Khatun-e-Islam

Khawateen e Islam ki misaal

Khatun-e-Islam — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (152 chapters)
  1. Dibaacha
  2. Ek Jaayeza
  3. Chand misalein
  4. Ek amali zarurat
  5. Aurat ke barey mey tavahhumaat
  6. Tajarrud ka mua'mla
  7. Fitrat ka nizaam
  8. Qanun-e-tawazun
  9. Inhiraaf ka noqsaan
  10. Mard aur aurat ka masala
  11. Mard aur aurat ka farq
  12. Bunyadi farq
  13. Aurat ki bebasi
  14. Aids ki la'nat
  15. Aurat muaasharey me
  16. Aurat ka darja islam me
  17. Aurat jadeed tehzeeb me
  18. Ghair fitri musawat
  19. Uryaniyat ka masala
  20. Be khaidi ke nataej
  21. Kamsin mujrimeen
  22. Maghribi Aurat
  23. Fitrat ka faisla
  24. Fitrat se jung
  25. Chand misalein
  26. Shadi na karna ghalati
  27. Achchi bivi bano
  28. Nakami ka eateraaf
  29. Sirf masayel paida huye
  30. Lazzatiyat ka anjaam
  31. Khudkushi karli
  32. Mujh se door raho
  33. Shohrat bojh bangai
  34. Maidaan-e-amal se mahrumi
  35. Japan ki misaal
  36. Tahzeeb-e-jadeed ke nataaij
  37. Ulti taraf safar
  38. Mayusi ka shikaar
  39. Dardnaak anjaam
  40. Masnui masayel
  41. Munakahat na ke Musafahat
  42. Ghair fitri musawat ka natija
  43. Jadid aurat ki mazlumi
  44. Ek hadees
  45. Paakbazi ki ahmiyat
  46. Masnui aulaad ka masala
  47. Ghalati ka ea'teraaf
  48. Maghribi shadiyon ka anjaam
  49. Aabaadi ka masala
  50. Sarparasti se mahroom
  51. Khatun singer ki maut ke ba'd
  52. Fitrat se dur hokar
  53. Be qaidi ka tajriba
  54. Khatun leader ka eateraaf
  55. Do misalein
  56. Na qabil-e-etemaad kirdaar
  57. Ek misaal
  58. Ujrati viladat
  59. Taraqqi ke bajaye tanazzul
  60. Quran o Hadees
  61. Ahadees
  62. Mo'mina ki sifaat
  63. Taqseem e kar ka usool
  64. Ek ayat
  65. Khawateen e Islam ki misaal
  66. Aurat Ka Ehteram
  67. Ahadees
  68. Jadeed tahqeeqaat
  69. Chief justice ka remark
  70. Khulasa
  71. Khat-o-kitabat
  72. Aurat ka darjah
  73. Ahed e Zindagi
  74. Aurat mard se zyada qabil e ehteram
  75. Har haal me Khair
  76. Izhar e khayal ki azadi
  77. Ghar sambhalna kamtar darje ka kaam nahi
  78. Mu'ashire ki ta'mir me aurat ki ehmiyat
  79. Aurat ki hakimiyat
  80. Aurat ki gawahi
  81. Izafi khususiyat na ke fazilat
  82. Nadaani ka kalima
  83. Khawateen-e-Islam
  84. Do khawateen
  85. Behtareen rafeeq-e-hayaat
  86. Kaamil aazaadi
  87. Taqseem-e-kaar
  88. Ilm aur khatun
  89. Islami hausla
  90. Jannat ke liye Sabr
  91. Maidaan-e-amal me
  92. Aurat ka maqaam
  93. Aurat har maidan me
  94. Khuda ki madad
  95. Ghar ke bahar
  96. Aurat ka maqam
  97. Tajribe ki zaban me
  98. Zaujain ke huquq
  99. Shareek-e-hayaat
  100. Aurat ke muqabal-e-me mard ki haisiyat
  101. Deen-e-fitrat
  102. Maher
  103. Nafqa
  104. Husn-e-suluk
  105. Aurat ki zimmedariyan
  106. Ita'at
  107. Raaz ki hifazat
  108. Ghar ka intezaam
  109. Behtareen aurat
  110. Zaher se ziyada batin ko dekhna
  111. Mutawazin ta'leem
  112. Nikaah va Talaaq
  113. Talaaq ka hukm
  114. Talaaq ki do suratein
  115. Ek waqia
  116. Mataa'ka matlab
  117. Mizaj e shari'at
  118. Talaq ke bad
  119. Tahzeeb-e-Jadeed ka masala
  120. Hindustan ka tajriba
  121. Jahez ke bare mein
  122. Fatima ka jahez
  123. Cgand zaroori saman
  124. Asal atiyya
  125. Sunnat e rasool nahi
  126. Maher ka mas'ala
  127. Maher e mu'ajjal
  128. Mahr-e-moajjal
  129. Fuqaha ki raye
  130. Ziyaada maher nahi
  131. Ghair afzal tareeqa
  132. Sahaba ki shaadi
  133. Ghalat riwaaj
  134. Pard-e-ka hukm
  135. Izafa-e-mutarjim
  136. Tajribaati tasdeeq
  137. Kamiyab izdiwaji zindagi
  138. Do misalein
  139. Yaqeeni hall
  140. Ghair mushtarak nizaam
  141. Zahni masaayel
  142. Ta'adud e azwaj
  143. Ta'daad ki na barabari
  144. Aurat ki razamandi
  145. Masal-e-ka hall na ke hukm
  146. Ghair qanuni taaddud-e-azwaaj
  147. Islami tareeqa
  148. Khulasa e kalam
  149. Harf-e-aakhir
  150. Asl masala bashuoor banana
  151. Tareekhsaaz kaarnaama
  152. Me'yaar ki ghalati

خواتینِ اسلام کی مثال، تاہم دین کے معاملے میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لیے جس طرح مردوں کے دو درجے ہیں، اسی طرح عورتوں کے بھی دو درجے ہیں: ایک عام، دوسرا خاص۔ عام درجہ وہ ہے جو ہر خاتون کے لیے ہے، یعنی ذاتی معاملے میں خدا اور بندوں کے حقوق ادا کرنا، خدا کے بارے میں عقیدے کی درستگی، خدا کے احکام کی بجا آوری، زندگی کے معاملات میں انصاف پر قائم رہنا، نفسانی محرکات اور شیطانی وساوس کا مقابلہ کرنا، اپنی ذات اور اپنے مال سے خدا کا حق نکالنا۔ ہمیشہ دنیا کے مقابلے میں آخرت کو سامنے رکھنا، اپنے گھر اور اپنے متعلقین کے درمیان اسلامی اخلاق کے ساتھ رہنا، معاملات میں ہمیشہ وہ کرنا جو اسلام کا تقاضا ہے۔ عورت کا دوسرا اہم فرض اپنے بچوں کی اصلاح و تربیت ہے؛ ہر عورت بالآخر ماں بنتی ہے، بچے سے ماں کا اور ماں سے بچے کا بے حد گہرا تعلق ہوتا ہے۔

یہ تعلق بگاڑ کا سبب بھی بن سکتا ہے اور بناؤ کا بھی۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے عورت کا فرض یہ ہے کہ وہ اس تعلق کو صرف بناؤ اور اصلاح کے لیے استعمال کرے۔ تیسری چیز جو ہر عورت کے لیے ضروری ہے، وہ یہ کہ اپنے شوہر کے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے مسئلہ نہ بنے: زندگی میں کیا کیا جائے سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ کیا نہ کیا جائے۔ اس معاملے میں عورتوں سے جذباتی ہونے کی بنا پر کوتاہیاں ہوتی ہیں۔

عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ اور اپنے گھر والوں کے ساتھ غیر ضروری قسم کے مسائل کھڑے کر دیتی ہیں، اس کی وجہ سے گھر کا سکون غارت ہو جاتا ہے۔ بظاہر سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ایسا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے گھر میں کچھ نہیں۔ عورت اگر اتنا کرے کہ وہ گھر کے اندر مسئلہ نہ پیدا کرے، تب بھی اس نے بہت بڑا کام کیا۔ اگر عورت کے اندر مزید صلاحیت ہو اور اس کو وسیع تر مواقع حاصل ہوں، تو وہ اس کے آگے کا کام بھی کر سکتی ہے، جس کو ہم نے خصوصی درجے کا نام دیا ہے۔

اسلامی تاریخ میں اس کی کثرت سے مثالیں موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ نہایت ذہین خاتون تھیں، ان کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے بھرپور استفادہ کیا۔ غالباً ان کا حافظہ وہ تھا جس کو موجودہ زمانے میں عکسی حافظہ یعنی فوٹوگرافک میموری کہا جاتا ہے۔

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی باتوں کو اچھی طرح یاد رکھا۔ وہ چونکہ رسول اللہ کے مقابلے میں بہت کم عمر تھیں، اس لیے آپ کی وفات کے بعد تقریباً 50 سال تک زندہ رہیں۔ وہ امت کے لیے ایک زندہ ٹیپ ریکارڈر ثابت ہوئیں، اور آپ کی وفات کے نصف صدی بعد تک آپ کی باتیں لوگوں کو سناتی رہیں۔ عبداللہ ابن عباس صحابہ کے درمیان بہت بڑے عالم تھے، وہ حبر الامہ کہے جاتے تھے، اور قرآن کی تفسیر میں امتیازی مقام رکھتے ہیں۔

یہ عبداللہ ابن عباس حضرت عائشہ کے شاگرد تھے، انہوں نے علم دین زیادہ تر حضرت عائشہ سے سیکھا۔ اسی طرح بہت سے صحابہ و تابعین آپ سے علم دین سیکھتے رہے۔ اس مثال میں ایک اسلامی خاتون علم دین میں مہارت پیدا کر کے لوگوں کی رہنمائی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مہر کی مقدار کم ہوتی تھی۔

بعد کو جب فراخی کا دور آیا تو لوگ مہر کی رقم زیادہ مقرر کرنے لگے۔ عمر فاروق اپنے زمانۂ خلافت میں ایک بار منبر پر آئے اور تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ 400 درہم مہر پر کس نے زیادتی کی۔ رسول اللہ کا اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں 400 درہم یا اس سے کم ہوتا تھا۔ حضرت عمر نے مزید کہا کہ خبردار تم لوگ عورتوں کے مہر میں زیادتی مت کرو، جب بھی مجھے معلوم ہوگا کہ کسی نے رسول اللہ کے مہر سے زیادہ مہر باندھا باندھا ہے، تو میں اس زیادتی کو ضبط کر کے بیت المال میں داخل کر دوں گا۔

اس کے بعد مجمعے کے گوشے سے ایک عورت اٹھی، اس نے کہا کہ اے امیرالمومنین! اللہ کی کتاب زیادہ اتباع کے قابل ہے یا آپ کا قول؟ حضرت عمر نے کہا کہ اللہ کی کتاب۔ اور عورت نے کہا کہ ابھی آپ نے لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کریں، حالانکہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: وَأَتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيًّا سورہ نمبر 4 آیت 20۔

یعنی: اور تم اس کو بہت سا مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ یہ سن کر حضرت عمر نے فرمایا کہ ہر ایک عمر سے زیادہ عالم ہے۔ كُلُّ أَحَدٍ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرٍ پھر انہوں نے اپنا حکم فوراً واپس لے لیا۔ سنن سعید ابن منصور، حدیث نمبر 598۔

اس مثال میں ایک عورت دینی بات کا مجمع عام میں اعلان و اظہار کر رہی ہے۔ امام جعفر طحاوی، 229 تا 321 ہجری، ایک مشہور محدث ہیں۔ ان کی کتاب طحاوی حدیث کی ایک مشہور کتاب ہے، اور عربی مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔ امام طحاوی نے یہ کتاب اپنی بیٹی سے املا کرائی ہے۔

اس کی ترتیب اس طرح ہوئی کہ باپ حدیث پڑھ کر سناتے، اور اس کے مطالب بیان کرتے، اور بیٹی ان کے پاس بیٹھی ہوئی لکھتی جاتی۔ اس طرح پوری کتاب تیار ہو گئی۔ اس مثال میں عورت دین کے معاملے میں اپنے محرم رشتہ دار کی معاونت کر رہی ہے۔ یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت اسلام کی حدود میں رہتے ہوئے کہاں تک آگے جا سکتی ہے۔

کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 201۔