Al-Risala november 2016

موت کا تصور

Al-Risala november 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (34 chapters)
  1. الرسالہ - november 2016
  2. آغاز کلام
  3. سوچئے، سوچئے، سوچئے
  4. انسان کی کہانی
  5. زندگی کی حقیقت
  6. جنت کا تعارف
  7. انسانی شخصیت
  8. عمر اور صحت
  9. بڑھاپے کی عمر
  10. بڑھاپے سے سبق لینا
  11. ہر شخص موت کا مسافر
  12. موت کا شعور
  13. موت کے دروازے پر
  14. وقت ختم ہوگیا
  15. موت کی خبر
  16. موت کا تصور
  17. موت کی حقیقت
  18. موت کے قریب
  19. موت کا تجربہ
  20. کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا
  21. پروموشن کی خبر
  22. خود کُشی: سب سے بڑی دیوانگی
  23. ابدی صحرا
  24. مرنے والوں کا تذکرہ
  25. خوش نما فریب
  26. موت کا مسئلہ
  27. موت کا المیہ
  28. موت کا پیغام
  29. موت کا واقعہ
  30. موت کا تصور
  31. ھادم لذات
  32. موت کا سبق
  33. اپنی نمازِ جنازہ
  34. خبرنامہ اسلامی مرکز — 246

موت کا تصور

ایک حدیث رسول میں موت کو ھادم اللذات (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4258) کہا گیا ہے۔ یعنی کوئی انسان اگر اپنی موت کو یاد کرے تو یہ یاد اس کے لیے لذتوں کو ڈھادینے والی بن جائے گی۔ اس کے لیے پھر کوئی لذت ، لذت نہیں رہے گی۔جن مادی چیزوں کو لے کر لوگ خوش ہوتے ہیں، وہ چیزیں اس کو خوشی نہ دے سکیں گی۔ موت کا تصور آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ تمھارے اوپر ایک ایسا دن آنے والا ہے جو اچانک تمھارا سب کچھ بدل دے گا۔ تم اپنے بنائے ہوئے گھر میں ہوگے، تم اپنے بچوں کے درمیان خوش ہوگے، تم اپنے دوستوں کے درمیان یا اپنی معاشی زندگی کے درمیان ہوگے، یا اور کسی حال میں ہوگے، اس وقت اچانک موت کا فرشتہ آئے گا۔ وہ تمھارے جسم کو چھلکے کی طرح پھینک دے گا، اور تمھارے اصل وجود کو لے کر ایک اور دنیا میں چلا جائے گا۔ تمھارے جاننے والے کچھ نہ جانیں گے کہ تم کہاں چلے گیے۔ موت کا یہ تصور آدمی کو بے حد سنجیدہ بنادیتا ہے۔ آدمی کی سب سے بڑی سوچ یہ بن جاتی ہے کہ میں کیا ہوں اور میرا مستقبل کیا ہے، میری زندگی کیا ہے اور میری موت کیا ہے۔ موت سے پہلے کے دورِ حیات میں مجھے کیا کرناہے، موت کے بعد کے دورِ حیات میں میرے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ موت کی یاد آدمی کواس قابل بنادیتی ہے کہ وہ زندگی کے معاملے میں بے حد سنجیدہ ہوجائے، وہ ہر لمحہ اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے لگے۔ موت حتمی انداز میں انسان کو بتاتی ہے کہ بظاہر اگرچہ تمھارا حال (present) تمھارے قبضے میں ہے، لیکن تمھارا مستقبل (future)ہر گز تمھارے قبضے میں نہیں۔ موت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے حال سے زیادہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوجائے۔وہ موت سے پہلے کے دورِ حیات کی تعمیرکے بجائے موت کے بعد کے دورِ حیات میں مشغول ہوجائے۔unverified