Al-Risala November 2018

دین اور تاریخ

Al-Risala November 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (35 chapters)
  1. الرسالہ - November 2018
  2. اسلام کا رول
  3. ایک تقابل
  4. بڑھاپے کا دور
  5. دین اور تاریخ
  6. خدا موجود ہے
  7. سائنسی تحقیقات
  8. اولاد ایک فتنہ
  9. کنڈیشننگ کا مسئلہ
  10. دورِ امن کی طرف
  11. دورِ زوال کی ایک علامت
  12. دعوت کا اصول
  13. تزکیہ اور دعوت
  14. درسِ قرآن
  15. کفالت کا انتظام
  16. دعا، شعور دعا
  17. حدیث ِ جبریل کا پیغام
  18. دین کے تقاضے
  19. خدا کی پہچان
  20. عصری اسلوب، غیر عصری اسلوب
  21. ما کان و ما یکون
  22. مشرق سے مغرب کی طرف
  23. مذہبی انتہا پسندی
  24. ظالم اور مظلوم کا معاملہ
  25. باقی ماندہ پر پلاننگ
  26. دو قسم کے مسئلے
  27. صحیح طرزِ فکر
  28. سلیقہ ٔ حیات
  29. ہر انسان کا معاملہ
  30. منصوبہ بند کام
  31. چپ کا راز
  32. انٹلکچول پارٹنر
  33. ترقی کا سفر
  34. آزادی کا دور
  35. ایک نصیحت

دین اور تاریخ

قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے ایک بات آئی ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمہارے پاس آئیں گے۔ پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیں گے (22:27)۔ قرآن کی اس آیت میں حج کے لیے پیدل یااونٹ یا اونٹنی کی سواری کا ذکر زمانی سبب سے ہے، یعنی یہ الفاظ قدیم زمانے کی نسبت سے ہیں، وہ علی الاطلاق طور پر حج کی عبادت کا حصہ نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جب ہوائی جہاز کا دور آیا، تو تمام علما نے ہوائی جہاز کے ذریعے حج کا سفر شروع کردیا، اور کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہوا۔original + quote

قرآن میں اس طرح کے اور بھی احکام ہیں، جو زمانی سبب سے ہیں، نہ کہ نماز اور روزہ کی طرح عبادت کے طور پر۔ اسی فہرست میں جہاد بمعنی قتال بھی شامل ہے۔ پیغمبر اسلام کی آمد جس زمانے میں ہوئی، اس زمانے میں کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلح جدو جہد کا عام رواج تھا۔ اس بنا پر صحابہ کو قتال کے عمل میں شریک ہونا پڑا۔ اس کے بعد دنیا میں بہت بڑے بڑے انقلابات ہوئے، یہاں تک کہ اب ساری دنیا میں امن کا دور آگیا۔ اب کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پرامن جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے، اب قتال اس معاملے میں غیرمتعلق لفظ بن چکا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ ، دورِ جنگ کا خاتمہ تھا۔ 1945 میں اقوام متحدہ (UNO) قائم ہوئی، جو گویا جنگ کے خاتمےکا عالمی اعلان تھا۔ دوسری عالمی جنگ میں جن قوموں نے عملا ً جنگی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا، ان سب نے دورِ جنگ کے خاتمے کے چارٹر پر اپنا دستخط ثبت کردیا۔ مثلا ً فرانس، برطانیہ، جرمنی، جاپان، وغیرہ۔ اب اگر دنیا میں کہیں جنگ ہوتی ہے، تو وہ صرف دفاع (defence) کے لیے ہوتی ہے۔ اب اقدامی جنگ (offensive war) عملاً مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے— اب مقابلے کا میدان سائنس اور ٹکنالوجی ہے۔ اب انڈسٹری، اور اقتصادیات جیسے میدانوں میں قوموں کے فیصلے ہوتے ہیں۔