Al-Risala october 2008

روزہ اور قرآن

Al-Risala october 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (43 chapters)
  1. الرسالہ - october 2008
  2. روزہ: شکر اور تقویٰ کی تربیت
  3. روزہ :اسلام کا ایک رُکن
  4. روزہ کی حقیقت
  5. ایمان اور احتساب
  6. روزہ :عجز کی تربیت
  7. روزہ کی عظمت
  8. صبر کا مہینہ
  9. روزہ اور انسانی ہمدردی
  10. روزہ اور دعا
  11. لامحدود اجر
  12. موافقِ اصلاح ماحول
  13. روزہ اور اخلاقی ڈسپلن
  14. رمضان میں خطاؤں کی معافی
  15. اسپرٹ، نہ کہ فارم
  16. رحمتِ الٰہی کا مستحق کون
  17. حلال سے روزہ، حرام سے اِفطار
  18. حقیقت ِصوم
  19. نیت کی اہمیت
  20. روزہ: ایک زندہ عمل
  21. دورِ ز وال کا ظاہرہ
  22. فارم اور اسپرٹ کا فرق
  23. روزہ اور تزکیۂ نفس
  24. بے روح عبادت
  25. قولِ زُور، عملِ زُور
  26. روزہ کو چھوڑنا
  27. اسپرٹ، یا ٹکنکل مسائل
  28. روزہ اور قیامِ لیل
  29. روزہ اور قرآن
  30. روزہ اور تراویح
  31. ِختم قرآن، یا تدبّر ِقرآن
  32. روزہ: خدا کی یاد کا ذریعہ
  33. روزہ اور اعتکاف
  34. عبادت کا اظہار
  35. حالتِ محرومی کی دریافت
  36. حسّاسیت کی سطح پر
  37. اللہ کے زیر حکم ہونے کا تجربہ
  38. جذباتِ شکر کی بیداری
  39. روزہ دارانہ زندگی
  40. روزہ کا تعلق پوری زندگی سے
  41. مسائلِ رمضان
  42. انعام کی رات
  43. عید الفطر کا دن

روزہ اور قرآن

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو رمضان کے مہینے میں اتارا (البقرۃ: 185 ) ۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میںاور رمضان کے مہینے میں خصوصی مناسبت ہے۔ رمضان کے مہینے میں روزہ کے عمل کے ذریعے رزقِ مادّی کی اہمیت کو ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے اندر رزقِ مادّی کے بارے میں حقیقی شکر کا جذبہ پیدا ہو۔original + quote

قرآن ، انسان کے لیے رزقِ روحانی کا دستر خوان ہے (القرآن مأدُبۃ اللہ فی الأرض)۔ قرآن کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ انسان رزقِ روحانی کی اہمیت کو محسوس کرے اور قرآن سے دریافت کرکے اُس کو وہ اپنی زندگی میں شامل کرے، وہ زیادہ سے زیادہ قرآن میںتدبر کرکے اپنا ذہنی تزکیہ کرے۔original + quote

رمضان میں پورے مہینہ روزہ رکھا جاتا ہے اور ذکر وعبادت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اِس طرح، رمضان کا مہینہ پورے معنوں میں ایک روحانی مہینہ بن جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں قرآن کی تلاوت کرنا، تراویح میں قرآن کو سننا، مختلف صورتوں میں قرآن کا چرچا کرنا، یہ چیزیں لوگوں کو یہ موقع دیتی ہیں کہ وہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن سے قریب ہوں، وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کو سمجھیں۔ رمضان کا مہینہ، تاریخی اعتبار سے، قرآن کے نزول کا مہینہ ہے، اور تربیت کے اعتبار سے وہ قرآن کو اپنے دل و دماغ میں اتارنے کا مہینہ۔

قرآن میںارشاد ہوا ہے: لا یمسُّہُ إلاّ المُطَہَّرون (الواقعۃ:79 )۔ اِس آیت میں تلاوتِ قرآن کے لیے وضو کا مسئلہ بیان نہیں ہوا ہے، بلکہ یہاں فہمِ قرآن کے لیے تطہیر ِنفس کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ اِس آیت کی صحیح تشریح وہ ہے جو امام راغب الاصفہانی (وفات: 1108 ء) نے کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: أی إنّہ لا یبلغ حقائقَ معرفتہ إلاّ مَنْ طہَّر نفسَہ (المفردات فیغریب القرآن) یعنی صرف وہ شخص قرآن کے حقائق کا ادراک کرسکے گا جو اپنے نفس کی تطہیر کرے، صرف فنّی مہارت، قرآن کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں، اور روزہ اِسی تطہیر نفس کا ایک موثّر ذریعہ ہے۔original + quote