Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15 نومبر 1985 p. 207
ظن (گمان)کا مطلب ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی خاص رائے رکھنا، ذہن میں کسی کے بارے میں کوئی امیج بنانا، خواہ وہ اچھا ہو یا برا p. 208
To have a particular opinion about something or someone, to have a picture in the mind. p. 208
انسان کو اپنے خالق کے بارے میں اچھاگمان رکھنا چاہیے۔ اس تعلق سے مختلف احادیث میں رہنمائی کی گئی ہے۔ مثلاً ایک حدیثِ رسول یہ ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّأَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675، مسند احمد، حدیث نمبر 10782)۔ یعنی ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میںاپنے بارے میں بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتاہے۔ p. 208original + quote
دوسری روایتوں میں کچھ مختلف الفاظ آئے ہیں۔ چند الفاظ یہ ہیں p. 208
(1) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ (مسند احمد، حدیث نمبر 16016)۔ یعنی، میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں۔ پس وہ جیسا چاہے میرے بارے میں گمان کرے۔ p. 208hadith
(2) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675)۔ یعنی، میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور میں اس کے ساتھ ہوں، جب وہ مجھ کو پکارے۔ p. 208original + quote
(3) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، إِنَّ ظَنَّ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنَّ ظَنَّ شَرًّا فَشَرٌّ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 401)۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کےپاس ہوں۔ اگر اس نے اچھا گمان کیا تو خیر ہے، اور اگر اس نے برا گما ن کیا تو برا ہے۔ p. 208original + quote