Qur'an 2:186
Qur'an 2:186
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ
And when My servants ask you, [O Muhammad], concerning Me - indeed I am near. I respond to the invocation of the supplicant when he calls upon Me. So let them respond to Me [by obedience] and believe in Me that they may be [rightly] guided
Explained in 12 book passages
and 41 lecture moments.
Cite / permalink: quran/2:186
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…in reality is bestowed by God. There is no need of mediation to receive this gift from God. God directly bestows whatever He wills on all human beings; the condition for this to happen is to become a seeker of tazkiya in real earnest.
The Quran says: “When My servants ask you about Me, say that I am near. I respond to the call of one who calls, whenever he calls to Me: let them, then, respond to Me, and believe in Me, so that they may be rightly guided.” (2:186)
The word “near” used in the above verse of the Quran, shows that the means of attaining tazkiya is to come close to God rather than rely upon mediation or a mediator. He, who wants to purify himself, ought to awaken his mind and make…
…truth has been set forth in the Quran as well as in the Hadith. It is natural for prayer to be real worship. Indeed, when a believer discovers God with His perfect attributes, he also discovers his total worthlessness in comparison to God.
God is the Lord, I am His servant. God is the Giver, I am the taker. God is the All-Powerful and I am submissive and helpless. This feeling immediately makes the suppliant capable of prayer to God. Prayer is that greatest of relationships through which a believer comes close to God. Prayer is the source of connection between God and the believer. A person receives everything through prayer. All the forms of worship make a person capable of praying to God, so that he may become the receiver. For example, in the Quran, after giving the command to fast in the month of Ramadan, the following verse says: “When My servants ask you about Me, say that I am near. I respond to the call of one who calls, whenever he calls to Me: let them, then, respond to Me, and believe in Me, so that they may be rightly guided.” (2:186)
The same adjuration was expressed by Jesus Christ: “Ask and it will be given to you; seek and you will find; knock and the door will be opened to you. For every one who asks receives; the one who seeks finds; and to the one who knocks, the…
…the believer must be whispering with his Lord should be a part of his life (Sahih Ibn Hibban, Hadith No. 361). Whispering suggests such an experience when man finds himself so very close to God that he starts speaking to Him in undertones.
Although there is evidence in the Quran that, “God is very close to man.’’ (2:186) The Quran also tells us: “Prostrate yourself and come closer to God.” (96:19)
This is no simple matter. When a man discovers his Lord, when he reflects deeply on the Heavens and his own self, he repeatedly feels that he has come very close to his Lord. At that time his heart trembles, his eyes are filled with tears,…
…کے ساتھ شامل ہوجائے کہ وہ اللہ رب العالمین سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا بن جائے، اور اللہ رب العالمین سے سب سے زیادہ اندیشہ کرنے والا بن جائے۔ اس کی یہ کیفیت اتنا زیادہ بڑھے کہ اللہ رب العالمین اس کا واحد کنسرن (sole concern) بن جائے۔
ربانی انسان کا یقین رب العالمین کے لیے اتنا بڑھ جاتا ہے کہ رب العالمین سے اس کی سرگوشیاں (whisper) ہونے لگتی ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:یُنَاجِی رَبَّہُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 413)۔ یعنی وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ یہ سرگوشی دوطرفہ ہوتی ہے۔ یعنی وہ اپنے رب کے ذکر اور دعا میں مشغول ہوتا ہے، اور رب کی طرف سے انسپریشن (inspiration) کی زبان میں جواب آنے لگتا ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (2:186)۔ربانی انسان در اصل اعلیٰ درجے کا عارف انسان ہوتاہے، یعنی صاحب معرفت انسان۔
…پر جو آدمی قرآن کو پڑھے، اس کو قرآن کی باتوں سے معنوی واقفیت حاصل ہوجائے گی۔ قرآن فہمی کی دوسری سطح وہ ہے، جو تدبر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اس دوسری سطح پر قرآن فہمی کے ذریعے آدمی کو گہری رہنمائی حاصل ہوتی ہے، جس کو نصیحت کہاجاتا ہے۔
مثلاً قرآن میں ماہ رمضان کا بیان ہے، اس کے بعد فرمایا: فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ (2:185)۔ عربی زبان سے واقفیت رکھنے والا آدمی جب اس آیت کو پڑھے گا تو وہ آیت کا فقہی مفہوم جان لے گا۔ یعنی رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا فرض ہے۔اس سلسلہ بیان کی اگلی آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں(2:186)۔ اس آیت کو پڑھ کر عربی زبان جاننے والایہ سمجھ لے گا کہ اللہ سے سوال کرنے والا آدمی اللہ سے قریب ہے، اور اس کے سوال کا جواب دیتا ہے۔ لیکن یہ جواب کس صورت میں آتا ہے۔ یہ مجرد عربی زبان جاننے سے معلوم نہیں ہوتا، بلکہ غور وفکر کرنے سے اس کا ادراک ہوسکتا ہے۔ یعنی آیت پر تدبر کرنے کے ذریعے سے۔
…مینج کرنا پڑتا ہے۔ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، حالات کو اس کے مطابق بنانا پڑتا ہے۔ اس لیے قانونِ قدرت کےمطابق، کوئی بڑی دعاکبھی اس طرح قبول نہیں ہوتی کہ دعاکرنے والے نے دعا کیا۔ اور اس کے فوراً بعد اس کی قبولیت بھی سامنے آگئی۔
دعا کے بارے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی وَلْیُؤْمِنُوا بِی لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُونَ (2:186)۔ یعنی اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، پس ان کو چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر یقین کریں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
اس آیت میں بتایا گیاہے کہ خدا بندے کے قریب ہے۔ اور وہ بندے کی دعا کا جواب دیتا ہے۔ لیکن جواب کی صورت کیا ہوتی ہے، اس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں موجود نہیں۔ اجیب دعْوة الداع اذا دعان کے فورا بعد جو الفاظ آئے ہیں، وہ یہ ہیں:فلیستجیبو لی…
…سے ہم
کلام ہوجاتا ہے۔ اس کو اللہ کی طرف سے انسپریشن (inspiration) ملنے لگتا ہے۔ اس کو
ایسا محسوس ہونے لگتاہے کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت میں پہنچ گیا ہے۔ وہ انسانوں
کے درمیان رہتےہوئے اللہ کا پڑوسی بن گیا ہے۔
اس حدیث میں بندہ اور رب کے درمیان جس مناجات کا ذکر ہے، اس کی تصدیق قرآن سے بھی
ہوتی ہے۔قرآن میں یہ آیت آئی ہے: وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ
أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (2:186)۔
بندے کی پکار کا اللہ تک پہنچنا انھیں الفاظ میں ہوتا ہے جن الفاظ میں بندے نے اپنے
رب کو پکارا ہے۔ بندہ جب پکارتا تو اس کا رب اس کو اسی وقت حقیقی طور پر سن لیتا ہے۔اب
سوال یہ ہے کہ اللہ کا جواب کس طرح انسان تک پہنچتا ہے۔یہ…
حالات کی زبان
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی وَلْیُؤْمِنُوا بِی لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُونَ (2:186) ۔ یعنی اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے رب سے الفاظ کی زبان میں سوال کرتا ہے، لیکن اس کا رب اس کا جواب حالات کی زبان میں دیتا ہے۔ ان حالات کو الفاظ کی زبان دینا خود انسان کا اپنا کام ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خالص مومنانہ ذہن کے…
تعلق باللہ
تعلق باللہ کے سلسلے میں جو آیتیں قرآن میں آئی ہیں ، ان میں سے ایک آیت یہ ہے: وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیبُوا لِی وَلْیُؤْمِنُوا بِی لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُونَ (2:186)یعنی اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، مَیںپکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہئے کہ وہ میری بات کو مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
قرآن کی اس آیت میں یہ تو بتایا گیا ہے کہ اللہ پکار کا جواب دیتا ہے۔ لیکن یہ جواب کس صورت میں آتا ہے، اس کا ذکر اس آیت میں نہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے ہدایت آنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بندے کو داخلی اعتبار سے…
ربط کے بغیر ملاقات
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے ضعیف (4:28)پیدا کیا ہے۔ یعنی انسان پیدائشی طورپر یہ احساس لے کر پیدا ہوتاہے کہ میں ایک عاجز مخلوق ہوں۔ اپنے عجز کی تلافی کے لئے وہ ہمیشہ ایک سہارے کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس چیز کو معبود کہاجاتا ہے۔ ایک خالق کے سوا کسی اورکو معبود بنانا یہ شرک ہے۔ انسان کے لئے حقیقی سہارا صرف ایک ہے اور وہ اللہ رب العالمین ہے- یہ سہارا اگر چہ بظاہر غیب میں ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ انسان کے بالکل قریب (2:186)موجود ہے- یہ قربت اتنی زیادہ حقیقی ہے کہ حدیث کے الفاظ میں ہمیشہ وہ اس سے سرگوشی کرتا رہتاہے۔ بظاہر اس کا معبود مادی اعتبار سے اس کے قریب نظر نہیں آتا، لیکن انسان کے لئے ہر وقت یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ نفسیاتی اعتبار سے اپنے رب سے مکمل ربط حاصل کرسکے۔ یہ ایک ایسا ربط (contact) ہے جو بظاہربراہ راست ملاقات کے بغیر حاصل ہوتا ہے۔ جس انسان کا ذہنی ارتقاء اعلی صورت میں ہوا ہو، وہ ہر لمحہ اس اعلی ربط (high contact) کا تجربہ کرتا ہے۔ ایسا انسان جب بھی دوسری چیزوں سے کٹ کر اپنے اندر detached thinking کی کیفیت پیدا کرتا ہے تو وہ محسوس کرتاہے کہ وہ اپنے رب سے بالکل قریب پہنچ گیا ہے۔ حتی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے سرگوشی کے انداز میں بات کررہا ہے۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ یناجی ربہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 405)
ربط کے بغیر اپنے رب سے ملاقات کا یہ تجربہ بلاشبہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑا تجربہ ہے۔ یہ تجربہ ہر انسان کے لئے ممکن ہے بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرے۔براہ راست ربط کے بغیر ملاقات قدیم زمانے میں ایک بعید چیز معلوم ہوتی تھی۔ مگر…
…پہنچ گیاہے- لیکن اہلِ قرآن کا گروپ خود ساختہ طورپر یہ بتاتا ہے کہ صلوة کا مطلب دنیا کی زندگی میں اجتماعی قوانین کی پابندی ہے- اِس طرح یہ نظریہ بندے اور خدا کے درمیان اُس اعلی تعلق کو ختم کردیتا ہے جس کو قرآن میں حب شدید(2:165) کہاگیاہے-
اِسی طرح قرآن کے مطابق، بندے کی ایک عبادت صوم ہے- صوم کی اصل حقیقت یہ ہے کہ بندہ عمل کی زبان میں یہ بتاتا ہے کہ وہ اللہ کے لیے (for the sake of God) اپنی بنیادی ضرورت تک کو چھوڑ سکتا ہے- یہ بندے کی طرف سے اپنے رب کے لیے وفاداری کا آخری مظاہرہ ہے جو کہ بندے کے مقامِ عبدیت کو بہت زیادہ بڑھانے والا ہے- لیکن اہلِ قرآن کا گروپ روزہ (fasting) کے بجائے صوم کا مطلب یہ بتاتا ہے کہ اس سے مراد دنیوی زندگی میں قوانینِ خداوندی کی خلاف ورزی سے بچنا ہے- یہ خود ساختہ تعبیر مومن کو اُس عظیم روحانی تجربے سے محروم کرنے والی ہے جس کو قرآن میں دعاءِ قربت (2:186)کہاگیاہے-
یہی معاملہ دوسری عبادات کا ہے- اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے کچھ مسلم اہلِ فکر نے اسلام کی مبنی برنظام تعبیر (system-based interpretation) پیش کی، جب کہ اسلام کی ربانی تعبیر ہی اس کی صحیح تعبیر ہے- اہلِ قرآن گروپ کا کیس یہ ہے کہ وہ اسلام…
لعلہم یرشدون
قرآن کی سورہ البقرہ میں ماہ صیام (رمضان) کے احکام بیان کیے گئے ہیں-اِس سلسلے میں ایک آیت ىہ ہے: وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِیْبٌ ۭ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙفَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْابِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ(2:186) یعنی جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں، تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں،تاکہ وہ ہدایت پائیں-
’رشد‘ ’یرشد‘ کا مطلب ہے ہدایت پانا- القاموس المحیط میں اس کی تشریح ’اہتدى‘ کے لفظ سے کی گئی ہے، اور لسان العرب میں اِ س کا مفہوم بتانے کے لیے ’أصاب وجہَ الأمر‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں- انگریزی زبان میں کہا جائے گا: to find the…
In the lectures
Cited at 160s — opens the lecture at this moment.
Cited at 192s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1838s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2260s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2334s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2514s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2544s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2573s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2891s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3055s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3230s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3515s — opens the lecture at this moment.
Cited at 200s — opens the lecture at this moment.
Cited at 224s — opens the lecture at this moment.
Cited at 245s — opens the lecture at this moment.
Cited at 273s — opens the lecture at this moment.
Cited at 298s — opens the lecture at this moment.
Cited at 436s — opens the lecture at this moment.
Cited at 747s — opens the lecture at this moment.
Cited at 770s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1118s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1165s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1872s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2013s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2171s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2201s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2232s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2546s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2603s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3085s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3261s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3265s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3293s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3320s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3344s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3366s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3706s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3810s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3857s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4356s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5959s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حقیقی تزکیہ ہمیشہ اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے۔ اللہ کی توفیق کے لیے کسی واسطہ کی ضرورت نہیں۔ اللہ کی توفیق ہر بندہ تک براہِ راست پہنچتی ہے۔ اس کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ ہے حقیقی معنوں میں تزکیہ کا طالب بن جانا۔
قرآن کی سورہ البقرہ میں ایک آیت ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (2:186)۔ یعنی جب میرے بندے تم سے میری بابت دریافت کریں تو (کہہ دوکہ) میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں، جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، تو چاہیے کہ میرے بندے میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ راہ یاب ہوں۔
قرآن کی اِس آیت میں ’’قریب‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ تزکیہ کا ذریعہ حصولِ قربت ہے، نہ کہ حصول وسیلہ۔ جو آدمی اپنا تزکیہ چاہتا ہو، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ذہن کو بیدار کرکے زیادہ سے زیادہ خدا کے قریب ہونے کی کوشش کرے۔
روزہ اور دعا
قرآن کی سورہ نمبر 2 میں اللہ تعالیٰ نے دعا کے متعلق ارشاد فرمایا ہے: وإذا سألک عبادی عنّی فإنی قریب ، أجیب دعوۃ الدّاع إذا دعانِ فلیستجیبوا لی ولیؤمنوا بی لعلہم یرشد ون (البقرۃ: 186 )۔ یعنی جب میرے بندے تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں، جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے۔ تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
دعا کسی قسم کے متعین الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں، دعادراصل دل کی پکار کا نام ہے۔ جب کسی انسان کے دل میں اعلیٰ ربانی جذبات پیدا ہوں اور وہ دل کی گہرائیوں کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگے، تو یہی وہ چیز ہے جس کو اسلام میں دعا کہاگیا ہے۔ اِس قسم کی…
(1) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ (مسند احمد، حدیث نمبر 16016)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں۔ پس وہ جیسا چاہے میرے بارے میں گمان کرے۔
(2) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور میں اس کے ساتھ ہوں، جب وہ مجھ کو پکارے۔
(3) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، إِنَّ ظَنَّ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنَّ ظَنَّ شَرًّا فَشَرٌّ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 401)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کےپاس ہوں۔ اگر اس نے اچھا گمان کیا تو خیر ہے، اور اگر اس نے برا…
(1) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ (مسند احمد، حدیث نمبر 16016)۔ یعنی، میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں۔ پس وہ جیسا چاہے میرے بارے میں گمان کرے۔
(2) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675)۔ یعنی، میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور میں اس کے ساتھ ہوں، جب وہ مجھ کو پکارے۔
(3) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، إِنَّ ظَنَّ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنَّ ظَنَّ شَرًّا فَشَرٌّ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 401)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کےپاس ہوں۔ اگر اس نے اچھا گمان کیا تو خیر ہے، اور اگر اس نے برا…
A Prayer
A Prayer of the Prophet of Islam is as follows, “O God, show me the truth in the form of truth and help me to follow it, and show me the falsehood in the form of falsehood and help me to avoid it, and show me things as they are.” (Sharh al-Muntaha al-Iradat, Vol. 3, p. 497)
The most important thing in today’s world is to possess objective thinking. This is taught in this tradition in the form of a prayer. In today’s world, man lives in such a situation that he often sees the truth in the form of falsehood and…
…a blessing that exalted them above all other creatures. It was so that the Prophet of Islam and his ummah might learn valuable lessons from the ways in which these prophets dealt with the situations in which they found themselves.
In the Quran, the Prophet of Islam is thus addressed: These are whom God guided aright, so follow their guidance. THE QURAN 6:90
Every one of the prophets mentioned in the Quran was an upright man, guided by God along a straight path. The Quran mentions a number of these prophets by name—Ibrahim (Abraham), Ishaq (Isaac), Yaqub (Jacob), Nuh (Noah), Dawood (David),…
…world. Then with a trembling heart, you will say, “O God, You have not deprived me of the good things of this world, then give me the good things of the Hereafter as well, or do not deprive me of the good things of the Hereafter as well.”
Similarly, when you study the sacred hadith in which God says: “I am with My servant’s expectations, so the servant ought to have good expectations with Me.” (Dhakhirah al-Huffaz, Ibn al-Qaisrani, Hadith No. 6541)
On reading this hadith, you will remember those blessings which God has given you in this world. You will be moved and these words will come to your lips, “O God, in this world, You have given me the best in every respect, so in the…
ان مثالوں میں کمپیوٹر نے مجرد کال کو اس کے ٹیلیفون نمبر میں تبدیل کیا۔ پھر ٹیلیفون نمبر کو گھر کے پتہ میں بدلا۔ اس کے بعد اس نے بلاتاخیر وائرلیس پر پولیس کو اطلاع کر دی۔
قرآن اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بندہ جب خدا کو پکارتا ہے تو فوری طور پر بندہ اور خدا کے درمیان ربط قائم ہو جاتا ہے۔ خدا کو پکارنے اور اس سے مربوط ہونے میں کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔
ٹیلی فونی ربط کا مذکورہ واقعہ اسی روحانی حقیقت کی مادی تمثیل ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کس طرح ایسا ہوتا ہے کہ بندہ جب اپنے رب کی یاد سے بے قرار ہو کر اس کو بیتابانہ پکارتا ہے تو اچانک وہ اپنے آپ کو اس سے انتہائی قریب پاتا ہے۔ وہ ایک لمحہ میں اس…
…دیکھو گے۔ صحابہ نے کہاکہ اے خدا کے رسول ، آپ اس وقت کے لیے ہم کو کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ان کا حق انہیں ادا کرو اور اپناحق اللہ سے مانگو أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ۔ (صحيح البخاري، حدیث نمبر 7052)
وائل بن حجر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہمارے اوپر ایسے حکمراں قائم ہو جائیں جو اپنا حق ہم سے مانگیں اور ہمارا حق ہم کونہ دیں۔ تو ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ سنو اور اطاعت کرو، کیوں کہ ان کے اوپر ان کی ذمہ داری ہے اور تمہارےاوپر تمہاری ذمہ داری اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ۔(سنن الترمذي،حدیث نمبر 2199)
عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم میں سے جو شخص اپنے امیر کی طرف سے ایسی بات دیکھے جو اس کو ناپسند ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس پر صبر کرے۔ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ…
اس حدیث میں بندہ اور رب کے درمیان جس مناجات کا ذکر ہے، اس کی تصدیق قرآن سے بھی
ہوتی ہے۔قرآن میں یہ آیت آئی ہے: وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیبٌ
أُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (2:186)۔
بندے کی پکار کا اللہ تک پہنچنا انھیں الفاظ میں ہوتا ہے جن الفاظ میں بندے نے اپنے
رب کو پکارا ہے۔ بندہ جب پکارتا تو اس کا رب اس کو اسی وقت حقیقی طور پر سن لیتا ہے۔اب
سوال یہ ہے کہ اللہ کا جواب کس طرح انسان تک پہنچتا ہے۔یہ الفاظ کے اعتبار سے نہیں
ہوتا بلکہ وجدان (intuition)کی سطح پر کیفیت (feeling)کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ اس کو
محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن لفظوں میں اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔