← back to shukr · Al-Risala October 2012

سوال

Al-Risala October 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2012
  2. ذہنی ارتقا کی اہمیت
  3. صداقت کی پہچان
  4. عقل کا مسئلہ
  5. گاڈ پارٹکل کیا ہے
  6. مثبت شخصیت، منفی شخصیت
  7. حیوانی باربرداری، مشینی باربرداری
  8. قرآن کی تلاوت، قرآن کی دعوت
  9. ضمیر کی آزادی
  10. اہلِ ایمان کا غلبہ
  11. حق کو باطل ثابت کرنا
  12. ایک عمومی فتنہ
  13. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  14. سماجی قبولیت یا نفاذِ قانون
  15. یہ بے خبرانسان
  16. ایک عبرت ناک واقعہ
  17. شیطان کی سنت
  18. ناقابلِ معافی جُرم
  19. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  20. جائز فضول خرچی
  21. مواقع کی بربادی
  22. اِحیاءِ سنت
  23. بھولا ہوا سبق
  24. کامیابی کا راز
  25. سُستی کی شکایت
  26. حقیقت پسندی
  27. سوال
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز 218—

سوال

الرسالہ مارچ 2011 کے مضمون ’’اللہ سے محبت‘‘ میں درج کردہ حدیث: ’’خلق اللہ آدم على صورتہ‘‘ قرآن کی آیت ’’لیس کمثلہ شیئ‘‘ (11: 42) کے خلاف معلوم ہوتی ہے- براہِ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں- (ڈاکٹر محمد افضل منہاس، پاکستان)original + quote

’’خلق اللہ آدم على صورتہ‘‘ کی حدیث صحیح البخاری (رقم الحدیث: 6227) میں آئی ہے- اس کی صحت میں کوئی شک نہیں- اصل یہ ہے کہ اِس حدیث میں ’صورة‘ کا لفظ ظاہری صورت (form) کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ صفت (quality) کے معنی میں ہے- خود قرآن میں اللہ کے لیے اِس قسم کے الفاظ آئے ہیں- مثلاً ’وجہ‘ (55: 27) ، اور ’ید‘ (48:10) ، وغیرہ- یہاں بھی یہ الفاظ ظاہری صورت کے معنی میں نہیں ہیں، بلکہ وہ صفت کے معنی میں ہیں-original + quote

قرآن اور حدیث دونوں میں جو بات کہی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو خصوصی صلاحیتیں دی ہیں جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں دیں- یہ وہ صلاحیتیں ہیں جو اللہ کے اندر اپنی کامل صورت میں موجود ہیں- مزید یہ کہ یہ اعلی صلاحیتیں اللہ کے اندر اس کی ذاتی صفت کے طور پر ہیں، جب کہ انسان کو جو محدود صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ صرف عطیہ کی حیثیت رکھتی ہیں-

جہاں تک قرآن کی آیت: لیس کمثلہ شیئ (11: 42) کا تعلق ہے، اُس کا صحیح مطلب وہ ہے جو ابو محمد الواسطی (وفات: 1341ء)کے حوالے سے اِن الفاظ میں نقل کیاگیا ہے: لیس کذاتہ ذات، ولا کاسمہ اسم، ولا کفعلہ فعل، ولا کصفتہ صفة، إلا من جہة موافقة اللفظ (القرطبی، 9/16) یعنی اللہ کی ذات جیسی کوئی ذات نہیں، نہ اس کے اسم جیساکوئی اسم ہے، نہ اس کے فعل جیساکسی کا فعل ہے، نہ اس کی صفت جیسی کسی کی صفت ہے، سوا لفظی موافقت کے اعتبارسے-original + quote

مثلاً انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو قدرت حاصل ہے، مگر اللہ کی قدرت اور انسان کی قدرت کے درمیان صرف لفظی مشابہت ہے، نہ کہ حقیقی مشابہت-