Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
میڈیا اسٹار کے ایڈیٹر مسٹر این نقوی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ایک رشتہ دار ہیں جو سنبھل میں رہتے ہیں۔ ان کا نام عبدالقیوم ہے۔ وہ سنبھل کے ایک اسکول میں وائس پرنسپل ہیں۔ تین سال پہلے وہ دہلی آئے۔ مسٹر نقوی کے مکان پر ٹھہرے ہوے تھے۔ وہاں انہیں الرسالہ کا ایک شمارہ ملا اس کو ٹھاکر وہ پڑھنے لگے۔ باہر ایک ہی نشست میں پردا پرچہ پڑھتا۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ کیا الرسلالہ کے اور شمارے بھی تمہارے پاس ہیں۔ مسٹر نقوی نے کہا کہ ہاں۔ اس کے بعد وہ الرسالہ کے بہت سے شمارے اٹھاکر سنبھل لے گئے اور سب کو پڑھ ڈالا۔ اب الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔
عبدالقیوم صاحب پہلے بہت غصہ والے آدمی تھے اگر اکثر طالب علموں کو اور دوسروں کو ڈانٹے مارتے رہتے تھے، الرسالہ پڑھنے کے بعد وہ بالکل بدل گئے۔ اب وہ ہر ایک سے ٹھنڈے انداز میں معاملہ کرتے ہیں اور ان کے گھر والوں کو تعجب ہے کہ عبدالقیوم صاحب پر اتنی زبردست تبدیلی کیسے آگئی۔
مسٹر نقوی نے بتایا کہ عبدالقیوم صاحب کو اپنے اسکول کے ایک طالب علم کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ شراب پیتا ہے۔ اس طرح کی بات پر پہلے وہ طالب علم سے بات سخت معاملہ کرتے تھے۔ اب انہوں نے کہا کہ مذکورہ طالب علم کو کلاس ختم ہونے کے بعد میرے دفتر میں آنا۔ طالب علم آیا تو اس کو انہوں نے بیس روپے دئے۔ اور کہا کہ اس سے پانچ روپے کا کچا گوشت اور دو روپیہ میں شراب کی ایک چھوٹی بوتل لے آنا۔ طالب علم کے لیے یہ انوکھی بات تھی۔ مگر تعلیم مکمل کے لیے وہ بازار اپنی اورچیز ہما لے آیا۔ اس کے بعد عبدالقیوم صاحب مذکورہ طالب علم کو اسکول کی لیبارٹریس گئے وہاں انہوں نے ایک برتن نکالا اور کہا کہ شراب اس کے اندر ڈال دو۔ اس کے بعد کچے گوشت کا ایک ٹکڑا اس میں ڈال کر اسے بند کرو۔ اور کہا کہ کل شام کو دوبار آنا۔
اگلے دن شام کو طالب علم عبدالقیوم صاحب کے دفتر میں گیا۔ اس کو لے کر وہ دوبارہ لیبارٹریز گئے۔ اتنے کھولا اور طالب علم سے کہا کہ اس میں ہاتھ ڈالو اور مٹکی سے پکڑکر گوشت کا ٹکڑا نکالو ، اب طالب علم نے جیسے اس طرح گوشت کو نکالنے کی کوشش کی تو اس کا کوشت دی اس کے ہاتھ میں آیا مٹھی اپنی دو انگلڈ کے دباکے کرنے صاف گوشت پر ان میں ملککیوں گل گئی تھا۔ عبدالقیوم صاحب نے طالب سے کہا کہ یہ گوشت جانٹی ہو کہ سحت پر ہیں۔ انسان کا گوشت اس کے مقابلہ میں نرم ہے۔ بات تم سمجھ سکتے ہو کہ جب جانور گوشت اس طرح شراب پی گل تھا تو اس کن کا گوشت کتنا زیاد گل جائے گا۔
اس کے بعد لڑکا عبدالقیوم صاحب کے قدموں پر گر پرا اور کہا کہ آج کے بعد میں کبھی شراب نہیں پیوں گا مجھے معاف کردیجئے۔