← back to shukr · Al-Risala October 2015

اچانک موت

Al-Risala October 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (37 chapters)
  1. الرسالہ - October 2015
  2. عید اضحی کا پیغام
  3. تاریخ ساز قربانی
  4. حج بیت اللہ کے بعد
  5. قرآن کا ترجمہ
  6. اچانک موت
  7. جنت کی دنیا
  8. تفکیر، مفکر
  9. مصائب کی حکمت
  10. مثلِ قرآن ممکن نہیں
  11. صحیح مگر غلط
  12. کوئی چیز ملکیت نہیں
  13. ربط کے بغیر ملاقات
  14. سیاسی ظلم نہیں
  15. تاریخ کا نیا دور
  16. صبر کا انعام
  17. پاکستانی ڈائسپورا
  18. دنیا کی حقیقت
  19. اللہ کی انگلیوں کے درمیان
  20. بلا استحقاق عطیہ
  21. بڑا کام
  22. عدم اعتراف
  23. بیانیہ اسلوب، تجزیاتی اسلوب
  24. بلاشرط ساتھ دینا
  25. دین اور اسٹیٹ
  26. حکمت کا اصول
  27. حروفِ مقطعات
  28. شخصیت کی تعمیر
  29. جنت اورجہنم
  30. خبر کی تحقیق ضروری
  31. سوانح عمری
  32. خالق کی کاملیت
  33. سادگی کی اہمیت
  34. سوچنے کا طریقہ
  35. امیج بلڈنگ
  36. سوال و جواب
  37. خبرنامہ اسلامی مرکز— 238

اچانک موت

انڈیا کے سابق پریسڈنٹ ڈاکٹر عبدالکلام 27 جولائی 2015 کو انتقال کرگیے۔ بوقت وفات ان کی عمر 83 سال تھی۔ وہ نئی دہلی سے شیلانگ گیے۔ وہاں ان کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ (Indian Institute of Management) شیلانگ میں ایک سائنسی موضوع پر لکچر دینا تھا۔ پروگرام کے مطابق انھوں نے اپنا لکچر شروع کیا۔ اس وقت ہال میں سامعین اور میڈیا کے لوگوں کی بھیڑ جمع تھی۔

ڈاکٹر کلام بمشکل پانچ منٹ بول پائے تھے۔ اس کے بعد اچانک ان کی زبان بند ہوگئی، اور وہ اسٹیج پر گر پڑے۔ ان کو فوراً اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر کلام کی موت واقع ہوچکی ہے۔ لکچر کا آخری جملہ جو ان کی زبان سے نکلا، وہ یہ تھا:

It is the destiny of our nation that an Indian brain requires an acknowledgment from a foreign...

موت لازما ہر انسان پر آتی ہے۔ تاہم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موت کسی آدمی پر اس طرح آتی ہے کہ وہ بیمار ہوجائے، یا اس کو کوئی حادثہ پیش آجائے، یا وہ بوڑھا ہو کر مرے۔ لیکن خالق کبھی ایسا کرتا ہے کہ انسان کی موت اچانک آجاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ نہ کوئی آخری وصیت کرسکتا، اور نہ وہ اپنا درد دوسروں سے بیان کرسکتا۔ وہ بالکل نارمل حالت میں ہوتا ہے کہ اچانک اس کی آواز بند ہوجاتی ہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ مر چکا ہے۔

کسی شخص پراچانک موت اس لیے آتی ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر سبق لیں،وہ بے خبری کی زندگی نہ گزاریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک صحابی رسول عبد اللہ ابن عمر نے ان الفاظ میں بیان کیا: إذا أمسیت فلا تنتظر الصباح، وإذا أصبحت فلا تنتظر المساء (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6416) جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب تم صبح کرو تو شام کا انتظار نہ کرو۔original + quote