Al-Risala October 2019

بین اقوامی رواج

Al-Risala October 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (22 chapters)
  1. الرسالہ - October 2019
  2. قرآن کا نزول
  3. تواصی بالحق،تواصی بالصبر
  4. اولاد کے لیے بہتر عطیہ
  5. ایک پروفیسر کا واقعہ
  6. دعوتی سیاحت
  7. جاننے والوں کا نہ جاننا
  8. مبنی بر مواقع پلاننگ
  9. زندہ قوم، زوال یافتہ قوم
  10. حقیقت پسندانہ سوچ
  11. روحانی ترقی
  12. مثبت اثر لینا
  13. مینج کرنا سیکھیے
  14. رحمت، سیف
  15. بین اقوامی رواج
  16. پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف
  17. کنڈیشنڈ سوچ
  18. احتجاج کوئی پالیسی نہیں
  19. الفاظ، الفاظ، الفاظ
  20. آج کا نوجوان
  21. کامیابی اپنے ہاتھ میں
  22. خبرنامہ اسلامی مرکز- 269

بین اقوامی رواج

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں عرب کے دو آدمیوں نے نبوت کا دعوی کیا تھا۔ ایک یمامہ کا مسیلمہ بن حبیب، اور دوسرا صنعاء کا اسود بن کعب عنسی۔ مسیلمہ نے 10ہجری میں ایک خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس خط کامضمون یہ تھا: اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے اللہ کے رسول محمد کے نام، سلام علیک، اما بعد، بے شک میں نبوت کے معاملہ میں آپ کے ساتھ شریک کیاگیا ہوں، اس لیے نصف زمین ہمارے لیے اور نصف زمین قریش کے لیے۔ مسیلمہ کی طرف سے دو قاصد اس کا یہ خط لے کر مدینہ آئے۔ ان کا نام ابن النواحہ اور ابن اُثال تھا۔ اس کے بعد روایت میں آتا ہے:قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ جَاءَہُ رَسُولَا مُسَیْلِمَةَ الْکَذَّابِ بِکِتَابِہِ یَقُولُ لَہُمَا:’’ وَأَنْتُمَا تَقُولَانِ مِثْلَ مَا یَقُولُ؟ ‘‘ قَالَا:نَعَمْ! فَقَالَ:أَمَا وَاللَّہِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَکَمَا (راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا جب کہ مسیلمہ کذاب کے دونوں قاصد اس کا خط لے کر آئے، کیا تم دونوں بھی وہی کہتےہو جو وہ کہتا ہے۔ دونوں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں کٹوادیتا )۔راوی حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں :فَمَضَتِ السُّنة بِأَنَّ الرُّسُلَ لَاتُقْتَلُ (البدایة والنہایة،5/62)۔یعنی پھر یہ سنت جاری ہوگئی کہ قاصدوں کو قتل نہ کیاجائے ۔original + quote

اس سنت نبوی سےاسلام کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتاہے۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں بین اقوامی رواج پر عمل کیا جائے گا۔ ہر زمانہ میں بین اقوامی تعلقات کے لیے کچھ رواج ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں بھی اس قسم کے بہت سے رواج ہیں۔ اب اقوامِ متحدہ نے ان کو زیادہ منظم صورت دے دی ہے۔ اس قسم کے تمام رواج مسلم ملکوں میں بھی اسی طرح قابلِ احترام ہوں گے، جس طرح غیر مسلم ملکوں میں ان کو قابلِ احترام سمجھا جاتاہے۔ البتہ اگر اس قسم کے معاملات میں کوئی ایسی چیز یا رواج پایا جائے جو صراحةً حرام ہو۔ مثلاً بین اقوامی میٹنگوں میں شراب پیش کرنا، تو اس مخصوص جز کی حد تک اس کی پیروی نہیں کی جائے گی۔