Qur'an 67:2
Qur'an 67:2
ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡمَوۡتَ وَٱلۡحَيَوٰةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفُورُ
[He] who created death and life to test you [as to] which of you is best in deed - and He is the Exalted in Might, the Forgiving
Explained in 25 book passages
and 34 lecture moments.
Cite / permalink: quran/67:2
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…among all created things. Such a ‘meaningful being’ cannot have been created without a purpose. The Creator of man has created him according to a unique plan. The Quran, the only preserved religious scripture, sheds light on this plan:
“He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct.” (67:2)
According to this verse of the Quran, man was created as an eternal being, and ‘death and life’ represent both the pre-death and post-death periods of human life. Thus, death and life encompass the entire eternal lifespan of human beings.…
…no such Mind been active therein, the system of Nature would also be characterized by the same defects and harmful consequences that manifest themselves in man-made industries. This reality is reflected in the following words of the Quran:
“Blessed is He in whose hand is the Kingdom: He has power over all things; He created death and life so that He might test you and find out which of you is best in conduct. He is the Mighty, the Most Forgiving One. He created seven heavens, one above the other in layers. You will not find any flaw in the creation of the Gracious One. Then look once again: can you see any flaw? Then look again and again. Your gaze will come back to you confused and exhausted.” (67:1-4)
As mentioned in the above verses of the Quran, the system of Nature created by God is flawless. This can be seen from the fact that God created and brought the sun into being before man was settled on Earth. God had prior knowledge that…
“When your Lord said to the angels, ‘I am putting a successor on earth,’ they said, ‘Will You place someone there who will cause corruption on it and shed blood, while we glorify You with Your praise and extol Your holiness?’” (2:30)
However, it is essential to understand that man’s freedom is not absolute. Only temporary freedom is given to him according to God’s Creation Plan. Human beings possess freedom for the sake of the test they are being put to while on earth. (Quran, 67:2). The planning of the Lord of the universe is to see who among them, despite possessing free will, chooses not to misuse it but instead uses it
correctly so that He may bless the virtuous with His rewards (Quran, 13:22).
The existing system of the world will remain only until the examination process is complete. After the completion of this period, the Master of the earth will take the administration of the earth directly into His own hands, just as He is…
…Almighty created the universe, and, it is God Almighty who revealed this book that is called Al-Quran. The primary purpose of the Quran is to reveal that divine plan according to which the world was created and people were settled in it.
This theme, which is central to the Quran, is thus described in chapter sixty-seven, Al-Mulk (The Kingdom): “He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct.” (67:2)
Here the words “life” and “death” refer to two different periods of humanity. The word “life” represents the pre-death period and the word “death” represents the second period of life, which may be called the post-death period. God…
…questions may be summed up in a single sentence: What is the creation plan of the Creator? Chapter sixty-seven of the Quran, Al-Mulk (The Kingdom), gives the answer to this question. The translation of the relevant verse is as follows:
God created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct. He is the Mighty, the Most Forgiving One. (67:2)
According to the Quran, man was created as an eternal being. In the above Quranic verse ‘death and life’ represent both the pre-death period of life and the post-death period of human life. So, death and life cover the entire eternal life…
…یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان پر لازماً موت کا تجربہ گزرنے والا ہے۔ ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے والا ہے کہ اس پر موت آئے۔ ایک محدود مدت تک زمین پر رہنے کے بعد وہ مرکر ایک اور دنیا میں پہنچ جائے۔
سروے کے مطابق، اس دنیا میں انسان کی اوسط عمرتقریباً80 سال ہے۔ ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ ایک بچے کی حالت میں پیدا ہو۔ پھر وہ جوان ہو۔ اس کو بیماری اور حادثہ جیسے تجربات پیش آئیں۔ زندگی کے مختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے وہ بڑھاپے کی عمر تک پہنچے۔ پھر کوئی شخص کم عمری میں مرجائے، اور کوئی شخص زیادہ عمر کو پہنچ کر دنیا سے رخصت ہوجائے۔زندگی اور موت کا یہ تجربہ رب العالمین کے تخلیقی نقشے کے مطابق پیش آتا ہے۔ اس تخلیقی نقشے کوقرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً (67:2)۔ یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، پیدا ہونے کے بعد انسان پر زندگی کے جو مختلف مرحلے پیش آتے ہیں، وہ ایک موقع (opportunity) کے طور پر پیش آتے ہیں۔ یعنی مختلف تجرباتِ حیات سے گزار کر انسان کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو احسن العمل (best…
…دینے والے انسان (giver person)بن کر رہیں، نہ کہ لینے والے انسان (taker person) بن کر زندگی گزاریں۔ جن کے اندر کامل معنوں میں ایک دوسرے کے لیے خیرخواہی کا مزاج پایا جاتا ہو۔ جو دہرے کردار (double standard) کی صفت سے آخری حد تک خالی ہوں۔
حسنِ رفاقت کا معیار صرف آخرت کے لیے نہیں ہے۔ عین یہی کردار موجودہ دنیا میں بھی مطلوب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو افراد دنیا کی زندگی میں اس معیار پر پورے اتریں، وہی آخرت کے جنتی سماج کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ آخرت میں حسنِ رفاقت کا سماج دنیا کے منتخب افراد کا مجموعہ ہوگا، جس کو قرآن میں احسن العمل افراد کا مجموعہ (الملک، 67:2) کہا گیا ہے۔ جنت ایک اعلیٰ قسم کی اجتماعی زندگی ہوگی، نہ کہ صرف انفرادی زندگی۔
…کَانُوا یَعْمَلُونَ (32:17)۔ اسی طرح ہے:وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَشْتَہِی أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَدَّعُونَ (41:31)، اور فرمایا:وَفِیہَا مَا تَشْتَہِیہِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْیُنُ وَأَنْتُمْ فِیہَا خَالِدُونَ (43:71)۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی مصیبتیں انسان کی تربیت کے لیے ہیں ، نہ کہ تکلیف کے لیے ۔ خالق نے ایک معیاری دنیا بنائی ہے، جنت۔ یہی جنت کی دنیا انسان کا اصل مسکن (habitat) ہے۔ موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ انسان اپنے آپ کو احسن العمل (best in conduct)ثابت کرے(الملک،67:2)۔ موجودہ دنیا کی مصیبتوں کا جواب یہ ہے کہ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ انسان کو تربیت یافتہ انسان بنایا جائے، ان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ جنت میں داخلے کے مستحق ٹھہریں۔ ہر بڑی کامیابی سے پہلے مشقت کا ایک دور آتا ہے۔ یہ مشقت کا دور انسان کی تیاری اور تربیت کے لیےہوتا ہے۔ اگر یہ دور نہ آئے تو انسان کامیابی کو سنبھالنے کے قابل نہیں بنے گا۔ یعنی پہلے تربیتی دور سے گزر کر اپنے آپ کو اہل ثابت کرنا، اور اس کے بعد ابدی جنت میں داخلہ پانا۔
احسن العمل کون
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔اس آیت کے مطابق، تخلیقِ انسانی کا مقصد پوری تاریخ سے ایسے افراد کا انتخاب ہے، جو عمل کے اعتبار سے احسن ہونے کا ثبوت دیں۔ یہاں عمل کا لفظ اپنے جامع معنی میں ہے، یعنی عمل کی ہر قسم کے اعتبار سے احسن۔
انسان کو عمل کے کن پہلوؤں کے اعتبار سے احسن ثابت ہونا چاہیے۔ یہ بات قرآن کی دوسری آیتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ مثلاً یہ کہ اس انتخابِ افراد کا مقصد کیا ہے۔ قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی دنیا میں…
احسن العمل
انسان کے بارے میں تخلیقی منصوبہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔یعنی خالق نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سب سے اچھے عمل والا کون ہے ۔اس آیت کا مطلب یہ ہےکہ پیدا ہونےوالے انسانوں میں سے احسن العمل کا انتخاب کرنا۔
قرآن کی اس آیت کا مفہوم ایک اور آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: مَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَہُ فِی حَرْثِہِ وَمَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہِ مِنْہَا وَمَا لَہُ فِی الْآخِرَةِ مِنْ…
…ہے جس کے لیے یہ مقدر ہو کہ وہ پانی کے باہر پیدا ہوگی، اور پانی کے بغیر تڑپتے تڑپتے مرجائے۔ مگر خالق کی جو صفات کمال اس دنیا میں ظاہر ہوئی ہیں، اس کے لحاظ سے یہ بات ناقابل قیاس ہے کہ انسان کی زندگی اس قسم کے المناک انجام پر ختم ہوجائے۔
اب ایک اور پہلو سے دیکھیے۔ ہمارے گرد و پیش جو کائنات ہے، وہ بہت ہی وسیع کائنات ہے۔ اس وسیع کائنات کے بارے میں قرآن کا ایک بیان یہ ہے :بڑا بابرکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے،بخشنے والا ہے۔جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے، تم رحمٰن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے،پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی فطور (flaw) نظر آتا ہے۔پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھو، نگاہ ناکام تھک کر تمھاری طرف واپس آجائے گی۔(67:1-4)۔
قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ وسیع کائنات میں کسی بھی قسم کا فطور نہیں۔ فطور کا مطلب ہے نقص (flaw)۔ مگر خود قرآن کے بیان کے مطابق، اس بے نقص کائنات (flawless universe)میں ایک اسپاٹ ایسا ہے جہاں نقص کی حالت موجود ہے۔ اور وہ یہ کہ انسان کو…
…دنیا اگر خدمت گار دنیا ہے تو انسان اس دنیا کا ماسٹر (master) ہے۔ انسان کو سرداری کا یہ مقام موجودہ دنیا میں بظاہرعمومی طور ملا ہوا مقام دکھائی دیتا ہے۔ لیکن آخری حقیقت کے اعتبار سے یہ مقام انتخابی بنیاد (selective basis) پر ملنے والا ہے۔
انسان کے بارے میں یہ حقیقت قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے:الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ایک ایسی دنیا میں رکھا گیا ہے جہاں ہر قسم کے تجربات پیش آئیں۔ اس کو مسلسل طور پر چیلنج کے درمیان زندگی گزارنا پڑے۔ اس کے لیے مختلف انتخابات (options) ہوں، اور اس کو اپنی عقل کو استعمال کرکے یہ جاننا پڑے کہ اس کو کون سا انتخاب لینا ہے اور کون سا انتخاب چھوڑدینا ہے۔
اس طرح مختلف حالات سے گزرتے ہوئے وہ انسان بنتا ہے جس کو قرآن میں احسن العمل (الملک2:) کہا گیا ہے۔یہی احسن العمل (best in conduct) والے افراد ہیں جن کو منتخب کرکے ابدی جنت میں بسایا جائے گا۔ وہ وہاں خالق کے قرب میں ابدی طور پر اعلیٰ زندگی…
…دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ اگر اس کا حق (right) ہو تو کبھی اس کو زوال یا محرومی کا تجربہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ انسان کو اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ بطور حق نہیں ملتا۔ پھر اس پانے، اور بظاہر کھونے کی توجیہہ کیا ہے۔
قرآن کے مطابق ،یہ پانا بطور ابتلاء (test) ہوتا ہے، یعنی مختلف احوال میں ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ لوگوں میں احسن العمل (67:2) کون ہے۔ یعنی وہ کون شخص ہے، جواپنے ذہن کو اتنا بیدار کرے کہ وہ خالق کی نظر میں رائٹ پرسن (right person) قرار پائے۔اسی رائٹ پرسن کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہا گیا ہے۔آخر میں یہ ہوگا کہ پوری تاریخ سےایسےافراد کو منتخب (select) کیا جائے گا، جنھوں نے اپنے عمل سے ربانی انسان ہونے کا ثبوت دیا۔
اس لحاظ سے انسانی زندگی کے دو دَور ہیں۔ پہلا دور ، عارضی مدت کا دور، دوسرا دور ابدی حیات کا دور۔پہلے دور میں جو افراد کوالیفائی کریں گے، وہ ابدی دور حیات کے لئے منتخب کیے جائیں گے، اور جو لوگ کوالیفائی نہیں کریں گے، خالق کی عدالت میں ان کا…
…کوئی فرد یا کوئی قوم اگر اس تخلیقی منصوبے کو نظر انداز کرے اور خود اپنے ذہن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے تو یقینی طورپر اس دنیا میں اس کا منصوبہ ناکام ہوجائے گا۔ یہی حقیقت پسندی ہے، اور اس دنیا میں حقیقت پسندی ہی سب سےبڑا اصول ہے۔
قرآن میں انسان کی پیدائش کی حکمت کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا ہے۔ اس حکمت ابتلا کی بنا پر ، ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ جب انسان اپنی آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے تو اس سے فطری طورپر دنیا میں چیلنج اور مسابقت (competition) کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
چیلنج اور مسابقت کا یہ ماحول لازماًدنیا میں رہے گا۔ اس بنا پر یہاںلازماً ایسا ہوگا کہ ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطلوب صورت حال (unwanted situation)کا سامنا پیش آئے گا۔ اس صورت حال کے خلاف شکایت کرنا بھی بے فائدہ ہے، اور اس سے لڑنا بھی بے…
مواقع کی دنیا
خدا کے نقشہ تخلیق (creation plan) کے مطابق موجودہ دنیا انسان کے لئے دارالابتلا (67:2) ہے، یعنی مقام امتحان (testing ground) - مگر سوال یہ ہے کہ انسان کا یہ امتحان کس لئے ہے-
وہ امتحان برائے امتحان نہیں ہے بلکہ وہ اس لئے ہے کہ دنیا کے مختلف حالات سے گزرتے ہوئے ہر فرد کے رسپانس (response) کا ریکارڈ تیار کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ ان میں سے کون ہے جو جنت کی ابدی دنیا میں بسانے کے لئے مستحق امیدوار (deserving…
تاریخی انتخاب
انسان کے بارے میں خدا کے تخلیقی نقشہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2) یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون حسن عمل والا ہے:
He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct.
…(good news) ہے۔ قرآن، خدا کی ایک مستند کتاب ہے۔ قرآن تمام انسانوں کو ایک اچھی خبر دینے والا ہے۔ وہ اچھی خبر یہ ہے کہ انسان اگر دنیا کی محدود زندگی میں حسنِ عمل کا طریقہ اختیار کرے تو وہ موت کے بعد کی زندگی میں ابدی جنت میں جگہ پائے گا۔
قرآن کے مطابق، یہ اچھی خبر اُن افراد کے لیے ہے جو دنیا کی زندگی میں تقوی کی روش اختیار کریں- جنت عمومی طورپر ہر انسان کو نہیں ملے گی، وہ صرف اُس انسان کو ملے گی جو دنیا کی زندگی میں تقوی کا ثبوت دے (3:133)- جنت ایک معیاری دنیا ہے- اِس معیاری دنیا میں جگہ پانے کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ تقوی ہے-قرآن کے مطابق، یہی وہ منصوبۂ تخلیق (creation plan) ہے جس کے لیے انسان کو پیدا کرکے اس کو محدود مدت کے لیے سیارۂ ارض (planet earth) پر بسایا گیا ہے۔ سیارۂ ارض انسان کے لیے کوئی عیش گاہ نہیں ہے، وہ مذکورہ مقصد کے لیے مقامِ انتخاب (selection ground) ہے۔ یہاں وہ افراد چُنے جارہے ہیں جو اپنی اعلیٰ صفات کی بنا پر جنت جیسی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ یہی بات قرآن کی سورہ الملک میں اِن الفاظ میں کہی گئی ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا )67:2)یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتاہے:
He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct.
…قرآن میں دوسرے مقام پر نبی اور صدیق اور شہید اور صالح کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے (4:69)- یہ مظاہرہ اللہ تعالی نے صرف فرشتوں کے لیے نہیں کیاتھا، بلکہ بالواسطہ طورپر اُس کا مخاطب وہ انسان بھی تھے جو اللہ کے مقصد تخلیق کو سمجھنا چاہتے ہوں-
اِس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کی سورہ الملک کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)- اِس آیت سے اور قرآن کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق سے اللہ تعالی کا مقصود احسن العمل افراد ہیں، پورے مجموعۂ انسانی میں عدل اور فلاح کا نظام قائم کرنا منصوبہ الہی کا نشانہ نہیں-
اِس کا سبب یہ ہے کہ خالق نے جس نقشے کے تحت انسان کو پیدا کیا، اس میں ایسا ہونا ممکن ہی نہ تھا- کیوں کہ اِس منصوبۂ تخلیق کے مطابق، ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی تھی- ہر انسان کے لیے کامل معنوں میں آزادانہ انتخاب (freedom of choice) کا…
…اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کی ہے تو اس کو وہاں سے نکال کر جنت میں بسا دیا جائے — موجودہ دنیا اِس لیے ہے، تاکہ یہاں ایک فرد اپنے آپ کو اسپریچول شخصیت کی حیثیت سے تیار (develop) کرے اور پھر جنت میں وہ اسپریچول تہذیب کا ابدی حصہ بن جائے-
جنت کی دنیا انسان کی اصل منزل ہے- موجودہ عارضی دنیا نرسری (nursery) کی مانند ہے- یہاں پیدا ہونے والے عورت اور مرد کی حیثیت گویا نرسری کے پودے کی ہے- اِس محدود مدت میں جو ’’پودے‘‘ صحت مندی کا ثبوت نہ دیں، ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا اور جو ’’پودے‘‘ اپنی نشوو نما کے دوران صحت مند ثابت ہوں، اُن کو باعزت طورپر موجودہ عارضی دنیا سے منتقل کرکے آخرت کی ابدی دنیا میں پہنچا دیا جائے گا، یعنی جنت کی دنیا میں-اِس حقیقت کو ایک اور آیت میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ (67:2) یعنی اللہ، جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے-
اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر بے شمار عورت اور مرد پیدا ہوتے ہیں- وہ محدود مدت تک زندگی گزار کر مرجاتے ہیں، یہ ساری بھیڑ خالق کا مطلوب نہیں- خالق کا مطلوب صرف وہ فرد ہے جو اِس امتحانی دورِ حیات میں یہ ثابت کرے کہ وہ پورے معنوں میں احسن…
…جس کی مثبت سوچ(positive thinking) اتنی بڑی ہوئی ہو کہ وہ منفی آئٹم (negative item) کو بھی مثبت آئٹم (positive item) میں تبدیل کرسکے- اس کا عبادتی شعور اتنا ترقی یافتہ ہو کہ وہ اِس طرح اللہ کی عبادت کرے، جیسے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے-
انسان کی تخلیق کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2) - قرآن کی اِس آیت کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کو اِس لیے بسایا گیا ہے کہ یہاں احسن العمل افراد کا انتخاب کیا جاسکے- یہ عمل پوری انسانی تاریخ میں جاری ہے- خدائی نظام کے تحت اِس دنیا میں ہر فرد کا مکمل ریکارڈ تیارکیا جارہا ہے- اِس مقصد کے لیے انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے- کیوں کہ آزادی کے ماحول ہی میں یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کون شخص احسن العمل تھا اور کون شخص احسن العمل نہ تھا-قدیم زمانے میں مذہبی جبر کا جو نظام قائم تھا، وہ اِس میں رکاوٹ تھا کہ کوئی فرد آزادانہ طورپر اپنی شخصیت کی مثبت تعمیر کرے اور اپنے آپ کو احسن العمل بنائے- یہ نظام، اللہ کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا- اِس لیے قرآن میں اس کو فتنہ کہاگیا ہے اور اہلِ ایمان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کی خصوصی مدد کے ذریعے اِس ناموافق نظام کو توڑ دیں، تاکہ ہر انسان کو یہ موقع مل جائے کہ وہ اگر چاہے تواپنے آپ کو احسن العمل کی حیثیت سے تیار کرے -(13 ستمبر 2013)
…معنوں میں کوئی کامل نظام بنایا جاسکے- امتحان کی مصلحت کے تحت دی ہوئی انسانی آزادی اِس طرح کے معیاری نظام کو قائم کرنے میں حتمی طورپر مانع ہے- اِس دنیا میں جب آئڈیل کا حصول ممکن نہیں تو آئڈیل کے حصول کو نشانہ بنانا بھی درست نہیں ہوسکتا-
ایسی حالت میں، اظہارِ دین کی آیت میں دین کے اظہار کی ایسی تفسیر کرنی پڑے گی جو عملی طورپر وقوع میں آئی ہو- اِس اعتبار سے غور کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ اِس آیت میں دین سے مراد شرعی دین نہیں ہے، بلکہ فطری دین ہے، اور اظہارِ دین کا مطلب ہے انسانی زندگی میں خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، حالتِ فطری کا قائم ہوجانا- دین کا یہ مفہوم قرآن کی ایک اور آیت میں موجود ہے- اس کے الفاظ یہ ہیں:اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ (3:83)- اِس آیت میں دین سے مراد دینِ شرعی نہیں ہے، بلکہ دینِ فطری ہے، یعنی وہ دین جس پر تمام کائنات بالفعل قائم ہے-یہ دین فطری کیا ہے، وہ قرآن کی اِس آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭوَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ(67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سےکون اچھا کام کرتا ہے- اور اللہ بہت زبردست ہے، بخشنے والا ہے-
اصل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو پیدا کرکے سیارہ ارض پر بسایا- انسان کو زمین پر بسانا بطور امتحان (test) تھا، تاکہ امتحانی حالات سے گزار کر احسن العمل افراد کا انتخاب کیا جائے، یعنی ایسے عورت اور مرد کا انتخاب جنھوں…
…کیا کہ انسان کی آزادی تو برقرار رہے گی، لیکن اب عمومی بنیاد پر نہیں، بلکہ انتخابی بنیاد پر صرف مستحق افراد کو جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ یہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو خدا کی طرف سے مینج (manage) کرنے کا پہلا واقعہ تھا۔
موجودہ زمین اِس تخلیقی مقصد کے لیے سلیکشن گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اب یہ ہوگا کہ قیامت کے بعد فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، صرف منتخب عورتوں اور مردوں ، قرآن کے الفاظ میں احسن العمل (67:2) افراد کو، یہ خوش نصیبی حاصل ہوگی کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں آباد ہوسکیں۔
زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام تو خدا کی طرف سے کیا گیا تھا، مگر انسان کو اپنے قول وعمل کی مکمل آزادی حاصل تھی، لیکن دوبارہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ عمومی طورپر انسانی نسل شرک یا فطرت پرستی (nature…
…اُس چیز کا حکم دیاگیا ہے جس کو ایک لفظ میں صحیح طرزِ فکر کہاگیا ہے۔ انسانی زندگی کی درستگی کا سارا مدار اِس پر ہے کہ اس کے اندر صحیح طرز فکر پیدا ہو جائے۔ وہ اپنے قول اور عمل کے معاملے میں اپنے آپ کوپوری طرح قانونِ خداوندی کے مطابق بنالے۔
قرآن کے مطابق، یہی وہ منصوبۂ تخلیق (creation plan) ہے جس کے لیے انسان کو پیدا کرکے اس کو محدود مدت کے لیے سیارۂ ارض (planet earth) پر بسایا گیا ہے۔ سیارۂ ارض انسان کے لیے کوئی عیش گاہ نہیں ہے، وہ مذکورہ مقصد کے لیے مقامِ انتخاب (selection ground) ہے۔ یہاں وہ افراد چُنے جارہے ہیں جو اپنی اعلیٰ صفات کی بنا پر جنت جیسی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ یہی بات قرآن کی سورہ الملک میں اِن الفاظ میں کہی گئی ہے: الذی خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم أیُّکم أحسن عملاً (67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتاہے:
He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct.
…یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان پر لازماً موت کا تجربہ گزرنے والا ہے۔ ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آنے والا ہے کہ اس پر موت آئے۔ ایک محدود مدت تک زمین پر رہنے کے بعد وہ مرکر ایک اور دنیا میں پہنچ جائے۔
سروے کے مطابق، اس دنیا میں انسان کی اوسط عمرتقریباً80 سال ہے۔ ہر انسان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ وہ ایک بچے کی حالت میں پیدا ہو۔ پھر وہ جوان ہو۔ اس کو بیماری اور حادثہ جیسے تجربات پیش آئیں۔ زندگی کے مختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے وہ بڑھاپے کی عمر تک پہنچے۔ پھر کوئی شخص کم عمری میں مرجائے، اور کوئی شخص زیادہ عمر کو پہنچ کر دنیا سے رخصت ہوجائے۔زندگی اور موت کا یہ تجربہ رب العالمین کے تخلیقی نقشے کے مطابق پیش آتا ہے۔ اس تخلیقی نقشے کوقرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً (67:2)۔ یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، پیدا ہونے کے بعد انسان پر زندگی کے جو مختلف مرحلے پیش آتے ہیں، وہ ایک موقع (opportunity) کے طور پر پیش آتے ہیں۔ یعنی مختلف تجرباتِ حیات سے گزار کر انسان کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو احسن العمل (best…
I was wrong.
یہ اعترافِ خطا جتنا زیادہ شدید ہوگا، اتنا ہی زیادہ بڑا نقلاب آدمی کی شخصیت میں آئے گا۔ اس اعترافِ خطا کے اعلی درجہ کو قرآن میں توبۂ نصوح (التحریم66:8,) کہا گیا ہے۔ کوئی انسان اس وقت تک ٹھہرا ہوا پانی ہے، جب تک اس کے اندر اعترافِ خطا کا بھونچال نہ آئے۔ اعترافِ خطا کی مثال ایسی ہے،جیسے ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی بڑا پتھر پھینک دیا جائے۔ یہ پتھر پانی کے پورے تالاب کو متحرک کر دیتا ہے۔ یہی توبۂ نصوح ہے،اور توبۂ نصوح کے بغیر زندگی میں وہ اعلیٰ شخصیت نہیں ابھرتی جس کو قرآن میں احسن العمل (الملک67:2,) والی شخصیت کہا گیا ہے۔ نفسیات کی زبان میں اس کو اعلیٰ درجے کی ترقی یافتہ شخصیت (highly developed personality) کہا جاسکتا ہے۔
انسان عزت نفس (self respect) کے نام پر اکثر یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کیے بغیر اعلیٰ درجے تک پہنچ جائے۔ اس کو عام طور پر لوگ عزتِ نفس کہتے ہیں۔ عزتِ نفس سے آدمی کو فرضی تسکین تو مل سکتی ہے، مگر شخصیت کے ارتقا کا پراسس جاری…
In the lectures
Cited at 174s — opens the lecture at this moment.
Cited at 394s — opens the lecture at this moment.
Cited at 500s — opens the lecture at this moment.
Cited at 532s — opens the lecture at this moment.
Cited at 695s — opens the lecture at this moment.
Cited at 737s — opens the lecture at this moment.
Cited at 752s — opens the lecture at this moment.
Cited at 842s — opens the lecture at this moment.
Cited at 993s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1256s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1314s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1321s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1324s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1350s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1392s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1608s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1688s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2025s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2464s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2472s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2485s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2511s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3062s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3193s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3643s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3793s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3873s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3978s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4394s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4514s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4729s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4981s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5022s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6653s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ یہی بات قرآن کی سورہ الملک میں اِن الفاظ میں کہی گئی ہے: الذی خلق الموت والحیاۃ لیبلوکم أیُّکم أحسن عملاً (67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتاہے:
He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct.
اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں، وہ وسیع تر تقسیم (division) میں دوہیں— مادی دنیا اور انسان۔ مادی دنیا سے مراد وہ پوری وسیع کائنات ہے جس کو نیچر (nature)کہاجاتاہے۔ مادی دنیا مکمل طورپر خدا کے مقرر کئے ہوئے قانون (divine laws) کے تحت…
…یہی بات قرآن کی سورہ الملک میں اِن الفاظ میں کہی گئی ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا )67:2)یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتاہے:
He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct.
اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں، وہ وسیع تر تقسیم (division) میں دوہیں— مادی دنیا اور انسان۔ مادی دنیا سے مراد وہ پوری وسیع کائنات ہے جس کو نیچر (nature)کہاجاتاہے۔ مادی دنیا مکمل طورپر خدا کے مقرر کئے ہوئے قانون (divine laws) کے تحت…
…خدا کے تخلیقی نقشہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2) یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون حسن عمل والا ہے:
He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct.
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان کے بارے میں اس کے خالق کا تخلیقی نقشہ یہ ہے کہ عورت ا ور مرد کو مختلف حالات میں زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے، اور پھر ان افراد کا انتخاب کیا جائے جو زندگی کے مختلف احوال کے درمیان یہ ثابت کرتے ہوںکہ…
…جو قرآن کی اِس آیت میں کہی گئی ہے ’’بڑا با برکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتاہے، اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے‘‘(67:1-2):
Glory is to God in whose hand is the kingdom, and He has power over all things; who created death and life, so He may test you, which of you is best in action. He is the mighty, the Most Forgiving.
انسانِ اوّل (آدم) کے بعد بے شمار لوگ پیدا ہوکر زمین پر آباد ہوئے اور بدستور پیدا ہو کر آباد ہو رہے ہیں، مگر خدا کو صرف وہ عورت اور مرد مطلوب ہیں جو اُس کے تخلیقی پلان کے مطابق، احسنُ العمل (best in deed) ثابت ہوں۔
…فرشتے یہاں رات دن انسان کا ریکارڈ تیار کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے اعلیٰ ریکارڈ کے مطابق، جنت کے مستحق ٹھیریں گے، اُن کو منتخب کرکے موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت میں بسایا جائے گا، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے خوشیوں اور راحتوں کی زندگی گزاریں گے۔
یہی وہ بات ہے جو قرآن کی اِس آیت میں کہی گئی ہے ’’بڑا با برکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتاہے، اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے‘‘(67:1-2):
Glory is to God in whose hand is the kingdom, and He has power over all things; who created death and life, so He may test you, which of you is best in action. He is the mighty, the Most Forgiving.
…are born with problems and afflictions. This is not an evil. This state of affairs persists as a result of the wise planning of the Creator. A Quranic verse in the chapter Al-An‘am (The Cattle) explains the rationale behind this situation:
It is He who has made you successors [of others] on the earth and has exalted some of you over the others in degrees of rank, so that He may test you by that which He has given you. Your Lord is swift in punishment; yet surely He is forgiving, and merciful. (6:165)
This means that inequality between people is not accidental. It has been intentionally planned. This demonstrates great wisdom: God wanted life to offer challenges and so He created competition between individuals and groups. It is…
…کوئی فرد یا کوئی قوم اگر اس تخلیقی منصوبے کو نظر انداز کرے اور خود اپنے ذہن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے تو یقینی طورپر اس دنیا میں اس کا منصوبہ ناکام ہوجائے گا۔ یہی حقیقت پسندی ہے، اور اس دنیا میں حقیقت پسندی ہی سب سےبڑا اصول ہے۔
قرآن میں انسان کی پیدائش کی حکمت کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔یعنی، اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا ہے۔
اس حکمت ابتلا کی بنا پر ، ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ جب انسان اپنی آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے تو اس سے فطری طورپر دنیا میں چیلنج اور مسابقت (competition) کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
…كا ثبوت هے كه كائنات كي تخليق اوراس كي منصوبه بندي كے پيچھے ايك بالا تر خدائي ذهن كي كارفرمائي هے۔ اگر يهاں ايسے ذهن كي كارفرمائي نه هوتي تو فطرت كے نظام ميں بھي بار بار اسي قسم كے خلا اور نقائص ظاهر هوتے جو انساني صنعت ميں ظاهر هورهے هيں۔
يهي وه حقيقت هے جس كي طرف قرآن ميں اس طرح اشاره كيا گياهے بڑا بابركت هے وه جس كے هاتھ ميں بادشاهي هے اور وه هر چيز پر قادر هے۔ جس نے موت اور زندگي كو پيدا كيا تاكه تم كو جانچے كه تم ميں سے كون اچھا كام كرتاهے۔ اوروه زبردست هے، بخشنے والا هے۔ جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے۔ تم رحمن كے بنانے ميں كوئي خلل نهيں ديكھو گے۔ پھر نگاه ناكام تھك كر تمھاري طرف واپس آجائے گي ( 67:1-4)۔
…جس كى مثبت سوچ (positive thinking) اتنى بڑى هوئى هو كه وه منفى آئٹم (negative item) كو بھى مثبت آئٹم (positive item) ميں تبديل كرسكے۔ اس كا عبادتى شعور اتنا ترقى يافته هو كه وه اِس طرح الله كى عبادت كرے، جيسے كه وه الله كو ديكھ رها هے۔
انسان كى تخليق كے بارے ميں قرآن ميں يه الفاظ آئے هيں الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ یعنی، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔ قرآن كى اِس آيت كے مطابق، موجوده دنيا ميں انسان كو اِس ليے بسايا گيا هے كه يهاں احسن العمل افراد كا انتخاب كيا جاسكے۔ يه عمل پورى انسانى تاريخ ميں جارى هے۔ خدائى نظام كے تحت اِس دنيا ميں هر فرد كا مكمل ريكارڈ تياركيا جارها هے۔ اِس مقصد كے ليے انسان كو كامل آزادى دى گئى هے۔ كيوں كه آزادى كے ماحول هى ميں يه معلوم كيا جاسكتا هے كه كون شخص احسن العمل تھا اور كون شخص احسن العمل نه تھا۔قديم زمانے ميں مذهبى جبر كا جو نظام قائم تھا، وه اِس ميں ركاوٹ تھا كه كوئى فرد آزادانه طورپر اپنى شخصيت كى مثبت تعمير كرے اور اپنے آپ كو احسن العمل بنائے۔ يه نظام، الله كے تخليقى منصوبے كے خلاف تھا۔ اِس ليے قرآن ميں اس كو فتنه كهاگيا هے اور اهلِ ايمان كو يه حكم ديا گيا كه وه الله كى خصوصى مدد كے ذريعے اِس ناموافق نظام كو توڑ ديں، تاكه هر انسان كو يه موقع مل جائے كه وه اگر چاهے تواپنے آپ كو احسن العمل كى حيثيت سے تيار كرے ۔
اسلام كا انقلابى رول
…قرآن ميں دوسرے مقام پر نبى اور صديق اور شهيد اور صالح كے الفاظ ميں بيان كيا گيا هے (4:69)۔ يه مظاهره الله تعالى نے صرف فرشتوں كے ليے نهيں كياتھا، بلكه بالواسطه طورپر اُس كا مخاطب وه انسان بھى تھے جو الله كے مقصد تخليق كو سمجھنا چاهتے هوں۔
اِس معاملے كى مزيد وضاحت قرآن كى سورۃ الملك كى ايك آيت سے معلوم هوتى هے جس كے الفاظ يه هيں الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ یعنی، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔اِس آيت سے اور قرآن كى دوسرى آيتوں سے معلوم هوتا هے كه تخليق سے الله تعالى كا مقصود احسن العمل افراد هيں، پورے مجموعهٔ انسانى ميں عدل اور فلاح كا نظام قائم كرنا منصوبه الٰہی كا نشانه نهيں۔
اِس كا سبب يه هے كه خالق نے جس نقشے كے تحت انسان كو پيدا كيا، اس ميں ايسا هونا ممكن هى نه تھا۔ كيوں كه اِس منصوبهٔ تخليق كے مطابق، هر انسان كو كامل آزادى دى گئى تھي۔ هر انسان كے ليے كامل معنوں ميں آزادانه انتخاب (fredom of choice) كا…