Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مولانا انصار احمد مظہری (پیدائش 1967)قاضی واڑہ گھوسی کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے مدرسہ سے فراغت کے بعد بنارس ہندو یونیورسٹی سے اردو سے ایم اے کیا ہے۔آج کل وہ آرمی میں ریلیجس ٹیچر ہیں انہوں نے بتایا کہ 1990میں وہ بنارس میں تھے وہاں وہ گلرمنہ میں رہتے تھے اس دوران کچھ انتہا پسند ہندوؤں نے دسہرہ کے موقع پر یہ اسکیم بنائی کہ وہ اپنی مورتی گلرمتہ میں واقع مسجد کے راستے سے لے جائیں ان کا خیال تھا کہ اس طرح اس علاقہ کے مسلمان بھڑکیں گے اور انہیں فساد کرنے کا موقع ملے گا محلہ کے مسلم سردار یہ سن کر جوش میں آگئے اور انہوںنے طے کیا کہ مورتی کو مسجد کے راستے سے گزرے نہیں دیں گےاور مسلمانوں کو جمع کر کے اس کے رو کیں گے سردار صاحب اپنے اس منصوبہ کا ذکر مولانالاانصار صاحب سے کیا اور کہا کہ یہ اسلام کی شان کے خلاف ہے کہ مسجد کے سامنے سے مورتی لے جائی جائے۔ مولانا صاحب نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے دینی تعلیم حاصل کی ہے اور مجھے کبھی کسی کتاب میں یہ مسئلہ پڑھنے کو نہیں ملا کہ مسجد کے سامنے سے مورتی کا گزرنا اسلام کے خلاف ہے۔ سردار صاحب اپنی راے پر اصرارکرتے رہے یہاں تک کہ مولانا انصار صاحب نے ان کو صحیح بخاری کی وہ روایت سنائی جس کے مطابق ایک بدو نے مدینہ کی مسجد نبوی کے اندر پیشاب کردیا لوگوں نے اس کو تنبیہ کرنی چاہی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑدیا اس حسن اخلاق کا اثر یہ ہوا کہ وہ بعد کو مسلمان ہوگیا۔ یہ قصہ سن کر سردار صاحب رو پرے اور کہا کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں تو آپ بتائیے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ مولانا انصار صاحب نے کہا کہ آپ اس مسئلے میں خاموشی اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں اور محلہ کے مسلمانوں کو بھی یہ ہدایت کریں اور مورتی سے تعرض نہ کریں سردار صاحب نے کہا کہ پھر تو وہ لوگ دلیر ہوجائیں گے اور ہر سال اپنی مورتی ادطر سے لے جائیں گے مولانا انصار صاحب نے کہا کہ اگر آپ اس سال خاموشی اختیار کرلیں تو یہ سلسلہ اپنے آپ رک جائے گا۔ اس لیے کہ اس تکلم کام ہمیشہ خدا کے تحت ہوتا ہے۔ آپ اس سال خاموشی اور اعراض کا طریقہ اختیار کرکے ان کی ضد کو ختم کردیں گے اور پھر یہ سلسلہ اپنے آپ رک جائے گا۔
اور انصار صاحب نے بتایا کہ وہاں ایسا ہی ہوا مورتی کا جلوس پروگرام کے مطابق مسجد کے سامنے سے گزرا مگر مسلمانوں نے اس کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کرلی چنانچہ اگلے سال اپنے آپ مسجد کے سامنے سے مورتی لے جانے کا سلسلہ بند ہوگیا اور پھر کبھی اس راستے سے مورتی کا جلوس نہیں لے جایاگیا۔ مولانا انصار صاحب1984سے ماہنامہ الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ حکمت میں نے الرسالہ سے سیکھی۔