Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
رحمت کلچر p. 132
اسلام رحم اور مواسات کا دین p. 132
رحمت کلچر p. 133
اسلامی کلچر رحمت کلچر ہے۔ اسلام میں رحمت کا پہلو اتنا زیادہ نمایاں ہے کہ وہ ان لوگوں کی پوری زندگی پر چھا جاتا ہے جو اسلام کے اصولوں کو پوری طرح اختیار کر لیں۔ p. 133
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملے تو وہ کہے السلام علیکم و رحمتہ اللہ (تمہارے اوپر اللہ کی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو) ایک شخص کو چھینک آئے تو وہ کہے الحمد للہ۔ اور سننے والا کہے یرحمک اللہ (اللہ تمہارے اوپر رحمت کرے) نماز کے لیے مسجد میں داخل ہو تو کہے اللّٰھم افتح لی ابواب رحمتک (اے اللہ، مجھ پر رحمت کے دروازے کھول دے) اسی طرح نمازی لوگ جب نماز کو ختم کرتے ہیں تو وہ اپنے دائیں اور بائیں منہ پھیر کر کہتے ہیں السلام علیکم و رحمتہ اللہ (تم لوگوں کے اوپر اللہ کی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو) p. 133
اس طرح ہر موقع پر اور ہر مرحلہ میں سلامتی اور رحمت کے کلمات لوگوں کے منہ سے نکلتے ہیں۔ رحمت کے انداز میں سوچنا اور رحمت کے انداز میں بولنا یہ اہل ایمان کی امتیازی صفت بن جاتی ہے۔ ان کی پوری زندگی رحمت والفت کے تقاضوں میں ڈھل جاتی ہے۔ p. 133
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرت سے ایسے کلمات منقول ہیں جن کا آغاز اس طرح کے الفاظ سے ہوتا ہے۔ رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً (سنن الترمذي،حدیث نمبر430) رَحِمَ اللهُ رَجُلًا (صحيح البخاري،حدیث نمبر 2076) رَحِمَكَ اللَّهُ (سنن الترمذي،حدیث نمبر 1057) رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً (سنن أبي داود،حدیث نمبر 1308) يَرْحَمُ اللهُ نِسَاءَ الْمُهَاجِرَاتِ (صحيح البخاري،حدیث نمبر 4758) يَرْحَمُكَ اللهُ (صحيح البخاري،حدیث نمبر 6226)، وغیرہ۔ p. 134original + quote
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام لوگوں کے اندر کس قسم کا مزاج بنانا چاہتا ہے۔ وہ دراصل رحمت و محبت کا مزاج ہے۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ ہر موقع پر ایک آدمی کے اندر دوسرے آدمی کے لیے رحمت کے جذبات ابھریں۔ ہر موقع پر ایک آدمی دوسرے آدمی کو رحمت و الفت کا تحفہ پیش کرے۔ حتی کہ اظہار اختلاف کا موقع ہو تب بھی مومن کی زبان سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں کہ خدا تمہارے اوپر رحم کرے، تم نے ایسا کیوں کر کہا۔ p. 134
خدا رحیم ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے بھی رحیم بن کر دنیا میں رہیں۔ p. 134