Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اچھی اولاد
ہر شادی شدہ آدمی کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اس کے یہاں اچھی اولاد پیدا ہو۔ اس معاملے میں غور وفکر کے بعد میںنے یہ سمجھا ہے کہ اچھی اولاد کی خواہش دراصل اللہ سے اچھی اولاد کی تمنا کرنا ہے۔ اللہ کا قانون یہ ہے لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ (14:7)۔یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔original + quote
اس پر غور کرنے سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ کسی آدمی کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی شادی کو شکر کا موضوع بنائے۔ شادی خواہ بظاہر آدمی کی پسند کے مطابق ہو یا اس کے خلاف۔ ہر حال میں وہ شادی کو شکر کے آئٹم کے طور پر لے، وہ اپنے لائف پارٹنر کو شکر کے آئٹم کے طور پر قبول کرے،ہر حال میں وہ اس سے شکر کا آئٹم دریافت کرے۔ انسان اگر ایسا کرے تو یہ اس کے لیے اللہ سے شکر کے ہم معنی بنے گا۔ اس کے حق میں قرآن کی مذکورہ آیت صادق آئے گی ۔unverified
اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ شادی سے ملنے والی خاتون کو و ہ شکر کے طور پر قبول کرے۔ تو اس کے بعد اس کے ساتھ شکر کا ایک اضافی جز ءاس کو حاصل ہوگا، یعنی اچھی اولاد۔اچھی اولاد بلاشبہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ اچھی اولاد کسی انسان کے لیے اچھی زندگی کا آغاز ہے۔ اچھی اولاد کسی انسان کے لیے زندگی کی اچھی تعمیر کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اچھی اولاد گویا عملی معنوں میں اچھی زندگی کا آغاز ہے، وغیرہ۔
ہر آدمی کو عملی معنوں میں اچھی زندگی کے آغاز کے لیے اچھی اولاد کی ضرورت ہے۔ اور یہ ضرورت ہر انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے— پہلی نعمت یعنی بیوی کو شکر کے ساتھ قبول کرو تو اس کے بعد اللہ کی توفیق سے تم کو اچھی اولاد حاصل ہوگی۔حاصل شدہ بیوی پر راضی ہونا اپنے آپ میں دعا کی ایک صورت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندے نے رب سے یہ کہا کہ خدایا، پہلی چیز جو مجھے آپ نے دیا، یہ بظاہر مجھے ناپسند ہے،مگر اس کو میں نے قبول کیا، اب دوسری پسندیدہ چیز مجھے دے دے۔ یہ گویا شکر کے ایک آئٹم پر شکر کے دوسرے آئٹم کا اضافہ ہے۔