Person
Prophet Ibrahim
Prophet Abraham, who preached monotheism in ancient Iraq
Mentioned in 99 book passages
and 37 lecture moments.
Cite / permalink: entity/person/prophet-ibrahim
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…وہ حالات ہی ختم ہو گئے جن میں دعوت حق کا کام ایک انتہائی مشکل کام بن گیا تھا۔ اب دعوت حق کا وہ کام ایک سادہ اور آسان ہی ہوئے میں کام بن چکا ہے جس کے لئے اٹھنے والوں کو قدیم زمانہ میں فرعون کے اس چیلنج کا سامنا کرناہے سامنا کرنا پڑا تھا :
میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا۔ (شعراء۔49) اسی طرح اس انقلاب نے قدیم زمانہ کے اس فکری ڈھانچہ کو بدل دیا جس نے قیاسات اور تو ہمات کو علم کا درجہ دے رکھا تھا ۔ ۔ کائنات میں چھپی ہوئی خدا کی تصدیقی نشانیاں لوگوں کے سامنے آگئیں ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دعوت حق کا وہ کام جس کے لئے اس سے پہلے معجزاتی استدلال کی ضرورت ہوتی تھی ، اب ممکن ہو گیا ہے کہ خود علم انسانی کے ذریعہ اس کو ثابت اور مدلل کیا جاسکے ۔
تاریخ کا رخ موڑنے کا یہ عمل جو ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا ، موجودہ زمانہ میں وہ اپنی آخری انتہا کو پہنچ چکا ہے ۔ خدا کے دین کی خاطر کام کرنے والوں کے لئے اب خود انسانی اسلحہ خانہ میں ہر قسم کے تائیدی ذرائع موجود ہیں ۔ قانونی اور…
اہل کتاب سے استفادہ
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِی إِلَیْہِمْ فَاسْأَلُوا أَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (16:43)۔ یعنی اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔
مفسرین نے اہل الذکر سے اہل کتاب مراد لیے ہیں،یا وہ لوگ جو پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے تاریخی حالات کا علم رکھنے والے ہیں۔ مگر توسیعی معنی کے اعتبار سے اس سے مراد موجودہ زمانے کے جدید تعلیم یافتہ یہودی اور مسیحی علما ہیں۔ اس آیت سے…
رَمی جمار کا سبق
رمی جمار کا لفظی مطلب ہے، کنکری سے مارنا۔ رمی جمار یا رمی، حج سے متعلق ایک اسلامی عمل ہے۔ حج کرنے والادورانِ حج جمرات کے مقام پر تین علامتی شیطانوں کو کنکر مارتا ہے۔ یہ حج کا ایک رکن ہے۔ حج کے دنوں میں ذوالحجہ کی دس، گیارہ اور بارہ تاریخ کو یہ عمل کیا جاتا ہے، اس میں ہر حاجی پر لازم ہے کہ تین شیطانوں کو سات سات کنکر ترتیب وار مارے۔ یہ عمل اسلام میں پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے طور پر جاری ہے۔
رمی جمار کی حیثیت پہلے بھی علامتی تھی، اور آج بھی ا س کی حیثیت علامتی ہے۔ رمی جمار کی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی اسلامی عمل کے وقت شیطان آدمی کے دل میں وسوسہ ڈالے ، شیطان آدمی کو اسلامی عمل سے باز رکھنے کی کوشش کرے تو انسان اس وسوسے کو جان…
…نزدیک اہل کتا ب ہیں۔’’پوچھ لو‘‘ کا مطلب مطلق معنی میں اہل کتاب کے پاس جاکر ان سے پوچھنا نہیں ہے، بلکہ توسیعی اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس علم و تحقیق کے میدان میں مسلمان پیچھے رہ گئے ہیں، اس میں وہ اہل کتاب کی تحقیقات سے فائدہ اٹھائیں۔
مثلا ًیہ کہ قرآن میں بہت سی تاریخی حقیقتوں کا بیان ہے۔ پیغمبر نوح کی کشتی، پیغمبر ابراہیم ،پیغمبر موسیٰ (علیہم السلام( اور فرعون کا واقعہ، وغیرہ۔ یہ تاریخی حقیقتیں بائبل میں بھی مذکورہیں۔ دورِ جدید میں جو نئے سائنسی علوم وجود میں آئے ہیں، ان میں سے ایک علم الآثار (Archaeology) بھی ہے۔
آرکیا لوجی ایک ڈسپلن ہے، جس کے ذریعےماڈرن سائنسی اصول کی روشنی میں قدیم انسانی تاریخ، ثقافت اورمحفوظ رہ جانے والی باقیات (remnants) وغیرہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ کتابت کے آغاز سے قبل قدیم حجری دور میں جو تہذیبیں دنیا میں موجود تھیں، ان…
حکمتِ رسول
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت معلمِ دین کی ہے، یعنی دینِ خداوندی کی تعلیمات سے انسان کو باخبر کرنا۔ اس سلسلے میں قرآن میں دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں— کتاب اور حکمت۔ کتاب سے مراد قرآن ہے۔ یعنی وہ سب جو پیغمبر اسلام پر بذریعہ وحی اترا ہو، اور وہ محفوظ طور پر مابین الدفتین، ہمارے پاس موجود ہو۔اس مجموعے کو قرآن بھی کہا جاتا ہے، اور کتاب اللہ بھی۔ اس کتاب کا متن عربی زبان میں محفوظ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو تعلیم قرآن میں لفظاً موجود نہ ہو، اس کے بارے میں کیا اصول ہے۔ انھیں دوسری تعلیمات کو حکمت کہا گیا ہے۔ حکمت سے مراد وہی چیزہے، جس کو انگریزی زبان میں وزڈم (wisdom) کہتے ہیں۔یہ حکمت قرآن کی ملفوظ تعلیمات کے علاوہ ہے۔ یہ…
باقی ماندہ پر پلاننگ
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو ہمیشہ کوئی نہ کوئی نقصان (loss) پیش آتا ہے۔اسی میں سے ایک ہے مال و جائداد کا نقصان (البقرۃ ، 2:155)۔عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی صورت حال پیش آنے پر لوگ صرف ایک ہی بات جانتے ہیں، اور وہ ہے کھوئے ہوئے کو دوبارہ حاصل کرنا۔ اس طریقے کو اختیار کرنے میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنے عمل کا آغاز ہمیشہ ٹکراؤ (confrontation) سے کرنا پڑتا ہے۔ یعنی قابض سے لڑکر کھوئے ہوئے کو دوبارہ حاصل کرنا، اور پھر اپنی تعمیر کا کام کرنا۔ اس طریقۂ کار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے وقت اور توانائی کا ایک بڑا حصہ منفی سرگرمیوں میں گزرجاتا ہے، اور مثبت تعمیر کے لیے اس کے پاس کم وقت بچتا ہے۔
اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ اس مسئلے کا حل اسلام میں یہ بتایا گیا ہے کہ باقی ماندہ حصہ پر پلاننگ (planning on the basis of the remaining part) کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ یہ مسئلہ اللہ کی نظر میں اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس کو ایک ابدی اصول کی صورت…
…ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کے ساتھ عراق سے نکلے، اور مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے آخر کار وہاں پہنچے جہاں آج مکہ آباد ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، آپ کا یہ سفر فرشتہ جبرئیل کی رہنمائی میںطے ہوا (تاریخ الطبری، 1/254)۔
ہاجرہ پیغمبر ابراہیم کی بیوی تھیں۔ اُن سے ایک اولاد پیدا ہوئی جس کا نام اسماعیل رکھا گیا۔ ایک خدائی منصوبہ کے تحت، حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اوراُن کے چھوٹے بچے (اسماعیل) کو عرب میں مکہ کے مقام پر لے جاکر بسا دیا جو اُس وقت بالکل غیر آباد تھا۔ اس واقعہ کے بارہ میں قرآن میںمختصرطورپر یہ حوالہ ملتا ہے:
’’اور جب ابراہیم نے کہا، اے میرے رب، اس شہر کو امن والا بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے، اور جس نے میرا کہا نہ مانا…
اصحابِ رسول
چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ وہاں انھوں نے اپنی معاصر قوم کے درمیان اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ لیکن آپ کی قوم کی کنڈیشننگ اتنی زیادہ پختہ ہوچکی تھی کہ وہ آپ کے پیغام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔ اِس منصوبے کا آغاز اِس طرح ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے گئے اور وہاں اُنھیں اِس غیر آباد ماحول میں بسا دیا۔
اِس خصوصی منصوبے کے ذریعے عرب میںایک نئی نسل پیدا ہوئی۔ اِسی نسل میں 570 عیسوی میں پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اِسی نسل میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جن کو اصحابِ رسول کہاجاتاہے۔ اصحابِ رسول دراصل پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ…
حج کی اسپرٹ
قرآن میں حج کے تعلق سے دو آیتیں آئی ہیں۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے۔ تاکہ وہ اپنے فائدہ کی جگہوں پر پہنچیں اور چند معلوم دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انھیں بخشے ہیں(22:27-28)۔یہاں منافع سے مرادایمانی منافع ہیں۔حج کے موقع پر ان ایمانی منافع کا ذریعہ وہ چیزیں ہیں، جن کو قرآن میں دوسرے مقام پر شعائر اللہ (البقرۃ، 2:158) کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی یادگاریں۔ اللہ کی یادگاروں سے مراد توحید کے مشن کی وہ تاریخی یادگاریں ہیں، جو پیغمبروں کے ذریعے اس علاقے میں قائم ہوئیں۔ حج کے موقع پر جو مراسم ادا کیے جاتے ہیں، وہ سب اسی پیغمبرانہ تاریخ کی یاد دہانی کے لیے ہیں۔
احرام کا مطلب یہ ہے کہ مادی کلچر سے نکل کر آدمی ربانی کلچر میں داخل ہوگیا۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرکے حاجی اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ وہ اُمّ ِاسماعیل کی طرح اپنے آپ کو دینِ توحید کے لیے وقف کرے گا۔ جمرات پر کنکریاں مار کر وہ علامتی…
…کے حصول کے لیے یہ ضرورت تھی کہ دین کے موافق ایک انقلاب آئے۔ اس انقلاب کے لیے موحد انسانوں کی ایک ٹیم درکار تھی۔ مگر کسی نبی کے زمانے میں ایسی ٹیم نہ بن سکی۔ اس لیے پچھلے انبیاء کے زمانے میں ان کا مشن انقلاب (revolution) تک نہیں پہنچا۔
پیغمبر ابراہیم کے ذریعے اللہ نے یہ منصوبہ بنایا کہ خصوصی اہتمام کے ذریعے ایسی مطلوب ٹیم تیار کی جائے۔ اس مقصد کے لیے ساڑھے چار ہزار سال پہلے ابراہیم علیہ السلام نے یہ قربانی کی کہ اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرامیں بسادیا۔ اس کے بعد دوہزار سال سے زیادہ مدت میں توالد و تناسل کے ذریعے صحرائی ماحول میں ایک نئی نسل تیار ہوئی۔ تاریخ میں اس نسل کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے۔ محمد صلى اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اسی نسل کے منتخب افراد تھے۔
مطلوب انقلاب اچانک نہیں ظہور میں آسکتا تھا۔اس کے لیے ضرورت تھی کہ تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع کیا جائے۔ جو انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، مختلف مراحل سے گزرے۔ اور پھر وہ اپنے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچے۔ یہ عمل عرب…
…نہ رہا۔ وقت کی حکومت آپ کو خطرہ کی نظر سے دیکھنے لگی- کیونکہ آپ اس کے پھیلائے ہوئے اِس توہماتی عقیدہ کی تردید کرتے تھے کہ سورج چاند خدائی ہستیاں ہیں اور اُن کی طرف سے کسی کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ زمین پر لوگوں کا بادشاہ بن جائے۔
حضرت ابراہیم نے پرسکون زندگی کے اوپر مصیبت کی زندگی کو ترجیح دی۔ انھوں نے عوام کے درمیان مقبولیت کے مقابلہ میں عوام کے درمیان اجنبی بن جانے کو پسندکرلیا۔ وہ عہدہ اور جائداد کو چھوڑ کر خالی ہاتھ ہوجانے پر قانع ہوگئے۔ بادشاہ وقت کے دربار میں معزز کرسی پر بیٹھنے کے بجائے انھوں نے یہ خطرہ مول لیا کہ بادشاہ کی نظر میں وہ معتوب ہوجائیں اور حکومت کی طرف سے ان کی پکڑ دھکڑ شروع ہوجائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ قوم کے اندر بے عزت کئے گئے۔ پھر آپ کو آگ میں ڈال دیاگیا جس سے اللہ نے آپ کو بچا لیا۔ اس کے بعد آپ کو مجبور کیا گیاکہ آپ عراق کو چھوڑ دیں اور ملک کے باہر چلے جائیں۔
یہاں سے آپ کی زندگی میں ایثار وقربانی کا ایک اور شدید تر مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ ملک کے معزز ترین خاندان کا ایک فرد اس طرح بے سروسامانی کی حالت میں اپنے وطن سے نکلاکہ اس کے ساتھ صرف اس کی بیوی سارہ تھی اور اس کا بھتیجا لوط۔ تین آدمیوں کا یہ…
…میں احسن العمل (best in deeds) ہے- زمین کی حیثیت نرسری کی ہے، اِس لیے یہاں ہر قسم کے پودے اگتےہیں- لیکن جنت کی حیثیت مطلوب منزل کی ہے، اِس لیے وہاں صرف وہی استثنائی افراد بسائے جائیں گے جن کو اُن کے ریکارڈ کی بنیاد پر منتخب کیا جائے-
موجودہ دنیا میں جو انسان پیدا ہوتا ہے، وہ گویا نرسری کا ایک پودا ہے-ایک محدود مدت تک وہ اِس ابتدائی دنیا میں رہتا ہے- اِس دوران اُس کے ساتھ مختلف قسم کے حالات گزرتےہیں- یہ حالات گویا اُس کے لیے تربیتی کورس (training course) ہیں- یہ حالات اس کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرے- موت اِس تربیتی کورس کے خاتمے کا اعلان ہے- جو انسان اِس ملی ہوئی مدت کے دوران اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرلے، اس کو نرسری سے نکال کر دوسری دنیا میں ابدی طورپر بسا دیا جاتا ہے- اور جو لوگ مطلوب انداز میں اپنی تعمیر نہ کرسکیں، اُن کو نرسری سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے گا-
اِس دنیا کے لیے خالق کا نشانہ اجتماعی نہیں ہے، بلکہ انفرادی ہے- اِس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ موجودہ دنیا تعمیر نظام کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ تعمیر شخصیت کے لیے ہے- یہاں صرف تعمیرِ شخصیت ممکن ہے، آئڈیل معنوں میں تعمیرِ نظام یہاں سرے…
اسپریچول تہذیب کے اجزا
مصر کے بادشاہوں نے 2700-2300 قبل مسیح کے درمیان مصر میں بڑی بڑی سنگی عمارتیں بنائیں جو اہرام (pyramids) کے نام سے مشہور ہیں- ہندستان کے بادشاہ شاہ جہاں نے 1630-48عیسوی کے درمیان آگرہ (یوپی) میں تاج محل بنوایا- اِس طرح کی ہزاروں عمارتیں ہیں جو مادی تہذیب کے تاریخی مظاہر کے طور پر دنیا کے مختلف ملکوں میں دکھائی دیتی ہے-اب سوال یہ ہے کہ اسپریچول تہذیب کے تحت جو واقعات ظہور میں آئے، اُن کا ریکارڈ کہاں ہے- کیا وہ اِسی لیے تھے کہ وقتی ظہور کے بعد وہ معدوم ہوجائیں اور ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں-یہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا سوال ہے-
مثال کے طورپر آدم کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ایک معاملے پر نزاع ہوئی- قابیل سخت غصہ ہوگیا- اس نے کہا کہ میں تم کو مارڈالوں گا- اِس کے جواب میں ہابیل نے کہا: لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ…
…(10ہجری) کے موقع پر نازل ہوئی- اِس آیت کا نزول دراصل تاریخ کے ایک دور کے خاتمے اور تاریخ کے دوسرے دو رکے آغاز کا اعلان تھا- یہ اعلان اب پوری طرح واقعہ بن چکا ہے- اگر چہ اہلِ مذاہب اپنے خود ساختہ ذہن کی بنا پر اِس حقیقت سے بے خبر رہے-
اسباب اور انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے جو خدائی منصوبہ بندی کی گئی ، اس کا خاص نشانہ یہ تھا کہ دنیا میں مذہبی جبر کا مکمل خاتمہ ہوجائے، ہر انسان کو یہ موقع ہو کہ وہ مذہب کے معاملے میں اپنے انتخاب (choice) کے لیے مکمل طورپر آزاد ہوجائے- یہ منصوبہ بندی مکمل طورپر ایک غیرسیاسی منصوبہ بندی تھی- اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا، نہ نظری اعتبار سے اور نہ عملی اعتبار سے-
حضرت ابراہیم کے ذریعے جومنصوبہ بندی کی گئی، اس کے دو پہلو تھے — ایک یہ تھا کہ مطلوب صورتِ حال کا ایک ابتدائی نمونہ (prototype) تیار کرنا- اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ میں ایسا عمل (process) جاری…
…institution) اور غیر سیاسی اداروں (non-political institutions) کے درمیان علاحدگی کا معاملہ تھا- یہ علاحدگی اللہ کے منصوبے کےعین مطابق تھی- یہی وجہ ہے کہ اِس معاملے کو قرآن میں احسن القصص (12:3) کہاگیا ہے، یعنی بہترین قصہ (best story) -
قرآن کی اِس آیت میں ’’بہترین قصہ‘‘ سےمراد دراصل بہترین ماڈل (best model) ہے- اللہ تعالی کے نزدیک انسان کی اجتماعی زندگی کا بہترین ماڈل وہی ہے جس کا ایک ابتدائی نمونہ حضرت یوسف کے ذریعے ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں قائم کیاگیا- اِس معاملے کو دوسرے الفاظ میں، اِس طرح کہا جاسکتا ہے کہ قدیم مستبدانہ ماڈل (despotic model) کی جگہ جمہوری ماڈل (democratic model)کو دنیا میں رائج کرنا- کچھ لوگ جمہوری نظام کو لادینی نظام کہتے ہیں، مگر یہ درست نہیں- جدید جمہوری نظام دراصل سیکولرزم کے اصول پر قائم ہے- اس کے مطابق، جمہوریت عدم مداخلت کی پالیسی (policy of non-interference)کا دوسرا نام ہے، یعنی سیاسی اقتدار کے ادارے کا اِس پر راضی ہوجانا کہ وہ اپنے حدود کو انتظامیہ (administration) تک محدود رکھے گا- انتظامِ ملکی سے باہر جو ادارے ہیں، وہ اپنے دائرے میں مکمل طورپر آزاد ہوں گے- مثلاً تعلیم، صحافت، اشاعتی ادارے، اقتصادی سرگرمیاں، مذہب، دعوت وتبلیغ، وغیرہ- اِس میں وہ تمام پُرامن سرگرمیاں شامل ہیں جن کو موجودہ زمانے میں غیر سیاسی سرگرمیاں (non-political activities)یا این جی اوز (NGOs) کی سرگرمیاں کہاجاتاہے-
نئی نسل کی تیاری
…اور آخرت کا پیغام دیا۔ ان کی کوشش سے ان کی قوم کی ایک محدود تعداد اُن پر ایمان لائی،لیکن قوم کی بڑی اکثریت سرکشی پر قائم رہی۔ حضرت نوح نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ — خدایا، میں نے اعلان کے ساتھ بھی کام کیا اور اسرار کے ساتھ بھی (71: 9) ۔
اِس آیت میں اعلان سے مراد قوم سے اجتماعی خطاب ہے،اور اِسرار سے مراد انفرادی سطح پر اُن کو نصیحت کرنا ہے۔ حضرت نوح نے لمبی مدت تک دونوں طریقے سے اپنا دعوتی مشن جاری رکھا، مگر قوم کی سرکشی ختم نہ ہوسکی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا طوفان بھیجا جس میں چند لوگ زندہ بچے جو حضرت نوح کی کشتی پر سوار تھے، بقیہ پوری قوم طوفان میں غرق ہو کر ہلاک ہوگئی۔
کہا جاتا ہے کہ اِس طوفان کے بعد حضرت نوح کے تین بیٹے زندہ بچے جن کا نام —حام، سام، یافث تھا۔ اِنھیں تین بیٹوں سے بعد کی انسانی نسل چلی اور پھر وہ دھیرے دھیرے پوری سطح ارض پر پھیل گئی۔ جب انسانی نسل زمین کے مختلف حصوں میں آباد ہوئی تو ہر…
4 - انفرادی رول (individual role)
ادارتی رول کی ایک معلوم تاریخی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے۔ انھوں نے تقریباً چار ہزار سال پہلے مکہ میں کعبہ (بیت اللہ) کی تعمیر کی۔ یہ کعبہ گویا کہ مذہبِ توحید کا ایک ادارتی مرکز (institutional centre) ہے۔ کعبہ سارے عالم کے موحدین کا مرکز ہے اور قیامت تک وہ موحدین کا مرکز بنا رہے گا۔
خدا کے دین کی لمبی تاریخ میں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم (وفات: 632 ء) کا رول ایک انقلابی رول ہے۔ آپ نے تاریخ انسانی کو ایک نئے دور میں داخل کیا۔ اِس انقلابی عمل میںصحابہ اور تابعین کا رول مددگار رول (supporting role) کی حیثیت…
…نے بائیسکل خریدی اور بیٹے کو دے دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب بیٹے نے مذکورہ الفاظ کہے تو گویا باپ اور بیٹا دونوں ایک ترازو پر آگیے۔ باپ نے محسوس کیا کہ اگر وہ بائیسکل کا انتظام نہ کرے تو گویا اُس کی پدریت (fatherhood)ہی مشتبہ ہوجائے گی۔
باپ اور بیٹے کا یہ واقعہ بندے اور خدا کے معاملے کو بتاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دعا ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے، جو لوٹائی نہیں جاتی۔ یہ وہ دعا ہے جس میںبندے کی پوری ہستی دعا میںڈھل جاتی ہے۔ جب دعا کا قبول ہونا خدا کے لیے بھی اُتنا ہی بڑا مسئلہ بن جاتا ہے ہے جتنا بڑا انسان کے لیے۔
غالباً دعاکی یہی قسم ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ : رُبّ أشعث أغبر مدفوع بالأبواب لو أقسم علی اللہ لأبرّہ (صحیح مسلم، کتاب البر) یعنی بہت سے لوگ ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے ہیں، جن کے کپڑے گرد آلود ہیں، جن کے اوپر لوگوں کے…
…مظاہر میں تبدیل ہو کر عبادت کا صرف ایک ناقص فارم بن گئی۔ یہی وہ ناقص فارم ہے جو آج اسلام کے سوا تمام مذہبوں میں دکھائی دیتا ہے۔ عبادت کے وقت گانا اور بجانا اور تالی پیٹنا اور رقص کرنا یا الفاظ کی جَپ (chanting) کرنا اس کی مثالیں ہیں۔
اسلام میں بھی بعد کے زمانہ میں طرح طرح کی بدعات کی صورت میں عبادت کے فارم کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ مگر یہ بدعات اسلام کے اصل عبادتی فارم کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔
۱۲۔ ایک گفتگو کے ذیل میں میں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ دہلوی نے لکھا ہے کہ جن مختلف چیزوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بتایا جاتا ہے اُن میں سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی حیثیت سنتِ نبوی کی نہیں ہے بلکہ اُن کی حیثیت عادت عرب کی ہے۔…
…دریا آبادی، مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ۔ اس قسم کا مرحلہ پیش آنا کوئی عیب کی بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ روایتی عقیدہ سے گزر کر اعلیٰ معرفتِ حق تک پہنچنے کا ایک مرحلہ ہے۔ وہ لوگ بہت خوش نصیب ہیں جن کو اللہ کی رحمت سے یہ مرحلہ پیش آئے۔
۲۔ میرے ساتھ جو مذکورہ مرحلہ پیش آیا وہ خدا نخواستہ ترک اسلام یا انکار اسلام کا مرحلہ نہ تھا۔ وہ صرف تحقیق مزید کا معاملہ تھا۔ چنانچہ ان سالوں میں بھی میں مسلسل اللہ سے دعا کرتا تھا۔ میں حسب معمول دوسرے مسلمانوں کی طرح نماز و روزہ اداکرتا تھا۔ اور خصوصیت سے قرآن کے ان الفاظ پر غور کیاکرتا تھا جو ایک پیغمبر کے حوالہ سے آئے ہیں: قال اَو لم تُؤمن قال بلیٰ ولکن لیطمئن قلبی (البقرہ ۳۶۰ )
۳۔ جہاں تک صدّام حسین کے بارے میں میرے مشورہ کا معاملہ ہے تو اس میںسائل کی حیثیت ایک فارسی مقولہ کے مطابق، مدّعی سست گواہ چست کی مانند ہے۔ صدام حسین صاحب کویہ مشورہ میںنے آغاز جنگ سے تقریباً ایک مہینہ پہلے دیا تھا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے،…
خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۵۸
۱۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس کی نمائندہ مزونٹیکا نے یکم نومبر۲۰۰۲ کو صدر اسلامی مرکز کا ٹیلی فون پر انٹرویو لیا۔ سوالات کاتعلق کلوننگ اور اسلام سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ علاج کی ضرورت کے لیے جزئی کلوننگ اسلام میں جائز ہے مگر پورے معنوں میں کلوننگ، یعنی انسان کا مثنیٰ بنانا اسلام میں جائز نہیں۔ اس طرح کی کلوننگ سے سارا تمدّنی نظام تباہ ہو جائے گا۔ عجیب بات ہے کہ اہلِ مغرب ایک طرف انسانی آبادی میں اضافہ کو سب سے بڑا مسئلہ بتاتے ہیں اور دوسری طرف انسانی کلوننگ کے ذریعہ انسانی آبادی میںاضافہ کی کوشش کر رہے ہیں۔
۲ سہاراٹی وی (نئی دہلی) میں پرکھ کے پروگرام کے تحت ۳۱ جنوری ۲۰۰۳ کو ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کا موضوع جہاد تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اُنہوں نے جوکچھ کہا اُس کا خلاصہ یہ تھا…
…إِلَّا رِجَالًا نُوحِی إِلَیْہِمْ فَاسْأَلُوا أَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (16:43)۔ یعنی اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔
مفسرین نے اہل الذکر سے اہل کتاب مراد لیے ہیں،یا وہ لوگ جو پچھلی امتوں اور پچھلے پیغمبروں کے تاریخی حالات کا علم رکھنے والے ہیں۔ مگر توسیعی معنی کے اعتبار سے اس سے مراد موجودہ زمانے کے جدید تعلیم یافتہ یہودی اور مسیحی علما ہیں۔ اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک زمانہ آئے گا، جب کہ اہل کتاب وہ باتیں جانیں گے، جن سے مسلم علما زیادہ باخبر نہ ہوں گے، اور ان کے لیے موقع ہوگا کہ وہ اہل کتاب کی جدید تحقیقات سے اپنے دینی علم میں اضافہ کریں۔
اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں یہوداور مسیحی قوموں کے لیے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ وہ اپنے قدیم وطن سے نکل کر ڈائسپورا (diaspora)میں چلے گئے۔پھر ان کو موقع ملا کہ وہ مغرب کے جدید علوم کو سیکھیں۔جدید علوم سے باخبر ہونے کی بنا پر انھوں نے…
…کو چھوڑ کر تمام معلوم پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو صرف ایسے ہی کچھ افراد مل سکے جو خونی رشتہ کی بنا پر ان سے نفسیاتی تعلق رکھتے تھے۔ خونی رشتہ سے باہر کوئی شخص انھیں نہیںملا جو حقیقی معنوں میں ان کا ساتھی بن سکے۔
حضرت ابراہیم کا ساتھ دینے والے صرف ان کے بھتیجےحضرت لوط اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل تھے۔ حضرت لوط کا ساتھ آخر وقت میں صرف ان کی بیٹیوں نے دیا۔ حضرت موسی کے سچے ساتھی صرف حضرت ہارون ثابت ہوئے جو ان کے بھائی تھے۔ حضرت مسیح کو ان کی ماں کے سوا کوئی دوسرا نہ مل سکا۔ دوسرے لوگ جو ملے تھے وہ سب آخر وقت میں انھیں چھوڑ کر بھاگ گئے، وغیرہ۔
پیغمبروں کی تاریخ میں اس اعتبار سے صرف پیغمبر آخر الزماں کا استثنا(exception) ہے۔ ان کو غیر رشتہ داروںمیں بھی ایسے ساتھی ملے ،جو واقعی ساتھی تھے۔ جو ساتھ چھوڑنے کے تمام ممکن واقعات پیش آنے کے باوجود آخر وقت تک ان کے ساتھی بنے رہے۔ مگر…
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محوتماشائے لب بام ابھی
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ ان کے درمیان خیالی قسم کے رھنما اٹھے۔ کوئی اقبال کی طرح شاعر تھا ، کوئی خطیب اور کوئی انشا پرداز۔ ان لوگوں نے حقائق پر دھیان نہیں دیا۔ بس الفاظ کے ذریعہ خیالی تصوریں بناتے رہے۔
مثلا اقبال کا یہ شعر جسے آپ لوگ بڑی دھوم کے ساتھ پڑھتے ہیں ، سراسر لغو ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویریہ بتائی گئی ہے کہ وہ عشق سے سرشار ہوکر بطور خود بھڑکتی ہوئی آگ میں کود پڑے ۔ حالانکہ یہ بات…
…اس وقت کے عراقی بادشاہ نمرود(Nimrod) تک بھی اپنی دعوت پہنچائی۔ لیکن کوئی بھی شخص آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوا، حتی کہ آپ جب اتمامِ حجت کے بعد عراق سے نکلے تو آپ کے ساتھ صرف دو انسان تھے— آپ کے بھتیجے او ر آپ کی اہلیہ۔
حضرت ابر اہیم سے پہلے، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن ان تمام پیغمبروں کے ساتھ یکساں طورپر یہ ہوا کہ لوگ ان کا انکار کرتے رہے۔ انھوںنے پیغمبروں کا استقبال استہزا( یٰسٓ،36:30)کے ساتھ کیا۔
حضرت ابراہیم کے اوپر پیغمبر کی تاریخ کا ایک دور ختم ہوگیا۔ اب ضرورت تھی کہ دعوت الی اللہ کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس منصوبہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا انتخاب کیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کے…
ایک صاحب نے لکھا ہے کہ قرآن میں ایک سے زیادہ بار اتباع ملتِ ابراہیم کا حکم دیا گیاہے۔ یہ ملتِ ابراہیم کیا ہے؟ براہ کرم واضح کریں(ایک قاری الرسالہ، لکھنؤ)۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ہم ملتِ ابراہیم یا ابراہیمی ملت کہتے ہیں، وہ وہی ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تین بڑے آسمانی مذاہب ہیں — دین یہود، دین نصاریٰ، اور دین محمد۔ان تینوں مذاہب کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں امام الناس (البقرۃ، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120)کہا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحبِ کتاب پیغمبر تھے(الاعلیٰ، 87:19)۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیامیں سے حضرت موسی، اور حضرت مسیح صاحب کتاب پیغمبر تھے۔…
…کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی یادگاریں۔ اللہ کی یادگاروں سے مراد توحید کے مشن کی وہ تاریخی یادگاریں ہیں، جو پیغمبروں کے ذریعے اس علاقے میں قائم ہوئیں۔ حج کے موقع پر جو مراسم ادا کیے جاتے ہیں، وہ سب اسی پیغمبرانہ تاریخ کی یاد دہانی کے لیے ہیں۔
احرام کا مطلب یہ ہے کہ مادی کلچر سے نکل کر آدمی ربانی کلچر میں داخل ہوگیا۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرکے حاجی اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ وہ اُمّ ِاسماعیل کی طرح اپنے آپ کو دینِ توحید کے لیے وقف کرے گا۔ جمرات پر کنکریاں مار کر وہ علامتی زبان میں یہ کہہ رہا ہوتاہے کہ میں اسی طرح شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگاؤں گا، جس طرح پیغمبر ابراہیم نے شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگایا ۔ قربانی کرکے حاجی یہ عہد کرتا ہے کہ وہ مادہ پرستی کو چھوڑ کر خدا پرستی کی زندگی اختیار کرے گا۔ عرفات کے میدان میں اکھٹا ہو کر تمام حاجی اس وقت کو یاد کرتے ہیں، جب میدانِ محشر میں اپنا حساب دینے کے لیے حاضر کیے جائیں گے۔آخر میں حاجی پیغمبر ِ اسلام کی اس پکار کو لے کر واپس ہوتا ہے ، جو پیغمبر ِ اسلام نے 1400 سال پہلے کہا تھا:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِی رَحْمَةً لِلنَّاسِ کَافَّةً، فَأَدُّوا عَنِّی (المعجم الکبیر للطبرانی، 20/8)۔ یعنی اللہ نے مجھے تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، اس لیے تم میری طرف سے تمام انسانوں کو میرا پیغام پہنچادو۔ اس میں سبق کا پہلویہ ہے کہ اے مسلمانو، تم لوگ خدا کے دین کی عالمی پیغام رسانی میں سر گرم ہوجاؤ۔ تمھاری دوڑ دھوپ، تمھارا ٹھہرنا اور چلنا، تمھارا چپ ہونا اور بولنا، سب کچھ اسی دعوتی مشن کے لیے وقف ہوجائے۔
حج کو افضل عبادت کہا گیا ہے۔ یہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے۔ حج کی سالانہ عبادت کے دوران جو عمل کیے جاتے ہیں، ان پر غور کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حج اپنے کثیر فوائد کی بنا پر اس قابل ہے کہ اس کو افضل عبادت کہا…
Putting the cart before the horse
یعنی سائنٹفک اسلوب کے ظہور سے پہلے سائنٹفک اسلوب میں بات کرنا۔ قرآن و حدیث میں اعلیٰ معرفت کی باتیں ہیں، لیکن اس کا اسلوب قدیم ہے۔ اگر یہ باتیں جدید اسلوب کلام میں ہوتیں تو اس قسم کی باتیں معاصر مخاطبین کے لیے معمہ بن جاتیں۔ سننے والوں کا ذہن ایڈریس نہ ہوتا، اور کلام میں وہ تاثیر پیدا نہ ہوتی جو مطلوب تھی۔
مثال کے طور پر حضرت ابراہیم چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے۔ قدیم عراق کے بادشاہ سے ان کا ایک دعوتی مکالمہ ہوا۔ اس میں انھوں نےبادشاہ سے ایک بات یہ کہی:فَإِنَّ اللَّہَ یَأْتِی بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِہَا مِنَ…
…انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ خوا ہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرکے اپنے آپ کو ابدی کامیابی کا مستحق بنائے ، اور اگر وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کرتا ہے تو اس کے لیے تخلیقی منصوبہ کے مطابق ابدی ناکامی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔
اللہ رب العالمین نے انسان کو عقل دی۔ اس کے اندر حق اور باطل کی تمیز رکھی۔ اس کے بعد خالق نے یہ انتظام کیا کہ ہر قوم میں اور ہر ہر علاقے میں اپنے رسول بھیجے۔ جو انسان کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں حق اور ناحق کا علم دیتے تھے۔ پیغمبروںنے یہ کام اعلیٰ اتمام حجت کی سطح پر انجام دیا۔ مگر انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ پیغمبروں کی دعوت کا غیر مطلوب جواب دیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: یَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا یَأْتِیہِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا کَانُوا بِہِ َیَسْتَہْزِؤوْنَ (36:30)۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔
اللہ رب العالمین کو اپنے نقشۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق یہ منظور نہیں تھا کہ وہ انسان کی آزادی کا خاتمہ کردے۔ اس لیے اس نے یہ کیا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، ہدایت کا ایک نیا نقشہ بنایا۔ اس نئے نقشے کی تکمیل کے لیے اللہ…
ری پلاننگ ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔ لیکن اس کی کچھ شرطیں ہیں۔ ایک شرط یہ ہے کہ پلاننگ کے دوران کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جو پلاننگ کے عمل (process) میں رکاوٹ ڈالنے والا ہو۔ تاکہ پلاننگ کا عمل بلاتوقف (non-stop) چلتا رہے۔
اس کی ایک مثال کعبہ کی تعمیر کامسئلہ ہے۔ کعبہ کی تعمیرِ اول پیغمبر ابراہیم اور پیغمبر اسماعیل نے تقریباً دو ہزار سال قبل مسیح میں مکہ میں کی۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ مکہ میں تیز بارش ہوئی ، اس کی وجہ سے کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ اس وقت مکہ پر مشرکین کا غلبہ تھا۔ انھوں نے5 ویں صدی عیسوی میں کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی۔ اہل مکہ نے کسی سبب کے تحت کعبہ کی تعمیر ثانی کے وقت اس کو چھوٹا کردیا۔ انھوں نےاس کے ایک حصے کو غیر مسقف حالت میں کھلا چھوڑدیا، جو کہ ابھی تک اسی طرح موجود ہے۔ کعبہ کےابراہیمی نقشے کے مطابق، کعبہ ایک مستطیل (rectangle) صورت کا تھا۔ تعمیر نو کے وقت قریش کے لوگوں نے کعبہ کو چوکور بنادیا۔جب کہ اس سے پہلے وہ مستطیل تھا۔اس کے کچھ حصے کو انھوں کھلا چھوڑ دیا، جس کو اب حطیم کہا جاتا ہے۔کعبہ کے مقابلے میں حطیم کا ایریا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔
کعبہ کے بارے میں پیغمبر اسلام کی ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم قال لعائشة:الم تری أن قومک لما بنوا الکعبة اقتصروا عن قواعد إبراہیم؟، فقلت:یا رسول اللہ، ألا تردہا…
…سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراسلام نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کیا۔جیسا کہ آپ نے بھی لکھا۔ قرآن کے مطابق تمام پیغمبر ہمارے لیے اسوہ ہیں۔ اس اعتبار سے یہ فرق سمجھ میں نہیں آیا۔ وضاحت فرمائیں۔ (عبد العزیز ایڈوکیٹ، کپواڑہ، کشمیر)
حضرت ابراہیم کی بت شکنی کا واقعہ دور دعوت کا نہیں ہے ، بلکہ وہ اتمام حجت کے بعد کا ہے۔ اتمام حجت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب قوم میں کوئی ایمان لانے والا نہیں۔ جب کسی قوم کے بارے میں یہ نوبت آجائے تو وہاں حالات کے اعتبار سے مختلف صورتیں اختیار کی جاتی ہیں۔ انتہائی صورت حال میں کبھی اللہ ان کے خلاف سرزنش کے طور پر کوئی کارروائی کرسکتاہے، یا پیغمبر کوئی صورت بطور آخری حجت کے اختیار کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑنے کی صورت میں کیا۔
کسی قوم میں جب دعوت کے امکانات موجود ہوں تو وہاں بت شکنی جیسی انتہائی تدبیر کے بارے میں سوچنا بھی شریعت دعوت میں امر ممنوع ہے۔ آپ جس زمانے میں ہیں، ہر جگہ دعوت کے مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ آپ کے اپنے علاقے میں بھی اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں…
…یا رب کیف أبلّغ الناس وصوتی لا ینفذہم فقال نادِ وعلینا البلاغ (تفسیر ابن کثیر: 3/216) یعنی اے میرے رب، میں اپنی آواز لوگوں تک کیسے پہنچاؤں گا، اور میری آواز ان تک پہنچنے والی نہیں ہے- اللہ نے فرمایا کہ تم پکارو، پہنچانا ہمارے ذمہ ہے-
کعبہ کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد حضرت ابراہیم نے آواز دی- لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ان کی آواز باہر کے لوگوں تک نہیں پہنچی- پھر اس کا مطلب کیا ہے-یہ بات حال کی خبر کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ مستقبل کے امکان کے معنی میں ہے-اس روایت میں دراصل اللہ کے ایک منصوبے (divine plan)کو بتایا گیا ہے- وہ یہ کہ حضرت ابراہیم اور پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انسانی تاریخ میں ایک عمل (process)جاری ہوگا- اس عمل کی تکمیل پر یہ واقعہ ہوگا کہ اللہ کا ایک بندہ مکہ میں یا کسی دوسرے مقام پر اللہ کی بات کہے گا اور اس کی بات بطور واقعہ ہر جگہ پہنچ جائے گی- یہ دور تاریخ میں آیا- اسی دور کو ابلاغ کا دور (age of communication) کہاجاتاہے- حضرت ابراہیم اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالی کی خصوصی مدد سے، ایسے حالات پیداہوئے جن کے نتیجے میں انسان نے نئی نئی دریافتیں کیں اور آخر کار وہ دور وجود میں آگیا جس کو کمیونیکیشن کا دور کہا جاتا ہے- حضرت ابراہیم کے زمانے میں صرف یہ ممکن ہوتا تھاکہ انسان اپنی زبان سے بولے اور اس کے قریب میں جو لوگ ہیں، اس کی آواز کو سنیں، لیکن اب ٹیکنالوجی کے ذریعہ یہ ممکن ہوگیا ہے کہ انسان ایک مقام پر بولے اور عین اسی وقت پورے گلوب پر بسے ہوئے لوگ اس کی آواز بھی سنیں اور اس کی تصویر بھی دیکھیں- یہ نیا دور اللہ کی توفیق سے وجود میں آیا اور اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ اس کو خدائی مشن کے لیے استعمال کیا جائے-
…اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کی ہے تو اس کو وہاں سے نکال کر جنت میں بسا دیا جائے — موجودہ دنیا اِس لیے ہے، تاکہ یہاں ایک فرد اپنے آپ کو اسپریچول شخصیت کی حیثیت سے تیار (develop) کرے اور پھر جنت میں وہ اسپریچول تہذیب کا ابدی حصہ بن جائے-
جنت کی دنیا انسان کی اصل منزل ہے- موجودہ عارضی دنیا نرسری (nursery) کی مانند ہے- یہاں پیدا ہونے والے عورت اور مرد کی حیثیت گویا نرسری کے پودے کی ہے- اِس محدود مدت میں جو ’’پودے‘‘ صحت مندی کا ثبوت نہ دیں، ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا اور جو ’’پودے‘‘ اپنی نشوو نما کے دوران صحت مند ثابت ہوں، اُن کو باعزت طورپر موجودہ عارضی دنیا سے منتقل کرکے آخرت کی ابدی دنیا میں پہنچا دیا جائے گا، یعنی جنت کی دنیا میں-اِس حقیقت کو ایک اور آیت میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ (67:2) یعنی اللہ، جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے-
اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر بے شمار عورت اور مرد پیدا ہوتے ہیں- وہ محدود مدت تک زندگی گزار کر مرجاتے ہیں، یہ ساری بھیڑ خالق کا مطلوب نہیں- خالق کا مطلوب صرف وہ فرد ہے جو اِس امتحانی دورِ حیات میں یہ ثابت کرے کہ وہ پورے معنوں میں احسن…
…سے ہوئی- انھوں نے کہا کہ اے محمد، اپنی امت کو میرا سلام پہنچا دو- اور اُن کو بتاؤ کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ مٹی ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے اور وہ ایک ہموار میدان ہے - اس کا پودا سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا إلہ إلا اللہ، واللہ أکبر ہے-
2- عن أبی أیوب الأنصاری أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم لیلة أسری بہ مرّ على إبراہیم، فقال من معک یا جبریل، قال: ہذا محمد- فقال لہ إبراہیم: مُر أمتک فلیکثروا من غراس الجنة، فإن تربتہا طیبة وأرضہا واسعة- قال: وما غراس الجنة، قال: لا حول ولا قوة إلا باللہ- (مسند أحمد، رقم الحدیث:7966 )
حضرت ابو ایوب انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات میں حضرت ابراہیم کے پاس سے گزرے- انھوں نے کہا کہ اے جبریل، یہ تمھارے ساتھ کون ہیں- جبریل نے کہا کہ یہ محمد ہیں- حضرت ابراہیم نے آپ سے کہا کہ اپنی امت کو بتاؤ کہ…
There is a woman at the beginning of all great things
تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ قول سب سے زیادہ حضرت ہاجرہ کے اوپر صادق آتا ہے۔ حضرت ہاجرہ سے پہلے دنیا میں نیچر ورشپ کا دور تھا۔حضرت ہاجرہ کے ذریعے انسانی تاریخ میںایک پراسس جاری کیا گیا جس کا نقطۂ انتہا (culmination) پیغمبر اسلام اور اصحابِ رسول کا ظہور تھا، جن کے ذریعے دنیا میں بتدریج سائنٹفک تھنکنگ وجود میں آئی۔اس کا اعتراف فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے ان الفاظ میں کیا ہےکہ اسلام نے زمین کا نقشہ بدل دیا، تاریخ کے روایتی نظام کو ختم کردیا گیا:
(Islam) changed the face of the Globe...the traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne, A History of Europe, London, 1958, p 46)
…نہیں تھا بلکہ وہ پراسس کے آغاز اعلان تھا۔ حضرت ابراہیم کے ذریعہ اس اہم اعلان کا آغاز کیاگیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اعلان فرمایا۔ اس کے بعد آپ کی امت کے لوگ نسل در نسل اعلان کررہے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔
اکثر غلط فہمی اسی لیے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ ایک پراسس کے تحت جاری واقعات کوایک دوسرے سے ملا کر نہیں دیکھتے۔ مثلاً اس معاملہ میں وہ حضرت ابراہیم کے اعلان کو الگ واقعے کی حیثیت سے دیکھیں گے، اور پھر رسول اللہ کےاعلان کو الگ واقعہ سمجھیں گے۔ پھر ان دونوں کو الگ الگ واقعہ سمجھ کر لکھنا اور بولنا شروع کردیں گے۔ یہ غیر علمی نقطہ نظر ہے، اور اکثر حالات میں یہی غیر علمی نقطہ نظر لوگوں کے لیے اصل بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
5 جولائی 1985
…اور ہاجرہ کے ذریعے پیش آئی، اوراس کے انقلابی نتائج کا تجربہ ساری دنیا کو پیش آرہا ہے۔ اس عظیم قربانی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ (37:107)۔ یعنی ہم نے اس کو ایک عظیم قربانی کے عوض چھڑا لیا۔
پیغمبر ابراہیم کا زمانہ تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ وہ قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ اس وقت دنیا میں مطلق شہنشاہیت (despotism) کا دور تھا۔ کچھ سیاسی خاندانوں نے جابرانہ بادشاہت قائم کر رکھی تھی۔ ان کے پاس نہایت طاقت ور فوجیں ہوا کرتی تھیں۔ وہ اپنے خلاف بغاوت کو طاقت سے کچل دیتے تھے۔ اس دور میں دو بڑی بادشاہتیں قائم ہوگئی تھیں— بازنطینی سلطنت (Byzantine Empire) اورساسانی سلطنت (Sassanid Empire)۔
پیغمبر ابراہیم، ان کے بیٹے اسماعیل اور ان کی بیوی ہاجرہ کی غیر معمولی قربانی کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک قوم تیار ہوئی۔ اس قوم کو ایک مستشرق نے نرسری آف ہیروز کا نام دیا ہے۔ یہ قوم ابراہیم اور اسماعیل کی قربانی سے عرب میں بنی، پھر اس قوم…
…لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے، رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔
ایک شخص کے لیے ایمان کا آغاز یہ ہے کہ و ہ پوری سنجیدگی کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے۔ اس مطالعے کے ذریعہ اس کو اسلام کی معرفت(دریافت) حاصل ہو۔ یہ معرفت اتنی گہری ہو کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں۔ اس کا ذہن اس طرح ایڈریس ہو کہ اس کو محسوس ہو کہ میں نے اپنی تلاش کا جواب پا لیا ہے۔ یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ اس کی سچائی کا گواہ بن جائے۔
(2) اقامت دین کےسلسلے میں قابلِ مطالعہ آیت یہ ہے: شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّینِ مَا وَصَّى بِہِ نُوحًا وَالَّذِی أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہِ إِبْرَاہِیمَ وَمُوسَى وَعِیسَى أَنْ أَقِیمُوا الدِّینَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیہِ …
…اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ (المائدہ،5:32)
پیغمبر ابراہیم بن آزر تینوں سامی مذاہب یہودیت، عیسائیت، اور اسلام کے مورث اعلیٰ تھے۔ وہ عراق کے قدیم شہر اُر (Ur)میں پیدا ہوئے۔ وہ 175 سال زندہ رہے، اور 1985 ق م میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ پورے معنوں میں ایک مین آف مشن تھے۔ انھوں نے اپنی لمبی عمر میں اپنا مشن عراق میں اور اطراف کے علاقے میں چلایا۔ مگر اپنے خاندان کے چند افراد (بیوی، بھتیجا،بیٹا) کے سوا کوئی ان کو ساتھی نہیں ملا۔ ان کا مشن تاریخ میں امن کا دور لانا تھا ۔ مشن کے اس انجام کا سبب یہ تھا کہ اس زمانے میں ساری دنیا کے انسانوں میں قبائلی کلچر (tribal culture) کا رواج تھا۔ اس کلچر کے تحت لوگ مسلسل طور پر آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اس کے سوا کسی اور کلچر کو وہ جانتے ہی نہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ قدیم زمانے میں دنیا میں کوئی بڑا تعمیری کام نہ ہوسکا۔ قدیم زمانے کے انسان نے لڑائی کی تاریخیں تو بنائی لیکن وہ امن کی تاریخ بنانے میںناکام رہے۔
اللہ کی ہدایت کے مطابق، حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ تھا، خصوصی تربیت کے ذریعے ایک نئی نسل بنانا۔ یہ صحرائی تربیت (desert therapy) کا طریقہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر عرب کے غیر آباد…
…نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اِس واقعے کی طرف قرآن میں اِن الفاظ میں اشارہ کیاگیاہے: رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم(14:37)۔
ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے زمانے کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ مگر شرک اور بُت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ ہوگیا تھا کہ وہ توحید کے پیغام کو قبول نہ کر سکے۔ حضرت ابراہیم نے ایک سے زیادہ جنریشن تک لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔ مگر اس زمانے میں شرک ایک تہذیب کی صورت اختیار کرکے لوگوں کی زندگی میں اس طرح شامل ہوچکا تھا کہ وہ اس سے الگ ہو کر سوچ نہیں سکتے تھے۔ پیدا ہوتے ہی ہر آدمی کو شرک کا سبق ملنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ ماحول کے اثر سے اُس کا ذہن پوری طرح شرک میں کنڈیشنڈ ہوجاتا تھا۔
اُس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ متمدّن شہروں سے باہر غیر آباد صحرا میں ایک نسل تیار کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اور اسماعیل کو مکہ میں آباد کیا۔اِس صحرائی ماحول…
…جاسکتا ہے کہ کلمہ کی ادائیگی کیا ہے۔ کلمۂ توحید کی ادائیگی دراصل داخلی معرفت کا ایک خارجی اظہار ہے۔ یہ حکم بلا شبہ اسلام کے ارکان میں اولین اہمیت کا حامل ہے، لیکن یہ اہمیت اس کی داخلی معرفت کی بنا پر ہے، نہ کہ صرف لسانی تلفظ کی بنا پر۔
اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔ دوسرے ارکان کی طرح نماز کا بھی ایک فارم ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ فارم قیام اور رکوع اور سجود پر مبنی ہے۔ اسی کے ساتھ نماز کی ایک اسپرٹ ہے، وہ اسپرٹ سرنڈر (surrender) ہے، یعنی اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کردینا۔ خدا کو کامل معنوں میں اپنا مرکز ِ توجہ بنا لینا۔ پورے معنوں میں خدا رخی زندگی (God-oriented life)اختیار کرلینا۔اِسی اسپرٹ کادوسرا نام قرآن میں ذکر ِ کثیر (الاحزاب،33:41) ہے، یعنی خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔ نماز کا مقصد بھی قرآن میں ذکر بتایاگیا ہے (طٰہٰ،20:14) ذکر کامطلب رسمی طورپر صرف کسی قسم کی تسبیح خوانی نہیں، بلکہ ہر موقع پر سچے احساس کے ساتھ خدا کو یاد کرتے رہنا ہے۔
آدمی جب دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو وہ مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات سے گزرتا ہے۔ اس وقت اس کے اندر وہ چیز پیدا ہونا چاہیے جس کو قرآن میںتوسّم (الحجر،15:75) کہاگیا ہے، یعنی ہر دنیوی تجربے کو خدا ئی تجربے میں کنورٹ کرتے رہنا۔ ہر چیز سے…
…اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں امام الناس (البقرۃ، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120)کہا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحب کتاب پیغمبر تھے(الاعلیٰ، 87:19)۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیاءمیں سے حضرت موسی، اور حضرت مسیح صاحب کتاب پیغمبر تھے۔ تاہم ان کی کتابیں بھی آج پوری طرح محفوظ حالت میں نہیں ہیں۔
حضرت محمد نے اسی بارے میں یہ کہا کہ میں اسی دین کو لے کر آیا ہوں جس دین کو لے کر حضرت ابراہیم آئے تھے(النحل، 16:123)۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کا مشن دین ابراہیم کی تجدید کا مشن تھا۔ رسول اللہ کو یہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ آپ کا لایا ہوا دین…
…کہ وہ پیغمبروں کی لمبی کوشش کے باوجود اس کے سحر سے نہ نکل سکا۔ اس منفی تجربے کے بعد اللہ کے حکم کے مطابق، پیغمبر ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ خصوصی تربیت کے ذریعہ ایک نئی قوم بنا ئی جائے۔ جو اپنی فطرت پر قائم ہو۔
وہ منصوبہ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم عراق کو چھوڑ کر اس صحرائی مقام پر جائیں، جہاں اب مکہ آباد ہے، اور یہاں اپنےبیٹے اسماعیل اور اپنی بیوی ہاجرہ کو آباد کریں۔ یہ مقام اس زمانے میں نیچر ورشپ کے ماحول سے بہت دور تھا۔ اس حقیقت کا ذکر پیغمبر ابراہیم کی دعا میں ان الفاظ میں ملتا ہے: رَبِّ اجْعَلْ ہَذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِی وَبَنِیَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَامَ ۔ رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِیرًا مِنَ النَّاسِ (14:35-36)۔یعنی اے میرے رب، اس شہر کو امن والا بنا۔ اور مجھ کو اور میری اولاد کو اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا۔
یہ نیچر ورشپ اس وقت پوری طرح ختم ہوگئی، جب کہ سائنس کی تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ نیچر عامل نہیں ہے، بلکہ وہ معمول ہے۔یعنی نیچر (فطرت) کسی بڑی طاقت کے کنٹرول میں ہے، اس کی اپنی کوئی طاقت نہیں۔ اس تحقیق نے نیچر کو معبودیت کے مقام سے ابدی طور…
…ہے- جو انسان اِس ملی ہوئی مدت کے دوران اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرلے، اس کو نرسری سے نکال کر دوسری دنیا میں ابدی طورپر بسا دیا جاتا ہے- اور جو لوگ مطلوب انداز میں اپنی تعمیر نہ کرسکیں، اُن کو نرسری سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے گا-
اِس دنیا کے لیے خالق کا نشانہ اجتماعی نہیں ہے، بلکہ انفرادی ہے- اِس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ موجودہ دنیا تعمیر نظام کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ تعمیر شخصیت کے لیے ہے- یہاں صرف تعمیرِ شخصیت ممکن ہے، آئڈیل معنوں میں تعمیرِ نظام یہاں سرے سے ممکن ہی نہیں-انسانی زندگی کی یہی تعبیر صحیح تعبیر ہے- اِس کے صحیح ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس کو ماننے کی صورت میں زندگی کے تمام سوالات کا قابلِ فہم جواب مل جاتا ہے:
With this description of human life, everything falls into place.
…لوگوں کے ریکارڈ (record) کے مطابق ہوگی- اور پھر اچھے ریکارڈ والوں کے لیے جنت کا فیصلہ کیا جائے گا اور برے ریکارڈ والوں کے لیے جہنم کا فیصلہ- دوسری مادی یادگار حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے جو کعبہ کی صورت میں آج بھی مکہ میں موجود ہے-
کعبہ علامتی طورپر اُس غیرمعمولی منصوبہ بندی (extraordinary planning) کی یادگار ہے جب کہ یہاں کے صحرائی علاقہ میں حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسایا اور پھر توالد اور تناسل کے لمبے دور کے بعد وہ نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتاہے- رسول اوراصحابِ رسول اسی نسل کے منتخب افراد تھے- یہ ایک استثنائی گروہ تھا جس کو ایک مستشرق نے ہیروؤں کی قوم (a nation of heroes) کہا ہے-
تیسری مادی یادگار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو مدینہ کی مسجد نبوی کی صورت میں موجود ہے- مسجد نبوی کے اندر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر واقع ہے-
(رقم الحدیث : 3364 )
ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے زمانہ کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ مگر شرک اور بُت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ ہوگیا تھا کہ وہ توحید کے پیغام کو قبول نہ کر سکے۔ حضرت ابراہیم نے ایک سے زیادہ جنریشن تک لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔ مگر اس زمانہ میں شرک ایک تہذیب کی صورت اختیار کرکے لوگوں کی زندگی میں اس طرح شامل ہوچکا تھا کہ وہ اس سے الگ ہو کر سوچ نہیں سکتے تھے۔ پیدا ہوتے ہی ہر آدمی کو شرک کا سبق ملنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ ماحول کے اثر سے اُس کا ذہن پوری طرح شرک میں کنڈیشنڈ ہوجاتا تھا۔
اُس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ متمدّن شہروں سے باہر غیر آباد صحرا میں ایک نسل تیار کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اور اسماعیل کو مکہ میں آباد کیا۔
ہاجرہ اُمّ ِاسماعیل
اِن خواتین میں سے ایک ہاجرہ اُمِّ اسماعیل ہیں جو پیغمبر ابراہیم کی زوجہ تھیں۔ ان کا زمانہ چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، حضرت ابراہیم نے یہ منصوبہ بنایا کہ عرب میں صحرا کے فطری ماحول میں ایک نئی نسل بنائی جائے، جو مشرکانہ کلچر کی کنڈیشننگ سے پاک ہو۔ اِس مقصد کے لیے ایک خاتون کی قربانی درکار تھی۔ ہاجرہ امِ اسماعیل نے یہ قربانی دی۔ وہ مکہ کے غیرآباد صحرا میں اپنے بچے کو لے کر مقیم ہوگئیں۔
یہ نہایت صبر آزما عمل تھا۔ بظاہر یہ موت کے حالا ت میں زندگی تلاش کرنے کے ہم معنیٰ تھا۔ جب حضرت ابرہیم نے انھیں بتایا کہ یہ خدا کا حکم ہے، اُس وقت ہاجرہ نے غیر آباد اور بے آب وگیاہ صحرا میں کہا کہ— پھر توخدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا: إذَن…
…داخل ہو کر وہاں پناہ لے لیتے ہیں اور وہاں سے اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں دونوں طرف سے گولیاں چلتی ہیں اور فطری طورپر مذہبی عمارت کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ صورتِ حال وادی کے مدرسے اور مسجد اور درگاہ، وغیرہ میں عرصے سے جاری ہے۔
ہندستانی فوج نے اِس صورتِ حال کے پیش نظر عرصے سے کشمیر میں ’سد بھاؤنا آپریشن‘ کے نام سے ایک مہم چلا رکھی ہے۔ اُن کے پاس گورنمنٹ آف انڈیا کا فنڈ ہوتا ہے۔ وہ لوگ اس کی مدد سے مسجد اور مدرسہ ا ور خانقاہ کی عمارتوں میں ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کرتے ہیں اور اُس کو پھر سے درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کام کشمیر میں کئی سالوں سے جاری ہے۔
جون 2007 میں سری نگر کے علاقہ راجوری کدَل میں علما کی ایک کانفرنس ہوئی۔ اِس میں کشمیری مسلمانوں کے مذہبی رہ نما 350 کی تعداد میںشریک ہوئے۔ یہاں انھوں نے فتویٰ یا بیان کی صورت میں متفقہ طورپر ایک ریزولوشن پاس کیا۔ اِس میں کہاگیا تھا کہ…
…میں جائز نہیں۔ اس طرح کی کلوننگ سے سارا تمدّنی نظام تباہ ہو جائے گا۔ عجیب بات ہے کہ اہلِ مغرب ایک طرف انسانی آبادی میں اضافہ کو سب سے بڑا مسئلہ بتاتے ہیں اور دوسری طرف انسانی کلوننگ کے ذریعہ انسانی آبادی میںاضافہ کی کوشش کر رہے ہیں۔
۲ سہاراٹی وی (نئی دہلی) میں پرکھ کے پروگرام کے تحت ۳۱ جنوری ۲۰۰۳ کو ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کا موضوع جہاد تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اُنہوں نے جوکچھ کہا اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ جہاد پُرامن جد وجہد کا نام ہے، وہ قتال کے ہم معنٰی نہیں۔ اسلام میں قتال صرف قائم شدہ ریاست کا کام ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو قتال کرنے کی اجازت نہیں۔ ریاست بھی صرف دفاع کے لیے شدید ضرورت کے تحت قتال کرسکتی ہے۔ ریاست کا یہ قتال بھی اعلان کے ساتھ ہونا چاہئے۔ بلااعلان جنگ یا پراکسی وار اسلام میں جائز نہیں۔
۳ انجمن امن دوست انسان دوست (نئی دہلی) کے تحت ۲ فروری ۲۰۰۳ کو مہندیان کے میدان میں ایک عوامی جلسہ ہوا۔ اس میں ہندو، مسلم، عیسائی ہر مذہب کے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور قومی اتحاد کی…
…کو قبول نہ کرسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ بے آمیز دین کو وہی اختیار کرے گا جس نے اپنی فطرت کو زندہ رکھا ہے۔ جن کی فطرت کی روشنی بجھ چکی ہے ان سے کسی قسم کی کوئی امید نہیں۔ دین کو ایسے لوگوں کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر دین کو بدلا نہیں جاسکتا۔
بنی اسرائیل کو اس کارِ خاص کے لیے چنا گیا تھا کہ وہ انسانوں کو اللہ کی طرف بلائیں اور ان کو اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ ان کے اعمال کے بارے میں ان کا مالک ان سے سوال کرنے والا ہے۔ اس کام کی رہنمائی کے لیے ان کے درمیان مسلسل پیغمبر آتے رہے۔ حضرت ابراہیم، یعقوب، یوسف، موسیٰ، داؤد، سلیمان، زکریا، یحییٰ، عیسیٰ علیہم السلام وغیرہ۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب بنی اسرائیل پر زوال آیا تو انھوں نے اس منصبی فضیلت کو نسلی اور گروہی فضیلت کے معنی میں لے لیا۔ اور اس طرح اس کی بابت اپنے استحقاق کو کھو دیا۔ اسماعیلی خاندان میں نبی عربی کا آنا دراصل بنی اسرائیل کی مقام فضیلت سے معزولی اور اس کی جگہ بنی اسماعیل کے تقرر کا اعلان تھا۔ بنی سرائیل میں جو لوگ فی الواقع خدا پرست تھے ان کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ نبی عربی جو کلام پیش کررہے ہیں وہ خدا کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے۔ مگر جو لوگ گروہی تعصبات کو دین بنائے ہوئے تھے ان کے لیے اپنے سے باہر کسی فضیلت کا اعتراف کرنا ممکن نہ ہوسکا۔
پیغمبر عربی کے ذریعہ ان کو متنبہ کیاگیا کہ یاد رکھو آخرت میں حقیقی ایمان اور سچے عمل کے سوا کسی بھی چیز کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ دنیا میں ایک شخص دوسرے شخص کا بار اپنے سر لے لیتاہے۔ کسی معاملہ میں کسی کی سفارش کام آجاتی ہے۔ کبھی معاوضہ دے کر آدمی چھوٹ جاتا ہے۔ کبھی کوئی مددگار مل جاتا ہے جو پشت پناہی کرکے بچالیتاہے۔ مگر آخرت میں اس قسم کی کوئی چیز کسی کے کام آنے والی نہیں۔ آخرت کسی گروہ کی نسلی وراثت نہیں، وہ اللہ کے بے لاگ انصاف کا دن ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کو جو درجۂ فضیلت ملا اس کا فیصلہ اس وقت کیاگیا جب وہ کڑی جانچ میں خدا کے سچے فرماں بردار ثابت ہوئے۔ اللہ کی یہی سنت ان کی نسل کے بارے میں بھی ہے کہ جو عمل میں پورا اترے گا وہ اس وعدۂ الٰہی میں شریک ہوگا۔ اور جو عمل کے ترازو پر اپنے کو سچا ثابت نہ کرسکے اس کا وہی انجام ہوگا جو اس قسم کے دوسرے مجرمین کے لیے اللہ کے یہاں مقدر ہے ۔ حضرت ابراہیمؑ کو نہایت کڑی آزمائشوں کے بعد پیشوائی کا مقام دیاگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ امامت و قیادت کے منصب کا استحقاق قربانیوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ قربانی کی قیمت پر کسی مقصد کو اختیار کرنے والا اس مقصد کی راہ میں سب سے آگے ہوتا ہے۔ اس ليے قدرتی طورپر وہی اس کا قائد بنتا ہے۔
بنی اسرائیل کو اس کارِ خاص کے لیے چنا گیا تھا کہ وہ انسانوں کو اللہ کی طرف بلائیں اور ان کو اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ ان کے اعمال کے بارے میں ان کا مالک ان سے سوال کرنے والا ہے۔ اس کام کی رہنمائی کے لیے ان کے درمیان مسلسل پیغمبر آتے رہے۔…
…اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مرجائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کرديے جائیں گے۔
حضرت ابراہیم کا وطن عراق تھا۔ اللہ کے حکم سے وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کو لاکر اُس مقام پر چھوڑ گئے جہاں آج مکہ ہے۔ اس وقت یہاںنہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ پیاس کا تقاضا ہوا تو ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ صفا اور مروہ نامی پہاڑیوں کے درمیان دوڑتی رہیں۔ سات چکر لگانے کے بعد ناکام لوٹیں تو دیکھا کہ ان کی قیام گاہ کے پاس ایک چشمہ پھوٹ نکلا ہے۔ یہ چشمہ بعد کو زمزم کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتاہے کہ اللہ کا معاملہ اپنے بندوں سے کیا ہے۔ اللہ کا کوئی بندہ اگر اللہ کی راہ میں بڑھتے ہوئے اس حدتک چلا جائے کہ اس کے قدموں کے نیچے ریگستان اور بیابان کے سوا کچھ نہ رہے تو اللہ اپنی قدرت سے ریگستان میں اس کے لیے رزق کے چشمے جاری کردے گا — حج اور عمرہ میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کا مقصد اسی تاریخ کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات میں اللہ کی نشانیاں اتنی واضح تھیں کہ یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ آپ کی زبان پر اللہ کا کلام جاری ہوا ہے۔ مگر اہل کتاب کے علما نے آپ کا اقرار نہیں کیا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ ان کی جمی ہوئی تجارتیں اجڑ جائیں گی۔ اپنی کامیابی کار از انھوں نے حق کو چھپانے میں سمجھا، حالاں کہ ان کی کامیابی کا راز حق کے اعلان میں تھا۔ حق کی طرف بڑھنے میں وہ اپنے آپ کو بے زمین ہوتاہوا دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ جو بندہ حق کی خاطر بے زمین ہوجائے وہ سب سے بڑی زمین کو پالیتاہے، یعنی اللہ رب العالمین کی نصرت کو۔
تاہم اللہ کی رحمت کا دروازہ آدمی کے لیے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ ابتدائی طور پر غلطی کرنے کے بعداگر آدمی کو ہوش آجائے اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مرجائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کرديے جائیں گے۔
جو لوگ فائدوں اور مصلحتوں کو اولین اہمیت ديے ہوئے ہوتے ہیں ان کے نزدیک یہ نادانی کی بات ہوتی ہے کہ کوئی شخص تحفظات کے بغیر اپنے آپ کو ہمہ تن حق کے حوالے کردے۔ ایسے لوگوں کی حقیقی وفاداریاں اپنے دنیوی مفادات کے ساتھ ہوتی ہیں۔البتہ اسی کے…
…اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مرجائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کرديے جائیں گے۔
حضرت ابراہیم کا وطن عراق تھا۔ اللہ کے حکم سے وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کو لاکر اُس مقام پر چھوڑ گئے جہاں آج مکہ ہے۔ اس وقت یہاںنہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ پیاس کا تقاضا ہوا تو ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ صفا اور مروہ نامی پہاڑیوں کے درمیان دوڑتی رہیں۔ سات چکر لگانے کے بعد ناکام لوٹیں تو دیکھا کہ ان کی قیام گاہ کے پاس ایک چشمہ پھوٹ نکلا ہے۔ یہ چشمہ بعد کو زمزم کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتاہے کہ اللہ کا معاملہ اپنے بندوں سے کیا ہے۔ اللہ کا کوئی بندہ اگر اللہ کی راہ میں بڑھتے ہوئے اس حدتک چلا جائے کہ اس کے قدموں کے نیچے ریگستان اور بیابان کے سوا کچھ نہ رہے تو اللہ اپنی قدرت سے ریگستان میں اس کے لیے رزق کے چشمے جاری کردے گا — حج اور عمرہ میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کا مقصد اسی تاریخ کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات میں اللہ کی نشانیاں اتنی واضح تھیں کہ یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ آپ کی زبان پر اللہ کا کلام جاری ہوا ہے۔ مگر اہل کتاب کے علما نے آپ کا اقرار نہیں کیا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ ان کی جمی ہوئی تجارتیں اجڑ جائیں گی۔ اپنی کامیابی کار از انھوں نے حق کو چھپانے میں سمجھا، حالاں کہ ان کی کامیابی کا راز حق کے اعلان میں تھا۔ حق کی طرف بڑھنے میں وہ اپنے آپ کو بے زمین ہوتاہوا دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ جو بندہ حق کی خاطر بے زمین ہوجائے وہ سب سے بڑی زمین کو پالیتاہے، یعنی اللہ رب العالمین کی نصرت کو۔
تاہم اللہ کی رحمت کا دروازہ آدمی کے لیے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ ابتدائی طور پر غلطی کرنے کے بعداگر آدمی کو ہوش آجائے اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مرجائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کرديے جائیں گے۔
انسان کا خدا ایک ہی خدا ہے اور وہی اس قابل ہے کہ وہ انسان کی توجہات کا مرکز بنے۔ ہمارا وجود اور وہ سب کچھ جو ہم کو زمین پر حاصل ہے وہ اسی ليے ہے کہ ہمارا یہ خدا رحمتوں اور مہربانیوں کا خزانہ ہے۔ آدمی کو چاہيے کہ اس کو حقیقی معنوں میں اپنا…
…عین مطابق ہے تو یہ صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے — آدمی بہت سی باتیں یہ ظاہر کرنے کے ليے بولتا ہے کہ وہ ایمان پر قائم ہے، حالاں کہ وہ باتیں صرف اس کا ثبوت ہوتی ہیں کہ آدمی کا ایمان اور خدا پرستی سے کوئی تعلق نہیں۔
قدیم زمانہ میں بہت سی قوموں کو ان پچھلی اہل کتاب کی سرکشی کے نتیجہ میں بار بار ان کو سخت سزائیں دی گئیں ۔ سنت اللہ کے مطابق ہر سزا سے پہلے پیغمبروں کی زبان سے اس کی پیشگی خبر دی جاتی۔ یہ خبر اللہ کی طرف سے جبریل فرشتہ کے ذریعہ پیغمبر کے پاس آتی اور وہ اس سے اپنی قوم کو آگاہ کرتے۔اس قسم کے واقعات میں اصل سبق یہ تھا کہ آدمی کو چاهيے کہ وہ اللہ کی نافرمانی سے بچے تاکہ وہ عذاب الٰہی کی زد میں نہ آجائے۔ مگر عرب کے اہل کتاب ان واقعات سے اس قسم کا سبق نہ لے سکے۔ اس کے بجائے وہ کہنے لگے کہ جبریل فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ وہ ہمیشہ آسمان سے ہمارے خلاف احکام لے کر آتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ نے جبریل کے ذریعہ مجھ پر وحی کی ہے تو ان لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ جبریل تو ہمارا پرانا دشمن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت جو صرف اسرائیلی گروہ کا حق تھا، اس کو اس نے ایک اور قبیلہ کے فرد تک پہنچا دیا۔
اس قسم کی بے معنی باتیں وہی لوگ کرتے ہیں جو فسق اور بے قیدی کی زندگی گزاررہے ہوں ۔ اہل کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ نفس پرستی، آبائی تقلید، نسلی اور قومی عصبیت کی سطح پر جی رہے تھے۔ اور کچھ نمائشی قسم کے مذہبی کام کرکے ظاہر کرتے تھے کہ وہ عین دین خداوندی پر قائم ہیں ۔ جو لوگ اس قسم کی جھوٹی دین داری میں مبتلا ہوں وہ سچے اور بے آمیز دین کی دعوت سن کر ہمیشہ بگڑ جاتے ہیں۔ کیوںکہ ایسی دعوت ان کو ان کے بڑائي كے مقام سے اتارنے کے ہم معنی نظرآتی ہے۔وہ مشتعل نفسیات کے تحت ایسی باتیں بولنے لگتے ہیں جوگرامر کے اعتبار سے درست ہونے کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے بالکل بے معنی ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ فرشتوں کا آنا اور رسولوں کا مبعوث ہونا سب مکمل طورپر خدائی منصوبہ کے تحت ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جب دلائل یہ ظاہر کررہے ہوں کہ پیغمبر عربی کے پاس وہی چیزآئی ہے جو ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ پر آئی تھی اور وہ پچھلے آسمانی صحیفوں کی پیشین گوئیوں کے عین مطابق ہے تو یہ صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے — آدمی بہت سی باتیں یہ ظاہر کرنے کے ليے بولتا ہے کہ وہ ایمان پر قائم ہے، حالاں کہ وہ باتیں صرف اس کا ثبوت ہوتی ہیں کہ آدمی کا ایمان اور خدا پرستی سے کوئی تعلق نہیں۔
قدیم زمانہ میں بہت سی قوموں کو ان پچھلی اہل کتاب کی سرکشی کے نتیجہ میں بار بار ان کو سخت سزائیں دی گئیں ۔ سنت اللہ کے مطابق ہر سزا سے پہلے پیغمبروں کی زبان سے اس کی پیشگی خبر دی جاتی۔ یہ خبر اللہ کی طرف سے جبریل فرشتہ کے ذریعہ پیغمبر کے…
…میں غور کریں گے وہی خدا کو پائیں گے۔
دلیل اس دنیا میں خدا کی نمائندہ ہے۔ ایک شخص کے سامنے سچی دلیل آئے اور وہ اس کو نظر انداز کردے تو گویا کہ اس نے خدا کو نظر انداز کیا۔ ایسے لوگوں کےلیے خدا کے یہاں ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔
حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگ غالباً کسی تیوہار میں شرکت کےلیے شہر سے باہر جارہے تھے۔ آپ کے گھر والوں نے آپ سے بھی چلنے کےلیے کہا۔ آپ نے توریہ کے انداز میں ان سے معذرت کرلی۔ جب تمام لوگ چلے گئے تو رات کے وقت آپ بت خانہ میں داخل ہوئے اور اس کے بتوں کو توڑ ڈالا۔ یہ آپ نے اس وقت کیا جب کہ مسلسل دعوت کے ذریعہ آپ ان پر اتمام حجت کرچکے تھے۔ جب انھوں نے دلائل سے بتوں کا بے حقیقت ہونا تسلیم نہیں کیا تو بتوں کو توڑ کر آپ نے عمل کی زبان میں بتایا کہ ان بتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر حقیقت ہوتی تو وہ اپنے آپ کو توڑے جانے سے بچا لیتے۔
آپ کی اس آخری کارروائی کے بعد قوم نے بھی اپنی آخری کارروا ئی کی۔ انھوں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا مگر اللہ نے آپ کو آگ سے بچا لیا۔ اس کے بعد آپ اپنے وطن (عراق) کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اس وقت آپ نے دعا کی کہ خدایا تو میرے یہاں صالح اولاد پیدا کر تاکہ میں اس کو تعلیم وتربیت کے ذریعہ مومن ومسلم بناؤں اور وہ میرے بعد دعوت توحید کا تسلسل جاری رکھے۔
حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگ غالباً کسی تیوہار میں شرکت کےلیے شہر سے باہر جارہے تھے۔ آپ کے گھر والوں نے آپ سے بھی چلنے کےلیے کہا۔ آپ نے توریہ کے انداز میں ان سے معذرت کرلی۔ جب تمام لوگ چلے گئے تو رات کے وقت آپ بت خانہ میں داخل ہوئے اور…
…کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔
توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔
مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔
ایک گروہ جس میں انبیا اور صلحا پیدا ہوئے ہوں، جس کے درمیان عرصہ تک دین کا چرچا رہے، اکثر وہ اس غلط فہمی میںپڑ جاتا ہے کہ وہ اور حق دونوں ایک ہیں۔ وہ ہدایت کوایک گروہی چیز سمجھ لیتا ہے، نہ کہ اصولی چیز۔ یہود کا معاملہ یہی تھا۔ ان کا ذہن،…
…دیا جاتا ہے۔ جو لوگ برائی کرتے ہیں، جو خدا کی دنیا میں خدا کے مقرر راستہ کے سوا دوسرے راستوں پر چلتے ہیں وہ اگر چہ بہت بڑا جرم کرتے ہیں۔ تاہم خدا ان کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کرتا۔ وہ ان کو اتنی ہی سزا دیتا ہے جتنا انھوں نے جرم کیا ہے۔
قرآن کی صورت میں خدا نے اپنا وہ بے آمیز دین نازل کردیا ہے جو اس نے حضرت ابراہیم اور دوسرے پیغمبروں کو دیا تھا۔ اب جو شخص خدا کی رحمت ونصرت میںحصہ دار بننا چاہتاہو وہ اس دین کو پکڑ لے، وہ اپنی عبادت کو خدا کے ليے خاص کردے۔ وہ خدا سے قرباني کی سطح پر تعلق قائم کرے۔ وہ جئے تو خدا کے ليے جئے اور اس کو موت آئے تو اس حال میں آئے کہ وہ ہمہ تن خدا کا بندہ بنا ہوا ہو۔ عظیم کائنات اپنے تمام اجزا کے ساتھ اطاعت خداوندی کے اسی دین پر قائم ہے۔ پھر انسان اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ کیسے اختیار کرسکتاهے۔ خدا کی اطاعت کی دنیا میں خدا کی سرکشی کا طریقہ اختیار کرنا کسی کے ليے کامیابی کا سبب کس طرح بن سکتا ہے۔ یہ معاملہ ہر شخص کا اپنا معاملہ ہے، کوئی نہ کسی کے انعام میں شریک ہوسکتا اور نہ کوئی کسی کی سزا میں آدمی کو چاہیے کہ اس معاملہ میں وہ اسی طرح سنجیدہ ہو جس طرح دنیا میں کوئی مسئلہ کسی کا ذاتی مسئلہ ہو تو وہ اس میں آخری حد تک سنجیدہ ہوجاتا ہے۔
دنیا کا نظام یہ ہے کہ یہاں ایک شخص جاتاہے اور دوسرا اس کی جگہ آتا ہے۔ ایک قوم پیچھے ہٹا دی جاتی ہے اور دوسری قوم اس کے بجائے زمین کے ذرائع ووسائل پر قبضہ کرلیتی ہے۔ یہ واقعہ بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہاں کسی کا ااقتدار دائمی نہیں۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جس کسی کو زمین پر موقع ملتاہے تو وہ گزرے ہوئے لوگوں کے انجام کو بھول جاتاہے۔ وہ اپنے ظلم اور سرکشی کو جائز ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کے دلائل گھڑ لیتا ہے مگر جب خدا حقیقتوں کو برہنہ کرے گا تو آدمی دیکھے گا کہ اس کی ان باتوں کی کوئی قیمت نہ تھی، جن کو وہ اپنے موقف کے جواز کے ليے مضبوط دلیل سمجھے ہوئے تھا۔
دنیا میں آدمی کی سرکشی کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں کو اپنے حق میں خدا کا انعام سمجھ ليتاہے ہے۔ حالاں کہ دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتاہے وہ صرف بطور آزمائش ہے، نہ کہ بطور انعام۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر انعام سمجھے تو اس کے اندر فخر پیدا ہوگا اور اگر وہ ان کو آزمائش سمجھے تو اس کے اندر عجز پیدا ہوگا۔ فخر کی نفسیات ڈھٹائی پیدا کرتی ہے اور عجز کی نفسیات اطاعت۔
قرآن کی صورت میں خدا نے اپنا وہ بے آمیز دین نازل کردیا ہے جو اس نے حضرت ابراہیم اور دوسرے پیغمبروں کو دیا تھا۔ اب جو شخص خدا کی رحمت ونصرت میںحصہ دار بننا چاہتاہو وہ اس دین کو پکڑ لے، وہ اپنی عبادت کو خدا کے ليے خاص کردے۔ وہ خدا سے…
…ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔
جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کادرجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کوئی وبال نہ آپڑے۔ وہ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو، ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر نازل ہوگا۔ تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے، تم برباد ہوجاؤ گے، وغیرہ۔
اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات هے جس کی کبریائی دلیل وبرہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی قسمیں ہیں سب توہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں۔ اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔
ظاہري حالات کو دیکھ كران معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل او ر برہان پر کھڑاہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لیے محفوظ دیوار حاصل کرے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری کرلیتے ہیں۔ دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔
جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کادرجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں…
…دنیاکے لوگوں کی نظر میں اس کی بات بے وزن اور اس کے مخالفوں کی بات وزن دار بن جاتی ہے۔ مگر قیامت جب مصنوعی پردوں کو پھاڑے گی تو صورت حال بالکل برعکس ہوجائے گی۔ اب سارا وزن حق کی طرف ہوگا اور ناحق بالکل بے دلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔
حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے وہ دریائے اردن کے کنارے جنوبی شام کے علاقہ میں آباد تھی۔ اس قوم کی خوش حالی اس کو عیش پرستی کی طرف لے گئی۔ حتی کہ ان لوگوں کی بے راہ روی اتنی بڑھ گئی کہ انھوںنے اپنی شہوانی خواہشات کی تسکین کے لیے ہم جنسی کے طریقے کواختیار کرلیا۔پیغمبر نے ان کو اس کھلی ہوئی بے حیائی سے ڈرایا۔
کائنات کے ليے فطرت کی ایک اسکیم ہے۔ اس اسکیم کو قرآن میںاصلاح کہاگیا ہے۔ اس اصلاح کے خلاف چلنے کا نام فساد ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی اصلاحی راستہ پر چل رہی ہیں۔یہ صرف انسان ہے جو اپنی آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور فطرت کے راستہ کے خلاف اپنا راستہ بناتا ہے۔ حضرت لوط کی قوم اسی قسم کے ایک فسادمیں مبتلا تھی۔ جنسی تعلق کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرد باہم بیوی اور شوہر بن کر رہیں۔ یہ اصلاح کے طریقہ پر چلنا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ ہو کہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان جنسی تعلقات قائم كيے جانے لگیں تو یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے گزرجانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں فساد کہاگیا ہے۔
حضرت لوط پر صرف ان کے قریبی لوگوں میں سے چند افراد ایمان لائے۔ باقی پوری قوم اپنی ہوس پرستی میں غرق رہی۔ انھوں نے کہا’’ جب یہ ہم سب لوگوں کوگندہ سمجھتے ہیں اور خود پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیاکام۔ پھر تو یہ نکل جائیں ہمارے شہر سے‘‘۔ ان کا یہ قول دراصل گھمنڈ کا قول تھا۔ ان کو یہ کہنے کی جرأت اس ليے ہوئی کہ وہ اپنی اکثریت اور مادی تفوق کی وجہ سے اپنے کو محفوظ حالت میں سمجھتے تھے۔ گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا لوگ ہمیشہ اپنے کمزور پڑوسیوں سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہمارا طریقہ پسند نہیں وہ ہماری زمین کو چھوڑ دیں۔ مگر یہ خدا کی دنیا میں شرک کرنا ہے اور شرک سب سے بڑا جرم ہے۔
حضرت لوط کی قوم پر خدا کا عذاب آیا تو عذاب کا شکار ہونے والوں میں پیغمبر کی بیوی بھی شامل تھیں۔ اس سے انعام اور سزا کے باب میں خدا کا بے لاگ انصاف ظاہر ہوتا ہے ۔ خدا کے انصاف کے ترازو میں رشتوں اور دوستیوں کا کوئی لحاظ نہیں۔ خدا کا فیصلہ اتنا بے لاگ ہے کہ اس نے حضرت نوح کے بیٹے، حضرت ابراہیم کے باپ، حضرت لوط کی بیوی اور حضرت محمد کے چچا کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور دوسری طرف فرعون کی بیوی نے صالح عمل کا ثبوت دیا تو اس کو جنت میں داخل کردیا۔
حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے وہ دریائے اردن کے کنارے جنوبی شام کے علاقہ میں آباد تھی۔ اس قوم کی خوش حالی اس کو عیش پرستی کی طرف لے گئی۔ حتی کہ ان لوگوں کی بے راہ روی اتنی بڑھ…
…جن کے ليے خدائی انعامات کی خوش خبری ہے۔
خدا کی جنت تمام قیمتی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ مگر خدا کی جنت ایک موعود انعام ہے، وہ نقد انعام نہیں ۔ جنت کی اسی موجل نوعیت کا یہ نتیجہ ہے کہ لوگ جنت کو چھوڑ کر حقیر فائدوں کی طرف بھاگے جارہے ہیں ۔
ایک شخص کافر ومشرک ہو اور اس کے سامنے اتمام حجت کی حد تک دین کی دعوت آجائے، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو خداکے قانون کے مطابق وہ جہنمی ہوجاتاہے۔ ایسے شخص کے ليے اس کے بعد نجات کی دعا کرنا گویا ایمان کو بے وقعت بنانا اور خدائی انصاف کی تردید کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسی دعا سے منع کردیاگیا۔
تاہم آیت میں مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَکا لفظ بتاتا ہے کہ اس حکم کا تعلق زمانہ رسالت کے مشرکین سے ہے جن کے بارے میں وحی کے ذریعہ بتا دیاگیا تھا کہ وہ جہنمی ہیں ۔ ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ منافقین کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور ان کے حق میں مغفرت کی دعا نہ کریں (التوبہ،
9:84
) یہ بات مدینہ کے منافقوں کو بہت ناگوار ہوئی۔ انھوں نے اس کو لے کر آپ کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا۔ وہ کہتے کہ یہ نبی تو نبی رحمت ہیں اور اپنے کو ابراہیم کا پیرو بتاتے ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے بھائیوں اور اپنے رشتہ داروں کے ليے استغفار سے روکتے ہیں ۔ حالاں کہ ابراہیم کا حال یہ تھا کہ اپنے مشرک باپ کے لیے بھی انھوں نے مغفرت کی دعا کی۔
جوا ب دیا گیا کہ ابراہیم بڑے درد مند اور انسانیت کے غم میں گھلنے والے تھے۔ اپنے اس جذبہ کے تحت انھوں نے عہد کرلیاکہ وہ اپنے مشرک باپ کے حق میں خدا سے دعا کریں گے۔ مگر جب وحی نے تنبیہ کی تو اس کے بعد وہ فوراً اس سے باز آگئے۔
اللہ نے ہر آدمی کی اند ربرائی کی فطری تمیز رکھی ہے۔ جب آدمی کے سامنے ایک ایسا پیغام آتاہے جو اس کو برائی سے روکتا ہے تو اس کا وجود اندر سے اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے دل کے اندر ایک خاموش کھٹک پیداہوتی ہے۔ آدمی اگر اس کھٹک کو نظر انداز کردے، وہ فطرت کی گواہی کے باوجود بچنے والی چیز سے نہ بچے تو اس کی فطری حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے بالکل مردہ ہوجاتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو گم راہ کرنے سے تعبیر کیاگیا ہے۔ ’’ہدایت دینے کے بعد گمراہ کرنا‘‘ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس کا خطرہ مسلمانوں کے ليے بھی اسی طرح ہے جس طرح غیر مسلموں کے ليے۔
ایک شخص کافر ومشرک ہو اور اس کے سامنے اتمام حجت کی حد تک دین کی دعوت آجائے، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو خداکے قانون کے مطابق وہ جہنمی ہوجاتاہے۔ ایسے شخص کے ليے اس کے بعد نجات کی دعا کرنا گویا ایمان کو بے وقعت بنانا اور خدائی انصاف کی…
…وقت تک سہارے ہیں جب تک خدا ڈھیل دے رہا ہو۔ جب خدا کے قانون کے مطابق ڈھیل کی مدّت ختم ہوجائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ ظاہر کردے اس وقت آدمی کو معلوم ہوتاہے کہ وہ سب محض جھوٹے مفروضے تھے جن کو اس نے اپنی نادانی کی وجہ سے سہارا سمجھ لیا تھا۔
موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا (العنکبوت،
35:40
) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدت پیدا کردی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طورپر شدید کردیا گیا۔
ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافی تاریخ کے علماء موسمی تغیّرات (climatic pulsations) کانام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافی اتھل پتھل کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ وہ اس واقعہ کی کوئی توجیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب (ختم نبوت کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو موسمی تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کو خدائی تغیرات مانا جائے تووہ آدمی کے ليے خوفِ خدا اور فکر آخرت کا زبردست سبق بن جائیں گے۔
پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدّت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔
موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا…
…سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔
موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا (العنکبوت،
35:40
) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدت پیدا کردی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طورپر شدید کردیا گیا۔
ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافی تاریخ کے علماء موسمی تغیّرات (climatic pulsations) کانام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافی اتھل پتھل کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ وہ اس واقعہ کی کوئی توجیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب (ختم نبوت کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو موسمی تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کو خدائی تغیرات مانا جائے تووہ آدمی کے ليے خوفِ خدا اور فکر آخرت کا زبردست سبق بن جائیں گے۔
پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدّت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔
موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا…
…جو لوگ پوجتے ہیں اس کا راز یہ ہے کہ وہ بطور خود ان کو مشکل کشا اور حاجت روا جیسے القاب دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ واقعۃً وہ مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔ حالاں کہ یہ سب انسان کے اپنے بنائے ہوئے اسم ہیں جن کا مسمی خارج میں کہیں موجود نہیں۔
حدیث میں ہے کہ خواب کی تین قسمیں ہیں۔ اپنے دل کی بات، شیطان کا ڈر اوا اور خداکی بشارت۔ عام آدمی کا خواب تینوں میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ مگر پیغمبر کا خواب ہمیشہ خدا کی بشارت ہوتاہے، کبھی راست انداز میں اور کبھی تمثیلی انداز میں۔
حضرت یوسف کا زمانہ انیسویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ آپ کے والد حضرت یعقوب فلسطین میں رہتے تھے۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائی بن یامین ایک ماں سے تھے اوربقیہ دس بھائی دوسری ماؤں سے۔ اس خواب میں سورج اور چاند سے مراد آپ کے والدین ہیں اور گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی۔ اس میں یہ بشارت تھی کہ حضرت یوسف کو پیغمبری ملے گی اور اسی کے ساتھ یہ خواب آپ کے اس عروج واقتدار کی تمثیل تھا جو بعد کو مصر پہنچ کر آپ کو ملا اور جس کے بعد سارے اہل خاندان مجبور ہوئے کہ وہ آپ کی عظمت کو تسلیم کرلیں۔
حضرت یوسف کے دس سوتیلے بھائی آپ کی شخصیت اور مقبولیت کو دیکھ کر آپ سے حسد رکھتے تھے۔ اس لیے آپ کے والد (حضرت یعقوب) نے خواب سن کر فوراً کہا کہ اپنے بھائیوں سے اس کا ذکر نہ کرنا ورنہ وہ تمھارے اور زیادہ دشمن ہوجائیںگے۔
کسی کی بڑائی دیکھ کر اس کے خلاف جلن پیدا ہونا خالص شیطانی فعل ہے۔ جس شخص کے اندر یہ صفت پائی جائے اس کو اپنے بارے میں توبہ کرنی چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خداکے فیصلہ پر راضی نہیں۔ وہ شیطان کی ہدایت پر چل رہا ہے، نہ کہ خدا کی ہدایت پر۔
یہاںاتمام نعمت کا لفظ حضرت یوسف کے لیے بھی بولا گیا ہے جن کو حکومت حاصل ہوئی اور حضرت ابراہیم کے لیے بھی جن کو کوئی حکومت نہیں ملی۔ پھر دونوں کے درمیان وہ مشترک چیز کیا تھی جس کو اتمام نعمت کہاگیا ہے۔ وہ نبوت تھی۔ یعنی خدا کی اس خصوصی ہدایت کی توفیق جو کسی کو آخرت میں اعلیٰ مراتب تک پہنچانے والی ہے۔ خدا کی ہدایت انسان کے اوپر خدا کی نعمتوں کی تکمیل ہے۔ یہ نعمت پیغمبروں کو براہِ راست طور پر ملتی ہے اور عام صالحین کو بالواسطہ طور پر۔
نوجوان قیدیوں نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے حضرت یوسف سے رجوع کیا۔ انھوں نے جس انداز سے سوال کیا اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ آ پ کی شخصیت سے متاثر ہیں۔ اور آپ کی رائے پر اعتماد کرتے ہیں۔ حضرت یوسف جیسے نیک اور بااصول انسان کے…
…سے دودھ اور پھل لوگوں کو حاصل ہوںگے۔
اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو ایک عجیب خواب دکھایا اور حضرت یوسف کے ذریعہ اس کی کامیاب تعبیر ظاہر فرمائی۔ اس طرح آپ کے لیے یہ موقع فراہم کیا گیا کہ مصر کے نظام حکومت میں آپ کو نہایت اعلیٰ مقام حاصل ہو۔
حدیث میں ہے کہ خواب کی تین قسمیں ہیں۔ اپنے دل کی بات، شیطان کا ڈر اوا اور خداکی بشارت۔ عام آدمی کا خواب تینوں میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ مگر پیغمبر کا خواب ہمیشہ خدا کی بشارت ہوتاہے، کبھی راست انداز میں اور کبھی تمثیلی انداز میں۔
حضرت یوسف کا زمانہ انیسویں صدی قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ آپ کے والد حضرت یعقوب فلسطین میں رہتے تھے۔ حضرت یوسف اور ان کے بھائی بن یامین ایک ماں سے تھے اوربقیہ دس بھائی دوسری ماؤں سے۔ اس خواب میں سورج اور چاند سے مراد آپ کے والدین ہیں اور گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائی۔ اس میں یہ بشارت تھی کہ حضرت یوسف کو پیغمبری ملے گی اور اسی کے ساتھ یہ خواب آپ کے اس عروج واقتدار کی تمثیل تھا جو بعد کو مصر پہنچ کر آپ کو ملا اور جس کے بعد سارے اہل خاندان مجبور ہوئے کہ وہ آپ کی عظمت کو تسلیم کرلیں۔
حضرت یوسف کے دس سوتیلے بھائی آپ کی شخصیت اور مقبولیت کو دیکھ کر آپ سے حسد رکھتے تھے۔ اس لیے آپ کے والد (حضرت یعقوب) نے خواب سن کر فوراً کہا کہ اپنے بھائیوں سے اس کا ذکر نہ کرنا ورنہ وہ تمھارے اور زیادہ دشمن ہوجائیںگے۔
کسی کی بڑائی دیکھ کر اس کے خلاف جلن پیدا ہونا خالص شیطانی فعل ہے۔ جس شخص کے اندر یہ صفت پائی جائے اس کو اپنے بارے میں توبہ کرنی چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خداکے فیصلہ پر راضی نہیں۔ وہ شیطان کی ہدایت پر چل رہا ہے، نہ کہ خدا کی ہدایت پر۔
یہاںاتمام نعمت کا لفظ حضرت یوسف کے لیے بھی بولا گیا ہے جن کو حکومت حاصل ہوئی اور حضرت ابراہیم کے لیے بھی جن کو کوئی حکومت نہیں ملی۔ پھر دونوں کے درمیان وہ مشترک چیز کیا تھی جس کو اتمام نعمت کہاگیا ہے۔ وہ نبوت تھی۔ یعنی خدا کی اس خصوصی ہدایت کی توفیق جو کسی کو آخرت میں اعلیٰ مراتب تک پہنچانے والی ہے۔ خدا کی ہدایت انسان کے اوپر خدا کی نعمتوں کی تکمیل ہے۔ یہ نعمت پیغمبروں کو براہِ راست طور پر ملتی ہے اور عام صالحین کو بالواسطہ طور پر۔
قید خانہ سے نکل کر حضرت یوسف کو ایک ملکی کردار ادا کرنا تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی شخصیت ملکی سطح پر ایک معروف شخصیت بن جائے۔ اس کی صورت بادشاہ کے خواب کے ذریعہ پیدا ہوگئی۔ بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ وہ اس کی تعبیر کے لیے اتنا بے…
…کا قطعی ثبوت ہے۔ کیوں کہ سپر ايٹم کے اجزاء جو مکمل طورپر اندر کی طرف کھنچے ہوئے تھے، ان کو بیرونی سمت میں متحرک کرنا اپنے آپ نہیں ہوسکتا۔ لازم ہے کہ اس کے لیے کسی خارجی مداخلت کو مانا جائے۔ اسی مداخلت کرنے والی طاقت کا دوسرا نام خدا ہے۔
پیغمبروں کے مخاطبین نے جب اپنے ہم عصرپیغمبروں کو یہ کہہ کر رد کیا کہ ’’تم تو ہمارے جیسے ایک بشر ہو‘‘ تو اس کی وجہ حقیقۃً یہ نہیں تھی کہ وہ پیغمبری کے لیے غیر بشر ہونے کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ دراصل وہ فرق تھا جو ان کے اپنے تصور کے مطابق ان کو پچھلے پیغمبر اور ہم عصر پیغمبر میں نظر آتا تھا۔
گزرا ہوا پیغمبر بھی اگر چہ اپنے وقت میں ویسا ہی تھا جیسا کہ ہم عصرپیغمبر۔ مگر بعد کے دور میں گزرے ہوئے پیغمبروں کے متبعین نے ان کے گرد طلسماتی قصوں کا ہالہ بنا دیا۔ بعد کے دور میں پیغمبروں کی شخصیتوں کو ایسا افسانوی رنگ دے دیاگیا جو ابتداء ً ان کے یہاں موجود نہ تھا۔ اب قوموں کے سامنے ایک طرف فرضی شعبدوں والا پیغمبر تھا، دوسری طرف حقیقی واقعات والا پیغمبر۔ اس تقابل میں پچھلا پیغمبر پیغمبری کے لیے معیاری نمونہ بن گیا۔ اور جب قوموں نے اس معیار کے اعتبار سے دیکھا تو وقت کا حقیقی پیغمبر ان کو ماضی کے افسانوی پیغمبر سے کم نظر آیا۔ چنانچہ انھوںنے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیا۔
پیغمبروں نے اپنے مخاطبین سے کہا کہ تمھاری ان باتوں کے جواب میں ہمارے پاس صبر کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ تم غیر بشریت کی سطح پر ہدایت کے طالب ہو۔ اور خدا نے ہم کو صرف بشریت کی سطح پر ہدایت دینے کی طاقت عطا کی ہے۔ ایسی حالت میں ہم اس کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں کہ تمھاری ایذاؤں کو برداشت کریں اور اس سارے معاملہ کو خدا کے حوالے کردیں۔
پیغمبروں کے مخاطبین نے جب اپنے ہم عصرپیغمبروں کو یہ کہہ کر رد کیا کہ ’’تم تو ہمارے جیسے ایک بشر ہو‘‘ تو اس کی وجہ حقیقۃً یہ نہیں تھی کہ وہ پیغمبری کے لیے غیر بشر ہونے کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ دراصل وہ فرق تھا جو ان کے اپنے تصور کے…
…ہوتا ہے کہ یہ فرشتے ہیں۔ مگر عام انسان کو اس قسم کا یقینی ادراک نہیں ہوتا۔ البتہ فرشتوں کی خصوصی قربت اس کے اندر خصوصی کیفیات پیدا کردیتی ہے۔ یہ کیفیات گویا اس کا اشارہ ہوتی ہیں کہ اس وقت آدمی خداکے بھیجے ہوئے خصوصی فرشتوں کی صحبت میں ہے۔
حضرت ابراہیم فلسطین میں رہتے تھے۔ اس کے قریب ہی بحر مردار کے کنارے آپ کے بھتیجے حضرت لوط تھے۔ حضرت لوط نے اس علاقہ میں بسنے والوں پر تبلیغ کی۔ مگر وہ اصلاح قبول کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ ان کی سرکشی بڑھتی چلی گئی۔ یہاںتک کہ خدا کا فیصلہ یہ ہوا کہ ان کو ہلاک کردیا جائے۔ یہ فرشتے اسی خدائی فیصلہ کے نفاذ کے لیے آئے تھے۔
غالباً حضرت لوط کے چند اہل خاندان کے سوا اور کوئی شخص ان پر ایمان نہ لایا۔ گھر سے باہر والوں کے لیے داعی حق کو قبول کرنا بہت مشکل ہوتاہے۔ کیوںکہ ان کے لیے بہت سی نفسیاتی رکاوٹیں حائل ہوجاتی ہے۔ تاہم خود اپنے خونی رشتہ داروں کے لیے یہ رکاوٹیں نہیں ہوتیں۔ چنانچہ لوگ نسبتاً زیادہ آسانی کے ساتھ داعئ حق کے ساتھی بن جاتے ہیں۔
حضرت لوط کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ آپ کی دعوت پر غالباً صرف آپ کی لڑکیاںایمان لائیں۔ اولاد کو اپنے باپ سے جو خصوصی تعلق ہوتا ہے، وہ باپ کی دعوت کو قبول کرنے میں خصوصی مدد گار بن جاتا ہے۔ ان لڑکیوں نے حضرت لوط کے ساتھ نجات پائی۔ مگر آپ کی بیوی دل سے آپ کی مومن نہ بن سکی۔ چنانچہ اس کو دوسرے مجرموں کے ساتھ ہلاک کردیاگیا۔ خدا کے قانون میں محض رشتہ داری کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی۔
حضرت ابراہیم فلسطین میں رہتے تھے۔ اس کے قریب ہی بحر مردار کے کنارے آپ کے بھتیجے حضرت لوط تھے۔ حضرت لوط نے اس علاقہ میں بسنے والوں پر تبلیغ کی۔ مگر وہ اصلاح قبول کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ ان کی سرکشی بڑھتی چلی گئی۔ یہاںتک کہ خدا کا فیصلہ یہ…
…مدد گار بن جاتا ہے۔ ان لڑکیوں نے حضرت لوط کے ساتھ نجات پائی۔ مگر آپ کی بیوی دل سے آپ کی مومن نہ بن سکی۔ چنانچہ اس کو دوسرے مجرموں کے ساتھ ہلاک کردیاگیا۔ خدا کے قانون میں محض رشتہ داری کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی۔
پیغمبر کے مخاطبین نے پیغمبر کے اوپر دیوانگی کا شبہ کیا۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ پیغمبر کی دعوت تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ’’میںخدا کا نمائندہ ہوں۔ جو شخص میری بات مانے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص نہیں مانے گا وہ ناکام ہو کر رہ جائے گا‘‘۔مگر یہ مخاطبین عملاً جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ اس کے برعکس تھا۔ ان کا اپنا یہ حا ل تھا کہ ان کو رائج الوقت نظام میں سرداری اور پیشوائی کا مقام حاصل تھا۔ دوسری طرف پیغمبر ایک غیر رواجی دین کا داعی ہونے کی وجہ سے مروجہ نظام میں بے حیثیت اور اجنبی بنا ہوا تھا۔ اس فرق کی بنا پر مخاطبین کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ تم ہم کو دیوانہ معلوم ہوتے ہو۔ ہر قسم کی دنیوی خوبیاںتو خدا نے ہم کو دے رکھی ہیں اور تم کہتے ہو کہ کامیابی تمھارے لیے ہے اور تمھارا ساتھ دینے والوں کے لیے۔مگر یہ ان کے زاویۂ نظر کا فرق تھا ۔ وہ اپنی چیزوں کو ’’انعام‘‘ کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ حالاں کہ یہ تمام چیزیں صرف ’’آزمائش‘‘ کا سامان ہیں جو موجودہ دنیا میں کسی کو وقتی طورپر دی جاتی ہیں۔
وہ یہ بھی کہتے تھے کہ تمھارے دعوے کے مطابق تمھارے پاس خدا کے فرشتے آتے ہیں تو یہ فرشتے ہمیں کیوں نہیں دکھائی دیتے۔ یہ بھی زاویۂ نظر کے فرق کی بنا پر تھا۔ پیغمبر کے پاس جو فرشتہ آتا ہے وہ وحی کا فرشتہ ہوتا ہے جو خدا کا کلام پیغمبر تک پہنچاتاہے۔ اس کے علاوہ خداکے وہ فرشتے بھی ہیں جو اس لیے آتے ہیں کہ وہ حقیقت کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کردیں ۔ مگر وہ دعوت کی تکمیل کے بعد آتے ہیں اورجب وہ آتے ہیں تو یہ فیصلہ کرنے کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ایمان کی طرف بلانے کا۔
حضرت ابراہیم فلسطین میں رہتے تھے۔ اس کے قریب ہی بحر مردار کے کنارے آپ کے بھتیجے حضرت لوط تھے۔ حضرت لوط نے اس علاقہ میں بسنے والوں پر تبلیغ کی۔ مگر وہ اصلاح قبول کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ ان کی سرکشی بڑھتی چلی گئی۔ یہاںتک کہ خدا کا فیصلہ یہ…
…مدد گار بن جاتا ہے۔ ان لڑکیوں نے حضرت لوط کے ساتھ نجات پائی۔ مگر آپ کی بیوی دل سے آپ کی مومن نہ بن سکی۔ چنانچہ اس کو دوسرے مجرموں کے ساتھ ہلاک کردیاگیا۔ خدا کے قانون میں محض رشتہ داری کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی۔
ایک ’’حق‘‘ وہ تھا جس کو لے کر فرشتے حضرت ابراہیم ؑکے پاس آئے تھے۔ دوسرا حق وہ ہے جس کو لے کر وہ حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ پہلا حق خداکے خصوصی انعام کی صورت میں تھا۔ دوسرا حق خدا کی خصوصی سزا کی صورت میں۔
حضرت لوط کے پاس فرشتے انسان کی صورت میں آئے۔ یہ فرشتے اس لیے آئے تھے کہ وہ پیغمبر کو نہ ماننے والوں کے درمیان وہ فیصلہ نافذ کردیں جو خدا نے ان کی سرکشی کی بنا پر ان کے لیے مقدر کیاہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق، حضرت لوط رات کے اندھیرے میں دوسرے اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل گئے۔ اس کے بعد صبح سویرے شدید زلزلہ کے دھماکوں سے وہ پورا علاقہ تلپٹ ہوگیا۔ تمام منکرین انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کردیے گئے۔
یہ ہلاکت کہاں ہوئی۔ یہ ان کی اسی دنیا میں ہوئی جس کو وہ اپنی دنیا سمجھے ہوئے تھے۔ جہاں کی ہر چیز ان کو اپنی ساتھی اور مدد گار دکھائی دیتی تھی۔ خدا جب حکم دیتا ہے تو عین وہی نقشہ آدمی کے لیے ہلاکت کا نقشہ بن جاتاہے، جس کو وہ اپنے لیے کامیابی کا نقشہ سمجھے ہوئے تھا۔ جس محل کے اندر اپنے آپ کو پاکر آدمی فخر کرتاہے اس محل کو اس طرح کھنڈر کردیا جاتا ہے جیسے کہ وہ ایک ملبہ تھا جو آدمی کے سرپر پٹک دیاگیا۔
ایک ’’حق‘‘ وہ تھا جس کو لے کر فرشتے حضرت ابراہیم ؑکے پاس آئے تھے۔ دوسرا حق وہ ہے جس کو لے کر وہ حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ پہلا حق خداکے خصوصی انعام کی صورت میں تھا۔ دوسرا حق خدا کی خصوصی سزا کی صورت میں۔
حضرت لوط کے پاس فرشتے انسان کی صورت…
…عین وہی نقشہ آدمی کے لیے ہلاکت کا نقشہ بن جاتاہے، جس کو وہ اپنے لیے کامیابی کا نقشہ سمجھے ہوئے تھا۔ جس محل کے اندر اپنے آپ کو پاکر آدمی فخر کرتاہے اس محل کو اس طرح کھنڈر کردیا جاتا ہے جیسے کہ وہ ایک ملبہ تھا جو آدمی کے سرپر پٹک دیاگیا۔
ایک ’’حق‘‘ وہ تھا جس کو لے کر فرشتے حضرت ابراہیم ؑکے پاس آئے تھے۔ دوسرا حق وہ ہے جس کو لے کر وہ حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ پہلا حق خداکے خصوصی انعام کی صورت میں تھا۔ دوسرا حق خدا کی خصوصی سزا کی صورت میں۔
حضرت لوط کے پاس فرشتے انسان کی صورت میں آئے۔ یہ فرشتے اس لیے آئے تھے کہ وہ پیغمبر کو نہ ماننے والوں کے درمیان وہ فیصلہ نافذ کردیں جو خدا نے ان کی سرکشی کی بنا پر ان کے لیے مقدر کیاہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق، حضرت لوط رات کے اندھیرے میں دوسرے اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل گئے۔ اس کے بعد صبح سویرے شدید زلزلہ کے دھماکوں سے وہ پورا علاقہ تلپٹ ہوگیا۔ تمام منکرین انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کردیے گئے۔
یہ ہلاکت کہاں ہوئی۔ یہ ان کی اسی دنیا میں ہوئی جس کو وہ اپنی دنیا سمجھے ہوئے تھے۔ جہاں کی ہر چیز ان کو اپنی ساتھی اور مدد گار دکھائی دیتی تھی۔ خدا جب حکم دیتا ہے تو عین وہی نقشہ آدمی کے لیے ہلاکت کا نقشہ بن جاتاہے، جس کو وہ اپنے لیے کامیابی کا نقشہ سمجھے ہوئے تھا۔ جس محل کے اندر اپنے آپ کو پاکر آدمی فخر کرتاہے اس محل کو اس طرح کھنڈر کردیا جاتا ہے جیسے کہ وہ ایک ملبہ تھا جو آدمی کے سرپر پٹک دیاگیا۔
ایک ’’حق‘‘ وہ تھا جس کو لے کر فرشتے حضرت ابراہیم ؑکے پاس آئے تھے۔ دوسرا حق وہ ہے جس کو لے کر وہ حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ پہلا حق خداکے خصوصی انعام کی صورت میں تھا۔ دوسرا حق خدا کی خصوصی سزا کی صورت میں۔
حضرت لوط کے پاس فرشتے انسان کی صورت…
…داعی کے دل میں اس کے لیے نرم گوشہ موجود رہتاہے۔ اسی طرح داعی اگر اپنے ماحول میں بے یارومددگار ہوجائے تب بھی وہ مایوس نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا اصل سہارا خدا ہوتاہے۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بدستور اس کے ساتھ موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔
آدمی اپنے خاندان اور اپنے گروہ کے ساتھ جیتاہے۔ ایسی حالت میں کسی شخص کو اس کے خاندان اور اس کے گروہ سے نکال دینا گویا اس کو بربادی کے صحرا میں دھکیل دیناہے۔ مگر حضرت ابراہیم کے واقعہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے دکھادیا کہ جو بندہ خالص اللہ کے لیے بے گھر کیاجائے اس کو اللہ اپنی طرف سے زیادہ اچھا گھر عطا کردیتاہے۔ جو شخص خالص اللہ کے لیے گم نامی میں ڈال دیا جائے اس کو اللہ زیادہ بڑے پیمانہ پر نیک نام بنا دیتاہے۔
یہ اس بندہ کی زبان سے نکلی ہوئی دعا ہے جو دین کا مشن چلاتے ہوئے بالکل بوڑھا ہوگیا تھا۔ اور اہل خاندان میں کوئی شخص اس کو نظر نہیں آتا تھا جو اس کے بعد اس کے مشن کو جاری رکھے۔ ایک طرف اپنا عجزاور دوسری طرف مشن کی اہمیت۔ یہ دونوں احساسات اس…
…ساتھ بھی درجہ بدرجہ اسی قسم کا معاملہ فرماتا ہے۔ وہ ان کے حسب استعداد انھیں اپنے کسی کام کو کرنے کی توفیق دیتاہے۔ وہ ان پر خاموشی سے اپنی بات القاء کرتا ہے۔ وہ ان کے لیے ایسی خصوصی تائید کا انتظام کرتاہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
حضرت موسیٰ مدین سے چل کر مصر جارہے تھے۔ اس سفر میں وہ کوہ طور سے گزرے۔ وہاں خدا نے انھیں پیغمبری عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلے ہر دور میں اپنے پیغمبر منتخب کيے اور ان کے پاس اپنا کلام بھیجا۔ یہ کلام ہمیشہ جبریل فرشتہ کے ذریعہ آیا۔ مگر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ اللہ نے ان سے براہِ راست کلام کیا۔ نیز یہ بھی حضرت موسیٰ کی خصوصیت ہے کہ آپ کے لیے خدا نے ایک مزید پیغمبر (حضرت ہارون ) مقرر فرمایا جو آپ کا مدد گار ہو۔ اس خصوصیت کی وجہ شاید وہ مخصوص حالات ہوں جن میں آپ کو اپنا پیغمبرانہ فرض انجام دینا تھا۔ کیوں کہ آپ کے سامنے ایک طرف فرعون جیسا جابر بادشاہ تھا اور دوسری طرف یہود جیسی قوم جو اپنے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی۔
رحمت و نصرت کے یہ معاملات اپنی انتہائی صورت میں صرف پیغمبروں کے لیے خاص ہیں۔ تاہم اللہ اپنے مومن بندوں کے ساتھ بھی درجہ بدرجہ اسی قسم کا معاملہ فرماتا ہے۔ وہ ان کے حسب استعداد انھیں اپنے کسی کام کو کرنے کی توفیق دیتاہے۔ وہ ان پر خاموشی سے اپنی بات القاء کرتا ہے۔ وہ ان کے لیے ایسی خصوصی تائید کا انتظام کرتاہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔
حضرت موسیٰ مدین سے چل کر مصر جارہے تھے۔ اس سفر میں وہ کوہ طور سے گزرے۔ وہاں خدا نے انھیں پیغمبری عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلے ہر دور میں اپنے پیغمبر منتخب کيے اور ان کے پاس اپنا کلام بھیجا۔ یہ کلام ہمیشہ جبریل فرشتہ کے ذریعہ آیا۔ مگر…
…کو خدا نے اپنی پیغمبری کے لیے چنا۔ ان کے اندر یہ صفتیں کمال درجہ میں موجود ہوتی تھیں۔ تاہم عام اہلِ ایمان سے بھی یہی صفات مطلوب ہیں اور ان کو بھی درجہ بدرجہ اس کے وہ ثمرات حاصل ہوتے ہیں جو خدا نے ان صفتوں کے لیے ابدی طورپر مقرر کيے ہیں۔
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے فرزند تھے۔حضرت ادریس ایک پیغمبر ہیں جو غالباً حضرت نوح سے پہلے پیداہوئے۔ ان پیغمبروں کی دو خاص صفتیں یہاں بیان کی گئی ہیں— سچا ہونا، لوگوں کو نماز (خدا کی عبادت) اور زکوٰۃ (بندوں کے حقوق کی ادائيگی) کی تلقین کرنا۔ ارشاد ہوا ہے کہ ان صفتوں نے ان کو خدا کا پسندیدہ بنا دیا اور وہ انتہائی اعلیٰ درجہ پر پہنچا دئے گئے۔
جن شخصیتوں کو خدا نے اپنی پیغمبری کے لیے چنا۔ ان کے اندر یہ صفتیں کمال درجہ میں موجود ہوتی تھیں۔ تاہم عام اہلِ ایمان سے بھی یہی صفات مطلوب ہیں اور ان کو بھی درجہ بدرجہ اس کے وہ ثمرات حاصل ہوتے ہیں جو خدا نے ان صفتوں کے لیے ابدی طورپر مقرر کيے ہیں۔
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے فرزند تھے۔حضرت ادریس ایک پیغمبر ہیں جو غالباً حضرت نوح سے پہلے پیداہوئے۔ ان پیغمبروں کی دو خاص صفتیں یہاں بیان کی گئی ہیں— سچا ہونا، لوگوں کو نماز (خدا کی عبادت) اور زکوٰۃ (بندوں کے حقوق کی ادائيگی) کی تلقین…
…باوجود ان میں ابھی زندگی موجود تھی۔ چنانچہ انھوں نے آپ کے جواب کے استدلالی وزن کو محسوس کیا۔ اور شرمندہ ہو کر اپنے برسرناحق ہونے کا اعتراف کیا۔ بعد کو اگر عصبیت کے جذبات نہ ابھر آتے تو یہ تجربہ انھیں ایمان تک پہنچانے کے لیے کافی ہوجاتا۔
حضرت ابراہیم کے ان جوابات پر وہ لوگ آپ کو گستاخ ٹھہرا کر بگڑ سکتے تھے۔ جیسا کہ ان مواقع پر عام طور ہوتا ہے۔ تاہم بت پرستی کے باوجود ان میں ابھی زندگی موجود تھی۔ چنانچہ انھوں نے آپ کے جواب کے استدلالی وزن کو محسوس کیا۔ اور شرمندہ ہو کر اپنے برسرناحق ہونے کا اعتراف کیا۔ بعد کو اگر عصبیت کے جذبات نہ ابھر آتے تو یہ تجربہ انھیں ایمان تک پہنچانے کے لیے کافی ہوجاتا۔
حضرت ابراہیم کے ان جوابات پر وہ لوگ آپ کو گستاخ ٹھہرا کر بگڑ سکتے تھے۔ جیسا کہ ان مواقع پر عام طور ہوتا ہے۔ تاہم بت پرستی کے باوجود ان میں ابھی زندگی موجود تھی۔ چنانچہ انھوں نے آپ کے جواب کے استدلالی وزن کو محسوس کیا۔ اور شرمندہ ہو کر…
…دو چند اس کو دیا (ایوب،
12:42
)۔ حدیث میں اسی کو تمثیل کے الفاظ میں اس طرح کہاگیاہے کہ خدا نے جب دوبارہ ایوب کے دن پھیرے تو ان پر سونے کی ٹڈیوں کی بارش کردی (أَمْطَرَ عَلَيْهِ جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2533۔
پیغمبروں کے ذریعہ خدا ہر قسم کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرتا ہے تاکہ وہ لوگوں کے ليے نمونہ ہوں۔ انھیں میں ایک مثال حضرت ایوب کی ہے۔ حضرت ایوب غالباً نویں صدی قبل مسیح کے اسرائیلی پیغمبر تھے۔ بائبل کے بیان کے مطابق ابتداء ً۔ وہ بہت دولت مند تھے۔ کھیتی، مویشی، مکانات، آل اولاد، ہر چیز کی اتنی کثرت تھی کہ کہاجانے لگا کہ اہلِ مشرق میں کوئی اتنا بڑا آدمی نہیں۔ اس کے باوجود حضرت ایوب بے حد شکر گزار اور وفادار بندے تھے۔ ان کی زندگی اس بات کا نمونہ بن گئی کہ عزت اور دولت پانے کے باوجود کس طرح ایک آدمی متواضع بندہ بنا رہتا ہے۔
مگر شیطان نے اس واقعہ کو لوگوں کے ذہنوں میں الٹ دیا۔ اس نے لوگوں کو سکھایا کہ ایوب کی یہ غیرمعمولی خدا پرستی اس لیے ہے کہ ان کو غیر معمولی نعمتیں حاصل ہیں۔ اگر یہ نعمتیں ان کے پاس نہ رہیں تو ان کی ساری شکر گزاری ختم ہوجائے گی۔
اس کے بعد خدا نے آپ کے ذریعہ سے دوسری مثال قائم کی۔ حضرت ایوب کے مویشی مرگئے۔ کھیتیاں برباد ہوگئیں۔ اولاد ختم ہوگئی۔ حتی کہ جسم بھی بیماری کی نذر ہوگیا۔ دوستوں اور رشتہ داروں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ صرف ایک بیوی آپ کے ساتھ باقی رہ گئی۔ مگر حضرت ایوب خداکے فیصلے پر راضی رہے۔ انھوںنے کامل صبر کا مظاہرہ کیا۔ بائبل کے الفاظ میں
’’تب ایوب نے زمین پر گر کر سجدہ کیا۔ اور کہا ننگا میں اپنی ماں کے پیٹ سے نکلااور ننگا ہی واپس جاؤں گا۔ خداوند نے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ خداوند کا نام مبارک ہو۔ ان سب باتوں میں ایوب نے نہ تو گناہ کیا اور نہ خدا پر بے جا کام کا عیب لگایا‘‘ (ایوب، 1:22 )۔
حضرت ایوب نے جب مصیبتوں میں اس طرح صبر وشکر کا مظاہرہ کیا تو نہ صرف آخرت میں ان کے لیے بہترین اجر لکھ دیاگیا بلکہ دنیا میں بھی ان کی حالت بدل دی گئی۔ اور خدا وند نے ایوب کو جتنا اس کے پاس پہلے تھا اس کا دو چند اس کو دیا (ایوب،
12:42
)۔ حدیث میں اسی کو تمثیل کے الفاظ میں اس طرح کہاگیاہے کہ خدا نے جب دوبارہ ایوب کے دن پھیرے تو ان پر سونے کی ٹڈیوں کی بارش کردی (أَمْطَرَ عَلَيْهِ جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2533۔
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے صاحب زادے تھے۔ کچھ مفسرین نے حضرت ادریس سے وہ پیغمبر مراد لیا ہے جن کا ذکر بائبل میں حنوک (Enoch) کے نام سے آیا ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل سے مراد غالباً وہ نبی ہیں جو بائبل میں حزقی ایل کے نام سے مذکور ہوئے…
…اندر داخل ہوگیا۔ جیسے ہی وہ لوگ بیچ میں پہنچے خدا کے حکم سے سمندر کا کھڑا ہوا پانی دونوں طرف سے مل کر برابر ہوگیا۔ فرعون اپنے تمام لشکر کے ساتھ دفعۃً غرق ہوگیا۔ ایک ہی نقشہ میںایک گروہ کے ليے نجات چھپی ہوئی تھی اور دوسرے گروہ کے ليے ہلاکت۔
ایک طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم تھی کہ اس نے باپ دادا کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا وہی خود بھی کرنے لگی۔ دوسری طرف حضرت ابراہیم تھے جنھوںنے خود اپنی عقل سے سوچا۔ انھوںنے ماحول سے اوپر اٹھ کر سچائی کو معلوم کرنے کی کوشش کی۔ یہی وہ صفت خاص ہے جو آدمی کو خدا کی معرفت تک پہنچاتی ہے اور اسی صفت میں جو کمال درجہ پر ہو اس کو خدا اپنے دین کی پیغام بری کے ليے منتخب فرماتا ہے۔
’’ہم اپنے بتوں پر جمے رہیںگے‘‘ کے الفاظ بتاتے هيںکہ حضرت ابراہیم سے گفتگو میں انھوںنے اپنے آپ کو بے دلیل پایا۔ اس کے باوجود وہ ماننے کے ليے تیار نہ ہوئے۔ دلیل کی سطح پر شکست کھانے کے باوجود وہ تعصب کی سطح پر اپنے آبائی دین پر قائم رہے۔
مٹی کے اندر سے ہرے بھرے درخت کا نکلنا اتنا ہی عجیب ہے جتنا یہ واقعہ کہ مٹی کے اندر سے اچانک ایک زندہ اونٹ نکل آئے اور زمین پرچلنے پھرنے لگے۔ لوگ دوسری قسم کے واقعہ کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ حالاں کہ اس سے زیادہ بڑا واقعہ ہر وقت زمین پر…
…نے ساتھ ساتھ انجام دئے۔ اس سے دونوں کاموں کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ مسلمان اگر بگڑے ہوئے ہوں تو اس بنا پر دعوتِ عام کا کام روکا نہیں جاسکتا۔ اور اگر دعوت عام کا کام کرنا ہو تو وہ اس طرح نہیں کیا جائے گا کہ داخلی اصلاح کا کام بند کردیاجائے۔
اس آیت میں ’’حکم‘‘ سے مراد فہم صحیح ہے۔ یعنی چیزوں کو ویسا ہی دیکھنا جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ نبوت کے بعد کسی بندۂ خداکے ليے یہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ اسی ليے حدیث میں آیا ہے کہ مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر
71
)يعني، اللہ جس شخص کے ليے خیر کا ارادہ کرتاہے اس کو دین کی سمجھ دے دیتاہے)۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا میں جو باتیں کہیں وہ سب قبول ہوگئیں۔ مگر اپنے باپ (آزر) کی مغفرت کی دعا قبول نہیں ہوئی۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ دعا تمام تر خدا اور بندے کے درمیان کا معاملہ ہے۔ کسی شخص کی دعا کسی دوسرے شخص کو مغفرت نہیں دلاسکتی۔
اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قیمت ’’قلب سلیم‘‘ کی ہے۔ قلب سلیم سے مراد قلب صحیح یا پاک دل ہے یعنی وہ دل جو شرک اور نفاق اور حسد اور بغض کے جذبات سے پاک ہو۔ بالفاظ دیگر خدا نے پیدائشی طورپر جو دل آدمی کو دیا تھا وہی دل لے کر وہ خدا کے یہاں پہنچے۔ کوئی دوسرا دل لے کر وہ خدا کے یہاں حاضر نہ ہو۔
اس آیت میں ’’حکم‘‘ سے مراد فہم صحیح ہے۔ یعنی چیزوں کو ویسا ہی دیکھنا جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ نبوت کے بعد کسی بندۂ خداکے ليے یہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ اسی ليے حدیث میں آیا ہے کہ مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ (صحیح…
…دنیا میں مطالعہ اور مشاہدہ کرے۔ وہ دیکھے گا کہ پوری دنیا اسی واقعہ کا زندہ نمونہ ہے۔ خدا نے اپنی دنیا میں یہ نمونے اس ليے قائم کيے کہ انسان تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھے اور پھر وہ عمل کرے جو اگلے مرحلۂ حیات میں اس کے کام آنے والا ہو۔
انسان نہیں تھا، اس کے بعد وہ ہو جاتا ہے۔ پھر جو تخلیق ایک بار ممکن ہو وہ دوسری بار کیوں ممکن نہ ہوگی۔ شاہ عبد القادر دہلوی نے اس موقع پر یہ بامعنی نوٹ لکھا ہے ’’شروع تو دیکھتے ہو، دُہرانا اسی سے سمجھ لو‘‘۔
ہر آدمی اپنی ذات میں تخلیقِ اول کی ایک مثال ہے۔ اگر آدمی کو مزید مثالیں درکار ہیں تو وہ خدا کی وسیع دنیا میں مطالعہ اور مشاہدہ کرے۔ وہ دیکھے گا کہ پوری دنیا اسی واقعہ کا زندہ نمونہ ہے۔ خدا نے اپنی دنیا میں یہ نمونے اس ليے قائم کيے کہ انسان تخلیقِ ثانی کے معاملے کو سمجھے اور پھر وہ عمل کرے جو اگلے مرحلۂ حیات میں اس کے کام آنے والا ہو۔
جو چیزکسی معاشرہ میں قومی رواج کی حیثیت حاصل کرلے وہ اس کے ہر فرد کی ضرورت بن جاتی ہے۔ اسی کی بنیاد پر باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے ہر قسم کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی کے اعتبار سے لوگوں کے درمیان کسی آدمی کی قیمت مقرر ہوتی ہے —…
…ہر قسم کی راحت سے محروم ہونا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ان کی زندگی عملاً صبر اور مشقت کی زندگی بن گئی۔ اس قربانی کی قیمت انھیں آخرت میں اس طرح ملے گی کہ خدا انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جہاں وہ ہمیشہ کےلیے غم اور تکلیف سے محفوظ ہوجائیں گے۔
حضرت یعقوب حضرت ابراہیم کے پوتے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام پیغمبر بنی اسرائیل کی نسل میں پیدا ہوتے رہے۔ اس طرح تقریباً دو ہزار سال تک پیغمبری کا سلسلہ یہود کی نسل میں جاری رہا۔ مگر بعد کے دور میں یہود اس قابل نہ رہے کہ وہ کتابِ الٰہی کے حامل بن سکیں۔ چنانچہ دوسری زندہ قوم (بنو اسماعیل) کو کتابِ الٰہی کا حامل بننے کےلیے منتخب کیا گیا۔ بنو اسماعیل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی فیصلہ الٰہی کی تعمیل تھی۔ اس آیت میں ’’منتخب بندوں‘‘ سے مراد یہی بنو اسماعیل ہیں۔
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو اسماعیل کے سامنے قرآن پیش کیا تو ان میں تین قسم کے لوگ نکلے۔ ایک وہ جو اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ دوسرے وہ جنھوں نے درمیانی راہ اختیار کی۔ تیسرا گروہ آگے بڑھنے والوں کاتھا۔ یہی وہ لوگ ہیںجنھوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔
قرآن کا ساتھ دینے کےلیے انھیں ہر قسم کی راحت سے محروم ہونا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ان کی زندگی عملاً صبر اور مشقت کی زندگی بن گئی۔ اس قربانی کی قیمت انھیں آخرت میں اس طرح ملے گی کہ خدا انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جہاں وہ ہمیشہ کےلیے غم اور تکلیف سے محفوظ ہوجائیں گے۔
دنیا میں حق کا انکار کرنے والے آخرت میں حق کا مکمل اعتراف کریں گے۔ مگر یہ اعتراف ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ آخرت کا اعتراف مجبور انسان کا اعتراف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو جو اعتراف مطلوب ہے وہ اختیاری اعتراف ہے، نہ کہ جبری اعتراف۔
…اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔
حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔
حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب…
…کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت…
…فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔
قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔
حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔
قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے…
…دور اول میں خدا کے دین کے اظہار کے لیے کا رآمد آدمی نہ مل سکے۔ جب منصوبہ کے مطابق مکمل اسٹیج تیار ہو گیا اس وقت بنو ہاشم کے یہاں آمنہ بنت و ہب کے پیٹ سے وہ پیغمبر ِ غلبہ پیدا کر دیا گیا جس کی دعا حضرت ابراہیم کی زبان پر جاری ہوئی تھی۔
حضرت ابراہیم نے خدا کےحکم سےہاجرہ اور اسمٰعیل کو موجودہ مکہ کے مقام پر لاکر بسا دیا جہاں اس وقت سوکھی زمین اور خشک پتھروں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جب مشک کا پانی ختم ہو گیا اور اسماعیل پیاس کی شدت سے ہاتھ پاؤں مارنے لگے تو خشک بیابان میں زمزم کا چشمہ نکل آیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ خد ا نے اگر چہ تم کو بڑے سخت محاذپر کھڑا کیا ہے مگر وہ ایسا نہیں کرے گا کہ تم کو بے سہارا چھوڑدے۔ تمہارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے اور خدا ہر نازک موڑ پر تمہاری مدد کے لیے موجود رہے گا۔ اسماعیل جب نو جوانی کی عمر کو پہنچے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں۔ اس خواب کو انہوںنے حکم خدا وندی سمجھا اور بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے مگر عین اس وقت جب کہ ان کی چھری اسماعیل کے گلے پر پہنچ چکی تھی خدا نے آواز دے کر انہیں روک دیااو ر اس کے بد لے انہیں ایک مینڈھا دیا جس کو وہ خدا کے نام پر ذبح کریں۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ تم سے اگر چہ ہم نے بہت بڑی قربانی مانگی ہے مگر یہ صرف جذبہ کا امتحان ہے۔ قربانی پیش تو کرنا ہوگا مگر ابھی قربان ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ خدا تمہیں بچالے گا۔ کیونکہ اصل مقصد تم کو ایک بڑے کام کے لیے استعمال کرنا ہے نہ کہ خواہ مخواہ ہلاک کر دینا۔
حضرت اسماعیل بڑے ہوئےتو انہوں نے قبیلہ جرہم کی ایک لڑکی سے شادی کرلی جو زمزم نکلنے کے بعد آکر مکہ میں آباد ہو گیا تھا۔ حضرت ابراہیم جو اس وقت شام میں تھے، ایک روز گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اس وقت گھر پر اسماعیل نه تھے، صرف بیوی موجود تھیں…
…عَلَيْكُمْ ( شعب الایمان للبہیقی، حديث نمبر7006)۔ يعنى، جيسے تم هوگے، ويسے تمھارے حكمراں هوں گے۔ دوسرے الفاظ ميں يه كه حكمراں كا تعين كسى مخصوص عقيدے كى بنياد پر نهيں هوگا، بلكه اس كا تعين لوگوں كى رائے (vote)كے ذريعے كيا جائے گا۔
يه ايك قسم كے سماجى بندو بست (social settlement)كا معامله هے۔ اِس كا فائده يه هے كه زندگى كے دونوں شعبوں (سياسى اور غير سياسي) ميں امن كا قيام ممكن هوجاتاهے۔ عقيده اور عبادت اور دعوت كے ميدان ميں لوگوں كو موقع مل جاتاهے كه وه پُر امن طورپر اپنى تمام سرگرميوں كو جارى ركھيں، وه اپنے حق ميں مواقع كا بھر پور استعمال كريں۔ دوسرى طرف، سماج كے هر گروه كو يه موقع حاصل هوجاتا هے كه وه سماج كے اندر اپنے افكار كى پر امن اشاعت كرسكے اور پھر اگلے اليكشن كے موقع پر، حسبِ حالات، وه اپنى پرامن كوششوں كا فائده اٹھائے— انسانى آزادى كو برقرار ركھتے هوئے سماجى بندوبست كا اِس سے بهتر كوئى نظام ممكن نهيں۔
خاتمه كلام
…صورتِ حال کی بنا پر آبائی مذہب ایک سماجی رواج بن گیا تھا۔ اِس تسلسل کو توڑنے کے بعد ہی یہ ممکن تھا کہ ایک ایسی نئی نسل بنائی جائے جو اپنی فطری حالت پر قائم ہو اور پھر پیغمبر کی دعوت کو قبول کرکے وہ خدا پرست انسانوں کی ٹیم کا حصہ بن سکے۔
اِس مخصوص منصوبے کے تحت، حضرت ابراہیم نے یہ کیا کہ وہ اُس دور کے متمدن ملک عراق کو چھوڑ کر عرب کے صحرا میں آئے اور یہاں خالص صحرائی ماحول میںاپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو آباد کیا۔ صحرائی ماحول میں آباد کرنے کا مقصد یہ تھا کہ متمدن دنیا سے منقطع ہو کر ایک نسل بنے جو متمدن ماحول کی کنڈیشننگ (conditioning)سے پاک ہو۔
یہی وہ خصوصی منصوبہ تھا جس کے تحت حضرت ابراہیم کو یہ خواب دکھایا گیا کہ آپ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کررہے ہیں (37:102)۔ حضرت ابراہیم نے اِس معاملے کو اپنے بیٹے کے جسمانی ذبح کے ہم معنی سمجھا اور بیٹے کولٹا کر اس کو ذبح کرنے کے لیے تیار…
…هے۔ جو انسان اِس ملى هوئى مدت كے دوران اپنے اندر مطلوب شخصيت كى تعمير كرلے، اس كو نرسرى سے نكال كر دوسرى دنيا ميں ابدى طورپر بسا ديا جاتا هے۔ اور جو لوگ مطلوب انداز ميں اپنى تعمير نه كرسكيں، اُن كو نرسرى سے نكال كر باهر پھينك ديا جائے گا۔
اِس دنيا كے ليے خالق كا نشانه اجتماعى نهيں هے، بلكه انفرادى هے۔ اِس اعتبار سے، يه كهنا درست هوگا كه موجوده دنيا تعمير نظام كے ليے نهيں هے، بلكه وه تعمير شخصيت كے ليے هے۔ يهاں صرف تعميرِ شخصيت ممكن هے، آئڈيل معنوں ميں تعميرِ نظام يهاں سرے سے ممكن هى نهيں۔انسانى زندگى كى يهى تعبير صحيح تعبير هے۔ اِس كے صحيح هونے كا ثبوت يه هے كه اس كو ماننے كى صورت ميں زندگى كے تمام سوالات كا قابلِ فهم جواب مل جاتا هے
With this description of human life, everything falls into place.
…کا زمانہ بیسویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کی غیر معمولی قربانی سے عرب کے صحراب میں ایک اعلیٰ درجہ کی نسل تیار ہوئی۔ اس نسل نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت کو قبول کرکے وہ جدوجہد کی جس کے نتیجہ میں تاریخ کا عظیم ترین انقلاب برپا ہوا۔
حج کے ارکان میں سے ایک رکن وہ ہے جس کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کہا جاتا ہے۔ یہ دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان تقریباً395 میٹر کا فاصلہ ہے۔ اس کے علاوہ ہر روز دنیا بھر سے عمرہ کرنے والے عمرہ کرنے کے لیے مکہ پہنچتے ہیں اور وہ بھی طواف کعبہ کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ اس طرح صفا و مروہ کے درمیان سعی کا یہ سلسلہ سارے سال جاری رہتا ہے۔
یہ سعی کیا ہے جس کو تمام مسلمان، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، پوری وفاداری کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ یہ اسی عظیم خاتون ہاجرہ کے نقش کی پیروی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے ہاجرہ کو ان کے چھوٹے بچہ کے ساتھ مکہ کے پاس صحرا میں ڈال دیا تھا۔ اس وقت ان کے پاس…
…واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے يَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ َیَسْتَهْزِؤوْنَ (36:30)۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔
اللہ رب العالمین کو اپنے نقشۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق یہ منظور نہیں تھا کہ وہ انسان کی آزادی کا خاتمہ کردے۔ اس لیے اس نے یہ کیا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، ہدایت کا ایک نیا نقشہ بنایا۔ اس نئے نقشے کی تکمیل کے لیے اللہ رب العالمین نے ابراہیم اور ان کی ذرّیت کو چنا۔ جن کا زمانہ 1850-2324 ق م کے درمیان ہے۔ یہ گویا رب العالمین کی طرف سے ہدایت کی ری پلاننگ کا معاملہ تھا۔
پیغمبر ابراہیم قدیم عراق میں پیداہوئے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو سچائی کا راستہ دکھایا۔ لیکن قدیم عراق کے باشندے جو اس وقت شرک پر قائم تھے، پیغمبر ابراہیم کی پیروی پر راضی نہ ہوسکے۔ آخرکار پیغمبر ابراہیم نے ایک خدائی منصوبہ کے مطابق عراق کو…
…نہ رہا۔ وقت کی حکومت آپ کو خطرہ کی نظر سے دیکھنے لگی۔ کیونکہ آپ اس کے پھیلائے ہوئے اس تو ہماتی عقیدہ کی تردید کرتے تھے کہ سورج چاند خدائی ہستیاں ہیں اور اُن کی طرف سے کسی کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ زمین پر لوگوں کا بادشاہ بن جائے۔
حضرت ابراہیم نے پر سکون زندگی کے اوپر مصیبت کی زندگی کو تر جیح دی۔ انھوں نے عوام کے درمیان مقبولیت کے مقابلہ میں عوام کے درمیان اجنبی بن جانے کو پسند کر لیا۔ وہ عہدہ اور جائداد کو چھوڑ کرخالی ہاتھ ہو جانے پرقانع ہو گئے ۔ بادشاہ وقت کے دربار میں معزز کرسی پر بیٹھنے کے بجائے انھوں نے یہ خطرہ مول لیا کہ با دشاہ کی نظر میں وہ معتوب ہو جائیں اور حکومت کی طرف سے ان کی پکڑ دھکڑ شروع ہو جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ وہ قوم کے اندر بے عزت کیے گئے۔ پھر آپ کو آگ میں ڈال دیا گیا جس سے اللہ نے آپ کو بچالیا۔ اس کے بعد آپ کو مجبور کیا گیا کہ آپ عراق کو چھوڑ دیں اور ملک کے باہر چلے جائیں۔
یہاں سے آپ کی زندگی میں ایثار و قربانی کا ایک اور شدید تر مرحلہ شروع ہوتا ہے ۔ ملک کے معزز ترین خاندان کا ایک فرد اس طرح بے سرو سامانی کی حالت میں اپنے وطن سے نکلا کہ اس کے ساتھ صرف اس کی بیوی سارہ تھی اور اس کا بھتیجا لوط ۔ تین آدمیوں…
…و قربانی کا اور بھی کڑا امتحان سامنے آگیا۔ خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنے آخری سہارے سے بھی دست بردار ہوجاؤ ، اپنے بیٹے کو ہماری راہ میں قربان کر دو ۔ تورات کے بیان کے مطابق جب قربانی کا حکم ہوا تو اس وقت آپ کے فرزند کی عمر 13سال تھی۔
حضرت ابراہیم سوسال کی عمر کو پہنچ گئے تھے کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں۔خواب کو عام طور پر ایک تمثیلی چیز سمجھا جاتا ہے۔ آپ اس کو کسی تعبیری مفہوم میں لے سکتے تھے۔ مگر یہ حضرت ابراہیم کےایثار و قربانی کے جذبہ کی انتہا تھی کہ آپ نے خواب کی کوئی تاویل نہ کی ۔ آپ اس خواب کو اس کی اصلی صورت میں زیر عمل لانے کے لیے تیار ہو گئے۔ مروہ پہاڑی کے مقام پر تاریخ کا وہ انوکھا واقعہ پیش آیا جس کو دیکھنے کے لیے زمین و آسمان رک گئے ۔ بوڑھا باپ اپنے محبوب بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہا تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے عین وقت پر مداخلت کر کے حضرت اسماعیل کو ذبح ہونے سے بچالیا ۔ آسمان سے آواز آئی کہ بس تم نے تسلیم و وفاداری کا آخری ثبوت دے دیا۔ بیٹے کے بدلے میں اللہ نے آپ کی طرف سے مینڈھے کی قربانی قبول کر لی۔ اس کے بعد یہ طریقہ مستقل طور پر تمام خدا پرستوں کے لیے مقرر کر دیا گیا۔ حکم ہوا کہ آدمی اپنی قربانی کے علامتی فدیہ کے طور پر ہر سال انھیں تاریخوں میں جانور ذبح کرے جن تاریخوں میں حضرت ابراہیم خدا کے حکم کی تعمیل میں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔
حضرت ابراہیم کو جو خواب دکھایا گیا اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ آپ اپنے عزیز بیٹے کو دعوت توحید کے مرکز (بیت اللہ) کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔ اسی غرض سے حکم ہوا تھا کہ اسماعیل اور ان کی والدہ کو لے جا کر مکہ کی خشک اور سنسان زمین پر بسا دو۔…
…غیر معمولی ایثار و قربانی کے جذبہ کے تحت ہوا۔ ایثار و قربانی کی نفسیات کے بغیر ان میں سے کوئی کام بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ خدا پرست بننا اپنے کو ذبح کرنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے کو ذبح کرنے پر تیار نہ ہو وہ خدا پرست بھی نہیں بن سکتا۔
حضرت ابراہیم کی زندگی سرا پا حق کی زندگی تھی۔ آپ کی زندگی میں خدا پرستوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ — اگر تم خدا والے بننا چاہتے ہو تو ظواہر سے گزر کر حقائق کو دیکھنے والی نگاہ پیدا کرو۔ اگر تم خدا والے بننا چاہتے ہو تو ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر خدا کی پسند کو اپنا مقصود بناؤ ۔ اگر تم خدا والے بننا چاہتے ہو تو خدا کی راہ میں اپنی عزیز ترین چیز قربان کرنے کے لیے تیار رہو ۔ اگر تم خدا والے بننا چاہتے ہو تو غیر مشروط طور پر اپنے آپ کو خدا کی اطاعت کے لیے راضی کرو۔
حضرت ابراہیم کی زندگی اپنے زمانہ کے لوگوں کے لیے بھی ایک نمونہ کی زندگی تھی اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے بھی وہ بہترین نمونہ کی حیثیت سے قائم رہے گی۔
قربانی کیوں
روایات میں آتا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا مَا هٰذِهِ الأُضَاحِي يَا رَسُولَ اللهِ (اے خدا کے رسول یہ قربانیاں کیا ہیں)۔ آپ نے جواب دیا سَنَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ(یہ تمھارے باپ ابراہیم کا طریقہ ہے) (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127)۔ گویا عید اضحی میں جانور کو ذبح کرنا اس عظیم تاریخی واقعہ کی یاد تازہ کرنا ہے جو چار ہزار سال پہلے پیش آیا۔
قربانی ، حضرت ابراہیم کی زندگی کو اپنا آئیڈیل بنانے کا عزم ہے۔ یہ ایک وقتی قسم کی سالانہ رسم نہیں بلکہ مستقل زندگی کا ایک سالانہ مظاہرہ ہے۔ قربانی کی عبادت کو آدمی اگر اس کی اصلیت کے اعتبار سے سمجھ کر ادا کرے اسی وقت اس سے یہ امید کی…
ایثار اور قربانی کی تجدید
عید الاضحی کا تیوہار ، دوسرے تاریخی تیوہاروں کی طرح ، ایک بڑے تعمیری اور انقلابی واقعہ کی یاد گار ہے ۔ ہر سال ہجری کلنڈر کے آخری مہینہ میں اس دن کو عید اضحی کے طور پر اس لیے منایا جاتا ہے کہ لوگ اس دن پیش آنے والے عظیم واقعہ کو یاد کریں اور اس کو اپنی زندگیوں میں داخل کرنے کا عہد کریں ۔ یہ دن، ایک لفظ میں ، ایثار اور قربانی کی یادگار ہے ، وہ ایثار اور قربانی کی تجدید کا دن ہے۔
عید الاضحی جس عظیم واقعہ کی یادگار ہے ، وہ تقریباً چار ہزار سال پہلے پیش آیا۔ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام ، جو عراق کے متمدن ملک میں پیدا ہوئے تھے ، انہوں نے ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر اپنے بیٹے اسماعیل کو قربان کر دیا ۔ یہ قربانی…
…اس قسم کی نسل شہر کی مصنوعی فضا میں نہیں بن سکتی تھی۔ اس کے لیے فطرت کا سادہ ماحول درکار تھا۔ یہی منصوبہ ہے جس کی تکمیل ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے ذریعہ انجام پائی حضرت ابراہیم نے اس اعلیٰ مقصد کی خاطر اپنے بیٹے کو قربان کر دیا۔
اس مقصد کی تکمیل کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو عراق کی تمدنی فضا سے نکالا اور ان کو لا کر عرب کے غیر آباد علاقہ میں ڈال دیا۔ اس وقت وہاں ریت اور پتھر کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں زندگی کا کوئی سامان پایا نہ جاتا تھا۔ تاہم اس بے سامان ماحول میں سب سے بڑا سامان موجود تھا۔ وہ سادہ ماحول جہاں انسان اپنی فطرت پر پرورش پائے ، جہاں اس کے پیدائشی انسانی اوصاف کو آزادانہ ترقی کرنے کا موقع ملے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس خشک اور خالی علاقہ کو مطلوبہ نئی نسل تیار کرنے کے لیے منتخب کر لیا۔ یہ گویا ایک عظیم صحرائی تربیت گاہ تھی جہاں حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو لاکر بسا دیا ۔ حضرت اسماعیل جب بڑے ہوئے تو انہوں نے ایک صحرائی لڑکی سے…
…وہ اپنی زبان سے عربی کے وہ الفاظ کہتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے بے شک میری عبادت اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے ۔ خدایا ، تجھی نے دیا ہے اور تجھی کو میں اسے لوٹاتا ہوں (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3121)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی قربانی تو خود اپنی ذات کی ہے۔ اصل قربانی یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کو بچائے بغیر اس کو خدا کے حوالے کر دے۔ وہ اپنے وجود کی حوالگی کے لیے خدا سے عہد کرتے ہوئے بطور علامت ایک جانور کو ذبح کر رہا ہے ، جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو خدا کے منصوبہ کے حوالے کرتے ہوئے ایک جانور کو فدیہ کے طور پر ذبح کیا تھا۔ حضرت ابراہیم کے لیے دنبہ کو ذبح کرنا علامتی معنوں میں تھا۔ اسی طرح آج عید اضحی کےموقع پر یا حج کے موقع پر جانور کو ذبح کرنا بھی ایک علامتی عمل ہے، نہ کہ وہی اصل عمل۔
علامتی ذبیحہ کے لیے جانور کا انتخاب سب سے زیادہ فطری انتخاب ہے ۔ یہ گویا معمول کے حالات کو ایک غیر معمولی سبق کے لیے استعمال کرنا ہے ۔ خدائی شریعت کے مطابق ، آدمی بار با رایسا کرتا ہے کہ وہ جانور کو اپنی خوراک کے لیے ذبح کرتا ہے۔ اسی عمل…
…تفصیل ہمارے اس یقین میں اضافہ کرتی ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے لیے جو نصب العین اختیار کیا ہے، اس میں اس نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ بلکہ یہی نصب العین فی الواقع پوری امت مسلمہ کا نصب العین ہے، جس سے وہ غفلت برت رہی ہے۔‘‘ (زندگی ، اپریل 1962ء)
صاحب مضمون نے ملت عوجا کا ترجمہ ’’کج دین‘‘ کیا ہے۔ مگر بعد کو بان یقولوا کا فقرہ بتاتا ہے کہ یہاں ملت بمعنی گروہ ہے۔ کیوں کہ کسی قول کا قائل اشخاص ہوتے ہیں، نہ کہ ان کا دین۔ یہاں دراصل اللہ تعالیٰ کی اس مخصوص اسکیم کا ذکر ہے، جس کے مطابق آخری رسول کو اپنے مخاطبین اولین سے جنگ کر کے انھیں عقیدہ بدلنے پر مجبور کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں بہت سے بے دینوں کو راہ راست حاصل ہوئی۔ یہاں میں بدر الدین عینی اور ابن حجر کے الفاظ نقل کروں گا۔ جس سے اس تشریح کی مزید وضاحت ہوتی ہے
قولہٗ ’’حَتَّى يُقِيمَ بِهِ‘‘، أَي حَتَّى يِنْفِيَ بِهِ الشِّرْكَ وَيَثْبُتَ التَّوْحِيدَ. قَوْلُهُ ’’الْمِلَّةُ الْعَوَجَاءُ‘‘، هِيَ مِلَّةُ العربِ، وَوَصَفَهَا بِالْعَوَجِ لِمَا دَخَلَ فِيهَا مِنْ عِبَادَةِ الْأَصْنَامِ…
…تکلف کھانا کھلانے سے، جس کا آج کل عام رواج ہے۔ اکرامِ ضیف کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے مہمان سے محبت کے ساتھ ملیں، اس کی سچی محبت کریں، اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کریں۔ ضیف کا اکرام دل سے ہوتا ہے، نہ کہ انواع واقسام کا کھانا کھلانے سے۔
آج کل مسلمانوں میں ایک بات بہت زیادہ کہی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ — اسلاف کی پیروی کرو۔ یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے، لیکن عملی اعتبار سے دیکھئے تو اِس میں پوری امت کے لیے کوئی واضح رہنمائی پائی نہیں جاتی۔ پیروی کا لفظ ایک واحد نقطۂ اتحاد(point of unity) چاہتا ہے، لیکن ’’اسلاف کی پیروی ‘‘ کے لفظ میں کوئی واحد نقطۂ اتحاد موجود نہیں۔
حدیث کی ایک پیشین گوئی موجودہ زمانے میں واقعہ بن چکی ہے، وہ یہ کہ امت مختلف گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ مثلاً سلفی گروہ، حنفی گروہ، بریلوی گروہ، شیعہ گروہ، اسی طرح ندوی گروہ، دیوبندی گروہ، وغیرہ۔ اِن میں سے ہر گروہ کے اپنے اپنے اکابر ہیں۔ ہر ایک…
…حالات پر شکر کا اظہار کیا۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم نے کہا کہ اسماعیل آئیں تو اُن کو میرا یہ پیغام دے دینا وَيَأْمُرُكَ أَنْ تُثْبِتَ عَتَبَةَ بَابِكَ (صحیح البخاری،حدیث نمبر 3364) یعنی وہ حکم دیتے ہیں کہ اپنے گھر کی چوکھٹ کو باقی رکھو ۔
حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو صحرا میں بسا دیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ فطرت کے سادہ ماحول میں ایک نئی نسل پیدا ہو جو توحید کے مشن کو لے کر اٹھے اور اس کو دنیا میںپھیلائے۔ حضرت ابراہیم کے مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس اعلیٰ کام کے لیے جو افراد مطلوب ہیں، اُن کے اندر سب سے زیادہ یہ صفت ہونا چاہیے کہ وہ مثبت نفسیات میں جینے والے ہوں، وہ شکایات کی نفسیات سے مکمل طورپر خالی ہوں۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ کے عمل میں سب سے زیادہ اہمیت کس بات کی ہے، وہ یہ کہ آدمی مکمل طورپر اپنے آپ کو بے شکایت بنالے، شکایت کے اسباب ہوتے ہوئے وہ پوری طرح مثبت سوچ والا انسان بن جائے۔ منفی سوچ تزکیہ کی قاتل ہے، جب کہ مثبت سوچ تزکیہ کے لیے سب سے ضروری شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ منفی سوچ والا آدمی شیطان کا معمول (subject) بن جاتا ہے۔ اِس کے برعکس، مثبت سوچ والا آدمی فرشتوں کی صحبت میں جینے لگتا ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تزکیہ کاحصول فرشتوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔
تزکیہ کی اصل محاسبہ
HAJJ: Piligrimage to Makkah
Pilgrimage, Hajj brings a person closer to God and his prophets, creating a living relationship with the history of Islam. Hajj unites God-worshippers worldwide.
Hajj, one of the pillars of Islam, is a form of worship. For those who have the resources to perform Hajj, it is obligatory for them to do so once in their life time. It is not mandatory for those who have neither the ability nor the…
7 جون 1983
چڑیا کو اڑتی ہوئی دیکھ کر خیال آیا کہ خداا شاروں کی زبان میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ۔ دنیا کی تمام چیزیں اس ڈھنگ پر بنائی گئی ہیں کہ ان سے انسان کو ہر قسم کا مفید سبق ملتا رہے۔
گھوڑے کو خدانے زمین پر دوڑا دیا۔ اس کو دیکھ کر انسان کا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ وہ گاڑی بنائے۔ گاڑی بنیادی طور پر گھوڑے کی نقل ہے ، اس فرق کے ساتھ کہ گھوڑے کے پاؤں کو گاڑی کے پیر کی صورت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس طرح خدا نے مچھلی کو پانی…
…کی مجھے ضرورت نہیں۔ میرا پیدا کرنے والا ہی تمام دنیوی ضروریات اور اخروی اجر وثواب کا کفیل ہے ۔ یہ بات ہر ایک پیغمبر نے اپنی قوم سے کہی تاکہ نصیحت بے لوت بے لوث اور موثر ہو ۔ لوگ ان کی محنت کو دنیوی طمع پرمحمول نہ کریں" تفسیر القرآن، 294
مذکورہ عبارت میں " اخروی اجر وثواب ‘‘ کا لفظ محض تطبیق کے لئے شامل کیا گیا ہے ۔ اس غیر ضروری تطبیق کو نچوڑ کر اس عبارت میں نہایت صحیح بات کہی گئی ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ داعی کو دنیوی اور مادی اعتبارے بے غرض ہونا پڑتا ہے۔ مدعو کی نظر میں بے غرض بننے کے لئے اس کو یک طرفہ قربانی دینی پڑتی ہے ۔ اس کے بغیرکسی کو داعی کا مقام ملنا ممکن نہیں۔
27 مارچ 1984
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مطالعہ سیرت(کتابچہ)
پیغمبر اسلام
عظمت صحابہ
PROPHET MUHAMMAD
Prophet Muhammad was the final Prophet for all mankind. Through him Islam’s original sources were preserved: God’s Book, the Quran was revealed and preserved, and his traditions, Hadith and Sunnah were recorded.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے۔ وہ 570 عیسوی میں قدیم مکہ میں پیداہوئے۔ 610 عیسوی میں اُن کو خدا کی طرف سے پہلی وحی ملی۔ اِس کے بعد انھوںنے مکہ میں اپنا مشن شروع کردیا۔ وہ 13 سال مکہ میں رہے۔ اس…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے۔ وہ 570 عیسوی میں قدیم مکہ میں پیداہوئے۔ 610 عیسوی میں اُن کو خدا کی طرف سے پہلی وحی ملی۔ اِس کے بعد انھوںنے مکہ میں اپنا مشن شروع کردیا۔ وہ 13 سال مکہ میں رہے۔ اس…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے۔ وہ 570 عیسوی میں قدیم مکہ میں پیداہوئے۔ 610 عیسوی میں اُن کو خدا کی طرف سے پہلی وحی ملی۔ اِس کے بعد انھوںنے مکہ میں اپنا مشن شروع کردیا۔ وہ 13 سال مکہ میں رہے۔ اس…
…2008 کو انڈیاانٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک پروگرام ہوا۔ اِس میں بڑی تعداد میں ہندواور مسلمان دونوں طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ پروگرام صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لیے کیا گیا تھا۔ اِس کا عنوان یہ تھا:
The Message of the Prophet Muhammad.
ایک گھنٹے کی تقریر میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی پیغام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ مثلاًتوحید، عالمی اخوت، امن اور انسانی ہمدردی، وغیرہ۔ لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا۔ اِس موقع پر تمام آنے والوں کو اسلامی لٹریچر بھی…
Abraham was a great Prophet. As a tribute to his greatness, he was called Abul Anbiya (Father of the Prophets). Born in ancient Iraq, he travelled to different countries, such as Palestine, Egypt and Syria. Lastly, he settled his wife, Hajira and their son, Ishmael in the desert of Arabia, in a place near present-day Makkah.
The Quran narrates the story of the life of the Prophet Abraham in different chapters. The above story is referred to in chapter fourteen. When the Prophet Abraham settled there, he said a prayer to God Almighty, which is recorded in the…
پیغمبر کی نصیحت
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: قال أنس بن مالک، قال لی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: یا بنی، إن قدرت أن تصبح وتمسی لیس فی قلبک غش لأحد فافعل(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2678)۔ انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے…
…of the Prophets). Born in ancient Iraq, he travelled to different countries, such as Palestine, Egypt and Syria. Lastly, he settled his wife, Hajira and their son, Ishmael in the desert of Arabia, in a place near present-day Makkah.
The Quran narrates the story of the life of the Prophet Abraham in different chapters. The above story is referred to in chapter fourteen. When the Prophet Abraham settled there, he said a prayer to God Almighty, which is recorded in the chapter Ibrahim (Abraham) of the Quran:
O Lord! I have settled some of my offspring in an uncultivable valley near Your Sacred House, Lord, so that they may establish prayer. So, make people’s hearts incline towards them and provide them with fruits, so that they may be…
پیغمبر کی مثال
غزوۂ بدر کے ابتدائی واقعات میں سے ایک واقعہ ابن اسحاق نے اس طرح بیان کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے ہوئے تیزی سے بڑھے ۔ آپ نے بدر کے قریب ایک چشمہ کے پاس پڑاؤ کیا۔ اس وقت الحباب بن المنذر بن الجموح نے کہا کہ اے خدا کے…