Al-Risala June 2020

اسلامی روحانیت

Al-Risala June 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - June 2020
  2. ہر ایک کے لیے خیر
  3. جدید اسپتال
  4. انسان کے لیے سبق
  5. اللہ کی معرفت
  6. حمد کلچر
  7. غضب، رحمت
  8. اہل جنت
  9. اللہ کو دھوکہ دینا
  10. بے خدا زندگی
  11. گوشۂ رحمت
  12. عافیت کا راز
  13. بگ برڈ تھنکنگ
  14. غلطیوں کی معافی
  15. بے مسئلہ انسان
  16. بددعا نہیں، دعا
  17. انسانی خیر خواہی
  18. اسلامی روحانیت
  19. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
  20. دین ِاسلام
  21. جہاد بالنفس
  22. انسان کا جسم
  23. خوف، بے خوفی
  24. آزادی، ڈسپلن
  25. پریکٹکل وزڈم
  26. اِینٹی سیلف انسان
  27. اخلاقیات کا معاملہ
  28. کامیابی اور ناکامی
  29. توازن یا ترجیح
  30. فطرت کا سبق
  31. شہد کی مکھی کا سبق
  32. سوال و جواب

اسلامی روحانیت

روحانیت ایک ادبی زبان کا لفظ ہے۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ مذکور نہیں۔ روحانیت اگرچہ اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے۔ لیکن یہ قرآن و حدیث کی اصطلاح نہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانیت اگر چہ باعتبار لفظ قرآن میں نہیں ہے، لیکن باعتبار معنی وہ قرآن میں موجود ہے۔ یہ قرآنی لفظ الربانیہ (آل عمران،3:79) ہے ، یعنی رب رخی زندگی (God-oriented life)۔original + quote

تاہم اسلامی روحانیت مبنی بر قلب روحانیت کا نام نہیں ہے۔ مبنی بر قلب روحانیت ایک متصوفانہ اصطلاح ہے۔ اسلامی روحانیت در اصل مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کا دوسرا نام ہے۔ مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کیا ہے۔ یہ صحتِ فکر یا مثبت تھنکنگ کا عمل ہے۔ یہ دراصل صحتِ فکر ہی ہے، جو انسان کو حیوان سے ممیز کرتی ہے۔

قرآن میں اس موضوع پر جو آیتیں آئی ہیں، ان کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مبنی بر ذہن روحانیت (mind-based spirituality) کو مانتا ہے۔ مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) کا تصور اسلام میں موجود نہیں۔قرآن میں عقل کے مترادف کم سے کم چھ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں— عقل، فؤاد، لب، قلب، حجر، نُہٰی۔ان کے سوا قرآن میں اور بہت سے الفاظ ہیں، جو بالواسطہ طورپر عقل سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً سمع اور بصر، وغیرہ۔ یہ ایک واحد حقیقت کو بتانے کے لیے مختلف الفاظ ہیں۔original + quote

یہ جوبتایا جاتا ہے کہ عقل سوچ کا مرکز ہے، اور قلب جذبات کا مرکز ۔یہ درست تصور نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ اور فکر کے تمام پہلوؤں کا مرکز ایک ہی ہے، اور وہ عقل ہے۔ قلب (heart) کا فنکشن صرف ایک ہے، اور وہ ہے انسان کے جسم میں تیار شدہ خون کو رگوں کے ذریعے جسم کے تمام حصوں میں پہنچانا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قلب (heart) کو تھنکنگ ہارٹ (thinking heart) سمجھنا، ایک بے خبری کا کیس ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔