← back to shukr · Al-Risala November 2014

ایک حدیث

Al-Risala November 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - November 2014
  2. اِزدیادِ ایمان
  3. کشمیر بیداری
  4. تسخیری عبادت، عارفانہ عبادت
  5. جنت اور انسان
  6. ایک حدیث
  7. وِلاء — بَراء
  8. سبیل ُ اللہ سے انحراف
  9. جہاد وقتال
  10. قرآن سے تعلق
  11. دنیا، آخرت
  12. عمر بن عبد العزیز
  13. دعوت کا ایک موقع
  14. مغرب کا ایجنڈا
  15. دورِ جدید کا مسئلہ
  16. صحبت ِ رسول
  17. فقدانِ شخصیت، فقدانِ معرفت
  18. پیغمبرانہ ماڈل، تاریخی ماڈل
  19. امن پر مبنی ایمپائر
  20. مساوات
  21. صبر کیا ہے
  22. کامل انسان
  23. مسلمانوں کے قومی تقاضے
  24. دعوت الی اللہ
  25. مذہبی انتہا پسندی
  26. سارا جہاں ہمارا
  27. پروموشن کی خبر
  28. ذہنی ارتقا
  29. تلوار بطور تمثیل
  30. شکایت بے جا
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز— 229

ایک حدیث

حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: ’’عن أبی ہریرة، قال، جلس جبریل إلى النبی صلى اللہ علیہ وسلم فنظر إلى السماء فإذا ملک ینزل، فقال جبریل: إن ہذا الملک ما نزل منذ یوم خلق، قبل الساعة، فلما نزل قال، یا محمد، أرسلنی إلیک ربک، أفملکا نبیا یجعلک،أو عبدا رسولا؟ قال جبریل: تواضع لربک یا محمد۔ قال: بل عبداً رسولاً۔ (مسند أحمد: 7160) یعنی جبریل آئے اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے۔ انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اُس وقت ایک فرشتہ آسمان سے اتر رہا تھا۔ جبریل نے کہا کہ یہ فرشتہ اپنی پیدائش کے بعد، اس وقت سے پہلے کبھی زمین پر نہیں آیا۔ جب وہ فرشتہ آگیا تو اس نے کہاکہ اے محمد، آپ کے رب نے مجھ کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔ اللہ آپ کو بادشاہ نبی بنائے یا عبدرسول۔ جبریل نے کہا کہ اے محمد، اپنے رب کے لیے متواضع بنئے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، میں عبدرسول بننا پسند کرتاہوں-unverified

یہی وہ بات ہے جس کو قرآن میں وبشراً رسولاً (17:93) کہاگیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بات صرف پیغمبر کے لیے نہیں ہے، بلکہ پیغمبر کی امت کے لیے بھی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر ہر اعتبار سے امت کے لیے نمونہ ہے اور یقیناً اس حدیث رسول سے معلوم ہوا کہ پیغمبراور پیغمبر کی امت کا منصب یہ نہیں ہے کہ وہ اِس دنیا میں لوگوں کے اوپر سیاسی حکمرانی (political rule)قائم کرے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اِس دنیا میں سیاسی حاکمیت کسی ایک گروہ کی اجارہ داری نہیں۔ اہلِ ایمان کا مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا میں عبد اور بشر بن کررہیں ، وہ اِس دنیا میں قانون کے نفاذ کا جھنڈا نہ اٹھائیں، بلکہ خود اپنے آپ کو اللہ کے احکام کا پابند بنائیں۔ اِس دنیا میں انسان کا امتحان اپنی ذات کے اعتبار سے ہے، نہ کہ اقوامِ عالم کے اعتبار سے-پیغمبر نے جو بات اپنے لیے عبد رسول کے الفاظ میں کہی تھی، وہی دوسرے لوگوں کے لیے عبد انسان کے طورپر درست ہے-original + quote