Al-Risala May 2017

جدال احسن، جدال غیر احسن

Al-Risala May 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - May 2017
  2. کائناتی نشانیاں
  3. ایمان بالغیب
  4. انسان کا المیہ
  5. جنت کیا ہے
  6. حفاظت دین
  7. خدائی منصوبہ
  8. ہدایت ربانی
  9. لمبی عمر
  10. ہار جیت کا دن
  11. اسلام مکمل ضابطۂ حیات ؟
  12. حکم اللہ کا
  13. دورِ زوال
  14. انسانی تاریخ
  15. علوم کی معرفت
  16. اسلام کی عالمی اشاعت
  17. اسلامی جہاد
  18. غزوۂ ہند
  19. عرب جاہلیت
  20. جدال احسن، جدال غیر احسن
  21. اجتہاد کا مسئلہ
  22. جزئیات، کلیات
  23. خدا کا دین
  24. خوارج کا کیس
  25. خالی از معنی کلام
  26. خالص ایمان
  27. خوف اور حکمت
  28. دانش مندانہ طریقہ
  29. گاندھی کا آدرش
  30. مصیبت یا تحریک عمل
  31. سوال و جواب
  32. خبرنامہ اسلامی مرکز — 251

جدال احسن، جدال غیر احسن

دعوتی اسلوب کے بارے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:ادْعُ إِلَى سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِینَ (16:125)۔ یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اچھے طریقہ سے بحث کرو۔ بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ پر چلنے والے ہیں۔original + quote

جدال احسن سے مراد ناصحانہ اسلوب میں دعوت ہے۔ یعنی ایسا اسلوب جو مدعو فرینڈلی ہو، جو مخاطب شخص یا گروہ کے لیے ہمدردی اور خیرخواہی پر مبنی ہو، جو پورے معنوں میں متواضعانہ اسلوب میں ہو، جو ایسے حکیمانہ اسلوب میں ہو جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ ایسا اسلوب جس میں کوئی شخصی برتری یا قومی فخر کا پہلو نہ پایا جاتا ہو۔ جو دعا کی اسپرٹ سے بھرا ہوا ہو۔جس میں داعی ہر لمحہ یہ سوچتا ہو کہ اس کے منھ سے کوئی ایسی بات نہ نکلے جو خدا کے یہاںاس کی پکڑ کا سبب بن جائے۔جو مکمل معنوں میں ذمہ داری کے احساس سے بھرا ہوا ہو۔

اس کے برعکس جدال غیر احسن وہ ہے جو خود ساختہ طریقے پر مبنی ہو، جس میں دعوت کے لیے مناظرہ (debate) کا انداز اختیار کیا جائے۔ جس کا نشانہ یہ ہو کہ مخاطب کو کم تر دکھا یاجائے اور اپنے آپ کو برتر ثابت کیا جائے۔ جو سنجیدگی اور متانت سے خالی ہو۔ جس کو سن کر حاضرین تالیاں بجائیں، اور اپنے لیے قومی فخر کی غذا حاصل کریں۔

دعوت کے کام کو دعوت الی اللہ کا کام بتایا گیا ہے۔ دعوت کا درست کام وہ ہے جس کے اندر نصح اور خیر خواہی (الاعراف 68:) کی اسپرٹ بھر پور طور پر موجود ہو۔ دعوت کا کام خالصۃً اللہ کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس میں شروع سے آخر تک اللہ کا رنگ (البقرۃ 138:) پوری طرح موجود ہوتا ہے۔ اس کا واحد محرک آخرت میں اللہ کی رضا حاصل کرناہو تا ہے۔original + quote