Al-Risala november 2008

ڈر والے اور بے ڈر والے

Al-Risala november 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (38 chapters)
  1. الرسالہ - november 2008
  2. کتابِ مہجور
  3. آنے والا کل
  4. ایمان، ایمان پلَس
  5. ذکر ایک تفکیری عمل
  6. ڈر والے اور بے ڈر والے
  7. اشجارِ ممنوعہ کا جنگل
  8. خدائی قانون
  9. اِقرا کلچر
  10. ربانیت، رہبانیت
  11. متشابہ دنیا
  12. توبۂ نصوح
  13. عمومی بگاڑ کا دور
  14. اکرام یا تکلف
  15. سچا عمل، سچی دعا
  16. معرفتِ اعلیٰ
  17. بے ادبی کا تصور
  18. موت ایک یاد دہانی
  19. انسان اور شیطان
  20. جنت کی قیمت
  21. شادابی لوٹ آ ئی
  22. انعام، یا آزمائش
  23. دین یا کلچر
  24. فخر اور شکر
  25. بے نتیجہ بھیڑ
  26. کشمیر کا خواب
  27. مقامِ نزاع سے پیچھے ہٹنا
  28. ردّ ِعمل اسلام میں نہیں
  29. نفرت کا بم
  30. منفی تأثر، مثبت تأثر
  31. دولت کافی نہیں
  32. مادّی ترقی، روحانی موت
  33. شخصیت کی تعمیر
  34. حقیقت پسندانہ عمل، یا چھلانگ
  35. زیادہ ذہین، زیادہ دُور
  36. ماضی میں جینا
  37. سوال وجواب
  38. خبرنامہ اسلامی مرکز — 189

ڈر والے اور بے ڈر والے

قرآن کی سورہ نمبر 84 میں بتایا گیا ہے کہ قیامت میںجن لوگوں کو اُن کے عملِ صالح کی بنیاد پر جنت میں داخلہ ملے گا، ان کا اعمال نامہ ان کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ وہ اس کو پاکر خدا کا شکر ادا کریں گے اور خوشی خوشی اپنے اہل وعیال کی طرف لوٹیں گے( الإنشقاق: 9-7 )۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کے مطابق، اپنے گھر والوں کے درمیان خدا سے ڈر کر رہتے تھے (الطّور: 26 )۔original + quote

جو شخص دنیا میں خدا کی پکڑ سے ڈرا، آخرت میں وہ ڈر والی زندگی سے محفوظ رہے گا اور اپنے صالح اہل و عیال کے ساتھ جنت کی بے خوف زندگی گزارے گا۔ اِس کے برعکس حال اُن لوگوں کا ہوگا جو دنیا میں خدا سے بے خوف تھے اور آخرت کی پکڑ سے بے پروا ہو کر اپنے اہل وعیال کے درمیان مگن رہتے تھے (المطففین: 31 )۔ جن لوگوں کا دنیا میں یہ حال تھا، ان کو ان کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ خدا کے فرشتے ان کو پکڑ کر جہنم میں ڈال دیں گے، جہاں انھیں دوبارہ خوشی حاصل نہ ہوگی۔original + quote

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص اگر دنیا میں صالح زندگی اختیار کرے اور اپنے آپ کو جنت کے اعلیٰ درجے کا مستحق بنائے، تو اس کی صالح ذریت کو اَپ گریڈ (upgrade) کرکے یک جا طور پر جنت کے اعلیٰ درجات میں داخل کردیا جائے گا (الطّور: 21 )۔original + quote

دنیا میں زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک، یہ کہ اپنے گھر والوں کے درمیان آخرت کا فکر مند بن کر رہنا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت میںجنت کی بے خوف دنیا میں داخلے کا موقع ملے گا۔ اِس کے برعکس، جو لوگ اپنے گھر والوں کے درمیان اِس طرح رہیںکہ ان کو آخرت کی کوئی پروا نہ ہو، وہ خدا کی پکڑ سے بے خوف ہوکر اپنے گھر والوں کے درمیان خوش و خرم زندگی گزاریں، وہ آخرت کی دنیا میں دوبارہ خوشیوں کی زندگی سے محروم رہیں گے— جو شخص دنیا میں ڈرا، اس کو آخرت میںدوبارہ ڈرایا نہیں جائے گا۔unverified