Al-Risala October 2020

فیس بک ایک اسٹڈی کلب

Al-Risala October 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2020
  2. افضل ایمان
  3. اعلیٰ حمد
  4. توبہ کی اہمیت
  5. ہوم اسکول
  6. قتل خویش
  7. بااصول انسان
  8. رسول سے تعلق
  9. اوَّلیات، تفردات
  10. نبی منتظَر
  11. عیب خوانی، قصیدہ خوانی
  12. تزئین ِشیطان
  13. پیرویٔ اسلام، تنفیذِ اسلام
  14. دجال کون
  15. اسلامی جہاد
  16. تعلیم، قدیم اور جدید
  17. اسپرٹ آف انکوائری
  18. دین کی عصری تفہیم
  19. ایک واقعہ
  20. عورت کا مقام
  21. فیس بک ایک اسٹڈی کلب
  22. مواقع اویل کرنا
  23. مسائل نہیں
  24. شکایت نہیں
  25. سازش کا مسئلہ
  26. ضمیر، ایگو
  27. ایک سینئر سیٹیزن کی زبانی
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز- 273

فیس بک ایک اسٹڈی کلب

موجودہ زمانے میں ذرائع ابلاغ کے بہت سے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک سوشل میڈیا ہے۔سوشل میڈیا الکٹرانک کمیونی کیشن اور سماجی رابطہ کا طریقہ ہے، جس کے ذریعے انسان انٹرنیٹ پر ایک کمیونٹی بناتا ہے، تاکہ اس کے ذریعے وہ انفارمیشن، آئڈیا اور پرسنل پیغام، وغیرہ ایک دوسرے کے ساتھ ایکسنچ کرسکے۔ مثلاً فیس بک (Facebook) ، ٹوئٹر، وغیرہ۔

فیس بک مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے۔ اس کو 2004ء میں مارک زکربرگ(پیدائش 1984) نے اپنےدوستوں کے ساتھ مل کر امریکا میں لانچ کیا۔ ابتدا میں اس کا مقصد یونیورسٹی اور اسکول سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور طالب علموںکو ایک دوسرے کے ساتھ تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرنا تھا۔ 2006ء میں اسے عام لوگوں کے لیے اوپن (open) کیا گیا۔

فیس بک اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک اسٹڈی کلب ہے۔فیس بک پر ایک انسان دوسرے انسان سے بطور دوست تعلق قائم کر سکتا ہے۔ تبادلۂ خیال کر سکتا ہے،اور دوسرے لوگوں کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول کر سکتا ہے۔ ان سب کے علاوہ وہ اپنی پسند اور دلچسپی کی بنیاد پر گروپ میں شامل ہو سکتا ہے، جو افراد، اسکول، کام کی جگہ، دلچسپیاں اور دوسرے موضوعات پر مشتمل ہوتے ہیں۔یہ گویا دوسرے کی عقل اور تجربات کو اویل (avail) کرنے کا عمدہ پلیٹ فارم ہے۔ بلاشبہ وہ ایک ایسا ذریعہ ہے، جس سے بہت زیادہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

موجودہ زمانے میں فیس بک کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن تعمیری مقصد کے لیے نہیں، بلکہ زیادہ تر نتیجے کے اعتبا ر سے تخریبی مقصد کے لیے۔ فیس بک کااستعمال عملاًفری ہوتا ہے۔ اس لیے اس کو زیادہ تر وہ لوگ استعمال کررہے ہیں، جن کے اندر اعلیٰ ذوق نہیں ہوتا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں،لوگ فیس بک کا استعمال عموماً شکایت اوربے بنیاد یا غیر مصدقہ خبروں کو پھیلانے کے لیے کرتے ہیں۔ اس طر ح یہ ان کے لیے عملا ً غیر مفید بن گیا ہے۔