Qur'an 61:14
Qur'an 61:14
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُوٓاْ أَنصَارَ ٱللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيِّـۧنَ مَنۡ أَنصَارِيٓ إِلَى ٱللَّهِۖ قَالَ ٱلۡحَوَارِيُّونَ نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِۖ فَـَٔامَنَت طَّآئِفَةٞ مِّنۢ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَكَفَرَت طَّآئِفَةٞۖ فَأَيَّدۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ عَلَىٰ عَدُوِّهِمۡ فَأَصۡبَحُواْ ظَٰهِرِينَ
O you who have believed, be supporters of Allah, as when Jesus, the son of Mary, said to the disciples, "Who are my supporters for Allah?" The disciples said, "We are supporters of Allah." And a faction of the Children of Israel believed and a faction disbelieved. So We supported those who believed against their enemy, and they became dominant
Explained in 5 book passages
and 32 lecture moments.
Cite / permalink: quran/61:14
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…تھی۔ جنگ کو ٹالنے کا یہ طریقہ جو اس وقت اختیار کیا گیا، وہ اس بات کی مثال تھی کہ دوسرے کے طریقے کی پیروی کرنا بھی اتنا ہی درست ہے جتنا کہ خود اپنے مقرر کیے ہوئے طریقے پر عمل کرنا۔ کامیابی حاصل کرنےکے لیے دونوں طریقے یکساں طور پراہم ہیں۔
اس سلسلے کی ایک مثال وہ ہے جس کا اشارہ قرآن کی ایک آیت میں ملتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُونُوا أَنْصَارَ اللَّہِ کَمَا قَالَ عِیسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّینَ مَنْ أَنْصَارِی إِلَى اللَّہِ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّہِ (61:14)۔ یعنی اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو۔ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا، کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کے مددگار۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریین (مسیحیوں ) نے جو طریقہ اختیار کیا، اس طریقے میں اللہ کی مدد آتی ہے، اور اللہ کی مدد سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ مسیحی لوگوں کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انھوں نے پرنٹنگ پریس کے زمانے کو پہچانا، اور بائبل…
امت مسلمہ کا رول
اِس خدائی منصوبے میں امتِ مسلمہ کا رول کیا ہونا چاہئے، اس کو قرآن میں اشارات کی زبان میں بتا دیاگیا ہے- اِس سلسلے میں قرآن کی سورہ الصف کی ایک آیت یہ ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَى اللّٰہِ ۭ قَالَ الْحَــوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْٓ اِسْرَاۗءِیْلَ وَکَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰہِرِیْنَ (61:14) یعنی اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسی بن مریم نے حواریوں سے کہا: کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتاہے- حواریوں نے کہا: ہم ہیں اللہ کے مددگار- پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا- پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں، مدد کی، پس وہ غالب ہوگئے-
قرآن کی اِس آیت میں ایک بہت اہم بات کہی گئی ہے- اِس آیت کا خطاب امتِ مسلمہ سے ہے، لیکن اِس میں امتِ مسیح کے ایک نمونے کو بطور ماڈل پیش کیا گیا ہے اور امتِ مسلمہ سے یہ کہا گیا ہے کہ تم بھی اُسی ماڈل کے مطابق کام کرو جس کے مطابق، امتِ…
…گیا تھا- یہی وہ پرامن ماڈل ہے جس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر اختیار فرمایاتھا- مگر مسلمان بحیثیت قوم اِس سے بے خبر رہے، وہ اِس ماڈل کو اپنانے میں ناکام رہے- مسلمانوں کی تاریخ میں اِس کی دو بڑی مثالیں موجود ہیں-
پہلی مثال وہ ہے جو نوآبادیاتی طاقتوں کے ظہور کے بعد پیش آئی- اِس دور میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں نے مسلمانوں کی سلطنتوں کو توڑ دیا اور ان کے سیاسی دبدبے کو ختم کردیا- اس کے بعد مسلمان منفی رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوگئے- وہ نفرت اور انتقام اور تشدد میں مبتلا ہو کر رہ گئے، حالاں کہ قرآن میں بیان کردہ پیروانِ مسیح کے ماڈل کے مطابق، انھیں یہ کرنا تھا کہ وہ پُرامن طریقِ کار اختیار کرتے، یعنی وہ میدانِ جنگ کو چھوڑ کرمیدانِ دعوت میں آجاتے، جن لوگوں کو وہ اپنا حریف سمجھ کر اُن سے متشددانہ ٹکراؤ کررہے تھے، اُن کو مدعو کا درجہ دے کر وہ ان کے اوپر پر امن دعوہ ورک شروع کردیتے- اگر مسلمان ایسا کرتے تو یقیناً اُن کے اوپر قرآن کے وہ الفاظ صادق آتے جو اِس سے پہلے پیروانِ مسیح کے اوپر صادق آچکے تھے، یعنی: فأیدنا الذین آمنوا على عدوّہم فأصبحوا ظاہرین (61:14)
پیروانِ مسیح کے ماڈل میں دوسرا نمونہ وہ تھا جو صلیبی جنگوں کے بعد ظہور میں آیا- اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دنیا کے اوپر پہلی بار فطرت کے قوانین (laws of nature) منکشف ہوئے اور جدید تہذیب وجود میں آئی جس کے نتیجے میں پوری انسانیت کو بے شمار…
(اگر آپ ہمارے لیے کھانے کی کوئی چیز نہیں لائے تو پھر آپ گھر کس لیے آئے ہیں)۔
یہ صرف ایک شخص کا واقعہ نہیں، یہ ہم میںسے ہر ایک پر منطبق ہوتا ہے۔ ہر آدمی جو خدا پر ایمان لائے، ایمان کے ساتھ ہی اس کی یہ ذمے داری بن جاتی ہے کہ وہ دعوت وشہادت کا کام انجام دے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا کام قرار دیا ہے۔ قرآن میں اِس کو اللہ کی مدد کرنا کہاگہا ہے (61: 14)۔ایک صاحب ایمان اگر موت سے پہلے کی زندگی میں دعوت و شہادت کا کام نہ کرے تو وہ یہ سنگین خطرہ مول لے رہا ہے کہ آخرت میں جب اُس کا سامنا اللہ سے ہو تو اللہ یہ کہہ دے کہ — جو کام میں نے تمھارے سپرد کیا تھا، اُس کو تم نے انجام نہیں دیا، پھر تم یہاں کس لیے آئے ہو:
If you failed to perform the task I assigned you, then why did you come here?
…صراحت کی زبان میں۔ مثال کے طورپر قرآن کی سورہ الانعام میں 18 نبیوں، بشمول حضرت مسیح، کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے: أولئک الذین ہدی اللہ فبہداہم اقتدہ (6: 90) یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی، پس تم بھی ان کے طریقے پر چلو۔
قرآن کی سورہ الصف میں یہ اشارہ نام کی صراحت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے۔ چناں چہ فرمایا کہ : ’’اے ایمان والو، تم اللہ کے مدد گار بنو جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا، کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسر ائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں، مدد کی۔ پس وہ غالب ہو گئے‘‘۔ (61: 14)
قرآن کی اِس آیت میں اہلِ اسلام کو خطاب کیاگیا ہے۔ اُن سے کہاگیا ہے کہ تم اللہ کی نصرت کرنے والے بنو جس طرح تم سے پہلے عیسیٰ کے حواری، اللہ کی نصرت کرنے والے بنے تھے۔ آیت میں مزید یہ بتایا گیا ہے کہ نصرتِ الٰہی کا یہی پیٹرن تمھارے لیے…
In the lectures
Cited at 2436s — opens the lecture at this moment.
Cited at 198s — opens the lecture at this moment.
Cited at 339s — opens the lecture at this moment.
Cited at 492s — opens the lecture at this moment.
Cited at 512s — opens the lecture at this moment.
Cited at 537s — opens the lecture at this moment.
Cited at 567s — opens the lecture at this moment.
Cited at 595s — opens the lecture at this moment.
Cited at 937s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1319s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1404s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1461s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1634s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1784s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1829s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2023s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2353s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2383s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2466s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2488s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2882s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3006s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3099s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3184s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3459s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3492s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3708s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3725s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4363s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4387s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4507s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4616s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مذکورہ روایت میںحضرت مسیح کے جس واقعہ کا ذکر ہے، اُس کا ذکر قرآن میں بھی اجمالی طور پر آیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے:
’’اے ایمان والو! تم اللہ کے مدد گار بنو،جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا: کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا: ہم ہیں اللہ کے مددگار! پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی۔ پس وہ غالب ہوگئے۔ (الصف ۱۴)
جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح الحدیبیہ کے بعد اطرافِ عرب کے تقریباً ایک درجن حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھے اور اُنہیں اپنے سفیروں کے ساتھ متعلقہ حکمرانوں کی طرف روانہ کیا۔ ان حکمرانوں میں سے کچھ نے آپ…
…الّذین آمنوا کُونُوا أنصار اللّٰہ، کما قال عیسی بن مریم للحواریین مَن أنصاری إلی اللّٰہ، قال الحواریُّون نحنُ أنصار اللّٰہ، فاٰمنت طائفۃ من بني إسرائیل وکفرت طائفۃ، فأیّدنا الّذین آمنوا علیٰ عَدُوّہم فأصبحوا ظاہرین (الصّف 14)
’’اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا—کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتاہے۔ حواریوں نے کہا، ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میںسے کچھ لوگ ایمان لائے اورکچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی، پس وہ غالب ہوگیے‘‘۔
اس آیت میںاللہ کی نصرت کرنے یا اللہ کا انصار بننے سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد ہے— خدا کے دعوتی منصوبے میںاپنے آپ کو قول اور عمل سے شریک کرنا، اقامتِ حجت کے خدائی کام کو اپنا کام بنا کر اس کے لیے محنت کرنا۔ مفسر ابن کثیر نے اس آیت کی…
…کی مصلحت کی بنا پر یہ کام انسانوں کے ذریعے ادا کرایا جاتا ہے۔ یہ ایک خدائی عمل ہے جس کو کچھ انسان خدا کی طرف سے انجام دیتے ہیں اور پھر خدا کے یہاں سے وہ اس کا انعام پاتے ہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اِس آیت کا مطالعہ کیجیے
یاایُّہا الّذین آمنوا کُونُوا أنصار اللّٰہ، کما قال عیسی بن مریم للحواریین مَن أنصاری إلی اللّٰہ، قال الحواریُّون نحنُ أنصار اللّٰہ، فاٰمنت طائفۃ من بني إسرائیل وکفرت طائفۃ، فأیّدنا الّذین آمنوا علیٰ عَدُوّہم فأصبحوا ظاہرین (الصّف 14)
’’اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا—کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتاہے۔ حواریوں نے کہا، ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میںسے کچھ لوگ ایمان لائے اورکچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان…
…بگ بینگ کے واقعے کو انسان نے پہلی بار صرف بیسویں صدی عیسوی میں جانا۔ اِس کے باوجود قرآن میں اِس کا حوالہ دیتے ہوئے حال کے صیغے میں کلام کیاگیا ہے۔ یہ عالم الغیب خدا کا ایک اسلوب ہے، اِس قسم کا منفرد اسلوب انسانی کلام میں نہیں پایا جاتا۔
اِس اسلوب کی ایک مثال قرآن کی سورہ نمبر 61 میں موجود ہے۔ اِس سورہ کی آخری آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اے ایمان لانے والو، تم لوگ خدا کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسیٰ ابن ِ مریم نے اپنے حواریوں سے کہا کہ کون ہے جو خدا کے لیے میرا مددگار بنتا ہے۔ حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں خدا کے مددگار۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے مانا اور ایک گروہ نے انکار کردیا۔ پھر ہم نے ماننے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ ہوگیے غالب‘‘۔ (الصّف: 14 )
اِس آیت کا اسلوب ایک غیر معمولی اسلوب ہے۔ اِس لیے کہ اِس آیت میں واضح طورپر پیروانِ محمد کو پیروانِ مسیح کے ماڈل کو اپنانے کا حکم دیاگیا ہے۔
…تھی۔ جنگ کو ٹالنے کا یہ طریقہ جو اس وقت اختیار کیا گیا، وہ اس بات کی مثال تھی کہ دوسرے کے طریقے کی پیروی کرنا بھی اتنا ہی درست ہے جتنا کہ خود اپنے مقرر کیے ہوئے طریقے پر عمل کرنا۔ کامیابی حاصل کرنےکے لیے دونوں طریقے یکساں طور پراہم ہیں۔
اس سلسلے کی ایک مثال وہ ہے جس کا اشارہ قرآن کی ایک آیت میں ملتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنْصَارَ اللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّينَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ (61:14)۔ یعنی اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو۔ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا، کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کے مددگار۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں (مسیحیوں ) نے جو طریقہ اختیار کیا، اس طریقے میں اللہ کی مدد آتی ہے، اور اللہ کی مدد سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ مسیحی لوگوں کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انھوں نے پرنٹنگ پریس کے زمانے کو پہچانا، اور بائبل…
…کے واسطے میرا مددگار ہوتا ہے۔ حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسر ائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں، مدد کی۔ پس وہ غالب ہو گئے‘‘۔ (61: 14)
قرآن کی اِس آیت میں اہلِ اسلام کو خطاب کیاگیا ہے۔ اُن سے کہاگیا ہے کہ تم اللہ کی نصرت کرنے والے بنو جس طرح تم سے پہلے عیسیٰ کے حواری، اللہ کی نصرت کرنے والے بنے تھے۔ آیت میں مزید یہ بتایا گیا ہے کہ نصرتِ الٰہی کا یہی پیٹرن تمھارے لیے فتح وکامیابی کا ذریعہ ہوگا۔ اِس سے مراد تاریخِ انسانی کا بعد کا زمانہ ہے، یعنی بعد کے زمانے میں مسیحی ماڈل فتح وکامیابی کا ذریعہ بن جائے گا۔
مسیحی ماڈل عین وہی ماڈل ہے جس کا نمونہ ہم کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور میں ملتا ہے۔ مکی دور میں رسول اور اصحاب رسول نے اپنے خلاف کئے جانے والے تشدد کے جواب میں یک طرفہ صبر کا ثبوت دیا ۔ اِس اعتبار سے مسیحی ماڈل اور پیغمبر…
امت مسلمه كا رول
اِس خدائى منصوبے ميں امتِ مسلمه كا رول كيا هونا چاہیے، اس كو قرآن ميں اشارات كى زبان ميں بتا دياگيا هے۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى سورۃ الصف كى ايك آيت يه هے يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ۭ قَالَ الْحَــوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَكَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ ۚ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ (61:14)۔ يعنى، اے ايمان والو، تم الله كے مددگار بنو، جيسا كه عيسى بن مريم نے حواريوں سے كها كون الله كے واسطے ميرا مددگار هوتاهے۔ حواريوں نے كها هم هيں الله كے مددگار۔ پس بنى اسرائيل ميں سے كچھ لوگ ايمان لائے اور كچھ لوگوں نے انكار كيا۔ پھر هم نے ايمان لانے والوں كي، اُن كے دشمنوں كے مقابلے ميں، مدد كي، پس وه غالب هوگئے۔
قرآن كى اِس آيت ميں ايك بهت اهم بات كهى گئى هے۔ اِس آيت كا خطاب امتِ مسلمه سے هے، ليكن اِس ميں امتِ مسيح كے ايك نمونے كو بطور ماڈل پيش كيا گيا هے اور امتِ مسلمه سے يه كها گيا هے كه تم بھى اُسى ماڈل كے مطابق كام كرو جس كے مطابق، امتِ…
…حواریوں سے کہا—کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتاہے۔ حواریوں نے کہا، ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میںسے کچھ لوگ ایمان لائے اورکچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی، پس وہ غالب ہوگیے‘‘۔
اس آیت میںاللہ کی نصرت کرنے یا اللہ کا انصار بننے سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد ہے— خدا کے دعوتی منصوبے میںاپنے آپ کو قول اور عمل سے شریک کرنا، اقامتِ حجت کے خدائی کام کو اپنا کام بنا کر اس کے لیے محنت کرنا۔ مفسر ابن کثیر نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ أی مَن معیني في الدعوۃ إلی اللہ عزوجلّ؟ قال الحواریون (وہم أتباع عیسیٰ علیہ السلام): نحن أنصار اللہ، أي نحن أنصار علی ما أُرسلت بہ وموازروک علی ذلک۔ و لہذا بعثہم دُعاۃً إلی الناس في بلاد الشام في الإسرائیلیّن والیونانیّن، وہکذا کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی أیام الحج ’’مَن رجل یؤوینی حتی أبلّغ رسالۃ ربّي، فإنّ قریشاً قد منعونی أن أبلّغ رسالۃ ربّي‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 362)
’’یعنی کون ہے جو اللہ کی طرف بلانے کے کام میں میرا مددگار ہو، حواریین نے کہا، اور اس سے مراد عیسیٰ کے پیرو ہیں، ہم ہیںاللہ کے مددگار۔ ہم آپ کے مددگار ہیںاس کام میں جس کو لے کر آپ بھیجے گیے ہیں اور اس کام میں ہم آپ کا ساتھ دینے والے ہیں۔…
صبر نفسیاتی قربانی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے یہودیوں اور عیسائیوں کی اکثریت نے آپ کا انکار کیا۔ تاہم ان کے کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے۔ ان مومنین کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہےجن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔ اور جب وہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے ۔ بے شک یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے۔ ہم تو پہلے ہی سے اس کو ماننے والے ہیں۔ یہ لوگ ہیں کہ ان کو ان کا اجر دُہرا دیا جائے گا اس پر کہ انھوں نے صبر کیا(28:52-54)۔
یہاںصبر سے مراد نفسیاتی صبر یا نفسیاتی قربانی ہے ۔ مذکورہ اہل کتاب(عبد اللہ بن سلّام، وغیرہ)نے جس ایمان کا ثبوت دیا، وہ نفسیات کی سطح پرصبر کی قربانی کے بغیر کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔
…إلی الناس في بلاد الشام في الإسرائیلیّن والیونانیّن، وہکذا کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی أیام الحج ’’مَن رجل یؤوینی حتی أبلّغ رسالۃ ربّي، فإنّ قریشاً قد منعونی أن أبلّغ رسالۃ ربّي‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 362)
’’یعنی کون ہے جو اللہ کی طرف بلانے کے کام میں میرا مددگار ہو، حواریین نے کہا، اور اس سے مراد عیسیٰ کے پیرو ہیں، ہم ہیںاللہ کے مددگار۔ ہم آپ کے مددگار ہیںاس کام میں جس کو لے کر آپ بھیجے گیے ہیں اور اس کام میں ہم آپ کا ساتھ دینے والے ہیں۔ اس لیے حضرت مسیح نے ان کو لوگوں کی طرف داعی بنا کر بھیجا، بلاد شام میںاسرائیلیوں اور یونانیوں کی طرف۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایّام حج میں لوگوں کے پاس جاکر کہتے کہ تم میں کون شخص ہے جو میری مدد کرے یہاں تک کہ میںاللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دوں، کیوں کہ قریش مجھے اپنے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں‘‘۔
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہہ ساری دنیا کے لیے خدا کے پیغمبر ہیں، مگر آپ ایک محدود مدت تک دنیا میں رہے اور اس کے بعد آپ کی وفا ت ہوگئی۔ اب سوال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس ذمے داری کو ادا کرنے کی صورت…