Qur'an 13:28
Qur'an 13:28
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَتَطۡمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكۡرِ ٱللَّهِۗ أَلَا بِذِكۡرِ ٱللَّهِ تَطۡمَئِنُّ ٱلۡقُلُوبُ
Those who have believed and whose hearts are assured by the remembrance of Allah. Unquestionably, by the remembrance of Allah hearts are assured
Explained in 13 book passages
and 21 lecture moments.
Cite / permalink: quran/13:28
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…a spiritual question about man’s innate nature. The fact is that the answer to the question is only God. The creature—man—is searching for his Creator, and only after he finds his Creator can the creature get peace. As the Quran says:
“Surely in the remembrance of God hearts can find comfort.” (13:28)
…be right to say that Alhum-do-lillah, praise be to God, signifies love for God (Alhub-bu-lillah). Praising God means loving God. Gratitude to God also means loving God. Remembering God also indicates a strong love and affection for God.
The Quran has this to say: “Remembrance of God gives one’s heart peace of mind”. (13:28) This means, moreover, that it is only love of God which can give man peace of mind in the real sense.
Belief in God begins with the discovery of God. In the Quran this discovery is called Maarifah. Maarifah, or realization of God, in the real sense, becomes a part and parcel of one’s existence. When this happens, all those high and noble…
How to attain a tension-free life? It is a question asked by every man and woman. The Quran gives us a simple solution, which is mentioned in the chapter of the Quran entitled Al-Ra‘d (The Thunder). The relevant Quranic verse is as follows:
Those who believe and whose hearts find comfort in the remembrance of God—surely in the remembrance of God hearts can find comfort. (13:28)
This Quranic verse refers to the creation plan of God. The formula given in this verse is:
The Quran gives a solution to this problem in unequivocal terms. It is recorded in the chapter Al-Ra‘d (Thunder):
Those who believe and whose hearts find comfort in the remembrance of God—surely in the remembrance of God hearts can find comfort. (13:28)
Here ‘remembrance of God’ does not mean that simply reciting the word ‘God’ (Allah) can give you peace of mind. It means that, in reality, contentment is only for those who accept the creation plan of God.
…قدیم ترین زمانے سے لے کر آج تک تمام انسان اس احساس کو لے کر پیدا ہوتےرہے ہیں۔ ملحد معاشروں میں پیدا ہونے والے بچے بھی اپنے آپ کو اس احساس سے خالی نہ کرسکے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ایک ایسی مانی ہوئی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اس حقیقت کو مان لینے کے بعد صرف یہ سوال باقی رہتاہے کہ اس تقاضے کا جواب کیا ہے۔مذکورہ سائنس داں کا کہنا ہے کہ اس کا جواب نیچرل سائنس ہے۔ مگر یہ جواب اپنی تردید آپ ہے۔ اس لیے کہ نیچرل سائنس ایک مادی چیز ہے، اور انسانی فطرت کا تقاضا ایک روحانی چیز۔ پھر ایک مادی چیز ایک روحانی سوال کا جواب کس طرح بن سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب صرف خداوند تعالی ہے۔ مخلوق اپنے خالق کی تلاش میں ہے، اور خالق کو پانے کے بعد ہی مخلوق کو سکون حاصل ہوسکتاہے:اَلا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ القُلُوبُ(13:28)۔
…عملی طورپر اپنی نارسائی کا اعلان کردیا تھا۔ سائنس آدمی کو وہ جھوٹا اطمینان بھی نہ دے سکی جو مادی سطح پر بظاہر ایک انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ اور ذہنی اور روحانی سطح کا اطمینان تو نہ اس کے بس میں تھا اور نہ کبھی اس نے اس کو دینے کا دعوی کیا۔
قرآن میںارشادہوا ہے:أَلَا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28)۔ یعنی سن لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے۔ یہی بات بائبل میں ان الفاظ میں آئی ہے— انسان صرف روٹی ہی سے جیتا نہیں رہتا، بلکہ ہر بات سے جو خداوند کے منہ سے نکلتی ہے، وہ جیتا رہتا ہے:
Man does not live by bread alone but by every word that comes from the mouth of the Lord. (Deuteronomy 8:3)
…صاحب سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے ایک صاحب کا قصہ بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ الرسالہ پڑھنے والے کچھ افراد کو میں نے دیکھا ہے، وہ بہت مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ حالاں کہ میری آمدنی ان سے زیادہ ہے، مگر مجھے اطمینان والی زندگی حاصل نہیں۔
میں نے ان سے کہا کہ یہ الرسالہ کا کرشمہ نہیں ، بلکہ وہ اسلام کا کرشمہ ہے۔ قرآن کے مطابق، اسلام آدمی کو نفس مطمئن (الفجر، 89:27)بناتا ہے۔ اسی نفس مطمئن کا وہ نتیجہ ہے ، جس کا آپ نے ذکر کیا۔ جب بھی کسی انسان کو حقیقی معنوں میں اسلام حاصل ہوجائے، تو اس کے بعد یہی ہوگا کہ اس کو اتھاہ اطمینان والی زندگی حاصل ہوجائے گی۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:أَلَا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28)۔ یعنی آگاہ رہو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر شاید ان میں سے کوئی بھی سرگرمی نہیں جو لوگوں کو حقیقی اسلام کا تحفہ دے رہی ہو۔ کوئی تحریک مسلمانوں کو پراسرار کہانیاں سنارہی ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کےاندر خوش عقیدگی کا ذہن…
اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ألا بذکر اللہ تطمئن القلوب (الرّعد:28 ) یعنی اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتاہے:
Peace of mind can be achieved only through the remembrance of God (13: 28)
’’اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کےدل کڑھنے لگتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تویکایک خوش ہوجاتے ہیں‘‘ (الزمر: 45)
…وضع کیے: الفیل ما الفیل لہ ذنب وثیل ومشفر طویل ۔مگر یہ سب لغو باتیں تھیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ چیلنج آئڈیالوجی کے معنی میں ہے۔ یعنی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ قرآن کے مقابلے میں کوئی متوازی آئڈیالوجی (parallel ideology) وضع کرسکے۔
تاریخ میں بار بار قرآن کی مثل آئڈیالوجی تیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر اس میں مکمل ناکامی ہوئی۔ مثلا خالق کا بدل (alternative) وضع کرنا، قرآن کے بیان کردہ تخلیقی منصوبہ (creation plan)کے مقابلے میں دوسرا منصوبہ وضع کرنا، وحی (revelation)کا بدل وضع کرنا، اخروی جنت کے بجائے دنیوی جنت تعمیر کرنا، کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ(3:185) کے بجائے ابدی حیات کو ممکن بنانے کی کوشش کرنا، أَلَا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28) کے بجائےغیر خدا میں اطمینان قلب حاصل کرنے کی کوشش کرنا،وغیرہ۔ انسان نے باربار ان پہلوؤں سے قرآن کا جواب وضع کرنے کی کوشش کی لیکن اس معاملے میں اس کو مکمل ناکامی ہوئی۔
ذہنی سکون
قرآن کی سورہ الرعد کی ایک آیت یہ ہے: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ ۭ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ ( 13:28) یعنی وہ لوگ جو ایمان لائےاور جن کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوتے ہیں- سنو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے- قرآن کی اس آیت میں اطمینان قلب سے مراد ذہنی سکون (peace of mind) ہے- انسان جب ذہنی سکون سے محروم ہوتا ہے تو اس کا سبب صرف ایک ہوتاہے، اور وہ ہے خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) پر راضی نہ ہونا- انسان جب خدا کے تخلیقی نقشہ پر راضی ہوجائے تو اسی کا نام ذہنی سکون ہے، اور جب خدا کے تخلیقی نقشہ پر راضی نہ ہو تو اس سے وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو ذہنی سکون سے محرومی کہاجاتا ہے-
اصل یہ ہے کہ انسان ایک آزاد مخلوق ہے- اس کے اندر ذاتی سوچ (self-thinking) کی صلاحیت پائی جاتی ہے- وہ چاہتا ہے کہ دنیا اس کی سوچ سے مطابقت کرے- وہ اپنی خواہش کے مطابق ایک دنیا بنائے، اور اس کے اندر وہ زندگی گزارے-مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا-…
…قدیم ترین زمانے سے لے کر آج تک تمام انسان اس احساس کو لے کر پیدا ہوتےرہے ہیں۔ ملحد معاشروں میں پیدا ہونے والے بچے بھی اپنے آپ کو اس احساس سے خالی نہ کرسکے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ایک ایسی مانی ہوئی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اس حقیقت کو مان لینے کے بعد صرف یہ سوال باقی رہتاہے کہ اس تقاضے کا جواب کیا ہے۔مذکورہ سائنس داں کا کہنا ہے کہ اس کا جواب نیچرل سائنس ہے۔ مگر یہ جواب اپنی تردید آپ ہے۔ اس لیے کہ نیچرل سائنس ایک مادی چیز ہے، اور انسانی فطرت کا تقاضا ایک روحانی چیز۔ پھر ایک مادی چیز ایک روحانی سوال کا جواب کس طرح بن سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب صرف خداوند تعالی ہے۔ مخلوق اپنے خالق کی تلاش میں ہے، اور خالق کو پانے کے بعد ہی مخلوق کو سکون حاصل ہوسکتاہے:اَلا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ القُلُوبُ(13:28)۔
…قدیم ترین زمانے سے لے کر آج تک تمام انسان اس احساس کو لے کر پیدا ہوتےرہے ہیں۔ ملحد معاشروں میں پیدا ہونے والے بچے بھی اپنے آپ کو اس احساس سے خالی نہ کرسکے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ایک ایسی مانی ہوئی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اس حقیقت کو مان لینے کے بعد صرف یہ سوال باقی رہتاہے کہ اس تقاضے کا جواب کیا ہے۔مذکورہ سائنس داں کا کہنا ہے کہ اس کا جواب نیچرل سائنس ہے۔ مگر یہ جواب اپنی تردید آپ ہے۔ اس لیے کہ نیچرل سائنس ایک مادی چیز ہے، اور انسانی فطرت کا تقاضا ایک روحانی چیز۔ پھر ایک مادی چیز ایک روحانی سوال کا جواب کس طرح بن سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب صرف خداوند تعالی ہے۔ مخلوق اپنے خالق کی تلاش میں ہے، اور خالق کو پانے کے بعد ہی مخلوق کو سکون حاصل ہوسکتاہے:اَلا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ القُلُوبُ(13:28)۔
اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ألا بذکر اللہ تطمئن القلوب (الرّعد:28 ) یعنی اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتاہے:
Peace of mind can be achieved only through the remembrance of God (13: 28)
In the lectures
Cited at 1749s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3458s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3903s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4516s — opens the lecture at this moment.
Cited at 80s — opens the lecture at this moment.
Cited at 275s — opens the lecture at this moment.
Cited at 318s — opens the lecture at this moment.
Cited at 564s — opens the lecture at this moment.
Cited at 902s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1520s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1606s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1647s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1651s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1829s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1943s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1947s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2107s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3841s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4785s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5244s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5720s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(13:28)۔
جو لوگ ایمان لائے اوران کے دلوں کو اللہ کی یادسے اطمینان ملتا ہے۔جان لو،اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے ۔
شکر کی اہمیت
یہ کسی انسان کے لیے ایک داخلی تضاد کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام عورت اور مرد اِسی داخلی تضاد میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانے کا وہ مسئلہ جس کو ٹنشن اور اسٹریس کہا جاتا ہے، وہ براہِ راست طورپر اِسی داخلی تضاد کا نتیجہ ہے۔
اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ألا بذکر اللہ تطمئن القلوب (الرّعد:28 ) یعنی اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتاہے:
Peace of mind can be achieved only through the remembrance of God (13: 28)
یہ کسی انسان کے لیے ایک داخلی تضاد کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام عورت اور مرد اِسی داخلی تضاد میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانے کا وہ مسئلہ جس کو ٹنشن اور اسٹریس کہا جاتا ہے، وہ براہِ راست طورپر اِسی داخلی تضاد کا نتیجہ ہے۔
اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ألا بذکر اللہ تطمئن القلوب (الرّعد:28 ) یعنی اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتاہے:
Peace of mind can be achieved only through the remembrance of God (13: 28)
Those who believe and whose hearts find comfort in the remembrance of God—surely in the remembrance of God hearts can find comfort. (13:28)
Here ‘remembrance of God’ does not mean that simply reciting the word ‘God’ (Allah) can give you peace of mind. It means that, in reality, contentment is only for those who accept the creation plan of God.
More particularly, this means that this world having been created by God and God having laid down all the laws of nature, anyone who wants to live with a peaceful mind in this world must know the creation plan of God and try to live in…
…قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًا(8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں :
True believers are those whose hearts tremble with awe at the mention of God, and whose faith grows stronger as they listen to His revelations.
انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو ایک زندہ وجود کے طور پر پاتا ہے۔ اسی طرح اس کو زیادہ برتر معنوں میں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہاں اسی طرح ایک اورزیادہ برتر ہستی موجود ہے۔ اس کو زندہ خدا کا اتنا زیادہ یقین ہونا چاہیے کہ اس کو بالفرض…
…تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقّ ( 5:83)۔ یعنی، اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتار اگیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ا س سبب سے کہ ان کو حق کاعرفان حاصل ہو گیا ۔
ایک اور موقع پر اسی قسم کی بات اس طرح کہی گئی ہے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا(8:2)۔ یعنی، ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کاذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کاایمان بڑھا دیتی ہیں۔
ان آیتوں سے ایک اہم حقیقت واضح ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ سچائی سب سے بڑی طاقت ہے۔ کوئی انسان جب سچائی کو دریافت کرتاہے تو اس کی پوری شخصیت ہل جاتی ہے۔ اس کے اندر ایک ذہنی انقلاب پیداہوجاتا ہے۔ وہ روحانیت کے سمندر میں نہااٹھتا ہے ۔ اس کو ایک نئی…
…تَرَى أَعْیُنَہُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقّ ( 5:83)۔ یعنی، اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتار اگیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ا س سبب سے کہ ان کو حق کاعرفان حاصل ہو گیا ۔
ایک اور موقع پر اسی قسم کی بات اس طرح کہی گئی ہے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًا(8:2)۔ یعنی، ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کاذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کاایمان بڑھا دیتی ہیں۔
ان آیتوں سے ایک اہم حقیقت واضح ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ سچائی سب سے بڑی طاقت ہے۔ کوئی انسان جب سچائی کو دریافت کرتاہے تو اس کی پوری شخصیت ہل جاتی ہے۔ اس کے اندر ایک ذہنی انقلاب پیداہوجاتا ہے۔ وہ روحانیت کے سمندر میں نہااٹھتا ہے ۔ اس کو ایک نئی…
یہ کسی انسان کے لیے ایک داخلی تضاد کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام عورت اور مرد اِسی داخلی تضاد میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانے کا وہ مسئلہ جس کو ٹنشن اور اسٹریس کہا جاتا ہے، وہ براہِ راست طورپر اِسی داخلی تضاد کا نتیجہ ہے۔
اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ (13:28)۔ یعنی، اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتاہے
Peace of mind can be achieved only through the remembrance of God.
Realization of God is the discovery of the Benefactor, the source of one’s support system and all blessings. Love of God wells up within one’s entire personality with this realization.
The Quran describes one basic quality of the believers thus: “Those who believe love God most.” (2:165) The Believers mentioned in the Quran in this verse are those who have discovered God at the level of realization. All their feelings and emotions will be associated with God alone. Their hearts and minds will focus solely on God.
Owing to his limitations man cannot see God in this present world, but he experiences God’s mercy and blessings at every moment, and this experience is the real source of his love of God. Everything man has received in this world is a…
His throne extends over the heavens and the earth
مومن (believer) کے اندر خدا کا وجود اس طرح ایک زندہ حقیقت کے طور پر ہونا چاہیے کہ خدا کے تصور سے اس کی وہ حالت ہوجائے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللَّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمَانًا(8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں :
True believers are those whose hearts tremble with awe at the mention of God, and whose faith grows stronger as they listen to His revelations.