Qur'an 3:79
Qur'an 3:79
مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤۡتِيَهُ ٱللَّهُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحُكۡمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُواْ عِبَادٗا لِّي مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِن كُونُواْ رَبَّـٰنِيِّـۧنَ بِمَا كُنتُمۡ تُعَلِّمُونَ ٱلۡكِتَٰبَ وَبِمَا كُنتُمۡ تَدۡرُسُونَ
It is not for a human [prophet] that Allah should give him the Scripture and authority and prophethood and then he would say to the people, "Be servants to me rather than Allah," but [instead, he would say], "Be pious scholars of the Lord because of what you have taught of the Scripture and because of what you have studied
Explained in 27 book passages
and 22 lecture moments.
Cite / permalink: quran/3:79
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
The Continual Growth of One’s Personality
As stated in the second chapter of the Quran, one of the duties of the Prophet vis-à-vis his contemporaries was “to teach them the Scripture and wisdom, and purify them.” (2:129). It is necessary for every believer to purify himself. Without purification, that calibre of personality, which is called in the Quran a God-oriented personality (3:79) cannot be developed. The truth is that purification alone can lead one to heaven. (20:76)
Tazkiya literally means growth, one example of which can be seen in the tree. A tree is the result of the growth of a seed. When a seed finds a favourable environment, it starts growing until it becomes a green, verdant tree. The same is…
Spirituality: Converting Material Provision into Spiritual Provision
I was once asked to explain the concept of spirituality in Islam and what, from the Islamic viewpoint, the method was of attaining spirituality. I said that the word ‘spirituality’ (or ruhaniyat) began to be used later in the history of Islam. In the Quran the word used for it is rabbaniyat (3:79), meaning the virtue of being God-oriented.
It is generally believed that there is only one way of finding spirituality and that is through renunciation. But that is not true. What we achieve by renouncing the world is not spirituality but mysticism (rehbaniyat) and, according to a…
Thanksgiving is an Act of Sacrifice
Thanksgiving is the greatest form of worship. Indeed the price of Paradise is gratitude. Without gratitude, faith cannot be depended upon. Without gratitude, there is no true worship. Without gratitude man cannot experience those noble feelings which have been described in the Quran as “being devoted servants of God.” (3:79) The truth is that the genuine spirit of religiosity is thanksgiving. Without thanksgiving, or gratitude, religiosity is just like the outer peel of a fruit.
But just uttering some words of thanksgiving is not all there is to gratitude. Gratitude is an act of sacrifice—rather the greatest sacrifice. Only those who are ready to make that great sacrifice can experience the thanksgiving as desired…
…has nothing mysterious about it. It is a well-known discipline. It is only an alternative name for intellectual development. The formula for Quranic spirituality is expressed thus in the chapter Al-‘Imran (The Family of Imran):
Become men of God. (3:79)
Becoming a man of God means adopting a God-oriented life. The God-oriented way of life is a complete way of life. It calls for the use of all human faculties. It means God-oriented thinking, God-oriented speech, God-oriented behaviour,…
…birth right, nor will one receive entry into it through recommendation or wishful thinking. Entry into Paradise is totally a matter of selection, and this selection will be done by none other than God Almighty in the world hereafter.
The hearts of the people of Paradise will be filled with the glory of God. (39:75) This is the first quality of a muzakka person. That is, he must discover the glory of God in the present world and acknowledge it from deep within his heart. Glorifying God is always a result of discovery. It means that a person should adopt the culture of contemplation (tadabbur), and through thinking and reflection, discover God as the Lord of the Universe. This discovery must be intellectually so deep that it should bring about a revolutionary change in his personality. In this way he becomes a rabbani (3:79) person, as defined in the Quran.
A scene from Paradise has been given in the Quran in the chapter Al-Qamar (The Moon) in these words:
مکمل اسلام، ربانی اسلام
اگر آپ قرآن کا مطالعہ کریں تومعلوم ہوگا کہ قرآن میں کُونُوا رَبَّانِیِّینَ (3:79)تو آیا ہے، یعنی اللہ والے بنو۔ مگر نفذوا شرائع الاسلام(اسلامی شریعت کو امپوز کرو) کہیں نہیں آیا ہے۔ اسلام کا یہ تصور بلاشبہ قرآن و سنت میں ایک اجنبی تصور ہے۔یعنی یہ کہ اسلام زندگی کا ایک مکمل نظام ہے، اور اہل اسلام کا فرض ہے کہ وہ اس کوزندگی کےہر شعبہ حیات میں پوری طرح نافذ کریں۔ کسی پیغمبر نے دین کا یہ تصور پیش نہیں کیا، اور نہ کسی پیغمبر نے یہ کہا کہ میرا کام خدا کے دین کو زندگی کے تمام شعبوں میں کامل طور پر نافذ کرنا ہے۔ حالاں کہ تمام پیغمبروں کا اصل دین ایک تھا۔
آپ اس قسم کے کسی مسلم رہنما کی تحریر پڑھیے یا اس کی تقریر سنیے، تو لمبی تقریر اور لمبی تحریر کے باوجود ان کی باتوں میں اصل اسلام حذف ہوگا۔ اللہ سے محبت کی بات ، اللہ سے خوف کی بات، آخرت کے مواخذہ کی بات، جنت کے شوق کی بات، ذاتی تزکیہ کی…
مکمل اسلام، ربانی اسلام
اگر آپ قرآن کا مطالعہ کریں تومعلوم ہوگا کہ قرآن میں کُونُوا رَبَّانِیِّینَ (3:79)تو آیا ہے، یعنی اللہ والے بنو۔ مگر نفذوا شرائع الاسلام(اسلامی شریعت کو امپوز کرو) کہیں نہیں آیا ہے۔ اسلام کا یہ تصور بلاشبہ قرآن و سنت میں ایک اجنبی تصور ہے۔یعنی یہ کہ اسلام زندگی کا ایک مکمل نظام ہے، اور اہل اسلام کا فرض ہے کہ وہ اس کوزندگی کےہر شعبہ حیات میں پوری طرح نافذ کریں۔ کسی پیغمبر نے دین کا یہ تصور پیش نہیں کیا، اور نہ کسی پیغمبر نے یہ کہا کہ میرا کام خدا کے دین کو زندگی کے تمام شعبوں میں کامل طور پر نافذ کرنا ہے۔ حالاں کہ تمام پیغمبروں کا اصل دین ایک تھا۔
آپ اس قسم کے کسی مسلم رہنما کی تحریر پڑھیے یا اس کی تقریر سنیے، تو لمبی تقریر اور لمبی تحریر کے باوجود ان کی باتوں میں اصل اسلام حذف ہوگا۔ اللہ سے محبت کی بات ، اللہ سے خوف کی بات، آخرت کے مواخذہ کی بات، جنت کے شوق کی بات، ذاتی تزکیہ کی…
اسلامی جہاد
جہاد کا لفظی مطلب کوشش (struggle) ہے۔ اس کوشش کا تعلق کسی سسٹم سے نہیں۔ یعنی جہاد کا یہ نشانہ نہیں ہے کہ ایک سسٹم کو توڑ کر اس کی جگہ دوسرا سسٹم قائم کیا جائے۔بلکہ جہاد کا نشانہ انسان کی سوچ (way of thinking) بدلناہے (الفرقان، 25:52)، یعنی دنیا رخی طرز فکر کو بدل کر اس کی جگہ خدا رخی طرز فکر انسان کے اندر پیدا کرنا (آل عمران، 3:79)۔ جہا دکا نشانہ اسلامائزیشن آف سسٹم (Islamization of system) نہیں ہے ، بلکہ اسلامائزیشن آف فرد (Islamization of individual) ہے۔
زندگی کے نظام میں اصل اہمیت فرد کی ہے۔ جیسا فرد ویسا نظام۔ انسان جیسا سوچتا ہے ، ویسا ہی وہ بن جاتا ہے۔ سوچ کو بدلنے سے انسان بنتے ہیں، اور انسان کے بدلنے سے اجتماعی زندگی میں انقلاب آتا ہے۔ انقلاب کی ابتدا (beginning) فرد کی تبدیلی…
…اللہ کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنانا، اور بلاتفریق ہر انسان کا خیرخواہ ہونا۔ یہی مشن پچھلے تمام پیغمبروں کا تھا، اور پیغمبر آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن بھی۔ اب امت محمدی کو ہر زمانے میں اسی مشن کو زندہ رکھنا ہے۔
اللہ کو اپنا کنسرن بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے شعور کو اتنا بیدار کرے کہ وہ دریافت (discovery) کے درجے میں اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کرے۔ یہ معرفت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ انسان کے پورے وجود کو اپنے رنگ میں رنگ لے۔ انسان کی پوری شخصیت اسی معرفت میں ڈھل جائے۔ اس کی سوچ اور اس کا قول و عمل اس کے عین مطابق ہو جائے۔ یہی وہ عارفانہ شخصیت ہے جس کو قرآن میں ربانی شخصیت (آل عمران،3:79)کہا گیا ہے۔
انسانی خیر خواہی وہ بنیادی اصول ہے، جس پر تمام انسانی تعلقات کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر انسان دوستی (human-friendly behaviour) کا کردار بنتا ہے۔ سماج کا ہر فرد سماج کا دینے والا ممبر (giver member) بن…
اسلامی روحانیت
روحانیت ایک ادبی زبان کا لفظ ہے۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ مذکور نہیں۔ روحانیت اگرچہ اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے۔ لیکن یہ قرآن و حدیث کی اصطلاح نہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانیت اگر چہ باعتبار لفظ قرآن میں نہیں ہے، لیکن باعتبار معنی وہ قرآن میں موجود ہے۔ یہ قرآنی لفظ الربانیہ (آل عمران،3:79) ہے ، یعنی رب رخی زندگی (God-oriented life)۔
تاہم اسلامی روحانیت مبنی بر قلب روحانیت کا نام نہیں ہے۔ مبنی بر قلب روحانیت ایک متصوفانہ اصطلاح ہے۔ اسلامی روحانیت در اصل مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کا دوسرا نام ہے۔ مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کیا ہے۔ یہ صحتِ فکر یا مثبت تھنکنگ کا عمل ہے۔ یہ دراصل…
…مگر مذکورہ نظریہ آخرت کے بجائے دنیا کو آدمی کا نشانہ بنادیتا ہے۔ وہ تعمیر ِ آخرت کے بجائے تعمیر ِ دنیا کو اپنی منزل مقصود سمجھ لیتا ہے۔ اسلام ایک ربّانی مذہب ہے۔ مگر مذکورہ تصور اسلام کو ایک مادّی اور سیاسی مذہب میں تبدیل کردیتا ہے۔
اسلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی خدا کو دریافت کرے۔ وہ اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے (آل عمران، 3:79)۔ وہ اپنے روز مرہ کے واقعات میں حقیقتِ اعلیٰ کی جھلکیاں دیکھنے لگے۔ وہ دنیا کی زندگی کو فتنہ (آزمائش) اور آخرت کی زندگی کواصل مطلوب سمجھنے لگے۔ جو آدمی اس قسم کا ذہن رکھتا ہو اس کے لیے موجودہ دنیا میں معیاری قسم کا سماجی اور سیاسی نظام بنانا ایسا ہی ہے جیسے کہ ٹرین کا کوئی مسافر کسی پلیٹ فارم پر اپنی پسند کا گھر بنانے لگے۔
قرآن میں جنت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے:لِمِثْلِ ہَذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (37:61)۔ یعنی ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے کہا:اللَّہُمَّ لاَ…
ربانی شخصیت
قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے:کُونُوا رَبَّانِیِّینَ (3:79)۔ یعنی رب والے بنو۔ اس سے مراد وہ انسان ہے جس کی شخصیت کی تعمیر اللہ رب العالمین کی معرفت کی بنیاد پر ہوئی ہو۔ جو اللہ رب العالمین میں جینے والا انسان ہو۔ علی ابن طالب نے ربانی کا مطلب بتاتے ہوئے کہا: ہم الذین یغذّون الناس بالحکمة، ویربّونہم علیہا (زاد المسیر، 1/298)۔ یعنی ربانی وہ لوگ ہیں جو انسانوں کو حکمت کی غذا دیں،اور حکمت کی بنیاد پر لوگوں کی تربیت کریں۔
ربانی سے مراد رب والا انسان (man of God) ہے۔ یعنی وہ انسان جس کے اندر پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد تلاش کی اسپرٹ جاگے۔ وہ غور و فکر کے ذریعہ اللہ رب العالمین کو دریافت کرے۔ اس کی دریافت اتنی گہری ہوکہ وہی اس کی شخصیت بن جائے۔ وہ رب…
…اس دنیا میں وہ محکوم ہے، وہ حاکم نہیں ہے۔ اس کے لیے حقیقت پسند رویہ صرف سبمیشن (submission) ہے، یعنی وہ اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے سامنے سرینڈر (surrender)کرے۔ وہ بظاہر با اختیار ہونے کے باوجود اللہ کے سامنے بے اختیار ہوکر جھک جائے۔
اسی کا نام معرفت ہے۔دینِ خداوندی کا آغاز معرفت سے ہوتا ہے۔ انسان پہلے اپنی عقل کو استعمال کرکے اللہ رب العالمین کو دریافت کرتا ہے، اور اس کے بعد اس کے تقاضے کے طور پر وہ اللہ رب العالمین کا تابعدار بنتا ہے۔ اس کی سوچ ،اس کا شعور، اس کے جذبات، سب اللہ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والا بن جاتا ہے۔ اس کا سول کنسرن (sole concern) صرف اللہ رب العالمین بن جاتا ہے۔ جب کوئی شخص اس طرح عبادت کلچر میں ڈھل جائے، تو وہی وہ انسان ہے، جس کو قرآن میں ربانی انسان کہا گیاہے (آل عمران، 3:79)۔
…دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ اگر اس کا حق (right) ہو تو کبھی اس کو زوال یا محرومی کا تجربہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ انسان کو اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ بطور حق نہیں ملتا۔ پھر اس پانے، اور بظاہر کھونے کی توجیہہ کیا ہے۔
قرآن کے مطابق ،یہ پانا بطور ابتلاء (test) ہوتا ہے، یعنی مختلف احوال میں ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ لوگوں میں احسن العمل (67:2) کون ہے۔ یعنی وہ کون شخص ہے، جواپنے ذہن کو اتنا بیدار کرے کہ وہ خالق کی نظر میں رائٹ پرسن (right person) قرار پائے۔اسی رائٹ پرسن کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہا گیا ہے۔آخر میں یہ ہوگا کہ پوری تاریخ سےایسےافراد کو منتخب (select) کیا جائے گا، جنھوں نے اپنے عمل سے ربانی انسان ہونے کا ثبوت دیا۔
اس لحاظ سے انسانی زندگی کے دو دَور ہیں۔ پہلا دور ، عارضی مدت کا دور، دوسرا دور ابدی حیات کا دور۔پہلے دور میں جو افراد کوالیفائی کریں گے، وہ ابدی دور حیات کے لئے منتخب کیے جائیں گے، اور جو لوگ کوالیفائی نہیں کریں گے، خالق کی عدالت میں ان کا…
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے یہ کتاب اس لئے اتاری تاکہ لوگ اس کی آیتوںپر غور کریں(38:29)- یہاں تدبر سے مراد فنی تدبر نہیں ہے، بلکہ عقلی تدبر ہے- عقلی تدبر ایک بے حد وسیع عمل ہے- اس کا دائرہ قرآن سے لے کر ساری کائنات تک پھیلا ہوا ہے-
اصل یہ ہے کہ قرآن میں حقائق کی تفصیل نہیں بتائی گئی- قرآن میں صرف اشارات بتائے گئے ہیں- تدبر سے مراد قرآن کے اشارات کی روشنی میں تمام موجودات پر تدبر ہے- یہی تدبر معرفت کا خزانہ ہے- اس تدبر سے قرآن کے خدا کا کلام ہونے پر یقین بڑھتا ہے، معرفت میں اضافہ ہوتا ہے، تخلیق کی حکمتیں معلوم ہوتی ہیں، چھپی ہوئی حقیقتوں کی دریافت ہوتی ہے- تدبر کا یہی عمل ہے جس کے ذریعہ وہ مطلوب انسان بنتا ہے، جس کو قرآن میں ربانی انسان (3:79) کہاگیاہے- تدبر کا معیار قرآن کے مطابق تذکر(admonition) ہے، یعنی اپنے لئے نصیحت حاصل کرنا- اپنے ذہنی وروحانی ارتقا کا سامان کرنا-
…بنیادی نکتے تھے،ایک اللہ کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنانا، اور بلاتفریق ہر انسان کا خیرخواہ ہونا۔ یہی مشن پچھلے تمام پیغمبروں کا تھا، اور پیغمبر آخر الزماں محمد ﷺ کا مشن بھی۔ اب امت محمدی کو ہر زمانے میں اسی مشن کو زندہ رکھنا ہے۔
اللہ کو اپنا کنسرن بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے شعور کو اتنا بیدار کرے کہ وہ دریافت (discovery) کے درجہ میں اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کرے۔ یہ معرفت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ انسان کے پورے وجود کو اپنے رنگ میں رنگ لے۔ انسان کی پوری شخصیت اسی معرفت میں ڈھل جائے۔ اس کی سوچ اور اس کا قول و عمل اس کے عین مطابق ہو جائے۔ یہی وہ عارفانہ شخصیت ہے جس کو قرآن میں ربانی شخصیت (3:79)کہا گیا ہے۔
انسانی خیر خواہی وہ بنیادی اصول ہے، جس پر تمام انسانی تعلقات کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اِس کے ذریعہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر انسان دوستی (human friendly behaviour) کا کردار بنتا ہے۔ سماج کا ہر فرد سماج کے لئے دینے والا ممبر (giver…
ربانی زندگی
قرآن کی سورہ آل عمران میں اہلِ ایمان کی زندگی کا نقشہ ان الفاظ میں بتایا گیا: کونوا ربانیین (3:79) یعنی تم ربانی زندگی اختیار کرو(adopt Rab oriented life) -
انسان کی زندگی اس کے ذہن (mind) کے تحت ہوتی ہے- کوئی انسان جیسا سوچتا ہے، ویسا ہی وہ کرتاہے- اس اعتبار سے ہر عورت اور مرد کا ایک نقطہ نظر (way of thinking) ہوتا ہے- یہی نقطہ نظر اس کی زندگی میں مرکزی رول ادا کرتاہے- کونوا ربانیین کا مطلب…
…لیکن اہلِ قرآن کا گروپ رب کے لفظ کی تعبیر زمین پر قائم کیے جانے والے نظامِ ربوبیت سے کرتا ہے جو کہ عملاً اشتراکی نظام کے ہم معنی ہے- یہ نظریہ مومن سے اس کے اُس عقیدے کو چھین لینے والا ہے جو کہ بلا شبہہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے-
اِسی طرح تقوی اور خشوع جیسے الفاظ کا معاملہ ہے- یہ الفاظ مومن کی اُس داخلی شخصیت کو بتاتے ہیں جس کو قرآن میں ربانیت (3:79) کہاگیا ہے- یہ اُس انسان کی اعلی ترین صفت ہے جس کو اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل ہوجائے- لیکن اہلِ قرآن کا گروپ اس قسم کے الفاظ کی یہ خود ساختہ تعبیر کرتاہے کہ اس سے مراد دنیوی زندگی میں خدا کے قانون کی خلاف ورزی کے برے نتائج سے بچنا ہے-
یہی معاملہ عبادات کا ہے- قرآن کے مطابق، صلوة ایک نہایت اہم عبادت ہے- صلوة انسان کو اللہ سے قریب کرنے والی ہے- انسان جب حالتِ صلوة میں ہوتا ہے تو وہ محسوس کرتاہے کہ وہ اللہ کے پڑوس میں پہنچ گیاہے- لیکن اہلِ قرآن کا گروپ خود ساختہ طورپر یہ…
…سے پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ تاریخ کے معاملے میں خالق کا منصوبہ کیا ہے اور خالق کے منصوبے کے مطابق، اِس عظیم کارخانۂ تاریخ سے کون سا پروڈکٹ نکالنا مقصود ہے۔ اِس کے سوا، کوئی دوسرا نقطۂ نظر تاریخ کی درست توجیہہ میں کار آمد نہیں ہوسکتا۔
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ تاریخ کی مختلف سرگرمیوں کے دوران خالق کو جو پروڈکٹ وجود میں لانا مقصود ہے، وہ صرف ایک ہے۔ اِس پروڈکٹ کو قرآن میں ربانی انسان (3: 79) کہاگیا ہے، یعنی ایک فرد کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر۔ یہی ربانی افراد خدا کے منصوبۂ تخلیق کی اصل غایت (raison d’être) ہیں۔ جب تک یہ ربانی افراد بنتے رہیں گے، اُس وقت تک تاریخ کے ہنگامے جاری رہیں گے، اور جب اِس قسم کے افراد پیدا ہونا بند ہوجا ئیں تو اِس کے بعد وہ وقت آجائے گا، جب کہ تاریخ کے موجودہ دور کو ختم کرکے اس کے دوسرے دور کا آغاز کردیا جائے۔
خالق کے منصوبے کے مطابق، انسانی تاریخ کو عادلانہ اجتماعی نظام (just social system) کی اصطلاح میں جانچنا درست نہیں۔ خالق کا منصوبہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں عادلانہ نظام قائم ہو، بلکہ خالق کا منصوبہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی تجربہ گاہ میں…
ک دعا ایک طاقت ہے۔ نازک وقتوں میں دعا مومن کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ دعا اس اعتماد کا سرچشمہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی کھونا آخری نہیں، بلکہ ہر کھونے میںاز سرِ نو پانے کا راز چھپا ہوا ہے۔
ک شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ شکر جنت کی قیمت ہے۔ شکر کے بغیر ایمان نہیں۔ شکر کے بغیر سچی خدا پرستی نہیں۔ شکر کے بغیر آدمی اُن اعلیٰ کیفیات کا تجربہ نہیں کرسکتا جس کو قرآن میں ربّانیت (3: 79)کہاگیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین داری کی اصل روح شکر ہے۔ شکر کے بغیر دین داری ایسی ہی ہے جیسے پھل کااوپری چھلکا۔
ک آخرت میں نجات صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو خدا کے یہاں اِس حال میں پہنچیں کہ اُن کے پاس دو میں سے کوئی ایک چیز اپنی اعلیٰ صورت میں موجود ہو۔وہ دو چیزیں یہ ہیں— سچا عمل، یا سچی دعا۔ سچا عمل وہ ہے جو خالص رضائِ الٰہی کے لیے کیا جائے۔ اور…
Follow one, and respect all.
قرآن کا مطلوب انسان ربانی انسان (3: 79)ہے، یعنی وہ انسان جو اِس دنیا میں رب والا انسان بنے۔ جوخدا رخی زندگی گزارے۔ ربانی انسان بننے کے اِسی پراسس کو قرآن میں تزکیہ (2:129) کہاگیا ہے۔ قرآن کے مطابق، جنت اُنھیں افراد کے لیے ہے جو اِس دنیا میں اپنا تزکیہ کریں، جو مزکّیٰ انسان بن کر اگلی دنیا میں داخل ہوں (20: 76) ۔
تزکیہ کے معنیٰ ہیں — تطہیر (purification) ، یعنی اپنی شخصیت کو نامطلوب چیزوں سے پاک کرنا۔ شخصیت کو پاک کرنے کا یہ عمل ایک مسلسل عمل ہے۔ وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ایک مومنِ قرآن کے اندر یہ عمل اس کی زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہتا ہے۔
اسلامی جہاد
جہاد کا لفظی مطلب کوشش (struggle) ہے۔ اس کوشش کا تعلق کسی سسٹم سے نہیں۔ یعنی جہاد کا یہ نشانہ نہیں ہے کہ ایک سسٹم کو توڑ کر اس کی جگہ دوسرا سسٹم قائم کیا جائے۔بلکہ جہاد کا نشانہ انسان کی سوچ (way of thinking) بدلناہے (الفرقان، 25:52)، یعنی دنیا رخی طرز فکر کو بدل کر اس کی جگہ خدا رخی طرز فکر انسان کے اندر پیدا کرنا (آل عمران، 3:79)۔ جہا دکا نشانہ اسلامائزیشن آف سسٹم (Islamization of system) نہیں ہے ، بلکہ اسلامائزیشن آف فرد (Islamization of individual) ہے۔
زندگی کے نظام میں اصل اہمیت فرد کی ہے۔ جیسا فرد ویسا نظام۔ انسان جیسا سوچتا ہے ، ویسا ہی وہ بن جاتا ہے۔ سوچ کو بدلنے سے انسان بنتے ہیں، اور انسان کے بدلنے سے اجتماعی زندگی میں انقلاب آتا ہے۔ انقلاب کی ابتدا (beginning) فرد کی تبدیلی…
…اللہ کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنانا، اور بلاتفریق ہر انسان کا خیرخواہ ہونا۔ یہی مشن پچھلے تمام پیغمبروں کا تھا، اور پیغمبر آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن بھی۔ اب امت محمدی کو ہر زمانے میں اسی مشن کو زندہ رکھنا ہے۔
اللہ کو اپنا کنسرن بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے شعور کو اتنا بیدار کرے کہ وہ دریافت (discovery) کے درجے میں اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کرے۔ یہ معرفت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ انسان کے پورے وجود کو اپنے رنگ میں رنگ لے۔ انسان کی پوری شخصیت اسی معرفت میں ڈھل جائے۔ اس کی سوچ اور اس کا قول و عمل اس کے عین مطابق ہو جائے۔ یہی وہ عارفانہ شخصیت ہے جس کو قرآن میں ربانی شخصیت (آل عمران،3:79)کہا گیا ہے۔
انسانی خیر خواہی وہ بنیادی اصول ہے، جس پر تمام انسانی تعلقات کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر انسان دوستی (human-friendly behaviour) کا کردار بنتا ہے۔ سماج کا ہر فرد سماج کا دینے والا ممبر (giver member) بن…
اسلامی روحانیت
روحانیت ایک ادبی زبان کا لفظ ہے۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ مذکور نہیں۔ روحانیت اگرچہ اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے۔ لیکن یہ قرآن و حدیث کی اصطلاح نہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانیت اگر چہ باعتبار لفظ قرآن میں نہیں ہے، لیکن باعتبار معنی وہ قرآن میں موجود ہے۔ یہ قرآنی لفظ الربانیہ (آل عمران،3:79) ہے ، یعنی رب رخی زندگی (God-oriented life)۔
تاہم اسلامی روحانیت مبنی بر قلب روحانیت کا نام نہیں ہے۔ مبنی بر قلب روحانیت ایک متصوفانہ اصطلاح ہے۔ اسلامی روحانیت در اصل مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کا دوسرا نام ہے۔ مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کیا ہے۔ یہ صحتِ فکر یا مثبت تھنکنگ کا عمل ہے۔ یہ دراصل…
اسلامی جہاد
جہاد کا لفظی مطلب کوشش (struggle) ہے۔ اس کوشش کا تعلق کسی سسٹم سے نہیں۔ یعنی جہاد کا یہ نشانہ نہیں ہے کہ ایک سسٹم کو توڑ کر اس کی جگہ دوسرا سسٹم قائم کیا جائے۔بلکہ جہاد کا نشانہ انسان کی سوچ (way of thinking) بدلناہے (الفرقان، 25:52)، یعنی دنیا رخی طرز فکر کو بدل کر اس کی جگہ خدا رخی طرز فکر انسان کے اندر پیدا کرنا (آل عمران، 3:79)۔ جہا دکا نشانہ اسلامائزیشن آف سسٹم (Islamization of system) نہیں ہے ، بلکہ اسلامائزیشن آف فرد (Islamization of individual) ہے۔
زندگی کے نظام میں اصل اہمیت فرد کی ہے۔ جیسا فرد ویسا نظام۔ انسان جیسا سوچتا ہے ، ویسا ہی وہ بن جاتا ہے۔ سوچ کو بدلنے سے انسان بنتے ہیں، اور انسان کے بدلنے سے اجتماعی زندگی میں انقلاب آتا ہے۔ انقلاب کی ابتدا (beginning) فرد کی تبدیلی…
…اللہ کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنانا، اور بلاتفریق ہر انسان کا خیرخواہ ہونا۔ یہی مشن پچھلے تمام پیغمبروں کا تھا، اور پیغمبر آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن بھی۔ اب امت محمدی کو ہر زمانے میں اسی مشن کو زندہ رکھنا ہے۔
اللہ کو اپنا کنسرن بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے شعور کو اتنا بیدار کرے کہ وہ دریافت (discovery) کے درجے میں اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کرے۔ یہ معرفت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ انسان کے پورے وجود کو اپنے رنگ میں رنگ لے۔ انسان کی پوری شخصیت اسی معرفت میں ڈھل جائے۔ اس کی سوچ اور اس کا قول و عمل اس کے عین مطابق ہو جائے۔ یہی وہ عارفانہ شخصیت ہے جس کو قرآن میں ربانی شخصیت (آل عمران،3:79)کہا گیا ہے۔
انسانی خیر خواہی وہ بنیادی اصول ہے، جس پر تمام انسانی تعلقات کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر انسان دوستی (human-friendly behaviour) کا کردار بنتا ہے۔ سماج کا ہر فرد سماج کا دینے والا ممبر (giver member) بن…
اسلامی روحانیت
روحانیت ایک ادبی زبان کا لفظ ہے۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ مذکور نہیں۔ روحانیت اگرچہ اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے۔ لیکن یہ قرآن و حدیث کی اصطلاح نہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانیت اگر چہ باعتبار لفظ قرآن میں نہیں ہے، لیکن باعتبار معنی وہ قرآن میں موجود ہے۔ یہ قرآنی لفظ الربانیہ (آل عمران،3:79) ہے ، یعنی رب رخی زندگی (God-oriented life)۔
تاہم اسلامی روحانیت مبنی بر قلب روحانیت کا نام نہیں ہے۔ مبنی بر قلب روحانیت ایک متصوفانہ اصطلاح ہے۔ اسلامی روحانیت در اصل مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کا دوسرا نام ہے۔ مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کیا ہے۔ یہ صحتِ فکر یا مثبت تھنکنگ کا عمل ہے۔ یہ دراصل…
In the lectures
Cited at 57s — opens the lecture at this moment.
Cited at 127s — opens the lecture at this moment.
Cited at 946s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1011s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1360s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1729s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2038s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2227s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2746s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3057s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3115s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3144s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3144s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3161s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3183s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3450s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3548s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3571s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3677s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3875s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4814s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5814s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ میرے اور آپ کے درمیان کجاوہ کے پچھلے حصہ کی سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اے معاذ، کیا تم جانتےہو کہ اللہ کا حق اپنے بندوں کے اوپر کیا ہے۔ اور بندوں کا حق اللہ کے اوپر کیا ہے۔
میںنےکہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریںاور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور بندوں کا حق اللہ کے اوپر یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ پھر میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول کیا میں لوگوں کو اس کی خوش خبری نہ دے دوں۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں کو خوش خبری نہ دو ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کرلیں گے۔(متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2856، صحیح مسلم، حدیث نمبر30)
نجات کا دارومدار ہر ایک کے لیے شرک کے انکار اور توحید کے اقرارپر ہے۔ مگر اس کا مطلب صرف زبان سے کچھ الفاظ کی تکرار نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ فکری انقلاب ہے جو آدمی کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے۔ آدمی اندر سے لے کر باہر تک اور قول سے…
…اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔ میرے اور آپ کے درمیان کجاوہ کے پچھلے حصہ کی سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی۔ آپ نے فرمایا کہ اے معاذ، کیا تم جانتےہو کہ اللہ کا حق اپنے بندوں کے اوپر کیا ہے۔ اور بندوں کا حق اللہ کے اوپر کیا ہے۔
میںنےکہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریںاور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور بندوں کا حق اللہ کے اوپر یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ پھر میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول کیا میں لوگوں کو اس کی خوش خبری نہ دے دوں۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں کو خوش خبری نہ دو ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کرلیں گے۔(متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2856، صحیح مسلم، حدیث نمبر30)
نجات کا دارومدار ہر ایک کے لیے شرک کے انکار اور توحید کے اقرارپر ہے۔ مگر اس کا مطلب صرف زبان سے کچھ الفاظ کی تکرار نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ فکری انقلاب ہے جو آدمی کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے۔ آدمی اندر سے لے کر باہر تک اور قول سے…
…میں خدا کا خلیفہ ہے‘‘ قرآن و سنت میں کہیں مذکور نہیں، اور نہ صحابہ کے زمانے میں اس نظریےکا ثبوت ملتاہے۔ یہ نظریہ دراصل عباسی دور میں پیدا ہوا، اور اس کا تصور یہ تھا کہ ساری دنیا میں اپنا غلبہ قائم کرنے کے لیے فکری جواز فراہم کیا جائے۔
میرے نزدیک مسلمان خدا کے خلیفہ نہیں، بلکہ وہ خدا کے پیغام بر ہیں۔ انھیں اس تعلیم کو تمام انسانوں تک اس کی قابلِ فہم زبان (understandable language)میں پہنچانا ہے، جو قرآن وسنت کی صورت میں ان کے پاس محفوظ ہے۔
17 دسمبر 1985
…میں خدا کا خلیفہ ہے‘‘ قرآن و سنت میں کہیں مذکور نہیں، اور نہ صحابہ کے زمانے میں اس نظریےکا ثبوت ملتاہے۔ یہ نظریہ دراصل عباسی دور میں پیدا ہوا، اور اس کا تصور یہ تھا کہ ساری دنیا میں اپنا غلبہ قائم کرنے کے لیے فکری جواز فراہم کیا جائے۔
میرے نزدیک مسلمان خدا کے خلیفہ نہیں، بلکہ وہ خدا کے پیغام بر ہیں۔ انھیں اس تعلیم کو تمام انسانوں تک اس کی قابلِ فہم زبان (understandable language) میں پہنچانا ہے، جو قرآن وسنت کی صورت میں ان کے پاس محفوظ ہے۔
ہجرت سے پہلے مدینہ کے قبیلہ خزرج کا ایک وفد مکہ آیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ قریش سے اپنی حمایت کا عہد لیں۔ اس وفد میں ایاس بن معاذ بھی شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے آنے کی خبر ہوئی تو آپ ان کی قیام گاہ پر جا کر ان سے ملے۔
جب آپ ان کے پاس بیٹھ گئے تو آپ نے ان سے کہاکہ کیا تم چاہتے ہو کہ جس کام کے لیے تم لوگ یہاں آئے ہو ، اس سے زیادہ بھلی بات میں تم کونہ بتا دوں۔ انہوںنے کہا کہ وہ کون سی بات ہے۔ آپ نے کہا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ نے مجھ کو اپنے بندوں کی طرف بھیجا ہے کہ میں لوگوں کو اللہ کی طرف بلائوں اوران سے کہوں کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اوراس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔ اللہ نے میرے اوپر اپنا کلام اتارا ہے۔ اس کے بعد آپ نے قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر انہیں سنایا۔
ایاس بن معاذ جواس وقت نوجوان تھے ، انہوں نے آپ کی باتیں سن کر اپنے لوگوں سے کہا کہ اے قوم، خدا کی قسم، یہ چیز اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم یہاں آئے ہو۔ یہ سن کروفد کے ایک شخص انس بن رافع نے اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر ایاس بن معاذ کے چہرہ کی طرف…
…نہیں ہے۔ تم غیر بشریت کی سطح پر ہدایت کے طالب ہو۔ اور خدا نے ہم کو صرف بشریت کی سطح پر ہدایت دینے کی طاقت عطا کی ہے۔ ایسی حالت میں ہم اس کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں کہ تمھاری ایذاؤں کو برداشت کریں اور اس سارے معاملہ کو خدا کے حوالے کردیں۔
پیغمبروں کے مخاطبین نے جب اپنے ہم عصرپیغمبروں کو یہ کہہ کر رد کیا کہ ’’تم تو ہمارے جیسے ایک بشر ہو‘‘ تو اس کی وجہ حقیقۃً یہ نہیں تھی کہ وہ پیغمبری کے لیے غیر بشر ہونے کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ دراصل وہ فرق تھا جو ان کے اپنے تصور کے مطابق ان کو پچھلے پیغمبر اور ہم عصر پیغمبر میں نظر آتا تھا۔
گزرا ہوا پیغمبر بھی اگر چہ اپنے وقت میں ویسا ہی تھا جیسا کہ ہم عصرپیغمبر۔ مگر بعد کے دور میں گزرے ہوئے پیغمبروں کے متبعین نے ان کے گرد طلسماتی قصوں کا ہالہ بنا دیا۔ بعد کے دور میں پیغمبروں کی شخصیتوں کو ایسا افسانوی رنگ دے دیاگیا جو ابتداء ً ان کے یہاں موجود نہ تھا۔ اب قوموں کے سامنے ایک طرف فرضی شعبدوں والا پیغمبر تھا، دوسری طرف حقیقی واقعات والا پیغمبر۔ اس تقابل میں پچھلا پیغمبر پیغمبری کے لیے معیاری نمونہ بن گیا۔ اور جب قوموں نے اس معیار کے اعتبار سے دیکھا تو وقت کا حقیقی پیغمبر ان کو ماضی کے افسانوی پیغمبر سے کم نظر آیا۔ چنانچہ انھوںنے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیا۔
پیغمبروں نے اپنے مخاطبین سے کہا کہ تمھاری ان باتوں کے جواب میں ہمارے پاس صبر کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ تم غیر بشریت کی سطح پر ہدایت کے طالب ہو۔ اور خدا نے ہم کو صرف بشریت کی سطح پر ہدایت دینے کی طاقت عطا کی ہے۔ ایسی حالت میں ہم اس کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں کہ تمھاری ایذاؤں کو برداشت کریں اور اس سارے معاملہ کو خدا کے حوالے کردیں۔
پیغمبروں کی دعوت سے ان کی قوموں کے دین پر زد پڑتی تھی۔ وہ لوگ اپنے جن افراد کو قوم کے اکابر کادرجہ ديے ہوئے تھے، پیغمبروں کے تجزیہ میں وہ اصاغر قرار پارہے تھے۔ اس بنا پر وہ پیغمبروں سے بگڑ گئے۔ وہ دلائل سے تو ان کو رد نہیں کرسکتے تھے۔…
…کا قطعی ثبوت ہے۔ کیوں کہ سپر ايٹم کے اجزاء جو مکمل طورپر اندر کی طرف کھنچے ہوئے تھے، ان کو بیرونی سمت میں متحرک کرنا اپنے آپ نہیں ہوسکتا۔ لازم ہے کہ اس کے لیے کسی خارجی مداخلت کو مانا جائے۔ اسی مداخلت کرنے والی طاقت کا دوسرا نام خدا ہے۔
پیغمبروں کے مخاطبین نے جب اپنے ہم عصرپیغمبروں کو یہ کہہ کر رد کیا کہ ’’تم تو ہمارے جیسے ایک بشر ہو‘‘ تو اس کی وجہ حقیقۃً یہ نہیں تھی کہ وہ پیغمبری کے لیے غیر بشر ہونے کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ دراصل وہ فرق تھا جو ان کے اپنے تصور کے مطابق ان کو پچھلے پیغمبر اور ہم عصر پیغمبر میں نظر آتا تھا۔
گزرا ہوا پیغمبر بھی اگر چہ اپنے وقت میں ویسا ہی تھا جیسا کہ ہم عصرپیغمبر۔ مگر بعد کے دور میں گزرے ہوئے پیغمبروں کے متبعین نے ان کے گرد طلسماتی قصوں کا ہالہ بنا دیا۔ بعد کے دور میں پیغمبروں کی شخصیتوں کو ایسا افسانوی رنگ دے دیاگیا جو ابتداء ً ان کے یہاں موجود نہ تھا۔ اب قوموں کے سامنے ایک طرف فرضی شعبدوں والا پیغمبر تھا، دوسری طرف حقیقی واقعات والا پیغمبر۔ اس تقابل میں پچھلا پیغمبر پیغمبری کے لیے معیاری نمونہ بن گیا۔ اور جب قوموں نے اس معیار کے اعتبار سے دیکھا تو وقت کا حقیقی پیغمبر ان کو ماضی کے افسانوی پیغمبر سے کم نظر آیا۔ چنانچہ انھوںنے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیا۔
پیغمبروں نے اپنے مخاطبین سے کہا کہ تمھاری ان باتوں کے جواب میں ہمارے پاس صبر کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ تم غیر بشریت کی سطح پر ہدایت کے طالب ہو۔ اور خدا نے ہم کو صرف بشریت کی سطح پر ہدایت دینے کی طاقت عطا کی ہے۔ ایسی حالت میں ہم اس کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں کہ تمھاری ایذاؤں کو برداشت کریں اور اس سارے معاملہ کو خدا کے حوالے کردیں۔
پیغمبروں کے مخاطبین نے جب اپنے ہم عصرپیغمبروں کو یہ کہہ کر رد کیا کہ ’’تم تو ہمارے جیسے ایک بشر ہو‘‘ تو اس کی وجہ حقیقۃً یہ نہیں تھی کہ وہ پیغمبری کے لیے غیر بشر ہونے کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ دراصل وہ فرق تھا جو ان کے اپنے تصور کے…
…ہوتا ہے کہ آدمی ایک نیا ذہنی سفر کرے۔ وہ خدا کو دوبارہ شعور کی سطح پر پائے۔ ماضی کے پیغمبر کو ماننا تقلیدی ایمان کے تحت ہوتا ہے اور وقت کے پیغمبر کو ماننا ارادی ایمان کے تحت۔ مگر اللہ کے یہاں قیمت ارادی ایمان کی ہے، نہ کہ تقلیدی ایمان کی۔
خدا کا پیغمبر انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے۔ وہ عام آدمی کی صورت میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ اس ليے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ایک عام آدمی کو کس طرح خدا کا نمائندہ مان لیں۔ وہ کیسے یقین کرلیں کہ سامنے کا آدمی ایک ایسا شخص ہے جو خدا کی طرف سے بولنے کے لیے مقرر ہوا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ جو کلام تم پیش کررہے ہو اس کو آسمان سے آتا ہوا دکھاؤ یا خداخود تمھاری تصدیق کے لیے آسمان سے اتر پڑے تب ہم تمھاری بات مانیںگے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ حد درجہ غیر سنجیدہ مطالبہ ہے۔ کیوں کہ انسان کا امتحان تو یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر مانے، وہ حقیقتوں کو ان کی معنوی صورت میں پالے۔ ایسی حالت میں دکھا کر منوانے کا کیا فائدہ۔ نیز یہ کہ اگر کچھ دیر کے لیے عالم کے نظام کو بدل دیا جائے اور آدمی کو اس کے مطالبہ کے مطابق چیزوں کو دکھا دیا جائے تب بھی وہ بے فائدہ ہوگا۔ کیوں کہ یہ دکھانا بہر حال وقتی ہوگا، نہ کہ مستقل۔ اور انسان کی آزادی جو اس کو سرکشی کی طرف لے جاتی ہے اس کے بعد بھی باقی رہے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ دیکھنے کے وقت تک وہ سہم کر مان لے گا اور اس کے بعد دوبارہ اپنی آزادی کا غلط استعمال شروع کردے گا جیسا کہ دیکھنے سے پہلے کررہا تھا۔ یہود کی مثال اس کی تاریخی تصدیق کرتی ہے۔
کوہ طور کے دامن میں غیر معمولی حالات پیدا کرکے یہود سے یہ عہد لیاگیا تھا کہ وہ اپنے عبادت خانہ (خروج،
19:16-19
)میں تواضع کے ساتھ داخل ہوں اور خشوع کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔ اور یہ کہ معاش کے حصول کے لیے جو جدوجہد کریں وہ اللہ کے حدود میں رہ کر کریں، نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔ مگر یہود نے اس قسم کے تمام عهدوںکو توڑ دیا۔
’’موسی کو ہم نے سلطان مبین (کھلی حجت) دی‘‘— اللہ کا یہ معاملہ ہر پیغمبر کے ساتھ ہوتا ہے۔ پیغمبر اگرچہ ایک عام انسان کی طرح ہوتا ہے مگر اس کے کلام اور اس کے احوال میں ایسے کھلے ہوئے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اس کی خدائی حیثیت کو قطعیت کے ساتھ ثابت کررہے ہوتے ہیں۔ مگر ظالم انسان ہر خدائی نشانی کی ایک ایسی توجیہہ ڈھونڈ لیتاہے جس کے بعد وہ اس کو رد کرکے اپنی سرکشی کی زندگی کو بدستور جاری رکھے۔
خدا کا پیغمبر انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے۔ وہ عام آدمی کی صورت میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ اس ليے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ایک عام آدمی کو کس طرح خدا کا نمائندہ مان لیں۔ وہ کیسے یقین کرلیں کہ سامنے کا آدمی ایک ایسا شخص ہے…
…کے احوال میں ایسے کھلے ہوئے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اس کی خدائی حیثیت کو قطعیت کے ساتھ ثابت کررہے ہوتے ہیں۔ مگر ظالم انسان ہر خدائی نشانی کی ایک ایسی توجیہہ ڈھونڈ لیتاہے جس کے بعد وہ اس کو رد کرکے اپنی سرکشی کی زندگی کو بدستور جاری رکھے۔
خدا کا پیغمبر انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے۔ وہ عام آدمی کی صورت میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ اس ليے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ایک عام آدمی کو کس طرح خدا کا نمائندہ مان لیں۔ وہ کیسے یقین کرلیں کہ سامنے کا آدمی ایک ایسا شخص ہے جو خدا کی طرف سے بولنے کے لیے مقرر ہوا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ جو کلام تم پیش کررہے ہو اس کو آسمان سے آتا ہوا دکھاؤ یا خداخود تمھاری تصدیق کے لیے آسمان سے اتر پڑے تب ہم تمھاری بات مانیںگے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ حد درجہ غیر سنجیدہ مطالبہ ہے۔ کیوں کہ انسان کا امتحان تو یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر مانے، وہ حقیقتوں کو ان کی معنوی صورت میں پالے۔ ایسی حالت میں دکھا کر منوانے کا کیا فائدہ۔ نیز یہ کہ اگر کچھ دیر کے لیے عالم کے نظام کو بدل دیا جائے اور آدمی کو اس کے مطالبہ کے مطابق چیزوں کو دکھا دیا جائے تب بھی وہ بے فائدہ ہوگا۔ کیوں کہ یہ دکھانا بہر حال وقتی ہوگا، نہ کہ مستقل۔ اور انسان کی آزادی جو اس کو سرکشی کی طرف لے جاتی ہے اس کے بعد بھی باقی رہے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ دیکھنے کے وقت تک وہ سہم کر مان لے گا اور اس کے بعد دوبارہ اپنی آزادی کا غلط استعمال شروع کردے گا جیسا کہ دیکھنے سے پہلے کررہا تھا۔ یہود کی مثال اس کی تاریخی تصدیق کرتی ہے۔
کوہ طور کے دامن میں غیر معمولی حالات پیدا کرکے یہود سے یہ عہد لیاگیا تھا کہ وہ اپنے عبادت خانہ (خروج،
19:16-19
)میں تواضع کے ساتھ داخل ہوں اور خشوع کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔ اور یہ کہ معاش کے حصول کے لیے جو جدوجہد کریں وہ اللہ کے حدود میں رہ کر کریں، نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔ مگر یہود نے اس قسم کے تمام عهدوںکو توڑ دیا۔
’’موسی کو ہم نے سلطان مبین (کھلی حجت) دی‘‘— اللہ کا یہ معاملہ ہر پیغمبر کے ساتھ ہوتا ہے۔ پیغمبر اگرچہ ایک عام انسان کی طرح ہوتا ہے مگر اس کے کلام اور اس کے احوال میں ایسے کھلے ہوئے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اس کی خدائی حیثیت کو قطعیت کے ساتھ ثابت کررہے ہوتے ہیں۔ مگر ظالم انسان ہر خدائی نشانی کی ایک ایسی توجیہہ ڈھونڈ لیتاہے جس کے بعد وہ اس کو رد کرکے اپنی سرکشی کی زندگی کو بدستور جاری رکھے۔
یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔…
حکمت کی تعلیم
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کا رسول انسانوں کو اللہ کی کتاب دیتا ہے، جس میں اللہ کے قوانین درج ہیں، اور اسی کے ساتھ وہ انسان کوحکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ حکمت کی تعلیم سے کیا چیز مراد ہے۔اصل یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم پر عمل کرنا،کوئی سادہ بات نہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ دنیا ایک میدان ہے، اور اس میں ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جو کچھ کرنا چاہے، بلا روک ٹوک اپنی مرضی کے مطابق انجام دے سکے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ دنیا میں دوسرے بہت سے انسان آباد ہیں۔ ہر ایک کے اپنے منصوبے ہیں، ہر ایک کا اپنا الگ الگ ایجنڈا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا منصوبہ بنائے۔ اگر لوگ ایسا نہ کریں تو سارے لوگ آپس میں لڑیں گے، اور کوئی بھی شخص اپنا کام درست طور پر انجام نہ دے سکے گا۔
ایسی حالت میں انسان کو اپنا کام انجام دینے کے لیے دانش مندانہ منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ اس دانش مندانہ منصوبے کو ایک لفظ میں پریکٹکل وزڈم کہا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے قرآن کی ان آیات میں حکمت سے مراد عملی دانش مندی (practical wisdom) ہے۔ یعنی…