Al-Risala September 2018

باس از آلویز رائٹ

Al-Risala September 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - September 2018
  2. دین کا نقطۂ آغاز
  3. احسن العمل کون
  4. زندگی کا تصور
  5. عارفانہ صحبت کیا ہے
  6. اقفالِ قلب
  7. اللہ اکبر، اللہ اکبر
  8. شاکلہ کیا ہے
  9. عظمتِ خداوندی
  10. تخلیق کے دو ادوار
  11. انسان کا دماغ
  12. حاکم کی خیرخواہی
  13. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  14. الاضحی، پیغمبر ابراہیم کا منصوبہ
  15. مصلح، متکلم، داعی
  16. اِدّعا کا دور ختم
  17. امن کا راستہ
  18. عقل سے محرومی
  19. عورت کی تخلیق
  20. ازدواجی زندگی
  21. نیت پر حملہ
  22. آدابِ تنقید
  23. پازیٹیو تھنکنگ، پازیٹیوزم
  24. پریکٹکل وزڈم
  25. بے باکی یا دانش مندی
  26. بہت دن کم رہا
  27. بڑا آدمی کون
  28. آنکھوں کے بغیر
  29. باس از آلویز رائٹ
  30. سیکولرزم کیا ہے
  31. ایک سوال
  32. خبرنامہ اسلامی مر کز- 263

باس از آلویز رائٹ

باس از آلویز رائٹ(Boss is always right)—کمپنی کلچر کا ایک بنیادی اصول ہے۔ اس اصول کے بغیر کوئی اجتماعی کام نظم و ضبط کے ساتھ انجام نہیں دیا جاسکتا۔ اسی لیے ہر اجتماعی کام میں ایک شخص کو ذمہ دارِ اعلی بنایا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ذمے دارِ اعلی پر اعتماد کرنا پڑتا ہے کہ وہ صحیح فیصلہ لے گا۔ بوقتِ فیصلہ باس کو کلی اختیار حاصل ہوتا ہے۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ بعد کو باس کا احتساب کیا جائے، اور باس سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اپنے فیصلے کا جواز ذمے دار لوگوں کو بتائے۔

جو شخص کسی کمپنی میں کوئی جاب کرے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ باس از آلویز رائٹ کے اصول کو بلاشرط مانے۔ اس اصول کے معاملے میں کسی شخص کا کوئی استثنا نہیں۔ کیوں کہ اس معاملے میں اگر استثنا کے اصول کو مانا جائے، تو کمپنی کا کام درست طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ جو آدمی کسی کمپنی میں جاب کررہا ہو، اس کو یہ اختیار تو حاصل ہے کہ وہ جاب کو چھوڑدے، لیکن اس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ باس از الویز رائٹ کے اصول کو ماننے سے انکار کردے، یا جاب پر رہتے ہوئے،اس کی خلاف ورزی کرے۔

باس از الویز رائٹ کوئی عقیدے کی بات نہیں، یہ ایک پریکٹکل وزڈم کی بات ہے۔کوئی آدمی جو کسی کمپنی میں جاب کررہا ہو، یہ اس کی ذاتی ذمے داری ہے کہ وہ کمپنی کے قواعد کو جانے، وہ کمپنی کے اصول و ضوابط کو پوری اسپرٹ کے ساتھ اپنائے۔ کوئی شخص جو کمپنی کے جاب میں ہو، اگر وہ اس اصول کی خلاف ورزی کرے، تو اس کو لازماً اس کا نقصان بھگتنا پڑے گا۔ یہ کمپنی کے اپنے اوپر ہے کہ وہ اس معاملے میں کارکن کو اس کی غلطی پر سزا دے، یا وہ اس کو معاف کردے۔اسی طرح یہ کارکن کی اپنی ذمے داری ہے کہ وہ کمپنی کے ضوابط سے مکمل طور پر باخبر رہے، تاکہ وہ پوری طرح ان ضوابط کا پابند ہو سکے۔ اس معاملے میں کارکن کی طرف سے کوئی عذر قابل قبول نہیں۔ اس معاملے میں کارکن کی صرف ذمے داری ہے، کارکن کا کوئی ناقابل تنسیخ حق (irrevocable right) نہیں۔