا بڑھاتے ہیں کہ وہی ان کے دل ودماغ پر چھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ حق کے معاملہ میں سیدھے اندازسے سوچ نہیں پاتے۔ وہ ہمیشہ اس کے منکر بنے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔
فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے جو بات کہی وہ کوئی سنجیدہ بات نہیں تھی بلکہ محض ایک وقتی تدبیر (کید) کے طور پر تھی۔ اس نے دیکھا کہ رجل مومن کی معقول اور مدلّل تقریر سے دربار کے لوگ متاثر ہورہے ہیں، اس ليے اس نے چاہا کہ ایک شوشہ کی بات نکالے…
…وقت وه خداكي زد ميں آجاتا هے۔ آدمي اگر اس راز كو جانے تو وه حق كے داعي كو نظر انداز كرتے هوئے كانپ اٹھے گا۔ كيونكه وه جانے گا كه حق كے داعي كو نظر انداز كرنا خود حق كو نظر انداز كرنا هے اور حق كو نظر انداز كرنا خدا كو نظر انداز كرنا هے۔
آنكھ والا اپني آنكھ كو بند كرلے تو اس كو كچھ دكھائي نهيں دے گا۔ كان والا اپنے كان كو بند كرلے تو اس كو كچھ سنائي نهيں دے گا۔ اسي طرح جو شخص اپني عقل كو استعمال نه كرے، وه عقل كو معطل كركے اپني خواهش كے رخ پر چلنے لگے تو ايسے شخص كو سمجھانا بجھانا بالكل بے كار هوتاهے۔ سمجھنے كا كام عقل كے ذريعه هوتاهے اور اپني عقل كے اوپر اس نے اپني خواهشات كا پرده ڈال ركھا هے۔ تاهم مدعو كا رويه خواه كچھ بھي هو، داعي كو اپنا دعوتي كام هر حال ميں جاري ركھنا هے، يهاں تك كه اتمام حجت كے مرحلے تك پهنچ جائے۔
حق كا داعي اگر چه ايك انسان هوتا هے مگر حق كا معامله خدا كا معامله هے۔ آدمي حق كے داعي كا انكار كركے سمجھتا هے كه وه حق كي زد سے بچ گيا۔ حالانكه عين اسي وقت وه خداكي زد ميں آجاتا هے۔ آدمي اگر اس راز كو جانے تو وه حق كے داعي كو نظر انداز كرتے هوئے كانپ اٹھے گا۔ كيونكه وه جانے گا كه حق كے داعي كو نظر انداز كرنا خود حق كو نظر انداز كرنا هے اور حق كو نظر انداز كرنا خدا كو نظر انداز كرنا هے۔
حضرت موسيٰ نے فرعون كے سامنے توحيد كي دعوت پيش كي اور عصا اور يدِ بيضا كا معجزه دكھايا۔ اس كو ديكھ كر فرعون اور اس كے درباري هنسنے لگے۔ اس كي وجه يه تھي كه انھوں نے موسيٰ كو ان كي دعوت ميں نهيں ديكھا بلكه ان كي شخصيت ميں ديكھا۔ انھيں نظر…
…بنے بنائے نقشه كو توڑنا تھا۔ اور بهت كم آدمي ايسے هوتے هيں جو اپنے بنے هوئے نقشه كو توڑ كر حق كا ساتھ دينے كي جرأت كريں۔ چنانچه فرعون پر جب انكار حق كے نتيجه ميں خدا كا عذاب آيا تو اس كي قوم بھي اسي كے ساتھ عذاب الٰهي كي زد ميں آگئي۔
حق كا انكار كرنے والوں نے هميشه حق كے داعي كي معمولي حيثيت كو ديكھ كر حق كا انكار كيا هے۔ مصر ميں فرعون كي حيثيت يه تھي كه وه ملك كا حكمراں تھا۔ دريائے نيل سے نكلي هوئي نهريں اس كے حكم سے جاري تھيں۔ عزت كے تمام سروسامان اس كے گرد جمع تھے۔ اس كے مقابله ميں حضرت موسي بظاهر ايك معمولي انسان دكھائي ديتے تھے۔ اسي فرق كو پيش كركے فرعون نے اپني قوم كو بهكايا۔ حضرت موسي كا انكار كرنے ميں قوم اس كے ساتھ هوگئي۔
بظاهر اسي قسم كے دلائل كي بنياد پر فرعون كي قوم نے فرعون كا ساتھ ديا۔ مگر حقيقت يه هے كه اس كي وجه قوم كي اپني كمزوري تھي، نه كه فرعون كے دلائل كي مضبوطي۔ اس وقت حضرت موسي كا ساتھ دينا اپني زندگي كے بنے بنائے نقشه كو توڑنا تھا۔ اور بهت كم آدمي ايسے هوتے هيں جو اپنے بنے هوئے نقشه كو توڑ كر حق كا ساتھ دينے كي جرأت كريں۔ چنانچه فرعون پر جب انكار حق كے نتيجه ميں خدا كا عذاب آيا تو اس كي قوم بھي اسي كے ساتھ عذاب الٰهي كي زد ميں آگئي۔
حق كا انكار كرنے والوں نے هميشه حق كے داعي كي معمولي حيثيت كو ديكھ كر حق كا انكار كيا هے۔ مصر ميں فرعون كي حيثيت يه تھي كه وه ملك كا حكمراں تھا۔ دريائے نيل سے نكلي هوئي نهريں اس كے حكم سے جاري تھيں۔ عزت كے تمام سروسامان اس كے گرد جمع تھے۔…
…بنے بنائے نقشه كو توڑنا تھا۔ اور بهت كم آدمي ايسے هوتے هيں جو اپنے بنے هوئے نقشه كو توڑ كر حق كا ساتھ دينے كي جرأت كريں۔ چنانچه فرعون پر جب انكار حق كے نتيجه ميں خدا كا عذاب آيا تو اس كي قوم بھي اسي كے ساتھ عذاب الٰهي كي زد ميں آگئي۔
حق كا انكار كرنے والوں نے هميشه حق كے داعي كي معمولي حيثيت كو ديكھ كر حق كا انكار كيا هے۔ مصر ميں فرعون كي حيثيت يه تھي كه وه ملك كا حكمراں تھا۔ دريائے نيل سے نكلي هوئي نهريں اس كے حكم سے جاري تھيں۔ عزت كے تمام سروسامان اس كے گرد جمع تھے۔ اس كے مقابله ميں حضرت موسي بظاهر ايك معمولي انسان دكھائي ديتے تھے۔ اسي فرق كو پيش كركے فرعون نے اپني قوم كو بهكايا۔ حضرت موسي كا انكار كرنے ميں قوم اس كے ساتھ هوگئي۔
بظاهر اسي قسم كے دلائل كي بنياد پر فرعون كي قوم نے فرعون كا ساتھ ديا۔ مگر حقيقت يه هے كه اس كي وجه قوم كي اپني كمزوري تھي، نه كه فرعون كے دلائل كي مضبوطي۔ اس وقت حضرت موسي كا ساتھ دينا اپني زندگي كے بنے بنائے نقشه كو توڑنا تھا۔ اور بهت كم آدمي ايسے هوتے هيں جو اپنے بنے هوئے نقشه كو توڑ كر حق كا ساتھ دينے كي جرأت كريں۔ چنانچه فرعون پر جب انكار حق كے نتيجه ميں خدا كا عذاب آيا تو اس كي قوم بھي اسي كے ساتھ عذاب الٰهي كي زد ميں آگئي۔
موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن…
…برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه دريا كے كنارے پهنچ گئے۔ اس وقت دريا كا پاني هٹ گيا اور آپ كے لیے پار هونے كا راسته نكل آيا۔
فرعون اپنے لشكر كے ساتھ حضرت موسيٰ اور بني اسرائيل كا پيچھا كرتا هوا آرها تھا۔ اس نے جب دريا ميں راسته بنتے هوئے ديكھا تو اس نے سمجھا كه جس طرح موسيٰ پار هوگئے هيں وه بھي اسي طرح پار هوسكتا هے۔ مگر دريا كا راسته ساده معنوں ميں صرف راسته نه تھا بلكه وه خدا كا حكم تھا اور خدا كا حكم اس وقت موسيٰ كے ليے نجات كا تھا اور فرعون كے ليے هلاكت كا۔ چنانچه جب فرعون اور اس كا لشكر دريا ميں داخل هوئے تو دونوں طرف كا پاني برابر هوگيا۔ فرعون مع اپنے لشكر كے اس ميں غرق هوگيا۔
دنيا كي نعمتيں جس كو ملتي هيں اكثر وه ان كو اپني ذاتي چيز سمجھ ليتا هے حالانكه كسي كے لیے بھي وه ذاتي نهيں هيں۔ خدا جب چاهے كسي كو دے اور جب چاهے اس سے چھين كر اسے دوسروں كے حوالے كردے۔
لمبي مدت تك حضرت موسيٰ کی تبليغي كوششوں كے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت هوگيا۔ اب يه ثابت هوگيا كه وه مجرم هيں۔ اس وقت حضرت موسيٰ كو حكم هوا كه وه اپني قوم (بني اسرائيل) كے ساتھ مصر سے نكل كر باهرچلے جائيں۔ حضرت موسيٰ روانه هوئے يهاں تك وه…
…فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔
قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔
حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔
قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے…
…یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً…
…ء) نے نصرانیت قبول کرلی جس کی سلطنت شام و فلسطین تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے بعد رومی رعایا بہت بڑی تعداد میں عیسائی ہوگئی۔ چنانچہ یہود ان کے محکوم ہوگئے۔ موجودہ زمانہ میں بھی یہودیوں کی حکومت اسرائیل ہر اعتبار سے عیسائیوں کے ماتحت ہے۔
انسان کے سوا جو کائنات ہے اس میں کہیں تضاد نہیں۔ اس دنیا میں لکڑی ہمیشہ لکڑی رہتی ہے۔ اور جو چیز اپنے آپ کو لوہا اور پتھر کے روپ میں ظاہر کرے وہ حقیقی تجربہ میں بھی لوہا اور پتھر ہی ثابت ہوتی ہے۔ انسان کو بھی ایسا ہی بننا چاہیے۔ انسان کے کہنے اور کرنے میں مطابقت ہونی چاہیے، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ آدمی کو اپنے کہنے کی یہ قیمت دینی پڑے کہ ہر قسم کی دشواریوں کے باوجود وہ صبر کا پہاڑ بن جائے۔
انسان کے سوا جو کائنات ہے اس میں کہیں تضاد نہیں۔ اس دنیا میں لکڑی ہمیشہ لکڑی رہتی ہے۔ اور جو چیز اپنے آپ کو لوہا اور پتھر کے روپ میں ظاہر کرے وہ حقیقی تجربہ میں بھی لوہا اور پتھر ہی ثابت ہوتی ہے۔ انسان کو بھی ایسا ہی بننا چاہیے۔ انسان کے…
Quran has to be re-revealed today.
مگراصل یہ ہے کہ یہ کہاجائے کہ— ضرورت ہے کہ آج قرآن کی دوبارہ توضیح کی جائے
Quran has to be re-defined today.
صحیح طریقِ کار
اس ناکامی کا راز یہ ہے کہ فلسفیوں کو اپنی تلاش کے لیے صحیح میتھڈالوجی کی دریافت نہ ہوسکی۔ قرآن میں صحیح طریقِ کار (methodology)کی نشاندہی کی گئی تھی۔ لیکن اس میتھڈالوجی کو انسان صرف اس وقت دریافت کرسکا، جب کہ اٹلی کے سائنس داں گلیلیو گلیلی (1564-1642)نے دوربین(telescope) کو فلکیاتی مطالعے کےلیے استعمال کیا۔ گلیلیو گلیلی کو ماڈرن سائنس کا موجد (father of modern science) سمجھا جاتا ہے۔ جدید سائنس کا آغازاس وقت ہواجب انسان نے 1608ء میں ابتدائی طور پر دوربین ایجاد کی۔ گلیلیو نے 1609ءمیں دوربین کو مزید ڈیولپ کیا، اور پہلی بار دوربین کے ذریعے شمسی نظام (solar system) کا مطالعہ کیا۔
اس معاملے کا آغاز حقيقتاً ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیغمبر موسیٰ کے تجربےسے ہوا۔ یہ قصہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے
گلیلیو گلیلی
راقم الحروف کا خیال ہے کہ اس بالواسطہ طریقِ کار کا آغاز گلیلیو کے زمانے میںہوا، جب کہ گلیلیو نے دوربین کا استعمال کیا۔ یعنی دور بین کے ذریعے پہلی بار وہ سائنسی طریقِ کارشروع ہوا، جو حقیقت اعلیٰ کی معرفت کے لیے ضروری ہے۔
چنانچہ کوانٹم فزکس (quantum physics)کے زمانے میں یہ ثابت ہوا کہ مادہ (matter) کا آخری جزء سب ایٹمک پارٹکل (subatomic particle) ہے، اور سب ایٹمک پارٹکل براہِ راست طور پر قابلِ مشاہدہ نہیں۔ یہ سب ایٹمک پارٹکل مسلسل طور پر حرکت کی حالت میں…
…ان گناہوں سے ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش ہے، جن کی طرف انسان کا نفس بشری تقاضوں کے تحت مائل ہوتا ہے اور ایسے احکام کی تعمیل پر آمادہ کرنا جن کی ادائیگی شاق ہوتی ہے۔ یا ان چیزوں پر صبر کی تلقین جن سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتاہے۔
اس کے بعد تواصی کے لیے حق و صبر کی حکمت بتاتے ہوئے لکھتے ہیں
لِأَنَّ الأَوَّلَ عِبَارَةٌ عَنْ رُتْبَةِ الْعِبَادَةِ الَّتِي هِيَ فِعْلُ مَا يَرْضَى بِهِ اللهُ تَعَالَى، وَالثَّانِي عَنْ رُتْبَةِ الْعُبُودِيَّةِ الَّتِي هِيَ الرِّضَا بِمَا فَعَلَ اللهُ تَعَالَى (تفسير أبي السعود، جلد9،…
حضرت موسیٰ اورحضرت ہارون نے جب فرعون مصر کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو اس نے کہا کہ تم دونوں چاہتے ہوکہ زمین میں بڑائی تمھارے لیے ہو(یونس،10:78)۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے اپنی دعوتی تقریر میںصرف خدا کی بڑائی بیان کی تھی پھر فرعون نے اس کو اس معنی میں کیوں لے لیا کہ موسیٰؑ اوراس کے بھائی خود اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔اس نے خدا کی بڑائی کی بات کو خود متکلم کی بڑائی کے ہم معنی کیوں سمجھ لیا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ فرعون خدا کی بڑائی سے واقف نہ تھا۔وہ صرف انسان کی بڑائی کو جانتا تھا۔اس کو بس اتنی ہی خبر تھی کہ انسان بڑے ہواکرتے ہیں۔اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ خداسب سے بڑاہے۔
…رکھتے ہیں۔ غالباً آخری تخلیقی کتاب جو مسلم دنیا پیش کر سکی وہ مقدمہ ابن خلدون ہے۔ اس کے بعد پچھلے چھ سو سال کے اندر جو کتابیں لکھی یا چھاپی گئی ہیں وہ تقریباً سب کی سب روایتی اور تقلیدی انداز میں ہیں۔ نہ کہ تخلیقی اور اجتہادی انداز میں۔
مثال سے اس معاملہ کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، موسیٰؑ کا ہم زمانہ مصری بادشاہ سمندر میں غرق کر دیا گیا تھا۔ قرآن میں ہے کہ اللہ نے اس فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا — ’’پس آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے ،اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں‘‘ (10:92) ۔
اس آیت میں ایک حتمی اعلان تھا کہ فرعون کا جسم معجزاتی طور پر محفوظ رکھا جائے گا ، تاکہ اہل اسلام اس کو استعمال کر کے بعد کی انسانی نسلوں کے سامنے کتاب الٰہی کی صداقت کا اظہار کر سکیں۔ یہ علمی خزانہ مصر کے اہرام میں محفوظ تھا۔ مگر عجیب بات…
دونوں جگہوں کا فرق اس سے واضح ہے کہ مکہ میں ابو لہب کی بیوی کے لیے ممکن تھا کہ وہ آپ کی مذمت میں اس قسم کے اشعار کہے اور ان کو مکہ کی آبادی میں چل پھر کر گائے کہ محمد قابل مذمت ہیں۔ ہم نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا
مُذَمَّمًا عَصَيْنَا، وَأَمْرُهُ أَبَيْنَا
دوسری طرف نبوت کے تیرھویں سال جب آپ اپنے رفیق ابوبکر بن ابی قحافہ کے ساتھ مدینہ پہنچے تو وہاں دونوں کا استقبال انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ(مسند احمد، حدیث نمبر13318) کے الفاظ سے کیا گیا، یعنی آپ دونوں امن کے ساتھ ہمارے سردار کی…
دعوت الی الاسلام — وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعى إِلَى الْإِسْلامِِ (61:7)۔ یعنی، اس سے بڑا ظالم کون ہے کہ اس کو خدا کی طرف بلایا جائے اور وہ خدا پر بہتان باندھے۔
تبلیغ ما انز ل اللہ — يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكََ (5:67)۔ یعنی، اے رسول خدا کی طرف سے جو کچھ تمہاری طرف اتارا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دے۔
تذکیر بایام اللہ — وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللهِ ( 14:5)۔ یعنی، (موسیٰ کو ہم نے بھیجا کہ) لوگوں کو اللہ کے دنوں کی یاد دلاؤ۔
…عظیم فطری امکان کے واقعہ نہ بننے کی سب سے بڑی ذمے داری مردوں پر عائد ہوتی ہے۔ مردوں کا یہ حال ہے کہ وہ عورت کو صرف گھرکا ایک ساتھی سمجھتے ہیں، وہ اس کو ذہنی رفیق کے روپ میں نہیں دیکھتے۔ اس کا نقصان دونوں کو سنگین صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔
خطاب کے بعد سوال اور جواب کا وقفہ تھا۔ اساتذہ اور طالبات کی طرف سے بہت سے سوالات آئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ نے النساء شقائق الرجالوالی حدیث کا حوالہ عورت اور مرد کے درمیان عمومی برابری کے لیے دیا ہے۔ حالاں کہ یہ روایت کتاب الطہارۃکے تحت آئی ہے۔
میںنے کہا کہ فہمِ حدیث کا ایک اصول ہے کہ کوئی حدیث قریبی سیاق کے اعتبار سے ایک خاص مفہوم میں ہوسکتی ہے لیکن اسی کے ساتھ اس کا ایک توسیعی مفہوم بھی ہوتا ہے۔ یہ حدیث ایک سوال کے جواب میں آئی ہے۔ سوال ہمیشہ کسی مخصوص صورت حال کی نسبت سے ہوتا…
…مادی معیارِ استدلال پر بظاہر ثابت نہیںہوتی تھیں، اِس لیے مذہبی حقیقتوں کو غیر علمی قرار دے دیا گیا۔ لیکن علم کا دریا مسلسل آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب کہ خود سائنس مادی علم کے بجائے عملاً غیرمادّی علم کے ہم معنی بن گئی۔
پچھلی صدیوں کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس کے ارتقا کے ذریعے پہلی بار استدلال کی ایک ایسی علمی بنیاد وجود میں آئی جو عالمی طورپر مسلّمہ علمی استدلال کی حیثیت رکھتی تھی، پھر اِس میں مزید ارتقا ہوا، اور آخر کار سائنس ایک ایسا علم بن گیا جو مسلّمہ عقلی بنیاد پر یہ ثابت کررہا تھا کہ کائنات ایک بالاترشعور کی کارفرمائی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا کہ — کائنات کا مادّہ ایک ذہن ہے
The stuff of the world is mind-stuff. (Eddington)
…اِنھیں میں حضرت یوسف پیدا ہوئے، جو حضرت یعقوب کے بیٹے تھے۔ حضرت یوسف کے ساتھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہ مصر پہنچ گئے۔ اُس زمانے میں وہاں جس بادشاہ کی حکومت تھی، وہ حضرت یوسف پر مہربان ہوگیا اور اُن کو اپنی حکومت میں ایک بڑا عہدہ دے دیا۔
پھر حضرت یوسف کو جب مصر میں استحکام حاصل ہوا، تو انھوںنے اپنے اہل خاندان، بشمول اپنے والد حضرت یعقوب، سے کہا کہ آپ لوگ فلسطین چھوڑ کر مصر آجائیں۔ اِس طرح یہ لوگ مصر جاکر وہاں آباد ہوئے۔ وہاں ان کی نسل کافی بڑھی، یہاں تک کہ وہ مصر کی ایک با اثر قوم بن گئے۔
حضرت یوسف کے بعد مصر میں سیاسی انقلاب آیا، اور قدیم بادشاہ (Hyksos Kings) کے بجائے ایک نیا خاندان، مصر کا حکم راں بن گیا جس نے فرعون (Pharaoh) کو اپنے خاندانی لقب کے طورپر اختیار کیا۔ فرعون کی اِسی حکومت کے زمانے میں بنی اسرائیل پر…
Quran has to be re-revealed today.
مگراصل یہ ہے کہ یہ کہاجائے کہ — ضرورت ہے کہ آج قرآن کی دوبارہ توضیح کی جائے
Quran has to be re-defined today.
…ذہن کے ساتھ زندگی گزارے، اور تجربات سےسبق سیکھے تو وہ ہر شعبے میں کامیاب زندگی گزار سکتاہے۔ آدمی کے اندر سیکھنے کا جذبہ موجود ہو تو وہ نہ صرف یہ کرے گا کہ اپنے تجربات سے سبق لے، بلکہ وہ دوسروں کے تجربات سے بھی بھر پور سبق لیتا رہے گا۔
تجربہ گویا عملی مطالعہ (practical study) ہے۔ ہر تجربہ عمل کی زبان میں کتاب زندگی کاایک صفحہ ہوتا ہے۔ ہر تجربہ عمل کی زبان میں کلاس روم کا ایک سبق ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے پوری دنیا تجربات اور مشاہدات کی ایک عظیم لائبریری ہے۔ آپ اپنے ذہن کو کھلا رکھیے، آپ اپنے اندر سیکھنے کا مزاج (learning spirit) پیدا کیجیے، پھر آپ دیکھیں گے کہ پوری دنیا آپ کے لیے ایک عظیم تعلیمی درس گاہ بن گئی ہے۔
دیباچہ
…مسئول ... ومن مفاخر الاسلام ايضا انه ليس رهبانية وانما هودين حياة معتدلة (اسلام کی قابل فخر باتوں میں سے یہ ہے کہ وہ مسئلویت کا دین ہے۔ اسی طرح اسلام کی قابل فخر باتوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ رہبانیت کا دین نہیں ، وہ معتدل زندگی کا دین ہے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے کبھی فخر کی زبان استعمال نہیں کی۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کے مسلمان ہیں جو اس قسم کی زبان بولتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کےمسلمانوں نے چوں کہ اسلام کو اپنے فخر کی چیز بنا رکھا ہے، اسی لئے وہ ان کے یہاں عمل کی چیز نہ بن سکا۔فخر کی نفسیات صرف جھوٹی تعلٰی کا جذبہ ابھارتی ہے، وہ آدمی کے اندر کبھی عمل کا جذبہ بیدار نہیں کرتی۔
26 جنوری 1989
23 ستمبر 1989
کچھ اہل حدیث حضرات ملاقات کے لئے آئے ۔انھوں نے کہا کہ ہم الرسالہ کے قاری ہیں ۔ مگر آپ اپنے رسالہ میں فقہی مسائل پر کچھ نہیں لکھتے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ رفع یدین اور آمین بالجہر اور آمین بالسر جیسے مسائل پر الرسالہ میں کچھ نہیں ہوتا۔
میں نے کہا کہ زور اور تاکید کی چیزیں اساسات دین ہیں نہ کہ فروعات دین۔ حدیث میں آیا ہے کہ انما الاعمال بالنیات ۔ایسی کوئی حدیث نہیں جس کے الفاظ یہ ہوں کہ انما الاعمال بالمسائل ۔یہ ( Shift of emphasis) ہے کہ لوگ اساسی باتوں پر زور دینے کے…
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
Spirituality in Islam
Tell Me About Prophet Musa
اس کانفرنس میں ونسنٹ کارنیل (Vincent J. Cornell)سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک مسیحی عالم ہیں۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ انہوں نے اسلام اور قرآن کا صرف نام سنا ہے، انہوں نے اس کا مطالعہ نہیں کیا۔ اسلام کے بارے میں ان کی معلومات صرف ان پروگراموں…
PROPHET MUHAMMAD
Prophet Muhammad was the final Prophet for all mankind. Through him Islam’s original sources were preserved: God’s Book, the Quran was revealed and preserved, and his traditions, Hadith and Sunnah were recorded.
…2008 کو انڈیاانٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک پروگرام ہوا۔ اِس میں بڑی تعداد میں ہندواور مسلمان دونوں طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ پروگرام صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لیے کیا گیا تھا۔ اِس کا عنوان یہ تھا:
The Message of the Prophet Muhammad.
ایک گھنٹے کی تقریر میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی پیغام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ مثلاًتوحید، عالمی اخوت، امن اور انسانی ہمدردی، وغیرہ۔ لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا۔ اِس موقع پر تمام آنے والوں کو اسلامی لٹریچر بھی…
…a prophet speaks in the name of the Lord, if the word does not come to pass or come true, that is a word that the Lord has not spoken; the prophet has spoken it presumptuously. You need not be afraid of him. THE BIBLE Deuteronomy 18: 15-22
These words of Moses are clearly a prediction. Here, he predicts that after him, a prophet like him would appear. The entire history after the Prophet Moses indicates that there was only one prophet like him —and that was Muhammad Ibn Abdullah.
Christians take this prophecy of Moses to apply to Jesus, although Jesus was in many respects in no way like Moses.
مطالعہ سیرت(کتابچہ)
پیغمبر اسلام
عظمت صحابہ
…emigrated and were expelled from their homes, who suffered persecution in My cause, who fought and were killed. I will certainly admit them to Gardens through which rivers flow, as a reward from God: with God is the best reward.’” (3: 195)
Words of the Prophet Muhammad
The first four of the following sayings of the Prophet Muhammad stress the high standard of conduct which a man is meant to maintain in his relations with women:
... Those that have faith and do good works, both men and women, shall enter the Gardens of Paradise and receive blessings without measure. (40:20)
Words of the Prophet Muhammad
The following traditions of the Prophet indicate the elevated function of women in Islam:
پیغمبر کی نصیحت
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: قال أنس بن مالک، قال لی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: یا بنی، إن قدرت أن تصبح وتمسی لیس فی قلبک غش لأحد فافعل(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2678)۔ انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے…
…آپ كھلے طورپر اِس دعوتى امكان كو استعمال كريں۔ اب آپ نے يه كيا كه مدينه سے تمام عرب قبائل كى طرف وفود بھيجنے شروع كيے۔ وفود كا يه طريقه بھى قديم زمانے ميں ايك نيا طريقه تھا۔ يه طريقه كامياب هوا اور بهت كم مدت ميں پورا عرب اسلامائز هوگيا۔
پيغمبر اسلام كا مشن
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم انسان كى لمبى تاريخ كى ايك درميانى كڑى كى حيثيت ركھتے هيں۔ آپ سے پهلے كثير تعداد ميں خدا كے پيغمبر آئے ۔ اِن پيغمبروں كے زمانے ميں بلا شبه توحيد كا فكرى اظهار هوا، ليكن توحيد كى بنياد پر عملاً كوئى فكرى…
Unlike the other founders of major religions, the Prophet Muhammad was born in the full light of history.
پيغمبر اسلام كا مشن
پيغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم كا خصوصى مشن كيا تھا، اس كو قرآن كى دو آيتوں ميں اِس طرح بيان كيا گياهے يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ، هُوَ…