← back to shukr · Al-Risala September 2020

دورِ جنگ کا خاتمہ

Al-Risala September 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (41 chapters)
  1. الرسالہ - September 2020
  2. انذار ،تائید
  3. تخلیق کے ادوار
  4. قرآن کا طریقِ مطالعہ
  5. اللہ اور فرشتوں کا مکالمہ
  6. علم الاسماء
  7. خدا کا منصوبہ
  8. سیلف کرکشن کی صفت
  9. شاک ٹریٹمنٹ
  10. قانونِ دفع
  11. ہبوط آدم
  12. طوفان نوح
  13. کنگ شپ کا نظام
  14. رسول اور اصحاب رسول
  15. پالیٹکل ماڈل
  16. اہل ایمان کا رول
  17. صلیبی جنگیں
  18. شہادت اعظم
  19. انذار بذریعہ تائید
  20. تاریخ کے دو بڑے ادوار
  21. تخلیق، تہذیب
  22. سائنس اور اسلام
  23. ایک مثال
  24. محفوظ دین، محفوظ امت
  25. حفاظت کا راز
  26. حفاظت کا طریقہ
  27. تبلیغِ رسالت کا نظام
  28. مواقع اویل کرنا
  29. حضرت یوسف کی مثال
  30. رسول اللہ کا طریقِ کار
  31. سیکولر دنیا کی مثال
  32. یہود کی مثال
  33. ڈی لنکنگ کا اصول
  34. دورِ جنگ کا خاتمہ
  35. دورِ امن کی طرف
  36. امن کی اشاعت
  37. تعلیم، قدیم اور جدید
  38. شیطان کا چیلنج
  39. تبیینِ حق کا دور
  40. عصری اسلوب میں دعوت
  41. خلاصۂ کلام

دورِ جنگ کا خاتمہ

دنیا میں قدیم زمانے سے قوموں کے درمیان جنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ اس نامتناہی سلسلۂ جنگ کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانے میں جنگ اور صلح کی کوئی ایسی معلوم حد موجودد نہ تھی، جو قوموں کے درمیان تسلیم شدہ ہو۔ اسلام نے صلح حدیبیہ کے بعد اس دورِ صلح کا آغاز کیا۔ اس کے بعد دنیا میں بین الاقوامی سطح پر ایک تاریخی عمل (historical process)کا آغاز ہوا۔ اس عمل کا نقطۂ انتہا 1945 تھا، جب کہ تمام قوموں کے اتفاق رائے سے اقوام متحدہ (UN) کا قیام عمل میں آیا۔

اقوامِ متحدہ کے قیام سے بین الاقوامی طور پر ایک مشترک پلیٹ فارم وجود میں آیا۔جہاں تمام قوموں کے ذمہ دار نمائندے اکٹھا ہوں، اور با اختیار انداز میں اجتماعی فیصلے کریں۔ اس اجتماعی پلیٹ فارم کے ذریعے اس سلسلے میں پہلا اہم کام یہ ہوا کہ قوموں کی جغرافی حدیں متعین ہوئیں۔ یہ حد نیشن اسٹیٹ (nation state) تھی۔ اس سے یہ طے ہوا کہ ہر قوم کی ایک معلوم حد ہے، اور کسی قوم کو یہ حق نہیں کہ وہ اس معلوم حد کی خلاف ورزی کرے۔

اسی طرح قوموں کے اتفاق رائے سے یہ اصول طے ہوا کہ باہمی اختلافات کا تصفیہ اقوام متحدہ کے تحت امن کی میز پر ہوگا، نہ کہ جنگ کے میدان میں۔ اس طرح دنیا میں پہلی بار یہ ہوا کہ تقریباً ایک سو قوموں کی جغرافی حدیں مقرر ہوگئیں، اور اس طرح جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کی ایک آیت میں یہ جو الفاظ آئے ہیں  حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا (47:4)۔یعنی یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے۔ اس میں اسی حتی (حد) کی پیشین گوئی تھی، جو بیسویں صدی کے نصف آخر میں پوری ہوئی۔ قرآن کی یہ آیت کسی وقتی معاملے کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ ایک مستقل تصفیے کے لیے ہے، جو اقوامِ متحدہ کے ذریعے بین اقوامی اسٹیج پر طے ہوا۔اس آیت میں ایک بین الاقوامی پراسس کی تکمیل کا اعلان ہے، نہ کہ ایک وقتی اور محدود معاملے کا۔ یہ آیت ایک تاریخی تکمیل کو بتاتی ہے، جس کے بعد پر امن دعوت کے مواقع آخری طور پر کھل گئے۔original + quote

اسلام کے ذریعے ایک عالمی عمل جاری ہوا، جس کی تکمیل جدید تہذیب کی صورت میں ہوئی، اور رسول اللہ کی پیشین گوئی پوری ہوئی کہ اللہ اس دین کی تائید سیکولر قوموں کے ذریعے کرے گا۔