Al-Risala October 2018

منصوبۂ تخلیق

Al-Risala October 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (37 chapters)
  1. الرسالہ - October 2018
  2. شخصیت کی تعمیر
  3. انسان کی عبدیت
  4. معرفت کا کلمہ
  5. جنت کا معاملہ
  6. رزق کا معاملہ
  7. حکومتِ الٰہیہ یا حکومتِ انسانیہ
  8. حکم صرف اللہ کا
  9. خدا اور انسان
  10. معرفتِ الٰہی
  11. امت کی حالت ِزار
  12. امت میں قتال
  13. صلح پہلا آپشن
  14. تقویٰ بقدرِ استطاعت
  15. والرُجز فاھجر
  16. دنیا اور آخرت
  17. ایمان کے بعد ایمان
  18. خدا کی دریافت
  19. منصوبۂ تخلیق
  20. مصیبت کیوں
  21. داعی کی اسپرٹ
  22. علما کا مقام
  23. قناعت کا سبق
  24. مشورے کی اہمیت
  25. موت کی یاد
  26. زندگی کے قیمتی سال
  27. باہمی انحصار کا دور
  28. غیر عملی نشانہ
  29. ظلم یا چیلنج
  30. دینی شناخت
  31. فطرت کو موقع دو
  32. غصے کا ظاہرہ
  33. شادی شدہ زندگی
  34. عذر کیا ہے
  35. کھونے میں پانا اور پانے میں کھونا
  36. تخلیقی مشورہ
  37. خبرنامہ اسلامی مر کز- 264

منصوبۂ تخلیق

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خالق نے انسان کو بہترین ساخت کے ساتھ پیدا کیا ہے، پھر اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیا(التین، 95:4-5)۔اس آیت کا مطلب وہی ہے، جو بائبل میں تمثیل کی زبان میں اس طرح آیا ہے: تم نے بہت سا بویا، پر تھوڑا کاٹا(حجی، 1:6)۔original + quote

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی ساخت اور تخلیقی پلان میں فرق ہے۔ اس دنیا میں انسان زیادہ چاہے گا، مگر ا س کو کم ملے گا۔ انسان زیادہ کا منصوبہ بنائے گا، لیکن عملاً اس کو اپنے منصوبے سے کم ملےگا۔ انسان اجر غیر ممنون چاہے گا، لیکن اس کو صرف اجر ممنون ملے گا۔ انسان اپنی خواہش کے مطابق چاہے گا، لیکن وہ اس دنیا میں رازق کی تقسیم کے مطابق پائے گا۔ انسان اپنے حوصلے کے مطابق چاہے گا، لیکن اس کو خالق کے مقدرات کے مطابق حاصل ہوگا۔

چاہنے اور پانے میں یہ فرق کیوں ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ انسان سوچے ، وہ غور کرکے اس فرق کی حکمت کو دریافت کرے۔ انسان اگر ایسا کرے، تو وہ جانے گا کہ خالق کے نقشے کے مطابق دنیا کا ایک ’’آج‘‘ہے، اور اس کا ایک ’’کل‘‘ ہے۔ آج کی دنیا عمل کے لیے ہے، اور کل کی دنیا عمل کا انجام پانے کے لیے ہے۔ آج کی دنیا بونے کے لیے ہے، اور کل کی دنیا اس کا پھل کاٹنے کے لیے ہے۔

ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ خالق کے اس نقشۂ تخلیق کو جانے،اور اس کا اعتراف کرے کہ اس دنیا کو بنانے والا وہ نہیں ہے، بلکہ اس کو بنانے والا کوئی اور ہے۔ دنیا ہر حال میں خالق کے نقشے کے مطابق چلے گی، اس کے اپنے نقشے کے مطابق نہیں چل سکتی ،تو وہ اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ وہ اس حقیقت کو جانے کہ وہ خدا کی دنیا میں جو کچھ پائے گا، خالق کی تقسیم کے مطابق پائے گا۔ انسان اگر خالق کے نقشے کو مان کر چلے، تو اس کے لیے کامیابی ہے، اور اگر وہ اس نقشے سے انحراف کرے، تو وہ ہرگز کامیاب ہونے والا نہیں۔