Al-Risala November 2017

اللہ کی معرفت

Al-Risala November 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - November 2017
  2. سفرنامہ کلچر
  3. ساری زمین مسجد
  4. امن کا معاملہ
  5. اللہ کی معرفت
  6. اللہ کی توفیق
  7. دوڑو جنت کی طرف
  8. داعی کی اسپرٹ
  9. رُجز سے اعراض
  10. سجدہ دورِ آخر میں
  11. دل کی بیماری
  12. دین ایک ، شریعت مختلف
  13. اکڑ کی چال
  14. مومن کی صفت
  15. شتم رسول
  16. عقل کا فقدان
  17. درجات کی بلندی
  18. اختلاف کے باوجود اعتراف
  19. دعوت اور ظلم
  20. روشن ہدایت
  21. حقیقی اہمیت
  22. سماجی آداب
  23. دین میں عقل کا استعمال
  24. مدح، تنقید
  25. القاب کلچر
  26. الأئمۃالمضلون
  27. نصیحت پذیری
  28. کامیاب زندگی
  29. زوال کیا ہے
  30. عورت کا درجہ
  31. اسلامی انقلاب میں عمومی تائید
  32. بزدلی یا حکمت
  33. عمل معیار ہے
  34. بیمار ی سے تطہیر
  35. شدت پسندی نہیں
  36. تشدد کا سبب عدم قناعت
  37. سگریٹ نوشی کی عادت
  38. صلاحیت کا اندازہ
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز — 255

اللہ کی معرفت

اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ اسی کے ساتھ خالق نے یہ کیا کہ انسان کے جسم میں ہر سیل (cell) کے اندر اپنا شعور پیوست کردیا۔ سائنسی دریافت نے بتایا ہے کہ انسان کے جسم میں کئی ٹریلین (37.2 trillion) سیل موجود ہیں۔ بالقوۃ طور پر ہر سیل کے اندر خالق کی معرفت موجود ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو اللہ کی معرفت حاصل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر بے شمار سطح پر اللہ کا شعور جاگ اٹھے۔ انسان کے اندر معرفت رب کی ایک کائنات وجود میں آجائے۔original + quote

انسان کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے۔ سیل کی تخلیق کو لے کر سوچا جائے تو معرفت حاصل کرنے کا مطلب ہے—  انسانی شخصیت کے اندر موجود امکان کو واقعہ بنانا۔ یہ معرفت پوٹنشیل (potential) کے طور پر ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ انسان کا کام یہ ہے کہ تدبر اور غور و فکر کے ذریعے وہ اس پوٹنشیل کو ایکچول (actual) بنائے۔ وہ اپنے بالقوۃ عارف ہونے کو دریافت کرے، اور فکری جدوجہد کے ذریعہ اس بالقوۃ کو بالفعل بنا لے۔

اللہ کی معرفت، خالق کائنات کی معرفت ہے۔ خالق کائنات کی معرفت سارے علوم کا خزانہ ہے۔ جس کو خالق کی معرفت حاصل ہوگئی، اس کو تمام چیزوں کی معرفت حاصل ہوگئی۔ جس کو خالق کی معرفت حاصل نہیں ہوئی، وہ علوم کے سرچشمہ سے بے بہرہ رہے گا۔

ایک عالم نے مدارس کے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: علوم کے سرے پکڑیے۔ یہ ایک مبہم بات ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ خالق کی معرفت حاصل کیجیے، اور پھر آپ تمام علوم کے عارف بن جائیں گے۔ اس کے بعد تمام علوم کے سرے آپ کی پکڑ میں آجائیں گے۔ آپ کو وہ فرقان مل جائے گا، جو آپ کے اندر صحیح اور غلط کی تمیز پیدا کردے گا۔اسی حقیقت کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:وَاتَّقُوا اللَّہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللَّہُ وَاللَّہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ (2:282)۔ یعنی اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو سکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔original + quote