Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اختلاف ایک آزمائش p. 279
اختلاف ایک پرچۂ امتحان ہے۔ کسی سے آپ کااختلاف پیداہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ اللہ نے آپ کو ایک نازک آزمائش میں ڈال دیا تاکہ یہ جانے کہ آپ سچے مومن ہیں یا سچے مومن نہیں ہیں۔ اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھنا سچے اہل ایمان کاطریقہ ہے۔ جو لوگ اختلاف کو تخریب کاری کے درجے تک پہنچادیں وہ بلاشبہ ایمان واسلام کے دائرے سے نکل گئے۔ p. 279
آدمی جب اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھے تو اس کا امکان ہوتا ہے کہ تبادلۂ خیال کے دوران دونوں میں سے کسی کے اوپر سچائی کھل جائے اور اس طرح جو بھٹکے ہوئے مسافر کی مانند تھا وہ دوبارہ صحیح راستہ پر آجائے۔مگر جب ایک آدمی اختلاف کو تخریب کاری تک پہنچا دے تو اس کے بعد گمراہی کے گڑھے میں گرنے کے سوا کوئی انجام اس کے لیے باقی نہیں رہتا۔ ایسے آدمی کادماغ منفی سوچ کا کارخانہ بن جاتا ہے۔ وہ دلیل اور الزام تراشی کے فرق کو سمجھنے کی اہلیت کھو دیتاہے۔وہ منصفانہ اختلاف کی حد سے گزر کر ظالمانہ اختلاف کے دائرےمیں داخل ہوجاتا ہے۔ وہ خدا کی پکڑ کے احساس سے غافل ہوجاتا ہے۔ وہ صرف اپنی انا(ego)کورہنمابنا لیتاہے۔ اب اس کامقصد حق کو قائم کرنا نہیں ہوتا بلکہ صرف اپنی ذات کو قائم کرنا اس کااول وآخر مقصد بن جاتا ہے۔ وہ خدا کی رحمت سے دور ہو کرپوری طرح شیطان کی گرفت میں آجا تا ہے۔ p. 279
اختلاف پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔مگر اختلاف کوتخریب کاری بنا نا سراسر ظالمانہ فعل ہے۔ جولوگ اختلاف کو تخریب کا ری بنائیں ان کے لیے سخت خطرہ ہے کہ وہ خدا کی شدید پکڑمیں آجائیں۔ عین ممکن ہے کہ آخرت میں ان سے کہہ دیا جائے کہ آج تم نے دنیا کی زندگی میں شیطان کو اپنا رہنما بنایا۔ اب آخرت کی خدائی نعمتوں میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔ p. 279
اختلاف کے وقت عدل پرقائم رہناآدمی کے لیے جنت کادروازہ کھولتا ہے، اور اختلاف کے وقت عدل وانصاف سے ہٹ جانا آدمی کو جہنم کے دروازے پر پہنچادیتا ہے۔ p. 279
بیک کور ٹکسٹ p. 279
اختلاف كو انساني زندگی سے ختم كرنا ممكن نهيں۔اس دنیا میں كوئي بھي سماج فرق و اختلاف سے خالي سماج نهيں۔ پیدائش کے اعتبار سے، ہر مرد مسٹر ڈفرنٹ ہوتا ہے اور ہر عورت مس ڈفرنٹ۔یہ فرق و اختلاف خود خدا کے تخلیقی نقشہ کا ایک لازمی حصہ ہے۔ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ اختلاف کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کا اصول اختیار کیا جائے، نہ کہ اس کو مٹانے کا۔ فطرت کے اس اصول کا تعلق مذہبی معاملہ سے بھی ہے اور سیکولر معاملہ سے بھی۔یہ فرق و اختلاف کوئی بُرائی نہیں،بلكه وه ترقي كے ليے زينے كي حيثيت ركھتا هے۔ قرآن كے مطابق، صلح بہتر ہے۔ صلح كيا ہے —اختلاف کو مٹانے پر زور نہ دينا بلکہ اختلاف کو گوارا کرتے ہوئے بهتر تعلقات کو برقرار ركھنے كي کوشش كرنا۔دوسرے الفاظ ميں’’اختلاف کے باوجود اتحاد‘‘۔ يعني رائے کی سطح پر اختلاف، سماج کی سطح پر خوش گوار تعلق۔ p. 279original + quote
يهي اس دنيا ميں منصوبهٔ تخليق كے مطابق، ترقي كا راز هے۔ p. 279