Al-Risala November 2020

برتر ہستی کی تلاش

Al-Risala November 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - November 2020
  2. برتر ہستی کا تصور
  3. اللہ کی رؤیت
  4. عقیدۂ خدا اور سائنس
  5. لامحدود کائنات، انسانی محدودیت
  6. خدا کا عقیدہ
  7. حقیقت کی تلاش
  8. فطرت کی پکار
  9. ڈارون کا اعتراف
  10. برتر ہستی کی تلاش
  11. ذہین وجود
  12. خلائی تہذیب
  13. ماورائے انسان ذہانت
  14. ایلین لائف
  15. کون کنٹرول کرے
  16. کویزار
  17. زیادہ عجیب، کمتر عجیب
  18. سائنس اور خدا
  19. حکمت ِ تخلیق
  20. علم کا سفر
  21. سائنس توحید کی طرف
  22. دریافت کی اہمیت
  23. بامعنی کائنات
  24. سب سے بڑا المیہ
  25. معبود کی طلب
  26. ایک داعی کی وفات
  27. خدا ترس شخصیت
  28. ایگو فری شخصیت
  29. جواہر لال نہرو کا واقعہ
  30. دعوتی عمل کی منصوبہ بندی
  31. نامعلوم دنیا کا سفر
  32. دعوت الی اللہ

برتر ہستی کی تلاش

ڈاکٹر جے۔وی۔نارلیکر (Jayant Vishnu Narlikar) انڈیا کے عالمی شہرت یافتہ ماہر فلکی طبیعیات(astrophysicist) ہیں۔ ان کی پیدا ئش 1938 میں ہوئی۔ ان سے ایک انٹرویو میں کہاگیا کہ ’’مذہبی توہمات‘‘ کی پرستش میں سائنس داں دوسرے لوگوں سے پیچھے نہیں ہیں۔ حتی کہ کتنے سائنس داں دیوتاؤں تک میں عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر نارلیکر نے کہا:’’مجھے یہ بات بے حد ناپسند ہے۔ عملاً میں دیکھتاہوں کہ بہت سے سائنس داں ، جب اپنی تجربہ گاہ میں کام کررہے ہوتے ہیں تو وہ سائنٹفک نقطۂ نظر کو اپناتے ہیں۔ مگر جب وہ اپنے گھر جاتےہیں تو وہ سائنٹفک طریقے کا بالکل استعمال نہیں کرتے۔ مثال کے طورپر، مغرب کے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں میں جیوتش پر عقیدہ پھیل رہا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ انسان کی اس خواہش نے اس کو جنم دیا ہے کہ وہ آسان اور فوری تسکین کو پالے۔ یہ حقیقةً ایک ذہنی سہارا ہے‘‘۔(ٹائمس آف انڈیا 30 اپریل 1979)unverified

کوئی شخص خواہ جاہل ہو یا عالم، کامیاب ہو یا ناکام، زندگی میںاس کو بار بار ایسے مرحلے پیش آتے ہیں، جہاں وہ اپنے عجز (helplessness) کا تجربہ کرتاہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بے بس وجود ہے۔ یہ چیز اس کو اپنے سے برتر ہستی کی تلاش کی طرف لے جاتی ہے ،جو اس کی کمیوں کا بدل بن سکے۔ مغرب کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ جن کے لیے مادی مواقع کے تمام دروازے کھلے ہوتے ہیں، وہ جب اپنی ’’ذہنی تسکین‘‘ کے لیے ما بعد الطبیعیات عقائد کا سہارا لیتے ہیں تو باعتبارِ حقیقت یہ فرضی نہیںہوتا۔ یہ دراصل اپنی فطرت کی خاموش پکار کا جواب ہوتاہے۔ اگر چہ اپنی تلاش کا صحیح جواب نہ پانے کی وجہ سے وہ ’’جیوتش‘‘ جیسی توہماتی چیزوں میںاٹک جاتے ہیں — خدا کا وجود نہ صرف یقینی ہے ،بلکہ وہ انسان کے لیے اتنا ضروری ہے کہ اس کے بغیر وہ ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتا۔