Shukr All cross-references →
Qur'an 7:17
Qur'an 7:17

ثُمَّ لَأٓتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ أَيۡمَٰنِهِمۡ وَعَن شَمَآئِلِهِمۡۖ وَلَا تَجِدُ أَكۡثَرَهُمۡ شَٰكِرِينَ

Then I will come to them from before them and from behind them and on their right and on their left, and You will not find most of them grateful [to You]

Explained in 14 book passages and 17 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Discovering God (p. 233) A original + quote

Gratefulness in the State of Ungratefulness

The Quran tells the story of Adam and Iblis in detail. It explains how Iblis was deprived of God’s blessings because of his refusal to bow to Adam. At that time Iblis said to God: “Because you have put me in the wrong, I will lie in ambush for them on Your straight path: then I will surely come upon them from before them and from behind them and from their right and from their left, and then You will find most of them ungrateful.” (7:16-17)

In this verse, his being put in the wrong implies his being put to the test. What Iblis wanted to say was that under normal conditions, he was able to follow divine commands but the command of bowing to Adam was too hard a test for him to…

Discovering God (p. 254) A original + quote

Constant Complaining

The Quran describes how Satan became angry when God asked him to bow to Adam. He said to God that if he were given the chance, he would cause Adam’s whole race to go astray. At the time of throwing down this challenge, he said, “Most of them You will not find grateful.” (7:17)

There are countless blessings given by God to human beings. Yet man, instead of acknowledging these blessings, becomes ungrateful. The reason for this lies in the character of Satan, or Iblis, who was a jinn (18:50). God heaped countless…

…وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے۔قرآن کے مطابق، آغازِ حیات میںاُس نے خدا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو بہکاؤں گا، یہاں تک کہ تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا— وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ

And you will not find most of them grateful (7:17)

قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ خدا کے بندوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو شکر کرنے والے ہیں وَقَلِیلٌ مِنْ عِبَادِیَ الشَّکُورُ(34:13)۔ شکر کا مطلب اگر یہ ہو کہ آدمی زبان سے شکر کے الفاظ بولتا رہے، تو ایسے لوگ ہمیشہ بہت زیادہ…

Al-Risala September 2022 A original + quote

شکر کی اہمیت

طاغوت کا لفظی مطلب ہے، حد سے تجاوز کرنے والا۔ قرآن میں یہ لفظ شیطان کے لیے آیا ہے۔ کیوں کہ اس نے اللہ رب العالمین سے بغاوت کی۔شیطان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو شکایتی ذہن میں مبتلا کرکے اللہ سے دور کردے۔ شیطان نے آدم کی تخلیق کے وقت اللہ رب العالمین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ (7:17)۔ یعنی، تو اکثر انسانوں کو اعتراف کرنے والا نہ پائے گا۔

دین کا خلاصہ اللہ سے تعلق ہے۔ اللہ سے تعلق اگر انسان کو دریافت کے درجے میں حاصل ہوا ہو تو انسان کے اندر اپنے آپ میں یہ واقعہ ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے پورے دل وجان کے ساتھ اِن انعامات کے منعم (giver) کا اعتراف کرے۔اس کے برعکس، جہاں اللہ کا…

Al-Risala September 2022 A original + quote

اعلیٰ شکر

شیطانی اغوا کا اصل نشانہ یہ ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے (الاعراف،7:17)۔ ہدایت اور گم راہی دونوں کا اصل خلاصہ یہی ہے۔ ہدایت یہ ہے کہ آدمی شکر کے احساس میں جینے والا ہو۔ اِس کے مقابلے میں، گم راہی یہ ہے کہ آدمی کا دل شکر کے جذبات سے خالی ہوجائے۔ شیطان یہی کام ہمیشہ کرتا رہا ہے، لیکن بعد کے زمانے میں شیطان کے لیے یہ ممکن ہوجائے گا کہ وہ لوگوں کو زیادہ بڑے پیمانے پر شکر ِ خداوندی کے راستے سے ہٹا سکے۔ اِسی لیے حدیث میں اِس فتنے کو دجّال یا دجّالیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

شکر کیا ہے۔ شکر دراصل، خدا کی نعمتوں کے اعتراف (acknowledgement) کا دوسرا نام ہے۔ یہ شکر ہر زمانے میں انسان سے مطلوب تھا۔ پچھلے زمانے میں بھی اور موجودہ زمانے میں بھی۔ کسی انعام پر مُنعم کا اعتراف کرنا، ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔ لیکن اعتراف…

آدم اور ابلیس کا سبق

آدم و ابلیس کا قصہ قرآن میں کئی بار بیان کیا گیا ہے۔مثلاً سورہ البقرة ، 2:30-38، سورہ الاعراف، 7:11-25، سورہ الحجر، 15:26-43وغیرہ۔ اس قصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو پیدا کرکے فرشتہ اور ابلیس کو اسے سجدہ کرنے کے لیے کہا۔فرشتوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ وہ نقصان میں رہا۔

ابلیس کا معاملہ یہ تھا کہ وہ ایک فرمانبردار مخلوق تھا، لیکن ایک موقع آیا جب کہ اس کے لیے پریکٹکل وزڈم یہ تھا کہ وہ ایک نئی مخلوق ،آدم کے سامنے خدا کے حکم کے مطابق جھک جائے۔ مگر وہ اپنے ماضی کی عظمت میں گم رہا کہ وہ نئی مخلوق کے مقابلے…

Al-Risala September 2020 A original + quote

شیطان کا چیلنج

انسان کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم دور میں انسانوں کی بڑی تعداد کو شیطان نے یہ سکھایا کہ مخلوق میں بھی خدائی (divinity) ہوتی ہے۔ چنانچہ بیشتر انسان مخلوق کے پرستار بن گئے۔ سائنس دانوں اس روایتی کنڈیشننگ کا توڑا،انھوں نے پچھلے تقریباً چار سو سال کی تحقیق کے بعد بتایا کہ مخلوقات میں خدائی (divinity) نہیں۔ سائنس دانوں کی ریسرچ سے یہ ثابت ہوگیا کہ خالق الگ ہے، اور مخلوق الگ۔ مغرب کے سائنس داں حدیث کے الفاظ میں مؤیدین ِ دین تھے (مسند احمد، حدیث نمبر 20454)۔ یہ وہ لوگ تھے، جن کے ذریعے دریافت شدہ علم نے دین کی تائیدکا کام انجام دیا ہے۔ لیکن شیطان نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ ڈال دیا کہ اہل مغرب تمھارے دشمن ہیں۔اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیلنج تھا، جو شیطان نے آدم کی تخلیق کے وقت اللہ رب العالمین کو ان الفاظ میں دیاتھا: وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ (7:17)۔ یعنی تو بیشتر انسانوں کو اعتراف کرنے والا نہ پائے گا۔

چنانچہ مغرب سے دشمنی کی بنا پرمسلمان اس اہم چیز سے دور ہوگئے، جس کو سائنٹفک ڈیٹا کہا جاتا ہے۔ یعنی ہمارے علما نے اہل مغرب سے دشمنی کی بنا پر ان کی زبان اور ان کے ذریعے دریافت شدہ سائنس کو نہیں پڑھا، اس بنا پر وہ جدید سائنسی دریافت سے بے…

Al-Risala march 2017 A original + quote

…کا یہی وہ پہلو ہے جس کی بنا پر اس کو خلیفہ کہا گیا ہے۔ خلیفہ کا لغوی مطلب ہے بعد کو آنے والا (successor)۔ لیکن مفہوم کے اعتبار سے اس کا مطلب ہے آزاد مخلوق۔ اسی آزادی کے صحیح یا غلط استعمال پر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

انسان کو آزادی تو حاصل ہے، لیکن اس کو کسی قسم کا اقتدار حاصل نہیں۔ آزادی کے اعتبار سے اس کو بے روک ٹوک آزادی ملی ہوئی ہے، لیکن اقتدار کے اعتبار سے اس کو کسی قسم کی ذاتی طاقت حاصل نہیں۔ یہی وہ فرق ہے، جس کی بنا پر تمام انسان عملاً احساسِ محرومی میں جیتے ہیں۔ کیوں کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے، اس کو حاصل کرنے پر وہ قادر نہیں۔ یہی مقام شیطان کے لیے انسان کے اندر داخلہ کا مقام (entry-point) ہے۔ شیطان اس حقیقت سے باخبر تھا، اسی لیے اس نے آغاز انسانیت میں اللہ رب العالمین سے کہا تھا : وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ (7:17)۔ یعنی اور تو ان میں سے اکثر کو شکر کرنے والا نہ پائے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو جاننے کا نام ایمان (معرفت)ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جس کے مطابق زندگی گزارنے کا نام عمل صالح ہے۔

Al-Risala may 2015 A original + quote

انسان کی کمزوری

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ابلیس تخلیق کی ابتدا ہی میں انسان کے خلاف ہوگیا۔ اس نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ: میں تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی پوری نسل کو گمراہ کر دوںگا (17:62)۔ قرآن کی دوسری آیت کے مطابق ابلیس نے اللہ سے کہا : وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ (7:17) یعنی تو بیش تر انسانوں کو شکر کرنے والا نہ پائے گا۔

ابلیس کو اتنے حتمی انداز میں اس قسم کا اعلان کرنے کی ہمت کیسے ہوئی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب یہ واقعہ تھا کہ آدم کو پیدائش کے بعد جنت میں رکھا گیا۔ آدم سے کہا گیا کہ پوری جنت تمہارے لیے ہے مگر تم ایک درخت سے دور رہنا،تم اس…

Al-Risala October 2012 A original + quote

شیطان کی سنت

قرآن کے مطابق، تخلیقِ آدم کے وقت ابلیس کو نعوذ باللہ خدا سے اختلاف ہوگیا- ابلیس نے اپنے اختلاف کو صرف اختلاف کے درجے میں نہیں رکھا، بلکہ اس کو عداوت تک پہنچا دیا- اُس نے یہ منفی منصوبہ بنایا کہ وہ تمام بندوں کو خدا کے خلاف کردے- اس کا یہ منفی منصوبہ قرآن میں اِن الفاظ میں نقل کیاگیا ہے: قال فبما أغویتنی لأقعدن لہم صراطک المستقیم- ثم لاٰتینہم من بین أیدیہم ومن خلفہم وعن أیمانہم وعن شمائلہم، ولا تجد أکثرہم شاکرین (7:17) یعنی ابلیس نے خدا سے کہا کہ تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے، میں بھی لوگوں کے لیے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا- پھر میں اُن پر آؤں گا، اُن کے سامنے سےاور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے، اور تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہ پائے گا-

انسانوں کے درمیان اختلاف کی دو صورتیں ہیں — ایک، یہ کہ اختلاف جب پیدا ہو تو اُس کو اپنی ذات کی حد تک محدود رکھا جائے- دوسرے، یہ کہ اختلاف پیدا ہونے کے بعد آدمی فریقِ ثانی کا دشمن بن جائے گا، وہ ہر جگہ اس کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرے، وہ…

…یہاں خطاب کیا۔ ان میں سے ایک تیونس کے ملیح المرعشی تھے۔ انھوں نے پر جوش انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا: نحن نرید أن نعید مجد الأمّة الإسلامیة فی العصر الحاضر (ہم چاہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں امتِ اسلامیہ کی عظمت کو ہم دوبارہ واپس لائیں)۔

یہی موجودہ زمانے میں تقریباً تمام مسلم رہنماؤں او ر دانش وروں کا ذہن ہے۔ وہ ملتِ مسلمہ کی ’’عظمتِ رفتہ‘‘ کو دوبارہ واپس لانے کی باتیں کرتے ہیں۔ اِس طرح کی باتیں سن کر میں سوچتا ہوں کہ وہ کون سی عظمت ہے جس کو یہ لوگ واپس لانا چاہتے ہیں۔ جہاں تک مادّی آسودگی اور دینی سرگرمیوں کی بات ہے، وہ بلا شبہہ مسلمانوں کو پچھلے ادوار کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ حاصل ہے۔ حتی کہ سیاست کے اعتبار سے بھی ایشیا اور افریقہ میں مسلمانوں کی 58 حکومتیں ہیں۔ دعوت کے مواقع بھی پچھلے ادوار کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ حاصل ہیں، پھر وہ کون سی عظمت ہے جس کے کھونےپر موجودہ زمانے کے مسلمان فریاد وماتم میں مبتلا ہیں۔ وہ صرف ایک ہے اور وہ نام نہاد پولٹکل ایمپائر ہے۔ پچھلے پولٹکل ایمپائر کے زمانے میں مسلمانوں کو جو کچھ حاصل تھا، اُس سے بھی بہت زیادہ آج مسلمانوں کو حاصل ہے۔ پھر یہ فریاد وماتم کس لیے۔ یہ صرف ابلیس کی تزئین ہے۔ ابلیس چاہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو شکر کے جذبات سے محروم کرکے اُنھیں ناشکری کے جذبات میں مبتلا کردے، تاکہ اُس کا وہ چیلنج پورا ہو جو اُس نے اِن الفاظ میں کیا تھا: ولا تجد أکثرہم شاکرین (7:17)۔

اِس سلسلے میں ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تاریخ کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر اُس سے بالکل مختلف ہے جس میں آج کل کے تقریباً تمام مسلم مقررین اور محررین مبتلا ہیں۔اسلامی نقطہ نظر کے اعتبار سے، صحیح یہ ہے کہ تاریخ کو مواقع…

Al-Risala March 2012 A original + quote

ناشکری کا کلچر

تشدد (violence) کیا ہے، تشدد ناشکری کا کلچر ہے۔ شکایت سے تشدد پیدا ہوتا ہے اور تشدد آدمی کے اندر سے شکر کی نفسیات کا مکمل طورپر خاتمہ کردیتاہے۔ ابلیس نے آغازِ حیات میں چیلنج کرتے ہوئے کہاتھا کہ میں انسانوں کو شکر کے راستے سے ہٹا دوں گا اور بیش تر انسانوں کو میں شکر نہ کرنے والا بنا دوں گا: ولا تجد أکثرہم شاکرین (7:17)۔

اِس اعتبار سے دیکھئے تو تشدد کوئی سادہ بات نہیں۔ جس سماج میں تشدد کا کلچر ہو تو سمجھ لیجئے کہ وہاں کے لوگوں پرشیطان غالب آگیا ہے۔ شیطان نے اُن کو بہکا کر، پہلے شکایت اور پھر تشدد کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ تشدد ایک شیطانی کلچر ہے، اور تشدد…

Al-Risala December 2011 A original + quote

اعلیٰ شکر

شیطانی اغوا کا اصل نشانہ یہ ہے کہ وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے (7: 17)۔ ہدایت اور گم راہی دونوں کا اصل خلاصہ یہی ہے۔ ہدایت یہ ہے کہ آدمی شکر کے احساس میں جینے والا ہو۔ اِس کے مقابلے میں، گم راہی یہ ہے کہ آدمی کا دل شکر کے جذبات سے خالی ہوجائے۔ شیطان یہی کام ہمیشہ کرتا رہا ہے، لیکن بعد کے زمانے میں شیطان کے لیے یہ ممکن ہوجائے گا کہ وہ لوگوں کو زیادہ بڑے پیمانے پر شکر ِ خداوندی کے راستے سے ہٹا سکے۔ اِسی لیے حدیث میںاِس فتنے کو دجّال یا دجّالیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

شکر کیا ہے۔ شکر دراصل، خدا کی نعمتوں کے اعتراف (acknowledgement) کا دوسرا نام ہے۔ یہ شکر ہر زمانے میں انسان سے مطلوب تھا۔ پچھلے زمانے میں بھی اور موجودہ زمانے میں بھی۔ کسی انعام پر مُنعم کا اعتراف کرنا، ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔ لیکن…

Al-Risala September 2020 A original + quote

شیطان کا چیلنج

انسان کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم دور میں انسانوں کی بڑی تعداد کو شیطان نے یہ سکھایا کہ مخلوق میں بھی خدائی (divinity) ہوتی ہے۔ چنانچہ بیشتر انسان مخلوق کے پرستار بن گئے۔ سائنس دانوں اس روایتی کنڈیشننگ کا توڑا،انھوں نے پچھلے تقریباً چار سو سال کی تحقیق کے بعد بتایا کہ مخلوقات میں خدائی (divinity) نہیں۔ سائنس دانوں کی ریسرچ سے یہ ثابت ہوگیا کہ خالق الگ ہے، اور مخلوق الگ۔ مغرب کے سائنس داں حدیث کے الفاظ میں مؤیدین ِ دین تھے (مسند احمد، حدیث نمبر 20454)۔ یہ وہ لوگ تھے، جن کے ذریعے دریافت شدہ علم نے دین کی تائیدکا کام انجام دیا ہے۔ لیکن شیطان نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ ڈال دیا کہ اہل مغرب تمھارے دشمن ہیں۔اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیلنج تھا، جو شیطان نے آدم کی تخلیق کے وقت اللہ رب العالمین کو ان الفاظ میں دیاتھا: وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ (7:17)۔ یعنی تو بیشتر انسانوں کو اعتراف کرنے والا نہ پائے گا۔

چنانچہ مغرب سے دشمنی کی بنا پرمسلمان اس اہم چیز سے دور ہوگئے، جس کو سائنٹفک ڈیٹا کہا جاتا ہے۔ یعنی ہمارے علما نے اہل مغرب سے دشمنی کی بنا پر ان کی زبان اور ان کے ذریعے دریافت شدہ سائنس کو نہیں پڑھا، اس بنا پر وہ جدید سائنسی دریافت سے بے…

In the lectures

Cited at 611s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2449s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2673s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3694s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4310s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5467s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5706s — opens the lecture at this moment.

Cited at 102s — opens the lecture at this moment.

Cited at 387s — opens the lecture at this moment.

Cited at 921s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1296s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2097s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2670s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3306s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3969s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5439s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5625s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…پر ابلیس (شیطان) غصہ ہوگیا۔ اُس نے خدا سے کہا کہ مجھے موقع دیا جائے تو میں ساری نسلِ آدم کو بہکا دوں گا۔ اُس وقت اُس نے چیلنج دیتے ہوئے کہا ولا تجد أکثرہم شاکرین (الأعراف 17) یعنی تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا

Most of them, You will not find grateful. (7:17)

انسان کے اوپر خدا کے ان گنت احسانات ہیں۔ اِس کے باوجود کیوںایسا ہوتاہے کہ انسان اِن نعمتوں کا اعتراف نہیں کرتا اور وہ ناشکر گزار بن جاتا ہے۔ اِس کا راز خود ابلیس کے کردار کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ ابلیس ایک جن تھا (الکہف 50)۔ جنوں کے…

…ضرور اُن کے لیے زمین میںتزئین کروں گا، اور ضرور اُن سب کو بھٹکاؤں گا۔ قرآن کے دوسرے مقام پر اِس معاملے کی مزید وضاحت اِن الفاظ میں آئی ہے ولاتجد أکثرہم شاکرین (الأعراف 17 ) یعنی تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا

And you will not find most of them grateful (7: 17)

ناشکری کا فتنہ

…وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے۔قرآن کے مطابق، آغازِ حیات میںاُس نے خدا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو بہکاؤں گا، یہاں تک کہ تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا— وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ

And you will not find most of them grateful (7:17)

قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ خدا کے بندوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو شکر کرنے والے ہیں وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ(34:13)۔ شکر کا مطلب اگر یہ ہو کہ آدمی زبان سے شکر کے الفاظ بولتا رہے، تو ایسے لوگ ہمیشہ بہت زیادہ…

…وہ انسان کو شکر کے راستے سے ہٹا دے۔قرآن کے مطابق، آغازِ حیات میںاُس نے خدا کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو بہکاؤں گا، یہاں تک کہ تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا— وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ

And you will not find most of them grateful (7:17)

قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ خدا کے بندوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو شکر کرنے والے ہیں وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ(34:13)۔ شکر کا مطلب اگر یہ ہو کہ آدمی زبان سے شکر کے الفاظ بولتا رہے، تو ایسے لوگ ہمیشہ بہت زیادہ…

… الحجر،15:39۔اِس آیت میں ’اِغوا‘ کا لفظ ہے۔ اغوا کے لفظی معنی ہیںسیدھے راستے سے بھٹکانا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ابلیس کے لیے جہنم مقدر ہوگئی، اِس لیے انتقامی جذبے کے تحت اس نے کہا کہ میں تمام انسانوں کو تیرے راستے سے منحرف کردوں گا:

I will certainly cause them all to deviate.

ابلیس کے پاس انسان کو بھٹکانے کے لیے مختلف طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ وہ ہے جو خاص طورپر اہلِ ایمان کے ساتھ مخصوص ہے۔ اہلِ ایمان کی امتیازی صفت یہ ہے کہ وہ پیغمبر ِ آخرالزماں کے بعد داعی الی اللہ کے حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ حیثیت بیک وقت…

semantic Al-Risala April 2014 Qur'an

…ہے- اِس سلسلے میں قرآن کی آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَکُمْ (47:38) یعنی اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمھاری جگہ دوسری قوم کولے آئے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے:

If you turn back, He will bring in your place another people, who will not be like you.

استبدالِ قوم کا یہ قانون فطرت کا ایک عمومی قانون ہے- اس کا تعلق مذہبی قوم سے بھی ہے اور غیر مذہبی قوم سے بھی- اسلام کی انقلابی اصلاحات کے لیے جس فکری بنیاد کی ضرورت تھی، اس کو مسلمان پورے طورپر وجود میں نہ لاسکے- مسلمان بعد کے زمانے میں…

semantic Izhar-e-Deen (p. 302) Qur'an

…هے۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى آيت كے الفاظ يه هيں وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ(47:38)۔ يعنى، اگر تم پھر جاؤ تو الله تمھارى جگه دوسرى قوم كولے آئے گا، پھر وه تم جيسے نه هوں گے

If you turn back, He will bring in your place another people, who will not be like you.

استبدالِ قوم كا يه قانون فطرت كا ايك عمومى قانون هے۔ اس كا تعلق مذهبى قوم سے بھى هے اور غير مذهبى قوم سے بھي۔ اسلام كى انقلابى اصلاحات كے ليے جس فكرى بنياد كى ضرورت تھي، اس كو مسلمان پورے طورپر وجود ميں نه لاسكے۔ مسلمان بعد كے زمانے ميں…

semantic Diary 1989-1990

…مسلمان عالم ہیں۔ وہ ایک دینی مدرسہ چلاتے ہیں۔ انھوں نے ایک عرب ملک کو مالی امداد کی درخواست دی تھی ۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ان کی درخواست منظور ہوگئی اور رقم دہلی کے مذکورہ عربی سفارتخانہ میں بھیج دی گئی۔ وہ دہلی آکر اپنی رقم لے گئے۔

میں نے ان سے کہاکہ آپ جیسے ہزاروں لوگ اس طرح کی امداد وصول کر رہے ہیں۔ کچھ وہ لوگ جو بڑی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، وہ اس سے بھی زیادہ بڑے مواقع پا رہے ہیں۔ مگر میرے علم میں کوئی شخص نہیں جو اس کو خدا کی نعمت سمجھے اور علی الاعلان اس کا ذکر کر کے خدا کا اعتراف کرے۔شکر دین کا خلاصہ ہے اور وہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے نکل گیا ہے ۔

اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہے کہ ہر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں جو دین کا کام کریں۔ مسجد اور مدرسہ چلانا ، دعوت اور تبلیغ کا کام کرنا ، اسلامی علوم کی خدمت کرنا وغیرہ۔ اس طرح کی خدمت کے ساتھ آدمی معاشی کام نہیں کرسکتا۔ اس بنا پر اﷲ تعالی نے بہت بڑے…

…عالم ہیں ۔ وہ ایک دینی مدرسہ چلاتے ہیں ۔ انہوں نے ایک عرب ملک کو مالی امداد کی درخواست دی تھی۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ان کی درخواست منظور ہوگئی اور رقم دہلی کے مذکورہ عربی سفارتخانہ میں بھیج دی گئی۔ وہ دہلی آکر اپنی رقم لے گئے۔

میں نے ان سے کہاکہ آپ جیسے ہزاروں لوگ اس طرح کی امداد وصول کر رہے ہیں ۔ کچھ وہ لوگ جو بڑی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، وہ اس سے بھی زیادہ بڑے مواقع پا رہے ہیں ۔ مگر میرے علم میں کوئی شخص نہیں جو اس کو خدا کی نعمت سمجھے اور علی الاعلان اس کا ذکر کر کے خدا کا اعتراف کرے۔ شکر، دین کا خلاصہ ہے اور وہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے نکل گیا ہے۔

اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہے کہ ہر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں جو دین کا کام کریں۔ مسجد اور مدرسہ چلانا ، دعوت اور تبلیغ کا کام کرنا، اسلامی علوم کی خدمت کرنا، وغیرہ۔ اس طرح کی خدمت کے ساتھ آدمی معاشی کام نہیں کرسکتا۔ اس بنا پر اﷲ تعالی نے بہت بڑے…

semantic Diary 1983-1984

( الكامل لابن الأثير)

اے لوگو میں تمہارے اوپر حاکم بنایا گیا ہوں۔ مگر میں تم سے بہتر نہیں ہوں ۔ اگر میں اچھا عمل کروں تو تم میری مدد کرو اور اگر میں برا عمل کروں تو تم مجھے سیدھا کر دو۔ اور تمہارا کمزور میرے نزدیک طاقت ور ہے یہاں تک کہ میں اس کا حق اسے دلا دوں ۔ اور تمہا را طاقت ور میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق لے لوں ۔

حاکم کو کیسا ہونا چاہئے ، اس کی تشریح اس سے بہتر الفاظ میں نہیں کی جاسکتی حقیقت یہ ہے کہ اسی قسم کے افراد کا نام " اسلامی حکومت " ہے۔ اگر اس قسم کے افراد نہ ہوں تو اسلامی حکومت کے قیام کا کوئی سوال نہیں۔