Shukr All cross-references →
Qur'an 3:140
Qur'an 3:140

إِن يَمۡسَسۡكُمۡ قَرۡحٞ فَقَدۡ مَسَّ ٱلۡقَوۡمَ قَرۡحٞ مِّثۡلُهُۥۚ وَتِلۡكَ ٱلۡأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيۡنَ ٱلنَّاسِ وَلِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَيَتَّخِذَ مِنكُمۡ شُهَدَآءَۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٰلِمِينَ

If a wound should touch you - there has already touched the [opposing] people a wound similar to it. And these days [of varying conditions] We alternate among the people so that Allah may make evident those who believe and [may] take to Himself from among you martyrs - and Allah does not like the wrongdoers

Explained in 11 book passages and 37 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…Muslims fell into despair. They said: “We were following the true path, so why did we suffer a defeat at the hands of those who had adopted falsehood in their lives?” At that time, God Almighty revealed the following verse in the Quran:

And do not become faint of heart, nor grieve—you will have the upper hand, if you are believers—If you have suffered a wound, they too have suffered a similar wound. We bring these days to men by turns, so that God may know those who believe, and choose witnesses from among you; and God does not love the unjust. (3:139-140)

This observation set forth in the Quran at that time, also has a general application. It tells us of a universal law of nature, according to which success is not the monopoly of a single person or group. According to the law of nature,…

Al-Risala March 2022 A original + quote

حالات یکساں نہیں رہتے

سورہ آل عمران میں ایک صورت حال پر تبصرہ ہے۔پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کو بدر کے مقابلہ میں اپنے مخالفین پرفتح حاصل ہوئی تھی ۔ اس کے بعد احد میں انہیں اپنے مخالفین سے شکست ہو گئی ۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہےإِنْ یَمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُہُ وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ (3:140)۔ یعنی، اگر تم کوکوئی زخم پہنچاہے تو دشمن کو بھی ویسا ہی زخم پہنچ چکا ہے۔ اور ہم ان ایا م کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔

قرآن کی اس آیت میں قو موں کے بارے میںایک تاریخی قانون کو بیان کیا گیا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی قوم ہمیشہ غالب رہے یا ہمیشہ فتح حاصل کرتی رہے ۔ اس بنا پر حالات ہمیشہ کسی ایک قوم کے موافق نہیں ہوتے ۔ حالات کافیصلہ…

Al-Risala June 2018 A original + quote

…ہوئے قرآن میں کہاگیا : کَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِیلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیرَةً بِإِذْنِ اللَّہِ وَاللَّہُ مَعَ الصَّابِرِینَ (2:249) ۔ یعنی اس دنیا میں کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ عددی اقلیت رکھنے والا گروہ، عددی اکثریت کے اوپر غالب آیا ۔

اسی طرح 3 ہجری میں غزوۂ اُحد پیش آیا۔ ا س میں مسلمانوں کو مشرکین کے مقابلے میں شکست ہوئی۔ یہ بظاہر ایک دل شکن واقعہ تھا۔ مگر اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رہنما آیتیں اتریں، وہ دوبارہ اس کے روشن پہلو کی طرف نشاندہی کرنے والی تھیں۔ ان میں سے قرآن کی ایک آیت یہ ہے: إِنْ یَمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُہُ وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ (3:140)۔ یعنی احد کی جنگ میں اگر تم کو زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے بدر کی جنگ میں مشرکین کو زخم پہنچ چکا ہے۔ اور ہم ان ایام کولوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں ۔

اسی طرح 6 ہجری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان وہ واقعہ پیش آیا جس کو صلح حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ یہ صلح بظاہر مسلمانوں کی سیاسی شکست کے ہم معنی تھی۔ مگر قرآن میں جب اس پر تبصرہ کیاگیا تو برعکس طورپر، اللہ تعالیٰ نے…

Al-Risala April 2018 A original + quote

…عرصے تک سیاسی عظمت حاصل ہوئی۔ حالات نے ان کو موقع دیا کہ وہ زمین کے بڑے حصے میں اپنا ایمپائر قائم کرلیں۔ اس کے بعد جب جدید دور آیا تو دوبارہ حالات کے تقاضے کے تحت ان کی سلطنتیں ٹوٹ گئیں، اور دھیرے دھیرے ہر جگہ جمہوری سلطنتیں قائم ہوگئیں۔

یہ سیاسی واقعہ جو پیش آیا، وہ قرآن میں بیان کردہ اس قانون کے تحت ہوا :وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ َ (3:140)۔یعنی اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن مسلم رہنماؤں نے شعوری یا غیر شعور ی طور پر سیاسی عظمت کو اپنا قومی حق سمجھ لیا۔ وہ اپنی سیاسی عظمت کو واپس لانے کے لیے کوششیں کرنے لگے، اور غلط طور پر ان کوششوں کو جہاد کا نام دے دیا۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوری مسلم قوم کے لیے یہ معاملہ سیاسی کنڈیشننگ (political conditioning) کا معاملہ بن گیا ہے۔ اب پولیٹکل پیٹرن کے سوا کوششوں کا کوئی دوسرا پیٹرن ان کو درست پیٹرن نظر نہیں آتا۔ ان کو صرف ایک بات معلوم ہے— جس قوم کو اپنا حریف سمجھیں، اس پر بم مارنا، اور جب اس غلط پلاننگ کا الٹا نتیجہ نکلے تو اپنے آپ کو مظلوم بتا کر ظلم کی شکایت کرنا۔

Al-Risala January 2015 A original + quote

تاریخ کا قانون

انسانی تاریخ کے بارے میں خدا وند عالم کا ایک قانون ہے- اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ ۭ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ۚ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ (3:140) یعنی اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو مقابل قوم کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے، اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہـتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا-

اِس آیت میں اس صورت حال کا ذکر ہے کہ فتح وشکست یا غلبہ اور مغلوبیت کے معاملہ کے حالات کبھی یکساں نہیں ہوتے- کبھی ایک قوم کو غلبہ ملتاہے اور کبھی دوسری قوم کو- یہ اتفاقی بات نہیں ہے- یہ خالق کے انتظام کا معاملہ ہے- انسانی آزادی کو برقرار…

Al-Risala July 2014 A original + quote

…سے یہ بھیانک غلطی ہوئی کہ وہ ردّعمل کی نفسیا ت کے ساتھ اُبھرے۔ میرے علم کے مطابق، اِس دَور کاکوئی ایک بھی مسلم رہنما ایسا نہیںہے جو ردّ عمل کی نفسیات سے اوپر اُٹھ کر معاملے کو سمجھے اور خالص مثبت انداز میں مسلمانوں کو فکری رہنمائی دے۔

حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی ٔاقتدار کا یہ معاملہ، فطرت کے ایک قانون (3:140)کے تحت ہوا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیامیں غلبہ واقتدار بھی، دوسری دُنیوی چیزوں کی طرح، امتحان کا ایک پرچہ (test paper)ہے۔ اقتدار کے اوپر کسی ایک قوم کی اجارہ داری (monopoly) نہیں ہوسکتی، وہ کبھی ایک قوم کے پاس رہے گا اورکبھی دوسری قوم کے پاس۔ فطرت کا یہی قانون تھا جس کا نفاذ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اوپر ہوا۔

ایسے وقت میں مسلم رہنماؤں کو صرف ایک کام کرنا تھا، وہ یہ کہ وہ مسلمانوں کے اندر خود احتسابی (introspection)کا مزاج پیدا کریں۔ وہ مسلمانوں کو اصلاح اور تعمیر اور استحکام کے داخلی کاموںمیں لگائیں۔ وہ مسلمانوں کو جدید تعلیم میں زیادہ سے…

Al-Risala June 2013 A original + quote

اسلام اور مسلمان

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا- ابتدائی مشکلات کے بعد آپ کا مشن نہایت تیزی کے ساتھ پھیلا، یہاں تک کہ تقریباً 50 سال کے عرصے میں آپ کے ماننے والوں نے ایشیا اور افریقہ اور یورپ میں بڑی بڑی سلطنتیں قائم کرلیں- مسلمانوں کا یہ دبدبہ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا- اِس کے بعد وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ (3:140) کے فطری قانون کے تحت حالات بدلے- یورپ میں نشاةِ ثانیہ (Renaissance) کا دور آیا- یورپی قومیں نئی طاقتوں سے مسلح ہو کر دنیا کے بیش تر حصے میں پھیل گئیں-یہ وہی دور تھا جس کو مسلم ایمپائر کا دور کہا جاتا ہے- فطری طور پر یورپی قوموں کا مقابلہ براہِ راست مسلم سلطنتوں سے ہوا- اٹھارھویں صدی عیسوی کا آخری زمانہ اِس معاملے میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے- یہی وہ زمانہ ہے جب کہ ایک طرف، عثمانی سلطنت کو یورپی طاقت کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا- 1770 میں ترکوں کے مضبوط بحری بیڑے کو ایک لڑائی میں میڈی ٹیرینین سمندر میں تباہ کردیا گیا:

The Ottoman naval establishment was wiped out at the Battle of Çeşme (1770) by a Russian fleet. (EB. 13/784)

Al-Risala March 2013 A original + quote

امتِ مسلمہ کی تاریخ

قرآن کی سورہ آل عمران میں یہ آیت آئی ہے: اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ ۭ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ۚ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(3: 140) یعنی اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو تمھارے حریف کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے، اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور وہ تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے، اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔

قرآن کی اِس آیت میں خدائی منصوبے کے ایک خاص پہلو کا بیان ہے۔ وہ یہ کہ جب ایک گروہ کو اقتدار ملتاہے اور پھر جب اقتدار اُس سے چھن کر کسی دوسرے گروہ کے پاس چلا جاتا ہے تو یہ اتفاقاً نہیں ہوتا۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ اِس معاملے کو…

Al-Risala December 2012 A original + quote

اللہ کے گواہ

سورہ آل عمران قرآن کی ایک طویل سورہ ہے- اس کی آیات 130-200 غزوہ احد (3ہجری) کے بعد نازل ہوئیں- غزوہ احد میں 70 صحابہ شہید ہوئے- اِس موقع پر قرآن کا جو حصہ اترا، اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: إن یمسسکم قرح فقد مسّ القوم قرح مثلہ، وتلک الأیام نداولہا بین الناس، ولیعلم اللہ الذین آمنوا ویتخذ منکم شہداء، واللہ لا یحب الظالمین (3:140) یعنی اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے، تو دوسروں کو بھی ویسا ہی زخم پہنچ چکا ہے- اور ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے- اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا-

قرآن کی اِس آیت میں اصلاً شہید سے مراد مقتول نہیں ہے، بلکہ شہید سے مراد گواہ (witness) ہے- قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں جب تمام انسان اکھٹا کئے جائیں گے اور لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا- اُس وقت کچھ لوگ اللہ…

Al-Risala August 2012 A original + quote

…کرسکیں۔ ’استخلاف فی الارض‘ سے مراد اِسی قسم کی تمکین ہے۔ اِس آیت میں استخلاف یا تمکین سے مراد کسی قسم کا قومی غلبہ یا سیاسی اقتدار نہیں ہے، بلکہ اُس سے مرادوہ موقع ہے جب کہ ایک مومن کو آزادانہ طور پر عابدانہ زندگی گزارنا ممکن ہوجائے۔

اللہ تعالیٰ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، اِس دنیا میں انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ اِس آزادی کی بناپر یہ ممکن نہیں ہے کہ اجتماع کی سطح پر کوئی کامل نظام قائم ہوجائے۔اِس لیے نظام یا سیاسی اقتدار کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے یہ اصول رکھا ہے کہ حالات کے تحت کبھی ایک گروہ کو سیاسی اقتدار ملے اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تلک الأیام نداولہا بین الناس (3: 140)

اللہ کی یہ سنت مجموعی نظام یا سیاسی اقتدار کے بارے میں ہے، مگر جہاں تک افراد کا تعلق ہے، اُن کے بارے میں یہ مطلوب ہے کہ ان کو ہر حال میں یہ موقع حاصل رہے کہ وہ خدائے واحد کی آزادانہ عبادت کریں اور پُرامن دعوت الی اللہ کو کسی رکاوٹ کے بغیر…

Al-Risala January 2004 A original + quote

میرے نزدیک مذاہب کے درمیان نہایت واضح فرق پائے جاتے ہیں۔ اس لیے اس معاملے میں صحیح فارمولا اختلاف کے باوجود اتحاد ہے، نہ کہ اختلاف کے بغیر اتحاد۔

ایک مسلم اسکالر نے مالک بن بنی کے حوالے سے کہا کہ یہ دراصل دور جدید میں مسلمانون کا ذہنی جمود(intellectual stagnation) تھا جس نے نوآباد یاتی نظام(Colonization) کا راستہ ہموار کیا، اور اس طرح مشرقی قوموں پر مغربی قوموں کا غلبہ قائم ہوا۔ اسلامی نقطہ نظر سے زیادہ صحیح با ت یہ ہے کہ یہ وہ معاملہ تھا، جس کو قرآن میں: وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ ( 3:140) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ یعنی قانونِ فطرت کے تحت ایک قوم کاغلبہ ختم ہونا اور دوسری قوم کا غلبہ قائم ہونا۔

ایک صاحب نے گفتگو میں کہا کہ قرآن واضح طور پر دوسرے مذاہب کی حقانیت کا اعتراف کرتا ہے اور ہر مذہب کے ماننے والے کو مسلم بتا تا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام مذہبی تعدد کو ان کے حق کے طور پر تسلیم کرتا ہے، نہ کہ محض عملی موافقت کے طور پر :

In the lectures

Cited at 401s — opens the lecture at this moment.

Cited at 943s — opens the lecture at this moment.

Cited at 960s — opens the lecture at this moment.

Cited at 976s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1024s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1223s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1710s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2546s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2629s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2772s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3522s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3569s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4260s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4318s — opens the lecture at this moment.

Cited at 401s — opens the lecture at this moment.

Cited at 430s — opens the lecture at this moment.

Cited at 606s — opens the lecture at this moment.

Cited at 646s — opens the lecture at this moment.

Cited at 805s — opens the lecture at this moment.

Cited at 849s — opens the lecture at this moment.

Cited at 990s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1002s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1189s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1222s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1246s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1275s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1303s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2437s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2490s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2738s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3018s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3666s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3837s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4289s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4348s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4401s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4481s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

اختلاف کے وقت

اختلاف انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا رہتا ہے۔ جس طرح عام لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے، اسی طرح مخلص اور مومن کے درمیان بھی اختلاف پیش آتا ہے۔ اختلاف کے ہونے کو روکا نہیں جاسکتا۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اختلاف کے باوجود آدمی اپنے آپ کو صحیح رویہ پر قائم رکھے۔اختلاف پیش آنا بُرا نہیں، بُرا یہ ہے کہ اختلاف پیش آنے کے بعد آدمی دشمنی اور انتقام میں مبتلا ہوجائے۔

سچا انسان وہ ہے، جو اختلاف کو دشمنی کا مسئلہ نہ بنائے۔ اختلاف کو اسی دائرے تک محدود رکھے جہاں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ایک معاملے میں اختلاف کی وجہ سے کسی کو ہر معاملے میں غلط سمجھ لینا، ایک معاملہ میں اختلاف پیش آنے کے بعد اس کو منافق، بدنیت…

اختلاف کے وقت

اختلاف انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا رہتا ہے۔ جس طرح عام لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے، اسی طرح مخلص اور مومن کے درمیان بھی اختلاف پیش آتا ہے۔ اختلاف کے ہونے کو روکا نہیں جاسکتا۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اختلاف کے باوجود آدمی اپنے آپ کو صحیح رویہ پر قائم رکھے۔اختلاف پیش آنا بُرا نہیں، بُرا یہ ہے کہ اختلاف پیش آنے کے بعد آدمی دشمنی اور انتقام میں مبتلا ہوجائے۔

سچا انسان وہ ہے، جو اختلاف کو دشمنی کا مسئلہ نہ بنائے۔ اختلاف کو اسی دائرے تک محدود رکھے جہاں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ایک معاملے میں اختلاف کی وجہ سے کسی کو ہر معاملے میں غلط سمجھ لینا، ایک معاملہ میں اختلاف پیش آنے کے بعد اس کو منافق، بدنیت…

اختلاف کے وقت

اختلاف انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا رہتا ہے۔ جس طرح عام لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے، اسی طرح مخلص اور مومن کے درمیان بھی اختلاف پیش آتا ہے۔ اختلاف کے ہونے کو روکا نہیں جاسکتا۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اختلاف کے باوجود آدمی اپنے آپ کو صحیح رویہ پر قائم رکھے۔اختلاف پیش آنا بُرا نہیں، بُرا یہ ہے کہ اختلاف پیش آنے کے بعد آدمی دشمنی اور انتقام میں مبتلا ہوجائے۔

سچا انسان وہ ہے، جو اختلاف کو دشمنی کا مسئلہ نہ بنائے۔ اختلاف کو اسی دائرے تک محدود رکھے جہاں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ایک معاملے میں اختلاف کی وجہ سے کسی کو ہر معاملے میں غلط سمجھ لینا، ایک معاملہ میں اختلاف پیش آنے کے بعد اس کو منافق، بدنیت…

The Difference Between Enemy and Aggressor

Under God's scheme of trial, we have been granted freedom. Through the exercise of this freedom, enmities may develop between people, leading to conflict, but Islam makes a clear difference between enmity and conflict.

Patience is another name for the non-aggressive or peaceful method.

اختلاف ایک آزمائش

اختلاف ایک پرچۂ امتحان ہے۔ کسی سے آپ کااختلاف پیداہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ اللہ نے آپ کو ایک نازک آزمائش میں ڈال دیا تاکہ یہ جانے کہ آپ سچے مومن ہیں یا سچے مومن نہیں ہیں۔ اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھنا سچے اہل ایمان کاطریقہ ہے۔ جو لوگ اختلاف کو تخریب کاری کے درجے تک پہنچادیں وہ بلاشبہ ایمان واسلام کے دائرے سے نکل گئے۔

آدمی جب اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھے تو اس کا امکان ہوتا ہے کہ تبادلۂ خیال کے دوران دونوں میں سے کسی کے اوپر سچائی کھل جائے اور اس طرح جو بھٹکے ہوئے مسافر کی مانند تھا وہ دوبارہ صحیح راستہ پر آجائے۔مگر جب ایک آدمی اختلاف کو تخریب…

semantic Seerat-e-Rasool (p. 102) Qur'an

ان واقعات نے قریش کی جارحیت واضح طور پر ثابت کر دی تھی۔ اس لیے قرآن میں اصحاب رسول سے کہا گیا

کیا تم ان لوگوں سے لڑو گے جنہوں نے اپنے عہد توڑ ڈالے۔ اور انہوں نے رسول کو وطن سے نکال ڈالنے کا قصد کیا۔ اور وہی ہیں جنہوں نے تم سے لڑنے میں پہل کی۔ کیا تم ان سے ڈرو گے۔ اللہ زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا، اور ان کو رسوا کرے گا اور تم ان کو پر غلبہ دے گا اور مومنوں کے سینوں کو ٹھنڈا کرے گا۔(9:13-14)

رسول اور اصحاب رسول نے قریش کی جارحیت کی بنا پر اپنا وطن اور اپنا مال و اسباب مکہ میں چھوڑ دیا۔ اور تمام لوگ ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ مگر قریش نے اب بھی اپنی جارحیت نہ چھوڑی۔ وہ برابر مختلف انداز سے اپنے جارحانہ عزائم کا اظہار کرتے رہے۔ اسی…

…اپنے لیے دعا کرنا ہے۔ کارٹون کا واقعہ یا قرآن کی بے حرمتی جیسی خبریں سن کر بھڑک اٹھنا، یہی مسلمانوں کی اصل غلطی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ جب وہ ایسی کوئی خبر سنیں تو وہ فوراً متعلق افراد سے ملیں اور اُن کو اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے دیں۔

اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا میں ہر انسان کو مصلحتِ امتحان کی بنا پر آزادی دی ہے۔ مذکورہ قسم کا کوئی واقعہ خدا کی دی ہوئی آزادی کا صرف ایک غلط استعمال ہوتا ہے۔ چوں کہ آپ آزادی کو ختم نہیں کرسکتے، اس لیے اُس کے خلاف لڑنا بھی آپ کے لیے درست نہیں۔ آپ صرف یہ کرسکتے ہیں کہ تبلیغ ونصیحت کے ذریعے اُس آدمی کی سوچ کو بدلیں، اسلام کے صحیح تعارف کے ذریعے اُس کے ذہن کو درست کریں اور اس کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کریں۔

خبرنامہ اسلامی مرکز— 207

…اپنے لیے دعا کرنا ہے۔ کارٹون کا واقعہ یا قرآن کی بے حرمتی جیسی خبریں سن کر بھڑک اٹھنا، یہی مسلمانوں کی اصل غلطی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ جب وہ ایسی کوئی خبر سنیں تو وہ فوراً متعلق افراد سے ملیں اور اُن کو اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے دیں۔

اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا میں ہر انسان کو مصلحتِ امتحان کی بنا پر آزادی دی ہے۔ مذکورہ قسم کا کوئی واقعہ خدا کی دی ہوئی آزادی کا صرف ایک غلط استعمال ہوتا ہے۔ چوں کہ آپ آزادی کو ختم نہیں کرسکتے، اس لیے اُس کے خلاف لڑنا بھی آپ کے لیے درست نہیں۔ آپ صرف یہ کرسکتے ہیں کہ تبلیغ ونصیحت کے ذریعے اُس آدمی کی سوچ کو بدلیں، اسلام کے صحیح تعارف کے ذریعے اُس کے ذہن کو درست کریں اور اس کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کریں۔

…اپنے لیے دعا کرنا ہے۔ کارٹون کا واقعہ یا قرآن کی بے حرمتی جیسی خبریں سن کر بھڑک اٹھنا، یہی مسلمانوں کی اصل غلطی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ جب وہ ایسی کوئی خبر سنیں تو وہ فوراً متعلق افراد سے ملیں اور اُن کو اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے دیں۔

اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا میں ہر انسان کو مصلحتِ امتحان کی بنا پر آزادی دی ہے۔ مذکورہ قسم کا کوئی واقعہ خدا کی دی ہوئی آزادی کا صرف ایک غلط استعمال ہوتا ہے۔ چوں کہ آپ آزادی کو ختم نہیں کرسکتے، اس لیے اُس کے خلاف لڑنا بھی آپ کے لیے درست نہیں۔ آپ صرف یہ کرسکتے ہیں کہ تبلیغ ونصیحت کے ذریعے اُس آدمی کی سوچ کو بدلیں، اسلام کے صحیح تعارف کے ذریعے اُس کے ذہن کو درست کریں اور اس کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کریں۔

…اپنے لیے دعا کرنا ہے۔ کارٹون کا واقعہ یا قرآن کی بے حرمتی جیسی خبریں سن کر بھڑک اٹھنا ، یہی مسلمانوں کی اصل غلطی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ جب وہ ایسی کوئی خبر سنیں تو وہ فوراً متعلق افراد سے ملیں اور اُن کو اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے دیں ۔

اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا میں ہر انسان کو مصلحتِ امتحان کی بنا پر آزادی دی ہے ۔ مذکورہ قسم کا کوئی واقعہ خدا کی دی ہوئی آزادی کا صرف ایک غلط استعمال ہوتا ہے۔ چوںکہ آپ آزادی کو ختم نہیں کر سکتے ، اس لیے اُس کے خلاف لڑنا بھی آپ کے لیے درست نہیں۔آپ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ تبلیغ و نصیحت کے ذریعے اُس آدمی کی سوچ کو بدلیں ، اسلام کے صحیح تعارف کے ذریعے اُس کے ذہن کو درست کریں اور اس کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کریں۔

سوال