Shukr All cross-references →
Qur'an 2:25
Qur'an 2:25

وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ كُلَّمَا رُزِقُواْ مِنۡهَا مِن ثَمَرَةٖ رِّزۡقٗا قَالُواْ هَٰذَا ٱلَّذِي رُزِقۡنَا مِن قَبۡلُۖ وَأُتُواْ بِهِۦ مُتَشَٰبِهٗاۖ وَلَهُمۡ فِيهَآ أَزۡوَٰجٞ مُّطَهَّرَةٞۖ وَهُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ

And give good tidings to those who believe and do righteous deeds that they will have gardens [in Paradise] beneath which rivers flow. Whenever they are provided with a provision of fruit therefrom, they will say, "This is what we were provided with before." And it is given to them in likeness. And they will have therein purified spouses, and they will abide therein eternally

Explained in 11 book passages and 33 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Al-Risala September 2022 A original + quote

It is like seeing paradise from a distance.

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے ایک نہایت حسین اور معیاری دنیا بنائی جہاں انسان ابدی طورپر پر مسرت زندگی گزار سکے۔ یہ جنت ہے ۔پھر اس نے ایک اور دنیا موجودہ زمین کی صورت میں بنائی۔ ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انتہائی انوکھا استثنا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے،یعنی اس دنیا میں جنت کے مشابہ تمام چیزیں رکھ دی گئی ہیں (البقرہ ، 2:25)۔ گویا موجودہ دنیا آخرت کی کا مل جنت کا ایک ناقص تعارف ہے۔ یہ دنیا انسان کو اس لیے دی گئی ہے تاکہ وہ اس کے اندر جنت کی ابتدائی جھلک دیکھے اور پھر اس کا شکر ادا کر کے ابدی جنت کا مستحق بنے ۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے لَئِن شَکَرۡتُمۡ لَأَزِیدَنَّکُمۡ (14:7)۔ یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو (جنت کی صورت میں)زیادہ دوں گا۔

Al-Risala September 2019 A original + quote

انسان سے مطلوب

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو احسن تقویم کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ فرمایا کہ انسان کو اسفل سافلین کی حالت میں ڈال دیا گیا ہے(التین،95:4-5)۔ یہ بات لفظی معنی میں نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ خود قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے جنت سے مشابہ دنیا ہے (البقرۃ، 2:25)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی زندگی مادی معنوں میں اسفل نہیں ہے۔ بلکہ وہ نفسیاتی معنی میں احساسِ محرومی کی زندگی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان کو اعلیٰ ذوق (high taste) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے ایسا ہے کہ موجودہ دنیا کی مادی…

Al-Risala September 2019 A original + quote

جنت کیا ہے

جنت کوئی پر اسرار قسم کی ناقابلِ فہم چیز نہیں۔ جنت انسان کے لیے پوری طرح ایک قابلِ فہم (understandable) نعمت ہے۔ قرآن میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: (ترجمہ) جب بھی ان کو جنت کے باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا، اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا(2:25)۔

حقیقت یہ ہے کہ جنت موجودہ دنیا کے متشابہ (similar) ہوگی۔ موجودہ دنیا جنت کا نان پرفکٹ ماڈل (non-perfect model) ہے، اور آخرت کی جنت پرفکٹ ماڈل (perfect model)۔ موجودہ دنیا بھی اسی طرح اللہ رب العالمین کی تخلیق ہے، جس طرح آخرت کی جنت اللہ…

Al-Risala September 2019 A original + quote

…ہے، جو کسی کے دباؤ کے بغیر دوسروں کے لیے بہترین ہمسایہ بن کر رہنے والا ہے۔ جس آدمی کے اندر حسن رفاقت کی صفت ہو، جو کسی دباؤ کے بغیر سیلف ڈسپلن کے ساتھ ہر حال میں رہ سکتا ہے، ایسے ہی لوگ ہیں، جو جنت میں داخلے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔

اسی طرح قرآن میں بتایا گیاہے کہ اہل جنت کے لیے جنت کا رزق ایک معلوم رزق ہوگا۔ یعنی جنت ان کے لیے ایک ایسی چیز ہوگی، جس کی دریافت ان کو دنیا میں ہوچکی تھی ۔ اس سلسلے میںقرآن کے الفاظ یہ ہیں وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَہَا لَہُمْ ( 47:6) ۔ یعنی اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے۔ گویا کہ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جو جنت کے متشابہ دنیا (similar world)کی حیثیت رکھتی ہے ، جیسا کہ قرآن میں ایک دوسرے مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں کُلَّمَا رُزِقُوا مِنْہَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا ہَذَا الَّذِی رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِہِ مُتَشَابِہًا( 2:25)۔یعنی جب بھی ان کو ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا، اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔

دوسری طرف حدیث میں آیا ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا :حُجِبَتِ الجَنَّةُ بِالْمَکَارِہِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6487)۔ یعنی جنت کو مکارہ سے ڈھانک دیا گیا ہے۔ مکارہ کا مطلب ناپسندیدہ (undesirable) ہے۔ اس پر غور کرنے سے معلوم…

Al-Risala May 2019 A original + quote

…خالق کا بھی یقینی طور پر ایک وجود ہے۔ انسان جب خالق کے وجود کو دریافت کرلے تو اس کو بقیہ تمام چیزوں کی توجیہہ (explanation) مل جاتی ہے۔ اور اگر وہ خالق کے وجود سے بے خبر رہے تو اس کے لیے ہر چیز غیر توجیہہ شدہ (unexplained) بنی رہتی ہے۔

اس کے بعد آدمی قرآن میں یہ پڑھتا ہے کہ اہل جنت کو جب اگلے دور حیات میں جنت ملے گی تو وہ کہیں گے کہ یہ جنت تو ہمارے لیے زمین کے متشابہ جنت ہے (البقرۃ، 2:25) ۔ یہ ایک فطری دریافت کا معاملہ ہے۔ یہ فطری پراسس (natural process) ہے جو آدمی کو ہر قابل دریافت چیز کی ڈسکوری تک پہنچادیتا ہے۔

Al-Risala June 2018 A original + quote

Indeed the companions of Paradise, that Day, will be amused in joyful occupation .

جنت میں جو چیزیں اہل جنت کو ملیں گی، ان کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مشابہ (سورۃ البقرۃ،2:25) ہوں گی۔ یعنی دنیا کی زندگی میں ان کی جوسرگرمیاں تھیں، بظاہر وہی تمام سرگرمیاں جنت میں بھی ہوں گی۔ لیکن جنت کی زندگی ہر قسم کے خوف اور حزن سے پاک ہوگی۔ دنیا میں ہر سرگرمیوں کے ساتھ مشقت اور بورڈم (boredom) شامل رہتا ہے۔ لیکن جنت کی دنیا میں اس قسم کی تمام چیزیں حذف ہوجائیں گی۔ جنت کی زندگی پورے معنی میں شادمانی کی سرگرمیوں (pleasant activities) کی زندگی ہوگی۔

حدیث میں آیا ہے کہ َحُجِبَتِ الجَنَّةُ بِالْمَکَارِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر6487)۔ یعنی جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔موجودہ دنیا اپنی حقیقت کے اعتبار سے جنت کی مانند ہے۔ لیکن اس کے اوپر انسانی آلودگی (man-made pollution)…

Al-Risala August 2015 A original + quote

…بنائی ہیں۔ ایک موجودہ دنیا (planet earth)، اور دوسری وہ دنیا جس کے لیے قرآن اور حدیث میں جنت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا کو ابتلا (آزمائش)کی مصلحت کے تحت بنا یا گیا ہے، اور جنت کو ابدی انعام کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔

قرآن کے مطالعےسے مزید معلوم ہوتا ہے کہ دونوں دنیائیں ایک دوسرے کے مشابہ (2:25)ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ موجودہ دنیا عارضی ہے اور جنت کی دنیا ابدی۔ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی دی گئی ہے، تاکہ ہر فرد کو جانچ کردیکھا جائے کہ کیا اس کے اندر وہ کردار ہے جو جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے لیے مطلوب ہے۔ جنت چونکہ انعام کی دنیا ہے اس لیے وہاں ہر چیز پرفکٹ اور آئڈیل درجے میں موجود ہے۔جنت ہر قسم کی محدودیت (limitation) اور نقص (disadvantage) سے پاک ہے۔ موجودہ دنیا وقتی ضرورت کے اعتبار سے بنائی گئی ہے، اور جنت انسان کے کامل فُل فِل مینٹ (fulfillment)کے اعتبار سے۔

Al-Risala June 2014 A original + quote

…سوچتا ہے، وہ جنت کے بارے میں کچھ ایسے سراغ (clues) پالیتاہے جس کے حوالے سے وہ جنت کے بارے میں خصوصی دعا کرے اور آخر کار وہ اللہ کے نزدیک جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے۔جنت کی اِس پہچان کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے، نہ کہ آخرت کی دنیا سے۔

مثلاً اہلِ جنت جب جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت کی نعمتوں کا تجربہ کریں گے تو اُن کا جو حال ہوگا، اُس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْہَا مِنْ ثَمَـــرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوْا ھٰذَا الَّذِىْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۙ وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِہًا ( 2: 25) یعنی جب بھی اہل جنت کو جنت کے باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ وہی ہے جو اِس سے پہلے ہم کو دیاگیا تھا، اور ملے گا اُن کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔

اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو جنت کے متشابہ (similar) بنایا ہے۔ جب ایک مومن غور وفکر کرتاہے تو وہ اِس حقیقت کو دریافت کر لیتا ہے کہ موجودہ دنیا، جہاں خدا نے اس کو رہنے کا موقع دیا ہے، وہ جنت کے مشابہ دنیا ہے۔

Al-Risala May 2014 A original + quote

Make your living in this world like living in Paradise.

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کو جنت کے متشابہ(similar) بنایا گیا ہے(2:25) ، یعنی موجودہ دنیا میں وہ تمام اجزا محدود طورپر موجود ہیں جو جنت میں لامحدود طورپر موجود ہوں گے۔ موجودہ دنیا جنت کا امپرفیکٹ ورژن (imperfect version) ہے، اور جنت موجودہ دنیا کا پرفیکٹ ورژن (perfect version)۔ جس انسان کو موجودہ دنیا کی اِس متشابہ ِ جنت حیثیت کی دریافت ہوجائے، وہ موجودہ دنیا میں جنت کا تجربہ کرنے لگے گا۔ اُس انسان کے لیے موجودہ دنیا گویا کہ جنت کی چراگاہ بن جائے گی، اُس کو موجودہ دنیا کے ہر تجربے میں جنت کی غذا ملنے لگے گی۔

یہ سارا معاملہ ایمانی شعور کی بیداری کا معاملہ ہے۔ جس آدمی کے اندر ایمانی شعور پوری طرح بیدار ہوجائے، اُس کا یہ حال ہوجائے گا جیسے کہ وہ جنت کے باغوں میں واک (walk) کررہا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے موت کا مطلب یہ ہوگا جیسے کہ کوئی شخص اپنے…

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ جنت کو جب جنت کی نعمتیں ملیں گی تو وہ کہیں گے کہ ایسا ہی رزق ہم کو دنیا میںملا تھا، اورجنت کا رزق دنیا کے رزق کے متشابہہ ہوگا:

Whenever, they are given fruit to eat, they will say, ‘This is what we were provided with before’, they were given similar things. (2: 25)

موجودہ دنیا اپنی تخلیق کے اعتبار سے، جنت کا تعارف ہے (47: 6) ۔ جنت کی دنیا ایک مکمل دنیا (perfect world) ہے، اور موجودہ دنیا جنت کی مانند ایک غیر مکمل دنیا (imperfect world)۔ یہ بات پورے سیارۂ ارض کے لیے درست ہے۔ تاہم، زمین کے بعض مقامات…

Al-Risala May 2011 A original + quote

…وہ یہ ہے : إنّہ لقرآن کریم ، فی کتاب مکنون، لا یمسّہ إلاّ المطہرّون۔ تنزیل من ربّ العالمین (56: 77-80) یعنی یہ ایک باعزت قرآن ہے، ایک محفوظ کتاب میں۔ اس کو وہی چھوتے ہیں جو پاک بنائے گئے ہیں۔ اتارا ہوا ہے پروردگار ِ عالم کی طرف سے۔

قرآن کی اس آیت کا کوئی تعلق وضو کے مسئلے سے نہیں۔ اِس آیت میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کی تنزیل کا عمل فرشتوں کے ذریعے ہوتا ہے، اور فرشتے ایک ایسی مخلوق ہیں جن کو خدا نے پیدائشی طورپر طاہر بنایا ہے۔ اِس آیت میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ مُطَہَّر ہے، نہ کہ متوضَّأ،یعنی پاکیزہ نہ کہ باوضو۔ مطہَّرکا لفظ قرآن میںدوسرے مقام پر ازواجِ جنت کے لیے آیا ہے (2: 25) ۔ وہاں بھی یہ مراد نہیں ہے کہ یہ ازواج ہمیشہ باوضو ہوںگی، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اُن کو پیدائشی طورپر پاکیزہ اور طاہر بنایا ہوگا: ومطہرّۃٌ للإشعار بأن اللہ طہرّہن (التفسیر المظہری 1/40 )

قرآن کے الفاظ کے مطابق، قرآن کو وہ مخلوق چھوتی ہے جو خود اپنی تخلیق کے اعتبار سے پاکیزہ ہے، جس کو خالق نے پیدائشی طورپر پاک بنایا ہے، یہ مخلوق بلا شبہہ فرشتے ہیں۔ وہ قرآن کو اللہ سے لیتے ہیں اور پیغمبر تک پہنچاتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ سے…

In the lectures

Cited at 930s — opens the lecture at this moment.

Cited at 960s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1161s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1320s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1378s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1844s — opens the lecture at this moment.

Cited at 666s — opens the lecture at this moment.

Cited at 866s — opens the lecture at this moment.

Cited at 902s — opens the lecture at this moment.

Cited at 905s — opens the lecture at this moment.

Cited at 987s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1017s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1043s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1055s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1110s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1186s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1263s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1463s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1734s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1862s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2277s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2494s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3353s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3436s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3567s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3793s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4144s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4612s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5655s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5710s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6288s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6602s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6628s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Translated from Arabic and commentary by Maulana Wahiduddin Khan

But those who believed and did good deeds will be brought into Gardens with rivers flowing through them. They shall abide there forever by their Lord’s permission, and will be welcomed with the greeting, ‘Peace’! (14: 23)

To say assalamu alaykum or ‘peace be with you’ at the time of meeting someone is not simply a formal social custom. This is, in fact, an outward symbol of a heartfelt connection.

semantic Discovering God (p. 247) Qur'an

…person reads the Quran in this way, it will repeatedly happen that he will be struck by some word or verse of the Quran. On such occasions, he should pause and reflect on this. In this way, he will receive intellectual food from the Quran.

For instance, when you read the Quran, you will come across this verse: “And for their words God will reward them with Gardens through which rivers flow, wherein they shall abide forever. That is the reward of those who do good.” (5:85)

When you read this verse you will be reminded of this hadith: “Whoever said there is no god but God will enter heaven.” (Musnad al-Bazzar, Hadith No. 10080)

semantic Deen-e-Insaniayat (p. 235) original + quote

پاکیزہ روش

قرآن میں اہل جنت کے تذکرہ کے ذیل میں فرمایا گیا ہے کہ___ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہوگی۔(یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا میں) پاکیزہ قول(قول طیب) کی ہدایت بخشی گئی تھی۔ اور ان کو خدائے حمید کا راستہ(صراط الحمید) دکھایا گیا تھا(22:23-24)۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو چیزیں ہیں جو کسی کے لیے جنت میں داخلہ کا ذریعہ بنیں گی۔ ایک، اعتراف حق، اور دوسرے، اتباع حق۔

semantic Women In Islam (p. 24) Qur'an

Women shall have a share in what their parents and kinsmen leave, whether little or much, it is legally theirs. (4:7)

... Those that have faith and do good works, both men and women, shall enter the Gardens of Paradise and receive blessings without measure. (40:20)

Words of the Prophet Muhammad

semantic Al-Risala November 2015 unverified

…معرفت (realization) سے ہوتا ہے۔ یعنی خدا کو خالق و مالک کی حیثیت سے دریافت کرنا ۔ کسی انسان کو جب خدا کی یہ معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کا حال کیا ہوتا ہے۔ اس کو قرآن میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میںایک آیت کا ترجمہ یہ ہے:

اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اِس سبب سے کہ ان کو حق کی معرفت حاصل ہوئی۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اُس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔ پس اللہ ان کو اِس قول کے بدلہ میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا (المائدة : 83-85 ) ۔

خدا کی معرفت آدمی کے اندر کس قسم کی شخصیت پیدا کرتی ہے، اس کو قرآن میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے۔ اِس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذِکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی…

semantic Al-Risala September 2005 Qur'an

…معرفت (realization) سے ہوتا ہے۔ یعنی خدا کو خالق و مالک کی حیثیت سے دریافت کرنا ۔ کسی انسان کو جب خدا کی یہ معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کا حال کیا ہوتا ہے۔ اس کو قرآن میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میںایک آیت کا ترجمہ یہ ہے:

اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اِس سبب سے کہ ان کو حق کی معرفت حاصل ہوئی۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اُس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔ پس اللہ ان کو اِس قول کے بدلہ میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا (المائدہ ۸۵۔۸۳)

خدا کی معرفت آدمی کے اندر کس قسم کی شخصیت پیدا کرتی ہے، اس کو قرآن میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے۔ اِس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذِکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی…

semantic Women In Islam (p. 168) Qur'an

“Anyone who performs good deeds, whether it be a man or woman, provided that he is a believer, shall enter Paradise. No one shall suffer the least injustice.” (4:124)

“To whoever does good deeds, man or woman, and is a believer, We shall assuredly give a good life; and We will bestow upon them their reward according to the best of their works.” (16:97)

“The believers, both men and women, are friends to each other; they enjoin what is good and forbid evil, they attend to their prayers and pay the alms and obey God and His Messenger. On these, God will have mercy, for God is almighty and…

semantic Women In Islam (p. 100) Qur'an

While conceding equality of the sexes, the Quran categorises men and women according to their deeds in this world. It states that all men and women are answerable equally to God:

“To whoever does good deeds, man or woman, and is a believer, We shall assuredly give a good life; and We will bestow upon them their reward according to the best of their works.” (16:97)

Even while seeking the blessings of God, both men and women are promised full returns of their labour, apart from the excessive bounties showered by Him:

semantic Discovering God (p. 12) other source

…49 of the Quran addresses the believers thus: “The Arabs of the desert say, ‘We have believed.’ Say to them, ‘You have not believed yet; say rather, “We have submitted,” for faith has not yet entered into your hearts.” (The Quran, 49:14)

And then another verse in chapter 5 of the Quran describes believers thus: “When they listen to what has been sent down to the Messenger, you see their eyes overflowing with tears, because of the Truth they recognize. They say, ‘Our Lord, we believe, so count us among those who bear witness. Why should we not believe in God and in the truth that has come down to us? We yearn for our Lord to admit us among the righteous.’ And for their words God will reward them with Gardens through which rivers flow, wherein they shall abide forever. That is the reward of those who do good.” (The Quran, 5:83-85)

By studying both these verses, we learn what constitutes faith. Those fortunate souls who are recognized and accepted in the Hereafter by God will be ushered into Paradise, where they will live in a world of unending happiness and comforts.

semantic Women In Islam (p. 52) Qur'an

In Islam, there is no difference between men and women regarding their relationship with God. They would both receive identical rewards and punishments for their conduct. The Quran says:

“To whoever does good deeds, man or woman, and is a believer, We shall assuredly give a good life, and we will bestow upon them their reward according to the best of their works.” (16:97)

A tradition of the Prophet says, “Everything in this world is a piece of property or a possession. The best possession in the world is a pious woman.” (Musnad Ahmad, Hadith No. 6567) The early days of Islam showed the prominence of female…