Shukr All cross-references →
Qur'an 25:1
Qur'an 25:1

تَبَارَكَ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡفُرۡقَانَ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦ لِيَكُونَ لِلۡعَٰلَمِينَ نَذِيرًا

Blessed is He who sent down the Criterion upon His Servant that he may be to the worlds a warner

Explained in 34 book passages and 34 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Al-Risala February 2021 A original + quote

قرآن ایک عالمی کتاب

قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا۔ قرآن سادہ طور پر ایک کتاب نہیں، وہ انسانوں کے لیے ابدی ہدایت کی ایک عالمی کتاب ہے۔ چنانچہ قرآن میں ساتویں صدی عیسوی میں یہ اعلان کیا گیا تھا:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔

قرآن چونکہ تاریخ کے ابتدائی دور میں اترا تھا، اس لیے اپنے آپ اس کے اندر بہت سے تقاضے شامل تھے۔ مثلاً یہ کہ ابتدائی دور میں یہ مطلوب تھا کہ قرآن کے متن کو یاد کرکے اس کو محفوظ کیا جائے، تاکہ قرآن بعد کی نسلوں تک کامل حفاظت کے ساتھ پہنچ…

Al-Risala February 2021 A original + quote

…تھا کہ امت محمدی براہ راست طور پراس منصوبہ کے جاری رکھنے کی ذمے دار ہو۔ اسی کے ساتھ دنیا کی سیکولر قوموں کے لیے ایسے محرکات (incentives)پیدا کیے جائیں کہ وہ قرآن کے اس عالمی مشن کےلیے انفراسٹرکچرل سپورٹ (infrastructural support) بن جائیں۔

قرآن کی اس عالمی ذمے داری کا ذکر خود قرآن میں مختلف الفاظ میں آیا ہے۔ مثلاً قرآن کے متن کو محفوظ کرنا (الحجر، 15:9)، قرآن کو عالمی انذار کی کتاب بنانا (الفرقان، 25:1) ، آفاق و انفس کی ان آیات کو ظاہر کرنا، جو قرآن کی اعلیٰ تبیین کےلیے اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر رکھ دیا تھا، وغیرہ وغیرہ (فصلت، 41:53)۔

قرآن ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں اترا۔ اس کا متن عربی زبان میں ہے۔ اسکالرس کا اتفاق ہے کہ قرآن آج بھی اپنی اصل عربی متن کے ساتھ اسی طرح محفوظ ہے، جس طرح وہ ساتویں صدی عیسوی میں تھا۔ مثلاً سر ولیم میور (1819-1905) ایک اعلی تعلیم یافتہ…

Al-Risala February 2021 A original + quote

قرآن ایکسپلوزن

قرآن خدا کا آخری ہدایت نامہ (final guide book of God) ہے۔ نزولِ قرآن کی ابتدا میں اعلان کیا گیا تھا کہ قرآن اس لیے اترا ہے کہ وہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے نذیر(الفرقان، 25:1) بنے۔ نذیر کا مطلب ہے گائڈ بک (guide book) ۔ قرآن عالمی گائڈ بک اس معنی میں نہیں تھا کہ نزول قرآن کے بعد فورا ً وہ ساری دنیا میں خود بخود پھیل کر گائڈ بن جائے۔ خدا کا منصوبہ ہمیشہ تدریجی عمل (gradual process)کے طور پر ہوتا ہے۔ یہی خدائی قانون قرآن کے ساتھ بھی اختیار کیا گیا۔

قرآن کے اترتے ہی خدائی نظام کے تحت ایک عالمی پراسس جاری ہوا، جس کا نقطۂ انتہا (culmination)یہ تھا کہ ایک طرف قرآن محفوظ کتاب (preserved book) کی حیثیت اختیار کرلے، اور دوسری طرف انسانی دنیا میں وہ تمام اسباب مکمل صورت میں دستیاب…

Al-Risala September 2020 A original + quote

شہادت اعظم

اس تاریخی عمل کا غالباً آخری دور وہ ہے، جو تقدیر الٰہی کے تحت غالباً اکیسویں صدی میں پیش آنے والا ہے۔ اس عمل کو قرآن میں گلوبل انذار (الفرقان، 25:1) اور حدیث میں شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر2938) کا نام دیا گیا ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں بتایا ہے کہ انسانی تاریخ کے آخری زمانے میں ایک واقعہ پیش آئےگا، یعنی شہادت اعظم کا واقعہ۔ شہادت اعظم کا مطلب ہے سب سے بڑی گواہی (the greatest witness)۔گواہی کا مطلب ہے زمین پر پیدا ہونے والے انسانوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے واقف کرانا۔ تاکہ انسان دنیا میں خالق کے اسکیم آف تھنگس سے باخبر ہوکر زندگی گزارے۔ اس کام کو قرآن میں انذار کہا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کے ہر دور میں انذار کا یہ کام مسلسل طور پر جاری رہا۔ کبھی پیغمبروں کے ذریعے اور کبھی ان مصلحین کے ذریعے جنھوں نے پیغمبر کی نیابت میں انذار کے اس کام کو انجام دیا۔

Al-Risala September 2020 A original + quote

انذار بذریعہ تائید

قرآن خدا کے دین کا واحد مستند ماخذ (authentic source)ہے۔ خدا کے دین کے لیےیہ مطلوب ہے کہ وہ سارے عالم میں پھیلے۔ پھیلنے کا یہ عمل دو طریقوں سے جاری ہوتا ہے—  انذار اور تائید۔ پہلے طریقے کا ذکر قرآن میں آیا ہے، اور دوسرا طریقہ حدیث رسول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ پہلا طریقہ قرآن میں ان الفاظ میں مذکور ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا(25:1)۔یعنی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔

دین کی اشاعت کے اس عمل کو قرآن میں انذار کا عنوان دیا گیا ہے۔ انذار کا مطلب ہوتا ہےآگاہ کرنا، باخبر کرنا۔ عربی زبان کے مشہور عالم ابن فارس(وفات 395ھ) نے انذار کا مطلب ابلاغ بتایا ہے(معجم مقاییس اللغة، جلد5، صفحہ414)۔ یعنی خدا کے منصوبۂ…

Al-Risala December 2019 A original + quote

دعوتِ عام کی ذمہ داری

بیان کیا جاتا ہے کہ پچھلے انبیاء مقامی آبادیوں کے لیے آئے۔ وہ جس قوم میں پیدا ہوئے وہی قوم اُن کی دعوت کامیدان ہوتی تھی۔ مگر پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلمکے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہ تھا، اس لیے آپ ساری دنیا کے لیے داعی اور منذر بنا کر بھیجے گئے(الفرقان، 25:1)۔ اسی لیے پیغمبراسلام کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ (21:107)۔ یعنی ہم نے تم کو تمام دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

یہ بات اہل اسلام کے لیے فخر یا فضیلت کی بات نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک سنگین ذمہ داری کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے پیغمبروں کی امتوں کی دعوتی ذمہ داری اگر مقامی دائرہ تک محدود رہتی تھی، تو امتِ محمدی کی ذمہ داری سارے عالم تک پھیلی ہوئی…

Al-Risala October 2019 A original + quote

قرآن کا نزول

اللہ رب العالمین نے اپنی کتاب قرآن اس لیے اتاری کہ وہ سارے عالم کے لیے انذار کا ذریعہ بنے۔ اس حقیقت کا اعلان سورہ الفرقان میں ان الفاظ میں کیاگیا ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔

قرآن خالق کائنات کے تخلیقی منصوبے کا مستند اعلان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس خدائی اعلان کو پڑھے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ قرآن کی ایک اور آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ…

Al-Risala June 2019 A original + quote

اس کا مقصد کیا ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان رمضان کے مہینہ میں کامل یکسوئی کے ساتھ قرآن پڑھیں۔ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں۔ وہ یہ دریافت کریں کہ قرآن اس سے کس عمل کا تقاضا کرتا ہے۔

اس اعتبار سے اہلِ ایمان اگر قرآن کا گہرا مطالعہ کریں تو قرآن کی ایک آیت ان کے لیےبہت زیادہ توجہ کا سبب بن جائے گی۔ وہ آیت یہ ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔ اس آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کے نزول کا مقصد شارع کے منصوبہ کے مطابق یہ تھا کہ قرآن دنیا کی تمام قوموں تک پہنچے۔

قرآن کی اس عمومی اشاعت کا کام کون کرے گا، اور کون قرآن کو ہر دور میں نسل درنسل انسانوں تک پہنچائے گا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے،یعنی اہل ایمان یا امتِ مسلمہ۔اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ ہر دور کے انسانوں…

Al-Risala January 2019 A original + quote

سوال: وہ کیا پروگرام ہیں، جس کے بارے میں آپ اللہ سے یہ تمنا کرتے ہیں کہ وہ اس کو پورا کرے؟

جواب: میری صرف ایک تمنا ہے۔ حدیث میں آیا ہےکہ اللہ ہر گھر میں اسلام کا کلمہ داخل کرے گا، روایت کے الفاظ یہ ہیں: لَا یَبْقَى عَلَى ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللَّہُ کَلِمَةَ الْإِسْلَامِ(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی روئے زمین پر کوئی بھی بڑا یا چھوٹا گھر باقی نہیں رہے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کرے گا۔ میری خواہش ہے کہ اس حدیث میں بیان کردہ پراسس کا میں حصہ بن جاؤں۔یہاں تک کہ یہ ریَلٹی بن جائے، اور قرآن کی آیت ، لیکون للعالمین نذیرا (25:1)، کے مطابق سارے عالم تک قرآن کا میسج آف انذار پہنچ جائے۔

My greatest desire is to become a part of this historical process, the process of the spreading of the word of God, until it becomes a reality.

Al-Risala September 2018 A original + quote

اسلام اکیسویں صدی میں

اب اسلام کی تاریخ اکیسویں صدی میں ہے۔ آج کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اسلام کے دعوتی مشن کی منصوبہ بندی (planning) جدید حقائق کی روشنی میں کی جائے۔ جدید پیدا شدہ مواقع (opportunities) کو پوری طرح اسلام کے پرامن عالمی مشن کے لیے استعمال کیا جائے۔ قرآن میں اعلان کیا گیا تھا :تَبٰرَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1) ۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔ اس آیت کے مطابق، یہ مطلوب تھا کہ قرآن کے پیغام کو تمام اہلِ عالم تک پہنچایا جائے، اور یہ کام تمام قوموں کی اپنی قابل فہم زبان میں انجام دیا جائے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَہُمْ ُ (14:4) ۔ یعنی اور ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا اس قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ ان سے بیان کردے ۔

قرآن کا یہ نشانہ سفر کرتے ہوئے اب اکیسویں صدی عیسوی میں اپنے آخری دور میں پہنچ گیا ہے۔اب ضرورت یہ ہےکہ قرآن کو تمام قوموں کی قابل فہم زبانوں میں ترجمے کرکے ان کو تمام لوگوں تک پہنچایا جائے۔ دسمبر 2015 میں راقم الحروف کا ایک سفر کناڈا کے…

Al-Risala May 2018 A original + quote

امت کارول

قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن)اتارا تاکہ وہ سارے عالم کے لئے خبر دار کرنے والابنے۔

قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن سارے عالم میں پھیلے گا، یہاں تک کہ اس کا پیغام زمین پر بسنے والےہر مرد اور ہرعورت تک پہنچ جائے گا۔

Al-Risala March 2018 A original + quote

امت مسلمہ کی ذمہ داری

قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میںآئی ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن)اتارا تاکہ وہ سارے عالم کے لئے خبر دار کرنے والابنے۔قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن سارے عالم میں پھیل جائےگا، یہاں تک کہ اس کا پیغام زمین پر بسنے والےہر مرد اور ہرعورت تک پہنچ جائے گا۔ یہی بات حدیث رسول میںاس طرح بیان کی گئی ہے:لا یبقى على ظہر الأرض بیت مدر، ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام(مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔یعنی زمین پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔

یہ حدیث رسول پیشگی خبر کی زبان میں یہ بتارہی ہے کہ آخری دور میں امت کا فائنل رول کیا ہوگا۔ وہ رول یہ ہوگا کہ امت اپنے زمانے کےاعتبار سے ایک عالمی منصوبہ بندی کرے، اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے کلام (word of God) کو دنیا کے ہرگوشے…

Al-Risala March 2018 A original + quote

…امریکا کے سپورٹ سے اپنی قومی ترقی کا سفر نہایت تیزی کے ساتھ جاری کرسکے۔ یہ پالیسی کامیاب رہی۔ یہاں تک کہ 25 سال بعد جاپان دنیا کے نقشے پر ایک نئی طاقت بن کر ابھرا۔ یہاں تک کہ وہ اقتصادی سوپر پاور (economic super-power) کے درجے تک پہنچ گیا۔

یہ تاریخی ظاہرہ (historical phenomenon) اہل اسلام کی رہنمائی کے لیے ابھرا ہے۔ اب مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے ویسٹوفوبیا (westophobia) کے ذہن کو مکمل طور پر ختم کردیں۔ وہ دل سے مغرب کو اپنا دوست قرار دیں۔ اگر مسلمان ایسا کرسکیں تو بہت جلد دنیا یہ واقعہ دیکھے گی کہ مسلمان دیگر اقوام کی تائید سے دنیا کے نقشے پر ایک نئی قوم بن کر ابھری ہے، جنگجو قوم نہیں بلکہ پرامن قوم کی حیثیت سے۔ پھر وہ واقعہ عالمی سطح پر پیش آئے گا، جس کا تاریخ کو لمبی مدت سے انتظار ہے۔ یعنی وہ واقعہ جس کی پیشین گوئی ساتویں صدی کے ربع اول میں قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔

ملت مسلمہ کی غفلت

اس پہلو سے غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و سنت میں پہلی نوعیت کی باتیں حکم کی زبان میں ہیں۔ جب کہ دوسری نوعیت کی باتیں خبر کی زبان میں آئی ہیں۔ یہ فرق گویا ایک سراغ (clue) ہے جو زیر نظر پہلو کا مطالعہ کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

1 - مثلاً قرآن کی آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔

یہاں خبر کے اسلوب میں یہ کہا گیا ہے کہ قرآن عالمین (تمام اقوام عالم) کے لیے نذیر (warning) ہے۔ یہاں غور طلب ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں وہ اسباب موجود ہی نہ تھے، جن کو استعمال کرکے تمام اقوام عالم تک قرآن پہنچایا جائے۔ اس سے…

اس پہلو سے غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و سنت میں پہلی نوعیت کی باتیں حکم کی زبان میں ہیں۔ جب کہ دوسری نوعیت کی باتیں خبر کی زبان میں آئی ہیں۔ یہ فرق گویا ایک سراغ (clue) ہے جو زیر نظر پہلو کا مطالعہ کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

1 - مثلاً قرآن کی آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔

یہاں خبر کے اسلوب میں یہ کہا گیا ہے کہ قرآن عالمین (تمام اقوام عالم) کے لیے نذیر (warning) ہے۔ یہاں غور طلب ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں وہ اسباب موجود ہی نہ تھے، جن کو استعمال کرکے تمام اقوام عالم تک قرآن پہنچایا جائے۔ اس سے…

Al-Risala September 2017 A original + quote

…کا مقصد مختصراً یہ ہے کہ انفرادی زندگی میں اس کی تعلیمات پر عمل ہو اور اجتماعی زندگی میں بھی۔ اور جب تک اس پر عمل نہیں ، اس وقت تک ہمارا، قرآن کریم پر ایمان لانے اور اس کی تعظیم و تکریم کرنے کا دعوی بے جان ہے۔ (مدیکارمحمد بشیر، وانمباڑی)

قرآن کا مقصد نزول کیا ہے۔ اس سوال کا جواب خود قرآن میں ڈھونڈنا چاہیے۔ یہ ایک غیر علمی طریقہ ہے کہ آدمی خود اپنے ذہن میں ایک نقشہ بنائے اور اس کو قرآن کے اوپر چسپاں کردے۔اس پہلو سے قرآن کو دیکھا جائے تو قرآن میں اس کا جواب ان الفاظ میں ملتا ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (25:1)۔ اس آیت کےمطابق قرآن کے نزول کا مقصد انذار (warning) ہے۔ یعنی یہ کہ انسان اپنی زندگی کو صحیح نشانے پر لگائے۔ یہ صحیح نشانہ آخرت کی تعمیر ہے۔ یہ نشانہ حقیقت واقعہ کی بنیاد پر بنتا ہے۔ تخلیقی نقشہ کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان ایک محدود مدت تک رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ آخرت کی دنیا میں چلا جاتا ہے، جو کہ اس کی ابدی قیام گاہ ہے۔ موجودہ دنیا میں جو مسائل ہیں، وہ مسائل نہیں ہیں، بلکہ وہ چیلنج ہیں۔ یہ چیلنج اس لیے ہیں کہ انسان کو متحرک کیا جائے۔ انسانی زندگی میں مسائل اس لیے پیش آتے ہیں کہ وہ اس کے لیےمحًرک (incentive) کا کام کریں۔ تخلیق کے مطابق ،موجودہ دنیا جدو جہد کے اصول پر قائم ہے۔ اگر جدوجہد نہ ہو تو دنیا میں ہر طرف جمود (stagnation) کا ما حول قائم ہوجائے گا۔

Al-Risala May 2017 A original + quote

خدائی منصوبہ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے فرقان (قرآن) کو اپنے بندے پر اتارا تاکہ وہ سارے عالم کے لئے آگاہ کرنے والا بنے (25:1) ۔اس آیت کے مطابق اول دن سے یہ مطلوب تھا کہ قرآن تمام دنیا کے انسانوں تک پہنچے۔ اس کی جو صورت مقرر کی گئی، وہ قرآن میں رسول کی زبان سے اس طرح بیان کی گئی ہے: اور یہ قرآن میری طرف وحی کیاگیا ہے تاکہ میں اس کو تم لوگوں تک پہنچاؤں اور جن کو یہ قرآن پہنچے وہ اس کو دوسرے لوگوں تک پہنچائیں (6:19)۔

یہ گویا ایک چین ڈسٹری بیوشن (chain distribution) کا معاملہ ہے۔ قرآن رسول کے ذریعہ صحابہ تک پہنچے، صحابہ تابعین تک پہنچائیں، تابعین تبع تابعین تک پہنچائیں۔ اس طرح اہلِ ایمان کی ہر نسل اپنے ہم زمانہ لوگوں تک پہنچاتی رہے۔ یہاں تک کہ قیامت تک…

Al-Risala September 2016 A original + quote

…کیاگیا۔ اسی کے ساتھ حدیث اورعلوم اسلامی کی تدوین ہوئی۔ یہ کام کئی سو سال تک مسلم اقتدار کےتحت جاری رہا۔ یہاں تک کہ قرآن اور قرآنی علوم پوری طرح محفوظ ہوگئے۔ ساتھ ہی یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں کا دینی نظام غیر سیاسی دائرہ میں قائم ہوگیا۔

ظہور اسلام کے تقریباً ہزار سال بعد سیکولر تہذیب کے ذریعہ تائید دین کا دور شروع ہوا۔ اس عمل کے دوران دنیا میں ایک موافق اسلام دور آیا۔ اس دور میں ہر قسم کے وہ فکری اور عملی مواقع دستیاب ہوگئے جو اسلام کے عالمی دعوتی مشن کی تکمیل کے لئے ضروری تھے۔ بیسویں صدی میں یہ منصوبہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب دنیا میں نظری اور عملی دونوں اعتبار سے کامل طورپر وہ مواقع پیدا ہوچکے ہیں جو اسلام کو اس نشانہ کی تکمیل کے لئے ضروری تھے جن کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیاگیا ہے: تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا(25:1) ۔اب اکیسویں صدی میں خدائی منصوبہ کے مطابق اہلِ ایمان کو صرف ایک کام کرنا ہے۔ اور وہ ہے خدا کی کتاب کو دنیا کی ہر زبان میں ساری قوموں تک پہنچانا۔اس کے لیے تمام کھلے مواقع (opportunities)کو پرامن طور پر استعمال کرنا۔ اسی عمل پر مسلمانوں کی تمام کامیابیوں کا انحصار ہے۔

Al-Risala April 2015 A original + quote

عالمی نشانۂ دعوت

قرآن کی سورہ الفرقان میں یہ آیت آئی ہے: تَبَارَکَ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِہِۦ لِیَکُونَ لِلْعَٰلَمِینَ نَذِیرًا(25:1) یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لئے آگاہ کرنے والا ہو۔

اس آیت کے مطابق یہ مطلوب تھا کہ قرآن کا پیغام دنیا بھر کے تمام انسانوں تک پہنچے- مگر ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ، جب کہ قرآن اترا، ایسا ہونا ممکن نہ تھا- کیوں کہ عالمی پیغام رسانی کے لیے جو وسائل درکار تھے، وہ وسائل بوقت نزول قرآن…

Al-Risala April 2014 A original + quote

…طورپر موجود تھے، وہ مخفی حالت میں تھے- مغربی سائنس نے قوانینِ فطرت کے نام سے جن حقائق کو دریافت کیا ہے، وہ دراصل یہی دلائل ہیں- اِس کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کے علمِ کلام (theology) کو قیاسات کے بجائے برہانیات کی بنیاد پر قائم کی جائے-

4- قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا- اُس وقت قرآن میں یہ کہاگیا تھا کہ: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً (25:1)- اِس آیت کے مطابق، یہ مطلوب تھا کہ قرآن کی تعلیمات کو زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچایا جائے- مگر قدیم زمانے میں عملاً ایسا ہونا ممکن نہ تھا- اِس عالمی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری تھا کہ پوری دنیا کا جغرافیہ معلوم ہو- پرنٹنگ پریس اور کمیونکیشن کا دور دنیا میں آجائے، ساری دنیا میں بہ آسانی سفر کرنا ممکن ہوجائے، لوگوں کے درمیان کھلا پن (openness) کی فضا موجود ہو، ترقی یافتہ زبانیں دنیا میں پائی جاتی ہوں، وغیرہ-

عالمی دعوت کو ممکن بنانے کے لیے یہ تمام چیزیں لازمی طورپر ضروری ہیں- قدیم زمانے میں یہ اسباب موجود نہ تھے، اِس لیے قدیم زمانے میں اسلام کی عالمی اشاعت کا یہ نشانہ عملاً پورا نہیں ہوسکتا تھا- انیسویں صدی کے بعد کے زمانے میں پہلی بار یہ…

Al-Risala March 2014 A original + quote

فطرت کا نظام

قرآن کی سورہ الفرقان اِس آیت سے شروع ہوتی ہے: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا (25:1) یعنی بڑا بابرکت ہے اللہ جس نے فرقان (قرآن) اتارا، تاکہ وہ سارے عالم کے لیے آگاہ کرنے والا بنے-

اِس آیت کے مطابق، قرآن ایک کتابِ فرقان ہے، یعنی فرق کرنے والی کتاب- فرقان فرق کا مبالغہ ہے- اِس کا مطلب ہے: الفصل بین الشیئین(دو چیزوں کے درمیان فرق کرنا)- یہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے- موجودہ دنیا میں امتحان کی مصلحت کی بنا پر…

Al-Risala January 2014 A original + quote

…ہوجانا، دورِ بادشاہت میں ہر چیز پر جو شخصی کنٹرول قائم تھا، اس کا ختم ہو کر دورِ جمہوریت آجانا، جب کہ انسانی سرگرمیوں کے تمام مواقع پوری طرح کھل گیے، وغیرہ-پیغمبرانہ مشن کے تحت یہ تمام چیزیں مطلوب تھیں جو کہ مکمل طورپر حاصل ہوگئیں-

مگر ایک مطلوب ایسا تھا جو پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کی تاریخ کے دوران پوری طرح حاصل نہیں ہواتھا، اور وہ ہے دعوتِ خداوندی کی عالمی اشاعت- قرآن میں کہا گیاہے کہ اللہ نے یہ کتاب اِس لیے بھیجی ہے، تاکہ وہ تمام اہلِ عالم تک پہنچے اور تمام لوگوں کے لیے آگاہی کا ذریعہ بنے (25:1)- مگر جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبرانہ تاریخ کے دور میں یہ عالمی مطلوب پوری طرح واقعہ نہ بن سکا- اِس کا فطری سبب یہ تھاکہ دین کی عالمی اشاعت کے لیے عالمی مواصلات کی ضرورت ہے، اور عالمی مواصلات کے یہ ذرائع پچھلے زمانے میں موجود ہی نہ تھے-

اِس پہلو سے غور کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مذکورہ حدیثِ رسول میں جن خوش قسمت لوگوں کا ذکر ہے، وہ سچے اہلِ ایمان کی وہ جماعت ہے جو دورِ مواصلات میں دینِ خداوندی کے اِس دعوتی نشانے کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچائے گی کہ اُس سے…

Al-Risala October 2013 A original + quote

یہ ٹکنالوجی صرف مغربی تہذیب کے ذریعے دریافت ہوئی اور پھر ضرورت کی بے شمار نئی چیزیں انسان کے لیے قابلِ حصول ہوگئیں- یہ اشیاءِ ضرورت صرف اشیاءِ ضرورت نہ تھیں، بلکہ وہ شکر خداوندی کے نئے اور عظیم تر آئٹم کی حیثیت رکھتی تھیں-

اِسی طرح قرآن میں بتایا گیاہےکہ پیغمبر کا مشن سارےاہلِ عالم کے لیے ہے(25:1)- لیکن پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں مشن کا یہ عالمی ابلاغ عملاً ممکن نہ ہوسکا- کیوں کہ اس کے لیے عالمی کمیونکیشن کی ضرورت تھی اور قدیم زمانے میں یہ عالمی کمیونکیشن وجود میں نہیں آیا تھا- عالمی کمیونکیشن کے ذرائع موجودہ زمانے میں پہلی بار اہلِ مغرب نے دریافت کیے- یہ اہلِ مغرب کی طرف سے پیغمبرانہ مشن کی خصوصی تائید کا ایک معاملہ تھا-

اِسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آفاق اور انفس میں اللہ کی آیات (signs) چھپی ہوئی ہیں- یہ آیات ظاہر ہو کر انسان کے لیےتبیینِ حق کا ذریعہ بنیں گی- یہ گویا کائناتی سطح پر اعلی معرفت کے ظہور کی پیشگی خبر تھی، مگر قدیم زمانے میں اس کا…

Al-Risala October 2013 A unverified

…پورا کیا جاسکے- رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں جو انقلاب آیا، اس کے ذریعے دراصل تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کرنا تھا- یہ پراسس نہایت طاقت ور صورت میں جاری ہوا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچ گیا-

موجودہ زمانے کو ایج آف کمیونکیشن (age of communication) کہاجاتا ہے- یہ ایج آف کمیونکیشن کیا ہے- یہ دراصل دعوت بذریعہ روایتی ذرائع کو دعوت بذریعہ ٹکنالوجی کے دور میں پہنچانا ہے- موجودہ زمانے میں کمیونکیشن کے جو ذرائع پیدا ہوئے ہیں، انھوں نے دعوت بذریعہ روایتی ذرائع کو دعوت بذریعہ کمیونکیشن کے دور میں پہنچادیا ہے- اب یہ پوری طرح ممکن ہوگیا ہے کہ پیغمبرانہ دعوت کی اشاعت عالمی سطح پر انجام دی جائے- جدید ٹکنالوجی اور دوسرے معاون حالات کے نتیجے میں آج یہ ممکن ہوگیا ہے کہ کسی سیاسی اقتدار یا کسی پولٹکل ایمپائر کے بغیر غیر سیاسی دائرے میں اسلامی دعوت کا ایک عالمی ایمپائر قائم کیا جاسکے- اِس ایمپائر کو غیر سیاسی دعوہ ایمپائر (non-political dawah empire) کہاجاسکتا ہے- جدید کمیونکیشن اور پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا کو استعمال کرکے عالمی دعوت کی اُس پیشین گوئی کو واقعہ بنایا جاسکے جس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں آیا ہے: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً (25:1)-

ربانی تہذیب کا ظہور

Al-Risala August 2013 A original + quote

فہمِ قرآن— ایک مطالعہ

قرآن، خدا کی محفوظ کتاب ہے- قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا- قرآن میںاس کے نزول کا مقصد اِن الفاظ میں بتایا گیاہے: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا(25:1) یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نےاپنے بندے پر قرآن اتارا، تاکہ وہ جہان والوںکے لیے آگاہ کرنے والا ہو-

قرآن ساتویں صدی عیسوی کے قدیم عرب میں اترا- اُس وقت وہ صرف امکانی طورپر نذیر ِ عالم تھا- کیوں کہ بطو ر واقعہ نذیر عالم بننے کے لیے عالمی کمیونکیشن (global communication) کے ذرائع درکار ہیں، جو اُس وقت موجود ہی نہ تھے- حقیقت یہ ہے کہ قرآن…

Al-Risala July 2013 A original + quote

…کے لیے قابلِ حصول بنا دیا- یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو اہلِ مغرب کے ذریعے پہلی بار انجام پایا- اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ انسان اپنے رب کے لیے زیادہ بڑا شکر ادا کرسکے — اہلِ مغرب کا یہ عطیہ بلا شبہہ تائید دین کی ایک اعلی مثال کی حیثیت رکھتاہے-

3- اِس سلسلے میں اہلِ مغرب کی تیسری دین وہ ہے جس کو عالمی مواصلات کہاجاتا ہے- اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ اس نے اپنا پیغام جو پیغمبروں کے ذریعے بھیجا ہے، وہ تمام اہلِ عالم تک پہنچے- اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے : تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً (25:1)یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا، تاکہ وہ تمام عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو-

یہی بات حدیث میں پیشین گوئی کی زبان میں اِس طرح آئی ہے: لایبقى على ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمة الإسلام (مسند أحمد، رقم الحدیث: 24215) یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ…

Al-Risala April 2013 A original + quote

…بغیر دنیا کے کسی ملک میںدعوتی مشن کو جاری کرنا ممکن ہوگیا ہے- اِس انقلاب کے بعد تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ انسانی تاریخ میں تلوار کا دور ختم ہوگیا- اب صرف پُرامن عمل کا دور ہے- تاریخ کا یہ دور عین دعو تی مشن کے حق میں ہے-

اظہارِ دین، یعنی دنیا میں حالتِ فطری کے قائم ہونے کی بنا پر بہت سے موافق حالات وجود میں آئے ہیں- اِن میں سے دو بےحد اہم ہیں- ایک ہے، کائنات میں چھپی ہوئی اللہ کی نشانیوں کا دریافت ہوجانا- اور دوسرا ہے، جدید مواصلات (modern communication) جس نے تاریخ میں پہلی بار اُس عالمی مشن کو مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً(25:1)

آیاتِ الہی کا ظہور

Al-Risala April 2013 A original + quote

…کی دوسری رحمتوں کی طرح وہ بھی تاریخ میں بار بار دہرایا جارہا ہے- موجودہ زمانے میں یہ فضل یا اضافی نصرت بہت بڑے پیمانے پر ظاہر ہوچکی ہے-اہلِ ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو پہچانیں اور اس کو خدائی مشن کے حق میں بھر پور طورپر استعمال کریں-

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اِس لیے بھیجا، تاکہ وہ سارے عالم کوامرِ حق سے آگاہ کردے(25:1)- اِس آیت میں جس عالمی نشانے کا ذکر ہے، وہ اول دن سے مطلوب تھا، مگر اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، اِس دنیا میں کسی نشانے کی تکمیل کراماتی طورپر نہیں ہوتی، بلکہ وہ اسباب کے ذریعے ہوتی ہے- اِس عالمی دعوتی نشانے کو انجام دینے کے لیے قدیم زمانے میں عالمی مواصلات کا نظام عملاً موجود نہ تھا، اِس بنا پر مطلوب نشانہ بھی قدیم زمانے میں پورا نہ ہوسکا-

اِس مقصد کے لیے اللہ تعالی نے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کیا- اِس پراسس کی تکمیل باقاعدہ طورپر انیسویں صدی میں ہوئی- انیسویں صدی اور اس کے بعد کی صدی میں وہ تمام اسباب وجود میں آگئے جو دینِ حق کی عالمی پیغام رسانی کے لیے ضروری تھے- آج…

Al-Risala March 2013 A original + quote

…رول اور پولٹکل رول کے بعد اب امتِ مسلمہ سے جو رول مطلوب ہے، وہ ایک دعوتی رول ہے۔ اب امتِ مسلمہ کو یہ کرنا ہے کہ وہ شکایت اوراحتجاج اور تصادم میں اپنا وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ خدا کے دعوتی منصوبے کو انجام دینے کے لیے اپنے آپ کو وقف کردے۔

سورہ الفرقان میں قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً (25: 1)- اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اِس لیے اتارا گیا ہے کہ وہ سارے عالم کے لیے نذیر (warner) بنے، یعنی پورے کرۂ ارض کے تمام انسانوںکو خدا کے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کردینے والا۔

واقعات بتاتے ہیں کہ نزول قرآن کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک یہ مقصد اپنی تکمیلی صورت میں پورا نہیں ہوا، کیوں کہ سارے عالم کو آگاہ کرنے کے لیے عالمی کمیونکیشن درکار تھا۔ قدیم زمانے میں اِس قسم کا کمیونکیشن وجود میں نہیں آیا تھا۔…

Al-Risala November 2012 A original + quote

…سفر (مئی 2012)میں میںنے وہاں کا مشہور میوزیم (توپ کاپی پیلس) دیکھا۔ اس میوزیم میں قرآن کا ایک قدیم نسخہ رکھا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن کا وہ نسخہ ہے جو قبل از طباعت دور (pre-printing age) میں ایک صحابیٔ رسول کے قلم سے لکھاگیا تھا۔

جب میں میوزیم کے اُس حصے میں پہنچا جہاں یہ قرآن رکھا ہوا ہے تو میری عجیب حالت ہوئی۔ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی: نزّل الفرقان علیٰ عبدہ لیکون للعالمین نذیرا (25:1)-مجھے ایسا محسوس ہواجیسے قرآن اپنی خاموش زبان میں کہہ رہا ہے کہ — اے امت مسلمہ، مجھ کو خدا نے دنیا کے تمام انسانوں کے لئے بھیجا تھا اور تم نے مجھ کو میوزیم میں رکھ کر چھوڑ دیا۔

قرآن میں بار بار اس قسم کے الفاظ آتے ہیں: یا أیہا الإنسان، یاأیہا الناس، یا بنی آدم۔ گویا کہ قرآن خداوند عالم کا ایک مکتوب یا ایک پیغام (message) ہے- اُس کو اِس لئے بھیجا گیاہے، تاکہ وہ تمام پیدا ہونے والے عورتوں اور مردوں تک پہنچ…

Al-Risala August 2012 A original + quote

…ہوا کہ آخر کار وہ چیزوجود میں آگئی جس کو کمیونکیشن کا دور (age of communication) کہاجاتا ہے۔ اِس مواصلاتی انقلاب کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کی توسیع زمین کے برّی حصے تک محدود نہ رہے، بلکہ وہ سمندر پار کے ملکوں تک بہ آسانی پہنچ جائے۔

اسلامی دعوت کی عالمی توسیع اول دن سے اسلام کا نشانہ تھی (25: 1) ۔ مگر اسلام کی یہ عالمی توسیع، اسباب کی اِس دنیا میں ضروری وسائل کے بغیر ممکن نہ تھی۔ جدید مواصلاتی انقلاب نے اِس کو پوری طرح ممکن بنا دیا۔ مستقبل میں پیش آنے والا یہی واقعہ تھا جس کی خبر پیشگی طورپر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن الفاظ میں دے دی تھی: لا یبقی علی ظہر الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللّٰہ کلمۃ الإسلام (مسند احمد، رقم الحدیث: 24215) یعنی زمین کی پشت پر کوئی گھر یا خیمہ ایسا نہیں بچے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہوجائے۔

اسلام ایک دعوتی مشن ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام انسان جو اِس زمین پر پیدا ہوئے، اُن کو موت سے پہلے یہ بتادیا جائے کہ خدا کا تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) ان کے بارے میں کیا ہے۔ انسان کی پوری تاریخ میں اس کو مسلسل طورپر جاری رہنا…

Al-Risala March 2011 A original + quote

امتِ محمدی کی ذمے داری

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ ہر زمانے کے انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچتا رہے (25: 1) ۔ پیغام رسانی کا یہ سلسلہ آدم سے لے کر پیغمبر آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رہا ۔ اِس پیغام رسانی کا مقصد یہ تھا کہ جن لوگوں کے اندر حق کی طلب ہے، وہ حق کو پالیں۔ اور جو لوگ حق کے طالب نہیں، اُن کا منکر ہونا ایک ثابت شدہ واقعہ بن جائے۔ اِسی بنیاد پر آخرت کی عدالت میں دونوں فریقوں کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ساتویں صدی کے رُبع اول میںآئے۔ آپ آخری پیغمبر تھے۔ آپ کے بعد اللہ کی طرف سے کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں (33: 40) ۔ ختمِ نبوت کا یہ معاملہ کسی پُر اسرار سبب سے نہیں ہوا، اس کا سبب صرف یہ تھا کہ خدا کا کلام قرآن محفوظ ہوگیا (15:9) ، اور اب یہ کافی ہوگیا کہ ہر زمانہ اور ہر نسل کے لوگوں تک اِس محفوظ قرآن کو پہنچا دیا جائے۔ گویا کہ اب قرآن، پیغمبر کا قائم مقام ہے۔ ختم نبوت کے بعد تحفظِ نبوت کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ نبوت کو مسلسل ہر دور میں جاری رکھنے کا مسئلہ ہے۔ اِس کی عملی صورت یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں چھاپ کر لوگوں تک پہنچایا جائے اور مسلسل پہنچایا جاتا رہے۔

یہی امتِ محمدی کی اصل ذمے داری ہے۔ امتِ محمدی کا اللہ کی نظر میں امتِ محمدی قرار پانا، اِسی پر موقوف ہے کہ پیغام رسانی کا یہ کام کسی وقفے کے بغیر ہر دورِ تاریخ میں جاری رہے۔ پیغامِ نبوت کے اِس تبلیغِ عام کے مشن میںامتِ محمدی کے ہر فرد کو…

Al-Risala September 2020 A original + quote

شہادت اعظم

اس تاریخی عمل کا غالباً آخری دور وہ ہے، جو تقدیر الٰہی کے تحت غالباً اکیسویں صدی میں پیش آنے والا ہے۔ اس عمل کو قرآن میں گلوبل انذار (الفرقان، 25:1) اور حدیث میں شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر2938) کا نام دیا گیا ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں بتایا ہے کہ انسانی تاریخ کے آخری زمانے میں ایک واقعہ پیش آئےگا، یعنی شہادت اعظم کا واقعہ۔ شہادت اعظم کا مطلب ہے سب سے بڑی گواہی (the greatest witness)۔گواہی کا مطلب ہے زمین پر پیدا ہونے والے انسانوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) سے واقف کرانا۔ تاکہ انسان دنیا میں خالق کے اسکیم آف تھنگس سے باخبر ہوکر زندگی گزارے۔ اس کام کو قرآن میں انذار کہا گیا ہے۔ انسانی تاریخ کے ہر دور میں انذار کا یہ کام مسلسل طور پر جاری رہا۔ کبھی پیغمبروں کے ذریعے اور کبھی ان مصلحین کے ذریعے جنھوں نے پیغمبر کی نیابت میں انذار کے اس کام کو انجام دیا۔

Al-Risala September 2020 A original + quote

انذار بذریعہ تائید

قرآن خدا کے دین کا واحد مستند ماخذ (authentic source)ہے۔ خدا کے دین کے لیےیہ مطلوب ہے کہ وہ سارے عالم میں پھیلے۔ پھیلنے کا یہ عمل دو طریقوں سے جاری ہوتا ہے—  انذار اور تائید۔ پہلے طریقے کا ذکر قرآن میں آیا ہے، اور دوسرا طریقہ حدیث رسول کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ پہلا طریقہ قرآن میں ان الفاظ میں مذکور ہے:تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا(25:1)۔یعنی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ جہان والوں کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔

دین کی اشاعت کے اس عمل کو قرآن میں انذار کا عنوان دیا گیا ہے۔ انذار کا مطلب ہوتا ہےآگاہ کرنا، باخبر کرنا۔ عربی زبان کے مشہور عالم ابن فارس(وفات 395ھ) نے انذار کا مطلب ابلاغ بتایا ہے(معجم مقاییس اللغة، جلد5، صفحہ414)۔ یعنی خدا کے منصوبۂ…

In the lectures

Cited at 72s — opens the lecture at this moment.

Cited at 983s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1412s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1719s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2033s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2597s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2752s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4204s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4689s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5057s — opens the lecture at this moment.

Cited at 42s — opens the lecture at this moment.

Cited at 400s — opens the lecture at this moment.

Cited at 573s — opens the lecture at this moment.

Cited at 673s — opens the lecture at this moment.

Cited at 728s — opens the lecture at this moment.

Cited at 965s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1182s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1409s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1423s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1721s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1741s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1761s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1789s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2062s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2396s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2427s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2700s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2815s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3233s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4338s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4416s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5002s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5253s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5502s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

ایک خدائی بشارت

قرآن کی سورہ النساء میں ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وَمَنْ یُّھَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَة (4:100) یعنی جو شخص اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت…

semantic Diary 1983-1984

…کے باعث بہت سے لوگوں نے قصیدہ بردہ کے انداز میں قصیدے لکھے اور بہت سے لوگوں نے اس کی تضمین کی۔ محمد مصری نے "تسبیع" کے انداز میں ایک نظم لکھی ہے (تسبیع کا مطلب ہے پانچ مصرعے بڑھا کہ ہر بند کوسات مصرعے کا بند بنانا) اس کا ایک شعر یہ ہے :

محمد جاء بالآت والحكم مبشراً ونذيرا لجملة الامم

محمد نشانیاں اور حکمتیں لے کر آئے ، خوش خبری دینے والے اور تمام قوموں کو ڈرانے والے ۔

…کے اندر دوسرے آدمی کے لیے رحمت کے جذبات ابھریں۔ ہر موقع پر ایک آدمی دوسرے آدمی کو رحمت و الفت کا تحفہ پیش کرے۔ حتی کہ اظہار اختلاف کا موقع ہو تب بھی مومن کی زبان سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں کہ  خدا تمہارے اوپر رحم کرے، تم نے ایسا کیوں کر کہا۔

خدا رحیم ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے بھی رحیم بن کر دنیا میں رہیں۔

…نماز کے بعد میں حسب معمول لکھنؤ کی نریندر دیو لائبریری گیا جو ندوہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر کی لغت میں لفظ Arises کے استعمال دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے

Let God arise, let His enemies be scattered.

Let them also that hate Him flee before Him.

…عصرکی نماز کے بعد میں حسب معمول لکھنؤ کی نریندر لائبریری گیا جو ندوہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر کی لغت میں لفظ Arises کے استعمال دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے

Let God arise, let His enemies be scattered.

Let them also that hate Him flee before Him.

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں رحمتہ للعالمین (سارے عالم کے لیے رحمت) کہا گیا ہے۔ اسی بات کو خواجہ الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں اس طرح نظم کیا ہے 

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

پیغمبر اسلام رحمت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے ۔ ایک مورخ کے الفاظ میں، رحمت آپ کی شخصیت کو سمجھنے کی کنجی ہے۔ آپ کا تمام قول اور تمام عمل جس بنیادی اصول کے ماتحت ہوتا تھا وہ یہی رحمت کا پہلو ہے۔ آپ وہی بات بولتے تھے جس میں انسانوں کے لیے…

…کی نماز کے بعد میںحسب معمول نریندر دیو لائبریری گیا جو ندوہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر (Webster)کی لغت میں لفظ arises کے استعمالات دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے:

Let God arise, let His enemies be scattered,

Let them also that hate Him flee before Him,

…نماز کے بعد میںحسب معمول نریندر دیو لائبریری گیا جو ندوہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر (Webster) کی لغت میں لفظ arises کے استعمالات دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے

Let God arise, let His enemies be scattered,

Let them also that hate Him flee before Him,

semantic Al-Risala December 2015 original + quote

امت مسلمہ کا فائنل رول

قرآن کی سورہ نمبر 25 میں یہ آیت آئی ہے: تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِہِ لِیَکُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا (الفرقان: 1)یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن)اتارا تاکہ وہ سارے عالم کے لئے خبر دار کرنے والابنے۔

قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن سارے عالم میں پھیلے گا، یہاں تک کہ اس کا پیغام زمین پر بسنے والےہر مرد اور ہرعورت تک پہنچ جائے گا۔

semantic Al-Risala April 2011 original + quote

عالمی انذار وتبشیر

قرآن کی سورہ الفرقان میں یہ آیت آئی ہے تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1) ۔یعنی بہت برکت والاہے وہ جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا، تاکہ وہ سارے عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔ اِس آیت سے معلوم ہوا کہ قرآن کو عالمی انذار وتبشیر کے لیے اتارا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں اترا۔ اُس وقت اور اس کے بعد ہزار سال تک وہ ذرائع موجود نہ تھے جن کو استعمال کرکے قرآن کرہ ارض کے تمام انسانوں تک پہنچا دیا جائے، نہ قرآن کے چھپے ہوئے نسخے موجود تھے، نہ تیز رفتار…