Al-Risala October 2020

اعلیٰ حمد

Al-Risala October 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2020
  2. افضل ایمان
  3. اعلیٰ حمد
  4. توبہ کی اہمیت
  5. ہوم اسکول
  6. قتل خویش
  7. بااصول انسان
  8. رسول سے تعلق
  9. اوَّلیات، تفردات
  10. نبی منتظَر
  11. عیب خوانی، قصیدہ خوانی
  12. تزئین ِشیطان
  13. پیرویٔ اسلام، تنفیذِ اسلام
  14. دجال کون
  15. اسلامی جہاد
  16. تعلیم، قدیم اور جدید
  17. اسپرٹ آف انکوائری
  18. دین کی عصری تفہیم
  19. ایک واقعہ
  20. عورت کا مقام
  21. فیس بک ایک اسٹڈی کلب
  22. مواقع اویل کرنا
  23. مسائل نہیں
  24. شکایت نہیں
  25. سازش کا مسئلہ
  26. ضمیر، ایگو
  27. ایک سینئر سیٹیزن کی زبانی
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز- 273

اعلیٰ حمد

قرآن میںفرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم کی دعا کا ذکر ہوا ہے ۔دعا کے الفاظ یہ ہیں  رَبِّ ابْنِ لِی عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ (66:11)۔ یعنی اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنادے ۔ یہ دعا اللہ کی گہری دریافت سے نکلی ہوئی دعا ہے۔ جب آسیہ کو دنیا کی زندگی میں اعلیٰ حمد کا موقع نہیں مل سکا تو اس نے یہ دعا کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں معرفت کا جو اعلی کلچر رائج ہونا چاہیے تھا، وہ رائج نہ ہوسکا۔اب سوال یہ ہے کہ یہ اعلیٰ عارفانہ تہذیب کب قائم ہوگی۔ قرآن کے مطابق، یہ اعلیٰ عارفانہ تہذیب آخرت میں جنت کی دنیا میں قائم ہوگی۔یہ ان انسانوں کو ملے گی، جو دنیا کے اندر معرفتِ خداوندی کی کوشش کرتے رہے۔original + quote

اعلیٰ معرفت کیا ہے، اس کا ذکر قرآن میں دو مقامات پر آیا ہے۔سورہ الکہف میں یہ الفاظ آئے ہیں کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہوجائے تو سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں۔ (18:109)۔سورہ لقمان میں اس طرح آیا ہے اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں۔ بیشک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے(31:27)۔original + quote

ان دونوں آیات میں سمندر کے ختم ہونے کا ذکر موجودہ دنیا کے ریفرینس میں ہے۔ مگر آخرت کی جنت میں یہ محدودیت نہیں ہوگی۔ وہاں پر انسانوں کو لامحدود طور پر حمد اور معرفت کا موقع ملے گا۔ اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہےکہ جنت میں ان کا قول ہوگا  اے اللہ تو پاک ہے۔ اوروہ ملتے وقت ایک دوسرے کو سلامتی (کی دعا) دیں گے۔ اور ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہان کا(10:10)۔ یعنی اہل جنت کو ہرلمحہ لامحدود طور پر حمد کلچر میں جینے کا موقع ملے گا۔original + quote