← back to shukr · Tazkirul Quran (Urdu)

61. As-Saff

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

انسان کے سوا جو کائنات ہے اس میں کہیں تضاد نہیں۔ اس دنیا میں لکڑی ہمیشہ لکڑی رہتی ہے۔ اور جو چیز اپنے آپ کو لوہا اور پتھر کے روپ میں ظاہر کرے وہ حقیقی تجربہ میں بھی لوہا اور پتھر ہی ثابت ہوتی ہے۔ انسان کو بھی ایسا ہی بننا چاہیے۔ انسان کے کہنے اور کرنے میں مطابقت ہونی چاہیے، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ آدمی کو اپنے کہنے کی یہ قیمت دینی پڑے کہ ہر قسم کی دشواریوں کے باوجود وہ صبر کا پہاڑ بن جائے۔

تجارت میں آدمی پہلے دیتا ہے، اس کے بعد اس کو واپس ملتا ہے۔ دین کی جدوجہد میں بھی آدمی کو اپنی قوت اور اپنا مال دینا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بھی ایک قسم کی تجارت ہے۔ البتہ دنیوی تجارت کا نفع صرف دنیا میں ملتا ہے اور دین کی تجارت کا نفع مزید اضافہ کے ساتھ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ پھر اسی ’’تجارت‘‘ سے غلبہ کی راہ بھی کھلتی ہے جو موجودہ دنیا میں کسی گروہ کو باعزت زندگی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

تجارت میں آدمی پہلے دیتا ہے، اس کے بعد اس کو واپس ملتا ہے۔ دین کی جدوجہد میں بھی آدمی کو اپنی قوت اور اپنا مال دینا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بھی ایک قسم کی تجارت ہے۔ البتہ دنیوی تجارت کا نفع صرف دنیا میں ملتا ہے اور دین کی تجارت کا نفع مزید اضافہ کے ساتھ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ پھر اسی ’’تجارت‘‘ سے غلبہ کی راہ بھی کھلتی ہے جو موجودہ دنیا میں کسی گروہ کو باعزت زندگی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

تجارت میں آدمی پہلے دیتا ہے، اس کے بعد اس کو واپس ملتا ہے۔ دین کی جدوجہد میں بھی آدمی کو اپنی قوت اور اپنا مال دینا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بھی ایک قسم کی تجارت ہے۔ البتہ دنیوی تجارت کا نفع صرف دنیا میں ملتا ہے اور دین کی تجارت کا نفع مزید اضافہ کے ساتھ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ پھر اسی ’’تجارت‘‘ سے غلبہ کی راہ بھی کھلتی ہے جو موجودہ دنیا میں کسی گروہ کو باعزت زندگی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

تجارت میں آدمی پہلے دیتا ہے، اس کے بعد اس کو واپس ملتا ہے۔ دین کی جدوجہد میں بھی آدمی کو اپنی قوت اور اپنا مال دینا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بھی ایک قسم کی تجارت ہے۔ البتہ دنیوی تجارت کا نفع صرف دنیا میں ملتا ہے اور دین کی تجارت کا نفع مزید اضافہ کے ساتھ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ پھر اسی ’’تجارت‘‘ سے غلبہ کی راہ بھی کھلتی ہے جو موجودہ دنیا میں کسی گروہ کو باعزت زندگی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

یہود کی اکثریت نے اگرچہ حضرت مسیح علیہ السلام کو رد کردیا مگر ان میں سے کچھ لوگ (حواریین) ایسے تھے جنہوں نے پورے اخلاص اور وفاداری کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا۔ اور آپ کے پیغمبرانہ مشن کو آگے بڑھایا۔ یہی چند لوگ اللہ کی نظر میں مومن قرار پائے اور بقیہ تمام یہود پچھلے پیغمبروں کو ماننے کے باوجود کافر قرار پا گئے۔ یہاں جس غلبہ کا ذکر ہے وہ مجموعي اعتبار سے مومنین مسیح کا مجموعي اعتبار سے منکرین مسیح پر غلبہ ہے۔ حضرت مسیح کے بعد رومی شہنشاہ قسطنطین دوم (272-337 ء) نے نصرانیت قبول کرلی جس کی سلطنت شام و فلسطین تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے بعد رومی رعایا بہت بڑی تعداد میں عیسائی ہوگئی۔ چنانچہ یہود ان کے محکوم ہوگئے۔ موجودہ زمانہ میں بھی یہودیوں کی حکومت اسرائیل ہر اعتبار سے عیسائیوں کے ماتحت ہے۔

انسان کے سوا جو کائنات ہے اس میں کہیں تضاد نہیں۔ اس دنیا میں لکڑی ہمیشہ لکڑی رہتی ہے۔ اور جو چیز اپنے آپ کو لوہا اور پتھر کے روپ میں ظاہر کرے وہ حقیقی تجربہ میں بھی لوہا اور پتھر ہی ثابت ہوتی ہے۔ انسان کو بھی ایسا ہی بننا چاہیے۔ انسان کے کہنے اور کرنے میں مطابقت ہونی چاہیے، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ آدمی کو اپنے کہنے کی یہ قیمت دینی پڑے کہ ہر قسم کی دشواریوں کے باوجود وہ صبر کا پہاڑ بن جائے۔

انسان کے سوا جو کائنات ہے اس میں کہیں تضاد نہیں۔ اس دنیا میں لکڑی ہمیشہ لکڑی رہتی ہے۔ اور جو چیز اپنے آپ کو لوہا اور پتھر کے روپ میں ظاہر کرے وہ حقیقی تجربہ میں بھی لوہا اور پتھر ہی ثابت ہوتی ہے۔ انسان کو بھی ایسا ہی بننا چاہیے۔ انسان کے کہنے اور کرنے میں مطابقت ہونی چاہیے، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ آدمی کو اپنے کہنے کی یہ قیمت دینی پڑے کہ ہر قسم کی دشواریوں کے باوجود وہ صبر کا پہاڑ بن جائے۔

انسان کے سوا جو کائنات ہے اس میں کہیں تضاد نہیں۔ اس دنیا میں لکڑی ہمیشہ لکڑی رہتی ہے۔ اور جو چیز اپنے آپ کو لوہا اور پتھر کے روپ میں ظاہر کرے وہ حقیقی تجربہ میں بھی لوہا اور پتھر ہی ثابت ہوتی ہے۔ انسان کو بھی ایسا ہی بننا چاہیے۔ انسان کے کہنے اور کرنے میں مطابقت ہونی چاہیے، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ آدمی کو اپنے کہنے کی یہ قیمت دینی پڑے کہ ہر قسم کی دشواریوں کے باوجود وہ صبر کا پہاڑ بن جائے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے درمیان آئے۔ بنی اسرائیل اس وقت ایک زوال یافتہ قوم تھے۔ ان کے اندر یہ حوصلہ باقی نہیں رہا تھا کہ جو کہیں وہی کریں۔ اور جو کریں وہی کہیں۔ چنانچہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ پر ایمان کا اقرار بھی کرتے تھے اور اسی کے ساتھ ہر قسم کی بدعہدی اور نافرمانی میں بھی مبتلا رہتے تھے۔ حتی کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ اپنے برے سلوک کو جائز ثابت کرنے کے لیے وہ خود حضرت موسیٰ پر جھوٹے جھوٹے الزام لگاتے تھے۔ بائبل میں خروج اور گنتی کے ابواب میں اس کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔ عہد کرنے کے بعد عہد کی خلاف ورزی آدمی کو پہلے سے بھی زیادہ حق سے دور کردیتی ہے۔original + quote

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات اس بات کا ثبوت تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ مگر یہود نے ان معجزات کو جادو کا کرشمہ کہہ کر ان کو نظر انداز کردیا۔ اس طرح قدیم آسمانی کتابوں میں واضح طور پر پیغمبر آخر الزماں کی پیشگی خبر موجود تھی۔ مگر جب آپ آئے تو یہود اور نصاریٰ دونوں نے آپ کا انکار کردیا۔ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ کھلی کھلی حقیقتوں کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ اس آیت میں غلبہ سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یعنی خدا اور مذہب کے بارے میں جتنے غیر موحدانہ عقائد دنیا میں ہیں ان کو زیر کرکے توحید کے عقیدہ کو غالب فکر کی حیثیت دے دی جائے۔ بقیہ تمام عقائد ہمیشہ کے لیے فکری طور پر مغلوب ہو کر رہ جائیں۔ قرآن میں یہ پیشین گوئی انتہائی ناموافق حالات میں 3 ھ میں نازل ہوئی تھی۔ مگر بعد کو وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات اس بات کا ثبوت تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ مگر یہود نے ان معجزات کو جادو کا کرشمہ کہہ کر ان کو نظر انداز کردیا۔ اس طرح قدیم آسمانی کتابوں میں واضح طور پر پیغمبر آخر الزماں کی پیشگی خبر موجود تھی۔ مگر جب آپ آئے تو یہود اور نصاریٰ دونوں نے آپ کا انکار کردیا۔ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ کھلی کھلی حقیقتوں کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ اس آیت میں غلبہ سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یعنی خدا اور مذہب کے بارے میں جتنے غیر موحدانہ عقائد دنیا میں ہیں ان کو زیر کرکے توحید کے عقیدہ کو غالب فکر کی حیثیت دے دی جائے۔ بقیہ تمام عقائد ہمیشہ کے لیے فکری طور پر مغلوب ہو کر رہ جائیں۔ قرآن میں یہ پیشین گوئی انتہائی ناموافق حالات میں 3 ھ میں نازل ہوئی تھی۔ مگر بعد کو وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔original + quote

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات اس بات کا ثبوت تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ مگر یہود نے ان معجزات کو جادو کا کرشمہ کہہ کر ان کو نظر انداز کردیا۔ اس طرح قدیم آسمانی کتابوں میں واضح طور پر پیغمبر آخر الزماں کی پیشگی خبر موجود تھی۔ مگر جب آپ آئے تو یہود اور نصاریٰ دونوں نے آپ کا انکار کردیا۔ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ کھلی کھلی حقیقتوں کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ اس آیت میں غلبہ سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یعنی خدا اور مذہب کے بارے میں جتنے غیر موحدانہ عقائد دنیا میں ہیں ان کو زیر کرکے توحید کے عقیدہ کو غالب فکر کی حیثیت دے دی جائے۔ بقیہ تمام عقائد ہمیشہ کے لیے فکری طور پر مغلوب ہو کر رہ جائیں۔ قرآن میں یہ پیشین گوئی انتہائی ناموافق حالات میں 3 ھ میں نازل ہوئی تھی۔ مگر بعد کو وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات اس بات کا ثبوت تھے کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ مگر یہود نے ان معجزات کو جادو کا کرشمہ کہہ کر ان کو نظر انداز کردیا۔ اس طرح قدیم آسمانی کتابوں میں واضح طور پر پیغمبر آخر الزماں کی پیشگی خبر موجود تھی۔ مگر جب آپ آئے تو یہود اور نصاریٰ دونوں نے آپ کا انکار کردیا۔ انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ کھلی کھلی حقیقتوں کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ اس آیت میں غلبہ سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یعنی خدا اور مذہب کے بارے میں جتنے غیر موحدانہ عقائد دنیا میں ہیں ان کو زیر کرکے توحید کے عقیدہ کو غالب فکر کی حیثیت دے دی جائے۔ بقیہ تمام عقائد ہمیشہ کے لیے فکری طور پر مغلوب ہو کر رہ جائیں۔ قرآن میں یہ پیشین گوئی انتہائی ناموافق حالات میں 3 ھ میں نازل ہوئی تھی۔ مگر بعد کو وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔