Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اپنی تعمیر آپ
زندگی کی دو قسمیں ہیں۔ ہر انسان جو اس دنیا میں آتا ہے وہ خالق کی طرف سے ایک منفرد صلاحیت (unique quality) کو لے کر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ہر انسان ایک غیر معمولی دماغ (mind) لے کر آتا ہے۔ ہر انسان کے لئےیہ ممکن ہوتا ہے کہ اپنے دماغ کو استعمال کرکے اپنی صلاحیت کو دریافت کرے، اور دانش مندانہ پلاننگ کے تحت اپنے پوٹینشل (potential) کو واقعہ (actual) بنائے۔ ہر آدمی کامیابی کے ساتھ اس کو انجام دے سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنے ذہن کو استعمال کرے۔
اس معاملہ کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تائیدی نظام (supporting system) کہا جاسکتا ہے۔ فطرت کے مطابق یہ ہونا چاہئے کہ سماج کا نظام مکمل طور پر میرٹ (merit) کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ مبنی بر میرٹ سماج (merit-based society) کے اندر فطری طور پر ایک عمل قائم ہو جاتا ہے، جس کو آٹومیٹک چینلائزیشن (automatic channelization) کہا جاسکتا ہے۔ اس عمل (process) کے دوران اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی آخر کار اپنی استثنائی خصوصیت کو دریافت کر لیتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا۔
اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر اس بات کا طاقتور محرک پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سماج میں امتیازی درجہ حاصل کرے۔ یہ داخلی اسپرٹ اپنا کام کرتی ہے۔ آدمی نے اگر غلط چائس (choice) لے لیا ہے تو وہ اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ اپنے چائس کو بدلےاور اس چائس کو لے جس میںوہ اکسل (excel) کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس داخلی اسپرٹ کے ساتھ سماج کے اندر مبنی بر میرٹ نظام شامل ہوجائے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی اپنے اس خصوصی رول کو پالیتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا۔انسان اگرچہ پیدا کرنے والے کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے، لیکن اس کے بعد ہر انسان کویہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی تعمیر آپ کرے۔ ہر آدمی اپنے آپ کو سیلف میڈ مین (self-made man ) بنائے۔