Qur'an 3:190
Qur'an 3:190
إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ
Indeed, in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are signs for those of understanding
Explained in 10 book passages
and 21 lecture moments.
Cite / permalink: quran/3:190
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…then the blazing balls of fire in the form of stars in the sky remind one of Hell. If a person reflects on these signs on the Earth and in the skies, he can be filled with remembrance of God. The Quran points to this in these words:
“There are signs in the creation of the heavens and the earth, and in the alternation of night and day for people of understanding; who remember God while standing, sitting and [lying] on their sides, and who ponder over the creation of the heavens and the
earth.” (3:190-191)
کائنات معرفت کاخزانہ
قرآن میں سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیا گیا ہے، وہ تدبر اور تفکر ہے۔ قرآن کے مطابق، ہماری گر دوپیش کی دنیا حقائق کاخزانہ ہے۔ اس میں غور وفکر کے ذریعہ آدمی زندگی کی حقیقتوں کو دریافت کر سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی کچھ آیتیں یہ ہیںإِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِی الْأَلْبَابِ ۔ الَّذِینَ یَذْکُرُونَ اللَّہَ قِیَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُونَ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (3:190-191)۔ یعنی، آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوںکے لیے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں ااور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصدنہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کوآگ کے عذاب سے بچا۔
قرآن کی ان آیتوں میں جوبات کہی گئی ہے اس کو سائنس آف ٹروتھ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ کائنات کے سائنسی مطالعہ کامقصد صرف ٹیکنکل ترقی نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا ایک اور مقصد ہے، اور وہ ہے خالق کی تخلیقات میں خالق کو دریافت کرنا۔ تخلیقات…
(www.en.wikipedia.org/wiki/Quasar [accessed on 02.04.2020])
نعمتوں سے بھری ہوئی یہ زمین اللہ کے جمال کی مظہر (manifestation of beauty) ہے، اور خلا (space) کے دہشت ناک ستارے اللہ کے جلال کا مظہر (manifestation of majesty)ہیں۔ لائف سپورٹ سسٹم والی یہ زمین اگر جنتی زندگی کی علامت ہے تو ستاروں (stars) کی شکل میں دہکتے ہوئے شعلے جہنم کی یاد دلاتےہیں۔ آدمی اگر زمین وآسمان کی ان نشانیوں (signs)پر غور کرے تو اس کا سینہ خدا کی یاد سے بھر جائے گا۔اس حقیقت کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِی الْأَلْبَابِ (3:190)۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔
…چیز مہیا کررہا ہے،وغیرہ۔ انسان کے ذہن میں پیدا ہونے والے اس قسم کے سوالات کا سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ کون ہستی ہے، جو ہمیں اور اس کائنات کو چلارہی ہے۔ ہم اس کو کیسے جان سکتے ہیں۔ یعنی کون میرا خالق ہے، اور اس سے ہم کیسے مل سکتے ہیں۔
یہی معرفت کی پہلی سیڑھی ہے۔ قرآن میں سچائی کے متلاشی (seeker of truth)کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ کائنات میں تدبر و تفکر کرکے خدا تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں (آل عمران، 3:190-194)۔ سچے ایمان والے کے اندر پہلی چیز جو آتی ہے، وہ اللہ رب العالمین کی معرفت ہے۔ اس کے بعد معرفت کےنتیجے میں بہت سی دوسری چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے تقویٰ، سنجیدگی (sincerity)، تواضع(modesty)، وغیرہ۔
…لیا۔ وہ پکار اٹھے کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ امیدرکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔ (5:83-84)۔
یہ دھماکہ خیز تجربہ آدمی کو اپنے خالق کی دریافت تک پہنچاتا ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ ایسا انسان ایک غور و فکر والا انسان بن جاتا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ اے ہمارے رب، تو نے جس کو آگ میں ڈالا، اس کو تو نے واقعی رسوا کردیا۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب، ہمارے گنا ہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر(3:190-193)۔
سچائی کو پانا آدمی کے لیے ایک دھماکہ خیز دریافت کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایسا شخص سنجیدہ غور و فکر کرنے والا بن جاتا ہے۔اس کے بعد اس کے اندر ربانی شخصیت بننا شروع ہوجاتی ہے، جس کا آخری درجہ یہ ہے کہ اس کو ابدی جنت میں داخلہ مل جائے۔
اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ان دو آیتوں کا مطالعہ کیجئے:
إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِی الْأَلْبَابِ ۔ الَّذِینَ یَذْکُرُونَ اللَّہَ قِیَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُونَ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (3:190-191)۔یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اوررات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اوربیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔
قرآن کے اس بیان کے مطابق اہل ایمان اُولو الالباب (people of understanding) ہوتے ہیں۔ وہ اپنےاردگرد کی دنیا پر مسلسل طور پر غور کرتے ہیں۔ وہ خدا کی تخلیق میں خدا کی نشانیاں (signs) دریافت کرتے رہتے ہیں۔ ان کا بیدار ذہن فطرت (nature) کے ہر…
(www.en.wikipedia.org/wiki/Quasar [accessed on 02.04.2020])
نعمتوں سے بھری ہوئی یہ زمین اللہ کے جمال کی مظہر (manifestation of beauty) ہے، اور خلا (space) کے دہشت ناک ستارے اللہ کے جلال کا مظہر (manifestation of majesty)ہیں۔ لائف سپورٹ سسٹم والی یہ زمین اگر جنتی زندگی کی علامت ہے تو ستاروں (stars) کی شکل میں دہکتے ہوئے شعلے جہنم کی یاد دلاتےہیں۔ آدمی اگر زمین وآسمان کی ان نشانیوں (signs)پر غور کرے تو اس کا سینہ خدا کی یاد سے بھر جائے گا۔اس حقیقت کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِی الْأَلْبَابِ (3:190)۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔
…چیز مہیا کررہا ہے،وغیرہ۔ انسان کے ذہن میں پیدا ہونے والے اس قسم کے سوالات کا سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ کون ہستی ہے، جو ہمیں اور اس کائنات کو چلارہی ہے۔ ہم اس کو کیسے جان سکتے ہیں۔ یعنی کون میرا خالق ہے، اور اس سے ہم کیسے مل سکتے ہیں۔
یہی معرفت کی پہلی سیڑھی ہے۔ قرآن میں سچائی کے متلاشی (seeker of truth)کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ کائنات میں تدبر و تفکر کرکے خدا تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں (آل عمران، 3:190-194)۔ سچے ایمان والے کے اندر پہلی چیز جو آتی ہے، وہ اللہ رب العالمین کی معرفت ہے۔ اس کے بعد معرفت کےنتیجے میں بہت سی دوسری چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے تقویٰ، سنجیدگی (sincerity)، تواضع(modesty)، وغیرہ۔
(www.en.wikipedia.org/wiki/Quasar [accessed on 02.04.2020])
نعمتوں سے بھری ہوئی یہ زمین اللہ کے جمال کی مظہر (manifestation of beauty) ہے، اور خلا (space) کے دہشت ناک ستارے اللہ کے جلال کا مظہر (manifestation of majesty)ہیں۔ لائف سپورٹ سسٹم والی یہ زمین اگر جنتی زندگی کی علامت ہے تو ستاروں (stars) کی شکل میں دہکتے ہوئے شعلے جہنم کی یاد دلاتےہیں۔ آدمی اگر زمین وآسمان کی ان نشانیوں (signs)پر غور کرے تو اس کا سینہ خدا کی یاد سے بھر جائے گا۔اس حقیقت کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِی الْأَلْبَابِ (3:190)۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔
…چیز مہیا کررہا ہے،وغیرہ۔ انسان کے ذہن میں پیدا ہونے والے اس قسم کے سوالات کا سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ کون ہستی ہے، جو ہمیں اور اس کائنات کو چلارہی ہے۔ ہم اس کو کیسے جان سکتے ہیں۔ یعنی کون میرا خالق ہے، اور اس سے ہم کیسے مل سکتے ہیں۔
یہی معرفت کی پہلی سیڑھی ہے۔ قرآن میں سچائی کے متلاشی (seeker of truth)کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ کائنات میں تدبر و تفکر کرکے خدا تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں (آل عمران، 3:190-194)۔ سچے ایمان والے کے اندر پہلی چیز جو آتی ہے، وہ اللہ رب العالمین کی معرفت ہے۔ اس کے بعد معرفت کےنتیجے میں بہت سی دوسری چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے تقویٰ، سنجیدگی (sincerity)، تواضع(modesty)، وغیرہ۔
In the lectures
Cited at 446s — opens the lecture at this moment.
Cited at 462s — opens the lecture at this moment.
Cited at 577s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1542s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2116s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2325s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2867s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2912s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3189s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3276s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3307s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3736s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4463s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4492s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4744s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4925s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4953s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5114s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5131s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6311s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6855s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…stones of the mountains are different in colour (35:27), in plants there are diverse varieties (20:53), and the same picture is observable in the animal world. Regarding man, the Quran, in the chapter Al-Rum (The Romans) has this to say:
Another of His signs is that He created the heavens and earth, and the diversity of your languages and colours. There truly are signs in this for those who know. (30:22)
It is a fact that our life is full of differences. In fact, every man is Mr. Different and every woman is Ms. Different. Diversity is an integral part of nature and is immutable.
…ہے کہ معرفت کی سطح پر خدا کے دین کا اظہار کیا جائے۔قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس اظہار حق کے دو دور ہیں۔ پہلا دور وہ تھا جب کہ حق کا اظہار سادہ فطری منطق (natural logic) کی بنیاد پر کیاگیا۔ اس کا بیان قرآن میں اِس طرح ملتا ہے:
’’آسمانوں اور زمین کی پیدائش میںاور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میںغور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا‘‘۔ (آل عمران ۹۴ــ ۹۵)
یہ معرفتِ حق کی وہ سطح ہے جب کہ آدمی تخلیق کی سادہ سطح پر مطالعہ کرکے خالق کو پالیتا ہے۔ وہ کائنات کے سادہ مطالعے کے ذریعے خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کو دریافت کرلیتا ہے۔ وہ فطرت کی سادہ سطح پر تخلیق کی معنویت کو جان لیتا…
…کہ وہ نہ دکھائی دینے والے عالم کو دیکھنے لگے۔ وہ خدا کا اس طرح پرستار بن جائے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ وہ افکار کے جنگل میں روشنی کے مینار کو پالے۔ اسی کا نام عارفانہ ایمان ہے، اور خدا کو عارفانہ ایمان مطلوب ہے، نہ کہ مقلدانہ ایمان۔
میں نے کہا کہ قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں ارشاد ہوا ہے: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اُٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (آل عمران ۱۹۰۔۱۹۱)۔
اس قرآنی بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی غور وفکر کے ذریعہ سچائی تک پہنچتا ہے۔ اگر سچائی کو پانے کے لیے غوروفکر کی ضرورت نہ ہوتی تو قرآن کو ایک مینول (manual) کے روپ میں اتارا جاتا۔ اس میں ریاضیات کی زبان میں کچھ قانونی احکام ہوتے۔ آدمی…
خدا کی نشانی
إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِلْمُؤْمِنِينَ۔وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَابَّةٍ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ رِزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ(45:3-5)۔یعنی، بے شک آسمانوں اورزمین میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیںاورتمہارے اورحیوانات کو پیدا کرنے میں جن کو زمین میں پھیلا دیا ہے نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے۔ اور رات اوردن کے آنے جانے میں اوراس رزق میں جس کو اللہ نے اتاراہے پھر اس سے زمین کو زندہ کیا اس کے خشک ہونے کے بعد اورہوائوں کے چلنے میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے۔
قرآن میں کثرت سے اس طرح کی آیتیں ہیں جن میںکہا گیا ہے کہ کائنات میںسوچنے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسان سے جن معنوی حقیقوں پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا ہے ان کی مادی تمثیلات اس نے کائنات میں ہر طرف قائم…
…ہو، ایسا انسان ایک مختلف قسم کا انسان کا ہوتا ہے۔ اس کے ذہن میں ہمیشہ ٹرین آف تھاٹ (train of thought) کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر واقعہ اس کے ذہن کو ٹریگر (trigger) کرتا رہتا ہے۔ اس بنا پر اس کے افکار کا سفر رکے بغیر رات دن جاری رہتا ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (آل عمران 190-191:)۔ اس حقیقت کو سیرت رسول کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:متواصل الأحزان، دائم الفکرة، لیست لہ راحة، طویل السکت، لا یتکلم فی غیر حاجة (شرح السنۃ للبغوی، حدیث نمبر3705)۔ یعنی آپ بے حد سنجیدہ اور مسلسل غور و فکر میں رہتے تھے،آپ کے لیے کوئی راحت نہیں تھی، دیر تک خاموش رہتے، بغیر ضرورت بات نہ کرتے۔
یہی وہ مزاج ہے جو کسی انسان کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا کرتا ہے جس کو تخلیقی فکر (creative thinking) کہا جاتا ہے۔ تخلیقی فکر والا آدمی ہر آن دنیائے حقیقت کا مسافر بنا رہتا ہے۔ وہ ہر لمحہ معرفت کے نئے آئٹم دریافت کرتا رہتا ہے۔ اس کے نتیجے…
One of the major concerns of the Quran is to inculcate in every man and woman the spirit of contemplation. In the chapter Al-Hijr (The Rocky Tract) the Quran refers to certain historical phenomena and then says:
There are certainly signs in that for those who can learn a lesson. (15:75)
(www.en.wikipedia.org/wiki/Quasar [accessed on 02.04.2020])
نعمتوں سے بھري هوئي يه زمين الله كے جمال كي مظهر (manifestation of beauty) ہے، اور خلا (space) كے دهشت ناك ستارے الله كے جلال كا مظهر (manifestation of majesty)هيں۔ لائف سپورٹ سسٹم والی یہ زمين اگر جنتي زندگي كي علامت هے تو ستاروں (stars) كي شكل ميں دهكتے هوئے شعلے جهنم كي ياد دلاتےهيں۔ آدمي اگر زمين وآسمان كي ان نشانيوں (signs)پر غور كرے تو اس كا سينه خدا كي ياد سے بھر جائے گا۔اس حقیقت کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (3:190)۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔
ڈیکارٹ کا یہ فارمولا جس طرح انسان کے وجود پر منطبق ہوتا ہے، اُسی طرح وہ خدا کے وجود کے لیے بھی قابلِ انطباق (applicable)ہے۔ میں نے اِس قول پر اضافہ کرتے ہوئے کہا — انسان کا وجود خدا کے وجود کو قابلِ فہم بناتاہے
Existence of man makes the existence of God understandable.
خدا کے وجود کے بارے میں یہ میرا پہلا فلسفیانہ استدلال تھا۔ میںنے کہا — میرا وجود ہے، اِس لیے خدا کا بھی وجود ہے
ڈیکارٹ کا یہ فارمولا جس طرح انسان کے وجود پر منطبق ہوتا ہے، اُسی طرح وہ خدا کے وجود کے لیے بھی قابل انطباق (applicable)ہے۔ میں نے اِس قول پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ — انسان کا وجود خدا کے وجود کو قابل فہم بناتاہے
Existence of man makes the existance of God understandable.
خدا کے وجود کے بارے میں یہ میرا پہلا فلسفیانہ استدلال تھا۔ میں نے کہا کہ— میرا وجود ہے، اِس لیے خدا کا بھی وجود ہے (I am, therefore God is) ۔
قرآن کی سورہ آل عمران کی آخری رکوع میں مومن کی تصویر بتائی گئی ہے۔اس رکوع میں کل گیارہ آیتیں ہیں۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:
آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں ۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔اے ہمارے رب، تو نے جس کو آگ میں ڈالا، اس کو تو نے واقعی رسوا کردیا۔ اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ۔ اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب، ہمارے گنا ہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔اے ہمارے رب، تو نے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے کئے ہیں، ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بےشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔ ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے، میں ان کی خطائیں ضرور ان سے دور کر دوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کا بدلہ ہے اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور ملک کے اندر منکروں کی سرگرمیاں تم کو دھوکے میں نہ ڈالیں ۔ یہ تھوڑا فائدہ ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ کیسابرا ٹھکانا ہے۔ البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ، ان کے لئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کی میزبانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے پاس نیک لوگوں کے لئے ہے، وہی سب سے بہتر ہے۔ اور بےشک اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، وہ اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور وہ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ نہیں دیتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلدحساب لینے والا ہے۔ اے ایمان والو، صبر کرو اورصبر پر قائم رہو اور باہم مربوط رہو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم کامیاب ہوگے۔
آیات 190-192 — ان آیتوں میں مومن کی فکری زندگی کو بتایا گیا ہے۔وہ صبح و شام، رات دن تخلیقِ خداوندی پر غور کرتا ہے۔ اس مسلسل غور و فکر سے اس کو زندگی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے، خدایا، مجھے آخرت کی ابدی دنیا میں ناکامی سے…