Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ڈر والے اور بے ڈر والے
قرآن کی سورہ نمبر 84 میں بتایا گیا ہے کہ قیامت میںجن لوگوں کو اُن کے عملِ صالح کی بنیاد پر جنت میں داخلہ ملے گا، ان کا اعمال نامہ ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ اس کو پاکر خدا کا شکر ادا کریں گے اور خوشی خوشی اپنے اہل وعیال کی طرف لوٹیں گے( الإنشقاق: 9-7 )۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کے مطابق، اپنے گھر والوں کے درمیان خدا سے ڈر کر رہتے تھے (الطّور: 26 )۔original + quote
جو شخص دنیا میں خدا کی پکڑ سے ڈرا، آخرت میں وہ ڈر والی زندگی سے محفوظ رہے گا اور اپنے صالح اہل و عیال کے ساتھ جنت کی بے خوف زندگی گزارے گا۔ اِس کے برعکس حال اُن لوگوں کا ہوگا جو دنیا میں خدا سے بے خوف تھے اور آخرت کی پکڑ سے بے پروا ہو کر اپنے اہل وعیال کے درمیان مگن رہتے تھے (المطففین: 31 )۔ جن لوگوں کا دنیا میں یہ حال تھا، ان کو ان کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ خدا کے فرشتے ان کو پکڑ کر جہنم میں ڈال دیں گے، جہاں انھیں دوبارہ خوشی حاصل نہ ہوگی۔original + quote
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص اگر دنیا میں صالح زندگی اختیار کرے اور اپنے آپ کو جنت کے اعلیٰ درجے کا مستحق بنائے، تو اس کی صالح ذریت کو اَپ گریڈ (upgrade) کرکے یک جا طور پر جنت کے اعلیٰ درجات میں داخل کردیا جائے گا (الطّور: 21 )۔original + quote
دنیا میں زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک، یہ کہ اپنے گھر والوں کے درمیان آخرت کا فکر مند بن کر رہنا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت میںجنت کی بے خوف دنیا میں داخلے کا موقع ملے گا۔ اِس کے برعکس، جو لوگ اپنے گھر والوں کے درمیان اِس طرح رہیںکہ ان کو آخرت کی کوئی پروا نہ ہو، وہ خدا کی پکڑ سے بے خوف ہوکر اپنے گھر والوں کے درمیان خوش و خرم زندگی گزاریں، وہ آخرت کی دنیا میں دوبارہ خوشیوں کی زندگی سے محروم رہیں گے— جو شخص دنیا میں ڈرا، اس کو آخرت میںدوبارہ ڈرایا نہیں جائے گا۔unverified