Shukr All cross-references →
Person
Jesus

Prophet of God in Islam, peace be upon him

Mentioned in 119 book passages and 28 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…advance against me     to devour me, It is my enemies and my foes.     Who will stumble and fall? Though an army besiege me,     My heart will not fear; Though war broke out against me,     Even then, I will be confident.” (Psalm 27:1-3)

A Russian Pilot

In this series, another fascinating incident occurred in India in 1973. A Russian plane (Ilyushin Jet) was flying in the airspace of West Bengal when its engine malfunctioned. Despite the pilot’s efforts, the aircraft could not be saved,…

Women In Islam (p. 88) A original + quote

…that his life was not, as he feared, in danger, as she was emotionally detached from the incident. Khadijah’s reassurance to the Prophet of Islam on this occasion was one of the most significant contributions to the furtherance of Islam.

Then it occurred to Khadijah that she had best make enquiries of some learned Christians, who, well versed as they were in the scriptures, were bound to know revelation and prophethood. She went first to a rahib (hermit) who lived near Makkah. On seeing her, the priest asked, “O noble lady of the Quraysh, what has brought you here?” Khadijah replied, “I have come here to ask you about Gabriel.” The rahib said, “Glory be to God; he is God’s pure angel. He visits prophets: he came to Jesus and Moses.” Then, Khadijah went to another Christian called Addas. She put the same question to him, and he, too, told her that Gabriel was an angel of God, the very same who had been with Moses when God drowned the Pharaoh. He had also come to Jesus, and through him, God had helped Jesus.

Then Khadijah hastened to Waraqah ibn Nawfal, a Christian convert who had translated part of the Bible into Arabic. When she finished telling him what Muhammad had seen and heard, Waraqah exclaimed, “Holy, holy! By the Master of my soul,…

…walls of their houses only. They are allowed to venture out of their homes to take part in a positive and constructive contribution to society. In doing so, their main motive should be to obtain the pleasure of God and service to humanity.

WOMEN FROM MUSLIM HISTORY

There are innumerable examples of exemplary women in Muslim history. A notable example is that of Hazrat Aisha, a brilliant woman who was one of the Prophet’s wives. Being much younger than he was, she survived him by about fifty years…

5 ۔افسانوی طرز فکر کے بجائے تاریخی طرز فکر

قدیم زمانہ میں روایت اور تاریخ میں فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ لوگ ایک بے اصل افسانہ کو بھی اس طرح مانتے تھے جس طرح ایک ثابت شدہ تاریخی واقعہ کو ماننا چاہئے۔ سائنسی اور علمی نقطہ نظر نے جب حقیقت پسندی کا ذہن پیدا کیا تو اس کے ساتھ فطری طور پر یہ ذہن بھی پیدا ہوا کہ انسانی واقعات کو مورخانہ انداز سے سمجھا جائے۔

تاریخی تحقیق کی یہ مہم مذہب تک بھی پہنچی اور وہ فن پیدا ہو اجس کوتنقید عالیہ (Higher Criticism) کہا جاتا ہے۔ اس شعبئہ تاریخ کے تخت جب مختلف مذاہب کی چھان بین کی گئی تو معلوم ہوا کہ دور قدیم کے سارے مذاہب تاریخی حیثیت سے غیر معتبر ہیں۔…

…میں لوگوں کے سامنے رکھا جا سکتا ہے ۔ قرآن و حدیث کے سادہ ترجمے، سیرت رسول اور حالات صحابہ پر واقعاتی اسلوب میں لکھی ہوئی کتا ہیں اگر مختلف زبانوں میں مرتب کر کے دنیا بھر میں پھیلا دی جائیں تو یہی اقوام عالم پر حجت قائم کرنے کے لئے کافی ہے۔

8۔ وسائل کا خدا داد خزانہ

آخری بات یہ کہ موجودہ زمانہ میں علم کی ترقی اور پریس کی ایجاد نے دعوتی کام کی انجام دہی کے لئے لامتناہی امکانات کھول دیتے ہیں۔ حضرت مسیح کی آواز، آنجناب کے زمانہ میں فلسطین کے ایک قصبہ سے باہر نہ جاسکی۔ مگر آج آپ کے پیرو بیک وقت دو ہزار سے…

Women In Islam (p. 108) m1_backfill hadith

IDEAL WOMEN

The Prophet once remarked that the best woman of the Jewish people was Mary, the mother of Jesus, and the best woman of his people, Khadijah, the daughter of Khuwailid.

More light is thrown on the superiority of these two women by the following two statements of the Prophet:

2022 November m1_backfill hadith

…خدا سے ڈرنے والے انسان کا ذکر ہے، اور جس انسان کے دل میں خدا کا ڈر سمایا ہو وہ اگر کبھی جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کرلے تو اس کے بعد اتنی شدت کے ساتھ اس کے اوپر گناہ کا احساس طاری ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ پاک انسان بن جاتاہے۔

عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔ اور یہ کہ عیسی اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور وہ اس کی بندی کے بیٹے ہیں اور وہ اس کا کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف القاء کیا۔ اور وہ اس کی طرف سے روح ہیں اور یہ کہ جنت اور جہنم حق ہے۔ اللہ ایسے آدمی کو جنت میں داخل کرے گا، اس عمل کے مطابق جس پر وہ تھا (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 3435، صحیح مسلم، حدیث نمبر28)۔

ایمان دراصل معرفت کا نام ہے۔ یعنی آدمی کو خدائی حقیقتوں کی شعوری دریافت حاصل ہو۔ اور پھر وہ اس کو بھر پور طور پر اپنی زندگی میں شامل کرلے۔ ایسے ہی انسان کو آخرت کی ابدی جنتوں میں داخلہ ملے گا۔

Al-Risala November 2022 m1_backfill hadith

…خدا سے ڈرنے والے انسان کا ذکر ہے، اور جس انسان کے دل میں خدا کا ڈر سمایا ہو وہ اگر کبھی جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کرلے تو اس کے بعد اتنی شدت کے ساتھ اس کے اوپر گناہ کا احساس طاری ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ پاک انسان بن جاتاہے۔

عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔ اور یہ کہ عیسی اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور وہ اس کی بندی کے بیٹے ہیں اور وہ اس کا کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف القاء کیا۔ اور وہ اس کی طرف سے روح ہیں اور یہ کہ جنت اور جہنم حق ہے۔ اللہ ایسے آدمی کو جنت میں داخل کرے گا، اس عمل کے مطابق جس پر وہ تھا (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 3435، صحیح مسلم، حدیث نمبر28)۔

ایمان دراصل معرفت کا نام ہے۔ یعنی آدمی کو خدائی حقیقتوں کی شعوری دریافت حاصل ہو۔ اور پھر وہ اس کو بھر پور طور پر اپنی زندگی میں شامل کرلے۔ ایسے ہی انسان کو آخرت کی ابدی جنتوں میں داخلہ ملے گا۔

…اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کے عمل سے کھایا کرتے تھے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے :إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُؤْمِنَ الْمُحْتَرِف (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 1072)۔ یعنی اللہ حرفت کے ذریعے روزی کمانے والے کو پسند کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہاتھ سے کام کرنے کو حقیر سمجھنا دورِ ملوکیت اور مسلمانوں کے دورِ زوال کی پیداوار ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں اس کو بالکل بُرا نہیں سمجھا جاتا تھا۔

قرآن میں زمین کے بارے میں ایک تو خَلَقَ الْأَرْضَ (41:9)کے الفاظ ہیں۔ یعنی اللہ نے زمین کو خلق (create)کیا۔ دوسری جگہ اس سلسلے میں یہ الفاظ ہیں:وَالْأَرْضَ وَضَعَہَا لِلْأَنَامِ (55:10)۔ یعنی اور زمین کو اس نے مخلوق کے لیے رکھ دیا…

Al-Risala June 2019 m1_backfill

سماجی میل جول

میں نے بار بار ایسی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے جہاں ساری کارروائی انگریزی میں ہوئی ہے۔ ایسے مواقع پر زیادہ تر میں اپنی تقریر لکھے ہوئے پیپر کی صورت میں کرتا تھا اور جزئی طورپر انگریزی میں کلام کرتا تھا۔ شانتی گری آشرم (کیرالا) میں لوگ یا تو ملیالم جانتے ـتھے یا انگریزی۔ اس لیے یہاں پوری مدت میں انگریزی ہی میں بولنا اور گفتگو کرنا پڑا۔ اس موقع پر پہلی بار مجھے اپنی اس استعداد کا تجربہ ہوا کہ میںخدا کے فضل سے انگریزی میںبے تکلف بول سکتا ہوں، اور بے تکلف تقریر کرسکتا ہوں۔ اس ذاتی تجربہ نے میرے دعوتی جذبہ میں ایک نیاحوصلہ پیدا کردیا۔

یہاں کانفرنس کی وجہ سے تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میںاکٹھا تھے۔ ان سے بڑے پیمانہ پر انٹرایکشن ہوا۔ اندازہ ہوا کہ لوگ عجیب عجیب قسم کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ موسیٰ کی ابتدائی عمر فرعون کے محل میں گزری۔ اس لیے موسیٰ کے بارے میں یہ لوگ…

Al-Risala April 2019 m1_backfill original + quote

پیغمبر ِ انقلاب

قرآن میں پچیس پیغمبروں کا ذِکر ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی (مسند احمد، حدیث نمبر 22288)۔ نبوت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک ہر زمانے میں جاری رہا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اوّل میںپیغمبر اسلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔ قرآن کے مطابق، آپ خدا کے رسول بھی تھے اور نبیوں کے خاتم بھی۔

پیغمبروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام پیغمبر مشترک طورپر توحید کا پیغام لے کر آئے ، لیکن پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں یہ پیغام زیادہ تر فکری مرحلے میں رہا، وہ عملی انقلاب کے درجے تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم…

Al-Risala August 2018 m1_backfill other source

ملتِ ابراہیم

ایک صاحب نے لکھا ہے کہ قرآن میں ایک سے زیادہ بار اتباع ملتِ ابراہیم کا حکم دیا گیاہے۔ یہ ملتِ ابراہیم کیا ہے؟ براہ کرم واضح کریں(ایک قاری الرسالہ، لکھنؤ)۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ہم ملتِ ابراہیم یا ابراہیمی ملت کہتے ہیں، وہ وہی ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تین بڑے آسمانی مذاہب ہیں — دین یہود، دین نصاریٰ، اور دین محمد۔ان تینوں مذاہب کے مورث اعلیٰ…

Al-Risala May 2018 m1_backfill original + quote

فضیلتِ رسول

قرآن کے ایک مقام پر اٹھارہ نبیوں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ہر ایک کے لیے یہ آیت آئی ہے:وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِینَ (6:86)۔ اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے دنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔ فضیلت کا لفظ ایک ترجیحی لفظ (preferential term) ہے۔ یعنی دوسرے تمام لوگوں پر کسی ایک کو افضلیت کا درجہ دینا۔اٹھارہ لوگوں کو بیک وقت افضل بنانا، افضلیت کے معروف مفہوم کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ معروف مفہوم کے مطابق افضل کوئی ایک شخص ہوتا ہے، نہ کہ بہت سے لوگ۔

یہاں فضیلت کا مطلب کیا ہے۔ یہ قرآن کی ایک اور آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں ایک مقام پرمختلف پھلوں کے بارے میں یہ آیت آئی ہے:وَنُفَضِّلُ بَعْضَہَا عَلَى بَعْضٍ فِی الْأُکُلِ (13:4)۔یعنی اور ہم بعض کو بعض پر مزے میں فضیلت…

Al-Risala February 2016 m1_backfill original + quote

سیاسی غلو

قرآن میں ایک نصیحت اِن الفاظ میں آئی ہے: لاتغلوا فی دینکم(النساء 171:) یعنی تم لوگ اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ پیغمبر ِاسلام صلی اﷲ علیہ وسلم کے ایک ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ غلو مذہبی گروہوں کی ہمیشہ خاص گمراہی رہی ہے۔ چناںچہ آپ نے فرمایا: ایاکم والغلو فی الدین فانما ھلک من کان قبلکم بالغلو فی الدین (مسند احمد، حدیث نمبر 1851) یعنی تم غلو سے بہت زیادہ بچو کیوں کہ پچھلی امتیں اسی لئے ہلاک ہوئیں کہ انھوں نے دین میں غلو کیا۔

غلو کے معنی انتہا پسندی (extremism)کے ہیں۔ غلو دراصل زوال کی علامت ہے۔ کوئی مذہبی گروہ جب زوال کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اندر غلو پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً مسیحی گروہ کے بعد کی نسلوں میں ابنیتِ مسیح کا عقیدہ، وغیرہ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، حضرت…

Al-Risala November 2014 m1_backfill other source

تلوار بطور تمثیل

بائبل (نیا عہد نامہ) کے باب متّی میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح نے کہا کہ — یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں، صلح کرانے نہیں، بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں:

Do not suppose that I have come to bring peace to the earth. I did not come to bring peace, but a sword. (Matthew, 10:34)

Al-Risala October 2014 m1_backfill original + quote

روح القدس کا تصور

قرآن کی سورہ البقرہ میں حضرت مسیح کے حوالے سے یہ الفاظ آئے ہیں: وَاٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُس(2:87) یعنی ہم نے عیسی بن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی-

روح القدس کا لفظی مطلب مقدس روح (Holy Spirit) ہے۔ یہ اللہ تعالی کی ایک خصوصی نصرت ہے جو کسی بندے کے اوپر فرشتوں کے ذریعے آتی ہے۔ یہی خصوصی نصرت تھی جو حضرت مسیح پر آئی۔ اِس خصوصی نصرت نے حضرت مسیح کو اِس قابل بنایا کہ وہ اپنے مخالفوں کے…

کفّارہ (atonement) کے اِس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح، جو مسیحی عقیدے کے مطابق، سولی پر چڑھا دیے گئے، اِس طرح اپنے آپ کو قربان کرکے انھوں نے تمام انسانوں کو پیدائشی گنہ گاری سے بَری کردیا:

The effect of Jesus's sufferings and death in redeeming mankind, and bringing about the reconciliation of God to man.

کفّارہ (atonement) کے اِس عقیدے کے مطابق، اب کسی انسان کی نجات کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ حضرت مسیح پر اِس حیثیت سے ایمان لائے کہ وہ اس کی نجات کے لیے مصلوب ہوگئے۔ اب نجات صرف اُس انسان کے لیے ہے جو حضرت مسیح کی اِس مصلوبیت پر ایمان لائے۔ جو…

Al-Risala March 2013 m1_backfill original + quote

دورِ زوال کے عبادت خانے

حضرت مسیح دوہزار سال پہلے فلسطین میں آئے- اُس وقت فلسطین میں زیادہ تر یہود رہتے تھے- اُس زمانے میں یہود اپنے زوال کے آخری دور میں پہنچ چکے تھے- حضرت مسیح نے یہودی علما پر سخت تنقیدیں کیں- انھیں میں سے ایک تنقید یہ تھی — میرا گھر دعا کا گھر کہلائے گا، مگر تم اس کوچوروں کا بھٹ بناتے ہو:

My house shall be called a house of prayer, but you have made it a 'den of thieves'. (Matthew 21:13)

Al-Risala January 2012 m1_backfill original + quote

America is at war with Islam

عجیب بات ہے کہ القاعدہ کا یہ نظریہ سارے مسلمانوں میں پھیل گیا۔ تقریباً ہر مسلمان امریکا سے نفرت کرنے لگا۔ عرب کے لوگ کہنے لگے کہ: أمریکا عدوالإسلام رقم واحد۔ مگر کسی نے حقائق کی روشنی میں اس کا تجزیہ نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ڈائرکٹ یا انڈائرکٹ طور پر امریکا کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کا جو کام ہورہا ہے، وہ تمام مسلم ملکوں سے بھی زیادہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ تاریخ میں ہمیشہ انسان بے بنیاد پروپیگنڈے کا شکار ہوا ہے۔ اس کا پہلا واقعہ آدم اور ابلیس کی صورت میں ہوا۔ابلیس نے جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعہ آدمی کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ تم کو جنت کی اصل نعمت دی ہی نہیں گئی۔ آدم اس سے متاثر ہوئے اور انھوںنے شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا۔ آدم کو جنت میں 99 فی صد سے زیادہ نعمتیں ملی ہوئی تھیں۔ شجر ممنوعہ کی حیثیت ایک فی صدسے بھی کم تھی۔ مگر جھوٹے پروپیگنڈے کے نتیجے میں آدم 99 فی صد سے زیادہ کو بھول گئے اور ایک فی صد سے کم پر ان کا دھیان چلا گیا۔ شیطان کا یہ فتنہ آج بھی تمام دنیا میں جاری ہے۔

ایک تعلیم یافتہ مسیحی سے ملاقات ہوئی۔ انھوںنے اپنا ایک پمفلٹ دیا۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا:

Al-Risala July 2011 m1_backfill

سوال وجواب

ماہ نامہ الرسالہ (جون 2007 ) میں مسیح کی آمد ثانی سے مراد، مسیح کے رول کی آمد ثانی بتایا گیا ہے۔ براہِ کرم، اِس معاملے کو واضح فرمائیں۔(حافظ ابو الحکم محمد دانیال، بی ایس سی، پٹنہ)۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کے بیانات دو قسم کے ہیں— ایک، محکمات۔ دوسرے، متشابہات (3:7) ۔ محکم آیات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں مدعا کو غیر مشتبہ زبان (exact language) میں بیان کیاگیا ہو۔ مثلاً رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا (2: 283) …

…کی۔ مگر اسلام سےپہلے کسی بھی دور میں ایسا نہیں ہوا کہ بڑی تعداد میں لوگ توحید کے نظریہ کو مان لیں اور توحید کی بنیاد پر انسانی معاشرہ میں وسیع انقلاب برپا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام سے پہلے انسان کبھی توحید کے حقیقی ثمرات سےآشنا نہ ہوسکا۔

جیسا کہ عرض کیاگیا، خدا کا ہر پیغمبر توحید کا پیغام لےکر آیا۔ مگر پچھلے پیغمبروں کے ساتھ یہ صورت پیش آئی کہ ان کے پیرو ان کے لائے ہوئے دین کی حفاظت نہ کرسکے۔ انھوں نے توحید میں شرک کی آمیزش کردی۔ مثال کے طورپر حضرت مسیح نے خالص توحید کا پیغام دیا، مگر ان کے بعد ان کے پیروؤں نے خود حضرت مسیح کو خدا سمجھ لیا۔ ان کا یہ مشرکانہ عقیدہ مختلف پہلوؤں سے سائنس کی ترقی کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ مثلاً کچھ علمائے فلکیات نے نظامِ شمسی کی تحقیق کی۔ وہ اس حقیقت تک پہنچے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر عیسائی علماء ایسے لوگوں کے سخت مخالف ہوگئے۔ اس کی وجہ ان کا مذکورہ مشرکانہ عقیدہ تھا۔ انھوں نے زمین کو خداوند کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔

دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں…

Al-Risala August 2008 m1_backfill original + quote

دو آیتیں

قرآن کی سورہ نمبر 42 کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمھاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ ڈالو‘‘( الشوریٰ : 13)۔

قرآن کی سورہ نمبر 5 میں مختلف پیغمبروں کی امتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک طریقہ ٹھہرایا۔ (المائدہ: 48)۔

Al-Risala July 2007 m1_backfill original + quote

یہ ’مُضاہاۃ‘ ہے

قرآن کی سورہ نمبر 9 میں اہلِ کتاب کے حوالے سے ارشاد ہوا ہے: اور یہود نے کہا کہ عُزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ اُن کے اپنے منھ کی باتیں ہیں۔ وہ ان لوگوں کی بات کی نقل کررہے ہیں جنھوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اللہ اُن کو ہلاک کرے، وہ کدھر جارہے ہیں (التوبہ: 30)

اس آیت میں مضاہاۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مضاہاۃ کے معنی مشابہت یا تقلید (imitation) کے ہیں۔ یہ پچھلی اُمتوں کا طریقہ رہا ہے کہ جب اُن کے اندر خدا کا عقیدہ طاقتور عقیدہ کی حیثیت سے باقی نہ رہا تو اُنھوں نے اپنے زمانے کے مروّجہ خیالات و…

Al-Risala June 2007 m1_backfill original + quote

مسیحی ماڈل کی آ ِمدثانی

قرآن خدا کا کلام ہے۔ خدائی کلام کا اسلوب انسانی کلام سے مختلف ہوتا ہے۔ اِس کی مثالیں قرآن کے علاوہ پچھلی آسمانی کتابوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً بائبل میںبتایا گیا ہے کہ ایک پیغمبر نے اپنے مخاطبین سے کہا— میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر یہ چپ رہیں تو پتھر چلا اٹھیں گے:

I tell you that if these should keep silent, the stones would immediately cry out. (Luke, 19:40)

Al-Risala June 2007 m1_backfill

…حفاظت کا کام ممکن ہوسکے۔ لیکن پچھلے پیغمبروں کے ساتھ ایسا نہ ہوسکا۔ بعد کی نسلوں نے اپنے پیغمبر کی تعلیمات کو مرتب کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اِس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کیوں کہ اُس وقت تک پیغمبر کی چھوڑی ہوئی تعلیمات میں کافی بگاڑ آچکا تھا۔

مثال کے طور پر حضرت مسیح کو لیجیے۔ حضرت مسیح کے معاصر پَیرو بہت کم تھے۔ اُن کے حالات اتنے سقیم تھے کہ حضرت مسیح کے کلام کو محفوظ کرنا اُن کے لیے ممکن نہ تھا۔ بعد کی نسلوں میں حافظے کی مدد سے حضرت مسیح کے احوال یا ان کا کلام مرتب کیا گیا، لیکن نسل در نسل تبدیلی ہونے کی بنا پر بعد کے ناقلین کو حضرت مسیح کے بارے میں جو کچھ ملا، وہ کافی بدل چکا تھا۔ اب بائبل کی صورت میں جو چیز موجود ہے، وہ حضرت مسیح کے بارے میں بعد کے زمانے کا رکارڈ ہے، جب کہ وہ بدلتے بدلتے اپنی اصل حیثیت کو ختم کرچکا تھا۔

پیغمبر اسلام کے ساتھ خدا کا یہ خصوصی معاملہ ہوا کہ آپ کی لائی ہوئی خدائی کتاب (قرآن) پوری طرح محفوظ ہوگئی۔اِس بنا پر اب نیے پیغمبر کی ضرورت نہیں۔ آپ کی لا ئی ہوئی کتاب اب پوری طرح مستند صورت میں موجود ہے۔ آپ کے متّبعین نسل بعد نسل دنیا…

Al-Risala May 2007 m1_backfill original + quote

…ممکن ہے کہ سب سے پہلے آپ خود اسلام کی معرفت حاصل کریں۔ اور اُس کے بعد قرآن کے صحیح انگریزی ترجمے کی اشاعت اور الرسالہ کی مطبوعہ کتابوں کو دوسرے انسانوں تک پہنچانے کا کام کریں۔ اور اِس طرح حقیقی معنوں میں دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیں۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے اندر سارے انسانوں کی خیر خواہی کی اسپرٹ موجود ہو۔ آپ سارے انسانوں کے حقیقی خیر خواہ بن کر اٹھیں۔ آپ کے دل میں ہر ایک کے لیے محبت اور ہمدردی ہو۔ آپ کا ٹارگیٹ کیا ہو، اس کو ایک حدیث میںاِن الفاظ میں بتایا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لا یبقیٰ علی وجہ الأرض بیت مدر و لا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمۃ الإسلام (مسنداحمد، مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 42)یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر اور کوئی خیمہ ایسا باقی نہیں رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ داخل نہ فرمادے۔

یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ یہ حدیث کی زبان میں امکاناتِ دعوت کا اظہار ہے۔ یہ اُس دور کی پیشین گوئی ہے جب کہ ذرائع ابلاغ کا ظاہرہ سامنے آئے گا اور اُس کو استعمال کرکے ہر انسان تک کلمۂ اسلام کو پہنچانا ممکن ہوجائے گا۔ یہ کام صرف اِس طرح…

Al-Risala September 2006 m1_backfill original + quote

…بھی عام انسانوں کی طرح انسان ہوں گے۔ ان کی پہچان یہ نہ ہوگی کہ وہ انوکھے جسم والے ہوں گے یا یہ کہ وہ کرامتیں دکھائیں گے۔ ان کی پہچان صرف یہ ہوگی کہ وہ دعوتِ حق کے اُس ربّانی مقصد کے لیے کھڑے ہوں گے جس پر رسول اور اصحابِ رسول کھڑے ہوئے تھے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے د رمیان بہت سی تحریکیں اٹھیں ہیں مگر وہ اخوانِ رسول کا درجہ نہیں پاسکتیں۔ اس لیے کہ اخوانِ رسول کا درجہ صرف وہ لوگ پاسکتے ہیں جو ما أنا علیہ وأصحابی کا مصداق ہوں۔ موجودہ زمانے میں اٹھنے والی تمام تحریکیں ردّ عمل کی تحریکیں تھیں، ان میں سے کوئی بھی تحریک ایسی نہیں جس کا یہ کیس ہو کہ اس کے رہنما نے ردّ عمل کی نفسیات سے مکمل طورپر خالی ہو کر قرآن اور سنت کا مطالعہ کیا، اور پھر خالص مثبت بنیادوں پر اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ یہ خصوصیت صرف سی پی ایس انٹرنیشنل کی تحریک میں پائی جاتی ہے۔

تاریخ میں اہلِ حق کے لیے جو بڑے بڑے امکانات رکھے گیے تھے، اب وہ سب امکانات ختم ہو چکے ہیں— پیغمبروں کا ساتھ دینا، مسیح کا حواری بننا، پیغمبرِ آخر الزماں کے اصحاب میں شامل ہونا۔ اب صرف ایک بڑا درجہ باقی رہ گیا ہے، یہ درجہ اخوانِ رسول کے…

اسٹفن اسکائز (Stephen Skyes) نے اپنی تقریر میں کہا کہ اگر چہ مسیح نے یہ تعلیم دی تھی کہ اپنے دشمن سے محبت کرو مگر مسیحیوں اور دوسروں میں اختلافات کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان نفرت کی سیاست نے جنم لیا:

Despite Jesus' teaching of love of the enemy, the marks of such historical opposition between Christians and others have given and continue to give rise to exclusionary politics of hatred.

اس مسئلہ کا تعلق صرف مسیحیت سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ہر مذہب سے ہے۔ آج تمام مذہبوں کا یہ حال ہے کہ ان کی مقدس کتابوں میں تو امن اور محبت کی باتیں لکھی ہوئی ہیں مگر مذہب کے ماننے والوں نے اپنے مادی مفادات کی بنا پر، نہ کہ مذہب کی اصولی…

Al-Risala June 2004 m1_backfill original + quote

تاریخ پرستی

پچھلی قوموں کی تاریخ دیکھی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر قوم کا یہ حال ہوا کہ اس نے ماضی کے پیغمبر کو مانا مگر اس نے اپنے ہم زمانہ پیغمبر کا انکار کردیا۔ مثلاً یہودی حضرت موسیٰ کو مانتے تھے مگرجب حضرت مسیح آئے تو انھوںنے مسیح کو ماننے سے انکار کردیا۔ اسی طرح عیسائیوں نے حضرت مسیح کو مانا مگر انھوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے سے انکار کردیا۔ یہی تقریباً تمام قوموں کی گمراہی کا حال رہا ہے۔

یہی قوموں کااصل امتحان ہوتا ہے۔ ہر قوم اسی نفسیات میں مبتلا رہتی ہے۔ ہر قوم کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی اس نفسیات سے باہر آئے، وہ اس معاملہ میں اپنی کنڈیشننگ کو توڑے، وہ مصلحین کو ان کے جوہر (merit) کی بنیاد پر پہچانے، نہ یہ کہ وہ ماضی سے…

Al-Risala September 2003 m1_backfill original + quote

اقامت دین

قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے : اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم او رموسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ ڈالو(الشوریٰ ۱۳) ایک طرف قرآن میں یہ آیت ہے اور دوسری طرف قرآن میںایک اور آیت ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک منہاج ٹھہرایا (المائدہ ۴۸)

قرآن کی ان دونوں آیتوں پر غور کیجئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کے لیے پیغمبروں کے ذریعہ مختلف زمانوں میں جو الہامی ہدایت بھیجی ہے اس کے دو حصے ہیں ۔ایک حصّہ کو قرآن میںالدین کہا گیا ہے اور اس کے دوسرے حصّہ کو شریعت اور منہاج…

Al-Risala June 2003 m1_backfill

سوال وجواب

میری خواہش ہے کہ مذکورہ ذیل چند عناوین پر آپ کے خیالات معلوم کروں:

۱۔ ختم نبوت کی حقیقت۔ ۲۔ مسئلہ حیات و ممات حضرت عیسیٰ؈۔ ۳۔ حضرت امام مہدی؈، یعنی ان کا کام کیا ہوگا۔ آپ کے نزدیک ان کا مقام کیا ہوگا۔ ۴۔ مسئلہ اجزائے وحی کی حقیقت۔ یعنی وحی کی کتنی اقسام ہیں۔ کیا وحی کا تعلق صرف انبیاء سے ہوتا ہے۔ کیااب…

Al-Risala May 2003 m1_backfill original + quote

…بدترین دشمنی کا معاملہ کیا تھا مگر جنگ کے بعد جاپان نے امریکہ کی دشمنی کو بھلا کر اس سے دوستی کرلی۔ اس کا شاندار نتیجہ یہ نکلا کہ جاپان نے پہلے سے بھی زیادہ بڑی ترقی حاصل کرلی۔ یہاں تک کہ وہ اقتصادی سپر پاور(economic super power) بن گیا۔

یہی وہ حسن تدبیر ہے جس کو مسیح نے اپنے مشہور الفاظ میں اس طرح بتایا تھا—اپنے دشمن سے محبت رکھو (Love your enemy) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کو اپنا دوست بنا کر دشمنی کا مسئلہ حل کرو: (Solve the problem of enemity by befriending your enemy.)

اس طرح کے مسئلہ کا یہی وہ برتر حل ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے خدا کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب…

Al-Risala July 2002 m1_backfill other source

سوچ کی غلطی کی ایک صورت وہ ہے جس کو تعمیم (genralisation) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک استثنائی مثال کو لے کر اُس کو عمومی شکل دینا اور اُس سے کُلّی رائے بنانا۔ تعمیم کی غلطی اتنی زیادہ عام ہے کہ بہت کم لوگ اس سے بچے ہوئے نظر آئیں گے۔

مثلاً بائبل (نیا عہد نامہ) میں ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا: یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صُلح کرانے آیا ہوں۔ صُلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں:

“Donot think that I came to bring peace on earth. I did not come to bring peace but a sword.” (Matthew, 10:29)

Women In Islam (p. 108) m1_backfill hadith

The Prophet once remarked that the best woman of the Jewish people was Mary, the mother of Jesus, and the best woman of his people, Khadijah, the daughter of Khuwailid.

More light is thrown on the superiority of these two women by the following two statements of the Prophet:

“Aisha says that the only other wife of the Prophet she ever envied was Khadijah, even though she was not a contemporary of hers. ‘Whenever the Prophet sacrificed a goat,’ Aisha says, ‘he would tell me to send some meat to Khadijah’s…

Spirit of Islam 2013 September m1_backfill Qur'an

THE MIDDLE NATION

THERE is a verse in the second chapter of the Quran that says, “We have made you a middle nation so that you may be as witnesses against mankind, and the Messenger may be a witness against you.” (THE QURAN 2: 143)

The word witness (shaheed) in this verse refers to the role of Muslims as dayee’s. By saying that the Messenger will be a witness against us, it signifies that the Messenger is the witness that the divine religion was given to us, and that…

Spirit of Islam 2014 February m1_backfill original + quote

A Point to Consider

THE Prophet Moses is said to have lived in around the 13th or 14th century BCE, while the Prophet Muhammad was born in the 6th century CE. In other words, there is perhaps a gap of some 2000 years between the two. Several statements attributed to Moses are found in the Bible. The Bible says that once Moses addressed his people, saying:

The Lord your God will raise up for you a prophet like me from among you, from your brothers—it is to him you shall listen— just as you desired of the Lord your God at Horeb on the day of the assembly, when you said, ‘Let me not hear again…

Diary 1983-1984 m1_backfill hadith

29 مارچ 1983

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : استعينوا على قضاء حوائجكم بالکتمان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی حاجتوں کو پورا کرنے میں رازداری سے مدد لو)

یہ ایک نہایت اہم نصیحت ہے۔ اس کا تعلق فرد کے معاملات سے بھی ہے اور قوم کے معاملات سے بھی۔ اس دنیا میں ہمیشہ حسد اور عداوت پائی گئی ہے اور آئندہ بھی یہ چیزیں موجود رہیں گی۔ ایسی حالت میں حاسدوں اور دشمنوں کے فتنہ سے بچنے کا راز یہ ہے کہ…

Al-Risala June 2019 m1_backfill original + quote

…انگریزی ہی میں بولنا اور گفتگو کرنا پڑا۔ اس موقع پر پہلی بار مجھے اپنی اس استعداد کا تجربہ ہوا کہ میںخدا کے فضل سے انگریزی میںبے تکلف بول سکتا ہوں، اور بے تکلف تقریر کرسکتا ہوں۔ اس ذاتی تجربہ نے میرے دعوتی جذبہ میں ایک نیاحوصلہ پیدا کردیا۔

یہاں کانفرنس کی وجہ سے تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میںاکٹھا تھے۔ ان سے بڑے پیمانہ پر انٹرایکشن ہوا۔ اندازہ ہوا کہ لوگ عجیب عجیب قسم کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ موسیٰ کی ابتدائی عمر فرعون کے محل میں گزری۔ اس لیے موسیٰ کے بارے میں یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ نسل میںپیدا ہوئے۔ مسیح نے مچھیروں کے درمیان کام کیا اس لیے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ وہ نچلے طبقہ میں پیدا ہوئے۔

اسی طرح پیغمبر ِ اسلام کو اپنے وطن مکہ سے ہجرت کرنا پڑا، اس لیے اُنہوں نے سمجھ لیا کہ پیغمبر ِ اسلام نے مظلوم اور ناکام حالت میں وفات پائی۔ ضرورت ہے کہ اسلام کے بارے میں ہر قسم کی معلوماتی کتابیں بڑے پیمانہ پر تیار کرکے پھیلائی جائیں۔ اسی…

Al-Risala August 2018 m1_backfill original + quote

…کہاجاتا ہے۔ یہی کمالِ انسانیت کی پہچان ہے، یہی وہ صفات ہیں جو کسی انسان (man)کو اعلیٰ انسان(super man) بناتی ہیں۔ اِن صفات کی حامل شخصیت کو ربانی شخصیت (divine personality) کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول بلاشبہ اِن صفات میں کمال درجے پر تھے۔

اِس کے بعد اصحابِ رسول کی اُس خصوصیت کو بیان کیاگیا ہے جس کا ذکر انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے اِن الفاظ میں آیا ہےکہ اُس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کرکے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اُس رائی کے دانے کی مانند ہے جس کو کسی آدمی نے لے کراپنے کھیت میں بودیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے، مگر وہ جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہوجاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آکر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں:

Another parable he put forth to them, saying: “The kingdom of heaven is like a mustard seed, which a man took and sowed in his field, which indeed is the least of all the seeds, but when it is grown, it is greater than the herbs and…

…کی ہمیشہ خاص گمراہی رہی ہے۔ چناںچہ آپ نے فرمایا: ایاکم والغلو فی الدین فانما ھلک من کان قبلکم بالغلو فی الدین (مسند احمد، حدیث نمبر 1851) یعنی تم غلو سے بہت زیادہ بچو کیوں کہ پچھلی امتیں اسی لئے ہلاک ہوئیں کہ انھوں نے دین میں غلو کیا۔

غلو کے معنی انتہا پسندی (extremism)کے ہیں۔ غلو دراصل زوال کی علامت ہے۔ کوئی مذہبی گروہ جب زوال کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اندر غلو پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً مسیحی گروہ کے بعد کی نسلوں میں ابنیتِ مسیح کا عقیدہ، وغیرہ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، حضرت مسیح کی پیدائش معجزاتی انداز میں ہوئی تھی۔ بعد کے مسیحیوں نے اس میں غلو کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ حضرت مسیح خدا کے بیٹے تھے۔

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اﷲ وسلم نے فرمایا کہ میرے امت میں بھی وہ ساری خرابیاں پیدا ہو ں گی جو پچھلی امتوں میں ہوئیں، بلکہ پچھلی امتوں سے بھی زیادہ۔ یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلی امتوں میں 72 فرقے ہوئے تھے…

Al-Risala November 2014 m1_backfill other source

بائبل (نیا عہد نامہ) کے باب متّی میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح نے کہا کہ — یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں، صلح کرانے نہیں، بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں:

Do not suppose that I have come to bring peace to the earth. I did not come to bring peace, but a sword. (Matthew, 10:34)

مسیحی علما ء اِس قول میں ’’تلوار‘‘ کے لفظ کو تمثیل کے معنی میں لیتے ہیں- اُن کے نزدیک، یہاں تلوار کا لفظ تمثیل کے معنی میں ہے- اِس سے مراد نظریاتی ٹکراؤ ہے- مسیح نے اپنے اِس قول میں عملی تشدد کی وکالت نہیں کی ہے:

قرآن کی سورہ البقرہ میں حضرت مسیح کے حوالے سے یہ الفاظ آئے ہیں: وَاٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُس(2:87) یعنی ہم نے عیسی بن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی-

روح القدس کا لفظی مطلب مقدس روح (Holy Spirit) ہے۔ یہ اللہ تعالی کی ایک خصوصی نصرت ہے جو کسی بندے کے اوپر فرشتوں کے ذریعے آتی ہے۔ یہی خصوصی نصرت تھی جو حضرت مسیح پر آئی۔ اِس خصوصی نصرت نے حضرت مسیح کو اِس قابل بنایا کہ وہ اپنے مخالفوں کے ہجوم میں رہتے ہوئے اپنے خدائی مشن کی تکمیل کرسکیں-

روح القدس کا تعلق شخصی طورپر خصائصِ نبوت سے نہیں ہے، وہ حق کے داعی کے لیے اللہ کی خصوصی نصرت کا معاملہ ہے۔ اِس خصوصی نصرت کے استحقاق کا اصول یہ ہے کہ جب کوئی شخص بے آمیز حق کی دعوت کے لیے اٹھے، وہ اِس دعوت کے بارے میں اتنا زیادہ سنجیدہ ہو…

Women In Islam (p. 108) m1_backfill quoted source

More light is thrown on the superiority of these two women by the following two statements of the Prophet:

“Aisha says that the only other wife of the Prophet she ever envied was Khadijah, even though she was not a contemporary of hers. ‘Whenever the Prophet sacrificed a goat,’ Aisha says, ‘he would tell me to send some meat to Khadijah’s friends.’ One day, I got annoyed. ‘Oh no, not Khadijah again,’ I exclaimed. The Prophet replied, ‘Her love has been imbibed into my heart.’” (Sahih Muslim, Hadith No. 2435-2437)

“Aisha says that the Prophet would not leave home without praising Khadijah. One day, he mentioned Khadijah, and I got annoyed. ‘She was just an old woman,’ I said. ‘God has given you better than her instead.’ This angered the Prophet, who…

Al-Risala March 2021 m1_backfill original + quote

…فتنہ بن گئی۔ انھوںنے یہ سمجھا کہ حضرت سلیمان جو کچھ کرتے تھے، جادو اور عملیات کے زور پر کرتے تھے۔ چنانچہ یہود نے جادو اور عملیات میں مہارت حاصل کرنا شروع کردی۔ انھوںنے خدا کے دین کو جادو اور عملیات کا دین بنا کر رکھ دیا (البقرۃ، 2:102)۔

حضرت مسیح کا اصل کام دعوت تھا۔ دعوت کا تقاضا ہے کہ داعی یک طرفہ طورپر حسن اخلاق کا طریقہ اختیار کرے۔ چنانچہ حضرت مسیح نے اپنے پیروؤں کو رافت اوررحمت اور اعراض کی زبردست تاکید کی۔ بعد کو حضرت مسیح کے پیرو کار رافت ،رحمت اور اعراض کی دعوتی مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اس کو اصل مطلوب سمجھ لیا اور اس میں مزید مبالغہ کرنا شروع کیا۔ یہاںتک کہ اعراض دنیا برائےاخلاق و دعوت کو انھوںنے ترکِ دنیا بمعنی رہبانیت بنادیا (الحدید، 57:27)۔

اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر چہ اپنی زندگی کا ابتدائی نصف سے زیادہ حصہ دعوت پر زور دینے میں صرف کردیا۔ اس زمانہ میں آپ نے بھی صبر اور اعراض اور یک طرفہ حسن اخلاق کی تعلیم دی۔ مگر ہجرت کے بعد قریش کی جارحیت نے آپ کو دفاع…

Al-Risala November 2019 m1_backfill original + quote

— سویتلانہ (Svetlana Alliluyeva) روسی ڈکٹیٹر اسٹالن کی بیٹی تھی۔ اس کی پیدائش 1926 کوہوئی، اشتراکی دنیا سے مایوس ہو کر 1966میں وہ ہندستان آئی تھی۔ پھر وہ یورپ چلی گئی، اور 2011 میں اس کی وفات ہوئی۔

اس نے عیسائیت کو اختیار کرلیا تھا۔ اپنے سچائی کے تلاش کا واقعہ لکھتے ہوئےوہ اپنی کتاب ’’صرف ایک سال‘‘ ( Only One Year) میں لکھتی ہے کہ میں ماسکو میں غیر مطمئن تھی ،اور اپنے قلب کی تسکین کے لیے کوئی چیز ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ چیز مجھے بائبل کے ان جملوں میں مل گئی — اے خداوند! تو میری روشنی اور نجات دہندہ ہے۔ مجھے تو کسی سے بھی نہیں ڈرنا چا ہئے۔ خداوند میری زندگی کے لیے محفوظ پناہ گا ہ ہے۔ پس میں کسی بھی شخص سے خوف نہیں کھا ؤ ں گا۔ ہو سکتا ہے کہ شریر لوگ مجھ پر چڑھا ئی کریں۔ہو سکتا ہے کہ وہ مجھ پر حملہ کریں گے ، اور مجھے نیست و نابود کر دیں گے،لیکن وہ ٹھو کر کھا ئیں گے اور گریں گے۔ اگر چاہے پو را لشکر بھی مجھ کو گھیر لے، میں نہیں ڈروں گا، اگر جنگ میں بھی لوگ مجھ پر حملہ کریں میں نہیں ڈروں گا

The Lord is my light and my salvation, whom shall I fear? The Lord is the stronghold of my life- of whom shall I be afraid? When the wicked advance against me, to devour me, it is my enemies and my foes, who will stumble and fall. Though…

Al-Risala August 2018 m1_backfill original + quote

…اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں امام الناس (البقرۃ، 2:124) کہا گیا ہے۔ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن میں ان کو امۃ (النحل، 16:120)کہا گیا ہے۔

حضرت ابراہیم تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحبِ کتاب پیغمبر تھے(الاعلیٰ، 87:19)۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیامیں سے حضرت موسی، اور حضرت مسیح صاحب کتاب پیغمبر تھے۔ تاہم ان کی کتابیں بھی آج پوری طرح محفوظ حالت میں نہیں ہیں۔

حضرت محمد نے اسی بارے میں یہ کہا کہ میں اسی دین کو لے کر آیا ہوں جس دین کو لے کر حضرت ابراہیم آئے تھے(النحل، 16:123)۔ اس اعتبار سے رسول اللہ کا مشن دینِ ابراہیم کی تجدید کا مشن تھا۔ رسول اللہ کو یہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ آپ کا لایا ہوا دین…

…کو اگر قرآن کی تعلیم کے مطابق نصح (خیرخواہی) کےانداز میں استعمال کیاجائے تو پر امن دعوہ ورک وجود میں آتا ہے۔ اور اگر اس امکان کا غلط استعمال کیا جائے تو اس سے وہ چیز پیدا ہوتی ہے، جس کو مخاصمانہ مناظرہ (aggressive debate) کہاجاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ خاتم النبیین سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مختلف پیغمبر بھیجے۔ مثلا حضرت عیسی اور حضرت موسی، وغیرہ۔ ان پیغمبروں کے اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل کی تاکہ وہ انسانوں کے لیے ان کی دنیا کی زندگی میں رہنما کتاب (guide book) بنے۔ مگر قدیم زمانہ میں پرنٹنگ پریس نہ ہونے کی بنا پر یہ خدائی کتابیں اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہیں، ان کے متن (text) میں طرح طرح کی تبدیلیاں ہوگئیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی زمین پر کوئی ایسی کتاب باقی نہ رہی جس کے ذریعہ انسان اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے، اور یہ جانے کہ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God)کے مطابق انسان کا مقصد حیات (purpose of life) کیا ہے۔ اس وقت اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنا آخری رسول (the Final Prophet) دنیا میں بھیجے۔ اور اس کے اوپر ساتویں صدی کے ربع اول میں اپنی وہ کتاب اتارے جس کو آج ہم قرآن کےنام سے جانتے ہیں۔

قرآن کے بعد چوں کہ کوئی اور پیغمبر آنے والا نہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انتہائی اہتمام کیا کہ قرآن کامل طور پر محفوظ کتاب کی حیثیت سے باقی رہے، قرآن کے متن (text)میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی ہرگز ہونے نہ پائے۔ اس مقصد کے لیے ابتدائی…

Al-Risala November 2014 m1_backfill original + quote

Do not suppose that I have come to bring peace to the earth. I did not come to bring peace, but a sword. (Matthew, 10:34)

مسیحی علما ء اِس قول میں ’’تلوار‘‘ کے لفظ کو تمثیل کے معنی میں لیتے ہیں- اُن کے نزدیک، یہاں تلوار کا لفظ تمثیل کے معنی میں ہے- اِس سے مراد نظریاتی ٹکراؤ ہے- مسیح نے اپنے اِس قول میں عملی تشدد کی وکالت نہیں کی ہے:

Many Christians believe that the sword is a metaphor for ideological conflict and that Jesus is not advocating physical violence.

Al-Risala June 2013 m1_backfill

…اللہ کا مینج مینٹ (management) کلی معنوں میں ہے، لیکن انسان کو چوں کہ انتخاب کی آزادی (freedom of choice) ملی ہوئی ہے، اِس لیے انسانی زندگی میں اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسان کی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے، اس کو مینج کررہا ہے-

موجودہ دنیا میں ہر انسان اپنا امتحان دے رہا ہے- موجودہ دنیا میں ہر انسان کو یہ موقع دیاگیا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو اِس طرح تعمیر کرے کہ وہ آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے جو کہ انسان کی اصل منزل ہے- اِس مصلحت کے تحت اللہ موجودہ دنیا کی مسلسل نگرانی کرتا ہے- وہ انسانی تاریخ کو اِس طرح مینج کررہا ہے کہ موجودہ زمین اپنے دار الامتحان (testing ground) ہونے کی حیثیت کو کسی خلل کے بغیر مسلسل طور پر برقرار رکھے- اِس کا مقصد زمین پر اجتماعی معنوں میں کوئی صالح نظام قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنی انفرادی تعمیر کرنا چاہے، وہ کسی خلل کے بغیر اپنی شخصی تعمیر کرتا رہے-

اللہ کی اِس سنت کو قرآن میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے: وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (2:251) یعنی اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ…

Al-Risala April 2013 m1_backfill

…الْاِسْلَامَ دِیْنًا(5:3) یعنی آج منکر تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے، پس تم ان سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو- آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا-

قرآن کی اِس آیت میں اکمالِ دین یا تکمیلِ دین (completion of religion) سے مراد فہرستِ احکام کی تکمیل نہیں ہے اور نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اسلام حکومتی معنوں میںغالب ہوگیا ہے- اِس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام کی راہ کے موانع (obstacles) ختم ہوگئے- خود آیت کے الفاظ سے اسی مفہوم کی تائید ہوتی ہے- کیوں کہ آیت میں اکمالِ دین کا مطلب یہ بتایا گیاہے کہ اب خشیتِ انسانی (human fear) کا دور ختم ہوگیا- اب خدا کے دین کے حق میں ایسے اسباب جمع ہوگئے ہیں جو اُس کو اِس سے محفوظ کردیتے ہیں کہ وہ ماضی کی طرح انسانی رکاوٹوں اور مذہبی جبرکا شکار بنے-

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال کے درمیان مسلسل پیغمبر آتے رہے (23:44) - مگر جیسا کہ معلوم ہے، کسی بھی پیغمبر کی تعلیمات محفوظ نہ رہ سکیں، حتی کہ اِن پیغمبروں کا مدوّن تاریخ (recorded history) میں کوئی ریفرنس بھی موجود…

Al-Risala March 2013 m1_backfill

…ہے جس کو ہائڈروجن (hydrogen) کہاجاتا ہے۔ ہائڈروجن ایک بھڑک اٹھنے والی گیس(inflammable gas) ہے۔ جب پتھر کے دوٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ٹکرایا جاتا ہے تو فضا میں موجود ہائڈروجن کا کچھ حصہ اِس ٹکراؤ کی زد میں آجاتا ہے اور اچانک بھڑک اٹھتا ہے۔

یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اگر یہ واقعہ پیش آیا تو بلاشبہہ یہی وہ واقعہ تھا جس سے انسانی تاریخ میں گیان (معرفت) کا آغاز ہوا۔ اِس واقعے کا ایک نہایت اہم پہلو تھا، وہ یہ کہ اس واقعے نے انسان کو بتایا کہ معلوم یا مشہود دنیا کے ماورا بھی ایک دنیا موجود ہے:

There is an invisible dimension beyond the visible world.

Al-Risala July 2011 m1_backfill original + quote

ماہ نامہ الرسالہ (جون 2007 ) میں مسیح کی آمد ثانی سے مراد، مسیح کے رول کی آمد ثانی بتایا گیا ہے۔ براہِ کرم، اِس معاملے کو واضح فرمائیں۔(حافظ ابو الحکم محمد دانیال، بی ایس سی، پٹنہ)۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کے بیانات دو قسم کے ہیں— ایک، محکمات۔ دوسرے، متشابہات (3:7) ۔ محکم آیات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں مدعا کو غیر مشتبہ زبان (exact language) میں بیان کیاگیا ہو۔ مثلاً رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا (2: 283) ۔ متشابہ آیات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں مدعا کو مشتبہ زبان یا غیر متعین الفاظ (inexact language) میں بیان کیا گیا ہو۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ — نماز قائم کرو (أقیموا الصلاۃ)۔ مگر اس میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ نماز کو 24 گھنٹوں کے درمیان کن مخصوص اوقات میں ادا کرو۔

متشابہ اسلوب سے وہی اسلوبِ بیان مراد ہے جس کو فنِ تعلیم میں ڈسکوری متھڈ (discovery method) کہا جاتا ہے، یعنی مسئلہ کو غیر واضح صورت میں طالبِ علم کے سامنے رکھ دینا اور طالب علم کو یہ موقع دینا ہے کہ وہ اپنی قوتِ فکر کو استعمال کرکے غیر…

…جواب دیا کہ رومی حکمراں جو حکم دیں اس کو مانو، ان سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے عمل کا جو غیر سیاسی دائرہ باقی رہتا ہے، اُس میں اپنے مذہبی تقاضے پورے کرو۔ اِس مسیحی فارمولے کو ایک لفظ میں پولٹکل اسٹیٹس کوازم(political statusquoism) کہا جاسکتا ہے۔

حضرت مسیح کے پیروؤں نے اُن کے بعد اسی اصول پر عمل کیا۔ وہ مختلف ملکوں میں داخل ہوئے۔ ہر جگہ کسی نہ کسی کی حکومت تھی، مگر مسیح کے پیروؤں نے ان سے سیاسی ٹکراؤ نہیں کیا۔ سیاسی ٹکراؤ سے اوائڈ کرتے ہوئے انھوںنے مسیحیت کی پُرامن تبلیغ کی۔ وہ پچھلے دو ہزار سال سے اِس اصول پر کار بند ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مسیحی مذہب تعداد کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن گیا ہے۔

حضرت مسیح کا مذکورہ قول دراصل اسپریچول ایکٹوزم یادعوہ ایکٹوزم کے ابدی اصول کو بتاتا ہے۔ چنانچہ یہی بات پیغمبر اسلام نے اِس طرح بیان فرمائی: أدّوا إلیہم حقّہم وسئلوا اللہ حقّکم (صحیح البخاری) یعنی حکمرانوں کو ان کا حق دو، اور اپنا حق خدا…

Al-Risala August 2005 m1_backfill other source

وفی کل شیٔ لہ آیۃ تدل علی أنہ واحد

اس معاملہ کو ایک فارسی شاعر نے مزید وضاحت کے ساتھ اس طرح نظم کیا ہے:

برگ درختانِ سبز در نظرِ ہوشیار

Al-Risala June 2003 m1_backfill unverified

میری خواہش ہے کہ مذکورہ ذیل چند عناوین پر آپ کے خیالات معلوم کروں:

۱۔ ختم نبوت کی حقیقت۔ ۲۔ مسئلہ حیات و ممات حضرت عیسیٰ؈۔ ۳۔ حضرت امام مہدی؈، یعنی ان کا کام کیا ہوگا۔ آپ کے نزدیک ان کا مقام کیا ہوگا۔ ۴۔ مسئلہ اجزائے وحی کی حقیقت۔ یعنی وحی کی کتنی اقسام ہیں۔ کیا وحی کا تعلق صرف انبیاء سے ہوتا ہے۔ کیااب ہر قسم کی وحی بند ہے۔ (محمد وسیم خاں، قادیان)

۱۔ ختم نبوت کے بارہ میں میں اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔ میرے نزدیک پیغمبراسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلۂ نبوت آخری طورپر ختم ہوگیا۔ اب نہ کوئی براہ راست پیغمبر آنے والا ہے اور نہ کوئی بالواسطہ پیغمبر۔ پیغمبر اسلام…

Al-Risala February 2003 m1_backfill original + quote

…سے کہا کہ اس تصویر کو آپ ضائع کردیجئے۔ ورنہ اگر ہماری ’’زرد صحافت‘‘ نے اس کو پالیا تو مزید رنگ آمیزی کرکے اس کو چھاپے گی جس کے نیچے لکھاہوا ہوگا ’’ایک مسلمان عالم ایک ہندو گرو کے آگے جھکا ہوا‘‘۔ (۶ مئی ۱۹۹۹ کو گروجی کا انتقال ہوگیا)۔

گروجی مورتی پوجا کو نہیں مانتے ۔ حتیٰ کہ میںنے آشرم کے مختلف حصوں کو دیکھا تو کہیں خود گروجی کی بھی کوئی تصویر نہیں ملی۔ پورے آشرم میں کہیں نہ کوئی مورتی ہے اور نہ کوئی تصویر۔

میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ عجیب فضل ہے کہ میں اکثر نہایت سچے خواب دیکھتا ہوں۔ میں نے بہت سی ایسی چیزوں کے بارہ میں واضح خواب دیکھے ہیں جن کے متعلق مجھے کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ میرا خواب عین اصل واقعہ کے مطابق تھا۔…

Al-Risala June 2002 m1_backfill original + quote

…solution) ۔ عملی حل کا مطلب یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے صحیح اور غلط کی بحث میں نہ پڑا جائے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ عملی حالات کے اعتبارسے مسئلہ کا مثبت حل کیا ہے۔ پہلا طریقہ عام انسان کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ با مقصد انسان کا طریقہ۔

عام انسان کو صرف یہ معلوم رہتا ہے کہ قانون کے مطابق، اُس کا حق کیا ہے۔ اس کے برعکس بامقصد انسان قانونی حق اور منطقی انصاف سے بلند ہو کر یہ سوچتا ہے کہ میرے لیے اپنے مقصد اعلیٰ کو حاصل کرنے کا مفید طریقہ کیا ہے۔ سوچ میں اس فرق کی بنا پر، عام انسان لوگوں کے ساتھ زر اور زمین کا جھگڑا کرتا رہتا ہے، کیونکہ اس کے سوا اُس کا اورکوئی نشانۂ حیات نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس با مقصد انسان کا نظریہ، حضرت مسیح کے الفاظ میں یہ ہوتا ہے کہ، کوئی تمہارا کرتا لینا چاہے تو اُس کو اپنا چُغہ بھی دے دو۔ یعنی دنیوی چیزوں کے معاملہ میں نزاع پیدا ہو تو فوراً یک طرفہ قربانی کے ذریعہ اُس نزاع کو ختم کردو، تاکہ مقصد کی طرف تمہارا سفر کسی خلل کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔

اس طرح کے نزاعی معاملات میں عام انسان کا قول یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنا حق کیوں چھوڑیں، ہم انصاف سے دست بردار کیوں ہوں۔ مگر بامقصد انسان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ دنیوی حق کو لینے کی کوشش میں وہ ربّانی حق سے محروم ہوجائے گا۔ دنیوی انصاف کو حاصل کرنے…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…منصوبہ میں شامل کردے تو بظاہر کم ہونے کے باوجود وہ خداكی مدد سے زیادہ کے اوپر غالب آجائے گا — خدا کا خوف محض ایک منفی چیز نہیں، وہ ایک علم ہے جو آدمی کے ذہن کو اس طرح روشن کردیتاہے کہ وہ ہر چیز کو اس کے اصلی اور حقیقی روپ میں دیکھ سکے۔

اللہ کی طرف سے کوئی پکارنے والا جب لوگوں کو پکارتا ہے تو اس کی پکار میں ایسی نشانیاں شامل ہوتی ہیںکہ لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس کا انکار کردیتے ہیں اور یہ انکار کرنے والے سب سے پہلے وہ لوگ ہوتے ہیںجو رسالت کو مانتے چلے آرہے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ جس رسول کو مان رہے ہوتے ہیں اس کی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ اس کی افضلیت کا تصور قائم کرلیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہمارا رسول اتنا افضل ہے اور اس کو ہم مان رہے ہیں تو اب کسی اور کو ماننے کی کیا ضرورت۔ ہر پیغمبر مختلف حالات میں آتا ہے اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ہر ایک کو الگ الگ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے کسی پیغمبر کو ایک فضیلت (خصوصی چیز) دی جاتی ہے اور کسی کو دوسری فضیلت۔ بعد کے دور میں پیغمبر کی یہی فضیلت اس کے امتیوں کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ اپنے نبی کو دی جانے والی فضیلت کو تائیدی فضیلت کے بجائے مطلق فضیلت کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے افضل پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ اس ليے اب ہمیں کسی اور کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ حضرت موسیٰؑ کے ماننے والوں نے حضرت مسیح ؑکا انکار کیا۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا نبی اتنا افضل ہے کہ خدا براہِ راست اس سے ہم کلام ہوا۔ حضرت مسیح ؑکے ماننے والوں نے نبی آخر الزماں کا انکار کیا۔ کیوں کہ انھوں نے سمجھا کہ وہ ایسی ہستی کو مان رہے ہیں جس کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ خدا نے اس کو باپ کے بغیر پیدا کیا۔ اسی طرح اللہ کے وہ بندے جو امت محمدی کی اصلاح وتجدید کے لیے اٹھے ان کابھی لوگوں نے انکار کیا۔ کیوں کہ ان کے مخاطبین کی نفسیات یہ تھی کہ ہم بزرگوں کے وارث ہیں، ہم اکابر کا دامن تھامے ہوئے ہیں پھر ہم کو کسی اور کی کیا ضرورت۔ امتوں کے زوال کے زمانہ میں ایسا ہوتاہے کہ لوگ دنیا کے راستہ پر چل پڑتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی جنت بھی محفوظ رہے۔ اس وقت یہ عقیدہ ان کے لیے ایک نفسیاتی سہارا بن جاتا ہے۔ وہ اپنی مقدس شخصیتوں کی افضلیت کے تصور میں یہ تسکین پالیتے ہیں کہ دنیا میں خواہ وہ کچھ بھی کریں ان کی آخرت کبھی مشتبہ نہیں ہوگی۔ یہی غلط اعتماد ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے کی مخالفت پر جری بناتا ہے۔ اللہ کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے کوئی دوسرا نظام قائم کرتا جس میں کسی کے لیے اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ مگر یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں تو اسی بات کی آزمائش ہورہی ہے کہ آدمی غیب کی حالت میں خدا کو پائے۔ انسان کی زبان سے بلند ہونے والی خدائی آواز کو پہچانے۔ ظاہری پردوں سے گزر کر سچائی کو اس کے باطنی روپ میں دیکھ لے۔

اللہ کی طرف سے کوئی پکارنے والا جب لوگوں کو پکارتا ہے تو اس کی پکار میں ایسی نشانیاں شامل ہوتی ہیںکہ لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس کا انکار کردیتے ہیں اور یہ انکار کرنے والے سب سے پہلے وہ لوگ…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…ہے۔ایسے شخص کا شمار اللہ کے یہاں انکار کرنے والوں میں ہوگا، نہ کہ ماننے والوں میں— رسو ل وہ شخص ہے جس کے کامل خدا پرست ہونے کی گواہی خود خدا نے دی ہے، اس لیے خدا پرستانہ زندگی کے لیے رسول کا نمونہ ہی موجودہ دنیا میں واحد مستند نمونہ ہے۔

مومن تمام انسانوں کے ساتھ نیکی اور عدل کا سلوک کرنے والا ہوتا ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ مگر جب غیر مسلموں کے ساتھ دوستی مسلمانوں کے مفاد کی قیمت پر ہو تو ایسی دوستی مسلمان کے لیے جائز نہیں۔ تاہم بچاؤ کی تدبیر کے طورپراگر کسی وقت ایک مسلمان یا کسی مسلم گروہ کو غیر مسلموں سے وقتی تعلق قائم کرنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ نیت کو دیکھتا ہے اور جب نیت درست ہو تو وہ کسی کو اس کے عمل پر نہیں پکڑتا۔ تمام معاملات میں اصل قابل لحاظ چیز اللہ کا خوف ہے۔ آدمی کسی معاملہ میں جو رویہ اختیار کرے، اس کو اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ اللہ اس کا حساب لے گا۔ اور اس کے انصاف کے ترازو میں جو غلط ٹھہرے گا وہ اس کی سزا پاکر رہے گا۔ اللہ سے کسی انسان کی کوئی بات اوجھل نہیں، خواہ وہ اس نے چھپ کر کی ہو یا علانیہ کی ہو۔ جب امتحان کا پردہ ہٹے گا او آخرت کا عالم سامنے آئے گا تو آدمی کے اعمال کی پوری کھیتی اس کے سامنے ہوگی۔ یہ منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ وہ چیزیں جو دنیا میں اس کے نفس کی لذت بنی ہوئی تھیں، وہ چاہے گا کہ وہ اس سے بہت دور چلی جائیں۔ اللہ کسی کے اسلام کو جہاں دیکھتا ہے وہ اس کا قلب ہے۔ مومن وہی ہے جس کا اللہ سے تعلق قلبی محبت کی حد تک قائم ہوجائے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو اللہ کی محبت و توجہ کا مستحق بنتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ سے اس طرح تعلق قائم کرے، اس سے اگر کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں تو اللہ اس سے درگزر فرماتا ہے۔ اللہ سرکشوں کے لیے بہت سخت ہے۔ مگر جو لوگ عاجزی کا رویہ اختیار کریں، وہ ان کے لیے نرم پڑجاتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جس سینہ میں کسی کی محبت موجودہو اسی سینہ میں محبوب کے دشمن کی محبت جمع نہیں ہوسکتی ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محبوب اگر ایسی ہستی ہو جو آدمی کے لیے آقا ومالک کادرجہ رکھتی ہو تو اس کے ساتھ محبت صرف محبت کی حد تک نہ رہے گی بلکہ لازماً وہ اطاعت وفرماں برداری کا جذبہ پیدا کرے گی۔ خدا کی جس محبت کے بعد خدا کے دشمنوں سے قلبی تعلق ختم نہ ہو یا اس کی اطاعت و فرماں برداری کا جذبہ پیدا نہ ہو تو وہ جھوٹی محبت ہے۔ایسے شخص کا شمار اللہ کے یہاں انکار کرنے والوں میں ہوگا، نہ کہ ماننے والوں میں— رسو ل وہ شخص ہے جس کے کامل خدا پرست ہونے کی گواہی خود خدا نے دی ہے، اس لیے خدا پرستانہ زندگی کے لیے رسول کا نمونہ ہی موجودہ دنیا میں واحد مستند نمونہ ہے۔

کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔

یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔

یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔

یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔

یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔

بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیحؑکو ماننے سے انکار کردیا۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہر قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس کو رد کردیں، وہ نہ صرف وسائل حیات سے محروم ہوجاتا ہے بلکہ حق کی خاطر سب کچھ کھونے کے بعد بھی لوگوں کی نظر میں بددین ہی بنا رہتا ہے۔ ایسے وقت میں داعیٔ حق کا ساتھ دینا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ شبہات اور مخالفتوں کی عمومی فضا میں اس کی صداقت پر گواہ بننا ہے۔ یہ حق کی جانب اس وقت کھڑا ہونا ہے جب کہ حق تنہا رہ گیا ہو۔ حق جب اپنی بے آمیز صورت میں اٹھتا ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو اپنی خلافِ حق زندگی پر حق کا لیبل لگا کر لوگوں کے درمیان عزت کا مقام حاصل کيے ہوئے هوں۔ وہ داعی کو زیر کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکا ل کر عوام کو اس کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ اور بالآخر طاقت کے ذریعہ اس کو مٹادینے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ مگر اللہ کی نصرت ہمیشہ داعی کے ساتھ ہوتی ہے، اس لیے کوئی مخالفت اس کی آواز کو دبانے میںکامیاب نہیں ہوتی۔ مخالفتوں کے علی الرغم وہ اپنے مشن کو مکمل کرتا ہے — جو لوگ دعوت حق کے مخالف بنیں وہ اللہ کی نظر میںفساد كرنے والے ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف جانے سے روکتے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی فساد نہیں ہوسکتا کہ خدا کے بندوں کو خدائی جنت کی طرف جانےسے روکا جائے۔ حضرت مسیح یہودی قوم میں پیدا ہوئے مگر یہود نے آپ کی نبوت نہیں مانی۔ انھوںنے آنجناب کو ختم کرنے کے لیے آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا اور آپ کو فلسطین کی رومی عدالت میں لے گئے۔ عدالت سے آپ کو سولی پرچڑھانے کا فیصلہ ہوگیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور رومی سپاہیوں نے ایک اور آدمی کو آپ کا ہم شکل پاکر اسے سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔

بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیحؑکو ماننے سے انکار کردیا۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہر قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس کو رد کردیں، وہ نہ صرف وسائل…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…سولی دے دی۔ یہود کے اس جرم پر خدا نے یہ فیصلہ کردیا کہ حضرت مسیح کو ماننے والی قوم قیامت تک یہودی قوم پر غالب رہے گی۔ یہود اور مسیحی دونوں کے ساتھ يه خدا کا دنیوی معاملہ ہے۔ آخرت کا معاملہ اس کے علاوہ ہے ،جو خدا کی عام سنت کے تحت ہوگا۔

مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔ نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ 15 ۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔

کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خداکے سوا کوئی دوسری نہیںہوسکتی۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔

مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان کیسے کہاجائے۔ آپ کا طریقِ پیدائش خود بتاتا ہے کہ وہ بشر سے ماورا تھے۔ وہ انسان کے بیٹے نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ کہا گیا کہ تمھارے سوال کا جواب انسان اول (آدم) کی تخلیق میں موجود ہے۔ تم خود یہ مانتے ہو کہ آدم سب سے پہلے بشر ہیں۔ وہ معروف طریقے کے مطابق مرد اور عورت کے تعلق سے وجود میں نہیں آئے۔بلکہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت وجود میں آئے۔ پھر باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر جب آدم خدا کے بیٹے نہیںہیں تو اسی طرح باپ کے بغیر پیدا ہونے کی بنا پر مسیح کیسے خدا کے بیٹے ہوجائیں گے۔ نجران (یمن) نزول قرآن کے زمانہ میں مسیحی مذہب کا بہت بڑا مرکز تھا۔ ان کے علما اور پیشواؤں کا ایک وفد ۹ھ میں مدینہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسیحی عقائد کے بارے میں بحث کی۔ آپ نے مختلف دلائل ان کے سامنے پیش کیے۔ مثلاً آپ نے فرمایا کہ مسیح خدا کے بیٹے کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ خدا ایک زندہ ہستی ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔ مگر عیسیٰ پر موت اور فنا آنے والی ہے (وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء) بهجۃ المحافل وبغيۃ الاماثل، يحيى بن ابو بكر العامری، جلد2، صفحہ 15 ۔آپ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا مگر وہ برابر کج بحثی کرتے رہے۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ دلیل سے ماننے والے نہیں ہیں تو آپ ؐنے ان کو ایک آخری چیلنج دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے کو برسرِ حق سمجھتے ہو تو مباہلہ (ایک دوسرے پر لعنت کی بد دعا) کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اگلے دن صبح کو آپ باہر نکلے۔ آپ ؐکے ساتھ آپ کے دونوں نواسے حسن اور حسین تھے۔ ان کے پیچھے حضرت فاطمہ ؓاور ان کے پیچھے حضرت علیؓ۔ نجرانی عیسائی یہ دیکھ کر مرعوب ہوگئے اور باہم مشورہ کی مہلت مانگی۔ علیحدہ مشورہ میںان کے ایک عالم نے کہا تم جانتے ہو کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں پیغمبر بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعید نہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ پھر ایک پیغمبر سے مباہلہ اور ملاعنہ کرنے کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ تمھارے چھوٹے اور بڑے سب ہلاک ہوجائیں اور نسلوں تک اس کا اثر باقی رہے۔ خدا کی قسم میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ دعا کریں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستيوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔

مسیحی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح عام انسانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کی پیدائش توالد وتناسل کے عام قاعدہ کے خلاف باپ کے واسطہ کے بغیر ہوئی۔ پھر آپ کو عام انسانوں کی طرح ایک انسان…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو ہر طرف سے موڑ کر اللہ کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کردے گا۔

جو لوگ اپنے کو اللہ کے حوالے كيے ہوئے نہ ہوں وہ اپنے کو اپنے دنیوی مفاد کے حوالے كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنیوی مفاد جس سے وابستہ ہو وہ اسی کے ساتھ ہوجاتے ہیں، خواہ وہ دین دار ہو یا بے دین۔ ایسے لوگ زبان سے اسلام کے الفاظ بولتے ہیں اور بعض اسلامی اعمال بھی ظاہری حد تک ادا کرتےرہتے ہیں، مگر ان کا عمل اللہ کے ليے نہیں ہوتا۔ بلکہ لوگوں کی نظر میں مسلمان بنے رہنے کے ليے ہوتا ہے۔ ان کا اصلی دین موقع پرستی ہوتا ہے مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا خدا کو دھوکا دے رہے ہیں۔ وہ خدا والے نہ ہو کر اپنے کو خدا والا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسلام کو سچا دین جانتے ہیں، اس کے باوجود اپنے مفاد ات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے ليے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے ليے۔ ایسے لوگ اللہ کی مدد سےمحروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی مدد کا مستحق بننے کے ليے اللہ کے راستہ پر جمنا ضروری ہے۔ اور یہی چیز ان کے یہاں موجود نہیں ہوتی— حق کو ماننے والے اور حق کا انکار کرنے والے جب الگ الگ ہوچکے ہوں تو ایسی حالت میں حق کا انکار کرنے والوں کا ساتھ دینا اپنے خلاف خدا کی کھلی حجت قائم کرنا ہے۔ یہ کسی کے قابلِ سزا ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنے دکھاوے کے اعمال کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اسلام کی ظاہری نمائش کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور تھے، اس ليے ان کا انجام بھی ان کی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ تاہم کسی کی گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو ہر طرف سے موڑ کر اللہ کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کردے گا۔

کسی شخص کے اندر کوئی دینی یا دنیوی عیب معلوم ہو تو اس کو شہرت دینا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ نصیحت کا حق ہر ایک کو ہے۔ مگر نصیحت یا تو کسی کا نام لیے بغیر عمومی انداز میں کی جانی چاہیے یا متعلقہ شخص سے مل کر تنہائی میں۔ اللہ صبح وشام لوگوں کے…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill original + quote

…کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے —’’ہمارے دل تو بند ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجھكتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ ’’مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مارڈالا‘‘۔ مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔…

…کرادے۔ وہ برائی کو چھوڑ کر دوبارہ نیکی کی روش اختیار کرے اور شریعت کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کرلے۔ ایسا ہی آدمی توبہ کرنے والا ہے اور جو شخص اس طرح توبہ کرے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گھر کا بھٹکا ہوا آدمی دوبارہ اپنے گھر واپس آجائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔ خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میںمبالغہ آمیز تصور قائم کرلیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے۔ اسی کا نام غلو ہے۔ شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلاً اسی غلو کی…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…کا شعور نہ ہو وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پانے سے محروم رہا۔ پہلا شخص آنکھ والا ہے جو کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچے گا۔ دوسرا شخص اندھا ہے جس کے لیے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ بھٹکتا رہے یہاں تک کہ ذلّت کے گڑھے میں جاگرے۔

آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میںمبالغہ آمیز تصور قائم کرلیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے۔ اسی کا نام غلو ہے۔ شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلاً اسی غلو کی پیداوار ہیں۔ دین میں غلو یہ ہے کہ دین میں کسی چیز کا جو درجہ ہو اس کو اس کے واقعی درجہ پر نہ رکھا جائے بلکہ اس کو بڑھا کر زیادہ بڑا درجہ دینے کی کوشش کی جائے — اللہ اپنے ایک بندے کو باپ کے بغیر پیدا کرے تو کہہ دیا جائے کہ یہ خدا کا بیٹا ہے۔ اللہ کسی کو کوئی بڑا مرتبہ دے دے تو سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی مافوق شخصیت ہے اور بشری غلطیوں سے پاک ہے۔ دنیا کی چمک دمک سے بچنے کی تاکید کی جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر ترک دنیا تک پہنچا دیا جائے۔ زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں کچھ احکام ديے جائیں تو اس میں مبالغہ کرکے اسی کی بنیاد پر ایک پورا دینی فلسفہ بنا دیا جائے۔ اس قسم کی تمام صورتیں جن میں کسی دینی چیز کو اس کے واقعی مقام سے بڑھا کر مبالغہ آمیز درجہ دیا جائے۔ وہ غلو کی فہرست میں شامل ہوگا۔ ہر قسم کی طاقتیں صرف اللہ کو حاصل ہیں۔ اس کے سوا جتنی چیزیں ہیں سب عاجز اور محکوم ہیں۔ انسان اپنے شعور کے کمال درجے پر پہنچ کر جو چیز دریافت کرتا ہے وہ یہ کہ خدا قادر مطلق ہے اور وہ اس کے مقابلہ میں عاجز مطلق۔ پیغمبراور فرشتے اس شعور میں سب سے آگے ہوتے ہیں، اس لیے وہ خدا کی قدرت اور اپنے عجز کے اعتراف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں۔اعتراف ہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ جس کو اپنے عجز کا شعور ہوجائے اس نے خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پالیا۔ اور جس کو اپنے عجز کا شعور نہ ہو وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پانے سے محروم رہا۔ پہلا شخص آنکھ والا ہے جو کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچے گا۔ دوسرا شخص اندھا ہے جس کے لیے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ بھٹکتا رہے یہاں تک کہ ذلّت کے گڑھے میں جاگرے۔

آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میںمبالغہ آمیز تصور قائم کرلیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے۔ اسی کا نام غلو ہے۔ شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلاً اسی غلو کی…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔

یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی ہی چلی گئی۔ انھوں نے خود نصیحت کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی۔ حتی کہ کتنے لوگوں کو قتل کردیا۔ جب ان کی سرکشی حد کو پہنچ گئی تو اللہ نے بابل ونینویٰ (عراق) کے بادشاہ بنو خذ نصر کو ان کے اوپر مسلط کردیا جس نے 586 ق م میں یروشلم پر حملہ کرکے یہود کے مقدس شہر کو ڈھا دیا۔ اور یہودیوںکو گرفتار کرکے اپنے ملک لے گیا تاکہ ان سے بیگار لے۔ اس واقعہ کے بعد یہود کے دل نرم ہوئے۔ انھوںنے اللہ سے معافی مانگی۔ اب اللہ نے سائرس (شاہ ایران) کے ذریعہ ان کی مدد کی۔ سائرس نے 539 ق م میں کلدانیوں کے اوپر حملہ کیا اور ان کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود کو جلاوطنی سے نجات دلا کر ان کو ان کے وطن جانے اور وہاں دوبارہ بسنے کی اجازت دے دی۔ اب یہود کو نئی زندگی ملی اور ان کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ غفلت اور سرکشی میںمبتلا ہوئے۔ اب پھر نبیوں اور مصلحین کے ذریعہ اللہ نے ان کو متنبہ کیا۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے، یہاں تک کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور (اپنی حد تک) حضرت مسیح کو بھی۔ اب اللہ کا غضب ان پر بھڑکا اور 70 عیسوی میں رومی شہنشاہ ٹائٹس کو ان پر مسلط کردیاگیا۔ جس نے ان کے ملک پر حملہ کرکے ان کو ویران کردیا۔ اس کے بعد یہود کبھی اپنی ذاتی بنیادوں پر کھڑے نہ ہوسکے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوموں کی نفسیات بعدکے زمانہ میں یہ بن جاتی ہے کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں اس پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ خدا کی تعلیمات میں اس عقیدہ کے خلاف کھلے کھلے بیانات ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کے بارے میں اندھے بہرے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد خود ساختہ عقیدوں اور فرضي قصے کہانیوں کا ایسا ہالہ بنا لیتے ہیں کہ خدا کی تنبیہات ان کو دکھائی اور سنائی نہیں دیتیں۔ یہود کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ایک حاملِ کتاب قوم کو اس کے ’’دشمنوں کے قبضہ‘‘ میں دے دیا جائے تو یہ اس کے لیے خدا کی طرف سے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…کے ليے وقف ہوجاتا ہے۔ ان کا ڈر ان کے شعور کو بیدار کردیتا ہے۔ ان کی نگاہ سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی نشانیوں کو پہچاننے میں وہ کبھی نہیں چوکتے۔ وہ اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ قناعت کی نفسیات میں۔

بنی اسرائیل دیکھتے چلے آرہے تھے کہ جتنے نبی آتے ہیں وہ سب ان کی اپنی قوم میں آتے ہیں۔ آخری رسول خدا کے منصوبہ کے مطابق بنی اسماعیل میں آنے والا تھا اس ليے خدا نے بنی اسرائیل کے انبیاء کے ذریعے انھیں پہلے سے اس کی خبر کردی۔ ان کی کتابوں میں کثرت سے اس کی پیشین گوئیاں ابھی تک موجود ہیں۔ ایسا اس ليے ہوا تاکہ جب آخری رسول آئے تو وہ کسی بڑے فتنہ میں نہ پڑیں اور بہ آسانی اس کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔ پیغمبر اسلام پڑھے لکھے نہ تھے۔ آپ امی رسول تھے۔ اُمّیت کے ساتھ پیغمبری، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آخری اور انتہائی صورت میں جمع ہوئی یہی ہمیشہ کے ليے اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ معرفت خداوندی کا اظہار ہمیشہ ’’امیت‘‘ کی سطح پر ہوتا ہے۔ یعنی وہ کسی ایسے شخص کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے جو دنیوی معیار کے لحاظ سے اس قسم کے عظیم کام کا اہل نہ سمجھا جاتا ہو۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیںہوا کہ خدا نے بقراط اور افلاطون کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہو۔ دین کی اصل روح اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب اندرونی روح سرد پڑتی ہے تو ظواہر کا زور بہت بڑھ جاتا ہے۔ اب غیر ضروری موشگافیاں کرکے نئے نئے مسائل بنائے جاتے ہیں۔ روحانیت کے نام پر مشقوں اور ریاضتوںکا ایک پورا ڈھانچہ کھڑا کرلیا جاتا ہے۔ عوامی توہمات مقدس ہو کر نئی شریعت کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہود کا یہی حال ہوچکا تھا۔ انھوں نے خداکے دین کے نام پر توہمات اور جکڑ بندیوں کا ایک خود ساختہ ڈھانچہ بنالیا تھا اور اس کو خدا کا دین سمجھتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے ان کے سامنے دین کو اس کی فطری صورت میں پیش کیا۔ غیر ضروری پابندیوں کو ختم کرکے سادہ اور سچے دین کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔ پیغمبر جب آتا ہے تو سب سے بڑی نیکی یہ ہوتی ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ مگر یہ ایمان عام معنوں میں محض ایک کلمہ پڑھنا نہیں ہے۔ یہ بے روح ڈھانچہ والے دین سے نکل کر زندہ شعور والے دین میں داخل ہونا ہے۔ سابقہ مذہبی ڈھانچہ سے آدمی کی وابستگی محض تاریخی روایات یا نسلی رواج کے زور پر ہوتی ہے۔ مگر نئے پیغمبر کے دین کو جب وہ قبول کرتاہے تو وہ اس کو شعوری فیصلہ کے تحت قبول کرتا ہے، وہ رسم سے نکل کر حقیقت کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ سادہ بات ہر دور میں انسان کے ليے مشکل ترین بات ثابت ہوئی ہے۔

’’کہو میں سب انسانوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے تمام پیغمبر قومی پیغمبر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین اقوامی پیغمبر ہیں۔ یہ بات بطور تقابل نہیں کہی گئی ہے بلکہ بطور واقعہ کہی گئی ہے۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبر…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill original + quote

…ذہن کے باہر کوئی قیمت نہ رکھتے ہوں۔ اس قسم کے جھوٹے الفاظ کسی آدمی کو صرف موجودہ دنیا میں سہارا دے سکتے ہیں۔ آخرت میں جب ہر چیز کی حقیقت کھلے گی تو یہ خوشنما الفاظ اتنے بے وزن ہوجائیں گے کہ آدمی ان کو دہراتے ہوئے بھی شرم محسوس کرے گا۔

جنت کی قیمت تقویٰ ہے۔ یعنی اللہ کی عظمت کا اتنا شدید احساس جو ڈربن کر آدمی کے دل میں سما جائے۔ جو لوگ دنیا میں خدا سے ڈریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کے اُن گھروں میں بسائے جائیں گے جہاں آدمی کے لیے کسی قسم کا ڈر نہ ہوگا۔ جس کے چاروں طرف سرسبز باغات ان کی عظمت وشان کو دو چند کررہے ہوں گے۔ اس کے برعکس، حال ان لوگوں کا ہے جو دنیا میں بے خوف بن کر رہے۔ وہ آخرت میں اپنے آپ کو آگ کی دنیا میں پائیں گے۔

قرآن آیا تو یہود ونصاریٰ میں دو گروہ ہوگئے۔ ان میں جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے تھے اور حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کی سچی تعلیمات پر قائم تھے، انھوںنے قرآن کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور خوش ہوکر اس کو قبول کرلیا۔ مگر جو لوگ عصبیت اور گروہ…

…معجزاتی طورپر پیدا ہونا خدا کی ایک عظیم نشانی تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہود آپ کے فرستادۂ خدا ہونے پر شک نہ کریں اور آپ خدا کی طرف سے جو باتیں بتائیں ان کو مان لیں۔ مگر اتنی کھلی ہوئی نشانی کے باوجود انھو ںنے حضرت مسیح کا انکار کردیا۔

حضرت زکریا حضرت مریم کے بہنوئی تھے۔ حضرت مریم کے والد کا نام عمران تھا۔ حضرت مریم ابھی صرف چند سال کی تھیں کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ وہ ہیکل کے ناظم اعلی تھے۔ ان کے بعد حضرت زکریا ہیکل کے ناظم اعلیٰ (کاہنوں کے سردار) مقرر ہوئے۔ اس زمانہ میں حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل کی خدمت میں دے دی گئی تھیں۔ حضرت زکریا چوں کہ حضرت مریم کے قریبی عزیز تھے اور ہیکل کے سردار بھی اس لیے وہی حضرت مریم کی تربیت کے ذمہ دار قرار پائے۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے ’’چھپی آواز‘‘ میں خدا سے دعا کی۔ یہ دعا حیرت انگیز طورپر پوری ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سچی دعا کیا ہے۔ سچی دعا دراصل اس یقین کا بے تابانہ اظہار ہے کہ سارا اختیار صرف خدا کے پاس ہے۔ اسی کے دینے سے آدمی کو ملے گا اور وہ نہ دے تو کبھی کسی کو کچھ نہیں مل سکتا۔ سچی دعا کا سارا رخ صرف ایک خدا کی طرف ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ سچی دعا سب سے زیادہ اس وقت ابلتی ہے جب کہ آدمی تنہائی میں ہو۔ جہاںاس کے اور خدا کے سوا کوئی تیسرا نہ پایا جائے۔

حضرت مریم اپنی والدہ کی نذر کے مطابق ہیکل (بیت المقدس) کی خدمت کے لیے دے دی گئی تھیں۔ قدیم ہیکل کا مشرقی حصہ عورتوں کے لیے خاص تھا۔ وہ اس حصہ میں ایک طرف پردہ ڈال کر معتکف ہوگئیں۔ اس کے بعد اچانک ایک روز ایسا ہوا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک…

…ہوجاتاہے۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ صرف اللہ کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں۔ اللہ کا ڈر ان کی نظر میں ان تمام ہستیوں کو حذف کردیتاہے جن کو جھوٹا سہارا بنا کر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میںاللہ کے باعزت مہمان بنائے جائیںگے۔

خدا کے لیے اولاد ماننا دو وجہوں سے ہوسکتا ہے۔ یا تو یہ کہ خدا کو اپنے لیے مددگار کی ضرورت ہے۔ یا وہ عام انسانوں کی طرح اولاد کی تمنا رکھتا ہے۔ اس لیے اس نے اپنی اولاد بنائی ہے۔ یہ دونوں باتیں بے بنیاد ہیں۔ زمین وآسمان کی بناوٹ اتنی کامل ہے کہ یہ بالکل ناقابل تصور ہے کہ اس کو بنانے اور چلانے والا خدا ایسا ہو جو انسانوں کی طرح کی کمیاں اپنے اندر رکھتا ہو۔ مخلوقات اپنے خالق کا جو تعارف کرا رہی ہیں اس میں خدا کی اولاد کا تصور کسی طرح چسپاں نہیں ہوتا۔

خدا کے لیے اولاد ماننا دو وجہوں سے ہوسکتا ہے۔ یا تو یہ کہ خدا کو اپنے لیے مددگار کی ضرورت ہے۔ یا وہ عام انسانوں کی طرح اولاد کی تمنا رکھتا ہے۔ اس لیے اس نے اپنی اولاد بنائی ہے۔ یہ دونوں باتیں بے بنیاد ہیں۔ زمین وآسمان کی بناوٹ اتنی کامل…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill original + quote

…نے خداکو دریافت کیا۔ اورپھر صرف آخرت کی خاطر اپنی زندگی کو خدا کی پسند کے راستے پر ڈال دیا وہ اس دنیا کی سب سے قیمتی روحیں ہیں۔ خدا ان کی اس طرح قدر دانی کرے گا کہ ان کو جنت کی کامل دنیا میں بسائے گا۔ جہاں وہ ابدی طور پر عیش کرتے رہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حق کی طرف پکارا تو جو لوگ ناحق کی بنیاد پر اپنی عمارت کھڑی کيے ہوئے تھے وہ آپ کے دشمن ہوگئے۔ مخالفت بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ ایسا معلوم ہوا گویا ناحق کے علم بردار حق کے علم برداروں کا خاتمہ کردیں گے۔ ایسے نازک حالات میں بعض مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ اگر ہم حق پر ہیںتو خدا ہماری مدد کیوں نہیں کرتا۔ حق اور ناحق کی کش مکش میں وہ غیر جانب دار کیوں بنا ہوا ہے۔ فرمایا کہ خدا بلا شبہ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتا ہے۔ مگر خدا کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ فوراً مداخلت کرے۔ وہ معاملات کے اس حد تک پہنچنے کا انتظار کرتاہے جہاں ایک فریق کا برسر حق ہونا اور دوسرے فریق کا برسر باطل ہونا پوری طرح ثابت شدہ بن جائے۔ جب یہ حد آجاتی ہے اس وقت خدا بلا تاخیر مداخلت کرکے فیصلہ کردیتاہے۔ یہ خدا کی سنت ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو خدا کی اس سنت پر راضی کرے۔ کیوں کہ اس کے سوا کوئی اور چیز اس زمین وآسمان کے اندر ممکن نہیں۔ اس کے سوا ہر راستہ موت کا راستہ ہے، نہ کہ زندگی کا راستہ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حق کی طرف پکارا تو جو لوگ ناحق کی بنیاد پر اپنی عمارت کھڑی کيے ہوئے تھے وہ آپ کے دشمن ہوگئے۔ مخالفت بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ ایسا معلوم ہوا گویا ناحق کے علم بردار حق کے علم برداروں کا خاتمہ کردیں گے۔…

…كافي هيں كه يه خالق كس قدر عظيم هے۔ وه سميع وبصير هے۔ وه هر قسم كے اعلي اختيارات كا مالك هے۔ كسي كو جو كچھ ملتا هے اسي كے دئے سے ملتا هے اور كسي سے جو كچھ چھنتا هے اسي كے چھيننے سے چھنتا هے۔ وه اپني مثال آپ هے، اس كے جيسا كوئي اور نهيں۔

زمين وآسمان كي صورت ميں جو واقعه همارے سامنے هے وه اتنا عظيم واقعه هے كه يه ناقابل قياس هے كه ان معبودوں ميں سے كسي معبود نے ان كو وجود عطا كيا هو جن كی لوگ خدا كے سوا تعظيم وتقديس كرتے هيں۔ اِسي طرح انسانوں اور جانوروں كے اندروني نظام ميں ان كي نسل كي بقا كا انتظام اتنا پيچيده هے كه اس كو حقيقي طورپر نه كسي انسان كي طرف منسوب كيا جاسكتا اور نه خدا كے سوا معبودوں ميں سے كسي معبود كي طرف۔يه سب كام اتنے غير معمولي هيں كه بے مثل خدا هي كي طرف انھيں جائز طورپر منسوب كياجاسكتا هے۔ خالق كي جو صفات اس كي مخلوقات كے مشاهده كے ذريعه همارے علم ميں آتي هيں وهي يه ثابت كرنے كے لیے كافي هيں كه يه خالق كس قدر عظيم هے۔ وه سميع وبصير هے۔ وه هر قسم كے اعلي اختيارات كا مالك هے۔ كسي كو جو كچھ ملتا هے اسي كے دئے سے ملتا هے اور كسي سے جو كچھ چھنتا هے اسي كے چھيننے سے چھنتا هے۔ وه اپني مثال آپ هے، اس كے جيسا كوئي اور نهيں۔

تمام پيغمبر ايك هي دين لے كر آئے۔ اور وه دينِ توحيد هے۔ مگر ان پيغمبروں كے ماننے والے بعد كو الگ الگ ديني فرقوں ميں تقسيم هوگئے۔ اس كي وجه مركز توجه ميں تبديلي تھي۔ پيغمبروں كے اصل دين ميں مركز توجه تمام تر خدا تھا۔ هر ايك كي تعليم يه تھي…

اُمّ الكتاب سے مراد لوح محفوظ هے جو الله كے پاس هے۔ لوح محفوظ ميں الله تعالي نے اس اصل دين كو ثبت كرركھا هے جو اس كو انسانوں سے مطلوب هے۔ يهي اصل دين مختلف زبانوںميں مختلف پيغمبروں پر اترا۔ اور وه پيغمبر آخر الزماں پر عربي زبان ميں اتارا گيا۔اب عربي قرآن هي موجوده دنيا ميں اصل دينِ خداوندي كا نمائنده هے۔ حاملينِ قرآن كي يه ذمه داري هے كه وه اس كو هر زبان ميں منتقل كركے اسے تمام قوموں تك پهنچائيںتاكه اس دين كو جس طرح عربوں نے سمجھا اسي طرح دوسرے لوگ بھي اس كو سمجھ سكيں۔ قرآن كا بلند اور پر حكمت هونا اس كے كتاب الهي هونے كا ثبوت هے۔ قرآن كي زبان اور اس كے مضامين خدائي عظمت كے هم سطح هيں، اور يهي اس بات كا ثبوت هے كه وه خداكي كتاب هے۔ قرآن اگر انساني كلام هوتا تو اس ميں وه غير معمولي عظمت نه پائي جاتي جو اب اس ميں پائي جارهي هے۔

خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill original + quote

…كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔ شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔

موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن كر مخالفين نے كها كه عيسائي لوگ مسيح كو پوجتے هيں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاهر هے كه يه محض ايك شوشه تھا۔ كيوں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے جو بات فرمائي تھي وه عابد كي نسبت سے تھي نه كه معبود كي نسبت سے، اور اگر اس كو معبود كي نسبت سے مانا جائے تب بھي واضح طورپر اس سے مراد وه غير معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضي هوں۔ آدمي اگر بات كو اس كے صحيح رخ سے نه لے تو هر بات كو وه الٹے معني پهنا سكتا هے، خواه وه كتني هي درست بات كيوں نه هو۔ حضرت عيسي عليه السلام كي شخصيت ايك اعتبار سے فرشتوں كے مشابه تھي۔ اس پر آنجناب كو بهت سے لوگوں نے معبود بناليا۔مگر حضرت مسيح كي ملكوتي تخليق خدا كي قدرت كي مثال تھي نه كه خود حضرت مسيح كي ذاتي قدرت كي مثال۔ حقيقت يه هے كه الله كے لیے اس قسم كي تخليق كچھ بھي مشكل نهیں۔ وه چاهے تو زمين كي تمام آبادي كو فرشتوں كي آبادي بنا دے۔ پھر بھي يه فرشتے فرشتے هي رهيں گے، وه معبود نهيں هوجائیںگے۔ حضرت مسيح كو يه معجزه دياگيا كه وه مُرده كو زنده كرديتے تھے۔ مٹي كے پتلے ميں پھونك مار كر اسے جاندار بنا ديتے تھے۔ يه دراصل ايك خدائي نشاني تھي جو زندگي بعد موت كے امكان كو بتانے كے لیے ظاهر كي گئي تھي۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نهيں ليا۔ البته حضرت مسيح كو فوق البشر سمجھ كر انھيں پوجنے لگے۔ اسي طرح خدائي نشانياں هميشه مختلف شكلوں ميں ظاهر هوتي هيں۔ ان كو اگر نشاني سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصيحت ملتي هے۔ اور اگر انھيں نشاني كے بجائے كچھ اور سمجھ ليا جائے تو وه آدمي كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔ شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔

موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن…

…كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔ شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔

آج دنيا ميں بے شمار ايسے لوگ پائے جاتے هیں جو پچھلے پيغمبروں كا نام عزت كے ساتھ ليتے هيں۔ ايسي حالت ميں يه بات بڑي عجيب معلوم هوتي هے كه ان پيغمبروں كا (بشمول پيغمبر اسلام) ان كے هم زمانه لوگوں نے مذاق كيوں اڑايا۔ اس كي وجه يه نهيں هے كه پچھلے لوگ وحشي تھے اور آج كے لوگ مهذب هيں۔ يه صرف زمانه كا فرق هے۔ آج لمبي مدت گزرنے كے بعد هر پيغمبر كے ساتھ تاريخي عظمت كا زور شامل هوچكا هے۔ اس ليے آج هر ظاهربیں پيغمبر كو پهچان ليتاهے۔ مگر پيغمبر اپنے زمانه كے لوگوں كو صرف ايك عام انسان نظر آتا تھا۔ اس وقت پيغمبر كي پيغمبرانه حيثيت كو پهچاننے كے لیے حقيقت بيں نگاه دركار تھي۔ اور بلا شبه حقيقت بيں نگاه دنيا ميں هميشه سب سے كم پائي گئي هے۔ دعوت حق كے مخاطبين خواه كتنا هي زياده غلط رويه اختيار كريں، داعي يك طرفه طورپر صبر كرتے هوئے اپنے دعوتي عمل كو جاري ركھتا هے۔ تاآنكه وه وقت آجائے جب كه خدا اپني طرف سے كوئي فيصله فرمادے۔

موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔ شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔

موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن كر مخالفين نے كها كه عيسائي لوگ مسيح كو پوجتے هيں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاهر هے كه يه محض ايك شوشه تھا۔ كيوں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے جو بات فرمائي تھي وه عابد كي نسبت سے تھي نه كه معبود كي نسبت سے، اور اگر اس كو معبود كي نسبت سے مانا جائے تب بھي واضح طورپر اس سے مراد وه غير معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضي هوں۔ آدمي اگر بات كو اس كے صحيح رخ سے نه لے تو هر بات كو وه الٹے معني پهنا سكتا هے، خواه وه كتني هي درست بات كيوں نه هو۔ حضرت عيسي عليه السلام كي شخصيت ايك اعتبار سے فرشتوں كے مشابه تھي۔ اس پر آنجناب كو بهت سے لوگوں نے معبود بناليا۔مگر حضرت مسيح كي ملكوتي تخليق خدا كي قدرت كي مثال تھي نه كه خود حضرت مسيح كي ذاتي قدرت كي مثال۔ حقيقت يه هے كه الله كے لیے اس قسم كي تخليق كچھ بھي مشكل نهیں۔ وه چاهے تو زمين كي تمام آبادي كو فرشتوں كي آبادي بنا دے۔ پھر بھي يه فرشتے فرشتے هي رهيں گے، وه معبود نهيں هوجائیںگے۔ حضرت مسيح كو يه معجزه دياگيا كه وه مُرده كو زنده كرديتے تھے۔ مٹي كے پتلے ميں پھونك مار كر اسے جاندار بنا ديتے تھے۔ يه دراصل ايك خدائي نشاني تھي جو زندگي بعد موت كے امكان كو بتانے كے لیے ظاهر كي گئي تھي۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نهيں ليا۔ البته حضرت مسيح كو فوق البشر سمجھ كر انھيں پوجنے لگے۔ اسي طرح خدائي نشانياں هميشه مختلف شكلوں ميں ظاهر هوتي هيں۔ ان كو اگر نشاني سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصيحت ملتي هے۔ اور اگر انھيں نشاني كے بجائے كچھ اور سمجھ ليا جائے تو وه آدمي كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔ شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔

موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن…

…حق كا كام سراسر نصيحت كا كام هے۔ آخري مرحله ميں جب كه داعي پر يه واضح هوجائے كه لوگ كسي طرح ماننے والے نهيں هيں اس وقت بھي داعي لوگوں كے لیے خدا سے دعا كرتا هے۔ لوگوں كي ايذارساني پر صبر كرتے هوئے وه لوگوں كا خير خواه بنا رهتا هے۔

خدا كے ساتھ غير خدا كو شريك كرنے كي ايك صورت يه هے كه آدمي كسي كو خدا كا شريك ذات ٹھهرائے مثلاً فرشتوں كو خدا كي بيٹياں ماننا، حضرت مسيح كو خدا كا بيٹا بتانا، يا وحدت الوجود كا نظريه جو تمام چيزوں كو خدا كے اجزاء قرار دے كر كائنات كي تشريح كرتا هے۔ اس قسم كے تمام عقيدے محض بے بنياد مفروضے هيں۔ ان كے حق ميں كوئي بھي حقيقي دليل موجود نهيں۔ يهاں عورت كي صنفي خصوصيات كو دو جامع لفظ ميں بيان كردياگيا هے۔ ايك يه كه وه طبعاً آرائش پسند هوتي هے۔ دوسرے يه كه وه مقابله كے وقت پُرزور انداز ميں كلام نهيں كرپاتي۔ عورت كے اندر يه صنفي كمي ايك حقيقت هے اور اسي بنا پر اسلام ميں يه تقسيم كي گئي هے كه مرد بيروني كام كا ذمه دار هے اور عورت اندروني كام كي ذمه دار۔

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill original + quote

…ہیں ان کو زیر کرکے توحید کے عقیدہ کو غالب فکر کی حیثیت دے دی جائے۔ بقیہ تمام عقائد ہمیشہ کے لیے فکری طور پر مغلوب ہو کر رہ جائیں۔ قرآن میں یہ پیشین گوئی انتہائی ناموافق حالات میں 3 ھ میں نازل ہوئی تھی۔ مگر بعد کو وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات اس بات کا ثبوت تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ مگر یہود نے ان معجزات کو جادو کا کرشمہ کہہ کر ان کو نظر انداز کردیا۔ اس طرح قدیم آسمانی کتابوں میں واضح طور پر پیغمبر آخر الزماں کی پیشگی خبر موجود تھی۔ مگر جب آپ آئے تو یہود اور نصاریٰ دونوں نے آپ کا انکار کردیا۔ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ کھلی کھلی حقیقتوں کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ اس آیت میں غلبہ سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یعنی خدا اور مذہب کے بارے میں جتنے غیر موحدانہ عقائد دنیا میں ہیں ان کو زیر کرکے توحید کے عقیدہ کو غالب فکر کی حیثیت دے دی جائے۔ بقیہ تمام عقائد ہمیشہ کے لیے فکری طور پر مغلوب ہو کر رہ جائیں۔ قرآن میں یہ پیشین گوئی انتہائی ناموافق حالات میں 3 ھ میں نازل ہوئی تھی۔ مگر بعد کو وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات اس بات کا ثبوت تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ مگر یہود نے ان معجزات کو جادو کا کرشمہ کہہ کر ان کو نظر انداز کردیا۔ اس طرح قدیم آسمانی کتابوں میں واضح طور پر پیغمبر آخر الزماں کی پیشگی خبر موجود تھی۔ مگر جب…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill original + quote

…رعایت کرنے میں وہ اس حد تک جاتا ہے کہ حق کی رعایت کرنا بھول جاتا ہے، وہ بچے اپنی اس روش کے نتیجہ میں کل ایسے جہنمی کارندوں کے حوالے کیے جائیں گے جو مشینی انسان (Robot) کی طرح بے رحم ہوں گے اور ان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کریں گے۔

فرعون ایک کافر اور ظالم شخص تھا۔ مگر اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ایمان دار اور باعمل خاتون تھی۔ بیوی نے جب اپنے آپ کو صحیح روش پر قائم رکھا تو شوہر کی غلط روش اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکی۔ شوہر جہنم میں داخل کیا گیا اور بیوی کو جنت کے باغوں میں جگہ ملی۔ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَادر اصل کنایہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا۔ بچپن سے جوانی تک وہ پوری طرح بے داغ رہیں۔ چنانچہ اللہ نے ان کو معجزاتی پیغمبر کی پیدائش کے لیے چنا۔ بعض روایات کے مطابق جبریل فرشتہ نے ان کے گریبان میں پھونک ماری، جس سے استقرار حمل ہوا اور پھر حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے۔

تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔

تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو…

…صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔

تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔

تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو…

Auraq-e-Hikmat (p. 99) m1_backfill original + quote

15مئی1985

آخری زمانے میں حضرت مسیح کے نزول کے بارے میں جو روایات آئی ہیں ان میں بعض اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ابو داؤد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیںفَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يُتَوَفَّى(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4324)۔حضرت مسیح دنیا میں 40سال رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیںوَيَمْكُثُ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يَمُوتُ (المنتظم فی التاریخ،جلد2، صفحہ 39)۔ یعنی اور وہ دنیا میں 45سال رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی۔

بظاہر دونوں روایتوں میں فرق ہے۔ مگر یہ محض لفظی فرق ہے، نہ کہ حقیقی فرق۔ یہ ایک انداز کلام ہے جو ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ شارحینِ حدیث نے اس کی توجیہہ یہ کی ہے کہ 40 سال والی روایت میںاوپر کا عدد حذف کردیا گیاہے۔ عربی زبان میں اور دوسری…

Auraq-e-Hikmat (p. 146) m1_backfill original + quote

24 جولائی 1985

قرآن میں بہت سے پیغمبروں کا ذکر ہے۔ اس کا مقصد اہل ایمان کو ان کی زندگی سے سبق دینا ہے۔ مثلاًسلیمان علیہ السلام ایک اسرائیلی پیغمبر ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی کہ جنات کو ان کے لیے مسخر کردیا (الانبیاء، 21:81-82)۔ یہ چیز بعد کو یہود کے لیے فتنہ بن گئی۔ انھوںنے یہ سمجھا کہ حضرت سلیمان جو کچھ کرتے تھے، جادو اور عملیات کے زور پر کرتے تھے۔ چنانچہ یہود نے جادو اور عملیات میں مہارت حاصل کرنا شروع کردی۔ انھوںنے خدا کے دین کو جادو اور عملیات کا دین بنا کر رکھ دیا (البقرۃ، 2:102)۔

حضرت مسیح کا اصل کام دعوت تھا۔ دعوت کا تقاضا ہے کہ داعی یک طرفہ طورپر حسن اخلاق کا طریقہ اختیار کرے۔ چنانچہ حضرت مسیح نے اپنے پیروؤں کو رافت اوررحمت اور اعراض کی زبردست تاکید کی۔ بعد کو حضرت مسیح کے پیرو کار رافت ،رحمت اور اعراض کی دعوتی…

25 اکتوبر 1985

عہدِ وسطیٰ میں شہنشاہ اور پوپ کے درمیان جو جھگڑے ہوئے، ان میں ساری بحث اس پر تھی کہ حضرت عیسیٰ (یا خدا) نے دنیا کی حکومت پوپ کے سپرد کی ہے یا شہنشاہ کے، او راگر ان دونوں میںاختلاف ہو تو قوم کو کس کے حکم پر چلنا چاہیے۔

آج یہ بحث بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ کیوںکہ آج حکومت و سیاست کے معاملات میں نہ ’’مسیح“ کا دخل ہے اور نہ ’’پوپ‘‘کا۔ آج ان معاملات میں ساری حیثیت عوام کی مانی جاتی ہے یا عوام کے منتخب نمائندوں کی۔

…شدہ مذہب ہوتاہے۔ اس کے ساتھ مانے ہوئے بزرگوں کے نام وابستہ ہوتے ہیں۔ اس کے اوپر بڑے بڑے ادارے چل رہے ہوتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر ان کا پورا قومی ڈھانچہ کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس کو لمبی روایات کے نتیجہ میں عظمت کا سب سے اونچا مقام مل چکا ہوتا ہے۔

ان قوموں کے پاس ایک طرف ان کا یہ مسلمہ مذہب تھا جو شرک کی بنیاد پر قائم تھا۔ دوسری طرف پیغمبر ایک ایسی توحید کی آواز بلند کرتا جو وقت کے ماحول میں اجنبی ہوتی تھی۔ اس کا داعیِ حق ہوناایک ایسے دعويٰ کی حیثیت رکھتا تھا جس کی پشت پر ابھی تاریخ کی تصدیقات جمع نہیں ہوئی ہیں۔ اس کے پاس اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے لفظی دلیل کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس تقابل میں انہیں وقت کا پیغمبر واضح طور پر حقیر نظر آتا اور ان کا اپنا آبائی مذہب واضح طورپر عظیم۔ حضرت مسیح بے گھر تھے اور درخت کے نیچے سوتے تھے۔ دوسری طرف یہودیوں کا مذہبی سردار ہیکل کی عظیم عمارت میں جلوہ افروز تھا۔ پھر ہیکل کے صدر نشین کے مقابلہ میں درخت کے نیچے سونے والا لوگوں کو زیادہ بر سر حق کیسے نظر آتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قومیں اپنے معاصر پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بناتی رہیں۔ اس استہزاء پر جو چیز انہیں آمادہ کرتی وہ ان کا یہ احساس تھا کہ ہم تو مسلّمہ اکابر کا دامن تھامے ہوئے ہیں ، پھر ان کے مقابلہ میں اس معمولی آدمی کی کیا حیثیت۔ اکابر کی اس فہرست میں اگر چہ قدیم انبیاء تک ہوتے تھے۔ مگر ان انبیاء کی حیثیت عملاً ان کے یہاں ایک قسم کے قومی ہیرو کی تھی نہ کہ فی الواقع داعیِ حق کی۔

…ڈیڑھ ہزار برس پہلے قرآن اتارا گیا تھا— یہ واقعہ قرآن کے معجزاتی کتاب ہونے کا یقینی ثبوت ہے۔ کیونکہ قرآن کے سوا ساری انسانی تاریخ میں کوئی دوسری کتاب نہیں جس نے اپنی اصل زبان کو اس طرح بعد کے زمانوں میں باقی رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہو۔

مثال کے طور پر انجیل کو لیجیے جو قرآن کے بعد سب سے زیادہ قریب العہد مقدس کتاب ہے۔ اس کا حال یہ ہے کہ ابھی تک قطعیت کے ساتھ یہ بھی نہیں معلوم کہ حضرت مسیح کون سی زبان بولتے تھے۔ قیاساً یہ کہاجاتا ہے کہ ان کی زبان غالباً آرامی تھی۔تاہم انجیل کی شکل میں آپ کی تعلیمات کا جو با لواسطہ ریکار ڈ آج ہمارے پاس ہے اس کا قدیم ترین نسخہ یونانی زبان میں پایا جاتا ہے۔ گویا حضرت مسیح کے خیالات صرف ترجمہ شدہ حالت میں ہمارے پاس موجود ہیں پھر یہ یونانی زبان بھی قدیم وجدید یونانی سے بالکل مختلف ہے حتیٰ کہ انیسویں صدی کے آخر تک نئے عہد نامہ میںکم ازکم 550الفاظ(کل متن کا 12فی صد) ایسے تھے جن کے معانی معلوم نہ تھے۔ انیسویں صدی میں ایک جرمن عالم اڈولف ڈیزمن (Adolf Deissmann) نے مصر میں بعض قدیم تحریریں پائیں۔ ان کے مطالعہ کے بعد اس نے قیاس کیا کہ ’’ببلیکل گریک ‘‘ دراصل قدیم یونانی زبان کی غیر علمی بولی تھی جو پہلی صدی عیسوی میں فلسطین کے عوام میں رائج تھی۔ اس نے مذکورہ نا معلوم الفاظ کے کچھ معانی متعین کیے۔ تاہم اب بھی یو نانی انجیل میں 50الفاظ (کل متن کا ایک فی صد) ایسے ہیں جن کے معانی ابھی تک نا معلوم ہیں۔

Xavier Leon-Dufour S.J. The Gospels and the Jesus of History Desclee Co.Inc. New York 1970, pp. 79-80

Paiqhambar-e-Inqilab (p. 289) m1_backfill unverified

اختلاف سے بچ کر اصل نشانہ پر لگے رہنا

عَن المسور قَالخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلنَّاسِ كَافَّةً، فَأَدُّوا عَنِّي يَرْحَمْكُمُ اللهُ، وَلَا تَخْتَلِفُوا كَمَا اخْتَلَفَ الْحَوَارِيُّونَ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ دَعَاهُمْ إِلَى مِثْلِ مَا أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ، فَأَمَّا مَنْ قَرُبَ مَكَانُهُ فَإِنَّهُ أَجَابَ وَأَسْلَمَ، وَأَمَّا مَنْ بَعُدَ مَكَانُهُ فَكَرِهَهُ، فَشَكَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ذَلِك إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ...فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ نُؤَدِّي عَنْك، فابْعَثْنَا حَيْثُ شِئْتَ(المعجم الكبير للطبراني، جلد 20، صفحه 8)۔ مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے سامنے تقریر کی اور فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو تمام انسانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میری طرف سے اس ذمہ داری کو ادا کرو۔ خدا تم پر رحم کرے اور تم لوگ اختلاف نہ کرنا جس طرح عیسیٰ بن مریم کے حواریوں نے اختلاف کیا۔ انہوں نے اپنے حواریوں کو اسی چیز کے لیے پکارا جس کی طرف میں تم کو پکارہا ہوں۔ پس جس کا مقام دور تھا اس کو وہاں جانا ناگوار ہوا۔ تو عیسٰی بن مریم نے اللہ تعالیٰ سے اس کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول ہم آپ کی ذمہ داری کو اداکریں گے۔آپ ہم کو بھیجیے جہاں آپ چاہیں۔

اجتماعی کام میں رکاوٹ ڈالنے والی سب سے بڑی چیز اختلاف ہے۔ مگر صحابہ کرام کو اللہ کے خوف نے اتنا بے نفس بنا دیا تھا کہ وہ اختلافات سے بلند ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لگے رہتے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ کے زمانے میں انہوں نےعرب میں…

Izhar-e-Deen (p. 223) m1_backfill original + quote

…اول میں مدینہ میںیہ اعلان کیا کہ میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ یہ بات حیرت انگیز طورپر تاریخ کا ایک واقعہ بن گئی۔ یہ استثنا بلا شبہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول تھے اور اِسی کے ساتھ نبیوں کے خاتِم بھی۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اعلان قرآن میںبار بار کیاگیا ہے۔ مثلاً فرمایا مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ (33:40)۔ یعنی، محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔ اِس آیت کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر بھی تھے اور خدا کے آخری پیغمبر بھی۔ اِسی طرح خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کیا کہ أَنا النَّبِيُّ لَا أَكْذِبُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2864؛ صحیح مسلم حدیث نمبر 1776)۔ یعنی، میںنبی ہوں، اِس میںکوئی شک نہیں۔ اِسی طرح آپ نے فرمایا أَنا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3535؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2286؛ سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4252؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 2366؛ مسند احمد، حدیث نمبر 9167)۔ یعنی ، میںآخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔

دعوائے نبوت نہیں

A: No, I don’t make any such claim.

اِس گفتگو میںمیںنے ڈائریکٹ طورپر ان سے پوچھا کہ کیا آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ انھوںنے صاف طورپر کہا کہ نہیں، میںایسا دعویٰ نہیںکرتا۔ جب انھوں نے اِس طرح کہہ دیا تو اُس کے بعد میرا سوال و جواب ختم ہوگیا۔ اُس کے بعد میں خاموشی کے ساتھ بیٹھ کر اُن کی باتیں سنتا رہا اور پھر چلا آیا۔ اِس سفر میں شانتی گری آشرم میں میں نے دو دن قیام کیا۔

کیا وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پوری تاریخ میں کوئی ایسا شخص نہیں اٹھا جو اپنی زبان سے یہ دعویٰ کرے کہ میںخدا کا پیغمبر ہوں۔ اِس پرغور کرتے ہوئے میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ ایسا کلام اتنا زیادہ غیر معمولی ہے کہ…

…کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ماضی کے برعکس، حکومت کا دائرہ سمٹ کر اب صرف انتظامیہ (administration) تک محدود ہوگیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک عظیم تبدیلی ہے، مگر اِس تبدیلی کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے کیا تھا۔

اِس تبدیلی نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر خالص پُرامن طریقِ کار کے ذریعے بہت بڑے بڑے کام کیے جاسکیں۔ باشعور قوموں نے اِس امکان سے فائدہ اٹھا کر عملاً ایسا کررکھا ہے۔ چنانچہ اِن لوگوں نے حکومت سے باہر رہتے ہوئے اور حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر انتہائی اعلیٰ پیمانے پر اپنا میڈیا ایمپائر اور ایجوکیشنل ایمپائر اور انڈسٹریل ایمپائر اور مشنری ایمپائر بنالیا ہے ۔ مگر جہاں تک اِس امکان کی دریافت کا تعلق ہے، وہ پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی رہنمائی کے تحت حاصل ہوئی۔ اِس استثنائی معرفت کی اِس کے سوا کوئی اور توجیہ نہیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔

ایک غلط فہمی

Izhar-e-Deen (p. 543) m1_backfill original + quote

…هونے كى حيثيت كو كسى خلل كے بغير مسلسل طور پر برقرار ركھے۔ اِس كا مقصد زمين پر اجتماعى معنوں ميں كوئى صالح نظام قائم كرنا نهيں هے، بلكه اِس كا مقصد يه هے كه جو شخص اپنى انفرادى تعمير كرنا چاهے، وه كسى خلل كے بغير اپنى شخصى تعمير كرتا رهے۔

الله كى اِس سنت كو قرآن ميں اِس طرح بيان كيا گيا هے وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ (2:251)۔ يعنى، اگر الله بعض لوگوں كو بعض لوگوں سے دفع نه كرتا تو زمين فساد سے بھر جائے، مگر الله دنيا والوں پر بڑا فضل كرنے والا هے

And if God did not check one set of people by means of another, the earth would indeed be full of mischief. But God is full of bounty to all worlds.

…بعد مسيحى قوموں ميں منفى ردّعمل (negative reaction) كا جذبه پيدا نهيں هوا، بلكه انھوں نے يه كيا كه اپنے جذبے كو پُرامن عمل كى طرف ڈائـورٹ(divert) كرديا، يعنى مسلمانوں سے مسلح مقابله ختم كركے علم وتحقيق كے ميدان ميں اپنى كوششوں كو صرف كرنا۔

ڈائـورژن(diversion)كے اِس عمل كو ابتدائى زمانے ميں، اسپريچول كروسيڈ (spiritual crusades) كهاگيا تھا۔ بعد كو وه رفته رفته سائنٹفك كروسيڈ (scientific crusades) ميں تبديل هوگيا۔ اِس عمل ميں اُس وقت چرچ ركاوٹ بن گيا تو انھوں نے سخت جدوجهد كے بعد چرچ كے اختيارات پر حد بندى قائم كردي، پھر 1929 ميں چرچ كو ويٹكن (روم) كے محدود رقبے ميں گويا هاؤس اريسٹ (house arrest) كرديا جس كا كُل رقبه صرف 109 مربع ايكڑ هے۔

اِس دور ميں يورپ كے جن لوگوں نے سائنٹفك كروسيڈ (scientific crusades) يا سائنسى ريسرچ كے ميدان ميں كام كيا، وه تقريباً سب كے سب مسيحى افراد تھے۔ اِس سائنسى عمل ميں بريك تھرو (breakthrough) اُس وقت آيا، جب كه 1609 ميں اٹلى كے فلكياتى عالِم…

قرآن کی سورۃ ابراہیم میں پیغمبروں کے بارے میں بتایا گیا ہے وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:4)۔یعنی ،خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھی آیا، وہ اپنی مخاطب قوم کی زبان میں کلام کرتا تھا۔

قرآن کی اِس آیت میں ’لسان‘ سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، بلکہ اُس میں کلام کا اسلوب (idiom) بھی شامل ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی زبان میں کلام کیا۔ یہ آپ کے لیے قوم کی زبان (لسانِ قوم) میں بولنا تھا۔ حضرت ابراہیم نے زمین اور آسمان کے ملکوت (6:75) سے استدلال کرتے ہوئے مدعو کے سامنے اپنے بات پیش کی۔ اور حضرت مسیح نے تمثیل (metaphor) کے انداز میں اپنی بات کہی۔ یہ دونوں اسلوب کی مثالیں ہیں، جو اپنے زمانے کے لحاظ سے استعمال کی گئیں۔

موجودہ زمانے میں دعوتی کلام وہ ہے جو وقت کی زبان میں ہو۔ وقت کی زبان کا ایک مطلب داعی کے اپنے علاقے کی زبان ہے۔ پھر یہ کہ موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ اِس لحاظ سے ضروری ہے کہ داعی آج کی انٹرنیشنل زبان میں کلام کرے۔ اور جیسا کہ…

مُردوں کو زندہ کیا، زندوں کو مرنے نہ دیا اس مسیحائی کو دیکھیں ذرا ابن مریم

یہودی بحیثیت قوم حضرت مسیح کو نعوذباللہ ولدالزنا کہتے ہیں، اس لیے وہ سب کے سب واجب القتل ہیں۔ عیسائی بحیثیت قوم پیغمبر اسلام کو نعوذباللہ بناوٹی پیغمبر (false prophet)کہتے ہیں، اس لیے وہ بھی سب کے سب واجب القتل ہو ئے۔ آج کل کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ، جن میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں، وحی کو کوئی حقیقی چیز نہیں سمجھتا۔ اس کا عام خیال یہ ہے کہ پیغمبروں نے لوگوں کو نعوذباللہ، بے وقوف بنانے کے لیے یہ کہہ دیا کہ ان پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہے۔ انھوں نے ایسے کلام کو خدا کا کلام بتا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔

اسی طرح دنیا کی موجودہ آبادی کا بیشتر حصہ کسی نہ کسی اعتبار سے اس جرم کا مرتکب ہو رہا ہے جس کو شتم رسول کہا جاتا ہے۔ پھر کیا یہ پُر جوش مسلمان ان تمام لوگوں کو ایک طرف سے بطورِ حد قتل نہ کرنے کی صورت میں خدا کے یہاں ناقابل معافی مجرم نہ…

…أَحَدُهُمَا يَرَى الْقَتْلَ حَدًّا فَلَا تُقْبَلُ التَّوْبَةُ. وَالثَّانِي يَرَى أَنَّهُ مُرْتَدٌّ يُقْتَلُ لِلرِّدَّةِ فَتُقْبَلُ تَوْبَتُهُ. مَن تَكَرَّرَتْ رِدَّتُهُ فَلَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ‘‘ (التشریع الجنائی،جلد2، صفحہ726-27)۔

حکم کی اس عمومی نوعیت کے اعتبار سے دیکھیے تو انسانی آبادی میں شاذو نادر ہی کچھ ایسے خوش قسمت افراد ملیں گے جو اس حکم کی زد میں نہ آتے ہوں۔ انسانوں کی بہت بڑی ا کثريت کسی نہ کسی اعتبار سے اس حکم عام کی گرفت میں آجائے گی۔ حتی کہ یہ فہرست اتنی لمبی ہو سکتی ہے کہ سب کے سب انسان قابل قتل قرار پائیں، اور پھر یہ حکم عملی طور پر کالعدم ہو جائے، کیونکہ جب سارے افراد قابل ِ قتل ہوں تو وہ کون ہوگا جو ان لوگوں کے خلاف اٹھے۔ اور کون ہوگا جو انھیں قتل کر کے ان کا خاتمہ کرے۔

فقہاء نے ایک طرف شتم بطور حد(لازمی طور پر)قتل قرار دی ہے۔ اور دوسری طرف شتم کی ایسی تعریف کی ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی اعتبار سے شاتم قرار پاتا ہے۔

Tameer-e-Shakhsiyat (p. 243) m1_backfill original + quote

صبر کی طاقت

حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کے درمیانی زمانہ میں بنی اسرائیل کے یہاں جنگ کا ایک واقعہ ہوا۔ اس وقت بنی اسرائیل کے جوانوں کی تعداد کم تھی اور دشمن کی فوج تعداد اور اسباب میں بہت زیادہ تھی۔ اس فرق کو دیکھ کر بنی اسرائیل کے لوگ ڈر گئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں(البقرہ،2:249)۔

بائبل کے بیان کے مطابق،اس وقت بنی اسرائیل کے سردار(یونتن)نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آ،ہم اُدھر ان نامختونوں کی چوکی کو چلیں۔ ممکن ہے کہ خداوند ہمارا کام بنا دے۔ کیوں کہ خداوند کے لیے بہتوں یا تھوڑوں کے ذریعہ سے بچانے کی قید نہیں(1۔…

…تھی، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ فردوسی اپنے شاہنامہ میں ان کے بارے میں لکھتا ہے کہ اے آسمان تجھ پر افسوس ہے کہ اونٹ کا دودھ پینے والے اور گوہ کا گوشت کھانے والے عربوں کا معاملہ اب یہاں تک پہنچا ہے کہ وہ ایرانی تخت کی آرزو کر رہے ہیں

زشیر شتر خورن و سوسمار عرب رابجائے رسید است کار

کہ تخت کیاں راکنند آرزو تفوبر تو اے چرخ گرداں تفو

…کتاب کو یکساں درجہ میں آسمانی کتاب فرض کر لیا تھا۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ قرآن محفوظ آسمانی کتاب تھی اور دوسری تمام کتابیں غیر محفوظ آسانی کتاب، قرآن پوری طرح غیر محرف تھا، جب کہ دوسری تمام مذہبی کتابیں تحریف کا شکار ہو چکی تھیں۔

موجودہ زمانہ میں جب کھلی آزادی کا دور آیا تو ہر چیز کی بے روک ٹوک جانچ ہونے لگی۔ حتیٰ کہ مقدس مذہبی کتابیں بھی اس کی زد میں آگئیں۔ یہ عمل پچھلے تقریباً تین سو سال سے اہل علم کے درمیان جاری ہے۔ حتیٰ کہ یہ ایک مستقل فن بن گیا ہے جس کو ہائر کریٹیسزم، ہسٹاریکل کریٹیسزم، تنقید متن (textual criticism) وغیرہ کہا جاتا ہے۔

اس آزادانہ جانچ کا یہ عظیم فائدہ ہوا کہ قرآن اور دوسری مقدس کتابوں کا فرق خالص علمی اور تاریخی اعتبار سے ثابت ہو کر سامنے آگیا۔ ان ناقدین نے جس طرح دوسری مقدس کتابوں کی جانچ کی۔ اسی طرح انہوں نے قرآن کی بھی بے رحمانہ جانچ کی۔ مگر آخر…

Amne Alam (p. 129) m1_backfill original + quote

اسلام اور دہشت گردی

اگر کوئی شخص کرشچین ٹیررزم کا ٹرم استعمال کرے تو کہنے والا کہے گا کہ تم متضاد ترکیب (contradictory term) استعمال کررہے ہو ۔ کرشچین کا کوئی تعلق ٹیررزم سے نہیں ہے۔ چنانچہ مسیح نے کہا ہے کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو(Love your enemy) ۔کرشچینٹی کی تعلیمات لَو(Love) پر مبنی ہیں۔ ایسی حالت میں کرشچین ٹیررزم کے کوئی معنٰی نہیں۔ مگریہ آدھی سچائی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مسیح نے کہا کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو، مگر اسی کے ساتھ نیو ٹسٹمنٹ کی روایت کے مطابق، مسیح نے یہ بھی کہا کہ یہ نہ سمجھو کہ میں صلح کروانے آیا ہوں بلکہ میں جنگ کروانے آیا ہوں

Do not think that I came to bring peace on earth. I did not come to bring peace but a sword. (10:34)

داعی کون

داعی پیغمبر نہیں ہوتا مگر وہ خدا کا پیغام دینے والا ہوتا ہے۔اس کو وہ بات کہنی پڑتی ہے۔جو خداکی بات ہے۔اس کو وہ حق پیش کرنا ہوتا ہے جس میں غیر حق کی کوئی ملاوٹ شامل نہ ہو۔دعوت خدا کے بندوں کے سامنے خدا کی نمائندگی ہے اورخدا کی نمائندگی کبھی مصلحت اورملاوٹ کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔

داعی وہ شخص بنتا ہے جس کے اوپر قرآن کے معانی اس طرح کھلیں جیسے کہ قرآن اس کے اوپر ازسرنو اتررہا ہے۔داعی وہ شخص ہے جس کے لیے کائنات جبریل امین کی قائم مقام بن جائے۔وہ خدا کی دنیا میں اسی طرح خدا کا پیغام اخذ کرنے لگے جس طرح ریڈیو سٹ…

…ہیں۔ہم مسائل موت کے لیے اٹھے ہیں۔کیاکوئی ہے جو اس مشن میں ہمارا ساتھ دے۔ لوگوں کو جنگ اورفساد کے شعلے دکھائی دیتے ہیں۔کیا کوئی ہے جس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے دکھائی دیتے ہوںتاکہ وہ ہماراساتھ دے کر دنیا والوں کو جہنم کے شعلوں سے ڈرائے۔

لوگوں کو شہروں کی رونقیں دکھائی دیتی ہیں۔ہم ان انسانوں کی تلاش میںنکلے ہیں جن کو قبرستان کے ویرانے دکھائی دیں۔ایسے انسانوں سے دنیا پٹی ،ہوئی ہے جن کو یہ محرومی بیتاب کیے ہوئے ہے کہ ان کو کسی ادارہ میں داخلہ نہیں ملا۔ہم کو وہ انسان درکار ہیں جن کو یہ غم بدحواس کردے کہ کہیں وہ جنت کے داخلہ سے محروم نہ ہو جائیں۔ لوگ دنیا کی بربادی کا ماتم کررہے ہیں۔ہم ان انسانوں کو ڈھونڈرہے ہیں۔جو آخرت کی بربادی کے اندیشے میں دیوانے ہوچکے ہوں۔

خداکی دنیا میں آج سب کچھ ہورہا ہے۔مگروہی ایک کام نہیں ہورہا ہے جو خداکو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔یعنی آنے والے ہولناک دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔اگر انسان اس پکار کے لیے نہ اٹھیں تو اسرافیل کا صوراسے اٹھائے گا۔مگر آہ،وہ وقت جاگنے کا نہیں…

Deen-e-Insaniayat (p. 11) m1_backfill Qur'an

تواصی بالحق

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں خسران اور گھاٹے سے صرف وہ لوگ محفوظ رہتے ہیں جو تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا کام کریں (103:1-3) اسی طرح قرآن میں خیرامت یا بہتر گروہ کی خاص صفت یہ بتائی گئی ہے کہ ان کے درمیان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم ہو (3:110)۔

یہ تواصی بالحق یا امر بالمعروف کیا ہے، وہ حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ کوئی آدمی جب کوئی نادرست بات دیکھے تو وہ اس کو درست کرنے کی کوشش کرے۔ طاقت ہو تو ہاتھ سے اور طاقت نہ ہو تو زبان سے۔ تواصی بالحق اسی عمل کا ابتدائی درجہ ہے، اور امر…

…ایمان کے سبب سے راست باز ٹھہرتا ہے۔‘‘ (نیا عہدنامہ، اعمال،باب3) ایسی حالت میں کوئی شخص آخر کس لیے عمل کے جھنجھٹ میں پڑے گا۔ کفارہ عقیدہ تسلیم کرنے کے بعد وہ کون سا محرک ہے جو آدمی کو نیکی کے لیے ابھارے اور برائی سے روکنے پر مجبور کرے۔

انجیل کا یہ تضاد ہمارے نزدیک سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی اصل تعلیم کا تضاد نہیں ہے۔ مگر آج عیسائیت کے نام سے جو چیز موجود ہے وہ قطعی طور پر یہی ہے۔ آں جناب نے تو مذہب کو اس کی صحیح ترین شکل میں پیش کیا تھا۔ مگر آپ کے ماننے والے آپ کی تعلیمات کو محفوظ نہ رکھ سکے۔ دوسروں کی تشریح و تعبیر میں شامل ہو کر اصل حقیقت گم ہوگئی۔ انجیل کو دیکھیے تو ایک طرف اس میں بہترین موثر انداز میں آخرت کا ذکر اور اعلیٰ اخلاقیات کی تعلیم ملے گی۔ جس کو پڑھ کر آدمی کی روح بیدار ہوتی ہے اور اس کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے مگر اس کے بعد جب وہ اگلے صفحات میں سینٹ پال کا فلسفہ پڑھتا ہے تو اس کو یہ تمام چیزیں بےضرورت معلوم ہونے لگتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کفارہ کے عقیدے نے عیسائی مذہب میں عمل کی بنیاد کو اسی طرح کمزور کر دیا ہے جیسے کسی ملک کے دستور میں یہ لکھ دیا جائے کہ اگرچہ یہاں پولیس اور عدالت کا نظام قائم رہے گا مگر کسی کو اس کی غلط روی پر سزا نہیں دی جائے گی۔ کیونکہ آدمی پاک باز رہنے پر قادر نہیں ہے۔

ہندو مذہب کا معاملہ بھی تقریباً یہی ہے۔ بظاہر وہ صرف اخلاقی اپیل نہیں کرتا بلکہ سزا اور انعام کا بھی ایک نظریہ اپنے پاس رکھتا ہے، جس کو’’کرم‘‘ کہتے ہیں، یعنی اپنے کیےکا پھل پانا۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ نظریہ بھی اپنی ابتدائی شکل میں ایک صحیح…

یہ تضاد کیوں

کلیسا نے کیوں سترھویں صدی عیسوی میں گلیلیو کا انکار کیا تھا اور بیسویں صدی میں کیوں اس نے گلیلیو کا اقرار کر لیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سترہویں صدی عیسوی میں گلیلیو کی شخصیت ایک متنازعہ (controversial)شخصیت تھی۔ جب کہ بیسویں صدی عیسوی میں وہ ایک تسلیم شدہ (established) شخصیت بن چکی ہے۔

ٹھیک یہی معاملہ کلیسا کاایک اور شخصیت کے ساتھ پیش آیا۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہے۔ مسیحی کلیسا نے ساتویں صدی عیسوی میں حضرت محمد کا انکار کیا۔ اس انکار کی وجہ یہ تھی کہ ساتویں صدی میں حضرت محمد کی شخصیت ایک متنازعہ شخصیت…

Al-Risala January 2010 m1_backfill original + quote

…وہ تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ بظاہر ایسامحسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ مغرب کو ایک اہم کام کا ذریعہ بنایا، وہ ہے— موجودہ دنیا میں جنت کا تعارف جس کا ذکر قرآن میںاِن الفاظ میں کیاگیا ہے ویُدخِلہم الجنۃ عرّفہا لہم (محمد 6 )۔

پُر رونق مغربی تہذیب کے ظہور سے پہلے جنت زیادہ تر ایک اعتقادی چیز تھی۔ اب وہ ایک متعارف چیز بن چکی ہے۔ یہ کام بلاشبہہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ مغرب سے لیا ہے۔ مثال کے طورپر قدیم زمانے میںکہا جاتا تھا کہ السفر کالسقر (سفر جہنم کے مانندہے) جب کہ آج کا مسافر، حدیث کے الفاظ میں، کالملوک علی الأسرّہ (تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کے مانند) ہوتاہے۔

جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ جنتیں دو ہیں (الرحمن 46 )۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر جنت کی دو کیٹگری (category) ہے۔ ایک، وہ جس کو قرآن میں خدا کا پڑوس (التحریم11 ) کہاگیا ہے۔ جنت کے اِس درجے کو ’’عند اللہ…

Al-Risala June 2010 m1_backfill original + quote

تراہم رکعاً سجداً

اصحابِ رسول کی چوتھی صفت کو ’’تراہم رکعاً سجداً‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحابِ رسول کامل طورپر اللہ کے آگے جھکے ہوئے تھے، ان کے اندر کامل درجے میں خود سپردگی کا مزاج پیدا ہوگیا تھا، اللہ کی کبریائی کی معرفت ان کو اتنے بڑے درجے میں حاصل ہوئی تھی، جب کہ انسان شعوری طورپر اللہ کی قدرتِ کاملہ کا ادراک کرلیتا ہے اور اس کے اندر اپنے عاجزِ مطلق ہونے کا شعور اِس طرح پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ اللہ کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے دل ودماغ میں اللہ کی بڑائی کے سوا کوئی اور بڑائی باقی نہیں رہتی، اس کا واحدکنسرن (sole concern) اللہ وحدہ لاشریک بن جاتا ہے۔ یہی توحید ِ کامل ہے، اور اصحابِ رسول اِس توحید ِ کامل میں آخری درجے پر پہنچے ہوئے تھے۔

یبتغون فضلاً من اللّٰہ ورضواناً

Al-Risala April 2011 m1_backfill original + quote

…پھر وہ اور موٹا ہوا، پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہوگیا۔ وہ زارعین کو بھلا معلوم ہوتا ہے، تاکہ وہ ان سے منکروں کو جلائے۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی کا اور ایک بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے‘‘۔ (48: 29) ۔

قرآن کے اِس حصے میں دو حوالوں کا ذکر ہے، تورات اور انجیل۔ تورات کے حوالے سے اصحاب رسول کا وہ انفرادی کردار بیان ہوا ہے جس کا اظہار دورِ اول میں خود زمانہ رسالت میں پیش آیا۔ انھوں نے خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پیغمبر اسلام کو پہچانا اور کسی تحفظ (reservation) کے بغیر آپ کا ساتھ دیا۔ وہ اعلیٰ درجے کے بااصول افراد تھے۔ وہ کامل معنوں میں عبادت گزار تھے۔ وہ اللہ پر اعتماد کرنے والے تھے۔ موجودہ تورات میں ان کے لیے قدسیوں (saints) کا لفظ آیا ہے (Deuteronomy 33:2) ۔

انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے اصحابِ رسول کا جو ذکر آیا ہے، وہ درخت کی تمثیل کے روپ میں ہے(Mathew 13:31-32) ۔ درخت کی تمثیل سے مراد تاریخی عمل (historical process) ہے۔ اصحابِ رسول کا ایک رول وہ ہے جو انھوں نے اپنے زمانے میں ادا کیا۔ ان…

Al-Risala October 2011 m1_backfill original + quote

رسول اور خاتم الانبیا

قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف نبی تھے، بلکہ وہ خاتم الانبیاء بھی تھے، یعنی آپ کے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ آپ کے بارے میں خاتم الانبیا ہونے کا یہ اعلان صرف ایک اعلان نہیں، وہ آپ کے پیغمبر ِ خدا ہونے پر ایک تاریخی دلیل بھی ہے۔ آپ نے ساتویں صدی کے رُبعِ اول میں یہ اعلان کیا کہ میں خاتم الانبیا ہوں۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک کوئی شخص نبی کا دعوے دار بن کر نہیں اٹھا۔ گویا کہ آپ کے الفاظ تاریخ کا ایک فیصلہ بن گیے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اپنے بعد آنے والی تاریخ کے بارے میں ایک بیان دے اور اس کا یہ بیان اس کے بعد تاریخ کا ایک واقعہ بن جائے۔ مثلاً کارل مارکس (وفات 1883 ) نے اپنے تجزیے کی بنیاد پر…

ہندوگروؤں کی مثال

موجودہ زمانے میں ہندوؤں میںکچھ ایسے افراد پیدا ہوئے جن کے متعلق کہا گیا کہ وہ وقت کے پیغمبر ہیں، مگر یہ بات بھی خلاف واقعہ ہے۔ مثلاً دہلی کے نرنکاری بابا گُربچن سنگھ (وفات 1980 ) کے بارے میں ایک پمفلٹ مجھے ملا، جس میں نرنکاری بابا کو وقت کا پیغمبر (prophet of the time) لکھاگیا تھا۔ میںاُن سے ان کے دہلی کے آشرم میں ملا، میں نے ان کی تقریر سنی اور ان سے گفتگو کی۔ لیکن معلوم ہوا کہ نرنکاری بابا کے کچھ معتقدین ان کے بارے میں ایسا کہتے ہیں۔ لیکن خود نرنکاری بابا نے اپنی زبان سے یہ دعویٰ نہیںکیا کہ — میں خدا کا پیغمبر ہوں۔

اِسی طرح کیرلا (تری وندرم) میںایک مشہور ہندو گرو تھے۔ اُن کا نام برہما شری کروناکرا (وفات 1999) تھا۔ تری وندرم میںان کا ایک بڑا آشرم تھا، جس کا نام ’شانتی گری آشرم‘ ہے۔ اُن کے مشن کے کچھ لوگ مجھ سے دہلی میں ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے…

…کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ماضی کے برعکس، حکومت کا دائرہ سمٹ کر اب صرف انتظامیہ (administration) تک محدود ہوگیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک عظیم تبدیلی ہے، مگر اِس تبدیلی کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے کیا تھا۔

اِس تبدیلی نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر خالص پُرامن طریقِ کار کے ذریعے بہت بڑے بڑے کام کیے جاسکیں۔ باشعور قوموں نے اِس امکان سے فائدہ اٹھا کر عملاً ایسا کررکھا ہے۔ چناں چہ اِن لوگوں نے حکومت سے باہر رہتے ہوئے اور حکومت سے ٹکراؤ کیے بغیر انتہائی اعلیٰ پیمانے پر اپنا میڈیا ایمپائر اور ایجوکیشنل ایمپائر اور انڈسٹریل ایمپائر اور مشنری ایمپائر بنالیا ہے ۔ مگر جہاں تک اِس امکان کی دریافت کا تعلق ہے، وہ پہلی بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی رہنمائی کے تحت حاصل ہوئی۔ اِس استثنائی معرفت کی اِس کے سوا کوئی اور توجیہہ نہیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔

ایک غلط فہمی

Al-Risala November 2011 m1_backfill original + quote

قرآن کی سورہ ابراہیم میں پیغمبروں کے بارے میں بتایا گیا ہے وما أرسلنا مِن رسول إلاّ بلسانہ قومہ (14: 4)یعنی خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھی آیا، وہ اپنی مخاطب قوم کی زبان میں کلام کرتا تھا۔

قرآن کی اِس آیت میں ’لسان‘ سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، بلکہ اُس میں کلام کا اسلوب (idiom) بھی شامل ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی زبان میں کلام کیا۔ یہ آپ کے لیے قوم کی زبان (لسانِ قوم) میں بولنا تھا۔ حضرت ابراہیم نے زمین اور آسمان کے ملکوت (6: 76)سے استدلال کرتے ہوئے مدعو کے سامنے اپنے بات پیش کی۔ اور حضرت مسیح نے تمثیل (metaphor) کے انداز میں اپنی بات کہی۔ یہ دونوں اسلوب کی مثالیں ہیں، جو اپنے زمانے کے لحاظ سے استعمال کی گئیں۔

موجودہ زمانے میں دعوتی کلام وہ ہے جو وقت کی زبان میں ہو۔ وقت کی زبان کا ایک مطلب داعی کے اپنے علاقے کی زبان ہے۔ پھر یہ کہ موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ اِس لحاظ سے ضروری ہے کہ داعی آج کی انٹرنیشنل زبان میں کلام کرے۔ اور جیسا کہ…

Al-Risala November-December 2022 m1_backfill unverified

26

عباده بن الصامت رضي الله عنه كهتے هيں كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا جو شخص گواهي دے كه الله كے سوا كوئي اله نهيں اور يه كه محمد اس كے بنده اور اس كے رسول هيں۔ اور يه كه عيسي الله كے بندے اور اس كے رسول هيں اور وه اس كي بندي كے بيٹے هيں اور وه اس كا كلمه هے جو اس نے مريم كي طرف القاء كيا۔ اور وه اس كي طرف سے روح هيں اور يه كه جنت اور جهنم حق هے۔ الله ايسے آدمي كو جنت ميں داخل كرے گا، اس عمل كے مطابق جس پر وه تھا (متفق عليه صحیح البخاری، حدیث نمبر 3435، صحیح مسلم، حدیث نمبر28)۔

ايمان دراصل معرفت كا نام هے۔ يعني آدمي كو خدائي حقيقتوں كی شعوري دريافت حاصل هو۔ اور پھر وه اس كو بھر پور طور پر اپني زندگي ميں شامل كرلے۔ ايسے هي انسان كو آخرت كي ابدي جنتوں ميں داخلہ ملے گا۔

Diary 2015 m1_backfill

اما م شافعی کا ایک قول ہے۔

My opinim is right with the provability that it may be wrong , others opinion is wrong with the probability that it may be right.

8 Sunday, February

THERE is a verse in the second chapter of the Quran that says, “We have made you a middle nation so that you may be as witnesses against mankind, and the Messenger may be a witness against you.” (THE QURAN 2: 143)

The word witness (shaheed) in this verse refers to the role of Muslims as dayee’s. By saying that the Messenger will be a witness against us, it signifies that the Messenger is the witness that the divine religion was given to us, and that we will have to bear witness that we communicated the same divine religion to the rest of humanity. It follows that it is now our duty to communicate God’s message to every person of every generation in every age.

It was the responsibility of the followers of the Prophet to pass on the message they had received from the Prophet to others. The same responsibility was given to the ancient peoples of the Book — the historical people of Moses, and those…

…Muhammad was born in the 6th century CE. In other words, there is perhaps a gap of some 2000 years between the two. Several statements attributed to Moses are found in the Bible. The Bible says that once Moses addressed his people, saying:

The Lord your God will raise up for you a prophet like me from among you, from your brothers—it is to him you shall listen— just as you desired of the Lord your God at Horeb on the day of the assembly, when you said, ‘Let me not hear again the voice of the Lord my God or see this great fire any more, lest I die.’ And the Lord said to me, ‘They are right in what they have spoken. I will raise up for them a prophet like you from among their brothers. And I will put my words in his mouth, and he shall speak to them all that I command him. And whoever will not listen to my words that he shall speak in my name, I myself will require it of him. But the prophet who presumes to speak a word in my name that I have not commanded him to speak, or who speaks in the name of other gods, that same prophet shall die.’ And if you say in your heart, ‘How may we know the word that the Lord has not spoken?’— when a prophet speaks in the name of the Lord, if the word does not come to pass or come true, that is a word that the Lord has not spoken; the prophet has spoken it presumptuously. You need not be afraid of him. THE BIBLE Deuteronomy 18: 15-22

These words of Moses are clearly a prediction. Here, he predicts that after him, a prophet like him would appear. The entire history after the Prophet Moses indicates that there was only one prophet like him —and that was Muhammad Ibn…

Diary 1983-1984 m1_backfill Qur'an

31 مارچ 1983

پیغمبراسلام کی بعثت کے بعد جو لوگ آپ کی نبوت کا اعتراف نہ کر سکے ، ان کو قرآن نے "اندھا “ بتایا ہے۔

یہ اندھے کون تھے۔ یہ مکہ کے منکرین تھے جو کہ ابراہیم و اسماعیل کی عظمت کو مانتے تھے۔ ان میں یہود اور عیسائی تھے جو موسیٰ اور عیسیٰ کی عظمتوں کا اقرار کر رہے تھے۔ پھر انہیں اندھا کیوں کہا گیا۔

In the lectures

Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Unilateral Good Character

Jesus Christ says:

‘‘But I say to you who hear: Love your enemies, do good to those who hate you. Bless those who curse you, and pray for those who spitefully use you”. LUKE 6: 27-30

…mind, then you will live in the midst of experiences but fail to avail it as an opportunity for spiritual development. You will live as a person who is blind and due to his blindness the rising rays of the sun are not visible to him.

Jesus Christ said the following prayer:

O Lord! Give us this day our daily bread (Mathew 6:11)

Give the ruler his rights. Ask for your rights from God. Peace under all circumstances

Jesus said:

To him who strikes you on the one cheek, offer the other also. And from him who takes away your cloak, do not withhold your tunic either. Give to everyone who asks of you. And from him who takes away your goods, do not ask them back.”

…وہ ہے جو عقلی غوروفکر اور سائنسی معلومات کے ذریعے طے ہوتا ہے۔ یہ ذریعہ بلا نہایت اعلیٰ ذریعہ ہے۔ لیکن وہ اپنے آخری درجے میں بھی ایک مسافرِ حق کو جہاں پہنچاتا ہے، وہ صرف احتمال (probability) ہے، یعنی— امکانی طورپر یہاں ایک خدا کا وجود ہے

Probably there is a God.

یہاں احتمال (probability) سے مراد سادہ طور پر صرف احتمال نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد اعلیٰ عقلی احتمال ہے۔ اعلیٰ عقلی احتمال کو دوسرے لفظوں میں شِبہ یقین (semi-conviction) کہاجاسکتا ہے۔ احتمال کا یہ مقام وہ مقام ہے جہاں آدمی شک (doubt) کے…

…جو عقلی غوروفکر اور سائنسی معلومات کے ذریعے طے ہوتا ہے۔ یہ ذریعہ بلا شبہہ نہایت اعلیٰ ذریعہ ہے۔ لیکن وہ اپنے آخری درجے میں بھی ایک مسافرِ حق کو جہاں پہنچاتا ہے، وہ صرف احتمال (probability) ہے، یعنی— امکانی طورپر یہاں ایک خدا کا وجود ہے:

Probably there is a God.

یہاں احتمال (probability) سے مراد سادہ طور پر صرف احتمال نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد اعلیٰ عقلی احتمال ہے۔ اعلیٰ عقلی احتمال کو دوسرے لفظوں میں شِبہہِ یقین (semi-conviction) کہاجاسکتا ہے۔ احتمال کا یہ مقام وہ مقام ہے جہاں آدمی شک (doubt) …

semantic Spirit of Islam 2014 February opposing view

…words of Moses are clearly a prediction. Here, he predicts that after him, a prophet like him would appear. The entire history after the Prophet Moses indicates that there was only one prophet like him —and that was Muhammad Ibn Abdullah.

Christians take this prophecy of Moses to apply to Jesus, although Jesus was in many respects in no way like Moses.

Moses was born in the natural way, through a mother and a father, while Jesus was born in a supernatural way. Moses married a woman, while Jesus abstained from marriage and married life. Moses led his people, while Jesus did not get the…

موسی ؈ مصرمیں ؍؍ ؍؍

عیسی ؈ فلسطین میں ؍؍ ؍؍

وغیرہ وغیرہ۔ ہندستان کے بدھ، رام، کرشن وغیرہ کے بارے میں بھی کئی وجوہ کی بنا پر رائے قائم نہیں کی جاسکتی ۔اس طرح موجودہ دنیا کا بہت بڑا خطہ اور بہت ساری قومیں ایسی ہیں جن میں پیغمبر کے آنے کا ثبوت کہیں بھی نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں میں آپ کی…

خدا موجود ہے

نظام الدین ویسٹ میں ہمارے آفس کے قریب ایک پارک ہے۔ ایک عورت وہاں اپنے بچوں کے ساتھ آئی۔ کچھ دیر وہ پارک میں ٹھہری، پھر بچوں کو چھوڑ کر کسی کام سے باہر جانے لگی۔ اس وقت چھوٹی لڑکی اماں اماں کہہ کر رونے لگی۔ لڑکے نے کہا کہ کیوں روتی ہو۔…

…ہے- میں اپنے آپ کو اِس کا اہل نہیں پاتا- اِس لیے میں اِس کام کے لیے معذرت خواہ ہوں-اسپین میں جن اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا، اُن میں سے ایک مقامی اخبار کا آفس تھا- یہاں سے اسپینش زبان میں ایک پندرہ روزہ اخبار نکلتاہے- اس کا نام یہ ہے:

Islam Hoy (Islam Today)

یہاں اخبار کے ایڈیٹر سے بھی ملاقات ہوئی- اِس اخبار کے کئی ایڈیشن دیکھے- معلوم ہوا کہ یہ سب مسلم قومی ذہن کی نمائندگی کررہے ہیں- اِسی طرح یہاںمدرسہ ایڈیشن (Madrasa Edition) کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ ہے- اس کے انچارج مذکورہ اسپینی نوجوان…

…کی عورت خیمہ کے باہر کوئی کام کر رہی تھی۔ پکتے پکتے ہانڈی نقطہ جوش پر آئی اور اس میں ابال آگیا۔ عرب بدو نے یہ دیکھ کر اپنی بیوی کو خبردار کرنے کے لئے بآواز بلند کہادَمدَمت (ہانڈی ابل گئی) اصمعی نے یہ سنا تو چلاتے ہوئے خیمہ سے نکل پڑا۔

واللّٰہ وجدت واللّٰہِ وجدتُ(خدا کی قسم میں پا گیا خدا کی قسم میں پا گیا)

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کون سا شوق اور حوصلہ مندی تھی جن کی وجہ سے دور اول کے مسلمانوں نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے۔ یہ تھا فائدہ اور شہرت کی چاشنی کے بغیر صرف مقصد کی خاطر محنتیں کرنا۔ موجودہ زمانہ میں بھی بے شمار سرگرمیاں جاری…